اردوکی عالمی مقبولیت وسعت اوردقّت

پروفیسر علی احمد فاطمی

شعبۂ اردو،الہ آباد یونیورسٹی،الہ آباد، اتر پردیش

اردوکی عالمی مقبولیت وسعت اوردقّت

 

ایک وقت ایسا تھا جب اردومحض ہندوستان کی زبان تھی ۔لاہور سے حیدرآباد اور کلکتہ سے بمبئی تک اردوکا دامن پھیلا ہوا تھا ۔اردوپڑھنا اوراردوبولنا اعلیٰ تہذیبی معیار و مذاق سمجھا جاتا تھا ۔اسی نے اردو سماج اوراردوتہذیب کو جنم دیا۔جو دیکھتے دیکھتے اپنے اوصاف و امتیازات کی وجہ سے پورے ملک میں چھا گئی۔اپنی ایک مخصوص لسانی تہذیبی پہچان بنا گئی ۔۱۸۵۷ء کی بر بادی سے لے کر ۱۹۴۷ء کی آزادی تک۔امیر شخص سے لے کر فریادی تک سب اردوبولتے تھے۔دہلی کی جامع مسجد کی سیڑھیاں ،لکھنئو کا شاہی اسٹیج ،حیددآباد کے یکے تانگے والے یا الہ آباد کے صوفی سنت سب اردوکی زلف میں گرفتار تھے۔اردوکے ترانے تھے، اردو کے گھرانے تھے۔ علم و ادب اورفکر ونظر کے حوالے سے اردو کے دبستان بھی بنے۔دہلی اور لکھنؤ بطورخاص لیکن حیدرآباد، عظیم آباد ، اکبر آباد وغیرہ بھی مراکز تھے۔علم و ادب تہذیب و ثقافت کے گہوارے۔وقت بدلا زمانے کی رفتاربدلی۔پاکستان وجود میں آیا ۔ وہاں کی مقامی بولیوں کے ہوتے ہوئے اردوسرکاری زبان بنی لیکن اب اس کا کیا کیجئے کہ انسانی و لسانی تہذیب اسی وقت خوشحال ہوتی ہے جب اس کے بولنے والے خوشحال ہوں ۔آرٹ۔کلچر۔فنون لطیفہ صحیح معنوں میں اس وقت ترقی پاتے ہیں جب انسان و انسانی معاشرہ اقتصادی طورپر بڑی حد تک مطمئن اور قدرے آسودہ ہو۔دونوں ہی ملکوں(ہند و پاک) کے اردو والے مختلف قسم کے تعصبات کا شکار ہوئے ۔مذہبی علاقائی اورلسانی بھی ۔ضرورتوں اور ملازمتوں کی تلاش میں اردووالے ملک بدر پر مجبور ہوئے۔ تلاشِ رزق میں ہجرت ہوئی پھر دیکھتے دیکھتے اردووالے مشرق سے مغرب میں پھیل گئے۔ پورے لوازمات کے ساتھ مشاعرے۔مزاکرے۔مدرسے اور ساتھ ساتھ مناظر ے اور مجادلے بھی کہ اردواورمسلمان اس کے بغیر مکمل نہیںہو سکتے۔ (پتہ نہیں معا شقوں کی کیا صورت ہے) بہر حال کبھی اردوکے مراکز دہلی ۔لکھنؤ ۔لاہور وغیرہ تھے۔اب لندن۔ ٹورنٹو۔ شکاگو۔ برمنگھم۔برلن وغیرہ ہیں۔پورے ادب و آداب کے ساتھ تعلیم و تدریس تنقید و تخلیق کے ساتھ اور یہ سب محض ذوق و شوق کے توسط سے ہی نہیں بلکہ عالمی صنعتی نظام ،ترقی کی رفتارسے وابستہ ہیں۔ راقم الحروف نے ان میں سے بیشتر ممالک کی سیر کی ہے۔اردووالوں کی دعوت پر ہی ان بیرونی ممالک جانے اور اردووالوں کے درمیان مہینوں قیام کرنے کے معتدد مواقع ملے ہیں۔میں نے سفر نامے بھی لکھے ہیں۔سفر ہے شرط(لندن) سات سمندرپار (کنیڈا ۔تاشقند) جرمنی میں دس روز۔اوران سفرناموں میں ان ممالک میں نمو پاتی ہوئی اردو زبان و تہذیب کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا ہے۔اردوکی وسعت اورمقبولیت کا ذکر کیا ہے۔میں نے اپنی آنکھوں سے یہ بھی دیکھاہے کہ معمولی مشاعرے میں شرکت کرنے کے لیے اردوعوام ٹکٹ خریدکر مشاعرہ سننے کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔اورپورے تہذیبی لوازمات کے ساتھ بعض دفعہ شیروانی اور ٹوپی میں بھی نظر آتے ہیں۔مہمانوں کی پذیرائی کرتے ہیں۔گھروں میں دعوتوں اور نشستوں کا اہتمام ہوتا ہے۔اخباراوررسائل خریدے جاتے ہیں۔قرآن پڑھائے جاتے ہیں ۔مجلس ومیلاد کا بھی اہتمام ہونے لگا ہے۔بڑے بڑے امام باڑے اورمسجدوں کی تعمیریں بھی ہو چکی ہیں اورہوتی چلی جا رہی ہیں ۔اسی نسبت سے بازار میں مسلمانوں کی دکانیں ہیں۔کباب اوربریانی ہے۔ پان کی دکان ہے۔عید بقرعید ہے۔محرم اور مجلس ہے۔ہندو پاک کے علماء ایام عزاء میں ان ممالک میں جاتے ہیں ۔ذاکری فرماتے ہیںدین اور دنیا دونوں سرخرو ہوتے ہیں ۔اسی طرح شعراایک ایک درجن مشاعرے پڑھتے ہیں اور ڈالر یا پونڈ سے مالا مال ہوتے ہیں ۔بعض ممالک کی بڑی یونیورسٹیوں میں ارودباقاعدہ ایک مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ لندن اورشکاگو یونیورسٹی میں میں نے خود جا کر خطبات دیئے ہیں۔ماریشس سے آئے ہوئے کئی Ph.Dمقالوں کا میں محقق رہا ہوں مغرب میں اردوزبان و ادب سے متعلق کئی اہم تنقیدی و تحقیقی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ۔ اردو میں اورانگریزی میں بھی ۔غرضکہ اردوزبان اس وقت ایک عالمی زبان کے طور پر نہ صرف مشہور ہے بلکہ مقبول ہے اور وہ لوگ بھی پڑھ رہے ہیں پسند کررہے ہیں جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ان ترقی کی صورتوں کو دیکھ کر خوش ہونا عین فطری ہے لیکن فطرت یہ بھی ہے کہ جب ترقی ہوتی ہے اوع وقت بدلتا ہے تواپنے ساتھ کچھ مسائل بھی لاتاہے ۔جس کا تعلق راست طور پر معاشرت اورثقافت سے ہوتا ہے اورکہیںکہیں سیاست سے بھی ۔اوربعدہ‘ تہذیب سے بھی۔چنانچہ ہمیں اردوکی اس عالمی مقبولیت اور وسعت کے ساتھ ساتھ اس دقت کو بھی سمجھتے چلنا چاہئے۔یہ دقت لسانی کم ہے انسانی زیادہ ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ کمپوٹر اورانٹر نیٹ نے نہ صرف مشینی بلکہ تر سیلی اورتہذیبی دنیا میں زبردست انقلاب برپا کردیا ہے ایک خط یا ایک غزل؍مضمون جو اخاراجات کے ساتھ مہینہ یا اس سے بھی زیادہ کی مدت کے بعد مدیر یا عزیز کے پاس پہنچتے تھے اب منٹوں بلکہ سکنڈوںمیں پہنچ جاتے ہیں۔موبائیل۔ای میل۔s.m.s.وغیرہ نے اتنی آسانی پیداکر دی ہے کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔لیکن ساتھ میں یہ بھی ہوا کہ ہاتھ اورقلم سے خط لکھنے کی عادت ختم سی ہو گئی جو بیحد تشویشناک ہے۔خط نویسی صرف ایک تحریری عمل نہیں ہوتاتھا بلکہ تہذیبی عمل بھی تھا۔اخلاقی اورانسانی بھی۔خط لکھنا ۔خیریت دریافت کرنا دعا دینا وغیر ہ جیسے اخلاقی عمل انسان رشتوں کو مضبوط سے مضبوط تر کیاکرتے تھے اور’’خوش رہئے ‘‘ ’’جیتے رہئے‘‘جیسے شیریں الفاظ ،شہد میں گھلے ہوئے جوابات تواب تقریباً معدوم ہو چکے ہیں تبھی تو شاعرنے کہا ہے ؎ راستوکیا ہوئے وہ لوگ جو آتے جاتے میرے آداب پہ کہتے تھے کہ جیتے رہئے اب موبائیل وغیرہ پر خیریت و اخلاق کی تفصیل میں جایا جائے تواس کا بل بڑھتاہے جو متوسط درجہ کے لیے کبھی کبھی ناقابلِ برداشت حد تک چلاجاتا ہے چنانچہ لازمی طورپر اخلاق کا تعلق معاشیات سے ہوگیا ۔محبت متاثر ہوئی اسی طرح مہمان نوازی جو کبھی گراں بہا عطیہ تھی اب گراں گزر نے لگی ہے کہ اس نو آبا یا تی نظام میں نہ صرف گھر اورکمرے تنگ ہو گئے ہیں بلکہ دل و ماغ بھی سکڑ گئے ہیں۔کسی مہمان کے آجانے سے نہ صرف پورے مہینے کی معیشت بگڑجاتی ہے بلکہ گھر کے معمولات اور نظام بھی متاثرہوتے ہیں اورمہمان برکت کے بجائے زحمت بلک اذیت بن جاتا ہے۔ بچپن میں مذہبی تعلیم یا اردوکی تعلیم کابھی اپنا ایک معیار و انداز ہواکرتا تھا۔گھر میں دادی۔نانی۔والدین ۔بڑے بزرگ تعلیم و تربیت کرتے تھے۔سلام وآداب کے ساتھ ساتھ زبان ،املا تلفظ وغیرہ بھی سکھاتے تھے جس سے بچپن سے ہی شین قاف درست ہو جاتے تھے۔ آج کے والدین بیحد مصروف ہو گئے ہیں ۔اس لیے مولوی صاحب بلائے جاتے ہیں ۔معمولی سے مولوی صاحب جن کا اپنا املا اور تلفظ درست نہیں ہوتا وہ قرآن اور اردوکی تعلیم دیتے ہیں۔بعد میں بچے انگلش کوچنگ میں بھیجے جاتے ہیں جہاں زبان کے معیار کاکوئی معاملہ یا مسئلہ ہی نہیں ہوتا اس طرح آ ج کا نوجوان ادھ کچری زبان اور ادھ کچری تہذیب یا ایسی بازاری تہذیب سے واقف ہوتاہے۔جہاں زبان تلفظ وغیرہ کا کوئی مقدمہ ہی نہیں ہوتا ۔بس کام چلناچاہئے یہ صورت صرف اردوکے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہندی اوردوسری زبانوں اوراب توانگریزی کے ساتھ بھی یہی ہے ۔انگلینڈ کی انگریزی اور امریکہ کی انگریزی میںزمین آسمان کا فرق آچکا ہے اس فرق نے لسانی تہذیب کوبری طرح متاثرکیا ہے۔ یہ معاملہ یا جسے حملہ بھی کہا جاسکتا ہے جارحانہ صنعت گری کا پیداکردہ ہے جسے آج کی زبان میں بازارواد یا صارفانہ کلچر بھی کہتے ہیں ،جہاں کے افکار و اقدار صرف نفع اور نقصان سے تعلق رکھتے ہیں۔جہاں رشتے،تہذیب،کلچر انسانیت،وغیرہ کاکوئی مول نہیں ہوتا تبھی تو ہمارے آج کے مشاعرے نے دکھ بھرے انداز میں کہا ؎ دنیا اسیر حرص و ہوس اور ہمیں یہ فکر انساں کے بیچ رشتہ جاں کس طرح رہے یہ فکر صرف شاعرکر سکتاہے، ایک حساس و سنجیدہ انسان کرسکتا ہے لیکن تا جر نہیں،تاجر کو صرف فائدہ چاہئے ۔فراق گورکھپوری ایک لطیفہ سناتے تھے کہ ایک بنئے سے پوچھا گیا کہ تم جنت جانا پسند کرو گے یا جہنم ،بنیے نے فوراً جواب دیا کہ بھیا جہاں دوپیسے کا فائدہ ہو‘بنیا جسے آج تاجر یا بزنس مین یا کارپوریٹ گھرانے اپنے فائدے کے لیے دنیا کو جہنم بنانے کو تیار بیٹھے ہیں کم از کم زبان ،تہذیب،کلچر،فنون لطیفہ کے لیے یہ صورتحال انتہائی مضر اورہلاکت آمیز ہے۔ یہ صارفی اورمشینی زندگی مغرب میں کچھ زیادہ ہی ہے۔اسی لیے مغرب میں پرورش پانے والی نئی نسل ،خاص طور پر اردووالوں کے بچے اردو سے نابلد ہیں اور یہ نابلدی،ناواقفیت اسی صارفیت کا حصہ ہے ۔ان کا سوال ہے کہ ہم اردوکیوں پڑھیں۔اس سے کیا فائدہ،مغرب میں اس کی ضرور ت اور افادیت کیا ہے۔ان کا یہ سوال اتنا غیر اہم بھی نہیں کہ اس پر غور نہیں کرنا چاہئے۔ اورکچھ لوگوں نے تو یہ نتیجہ نکالاہے کہ اول اردو کورومن رسم خط میں پڑھا اورپڑھایا جائے۔دوم اس کو روز گار سے جوڑا جائے۔ لندن کے شاعراور رسالہ ’صدا‘ کے مدیر اقبال مرزا نے اپنے بعض رفقاء کے ساتھ مل کر رومن کی حمایت میں آواز بلند کی۔خوب خوب مخالفت ہوئی اورآواز دب گئی۔اسی طرح کی چند اورکوششیں ہوئیں لیکن کامیابی نہیں ملی۔مسئلہ کم و بیش آج بھی اسی انداز سے برقرارہے اور سنجیدہ ولدین بزرگ بیقرار ہیں۔ ابتدا میں مغرب کے اردوشعرا کا محبوب ترین موضوع ہجرت تھا۔دربدری یا انتقالِ مکانی ۔جسے دیکھو مادی آسائشوں کا لطف اٹھا رہا ہے اور مہجری شاعری میں اپنا دردو کرب بھی پیش کر رہا ہے۔اردوکی روایتی سیاست بھی کر رہا ہے اوردر بدری کا رونا بھی رو رہا ہے۔افتخار عارف۔اشفاق حسین ۔وغیرہ اسی ہجرت اور مہجری شاعری کے حوالے سے پہچانے گئے لیکن یہ اس وقت کی بات تھی جب بقول شاعر ؎ ہم نے جب وادئی غربت میں قدم رکھا تھا دور تک یاد وطن آئی تھی سجھانے کو لیکن ڈالراورپاونڈ کی چمک نے یادِ وطن کو دھندلا کردیا ۔کچھ دنوں کے بعد ہی دیارِغربت کے سماجی اورتہذیبی مسائل سامنے آئے خصوصاً اس وقت جب مہاجرین کی اولادیں بڑی ہوئیں ان کی تعلیم و تدریس اورتہذیب کے مسائل سامنے آئے ۔ مشرق اور مغرب کی تفریق سامنے آئی جو ایک خاموش اذیتناک وتشویش ناک تبدیلی بھی اپنے ساتھ لائی ۔اوروہ تھی اپنی مذہبی اور تہذیبی شناخت۔ مشرق سے جڑیں کٹ چکی تھیں اورمغرب نے تہذیبی حوالوں سے مکمل طو رپر قبول نہیں کیا تو نئی نسل خلا میں معلق ہو گئی۔ یہ دردبزرگوں کو سنجیدہ ۔والدین کو شدت سے محسوس ہونے لگا کہ ہماری زندگی تو جیسے تیسے کٹ گئی لیکن ہماری اولادوں کی زندگی کا کیا ہوگا اس کی اصل شناخت کیا ہو گی ان کے اپنے سنسکار۔اقدار کیا ہو ں گے۔مشرقی یا مغربی یا ان کا آمیزہ اور ملغوبہ ۔ ممتاز مفکر و شاعر بیدار بخت نے ایک نظم کہی کہ ہماری نئی نسل منی پلانٹ کی طرح ہے جو اوپر سے تو ہرا بھرا ہوتاہے لیکن اندرسے کوئی جڑ نہیں ہوتی ۔بہر حال ایک بڑامسئلہ سامنے آیا توشعروادب کے دھارے بدلے۔افکاراقدار بدلے۔تہذیبی و تخلیقی سطح پر شاعروں و ادیبوں کو بہت کچھ سوچنے پرمجبور کیا۔کنیڈا کے شاعر اقبال حیدر تو اس حد تک سنجیدہ ہو گئے : اب کوئی بھی مجھے نہیں درکار اب کسی کی مجھے تلاش نہیں درد جو تھا دوا ہے اب مجھ کو دل ہی میرا خدا ہے اب مجھ کو اب تو جوکچھ ہے میری ذات میں ہے اقبال مرزا یہ کہتے ہیں : کل نظر آئیں گے کس شکل میں معلوم نہیں آج جو دوست ہیں کل دوست رہیں گے کہ نہیں یہ بھی ممکن ہے یہاں آج جو دشمن ہیں مرے کل وہی دوست کی صورت نظر آئیں یہ شعر دیکھئے : مشرق کی پرورش ہے تو مغرب میں ہے قیام میں کشمکش میں ہوں مری مٹی کہاں کی ہے چند اشعاراور ملاحظہ کیجئے : ہماری نسل کو وہ کرب آگہی کے ملے بہت سے بچوں کو دیکھا ہے خودکشی کرتے خالد سہیل آندھی وہ تھی زمین کے رشتے بھی کٹ گئے اکھڑی ہوئی جڑوں سے لپٹ آئے اجنبی ولی عالم شاہین آج اپنے گھر میں قید ہیں ان سے حجاب ہے جو گھر سے بے نیا زہوئے گھر نہیں گئے ساقی فاروقی مثالیں اور بھی ہیں جن کی تفصیل میںکیا جائوں۔ادھر میںنے مغرب کے اردورسالوں میں کئی کہانیاں بھی ایسی پڑھی ہیں جن میں اصل مسئلہ شناخت اورپہچان کا ہی ہے ۔یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے اپنی تہذیب اپنی معاشرت اوراپنے سماج میں سانس لینے کا ۔زندگی کا جو حقیقی لطف ہے وہ اپنوں کے بیچ کاہی ہے اپنے رسم رواج۔تیج تہوار۔اپنے موسم اورسب سے بڑھ کر اپنی مادری زبان۔لیکن اس بات کو وہی سمجھ سکتا ہے جوان عناصر کی نزاکت اور قدر و قیمت کو سمجھتا ہو ،جو کاروباری ہو اورجس کی سوچ بنئے کی طرح ہو وہ ان چیزوں کو بھی صرف نفع و نقصان کے بارے میں ہی سوچتا ہے۔ اس کے لیے پوری دنیا ایک بازار ہے اور اس دنیا کے لوگ اس کے گراہک۔لیکن یہ دنیا سنجیدہ ،حساس اورسنسکاروالوں سے چل رہی ہے۔ایسے لوگوں کے لیے ڈاکٹر جمیل جالبی ایک جگہ لکھتے ہیں ۔ ’’وہ لوگ جو زندگی میں تخلیقی کام کرتے ہیں وہ کام اس وقت تک انجام نہیں دے سکتے جب تک معاشرہ سے ان کا گہراتعلق نہ ہو۔جب تک اپنی سرزمین اوراپنے لوگوں سے ان کی محبت جنون تک نہ ہو۔‘‘ لیکن آج کے بڑھتے ہوئے بازار واد۔مارکٹ کلچر۔ضرورت سے زیادہ حاوی ہوتے ہو ئے نفع و نقصان نے انسانی جذبات و احساسات کے سامنے خطرے پیداکر دیے ہیں ۔اس کی آدمیت اور اشرفیت کو خطرہ ہے۔اس کے فکر و فن کو خطرہ ہے رنگ و چنگ کو خطرہ ہے ۔حرف و صورت کو خطرہ ہے اورامکانات ہیں کہ اگلی صدی تک یہ خطرات اور بھی سنگین ہو جائیں گے اس لئے کہ اس پورے نظام پرجس نوع کے سرمایہ دارانہ نظام کا قبضہ ہے جو اس کو تجارت پسند کی طرح استعمال کر رہے ہیں اور کائنات کی ایک شے کو صارفیت کے حوالے سے انتہائی غیر جذباتی غیر انسانی انداز میں انجام دے کر حیات کو اس کے اقدار کو سودو زیاں کو تول کرایک منڈی میں تبدیل کر دینا چاہتے ہیں۔انسان جو اشرف المخلوقات ہے۔مفکر ہے۔دانشور ہے۔دیدہ ورہے۔ادیب ہے۔شاعرہے وہ سب کہ سب اس تجارتی بہائو میں بہہ جائیں اور اس تیز رفتارزندگی کا حصہ بن کر گھاس کوڑے کی طرح ہو جائیں تاکہ ان کی فکر کی گرمی۔خون کا ابال۔جذبہ کا اچھال۔ مزاحمت۔ اجتجاج اورانقلاب میں نہ بدل جائے۔یہ ایک منصوبہ بند خفیہ جنگ ہے۔اثبات و نفی کے درمیان۔آگہی اورگمراہی کے درمیان۔ اجتماعیت اورانفرادیت کے درمیان اوریہ جنگ نئی نہیں ہے بس ذراشکل بدلی ہوئی ہے ۔فیض نے کہا تھا ؎ یو نہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول نہ ان کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی مسائل اور بھی ہیں انسانی رشتوں کے مسائل۔دلتوں کے مسائل۔عورتوںکے مسائل۔بچوں اورموسموں کے مسائل غرضکہ مسائل ہی مسائل اوران سب پر حاوی تشدد کے مسائل ان پر بھی باتیں کی جانی چاہئے اورضرور کی جائیں گی۔ یہ توصرف اشارے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جیسا انسانی معاشرہ ہوتاہے ویسا ہی اس کا کلچر۔زبان وادب،کلچر لٹریچر آسمانی چیزیں نہیں ہیں یہ سب کے سب زمینی ہیں اورانسان کے حرکت و عمل،تحریک و تنظیم اورتضاد و تصادم سے ہی اپنی تشکیلِ نو اورتخریبِ نو کی صورتیں اختیار کرتی ہیں ۔شاعر و دانشوران امور پر سوچ رہاہے اورمزید سوچے گا۔ یہ کانفرنس بھی اسی سوچ اورغور فکرکانتیجہ ہے ۔ ژاں پال سارتر نے کہا ہے’’اگر ہم نے لکھنے کاپیشہ اختیارکیا ہے تو ہم میںہر شخص ادب کے سامنے جواب دہ ہے‘‘یہاں ادب سے مراد صرف ادب نہیں ،صرف زبان بھی نہیں بلکہ تاریخ ہے اورتاریخِ انسانیت بھی۔جس پر ہم سب کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ mmm

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *