انجمن میں پھر بپا ماتم ہوا

عبد الرحمان ایڈوکیٹ

انجمن میں پھر بپا ماتم ہوا۔اک سپہ سالارِ اردو کم ہوا

             دنیا کا سرائے فانی ہونا تسلیم کر لیا گیا ہے اور موت سے کسی کو رستگاری نہیں ہے کیونکہ آبِ بقائے دوام تو آج تک کسی کو میسّر نہیں آیا۔مگر پھر بھی صفِ اوّل سے کبھی کبھی کوئی  ایسامے خوار اٹھ جاتا ہے کہ پوری محفل سونی محسوس ہونے لگتی ہے۔ابھی تین روز قبل یعنی رواں ماہ کی تین تاریخ کو میرے قریبی دوست پروفیسر نصیر احمد خاں راہیٔ ملکِ عدم ہوئے اور ان کے ساتھ ہی رخصت ہوئے اردو کی بقا اور فروغ کے لئے ان کے ذہن میں تشکیل پاتے ہوئے گو نا گوں منصوبے۔تبلیغِ اردو سے سروکار مجھے بھی ہے لہذٰا اس نقصان کو میں نے دوہری شدت سے محسوس کیا۔ذاتی طور پر ایک عزیز دوست کھویا اور بحیثیت خادمِ اردو زبان کے فروغ و بقا کی جنگ کا ایک سورما ۔مادیت پرستی اور نفسا نفسی کے اس بحرانی دور میں جب  بیشتر لوگ ذاتی تشہیر اور منفعت کی خواہش کے بخار میں جنون کی حد تک مبتلا ہیں نصیر صاحب خاموشی سے اردو کے لئے نہایت اہم اور ٹھوس عملی کام کرتے رہے۔(ویسے بھی عملی اور ٹھوس کام کرنے والے ڈھول تاشے بجا کر کچھ نہیں کیاکرتے۔ ان کے کارہائے نمایاں کے نتائج ہی ان کے خلوصِ نیت کا ثبوت اور انعام ہوتے ہیں) اردو ان کا اوڑھنا بچھونا تھی اور وہ عام تفریحی گفتگو میں بھی اردو کا کوئی نہ کوئی موضوع بڑے غیر محسوس طریقے سے لے ہی آتے تھے ۔وہ ماہرِ لسانیات تھے جو اردو میں تو اکّا دکّا ہی ہوئے ہیں اور تین اگست کی شام کو ان کی تدفین کے لئے بٹلہ ہاؤس قبرستان میں موجود ان کے سابق طالب علم پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے مجھے بتایا کہ ان کے بعد اردو میں لسانیات کا ماہر کوئی نہیں رہا۔یہ بذاتِ خود اردو کا بڑا نقصان سمجھا جائے گا۔وہیں موجود دلی یونیورسٹی کے صدرِ شعبۂ اردو پروفیسر ابنِ کنول نے بھی اس پر صاد کرتے ہوئے کہاکہ بحیثیت ماہرِ لسانیات بھی نصیر صاحب ایک منفرد شناخت رکھتے تھے۔مجھے خود بھی لسانیات سے شغف رہا ہے اور تقریباً پندرہ سال قبل نصیر صاحب سے دوستی بھی اسی مشترکہ شوق کی بنا پر ہوئی تھی جو جلد ہی رسمی حدود پار کر کے انسیت اور محبت میں تبدیل ہو گئی۔میں نے پہلی مرتبہ انھی کے منہ سے بڑے فخر آمیز لہجے میں یہ دعویٰ سنا کہ ’’ اردو دنیا کی واحد زبان ہے جو تین برّ ِ اعظموں کے چھ لسانی خاندانوں کی اٹھائیس زبانوں سے لسانی و ادبی رشتے رکھتی ہے‘‘۔یہ اعلان کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں جو چمک تھی وہ ایک عاشقِ صادق کی آنکھو ں میں ہی ہو سکتی ہے اور اسی دن سے میں اردو کے لئے ان کی مکمل خود سپردگی اور خلوصِ نیت پر ایمان لے آیا تھا۔ہم دونوں میں اور بھی بیشتر عادات و نظریات مشترک تھے جن میں ایک اہم نکتہ ٔ اشتراک تھا تنقید کے لئے ناپسندیدگی اور بیزاری۔وہ بغیر کسی لگی لپٹی کہا کرتے تھے کہ بیشتر تنقیدی مضامین اصل میں تنقیدی انشائیے ہوتے ہیں۔ان کی رائے بلکہ تبصرہ تھا کہ ناقدین شعری لفظیات اور استعاراتی زبان کا استعمال کرتے ہیں جو تنقید جیسے سنجیدہ موضوع کا استہزا ہے۔کلیم الدین احمد کے جملوں’’ اردو غزل ایک نیم وحشی صنف ہے ‘‘ اور’’ اردو تنقید معشوق کی موہوم کمر ہے ‘‘ یا خورشید الاسلام  کے ’’ شبلی پہلے یونانی ہیں جو ہندوستان میں پیدا ہوئے‘‘ اور’’ شبلی اگر شاعر نہ ہوتے تو مصوّر ہوتے‘‘  جیسے اظہارِ ات پر ہم دونوں کھل کر قہقہے لگاتے تھے۔پھاوڑے کو پھاوڑا کہنے کی ان کی عادت مشہور تھی مگر ان کی خواہش ہوتی تھی کہ پھاوڑے کے لئے پھاوڑے سے بھی آگے کا کوئی مزید چبھتا ہواکٹیلا سا لفظ ڈھونڈھا جائے (انگریزی میں تو   bloody shovel موجود ہے)۔

       میں یہ مضمون پروفیسر نصیر خاں کی  obituary  یعنی ’وفاتیہ ‘ کی طرز پر لکھ رہا ہوں لہذٰا ان کے علمی پس منظر اور کارہائے نمایاں کا مختصر ذکر لازمی ہو جاتا ہے۔میں ’’ جات نہ پوچھو سادھو کی ‘‘ پر عمل پیرا ہوں لیکن ضروری کوائف میں آتا ہے کہ نصیر صاحب کا تعلق پیروں فقیروں کی سر زمین مارہرہ شریف کے ایک معزز زمیندار لیکن پڑھے لکھے گھرانے سے تھا۔وہیں سے ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی۔اے اور اردو ادب میں امتیاز کے ساتھ ایم۔اے کیا۔لسانیات کی جانب رجحان کے سبب پونہ چلے گئے اور وہاں لسانیات کے اہم تعلیمی ادارے دکن کالج سے لسانیات میں دوسرا ایم۔اے کیا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد کشمیر،علی گڑھ اور جواہر لال نہرو یورسٹیوں میں پینتیس سال تک تدریس کے فرائض انجام دیئے۔جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے سبک دوش ہوئے تو اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں سینیئر صلاح کار مقرر ہوگئے جہاںپہنچتے ہی انھوںٔ نے نہ صرف شعبۂ اردو قائم کیابلکہ اردو کے سرٹیفیکیٹ،ڈپلومہ اور گریجویٹ کورس شروع کرائے۔  اسی یونیورسٹی کے تحت پورے ملک میں ان کی کوششوں اور منصوبہ بندی سے اردو پڑھانے کے  اڑتیس خصوصی مراکز قائم کئے گئے۔اردو ایم۔اے اور ایم فل کے نصابوں میں اردو کے تہذیبی ادارے،اردو کا مہجری ادب،اسلوبیات اور سکرپٹ رائٹنگ جیسے موضوعات نصیر صاحب کی تحریک اور کوششوں سے ہی شامل ہوئے۔ وہ دو مرتبہ جواہر لال یونیورسٹی کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز کے سربراہ اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے اعزازی فیلو بھی رہے۔جے این یو میں پروفیسر محمد حسن کی معیّت میں ماس کمیونیکشنز کا کورس بھی نصیر صاحب نے ہی شروع کرایا تھا۔ان کے زیرِ نگرانی اردو کے سو سے زائد تحقیقی مقالے لکھے گئے۔ان کی تقریباً ۳۲ تصنیفات موجود ہیں جن میں لسانی نقطۂ نظر سے اہم ترین اردو کی صوتی لغت ہے جو اردو میں اپنی طرز کا پہلا علمی کام ہے۔ویسے تو ان کی تمام تصنیفات وقیع اور ٹھوس تحقیقی نوعیت کی ہیں لیکن معرکۃالآرا کی صف میں آتی ہیں ’اردو ساخت کے بنیادی عناصر‘، ’اردو کی بولیاں اور کرخنداری‘، ’اردو لسانیات‘،’اردو انشائیہ‘، اور ادبی اسلوبیات‘۔ اردو میں اسلوبیات پر سنجیدہ کام کی داغ بیل پروفیسر نصیر نے ہی ڈالی۔اس کے علاوہ اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے مختلف نصابات کی سولہ کتابیں مرتب کیں۔ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’ آڑے ترچھے آئینے‘‘ اور سوانحی خاکوں پر مبنی کتاب ’’ کچھ یادیں،کچھ باتیں،کچھ ملاقاتیں‘‘ زیرِ طبع ہیں۔وہ بڑے شوق اور رغبت سے اپنی سوانح لکھ رہے تھے جس کے بارے میں وقتاً فوقتاً مجھ سے گفتگو کرتے تھے۔اس کا عنوان بھی انھوں نے میرے مشورے پر طے کیا تھا۔کووڈ میں مبتلا ہونے سے ذرا قبل مجھے مطلع کیا کہ خود نوشت مکمل ہو گئی ہے فقط اس میں اپنے کچھ بچوں کا ذکر شامل کرنا ہے۔ان کے صاحبزادے اور داماد نے مجھے بتایا کہ بیماری کے دوران بھی خود نوشت کا ذکر بڑے چاؤ سے کرتے تھے۔افسوس ان کی حیات میں وہ شائع نہیں ہو سکی۔اب عالمی اردو ٹرسٹ نے اس کی اشاعت کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ان کو متعدد ایوارڈ اور اعزازات سے نوازا گیا جس کی تفصیل اس وقت میرے سامنے نہیں ہے لیکن ان کے کارہائے نمایاں کے نتائج خود ان کی صلاحیتوں اور  اردو کے لئے ان کی بے لوث خدمات کے مظہر ہیں۔پچھلے سو سال میں اردو کی بقا اور فروغ کے لئے اتنا عملی کام شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ملک کے طول و عرض میں پھیلی نہ جانے کتنی دانش گاہوں اور علمی اداروں میں ان کے پڑھائے ہوئے طلبا تدریسی اور دیگر علمی فرائض انجام دے رہے ہیں اور بعض دیگر میدانِ صحافت میں جوہر آزما ہیں۔

             نصیر صاحب نے اپنی شرائط پر زندگی گذاری جسے میں ایک غیر معمولی وصف سمجھتا ہوں۔وہ منہ پھٹ ہونے کی حد تک صاف گو اور تیز مزاج تھے۔بحیثیت استاد بھی ان کی سخت گیری کا ذکر ہوتا ہے۔لیکن پرانی کہاوت ہے کہ دودھ دینے والی گائے کی لاتیں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔اور پروفیسر نصیر احمد خاں کی علمی گائے نے تو اتنا دودھ فراہم کیا کہ کئی نسلیں اس سے سیر ہوں گی۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔مجھے یقین کامل ہے کہ وہ حورانِ بہشتی سے اردو  میں ہی اختلاط کریں گے خواہ اس کے لئے انھیں وہاں لسانی مدرسہ ہی کیوں نہ قائم کرنا پڑے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *