انگریزی ادیبہ عطیہ حسین اور زوال پذیر جاگیردارانہ تہذیب

ڈاکٹر محبوب حسن

اسسٹنٹ پروفیسر،شعبۂ اردو،دین دیال ا پادھیائے، یونیورسٹی

 گورکھپور،یوپی،273009

انگریزی ادیبہ عطیہ حسین اور زوال پذیر جاگیردارانہ تہذیب

         عطیہ حسین انگریزی فکشن کا بے حد معرو ف اوراہم نام ہے۔ان کی پیدائش اودھ کے معروف جاگیردارانہ گھرانے میں ۱۹۱۳ء کوہوئی۔ ان کے والد شاہد حسین لکھنؤ کے مشہورتعلقہ دار تھے۔عطیہ حسین کا خاندان سماجی،سیاسی، تعلیمی اعتبار سے نہایت روشن خیال اورترقی پسندانہ تھا۔ان کی تعلیم وتربیت مشرقی اور مغربی دونوںانداز میںہوئی۔اردو،عربی اور فارسی کے علاوہ انھیں انگریزی زبان و ادب سے بھی گہرا شغف رہا ہے۔ عطیہ حسین نے ۱۹۳۳ء میں لکھنؤ یونیورسیٹی سے بی اے کی تعلیم مکمل کی۔انھیں جاگیردارانہ و طبقے کی پہلی گریجویٹ خاتون ہونے کا شرف حاصل ہے۔انھوں نے اپنی زندگی کے تجربات ومشاہدات کوتخلیقی بصیرت کے ساتھ پیش کیاہے۔ان کی تخلیقات سے مشترکہ تہذیبی وثقافتی قدروں کی تاریخ مرتب کی جا سکتی ہے۔

         “Sun Light on a Broken Column”ان کا مشہورترین ناول ہے۔یہ ناول ۱۹۶۱ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔اس ناول میںزوال پذیر جاگیردارانہ اقداروروایات کوتاریخی بصیرت کے ساتھ موضوع بحث بنایا گیا ہے۔اس ناول کے علاوہ عطیہ حسین نے “Phonenix Fled”کے عنوان سے ایک افسانوی مجموعہ بھی یادگار چھوڑا ہے۔تقسیم ہند ہندوستانی تاریخ کا ایک نہایت المناک باب رہاہے۔اس حادثے نے ملک کی مختلف زبانوں کے ادب پراپنے داخلی اور خارجی اثرات مرتب کیے۔غور طلب ہے کہ انگریزی فکشن میں زوال پذیر جاگیردارانہ نظام کے تخلیقی اظہار کی کوئی قابل ذکر روایت نہیں ملتی ۔عطیہ حسین انگریزی کی ایک ایسی ممتاز خاتون ناول نگار ہیں،جنہوں نے انگریزی فکشن کوبیش بہا مشترکہ روایات سے روشناس کرایا۔ انہوں نے تقسیم ہند کے جلو میںشکست خوردہ جاگیردارانہ نظام اورزوال پذیر تہذیب وثقافت کی اچھوتی ترجمانی کی ہے۔زیر مطالعہ ناول “Sun Light on a Broken Column” میں مذکورہ مسائل کی حقیقت پسندانہ عکاسی نظر آتی ہے پیش نظر ناول ’’سن لائٹ آن اے بروکن کالم‘‘اپنے موضوع اور انداز پیش کش کے لحاظ سے انگریزی ناول نگاری کی دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ انگریزی کے معروف ادیب ملک راج آنند نے عطیہ حسین کی تخلیقی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے:

“She has revealed her self as one of the most talented pioneers of the novel in Indian-English literature. ‘Sun Light on Broken Column’ has established her status as an outstanding writer in English of the Post-Independence era.”(1)

(A profile; Sunlight on a Broken Column, by Attia Husain”,   Mulk Raj Anand, Arnold-Hainemann, New Delhi, p:87)

         “Sun Light on a Broken Column”میں بیشتر مسائل ناول کی ہیروئن لیلیٰ کی نظر سے پیش کیے گئے ہیں۔وہ ناول کے پلاٹ کی ترنگوں پرہرجگہ اٹھکھیلیاں کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اردو کی معروف فکشن نگار خدیجہ مستور کے مشہور زمانہ ناول ’’آنگن‘‘ میں عطیہ حسین کے افکارونظریات کی پرچھائیاں موجود ہیں۔ناول ’’آنگن‘‘ کی مانندعطیہ حسین کے “Sun Light on a Broken Column”  میں لکھنؤ کے جاگیردارانہ نظام اور مشترکہ خاندان کے زوال کی داستان بیان کی گئی ہے۔ مصنفہ نے ۱۹۳۰ء سے لے کر تقسیم کے بعد تک کے سماجی، تہذیبی اورسیاسی صورت حال کو پس منظر کے طور پر استعمال کیاہے۔ اردو ناول ’’آنگن‘‘ کی طرح اس میں بھی ایک وسیع تر پس منظر ملتا ہے۔عطیہ حسین نے قومی تحریک،کانگریس و مسلم لیگ کی سیاسی کشمکش اور تقسیم وطن کے زیر اثر مشترکہ خاندان او رجاگیردارانہ نظام کی تباہی کو تاریخی صداقت کے ساتھ پیش کیاہے۔انہوں نے اس ناول کے پلاٹ کی بنیاد جاگیردارانہ مسلم خاندان پر رکھی ہے۔ نشان خاطر رہے کہ یہ ناول اس عہد میں مشترکہ خاندان پرلگنے والے گہن اور سیاسی و تہذیبی تاریکی کوحقیقت پسندانہ انداز میںبے نقاب کرتا ہے۔بقول آمینہ امین:

“The novel ‘Sun Light on a Broken Column’ is basically a study of the disintegration of a family which, like most of the taluqdars of the pre partition days, had to encounter the onslaught of the changes the country was undergoing.”

(“Sunlight on a Broken Column; The Disintegration of a         Family”, Amina Amin, Streling Pub. pvt. Ltd., 1994, p:47)

         آمینہ امین نے تقسیم ہنداور ملک کے تبدیل شدہ سیاسی حالات و مسائل کے تناظر میں پیدا ہونے والی غیر معمولی تبدیلی کو نشان زد کیا ہے۔ عطیہ حسین کا یہ ناول لکھنو کے ایک ایسے جاگیردارانہ خاندان کے زوال کا نقشہ پیش کرتا ہے، جس کی لیلیٰ چشم دیدگواہ ہے۔لیلیٰ اس ناول کی راوی اور ہیروئن  ہے۔اس کی یادداشتوں کے سہارے ہی ناول کا پلاٹ آگے بڑھتا ہے۔ اردو ناول ’’آنگن‘‘ کی ہیروئن عالیہ کی طرح ’’سن لائٹ آن اے بروکن کالم‘‘کی لیلیٰ بھی حالات واقعات کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔مصنفہ نے اس خاندان کے سرپرست بابا جان کی جاگیردارانہ روایات کی پستی و زبوں حالی کی مختلف جہتوں کو آئینہ دکھایا ہے۔ ناول نگار نے نہایت معروضی اورتاریخی صداقت کے ساتھ ان اسباب و محرکات کی نشاندہی کی ہے۔

         زیر مطالعہ ناول “Sun Light on a Broken Column” چار ابواب پر مشتمل ہے۔پہلا باب بابا جان کے جاگیردارانہ خاندان اور مشترکہ قدروں کومتعارف کراتا ہے۔ اس خاندان کے مختلف افراد اسلامی طرز زندگی کے پابند ہیں۔خاندان میں نماز،روزہ ، تلاوت قرآن اور پردے کا سخت ماحول ہے۔ سید محمد حسن خاندان کے سرپرست ہیں۔ناول کی ہیروئن لیلیٰ انھیں بابا جان کہہ کر پکارتی ہے۔عطیہ حسین نے سید محمد حسن یعنی بابا جان کو “Traditional Feudalism” کی علامت کے روپ میں پیش کیا ہے۔ان کی وفات کے بعد یہ خاندان سیاسی، تہذیبی، مذہبی اوراقتصادی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔بعض ناقدین کا خیال ہے کہ  “Sun Light on a Broken Column” سوانحی طرز کا ناول ہے۔در اصل ہیروئن لیلیٰ کے کردار میں عطیہ حسین کی زندگی کا عکس واضح طور پر نظر آتا ہے۔اس ناول میں مصنفہ کی زندگی کے وسیع تر تجربات و مشاہدات اور اس کے عہد کی سماجی ،سیاسی اور تہذیبی صورت حال کے گہرے نقوش موجود ہیں۔جین جسبیرکے مطابق:

“Because of the autobiographical aspect of the novel, there are many convergences between Attia Hosain and her fictional narrator,Laila. Laila’s observation of socio-political events of mid-twentieth century and their ramifications on her own life, her family and her community are extensions of Attia Hosain’s own experiences. The world of Laila is a reflection of Attia Hosain’s contemporary society.”

(“Attia Husain: A Diptych Volume” Jasbir Jain, Rawat  Publications, Jaipur, 2001 p:143)

         حامد،احمد،ماجدہ،عابدہ،کمال ،سلیم،اسد،زاہد،زہرہ اورشاعرہ وغیرہ ناول کے دوسرے اہم کردار ہیں۔ حامد اور احمدسید محمد حسن کے صاحبزادے ہیں۔اپنے والدسید محمد حسن کی مرضی کے خلاف حامداپنی بیوی شاعرہ اور بیٹے کمال و سلیم کے ساتھ یوروپ چلے جاتے ہیں۔ ناول کی ہیروئن لیلیٰ احمد کی بیٹی ہے۔اپنے والد کے انتقال کے بعد لیلیٰ بابا جان کے پاس رہتی ہے۔ اس کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داری گھر کی نوکرانی حکیمن بوا سنبھالتی ہیں۔ ماجدہ اور عابدہ بابا جان سید محمد حسن کی صاحبزادیاں ہیں۔بیوہ ماجدہ اپنی بیٹی زہرہ کے ساتھ اپنے میکے میں رہتی ہیں۔بابا جان کی چھوٹی صاحبزادی عابدہ ابھی غیرشادی شدہ ہیں۔ اسد اور زاہد بابا جان کے دور کے رشتہ دار ہیں۔ناول کے پہلے باب میں تمام تر کردار ہمارے سامنے آتے ہیں۔عطیہ حسین نے کرداروں کی پیش کش میں ڈرامائی اور تشریحی دونوںانداز اختیار کیا ہے۔ ناول کا آغازلیلیٰ کی یادوں کے توسط سے ہوتا ہے۔بابا جان کا بستر مرگ پر پڑے رہنا در اصل جاگیردارانہ زوال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔لیلیٰ کی زبان سے ادا ہونے والا یہ جملہ “Baba Jan had not much longer to live” قاری کو غم کی کیفیت سے دو چار کرتا ہے۔ناول کا دوسرا باب بابا جان کے جاگیردارانہ خاندان کی قابل رحم صورت حال کو آشکار کرتا ہے۔ناول کے باب دوم کا ابتدائی اقتباس ہی ہمیں اس زوال آمادہ خاندان سے روبرو کراتا ہے:

“All those people who had so far been a part of life were pushed farther and farther away. After they were married aunt abida and Zahra went away to their own homes. Aunt Majida stayed on at Hasanpur with Ustanji and Hajjan Bibi as companions, living in one part of the large house, surrounded by closed, empty rooms with blind-eyed widows and drifted deeper into the glooms of hypochondric melancholy.”

(Sun Light on a Broken Column”, Attia Husain, Arnold- Heinemann: New Delhi, 1979, p:118)

         مذکورہ بالاعبارت بابا جان کی شاندار جاگیردارانہ روایات کے مختلف گوشوں کو روشن کرتا ہے۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ باباجان کی وفات کے بعد ان کا مشترکہ خاندان شدید طور پر شکست وریخت کا شکار ہو جاتا ہے۔لیکن چچا حامد کی واپسی خاندان کو ایک نئی زندگی اور ایک نئی روشنی بخشتی ہے۔وہ خاندان کی بکھری ہوئی مختلف کڑیوں کو دوبارہ جوڑنے کی ہرممکن کوشش کرتے ہیں۔

         چچاحامد مشرقی و مغربی روایات اور مشترکہ تہذیبی قدروں کے پروردہ ہیں ۔وہ لیلیٰ کی تعلیم کے لیے راہیں ہموار کرتے ہیں۔وہ لیلیٰ کے حقوق اور اس کے ارمانوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ خاندانی زمین وجائدادمیںلیلیٰ کی حصہ داری کو بھی یقینی بناتے ہیں۔لیلیٰ اپنے رشتہ دار اور تاریخ کے لیکچرر عامرحسین سے دل لگاتی ہے اورجلد ہی دونوں کی شادی بھی ہوتی ہے۔شادی کے تھوڑے دنوں بعد عامراس دارفانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔اسد محرم کے جلوس کے دوران ہونے والے فساد میںبری طرح زخمی ہو جاتا ہے۔یہ حادثہ فرقہ وارانہ تشدداور مذہبی منافرت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔زاہد اور اسد اعلیٰ تعلیم کے حصول کی غرض سے خاندان سے دور چلے جاتے ہیں۔واضح رہے کہ باب دوم سے ہی خاندان کے زوال کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔

         تاریخ شاہد ہے کہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاسی کشمکش ہزاروں خاندانوں کو متاثر کرتی ہے۔ایک ہی چھت کے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگ سیاسی کشمکش اور نظریاتی اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔سیاسی چپقلش اور نظریاتی شدت پسندی ان کے درمیان دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔ہیں۔تقسیم ہند پر مشتمل ناولوں کا مطالعہ ہمیں باور کراتا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل ہی خاندانوں کے بکھرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ عطیہ حسین کے فن پاروں میں تقسیم ہند کے نتیجے میں ہونے والے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات اور قتل و خون کی راست ترجمانی نہیں ملتی۔اس المیے کے خارجی اثرات سے قطع نظر انہوںنے بیش بہا تہذیبی اور ثقافتی قدروں کے زوال کی داستان بیان کی ہے۔ان کا ناول “Sun Light on a Broken Column”اس کی عمدہ مثال ہے۔اردو ناول ’’آنگن‘‘اور’’دو گز زمین‘‘میں بھی اس صورت حال کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔زیر مطالعہ ناول کا تیسرا باب باباجان کے خاندان پر پڑنے والے سیاسی اثرات کو حقیقت پسندانہ طریقے سے سانے لاتا ہے۔سیاسی موضوعات پر ہونے والی گفتگو خاندان کے مختلف افراد کے درمیان دراڑیں ڈال دیتی ہے۔خاندان کاامن و سکون اوراتحاد سیاسی انتشار کی نذر ہو جاتا ہے ۔بابا جان کے آنگن میںپنپنے والی سیاسی فضا خاندان کے انتشار کا اصل وجہ قرار پاتی ہے۔اس صورت حال کے حوالے سے ایک اقتباس دیکھیے:

“Even visitors argued. A new type of person now frequented the house. fanatic, beared men and young zealots would come to see saleem; rough country-dwelling landlords and their ‘courtiers’ would visit my uncle. Saleem had, metaphorically, discarded his old school tie and my uncle his spats and gloves. Suave, sophisticated tea and dinner parties had become infrequent, and Government House receptions an interlude. Every meal at home had become an ordeal, as peaceful as a volcanic eruption.ـ”

(Ibid, p:230)

         عطیہ حسین نے برصغیر کے تبدیل شدہ سیاسی حالات،قومی تحریکات اورمسلم لیگ کے قیام جیسے واقعات کے تناظر میں بکھرتے ہوئے جاگیردارانہ کلچر کو تخلیقی گویائی عطا کی ہے۔مصنفہ نے چچاحامد اور ان کے بیٹے سلیم کے کردارکے پس پردہ اس عہد کی سیاسی ابتری کی عمدہ ترجمانی کی ہے۔عطیہ حسین نے اپنے ناول ’’سن لائٹ آن بروکن کالم‘‘میں اس عہد کی سیاسی و نظریاتی کشمکش کو جس تخلیقی توانائی اور تاریخی بصیرت کے ساتھ پیش کیاہے،اس کی مثال انگریزی ناول کی روایت میں کہیں اور نظر نہیں آتی۔

         سلیم کے والد حامدمذہبی رواداری اورہندو مسلم اتحاد میں یقین رکھتے ہیں۔وہ مسلم لیگ جیسی سیاسی جماعت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیںاور اسے فرقہ پرست جماعت قرار دیتے ہیں۔جبکہ ان کا بیٹا سلیم کانگریس سے سخت نفرت کرتاہے۔وہ مسلم لیگ کے سیاسی نظریے کا حمایتی ہے۔سلیم مسلم لیگ کو اپنا اصل غم خواراورہمدرد سمجھتا ہے۔وہ لیگ کے ہر قدم وہر فیصلے میں ایک بہتر اور روشن مستقبل کا خواب دیکھتا ہے۔ وہ کانگریس کو مسلمانوں کا دشمن تصور کرتا ہے۔ عطیہ حسین کی یہ سیاسی بصیرت ہمیں اردو ناول’’آنگن‘‘اور’’دو گز زمین ‘‘کے کرداروں کی یاد دلاتی ہے۔ عطیہ حسین، خدیجہ مستوراور عبدالصمد کے یہاں  فکری وتخلیقی سطح پرحد درجہ یکسانیت نظر آتی ہے۔ناول ’’سن لائٹ آن بروکن کالم‘‘ میںباپ اوربیٹے کے درمیان پیدا ہونے والی سیاسی و نظریاتی کشمکش کی مثال پیش خدمت ہے ۔سلیم اپنے والد سے کہتا ہے:

“I believe the Congress has a strong anti-Muslim element in it against which the Muslims must organise. The danger is great because it is hidden, like an iceberg(…)

The majority of Hindus have not forgotten or forgiven the Muslims for having ruled over them for hundreds of years. Now they can democratically take revenge. The British have ruled about two hundreds years, and see how much they are hated.”

(Ibid, p:233-234)

         یہ اقتباس مسلمانوں کے دلوںمیں پیدا ہونے والے خوف وہراس کی جانب اشارہ کرتا ہے۔سلیم مسلمانوں کی بے بسی و لاچاری کی نمائندگی کرتا ہے۔وہ اپنے والد حامدکے سمجھانے کے باوجود مملکت خدا داد کا خیرمقدم کرتا ہے۔سلیم کے علاوہ پاکستان ہجرت کرنے والے دوسرے کرداروں میںزہرہ اور زاہد وغیرہ اہم ہیں۔ناول کے یہ کرداراس مخصوص عہد کے سیاسی انتشا کو آشکار کرتے ہیں۔ناول”Sun Light on a Broken Column” کا آخری یعنی چوتھا باب تقسیم ملک کے زیر اثرمشترکہ خاندان اور جاگیردارانہ نظام کی شکست وریخت کی حقیقی تصویریں پیش کرتا ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ تقسیم وطن کے اعلان کے ساتھ ہی ملک کے طول و عرض میںفرقہ واریت کا زہر پھیل جاتا ہے۔قیام پاکستان کے بعد بابا جان کا مشترکہ خاندان شدید طور پر متاثرہوتا ہے۔ سلیم اپنے روشن مستقل کی تلاش میں پاکستان ہجرت کر جاتا ہے جبکہ اس کا بھائی کمال اپنی جاگیردارانہ قدروں کو سینے سے لگائے رکھتا ہے۔وہ کسی بھی صورت اپنی زمین اور مٹی سے الگ ہوناگوارا نہیں کرتا۔سلیم اور کمال کے علاوہ ناول کے دوسرے اہم کردار اسداور زاہد بھی سیاسی انتشار کے سبب پر ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ اسد بابائے قوم گاندھی جی کے نقش قدم چلتا ہے جبکہ اس کا بھائی زاہد پاکستان کے سفر کے دوران کسی ٹرین حادثے کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کی دردناک موت دراصل باباجان کی جاگیردارانہ قدروں کا المیہ ہے۔انگریزی فکشن نگار عطیہ حسین نے اپنے اس ناول کے توسط سے جاگیردارانہ ر وایتوں اور مشترکہ قدروں کی تباہی و بربادی کی بے حد عمدہ تصویر کشی کی ہے۔ان کے اس ناول میں قرۃ العین حیدر اور خدیجہ مستور کے تہذیبی اور ثقافتی سروکار کی گہری چھاپ موجود ہے۔

         عطیہ حسین کا ناول ناول ’’سن لائٹ آن اے بروکن کالم‘‘زوال پذیر مشترکہ خاندان اور جاگیردارانہ کلچرکی مختلف جہتوں کو ایک نئے ڈسکورس کے ساتھ پیش کرتا ہے۔مصنفہ نے ناول کی ہیرووئن لیلیٰ کی یادوں کے سہارے اپنا تخلیقی سفر طے کیا ہے۔زیر مطالعہ ناول میں ’’آشیانہ‘‘ نامی حویلی کا ذکر موجودہے۔’’آشیانہ‘‘ لکھنؤ کی ایک ایسی شاندارحویلی ہے، جس میں جاگیردارانہ زندگی پورے آب وتاب کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔در اصل عطیہ حسین نے ’’آشیانے‘‘ کو تہذیبی ثقافتی گہوارے کی شکل میں پیش کیا ہے۔وہاں جاگیردارانہ زندگی کی تمام تر آسائشیں فراہم ہیں۔ لیکن تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعدباباجان کی قدیم جاگیردارانہ وراثت محفوظ نہیں رہتی۔’’آشیانہ‘‘نامی حویلی پرسیاسی تاریکی میں غرق ہو جاتی ہے۔تقسیم کے المیے کے بعد ’’آشیانہ‘‘کے چند افراد ہندوستان سے ہجرت کر جاتے ہیں۔لیکن ملک سے دور رہ کر بھی ان کے دلوں میں ’’آشیانہ‘‘کی یادیںتاعمر تازہ رہتی ہیں۔ یہاں گزارے ہوئے شب وروزاورکسک آمیز حسین لمحات انھیں بے چین رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد لیلیٰ،سلیم اور نادرہ ’’آشیانہ‘‘ آنے پر مجبور ہوتے ہیں۔چودہ برسوں کی طویل مدت کے بعد لیلیٰ جب اپنے آشیانے میںقدم رکھتی ہے تو اسے اپنی جاگیردارانہ قدریں شدت سے یاد آتی ہیں۔ اپنے حسرت ناک ماضی کو یاد کر کے اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے۔ہیروئن لیلیٰ کی داخلی کیفیت کو عطیہ حسین نے نہایت پرسوز انداز میں پیش کیا ہے۔اقتباس پیش خدمت ہے:

“Yet, now, standing before its disintegration reality I was as still as a stone in unstirred waters….!

There were strangers living in the room where I had once searched for my lost father and mother, where I had found refuge in the love of my aunt Abida and Hakiman Bua, where I had developed through conflict with zahra and Aunt Saira, where I had learned comradeship through asad and Kemal and tested my beliefs in arguments with saleem and Zahid, where my will had been disciplined by my grandfather and Uncle hamid, and been freed by my dreams and love for Ameer….!

(Ibid, p:272)

         مذکورہ بالا اقتباس کی روشنی میں لیلیٰ کے باطنی کرب و اضطراب کابخوبی اندازہ ہوتا ہے۔در اصل ناول ’’سن لائٹ آن اے بروکن کالم‘‘ شاندار جاگیردارانہ روایات اورمستحکم ثقافتی قدروں کے ٹوٹنے بکھرنے کی ایک کسک آمیز داستان ہے۔

         عطیہ حسین نے اپنی حسرت ناک زندگی کے گہرے تجربات ومشاہدات کو تخلیقی گویائی عطا کی ہے۔ یہ ناول در حقیقت یادوں کا ایک ایسا کولاژ ہے، جس میںکڑی دھوپ اور بکھرے ہوئے خواب ہیں۔ زیر مطالعہ ناول ’’سن لائٹ آن بروکن کالم‘‘ کے فکری سروکار کی بنا پرانگریزی کے ناقد نووی کپاڑیا نے اسے “A work of nostalgia” سے تعبیر کیا ہے۔عطیہ حسین نے اپنے اس منفرد ناول میں تقسیم ہندکی تباہی و بربادی کو مسلم زاویہ نگاہ سے پیش کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔مختصر یہ کہ بابا جان کا شکستہ حال جاگیردارانہ خاندان ایک ایسا صاف و شفاف آئینہ ہے، جس میںتقسیم کی زد میں آنے والے ہزاروں مسلم جاگیردارانہ خاندان کی بربادی کی تصویریں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

٭٭٭

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *