You are currently viewing اُردو ادب میں مزاحمت کی روایت

اُردو ادب میں مزاحمت کی روایت

ڈاکٹر محمد کامران شہزاد

سرگودھا ، پاکستان

اُردو ادب میں مزاحمت کی روایت

The Tradition of Resistance in Urdu Literature

     

Dr.Kamran Shahzad

Sargodha(Pakistan)

Abstract

The conscious section of any society adopts a resistance attitude against poverty, bankruptcy, cruelty and barbarism, loss of personal freedom and slavery. The effects of which are also set on the literature of this society. Resistance takes a regular attitude in the literature created after the War of Independence in India. In this paper, the tradition of resistance in Urdu literature has been discussed. Later, the tradition of resistance in the Urdu novel before the establishment of Pakistan has also been examined.

Key Words.Urdu Adab,Urdu Novel, Resistance

عالمی ادب کے منظر  نامے پر دیگر زبانوں کی طرح اُردو ادب میں بھی  مزاحمت کی  ایک مستحکم روایت موجود ہے ۔ اُردو زبان و ادب کا آغاز ہی ایسے دور  میں ہوا  جب ہندوستان  سیاسی، معاشرتی  اور تہذیبی انحطاط کا شکار ر تھا ۔ اُردو ادب میں مزاحمت  کی روایت مغلیہ سلطنت  کے دورِ زوال سے شروع ہوتی ہے بعد ازاں  انگریزوں کی ہندوستان آمد اور پھر رفتہ رفتہ  ہندوستان پر قابض ہونے  کی مسلسل کوششوں نے اس عہد کو  شکست و ریخت سے  دوچار کیا ۔ڈاکٹر رشید امجد  نے  اس دور کی سیاسی  اور سماجی صورت حال کو  یوں بیان کیا ہے:

“مزاحمت ہمارے ادب کے خمیر میں رچی بسی ہے کہ اُردو ادب  کا آغاز جس دور میں  ہوا وہ سیاسی انحطا ط اور معاشرتی و تہذہبی زوال کا عہد ہے ۔ اٹھارویں صدی کے آغاز سے  اس زوال کی ابتدا  ہو گئی تھی اور یہ زوال بنیادی طور پر سیاسی انحطاط کا نتیجہ تھا”[i]

1857ء کی جنگِ آزادی  میں ناکامی  کے بعد ساڑھے چھ سو سالہ مسلم سلطنت کا اختتام ہو ا اور غلامی کا ایک طویل  دور شروع ہوا ۔ شکست محض جغرافیائی نہیں ہوتی  بلکہ اس کے اثرات  زندگی کے ہر شعبے پر  پڑتے ہیں ۔ محکوم قومیں  داخلی و خارجی ، سیاسی و سماجی  تہذیبی  غرض کہ ہر طرح سے متاثر ہوتی ہیں  گو 1857ء کی جنگ آزادی  نے  زمین کو بچانے کے بجائے ذہن کو بچانے کے جتن کیے ۔[ii]

۱۸۵۷ ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد ہندوستان کا پورا سیاسی اور سماجی منظر نامہ تبدیل ہو گیا۔ جب انگریزوں نے مجاہدین پر مکمل قابو پا لیا تو اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں سے بدترین انتقام لیا۔ ایک طرف انہوں نے ہندوستانی عوام کا قتل عام کیا دوسری طرف انہوں نے عورتوں اور بچوں کو بھی نہ بخشا۔ان کی ان کار روائیوں کی وجہ سے ہندوستان کا سیاسی اور معاشرتی وقار بالکل ختم ہو کر رہ گیا۔

جنگ آزادی کے بعد ہندوستانی عوام کو انگریزوں کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بننے کے بعد ایک ہمہ گیر انقلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انقلاب نے ان کی زندگیوں کو بالکل تبدیل کر کے رکھ دیا۔ نئےمسائل نے جنم لیا۔ جس کی وجہ سے نئے شعور اور نظریات ابھر کر سامنے آئے۔ انگریزی تعلیم کی وجہ سے لوگوں کے لیے نئے راستے سامنے آئے۔ یوں ایک نیا نظام ابھر کر سامنے آیا اور اس کے نتیجے میں ہندوستانی ادب بھی ایک نئے انقلاب سے دوچار ہوا۔ جنگ آزادی کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں سیاسی آزادی کا تصور ابھرا اور لوگ سیاسی طور پر خود کو مضبوط بنانے کی تگ و دو کرنے لگے۔ حب الوطنی کا جذبہ شدت سے سامنے آیا۔

کسی بھی قوم کا   حساس طبقہ غربت،افلاس،ظلم و بربریت ،قتل و غارت اور شخصی آزادی چھن جانے کے  بعد    جبر واستبداد  اور غلامی کے خلاف  مزاحمت کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوتا ہے ۔شاعر اور  ادیب سماج کا ایسا طبقہ ہوتے ہیں  ،جو کچھ محسوس کرتے ہیں  ۔ اس کےاظہار کی طاقت رکھتے ہیں ۔ چنانچہ وہ قلم کے ذریعے  جدوجہد کرتا نظر آتا ہے ۔  اٹھارویں صدی میں ہندوستان میں  تخلیق ہونے والے ادب میں مزاحمت کسی تحر یک کی شکل میں نمایاں نہیں ہوتی البتہ  انیسویں صدی میں  اور بالخصوص غدر کے بعد  اُردو شعری و نثری ادب میں مزاحمت باقا عدہ ایک  رویے کی صورت اختیار  کر چکی تھی  عتیق احمد  اس دور کے ادب کے مزاحمتی رویے کے متعلق لکھتے ہیں :

“انیسویں صدی کے شعری اور نثری ادب  میں تو اجتماعی  احساس  اور احتجاج کی رو بہت کچھ نکھر  چکی تھی ،لیکن اٹھارویں  میں یہ لہجہ  کسی مسلسل روایت کی شکل  میں نہیں ملتا۔”[iii]

بلاشبہ جعفر زٹلی  اُردو شاعری  میں مزاحمتی  آواز کے حوالے سے پہلا بڑا  نام ہے۔  انھوں نے تمام اصناف   سخن مثلاً غزل ،نظم یا ہجووغیرہ میں احتجاجی   رویہ  اختیار کیا۔ جعفرزٹلی  کو تند وتیز مزاحمتی انداز  اپنا نے کی پاداش میں شہنشاہ  فرخ سیرنے  پھانسی  کی سزا  دی ۔ جعفر کی شاعری میں طنز  ، شہرآشو بوں  اور ہجویات میں  مزاحمت کے عناصر زیادہ نمایاں  نظر آتے ہیں  ہ۔ڈاکٹر تبسم کا شمیری  کے بقول:

“وہ پہلا اُردو کا شاعر  تھا جس نے  اپنے دور کی  بے معنویت ، بے ربطی  اور زوال کی نشان دہی کی ہے ۔۔۔۔مغلیہ دور کی معاشرتی ،ریاستی اور سیاسی بے ربطی  نے زٹلّی کو ایک ایسے مقام پر لاکھڑا کر دیا تھا جہاں وہ رنج وغم کی حالت میں اپنے عہد کے زوال کا پُر سوز نوحہ سپردِ قلم کرتا ہے”[iv]

 راقم کے نزدیک اٹھارویں صدی کے شعرا  نے شہر آشوب  لکھ کر بھی  مزاحمتی رویہ اپنایا کیونکہ شہر آشوب ہی وہ شعری صنف ہے ،جس میں شاعر  اپنی شعر ی صلاحیت کو بروئے کا ر لاتے ہوئے  شہر میں ہونے والے ظلم و نا انصافی کے  خلاف    احتجاج کرتا ہے ۔اس دور  کا دوسرا بڑاشاعر  مرزارفیع سودا ہے  ۔اس کے شہر آشوب مزاحمتی  شاعری میں  سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں  کیونکہ  سودا نے اپنے شہر آشوبوںمیں  دہلی پر ہونے والے حملوں کے سبب شہر کی تباہی کے خلاف آواز  بلند کی ۔شہر آشوب  کی بات کی جائے  تو میر تقی میر  کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے  ،جس نے  دہلی شہر میں ہونے والی خون ریزی کو اپنا باطنی دکھ سمجھ کر شہر آشوب میں بیان کیا ۔

انیسویں  صدی  کی ایک توانا  آواز  مرزا غالب   کی  تھی ۔ مغلیہ دور حکومت کا زوال، انگریزوں کی حکومت ، معاشرے کی ابتری  حالات کی زبوں حالی  اور معاشرے کا استحصال رویہ  ان سب چیزوں نے غا لب کی شاعر ی کو فکری نہج عطا کیا اور ردعمل کے طور پر غالب نے ا  نحرافی  رویہ بھی اختیار کیا  اور 1857ء کے بعد برباد ہوئے سماج کا آئینہ دکھایا ہے  ۔مجموعی حوالے سے غالب اپنی  شاعری  میں فکر و فلسفے کا رویہ اختیار کرتا نظر آتا ہے  اور کہیں اشعار سے محسوس ہوتا ہے کہ غالب مزاحمت ،انحراف یا احتجا ج کو ادب عالیہ میں شمار نہیں کرتا ہے شعر ملاحظہ کیجیے:

میں ہوں اور افسردگی کی آرزُو غالب کہ دل

دیکھ کر   طرزِ تپاک   اہلِ دنیا جَل    گیا[v]

1857ءکی جنگ آزادی کی ناکامی  کے بعد  قوم دو گروہوں  میں منقسم  دکھائی دیتی ہے ۔ ایک گروہ سر سید احمد اور ان کے رفقا کاروں کا ہے  ۔جنھوں نے تحریک علی گڑھ  کے تحت  سر سید  احمد خان    کے ساتھ مل کر  ایک مصلح  کار کا کردار ادا کیا  ۔انھوں نے  انگریز اور انگریزی تہذیب  و ثقافت  سے  مفاہمت  کی ترغیب دی ۔قوم کو بے مقصد  اور بے معنویت  سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔قوم کو  جدید علوم   سیکھنے کی  طرف راغب کیا  ۔اس سلسلے میں ان کی طویل  ادبی  کاوشیں شامل ہیں  ،جن میں” تہذیب الاخلاق” ہے اس رسالے  کے ذریعے سرسید نے قوم کو راہ راست  پر لانے  کے لیے  شب وروز محنت کی ۔دوسرا گروہ ،جو انگریزی تہذیب کے مخالف تھا ۔ انھوں نے سر سید  کے خیالات  کو تضحیک کا نشانہ بنایا ۔سر سید کے خیالات کے  خلاف مزاحمتی رویہ پہلے  رسالہ ” اودھ پنچ” میں ملتا ہے  اس کے بعد اکبر الہ آبادی کی شاعری میں ملتا ہے ۔جنھوں نے  سرسید کی اصلاحی تحریک   کےنتیجے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمتی انداز اپنایا۔.انھوں نے اپنی شاعری میں مسلمانوں  میں رونما ہونے والے تغیرات  کے خلاف مزاحمتی رویہ اپنایا  اور بتایا کہ مغربی تہذیب نے ان کو اندھا کر دیا ہے ۔روبینہ سہگل اکبر کے مزاحمتی رویہ کے متعلق لکھتی ہیں:

“اکبر کی شاعری  ایک شخص کی سماجی تبدیلی اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف مزاحمت تھی ۔ مزاحمت کا تعلق  بہت حد تک  شناحت  اور ذات سے ہوتا ہے  اس احساس ِ نامردی  کا جدید دور کے  ہندوستانی  مرد پر بہت گہرا اثر تھا”[vi]

انیسویں صدی کے آخر تک سر سید اور ان کے رفقا الطاف حسین حالی ،ڈپٹی نذیر احمد ، محمد حسین آزاد  مولوی ذکا اللہ  اور نواب محسن الملک نے  سر سید کے مشن کوآگے بڑھایا  اور بیسویں صدی کے کھلتے دریچوںمیں جدید تر علم ادب سے متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

چونکہ بیسویں صدی  میں انسان نے سائنسی ترقی   کی بدولت  سیاروں تک رسائی حاصل کی  اس لیے  مختلف ممالک دنیا پر حکمرانی کرنے کے لیے جنگی جنون میں مبتلا تھا ۔ حکمرانی کے چکر میں  دو عالمی جنگوں کے سبب دنیا میں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔علاوہ ازیں  صنعتی انقلاب  نے دنیا کے منظر نامے پر بڑے اثرات مرتب کیے جس کے نتیجے میں  کارل مارکس،فرائڈ  اور آئن سٹائن  وغیرہ مفکرین کے افکار  پر بحثیں ہونے لگی  ۔اس کے علاوہ بیسویں صدی کے آغاز  میں جن تحریکوں  نے جنم لیا وہ ہمارے ادب  کا حصہ بننے لگیں ۔تحریک علی گڑھ  کے ردعمل میں  رومانوی تحریک نے جنم لیا ۔جس نے سرسید کی عقلیت پسندی کو رد کر کے معاشرے میں مظاہر فطرت اور انسانی تخیل کی پرواز کو اہمیت دی ۔

