ادبی تحقیق کے موجودہ رُجحانات

حارث حمزہ لون

ریسرچ اسکالر ،رحمت آباد رفیع آباد، بارہمولہ کشمیر

ادبی تحقیق کے موجودہ رُجحانات

 

ادبی تحقیق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ زبان و ادب کے کسی مسئلے ، کسی سوال کے جواب کی تلاش ، یا حقائق کی بازیافت کے لیے ایک متعین طریقہ کار پر عمل کیا جائے ۔ ادبی تحقیق کسی الجھائو کو سلجھانے کے لیے اختیار کی جاتی ہے ۔ کبھی کبھی اس کا یہ مقصد بھی ہوتا ہے کہ کسی رائج نظریے ، یا عام طور پر تسلیم شدہ روایت یا مقبولِ عام تصور کی اصلیت سے آگاہی حاصل کی جائے ۔ مسلمہ حقائق یا اصولوں کی تجدید کرنا اور نئے انداز سے پیش کرنا ہی تحقیق کہلاتا ہے ۔ تحقیق کے لغوی معنی حقیقت کی تلاش یا کھوج کے ہیں اور ادبی تحقیق کا مقصد بھی یہی ہے کہ حقائق کی بازیافت کی جائے ، پوری صداقت کے ساتھ حقائق کا یقین کیا جائے اور اس سے جو نتیجہ نکلے وہی اصل تحقیق ہے ۔ یہ کائنات اور اس کی ہر شے انسان سے تحقیق کا تقاضا کرتی ہے ۔ تحقیق کا جذبہ وہ پاک جذبہ ہے جو انسان کو نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ انسان کو عقل و شعور فکر و بصیرت اور تہذیب و شائستگی سے بھی روشناس کرتا ہے ۔ مزید بر آں یہاں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ دُنیا میں جتنی بھی عظیم اور حیرت انگیز ایجادات ہوئی ہیں سب تحقیقی جذبے کا نتیجہ ہیں ۔تحقیق کا جذبہ مظاہر فطرت کی تمام پوشیدہ طاقتوں کو جاننے ، اُن سے فیضیاب ہونے اور خوب سے خوب تر کی جُستجو اور کُرید کا جذبہ فطری طور پر انسان کی سرشت میں موجود ہے ۔ چنانچہ یہ وہ جبلی قوت ہے جس نے تہذیبی ، تمدنی اور سائنسی سفر کو جاری رکھنے کے لیے انسان کو ہر دور میں مجبور کیا ہے ۔ جہاں تک اُردو ادبی تحقیق کی عمر کا تعلق ہے وہ تقریباً دو سو برس کے عرصے پر محیط ہے مگر اس کے باوجود اسے جن ممتاز محققوں نے انتہائی محنت و لگن اور ایماندارنہ جذبہ کے تحت ٹھوس اور مستحکم بنیادوں پر استوار کرکے ’حق تو یہ ہے کہ حق ادا کردیا ‘کے مصداق بنایا اُن میں سر سید احمد خان ، شبلی نعمانی ، الطاف حسین حالی ، محمود شیرانی ، سید سلیمان ندوی ، مولوی عبد الحق اور تقسیم ہند کے بعد مسعود حسن خان رضوی ادیب ، مولانا امتیاز علی خاں عرشی ، قاضی عبد الودود ، گیان چند جین ، پروفیسر گوپی چند نارنگ ، رشید حسن خان ، مالک رام ، اسلم فرخی ، ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار ، ڈاکٹر عندلیب شادانی ، ڈاکٹر جمیل جالبی ، مشفق راجہ ، محمود الہی، نور الحسن ہاشمی ، سیدہ جعفر اور وحید قریشی اُردو تحقیق میں ایسے معتبر نام ہیں جنھوں نے تحقیق کے اصول اور طریقۂ کار مرتب کرکے اسے باضابطہ طور پر ایک سائنسی علم بنا دیا ۔ ان محققین کے بعد جن لوگوں نے اُردو تحقیق میں اپنا نام و مقام پیدا کیا ، اُن میں نور الحسن نقوی ، نذیر احمد ، قمر رئیس ، خلیق انجم ، عبد الستار دلوی ، کالی داس گپتا رضا ، تنویر احمد علوی ، منظر اعظمی ، حامدی کشمیری ، برج پریمی ، اکبر حیدری ، محمد یوسف ٹینگ ، عبد الغنی شیخ لداخی ، جیسے محققین کے اسمائے گرامی خاص اہمیت کے حامل ہیں کہ جنھوں نے اُردو تحقیق کو نہ صرف نئی جہتوں سے آشنا کیا بلکہ اسے اعتبار اور وقار بھی بخشا ۔ تحقیق نہایت مشکل عمل ہے ۔ ادبی تحقیق میں موضوع کے انتخاب سے لے کر مواد کی فراہمی ، حوالوں کے معتبر اور غیر معتبر کی پہچان اور صحیح معلومات اخذ کرنے یا چھان پھٹک کے بعد مقالے کی تسوید ایسے دشوار گزار مراحل ہیں کہ جو بغیر اصولِ تحقیق کی پیروی کے طے نہیں کئے جاسکتے ۔ محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تحقیق بلاشبہ ایک کٹھن ، صبر آزمااور محنت و دِقت طلب کام ہے ۔ بقول نارائن دت : ’’درحقیقت ادبی و تحقیقی مقالہ لکھنا جانفشانی کا کام ہے ۔ سب سے پہلے موضوع کے مطابق مقالے کا خاکہ تیار کرنا ہوتا ہے اور پھر اس خاکے کے مطابق مواد اکٹھا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے بعد گہرے مطالعے کی ضرورت پڑتی ہے پھر کہیں جاکے مقالے کو ترتیب دیا جاسکتا ہے ۔ یہ کام کافی محنت و لگن مانگتا ہے اس کام کو صرف اُردو زبان و ادب سے عشق کی حد تک محبت کرنے والے فنکار ہی انجام دے سکتے ہیں ‘‘ ۔ ( محکمہ السنہ پنجاب سے لکھوائے گئے تحقیق مقالات بشمول ’’پروازادب‘‘ (بھاشا و بھاگ پٹیالہ پنجاب ۔ شمارہ نومبر۔دسمبر ۱۹۹۹ء؁ ، ص : ۴۱ ) اُردو تحقیق کی روایت بے حد متمول اور تواں رہی ہے ۔ ہمارے کلاسیکی شعرا نے نہ صرف اردو شاعری کی مضبوط و پائیدار بنیاد رکھی بلکہ انھوں نے ایک لحاظ سے علمی ، لسانی اور تحقیقی فکر و دانش کا بھی ثبوت دیا ہے ۔ اردو تحقیق میں خان آرزو کو ان معنوں میں تفوق حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی تصنیف ’’ دریائے لطافت ‘‘ میں اردو زبان ، قواعد ، محاورات اور روزہ مرہ سے متعلق مستند اور محققانہ دلائل کی بنیاد پر بحث کی ہے ۔ علمی اور فنی رموز و نکات کے باب میں شیفتہؔ ، غالبؔ اور امام بخش صہبائی کی محققانہ بصیرت کا بھی اعتراف بجا طور پر کیا جاتا ہے ۔ سرسید کے علمی و تحقیقی شعور کی بالیدگی میں ان بزرگوں کی خدمات سے کسبِ فیض کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، جس کے نتیجے میں انھوں نے ’’آئین اکبری ‘‘ اور ’’ تاریخ فیروز شاہی ‘‘ کی تصحیح متن میں زبان و املا کی درستگی اور الفاظ کے صوری و معنوی رشتوں کی نشاند ہی ، تقابل و تجزیے کی بنا پر کرکے معیاری متن کی اہمیت کا احساس دلایا ۔ اسی طرح آثار الصنادید کی ترتیب جسے استخراجِ نتائج کی پہلی باضابطہ کوشش قرار دی جاتی ہے ، سرسید کی تحقیقی و علمی بصیرت کی بین مثالیں ہیں ۔ حالی ، شبلی اور مولوی ذکاء اللہ کے یہاں استقرائی تحقیق کی بعض صورتیں ابھرتی نظر آتی ہیں ۔ تحقیق کی روایت کے سراغ لگانے میں تذکروں کو بھی خاصی اہمیت دی جاتی رہی ہے جب کہ واقعہ یہ ہے کہ تذکروں میں جس طرح متضاد بیانات ملتے ہیں اور تذکرہ نگاروں نے جس طرح بِلا حیل و حجت ، بعض بیانات کو من و عن قبول کیا ہے ، تحقیقی لحاظ سے اسے معتبر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی زبان کی ترقی اور معیار کا تعین ، اس زبان میں ہونے والی تحقیقات اور استنباطِ نتائج کے اعتبار پر منحصر ہے ۔ قدیم و جدید متن (Text) کی اہمیت اس کے اصل اور معیاری ہونے میں پوشیدہ ہے ۔ خواہ وہ کلاسیکی شعر و ادب ہی کیوں نہ ہو کوئی بھی متن جب تک منشائے مصنف کے مطابق نہیں ہوتا اس وقت تک اسے اصل اور معتبر تسلیم کرنا علمی و ادبی دیانتداری نہیں ۔ اس لئے کہ تصانیف اور متن پر مصنف کی اجارہ داری نہیں بلکہ یہ موجود اور آئندہ نسلوں کے علاوہ ملک و قوم کی میراث ہوتے ہیں ۔ دنیا کا کوئی بھی متن یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ مرورِ ایام کے تحت اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوا ، البتہ اسے اس کی اصل حالت عطا کرنے میں اس زبان کے محققین اور ماہر لسانیات کا کردار کلیدی اور بنیادی ہوتا ہے ۔ اس لیے ترقی یافتہ قوموں اور سائنسی شعبہ ہائے علوم میں محققین کو اولیت حاصل رہی ہے ۔ شعر و ادب کے ضمن میں بھی اس اعتراف میں کوئی باک نہیں کہ متون کی درستگی اور گمشدہ ادبی سرمائے کی بازیافت کے علاوہ مختلف متون کو اغلاط سے پاک کرنے جیسی اہم ذمہ داری محققین کی رہینِ منت ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں تحقیق پر کبھی بھی خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی اور کوئی ایسا تحقیقی ادارہ آج تک عملاً وجود میں نہ آسکا جہاں جدید تربیتی نظام ، عصری تقاضوں کے لحاظ کے لحاظ کے ساتھ تحقیق و تدوین کے فرائض انجام دیے جاتے ہوں ۔ ماضی قریب میں بعض اداروں کی خدمات سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ تاہم وہ بھی اجتماعی تحقیق اسپریٹ پیدا نہ کرسکے ۔ چند ایک کا اصل مقصد مال و منفعت کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ جب کہ تحقیق ایک بے حد مشکل اور باضابطہ فن ہے ، اس کے اپنے تقاضے ، اصول اور طریق کار ہیں ۔ اس کا بنیادی مقصد حق و صداقت کا قیام اور موجودہ علم میں اضافہ ہے ، اسے ادب کے بنیادی مقاصد کے حصول کا اطلاتی ذریعہ کہنا چاہیے ۔ دوسرے لفظوں میں ادب میں حق گوئی ، صحت اظہار ، تلاشِ حقیقت ، تنقیدی بصیرت ، گہرے ادبی ذوق اور علم میں اضافے کا دوسرا نام ’’تحقیق‘‘ ہے ، سائنس ، طب ، سماجی علوم اور دنیا کی مختلف زبانوں میں ہونے والی حیرت انگیز ترقیات دراصل تحقیق کی برکتوں کا ثمرہ ہی ہیں ۔ چناچہ آج مختلف علوم و فنون میں ترقی یافتہ ممالک اور قوموں کے معیار کے تعین میں ان کی تحقیقی خدمات کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں جو بھی ترقیاں ہو رہی ہیں ، انسانی زندگی کو جو بھی سہولتیں اور آسانیاں میسر ہیں ان میں تحقیق کے دخل سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ عہدِ رواں میں ہماری تمام تر ترجیحات و توجہات کا منبع و مرکز سائنس اور تکنیک ہیں ۔ اس کے اثرات زبان و ادب پر بھی مرتب ہوئے ہیں اور زبانوں کی اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ شعبہ ٔ لسانیات تو اب سائنسی بنیادوں پر تجربہ گاہیں قائم کر رہے ہیں اور بین العلوم تقابلی اور تجزیاتی مطالعے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے اس نوع کی تبدیلی میں تحقیق کا دائرہ بھی خاصا وسیع ہوا ہے ۔ جہاں تک اردو تحقیق ، مبادیات اور طریق کار کا سوال ہے اس میں حاوی رجحان ان محققین کا رہا ہے ، جن کی ذہنی و فکری تربیت عربی و فارسی زبانوں کے زیر سایہ ہوئی ۔ لہذا انھوں نے اپنے تحقیقی نقطۂ نظر میں بڑی حد تک مشرقی اصول تحقیق اور طریق کار کو بروے کار لایا ۔ بلکہ آج بھی انہی کے بنائے اصول اور تصورِ تحقیق کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان اکابرین کی عظمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، لیکن اس بات کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ اردو کے ایسے ناقدین و محققین جن کی ذہنی و فکری پرورش میں مغربی ادبیات اور اصول و نظریات کو دخل ہے ، ان کے یہاں تحقیق کی نئی روشنی واضح طور پر نمایاں ہے ۔ بہ الفاظِ دیگر اردو میں وسیع پیمانے پر تحقیقی کام مغربی بلکہ زیادہ صحیح طور پر انگریزی تعلیم کی دین رہی ہے ۔ جن ادیبوں نے انگریزی علوم اور طریقِ جرح و تعدیل میں مہارت حاصل کی تھی ۔ انھوں نے اپنے اطلاقی تحقیق میں انہی اصولوں کو برتا ہے ۔ حافظ محمود شیرانی ، محمد شفیع اور قاضی عبد الودود جیسے محقق محققین اس روایت کے بنیادی گزار واقع ہوئے ہیں ۔ ایسے محققین کے یہاں سماجی اور تہذیبی تحریکات ، میلاناتاور رجحانات کا واضح شعور ملتا ہے ۔ ان قلمکاروں کے یہاں بدلتے ہوئے معاشرے ، عصر حاضر کے تقاضے اور بین الاقوامی رائج اصول کی پاسداری واضح ہے ۔ نئی اقدار کی روشنی میں ادبی ، تنقیدی اور تحقیقی اقدار کے تعین میں سائنٹفک اپروچ ان کے یہاں نسبتاً زیادہ نظر آتا ہے ۔ یہاں اس کا اعادہ بھی ضروری ہے کہ آزادی کے بعد جامعاتی سطح پر اردو کے شعبوں میں تحقیق و تدوین کی جو طرح ڈالی گئی اور ان شعبوں کی نگرانی و سرپرستی ایسے باشعور ادبا و اساتذہ کے ذمے رہی جو اپنے تحقیقی طریق کار میں انھوں نے جہاں ایک طرف تحقیق کی اعلیٰ روایتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا تو دوسری طرف جدید تقاضے اور افکار و نظریات کے لیے ان کے دروازے کھلے ہوئے تھے ۔ یہی سبب ہے کہ محض شعرا و ادبا کی شخصیت و تصانیف کی از سر نو بازیافت پر توجہ نہ دی گئی بلکہ لسانی سطح پر تحقیق و تدریس کے عمل نے علم لسانیات کی اہمیت کا احساس دلایا ۔ آزادی کے بعد لسانیات کو ایک مستقل فن کی حیثیت حاصل ہوئی ۔ جدید سائنسی آلات کے ذریعے زبان کی قدامت کا اندازہ لگانے کے طریقے علم میں آئے ۔ تحقیق میں نئی معلومات یا ترجمانی کو اہمیت دی گئی ۔ معروضی ذہن اور متنازع مسائل میں تمام پہلوئوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کا طریقہ اپنایا گیا ہے ۔ نیز ادب میں تحقیق کے رجحان کے فروغ سے احتیاط کی عادت پیداہوئی اور احتساب کی ضرورت کو محسوس کیا گیا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ حقائق کی تفہیم و تحلیل میں فن پارے کے حسن کو برقرار رکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ اس ضمن میں عبد القادر سروری ، اختر اورینوی ، خواجہ احمد فاروقی ، نور الحسن ہاشمی ، نجیب اشرف ندوی ، سید اعجاز حسین ، مسعود حسن رضوی ، مسعود حسین خان ، نذیر احمد ، گیان چند جین ، تنویر علوی ، نثار احمد فاروقی ، عبد لستارر دولوی ، سیدہ جعفر ، ڈاکٹر خلیق انجم اور حنیف نقوی وغیرہ کے نام بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں ۔ ان میں بعض کے یہاں مشرقی تحقیقی روایت کی پیروی کے پہلو بہ پہلو تحقیق کے جدید اور عصری تقاضے کی بد یہی طور پر موجود ہیں ۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بعد کو جامعاتی سطح پر تحقیق کے بجائے تنقید ہماری توجہات و ترجیحات میں شامل رہی ، ابتداً اردو تنقید پر مشرقی افکار و خیالات کو اساسی حیثیت بھلے ہی حاصل ہو لیکن یہاں بھی مغربی افکار و خیالات کے پر تو سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ آج ہماری ادبی تاریخ کے اوراق مغربی تنقیدی نظریات کے پروردہ ناقدین سے بھرے پڑے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو تنقید اپنے معیار و میزان کے بنا پر ہندوستان کی دوسری زبانوں کی تنقید سے کہیں سوا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ عہد میں اردو شعر و ادب میں تخلیقی اور تنقیدی اعتبار سے خاصی ترقی ہوئی ہے ، مختلف تحریک و رجحان کی بدولت فکری و فنی سطح پر غیر معمولی تبدیلی در آئی ہے لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ علمی دنیا میں ترقی کا ثبوت وہ تحقیقی کام ہوگا جو اس زبان مین ہو رہا ہے ۔ اس نقطۂ نظر سے اُردو کا دامن فی الوقت تقریباً خالی ہے ۔ علمی اور تحقیقی رسالے تو گویا ہمارے یہاں ہیں ہی نہیں ، چند ایک ہیں بھی تو مجموعی طور پر کوئی خاص تاثر قائم کرنے سے قاصر ہیں ۔ اس کی بڑی وجہ علمی اور تحقیقی مضمون لکھنے والوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں اور جو ہیں ان میں محنت کے بجائے سہل پسندی کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ موجودہ دور میں علمی کام سے زیادہ اپنا نام چھپوانے ، پوپھٹتے ’’ممتاز نقاد ‘‘ کے عہد سے سر فراز ہونے کی للک ، مال و منفعت نیز شہرت کی بلندیوں کو چھونے کی ہوس بھی اردو تحقیق کے دامن کو تنگ کر رہی ہے ۔ یہاں اس بات کاذکر بھی ضروری ہے کہ تحقیقی اور ادبی مضامین کے دائرے بالکل الگ ہیں ۔ یہ فرق و امتیاز محض طریق کار میں نہیں بلکہ ان کی زبان کے تقاضے بھی قدرے مختلف ہوتے ہیں ۔ ادبی مضامین میں عبارت آرائی اور زیب داستان کی پوری گنجائش ہوتی ہے جب کہ تحقیقی مضمون میں اس کی قطعاً گنجائش نہیں ہوتی ۔ یہاں جو لفظ لکھا جائے گا اس کے وہی معنیٰ لیے جائیں گے جو لغات میں اس کے تحت لکھے گئے ہیں ۔ محقق کو قدم قدم پر احتیاط کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ جب کہ تخلیقی اور تنقیدی نگارشات میں تاویلات عیب کے بجائے حسن میں شمار کیے جاتے ہیں ۔ اس طرح اردو تحقیق کے تعلق سے یہ کہنا مناسب نہ ہوگا کہ گزشتہ چالیس برسوں میں تمام تر ترقیات کے باوجود اُردو میں تحقیق کے اعلیٰ نمونے شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں ۔ بلکہ جو بھی بڑے کام ہوئے وہ جامعات سے باہر ہی ہوئے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جہاں یونیورسٹیوں میں میں معلومات اور دریافت کی فراوانی ہے وہاں ہمارے شعبوں میں ادبی ذوق کا فقدان ہے ۔ جہاں جرأت اظہار ہے وہاں احتیاط کم اور تحقیقی مواد اطمینان بخش نہیں ۔ بعض ادیبوں کے یہاں ذہانت اور حسن بیان کی کارفرمائی تو ہے لیکن تحقیقی صلاحیت اور اہم اور غیر اہم میں امتیاز کا فرق معدوم ہے ۔ ہمارے شعبے ان معتبر ادیبوں سے بھی تقریباً خالی ہوچکے ہیں جن کے تبحرِ علمی سے طلبا اور اساتذہ دونوں فیضیاب ہوتے تھے ، جن کی موجودگی شعبے کے وقار کی ضمانت تھی اور جن سے شرفِ تلمذ باعث اعزاز تصور کیا جاتا تھا ۔ اُردو میں ادبی تحقیق دو سطح پہ ہو رہی ہے ۔ ایک کا تعلق جامعاتی تحقیق سے ہے جب کہ دوسرا وہ کام جو ارباب علم یونیورسٹیوں سے باہر آزادانہ طور پر کر رہے ہیں ۔ تحقیق کے ضمن میں سرکاری یا غیر سرکاری اداروں کا رول بھی اطمینان بخش نہیں ، مجموعی طور پر ہماری یونیورسٹیاں معیار کے اعتبار سے ، دنیا کی دو سو یونیورسیٹیوں میں بھی اپنی جگہ بنانے میں ناکام ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم خالص سائنس یا خالص ادبی تحقیق کے خواہ جتنے بھی دعوے کریں لیکن بغیر کسی افادی یا اخلاقی محرک کے بڑے مقاصد کی حصولیابی سے محروم رہیں گے ۔ اعلیٰ معیار ایک خاص فضا میں پروان چڑھتا ہے ۔ اگر تحقیقی کام کرنے والوں کی قدر نہ کی جائے اور ان کے روشن مستقبل کی ضمانت نہ دی جائے ایسی صورت میں تحقیق کا معیار کبھی بلند نہیں ہوسکتا ۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ موجودہ دور میں جامعات میں پی ۔ ایچ ۔ ڈی میں داخلہ لینے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو علمی یا تحقیقی تشنگی کی سیرابی کے بجائے کچھ پابندیوں کے تحت ضرورتاً سند لینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ موجودہ دور میں ریسرچ کے نام پر ملنے والے وظیفے کی خطیر رقم بھی ایم ۔ اے کے بعد چند برسوں کے لئے سہی بے روزگار کہلانے کی ٹیس کو کم کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے ، لیکن ان طلباکا کیا قصور ؟ ہمیں اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا بھی اعتراف ضروری ہے ۔ اس لیے کہ جامعاتی تحقیق کا تعلق اساتذہ اور طلبا دونوں کے تحقیقی کاموں سے عبارت ہے ۔ اُردو میں جو تحقیقی کام ہو رہے ہیں اس پر خالص دریافت یا انکشاف کے نقطۂ نظر سے ان کی نوعتیں مختلف ہیں بلکہ تحقیق اور تنقید آپس میں اس طرح گڈ مڈ ہوگئی ہیں کہ اسے تحقیق کے بجائے تنقید ، تجزیہ یا تبصرہ کہنا زیادہ مناسب ہے ۔ پھر موضوعات پر نظر ڈالی جائے تو ابھی تک ہم ’’ حیات اور کارنامے‘‘ اور علاقائی ادیبوں ، شاعروں کی خدمات یا فرہنگ سازی کی حدود سے باہر نہ نکل سکے ہیں ، ہمارے موضوعات ہماری سماجی ، سیاسی یا عصری زندگی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ، کلاسیکی شعر و ادب سے ہماری عدم دلچسپی اور بے توجہی کا یہ عالم ہے کہ آج تک میرؔ جیسے شاعر کے دیوان کو درست نہ کرسکے ، ہماری تحقیق منٹو کے ڈرامے اور افسانے میں امتیاز سے قاصر ہے ۔ نصاب میں شامل متن اغلاط کا پلندہ ہیں ، موجودہ دور کو فکشن کا دور قرار دیا جارہا ہے ۔ کیا آج تک ہم ناول یا افسانے کی کوئی شعریات متعین کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ؟ قومی سطح کا کیا شکوہ ہم نے شعبے یا باہر کے تجربہ کار اساتذہ پر مشتمل کوئی ایسی کمیٹی بنائی جو موضوعات کے انتخاب میں ہماری رہنمائی کرے اور تکرارِ موضوع پر قدغن لگائے ۔ یہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ فی الوقت جامعاتی سطح پر اردو تحقیق کا سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ ’’تحقیقِ متن ‘‘ اور تصحیح متن‘‘ کا ہے ۔ کلاسیکی اور متداولہ کلیات اور تصانیف کو الحاقی اور غیر مستند اشعار یا عبارت سے پاک کرکے اصل مصنف کے عین مطابق تصنیف کی شکل عطا کرنا بے حد ضروری ہے ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ اردو تنقید و تحقیق کی تمام تر کامیابیوں اور کامرانیوں کے دعوئوں کے باوجود ہمارے پاس ابھی تک صحیح متن دستیاب نہیں ۔ اس لیے یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اس وقت ایسے ناقدین کی تعداد زیادہ ہے جن کا سارا کاروبار غلط متن کی تعبیر و تشریح پر چل رہا ہے ۔ محمد حسن کے لفظوں میں کہیں تو ’’تنقید کا یہ عمل قیاسی اور غیر مستند ، الحاقی کلام کی بنیاد پر بخشی ہوئی شہرتیں یا عائد کی ہوئی گم نامی دونوں فرضی ار بے بنیاد ہیں ‘‘ ایسی صورت میں ہماری کلاسیکی نگارشات کی تنقید کا بڑا حصہ معروضی کی بجائے تاثراتی ہی قرار دیا جائے گا ۔ زبان اور طریق کار میں بُعد کے باوجود تنقید اور تحقیق کا باہمی رشتہ اٹوٹ ، مضبوط اور پائیدار ہے یہ دونوں ایک دوسرے کی بنیادوں اور دلیلوں کو معتبر اور مستند بناتے ہیں ۔ تحقیق میں استنباطِ نتائج بغیر تحقیق کے ممکن نہیں اور تنقید انہی نتائج کی قدروں کا تعین کرتی ہے ۔ جامعاتی سطح پر طلباء کے کام کی نگرانی کرنے والے اساتذہ کی تحقیق سے عدم دلچسپی بھی بڑی حد تک مبتدیوں کے سامنے مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ عام طور پر نگراں کا رویہّ و مشفقانہ کے بجائے آمرانہ ہوتا ہے جس کے سبب ریسرچ اسکالر آزادنہ طور پر مطالعے کے بجائے نگراں کے نقطۂ نظر سے مقالے کی ترتیب و تنظیم کا فریضہ انجام دینے پر مجبور ہوتا ہے ، جب کہ یہ ضروری ہے کہ ریسرچ اسکالر آزادانہ طور پر اپنے مطالعے ، دلائل اور دریافت کی بنا پر استنباط نتائج تک پہنچے ۔ البتہ نگراں یا دوسرے محققین سے صلاح و مشورہ لینا بھی ضروری ہے ۔ ہماری شعبوں کے ذاتی اور فروعی اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں ، یہ علمی یا ادبی نہیں بلکہ خود غرضی اور ذاتی مفاد پر مبنی ہے جس کے منفی اثرات طلبا کی ذہنی و فکری آزادی پر مرتب ہو رہے ہیں ۔ ہر موضوع کا انتخاب اس کی حدود اور اہمیت و افادیت کی روشنی میں کرنا ضروری ہے ۔ تحقیق میں کوئی حرف آخری نہیں ہوتا ، ایک موضوع پر کئی کام ہوسکتے ہیں لیکن یہ احتساب لازمی ہے اس پر اضافہ کیا ہوا یا پھر فرق و امتیاز دیں کیا ہیں ؟ اردو میں بہت اعلیٰ پائے کا تعمیری کام کم ہوا ہے نکتہ چینی، عیب جوئی اور خردہ گری زیادہ ہے لہذا اس طرف توجہ دینا ضروری ہے ۔ بہ قول شمس الرحمن فاروقی : ’’ آج ہماری زبان پر کڑا وقت پڑا ہے اور اس کی وجہ سیاسی یا سماجی نہیں بلکہ خود ہم لوگوں کی سہل نگاری اور ہم میں غور و تحقیق کی کمی ہے ۔ آج اردو پڑھنے والوں کی تعدادروز بڑھ رہی ہے اور یہ بھی غلط ہے کہ اردو پڑھے ہوئے شخص کو معاش نہیں ملتی۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھے پڑھانے والے نہیں ہیں ۔ ہم میں سے ہر ایک کو جیسی بھی ٹوٹی پھوٹی ڈگری حاصل کر لینے اور پھر تلاشِ معاش کے لیے جوڑ توڑ میں لگ جانے کی جلدی ہے ۔ کوئی بھی شخص کہہ سکتا ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں تحقیق کی صورتِ حال ہمیں بے حد سنجیدگی سے درون بینی اور خود احتسابی کا تقاضا کرتی ہے ‘‘ ۔(اُردو دنیا ،جنوری ۱۷،ص:۱۵) غرض شعور ایک فطری عمل ہے ، اس عمل کے شروع ہوتے ہی انسان میں تجسّس اور شوق ِ تحقیق جاگنے لگتا ہے ۔ تجسّس جو زندگی کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اہم ہے اور تحقیق جو سمجھی ہوئی شے کی سطح اور اس کا معیار متعین کرتی ہے دونوں انسانی زندگی کے دھڑوں مثلاً سماجی ، تہذیبی ، لسانی و معاشرتی تشکیل میں معاون ہیں ۔ جس طرح زندگی کے ارتقا میں جمود طاری ہوتا ہے اسی طرح ادب کی تعمیر و تشکیل اور ارتقا تجسس و تحقیق کے بغیر نا ممکن ہے اس تناظر میں اردو کے حوالے سے بغور جائزہ لیں تو یہ سمجھنا بالکل آسان ہوگا کہ آج اردو میں تحقیق کا معیار اس قدر پست ہے کہ آنے والی صدی میں محض ایک تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائے گی ۔ یہاںجس تحقیق و تجزیے کی بات کی جارہی ہے وہ کسی سائنس ، فلسفہ یا کسی اور علم کے متعلق نہیں بلکہ اُردو زبان و ادب میں جو تحقیق آج کل پیش کی جارہی ہے ا سے پڑھ کے اکثر تضیع اوقات کا احساس ہوتا ہے مگر حیرت ہے کہ ایسی ہی چیزیں بار بار دیکھنے میں آتی ہیں اور اس کے اعادے سے ادب پارے بھرے پڑے ہیں ۔ اگر آنے والے وقت میں بھی اردو زبان و ادب کا یہی حال رہا تو محققین کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے جن کے گزشتہ کئی دہائیوں سے تخلیقی سوتے خشک ہوتے جارہے ہیں ۔ کسی نئی چیز کو پیش کرنے کے بجائے وہ پرانے فارمولے پر کار بند ہیں ۔ سچائی تو یہ ہے کہ اب تک تحقیق کے حوالے سے درجنوں کتابیں منظر عام پر آئیں لیکن کوئی دعوے سے کہے کہ ان میں نیا کیا ہے ۔ شخصی مضامین کی بہتات ، مدح خوانی اور نقل نویسی سے قارئین کا مزہ خراب ہورہا ہے ۔ اُردو کے یہ نامور مصنف و مولف ماہر غالبیات ، ماہر اقبالیات و میریات تو ہوگئے لیکن ان کی تصانیف کو دیکھیں تو چند دوسری کتابوں کے حوالہ جات اور کچھ رفتگان کے اقوال پر مبنی ایک کثیر صفحاتی مضمون یا ایک ابائو مقولہ اور کچھ نہیں ۔

***

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *