You are currently viewing اداریہ۔اردوشعرادب میں تاریخی اور ثقافتی حوالے

اداریہ۔اردوشعرادب میں تاریخی اور ثقافتی حوالے

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

اداریہ

جلد سوم : شمارہ  :۴        اپریل/۲۰۲۴

اردوشعرادب میں تاریخی اور ثقافتی حوالے

اردو ادب اپنی ابتدا سے ہی معاشرتی احوال و  واقعات کو  نثر ونظم کے مختلف پیرائے میں  پیش کرتا رہا ہے ۔ ادب کی خاصیت یہی ہے کہ اردو نے  اپنے عہد کے معاشرے کے تمام پہلوؤں کو اس طرح پیش کیا ہے کہ اس سے  ہندستان  کی تہذیبی تاریخ لکھی جاسکتی ہے ۔  اردو کی نثری صنف ہو یا شعری صنف ہر جگہ  ہندستان کی بڑی شخصیات  جنھوں نے ملک و قوم کی تعمیر و تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ ان شخصیات  میں  ادبی ، سماجی ، سیاسی اور مذہبی ہر طرح کی شخصیات شامل ہیں  ۔ قلی قطب شاہ کی شاعری ہو یا  جائسی کی پدماوت  یا نظیر اکبر آبادی  کی نظمیں ، ان میں  رادھا کرشن، کنہیا ، رام ، نانک اور کئی مذہبی پیشواؤں کے کردار کے اس طرح پیش کیا ہے کہ ان سے انسانیت کا درس ملتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہندستان کے عظیم مفکرین  جیسے  مہاتما گاندھی ، مولانا آزاد، نہرو ، پٹیل ، واجپئی ، حسرت موہانی ، اشفاق اللہ  وغیرہ اور اگر  بادشاہوں کا ذکر کریں تو اس میں ہندو راجا رجواڑوں کے ساتھ ساتھ مسلم حکمرانوں  کا اس طرح ذکر ملتا ہے کہ کیسے انھوں نے ہندستان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا ۔ اسی طرح کئی اہم طبیب ، سائنس داں ، مورخ  اور علوم و فنون کے ماہرین کا بھی ذکر ملتا ہے ۔  کئی ہندستانی خواتین جنھوں نے علم و ادب اور تہذیب و  ثقافت کے شعبے میں کام کیا ہے ، ان کے کردار کو بھی بہت خوش اسلوبی سے اردو  ادب میں پیش کیا گیا ہے۔

         آج عالمی سطح پر شناخت کا مسئلہ   ایک المیہ کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ   پمرا ادب جو صدیوں سے ثقافتی تاریخ کا امین ہے ، اس کا مطالعہ وسیع پس منظر میں کیا جائے تاکہ  ہماری ثقافتی ، سماجی ،  سیاسی اور ملکی زندگی  کے روشن باب  وا ہوسکیں ۔ ضروری ہے کہ اس حوالے سے اپنی تحریروں   کو منور کریں ۔  نئی نسل سے خصوصی التماس ہے کہ اس جاجب متوجہ ہوں ۔۔۔۔***

Leave a Reply