بیسویں  صدی کا بڑا شاعر اقبال ہے  ۔جنھوں نے اشتراکیت،قومیت وطنیت اور خودی کے متعلق اپنا  واضح نقطۂ نظر پیش کیا   ا س دور میں  اقبال کے ہاں فطرت  کے پر اسرار جمال کی تصویر کشی کرنے  کے بجائے  انسان کے  باطن میں جھانکنے  اور جہاںِ معنی کو دریافت  کرنے کا  رجحان موجود ہے ۔اقبال کی رومانویت کا دوسرا رخ ماضی کی عظمت کو اجاگر کرنا ہے۔[vii] “انقلاب “کا لفظ  سب سے پہلے اقبال نے اپنی شاعری میں  استعمال کیا  اور سیاسی انقلاب کا تصور بھی  اُردو شاعری کو اقبال نے  عطا کیا [viii]۔ انگریزی ادب کا مطالعہ ہونے کے سبب اقبال نے شاعری میں فرنگی  کے خلاف قلم یوں چلایا کہ  وہ مزاحمتی رویہ    ابھر کر سامنے آیا ۔ان کی شاعری میں  فکرو فن کی گہرائی نظر آتی ہے  ۔ا ن کے ہاں مزاحمت اور ادب ساتھ ساتھ چلتے ہیں  اس کی مثال  شکوہ،جواب شکوہ خضر راہ اور ابلیس کی مجلس ِ شورٰی جیسی نظمیں ہیں جن میں  واضح طور پر احتجاج کی  لہر نظر آتی ہے ۔ڈاکٹر رشید امجد  لکھتے ہیں:

“اقبال کے بعد بیسویں صدی میں جتنی بھی ادبی  تحریکیں پیدا ہو ئیں وہ کسی نہ کسی طرح  فکرِاقبال ہی کا Anti thesis,Thesis اور Synthesis ہیں،اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا  کہ بیسویں  صدی  فکری اور فنی طور  پر اقبال کی صدی  ہے “[ix]

رومانوی تحریک کے نمایاں افسانہ نگار سجاد حید  یلدرم  تھے ۔ انھوں نے اپنے افسانوی مجموعہ ” خیا لستان” میں  ہندوستان سماج کو  علی گڑھ  تحریک  کی عقلیت پسندی سے انحراف کرتے ہوئے معاشرے کو  ایک ایسی ڈگر پر ڈال دیا جس میں حسن  وجمال  کو نئے زوایے سے پیش کیا ۔ یلدرم نے حسن کو انسان کے باطن میں تلاش کیا  یعنی انسان عشق کے بغیر  پیدا نہیں ہوتا۔یلدرم نے اُردو ادب میں پہلی مرتبہ تعلیم یافتہ عورت کا تصور پیش کیا ۔ انھوں نے عورت کے وجود  کو قبول کیا اور مرد کی زندگی میں محرک قوت  قرار دیا[x]۔ یلدرم کا مجموعہ “خیا لستان ” اُردو نثر  میں سر سید کی  تحریک کے خلاف   اٹھانے والی پہلی جاندار آواز تھی ۔

 رومانوی تحریک سے وابستہ  شاعروں، نثر نگاروں اور ادیبوں میں ،اقبا ل،اختر شیرانی،حفیظ جالندھری،ابوالکلام آزاد،سجاد حیدر یلدرم، مہدی افادی ، نیاز فتح پوری ، عبدالحلیم شرر ،مجنوں گورکھپوری اور حامد اللہ افسر  شامل ہیں ،جنھوں نے  فکشن(ناول ،افسانہ ) اور شاعری میں  منفرد انداز میں  انحرافی انداز اپنایا ۔

 1867ء کے لگ بھگ انجمن پنجاب کے   جلسوں میں مشاعرے کی تجویز  پیش کی گئی  ،جس کے روح ِ رواں محمد حسین آزاد تھے۔  جنھوں نے مشاعرے کے ذریعے شاعری میں نیا اندا ز رائج کرنےکی سعی کی  ابتدا میں مشاعرے روایتی تھے لیکن آہستہ آہستہ انگریز سرکار کی دلچسپی  سے موضوعاتی ہو گئے ،جو کہ شاعری میں نئے پن کا آغاز تھا [xi]۔مولانا حالی ،شبلی اور آزاد نے   اُردو نظم  کو ایک طاقت ور صنف کے طور پر متعارف کروایا  اور اُردو نظم  میں انقلاب  برپا ہوا۔ جو کہ غزل کے خلاف آواز تھی حالی نے “مسدس حالی ” میں  انگریز سرکار کے خلاف مزاحمتی انداز اپنایا۔

 رومانوی تحریک کے ردعمل میں حقیقت نگاری  کی تحریک  نے جنم لیا ،جو بعد ازاں ترقی پسند تحریک کے نام سے موسوم ہوئی ۔ ترقی پسند تحریک  کے  علمبرداروں نے ادب کا رشتہ سماج سے جوڑا اور کارل مارکس کے نظریے کی پیروی  کی انھوں نے  اقبال اور اختر شیرانی  کی رومانویت سے بغاوت  کا عنصر نکلاتے ہوئے ،جو ادب تخلیق کیا وہ  مزاحمتی رویہ میں تبدیل ہو گیا  اور  اپنے عہد کا نمائیدہ ادب کہلایا۔ڈاکٹر انور سدید کے بقول ترقی پسند تحریک اُردو ادب کی  وہ  تحریک تھی جس کا  باقاعدہ منشور تحریر کیا گیا۔ [xii]

 ترقی  پسند تحریک  کا آغاز کرنے والوں میں سجاد ظہیر ، منشی پریم چند ، اختر حسین رائے پوری ،وغیرہ شامل تھے۔ان ادبا نے معاشرے کی معاشی ،سیاسی  ناہمواری کے خلاف عوام کے ضمیر کو جگایا ۔بیسویں  صدی کی چوتھی دہائی میں  جب ” انگارے ” کے  عنوان سے افسانوی مجموعہ  شایع ہوا تو  اُردو ادب میں انقلاب آفریں رویہ  سامنے آیا  ۔یہ ترقی پسند تحریک   کی  پہلی انحراف اور مزاحمت تھی ،جس کے سبب تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوا  ۔کتاب میں شامل افسانوں  میں سماجی رجعت پسندی کا عنصر غالب تھا ۔ جس کو 1933ء میں ضبط کر کے تمام کاپیاں  صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں ۔تحریک کا بنیادی مقصد دنیامیں غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ اور  مزدور طبقے کے لیے  آواز اٹھا ناتھا ۔ترقی پسند تحریک کا پہلا  اجلاس    1936ء میں لکھنؤ  میں منقعد ہوا جس کی صدارت  منشی پریم چند نے کی ۔اجلاس میں منشور  ان الفاظ میں بیان کیا گیا:

“ہماری کسوٹی پر وہی ادب  کھرا اترے گا جس میں تفکر ہو،آزادی کا جذبہ  ہو،حسن کا جوہر ہو ،تعمیر کی روح ہو،زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو۔جو ہم میں حرکت ،ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے ،سلائے نہیں ۔کیونکہ اب زیادہ سونا موت کی علامت ہے “[xiii]

عزیز احمد  نے انگارے کی اشاعت کو   ان اساسی اصولوں پر حملہ قرار  دیا ہے  کیونکہ  ان افسانوں میں ہزاروں سال کی جھوٹی  قلعی  کھولی ہے[xiv]۔  گویا عزیز احمد بھی   ترقی پسند ادب کو متوسط طبقے کے استحصال کے خلاف  ا حتجاج  گردانتے ہیں ۔کوثر مظہری  اپنے مضمون  میں ترقی پسند تحریک کو جبر کے خلاف مضبوط آواز کہتے ہیں ،انھوں نے ترقی پسند شعرا کو  ادب  کے نئے افق  پر نئے چاند کا نظارہ دیکھنےکے مترادف کہا ہے ۔ اجتماعیت  کو انفرادیت  پر  فوقیت دینا اس تحریک  کا بنیادی فلسفہ تھا۔[xv]

ترقی پسند شعرا میں  سب سے مضبوط آواز فیض احمد فیض  کی ہے انھوں نے رومانویت سے انقلاب کی طرف قدم بڑھایا ۔ انھوں نے عہد کے حالات کے خلاف  بغاوت کا راستہ اپنایا لیکن اس بغاوت  یا انحرافی رویہ میں ادب کا عنصر بھی رہتا ہے  ۔انھوں نے اپنے منفرد لہجے میں عہد کے جبر و استبداد کے خلاف  قلم اٹھایا اور  نظم “بول” جیسی مزاحمتی نظمیں تحریر کیں۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے:

بول کہ لب آزاد ہیں ترے

بول ،زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول،کہ جاں اب تک تیری ہے

بول،یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

بول، جو کچھ کہنا ہے کہ لے[xvi]

ترقی پسند افسانہ   نگاروں میں بڑی قد آور شخصیات میں احمد علی،  کرشن چندر ، منشی پریم چند ،راجندر سنگھ بیدی  شامل ہیں ۔پریم چند نے اپبے افسانوں  کو داستانوی  ماحول سے نکال کر حقیقی زندگی   کی معنویت  کے حوالے سے پیش کیا انگریزی دور میں  عظمتِ انسانی کی جو تذلیل ہو رہی تھی ۔اس سے انحراف کیا اس ضمن میں ان کا نمائندہ افسانہ ” کفن” ہے ۔کرشن چندر نے اس دور کے انسان کی باطنی محرومیوں کے  خلاف احتجاج کیا  اس حوالے سے  تین غنڈےاور پشاور ایکسپریس جیسے افسانے تخلیق کیے ۔احمد علی نے  اپنے افسانوی مجموعہ “شعلے” میں ہندوستان کی  مٹتی ہوئی تہذہب  کے خلاف    طنز کیا۔[xvii]بیدی نے بھی انسانی جذبے  کو ابھارنے کے لیے معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف قلم اٹھایا۔

ترقی پسند  شعرا اور افسانہ نگاروں نے دوسری جنگ  عظیم  اور تقسیم ہند  تک  معاشرے  میں ہونے والے ظلم،جبر برطانوی  استعمار کے خلاف  نہ صرف قلم اٹھایا۔ بلکہ غریب  اور مزدور طبقے کے معیار زندگی  کے متعلق بھی لکھا۔

قیامِ پاکستان سے قبل اُردو ناول اور مزاحمت

اُردو میں  ناول لکھنے کا آغاز انیسویں صدی  کے دوسر ےنصف  سے ہوا۔1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اُردو ادب پر استعماریت  کے اثرات نمایاں  ہیں۔ سر سید کے رفقا کاروں میں ایک نام نذیر احمد کا ہے۔ جنھوں نے اُردو  کا پہلا ناول “مراۃالعروس “(1869ء) میں لکھ کر داغ بیل ڈالی ۔ انھوں نے اپنے ناولوں میں بچوں اور عورتوں کی تعلیم کے ذریعہ مسلم سماج کی اصلاح کی طرف توجہ دلا ئی ہے۔ان کے ناول محض تبلیغی اور پند و نصائح کا رنگ لیے ہوئے ہیں اور یہ سچ بھی ہے کہ انھوں نے اپنی لڑکیوں کی اصلاح کے لیے ناول لکھے تھے مگر سچ یہ ہے کہ ان کے ناولوں کے کر دار میں عام انسانی زندگی کی ٹھوس حقیقتیں نمایاں ہیں۔ ان کے ناولوں کے کر دار عام انسانی زندگی سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں  کیونکہ غدر کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے  ساتھ جو ناروا سلوک کیا جا رہا تھا ۔  اس سے مسلمان   نالاں بھی ہیں اور ہماری بچیاں جو کہ معاشرتی اقدار سے نابلد تھیں  ان کی اصلاح کے لیے انھوں نے ’’مراۃ العروس‘‘ ’’بنات النعش‘‘ ’’توبۃ النصوح‘‘ ’’ابن الوقت‘‘ ’’فسانہ مبتلا‘‘ وغیرہ ناول  لکھے، جواس صنف میں خشتِ اول کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

 ڈپٹی نذیر احمد کا ناول”ایامی” انفرادی مزاحمت کا آئینہ دار ہے۔ اس ناول میں نذیر احمد نے غیراسلامی رسوم کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ یہ احتجاج ان کے ناول کے کردار آزادی بیگم کے روپ میں سامنے آتا ہے، جس کی شادی اس کی مرضی کے خلاف اس کی ماں ایک مولوی سے کر دیتی ہے اور اس مولوی کے مرنے کے بعد آزادی بیگم بیوگی کی حالت میں زندگی گزارتی ہے۔ بستر مرگ پر وہ مردوں کو بلا کر نصیحت کرتی ہے ۔یہ نصیحت غیر اسلامی رسوم کے خلاف احتجاج ہے جس میں بیوہ کی شادی نہیں کرائی جاتی اور وہ باقی زندگی تن تنہا گزارتی ہے۔

اس ناول کے ذریعے نذیر احمد نے ایک بڑی سماجی برائی کو اجاگر کیا ہے۔ اس زمانے میں ہندوستانی معاشرے میں بیوہ کی دوسری شادی نہیں کرائی  جاتی تھی۔ انیسویں صدی کے نصف اول میں جب موہن رائےنے برہمو سماج کی بنیاد رکھی تو اس  نے مذہبی اصولوں کی کھل کے مخالفت کی اور خاص طور پر عورتوں کے حقوق کے لیے تحریک چلائی ۔ نذیر احمد نے یہ ناول اس تحریک سے متاثر ہو کر لکھا۔

مذکورہ ناول میں نذیر احمد نے آزادی بیگم کے کردار کے ذریعے عورت کے دونوں پہلوؤں کا احاطہ عمدگی سے کیا ہے۔ وہ عورت جو شوہر کی موجودگی میں سسرال میں اپنی عزت و آبرو کو محفوظ رکھتی ہے ، بیوگی کے بعد وہی گھر اس کے لیے وحشتوں کا ساماں بن جاتاہے۔ وہ معاشرے میں بے آسرا ہو جاتی ہے۔ اس کے دل میں خیال آتا ہے کہ وہ ان درندوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دے جو عورت کی آبرو کو پامال کرتے ہیں۔چنانچہ ان معانی میں نذیر احمد کا یہ ناول مزاحمتی فکر کا حامل ہے۔

اگر مزاحمتی رویوں کی بات کی جائے  تو ڈپٹی نذیر احمد کا ناول ” ابن الوقت” نمایاں ہے  ،جس میں  انگریزوں کی غلط پالیسوں کی نشان دہی کرنے کی سعی کی ہے  [xviii]۔ناول کے مرکزی کردار” ابن الوقت ” غدر  کے اسباب بیان کرتا ہے، وہیں  انگریز حکومت  کی خامیاں بیان کرتا ہے  ۔ان میں  انگریز سرکار کا عوام کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ سر فہرست  ہے  اس کے علاوہ  انگریز سرکار کا ہندوستانی عوام کو حقارت سے دیکھنے پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے  دوسری طرف وہ اپنی تقریر میں  مقامی افراد سے  شکایت کرتا ہے کہ جنگ میں انگریز سرکار کی مدد نہ کر  کے اچھا نہیں کیا ۔ اس کے علاوہ  وہ  انگریز سرکار عیسائیت کو فروغ دینے کی کوشش کرنے خلاف بھی آواز اٹھاتا ہے ۔  مجموعی حوالے سے پورے ناول میں  ابن الوقت  ہندوستان میں انگریز سرکار کی عوام خلاف پالیسوں کے خلاف  مزاحمتی تقریر کرتا   ہے اور  آخر میں کہتا ہے کہ یہ ملک ہمارا تھا اب اس پر اجنبی مسلط ہیں ۔[xix]

ڈپٹی نذیر احمد  کے ناول ” رویائے صادقہ ” میں بھی انگریزوں کی ہندوستان کے متعلق  معاشی پالیسوں پر طنز کے تیر چلائے  گئے کہ حکومت عوام سے ٹیکس کی مد میں لینے والی رقم  عوام پر ساری خرچ نہیں کرتی ہے ،جو کہ رعایا کے ساتھ  نا انصافی ہے ۔

        نذیر احمد کے ہم عصر سرشار اُردو کے دوسرے ناول نگار ہیں۔ ان کے ناولوں میں اس عہد کے لکھنؤ ی معاشرت کی تصویر کشی کثرت سے ملتی ہے۔جنہوں نے انسانی زندگی کے پھیلاؤ اور ان کی گہرائیوں پر روشنی ڈالی اور اُردو ناول کو اس ابتدائی دور میں ایک ایسی روایت سے آشنا کرایا ،جو فنی لوازمات سے پر ہے۔ انہوں نے لکھنؤ ی معاشرت کو اپنا موضوع بنا کر وہاں کے لوگوں کی اجتماعی زندگی کی اس طرح عکاسی کی کہ سب کو اپنی اصلی شکل نظر آنے لگی۔ سرشار نے پوری طرح لکھنوؤ کا مشاہدہ کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ناول ’’فسانہ آزاد‘‘ میں ایک خاص عہد ِ لکھنوؤ نمایاں ہے۔

  سرشار نے ناول نگاری کے فن اور اس کی روایت کو ایسی تقویت بخشی جو آج بھی ہمارے ادب میں نمایاں ہے۔سرشار اپنے ناولوں کے کر داروں اور قاری کے با ہمی رشتے کی نزاکتوں کو پوری طر ح محسوس کرتے ہیں جبکہ نذیر احمد اپنے ناولوں میں قاری کی ذہانت پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ بہر حال اس طرح سرشار نے صنف ناول نگاری کو حد درجہ فروغ دیا ۔جس کی داغ بیل نذیر احمد نے ڈالی تھی۔ اس اعتبار سے ’’فسانہ آزاد‘‘ ’’سیر کہسار‘‘ ’’جام سرشار‘‘ وغیرہ شہرت یافتہ ناول تخلیق کر کے انہوں نے اُردو ناول نگاری کے فن کو وسعت دی۔

سرشار کے ناولوں   کے کردار انگریز حکومت کے ہندوستان میں  طویل قیام   سے بے زاری  کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں ۔ “سیر کہسار” میں خواتین کردار  جب مل کر سماجی صورتحال پر گفتگو کرتی ہیں تو ان کی گفتگو کا موضوع  انگریز حکومت کی آمد کے بعد معاشرتی تبدیلیاں ہوتا ہے کہ غدر کے بعد مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے ۔ پانی کھاری ہونے کے سبب  بیماریاں جنم لے رہی ہیں ۔ انگریز دور میں پولیس اور عدالتی نظام بالکل بھی عام آدمی کے لیے نہیں ہے ۔ عدالتی نظام  کے متعلق ناول کا کردار  ” رحمانی “یوں بیان کرتا ہے :

“اب تو پوچھتے ہیں  کہ کوئی گواہ  ہے ۔ چوری کرتے کس نے دیکھا ۔گواہ لاؤ اب بتاؤ گواہ کہاں سے لائیں ۔۔۔۔۔وہ گواہ کہاں سے لائے  کہ انہوں نے چوری کرتا دیکھا ہے  اور چوری کی چوری ہو اور مہینوں کی دوڑ دھوپ  الگ۔”[xx]

بیسویں صدی کی ابتدا میں ایک خاتون  ناول نگار اکبری بیگم کا نام ابھر کر سامنے آتا ہے۔ اکبری بیگم نے چار ناول لکھے۔ گلدستہ محبت، عفت نسواں، شعلہ پنہاں اور گودڑ کا لال۔ سب سے زیادہ شہرت “گودڑ کا لال” کو ملی۔” گودڑ کا لال”۱۹۰۷ میں شایع ہوا۔ یہ سات سو اٹھائیس صفحات پر مشتمل ایک ترقی یافتہ اور مزاحمتی ناول ہے ۔ اس میں نہ صرف پردے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی گئی ہے بلکہ پہلی بار مسلمان لڑکیوں کے لیے مخلوط تعلیم کا تصور بھی ملتا ہے۔

اس ناول کی ایک اور خاص بات جس میں مزاحمتی فکر کی چاشنی ملتی ہے لڑکیوں کی کمسنی میں شادی سے انکار ہے اس کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی بے جوڑ شادی سے انکار بھی کیا گیا ہے۔ اکبری بیگم نے اپنے ناول”گودڑ کا لال” میں اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم اور عمدہ تربیت کی ضرورت اور معاشرے میں موجود برائیوں یعنی بے جوڑ شادی کے نتائج پر بات کی ہے اور اوہام پرستی کی طرف بھی توجہ کی ہے۔

سجاد حیدر یلدرم کی بیگم اور قرۃالعین حیدر کی والدہ نذر سجاد حیدر نے بیسویں صدی میں اپنا تخلیقی کام شروع کیا۔ وہ آزادی نسواں اور تعلیم نسواں کی تحریک کی پر جوش کارکن تھیں۔ “اختر النساء بیگم” نذر سجاد کا پہلا ناول ہے ۔

یہ ایک نہایت ترقی پسند اصلاحی ناول ہے جس کی ہیروئن اختر النساء بیگم نے مردوں کے معاشرے کے مظالم کا نہایت عقلمندی سے مقابلہ کیا۔ اور آخر میں فتح مند ہوئی ۔اس ناول کا موضوع”تعلیم نسواں کی ضرورت و اہمیت” ہے۔ ناول کی ہیروئن کو اپنی زندگی میں بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے تعلیم و تربیت کے بل بوتے پر ان تمام مشکلات کا دلیری سے سامنا کیا اور ایک باعزت زندگی گزارنے کے قابل ہو سکی۔

  عبد الحلیم شرر  نے اُردو  کو 102 تاریخی ناول دیے۔ ان کے ناولوں میں تاریخ کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔ اسلام کی تاریخ مسلمانوں کو عظمتِ رفتہ کی  شانِ شوکت ، تاریخ کے عظیم  رہنماؤں کے کارناموں کی کتھا بیان کی ہے ۔ان واقعات کو بیان کرتے وقت مزاحمتی اور احتجاجی رویہ بھی اپنایا ہے اس ضمن میں ایام عرب ،ملک العزیزورجنا،فلورنڈ،اہمیت کے حامل ہیں  جن میں  ماقبل اسلام کی عرب کی صورت گری، عیسائیوں کے کلیسا میں  کرنے والے گناہوں  اور صلیبی جنگوں میں  مسلمانوں کر کارنامے  عیسائیوں اور مسلمانوں کی  جنگوں کا بیان کیا گیا ہے ۔

     شرر نے اُردو میں ناول نگاری کو ایک مسئلہ فن کی طرح برتا اور اپنے ناولوں میں پر تکلف منظر نگاری کی چاشنی اور چٹخارے اور ایک خاص قسم کی انشا پردازی کو اس طرح جگہ دی کہ یہ بھی فن کے اہم جز ہو گئے۔ انھوں نے مغربی فن کے مبادیات اور مشرقی مزاج کی شوخی و رنگینی کے حسین امتزاج کو فروغ دیا ،جس کی تقلید ان کے بعد آنے والے ناول نگاروں نے بھی کی۔

“بدر النساء کی مصیبت” میں شرر نے پردہ کی شدت اور ضرورت سے زیادہ شرم و حیا کی پابندی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو موضوع بناتے ہوئے احتجاجی رویہ اپنایا ہے۔ اس پردہ میں انہوں نے اس دور کے معاشرے اور تہذیب و تمدن پر کڑی نکتی چینی کی ہے۔

   اس کے بعدمنشی سجاد حسین نے سرشار کے فن پر مبنی ناول نگاری کی جیسا کہ ان کے ناول ’’حاجی بغلول‘‘ اور ’’طرحدار لونڈی‘‘ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے فسانہ آزاد کی روشنی میں اپنے یہ دونوں ناول تخلیق  کیے ہیں ۔ ان کے ناول مذہبی اور سیاسی تعصبات اور ذہنی حد بندیوں سے آزاد ہیں۔ ان کے ناول ” حاجی بغلول” میں عدالتی نظام پر مزاح کے پیرائے میں طنز کیا ہے  کہ برطانوی سامراج کے عہد میں  دیہاتی  شخص کو کیسے عدالتی نظام ذلیل و خوار کرتا ہے  یعنی مزاح کے پردے میں نئے دور کی خامیاں بیان کرنے کی سعی کی ہے ۔[xxi]منشی سجاد حسین  کے دوسرے  ناول “طرحدار لونڈی” میں سماجی مزاحمت کی جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔ ناول کے نسوانی کردار  افسرالدولہ کی بیوی کا گھر کی چوری  اور اشیا کے متعلق عجیب سی منطق بیان کی گئی کہ   عجیب مصبیت ہے کہ چوری بھی کروا اور یاد بھی رکھو۔  اس ناول میں بھی انگریز سرکار کی  خوبیوں کے ساتھ تنقید بھی کی گئی ہے [xxii]۔ گویا اس ناول میں بھی  ہندوستان میں سامراجی قوتوں کے خلاف احتجاج  کیا گیا۔

     فسانہ آزادکی طرح امراؤجان ادا کا پس منظر بھی لکھنو ؤکا زوال آمادہ معاشرہ ہے انہوں نے اپنے عہد کے لکھنوؤ ی معاشرے کی تصویر کشی کی ہے۔ مرزا ہادی  حسن رسوا علم ریاضی کے ماہر اور انسانی جذبات کے نبّاض تھے۔ ان کے ناولوں پر ان کے طبعی رجحان کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ ان کے ناولوں میں جنسیات سے لے کر سیاست تک کے سارے رجحانات فنی بصیرت سے لبریز نظر آتے ہیں انہوں نےناول امراؤجان ادا لکھ کر انسان کو یہ بتایا کہ انسانی زندگی کے پیچھے تہذیب معاشرت، سیاست،معیشت، اخلاق اور تاریخ کے حقائق پوشیدہ ہوتے ہیں جس کا مطالعہ کر نے سے ہم ماضی سے آشنا ہوتے ہیں اور اس کی روشنی میں ہم اپنے مستقبل کو سنوارتے ہیں اس کے بعد ناول نگاری میں مر زا سعید وغیرہ کا نام آتا ہے۔

مذکورہ بالا بنیادوں پر ہی اُردو کے مایہ ناز ناول نگار پریم چند نے ناول نگاری کا تاج محل تعمیر کیا اور اس کی آبیاری کر کے ناول نگاری کے کارواں کو آگے بڑھایا۔ پریم چند نے اس دور میں ناول لکھنا شروع کیا جب کہ ’’خواب ہستی‘‘ اور ’’امراو جان ادا‘‘ منظر عام پر آ چکا تھا۔ابتداء میں انہوں نے ہندو معاشرت اور اس کی پیچیدگی پر مبنی اصلاحی ناول لکھے، ان ناولوں کا پس منظر انہوں نے ایسے معاشرے کو بنایا جس کا ان کو خود مشاہدہ تھا۔ اس طرح ان کے تمام ناول حقیقت اور صداقت کے غماز ہیں جہاں ان کے شدید جذبات اور غیر منطقی جانب داری کو خاص دخل ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ابتدا ئی ناولوں کو فنی طور پر کامیاب نہ بنا سکے، جس درجہ کے ان کے ناول ’’بازار حسن‘‘ ’’گوشہ عافیت‘‘ میدان عمل‘‘ اور ’’گئو دان ‘‘ ہیں۔ پریم چند کے ناول خاص طور سے ’’گئودان‘‘ اور ’’میدان عمل‘‘ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے  کہ  مصنف کمزور اور جاہل  کسانوں کو مرکزی کردار  بنا کر سابقہ روایات  کے خلاف  نئی رایات کی طرف گامزن  ہوئے ہیں ،جو خود احتجاج  کی صورت ہے[xxiii]۔

پریم چند کے دیگر ناول بازار حسن اور چو گان ہستی   میں مزاحمتی رویہ اپنایا ہے ۔ بازار حسن میں  ہندوستانی عورت کے مسائل  کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار “سمن ” اپنے گھر سے نکل کر طوائف کے گھر  سکونت اختیار  کر لیتا ہے۔یہاں  سماجی مزاحمت انداز کو اپنایا گیا ہے ۔چوگان ہستی میں  ہندوستانی عوام اور بالخصوص مرکزی کردار “سورداس”  گاندھی  کے  عدم تشدد کے نظریے کو اپنا کر  احتجاجی  رویہ  اپنایا۔

پریم چند نے جس دور میں آنکھ کھولی ۔وہ جاگیر دارانہ جبر اور ساہوکارانہ مکر کا دور تھا۔ غریب کسانوں کی زندگی جانوروں سے بد تر تھی۔ اگر کوئی احتجاج کرتا تو اسے سخت سزا ملتی۔ ان حالات میں پریم چند نے اپنے قلم کو ہتھیار بنا کر زبردست احتجاج کیا۔ انہوں نے اصلاح کا انداز اپنایا اور معاشرے سے برایئوں کو مٹانے کا عزم کیا۔ انہوں نے اپنے ناولوں کے ذریعے ہندوستان کے کسانوں کو خواب غفلت سے جگایا۔

پریم چند کے ناول”میدان عمل” میں امر کانت، سکھدا ، آتما نند اور گاؤں کے سینکڑوں رہائشی جبر و ظلم کی قوتوں کے خلاف بغاوت کرتے نظر آتے ہیں۔ان لوگوں کی عملی جدو جہد ہی پریم چند کے ناولوں کا موضوع ہے۔پریم چند نے اپنے ناولوں میں افلاس، محرومیوں اور الجھنوں سے نبرد آزما ہونے والے لوگوں کی سچی تصویر کشی کی ہے۔ناول میں نیچی ذات کی عورت “منی “کی عصمت دری انگریز کرتے ہیں۔ رد عمل کے طور پر منی امر کانت کی دکان کے سامنے تین انگریزوں کو قتل کر دیتی ہے۔ اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور اس پر مقدمہ چلتا ہے۔ اس کے مقدمے کی پیروی امر کانت اور ڈاکٹر شانتی کمار کرتے ہیں اور منی کو رہا کرا لیتے ہیں۔

امر کانت گاؤں میں بچوں کی تعلیم کے لیے سکول کھولتا ہے۔ وہ غریب کاشتکاروں کو حکومت اور زمینداروں کے خلاف مزاحمت پر اکساتا ہے۔

“نرملا” کا موضوع جہیز کے لالچ سے پیدا ہونے والے مسائل اور بے جوڑ شادیوں کے تباہ کن اثرات ہیں۔ پریم چند نے عورت کے ساتھ ہونے والی سماجی ناانصافی اور زیادتی کو اس ناول کا موضوع بنا کر حقیقت پسندناول نگار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

1940ء   سے 1947ء کے درمیان لکھے  جانے والے ناولوں میں استحصال،نا انصافی ،سماجی گھٹن اور فسادات  اور انگریزی سامراجیت کے خلاف مزاحمتی رجحانات ملتے ہیں ا س حوالے سے  عصمت چغتائی  کے ناول”ضدی” اور ٹیرھی  لکیر  نمایاں ہیں ۔ مصنفہ نے ناولوں میں توہم پرستی رنگ و نسل کی بنیاد پر کی جانے والی تفریق  اور معاشرے کے نچلے طبقے  کے استحصال کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔”ضدی” میں جاگیردارنہ نظام اور پسماندہ نظام کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے ۔ناول کے مرکزی کردار  “پورن” کے ذریعے نئی نسل کی باغیانہ سوچ   کی عکاسی ملتی ہے، جو روایت  پرستی  اور سماجی  بندشوں   سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہے ۔پورن اس دور کا نیا تعلیم یافتہ اور جذباتی نوجوانوں کا نمائندہ کردار ہے ،جو معاشرے کی فرسودہ روایات سے نفرت کرتا ہے اور بغاوت بھی کرتا ہے لیکن کامیاب نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ جب افسردہ ہوتا ہے تو خود سے انتقام لینے لگتا ہے۔ [xxiv]

 عصمت چغتائی کا دوسرا ناول ” ٹیڑھی  لکیر”  مزاحمت کی مکمل تصویر ہے ۔  اور ناول کا انتساب  سماج کے یتیم بچوں کے نام ہے ،جو  احتجا ج کی بڑی مثال ہے ۔ناول میں  متو سط طبقے کی لڑکیوں کی نفسیاتی کشمکش  اور نئی پرانی اقدار  کے تصادم کے ذریعے سماجی پہلو کو مزاحمتی رنگ میں بیان کیا ہے ۔ ناول میں شمن کا کردار احتجاج کی علامت ہے ۔اس کردار  کے متعلق ناول کے پیش لفظ میں لکھتی ہیں:

” شمن کی کہانی  کسی ایک لڑکی  کی  کہانی  نہیں ہے ۔یہ ہزاروں لڑکیوں  کی کہانی  ہے ۔اس  دور کی لڑکیوں کی کہانی  ہے جب وہ  پابندیوں  اور آزادی کے بیچ  ایک خلا  میں بھٹک رہی ہیں ۔اور میں نے ایمانداری  سے ان کی  تصویر  ان صفحات  کھنچ دی ہے  تاکہ آنے والی لڑکیاں  اس سے ملاقات  کر سکیں کہ ایک لڑکی ٹیڑھی ہوتی ہے”[xxv]

قاضی عبد الغفار کے ناولوں میں بھی مزاحمتی رنگ پایا جاتا ہے۔ ان کا پہلا ناول “لیلی کے خطوط ” باون خطوط پر مشتمل ناول ہے جس میں انہوں نے سماج، مذہب اور قانون کے پرانے طرز فکر پر احتجاج کیا ہے۔ اسی طرح ان کے دوسرے ناول”مجنوں کی ڈائری” کا ہیرو مجنوں جو کہ ایک آزاد خیال نوجوان ہے۔ معاشرے کی طرف سے عائد کردہ بے جا پابندیوں اور جابرانہ فضا سے بغاوت کرتا ہے۔ اس بغاوت میں وہ مذہب کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن پر بھی وار کرتا ہے۔

سجاد ظہیر کا ناول “لندن کی ایک رات” ترقی پسند تحریک کے زیر اثر  لکھاگیا جس میں ہندوستانی طلبا ء کے سوچنے سمجھنے کے انداز اور ان کی اندرونی و بیرونی کشمکش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس ناول کا ایک کردار “اعظم” ہندوستان کی آزادی اور بہبود کے لیے کام کرنے والی تحریکوں پر تنقید کرتا ہے ۔ ایک اور کردار “راؤ” ہے جو انسانی عظمت کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتا۔اسی طرح ایک اور کردار” احسان” نام کا ہے جو غلامی اور اندھی تقلید کے خلاف ہے۔وہ چاہتا ہے کہ نوجوان ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر قربان کر دیں اور وطن کی آزادی کے لیے تحریکوں میں شامل ہو جائیں  ۔ اس وقت کا ہندوستان بے شمار مسائل سے دوچار تھا ۔ نوجوانوں کے دلوں میں جدید خیالات جگہ پا رہے تھے۔ اس ناول میں ان کا جا بجا اظہار کیا گیا ہے۔

عزیز احمد نے اپنے ناولوںمیں جنگ عظیم اول اور دوم کے  دوران سیاسی،سماجی  اور معاشی بحران کے اساب بیان کیے ہیں  ۔بحران کے سبب معاشرے میں پھیلی  بے اطمینانی ،یاسیت ،کرب کو شد ومد سے بیان کیا ہے۔عزیز احمد نے”گریز ” میں انگریز سامراج  کی ہندوستان میں آمریت  اور استحصالی نظام کے خلاف  احتجاج کیا ہے ۔دوران جنگ دنیا کس کیفیت سے دوچار تھی ،اس کی عکس بندی کی ہے ۔دوسرے ناول “آگ” میں  کشمیر کے سماجی  و سیا سی مسائل  کی  عکس بندی  کے علاوہ  برطانوی سامراج کےجبر اور استحصال کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ ناول میں دوسری جنگ عظیم  کے بعد ایٹمی تجربات  اور سامراجیت کے خلاف مزاحمتی رنگ اپنایا ہے ۔

“جہاں فرنگیوں اور ہندوستانی  امیروں کے کتے  سیروں  دودھ پیتے ہیں ۔پام پور  سے آئی ہوئی  اجنبی  نو سالہ لڑکی کے لیے ایک سوکھا روٹی  کا ٹکرا نہیں۔”[xxvi]

“آگ” مزاحمتی فکر کی عکاسی عمدگی سے کرتا ہے۔یہ ایک ایسی آگ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو انقلاب کی نشانی ہے اور آہستہ آہستہ اوپر کو اٹھ رہی ہے۔ ناول میں عزیز احمد نے غربت، محرومی ، بھوک اور نچلے طبقے کی زندگی کا منظر عکس بند کیا ہے۔ یہ ناول کینوس کے حساب سے بیسویں صدی کی ابتدا سے لے کر قیامِ پاکستان کے زمانے تک محیط ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روس کی انقلابی سرگرمیاں اور ہندوستان کی اہم سیاسی تبدیلیوں اور مسلم لیگ اور کانگریس کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ پارٹی کی کار روائیوں کی تفصیل بھی بہم پہنچاتا ہے۔

تقسیم سے قبل  تحریک آزادی پورے زور وشور سے ہندوستان میں چل رہی تھی ۔ اس کے ساتھ جنگ عظیم کے خاتمے  اور جاپان پر ایٹمی دھماکہ کے بعد دنیا میں  تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں ،جن کو ترقی پسند ناول نگار  کرشن چندر نے اپنے ناولوں ” شکست” ، جب کھیت جاگے  “اور” غدار” میں موضوع بنایا ۔ ان ناولوں میں  فرد کا ذہنی انتشار، ہندوستانی معاشرے  بالخصو ص “تلنگا”میں کسانوں اور متوسط طبقے کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں  اور ظلم کے خلاف  مزاحمت کی۔ہندوستان میں سامراجی حکومت کے دوہرے معیار  سے اختلاف  کرتے ہوئے مزاحمتی رنگ اپنایا۔۔”جب کھیت جاگے”  میں  نہ صرف مزاحمتی انداز اپنایا بلکہ تلنگا میں کسان اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہتھیار تک  اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

“جب کھیت جاگے” کرشن چندر کا ناول ہے جس کا مرکزی کردار راگھو راؤ ہے۔ جسے کسانوں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ناول کا اصل موضوع طبقاتی جنگ ہے۔ راگھو راؤکو اس جنگ کا احساس بچپن سے ہی ہو جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ زمینداروں کے خلاف شدید نفرت اپنے دل میں رکھتا ہے۔ نفرت کا یہ احساس ہی اسے مزاحمت کی راہ پر لے کے جاتا ہے جس کے اختتام پر اسے موت کی سزا ملتی ہے۔

راجندر سنگھ بیدی کے ناول” اک چادر میلی سی” میں انفرادی مزاحمت کا رخ اس وقت دیکھنے میں آتا ہے، جب تلوکے ایک چودہ سالہ لڑکی کو گھنشام کے پاس لے کے جاتا ہے تو اس لڑکی کا بھائی غصے میں آکر تلوکے کو قتل کر دیتا ہے۔

 مختصر یہ کہ تقسیم سے قبل  اُردو ناولوں میں جہاں  زیادہ تر انگریز سرکار کی آمریت ، پالیسوں اور  شخصی آزادی  کے سلب ہونے کو موضوع بنایا وہیں  ہندوستان میں بسنے والے کسان برادری اور غربت میں پسے افراد کے استحصالی نظام کا برملا اظہار ملتا ہے ۔ڈپٹی نذیر احمد سے لے کر عزیز احمد تک جتنے بڑے ناول نگاروں نے ناول  لکھ کر اس صنف کوپروان چڑھایا ۔ان سب  نے اس دور کے معاشر ے میں ہونے والی نا انصافیوں کے متعلق قلم کی طاقت سے احتجاج کیا۔

حوالہ جات

[i] ۔ رشید امجد ، ڈاکٹر ،اُردو میں مزاحمتی ادب کی روایت ،مشمولہ  مزاحمتی ادب،(مرتب) ڈاکٹر رشید امجد،اسلام آباد:اکادمی  ادبیات،1995ء ص:25

[ii] ۔ قمر رئیس،ادب میں اختلاف،انحراف اور احتجاج کی معنویت،مشمولہ اُردو ادب  احتجاج اور مزاحمت کے رویے،(مرتب)  ارتضی کریم،دہلی: اُردو اکادمی،2004ء،ص:19

[iii] ۔ عتیق احمد ۔ اُردو ادب میں احتجاج،لاہور: مکتبہ عالیہ ،1987ء،ص:28

[iv] ۔ تبسم کا شمیری ، ڈاکٹر ،اُردو ادب کی تاریخ ،لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز،2003ء،ص:256

[v] ۔ اسد اللہ خان غالب،دیوان ِغالب۔کراچی: فضلی سنز،1997ء،ص:09

[vi] ۔ روبینہ سہگل،عورت اور مزاحمت، لاہور: مشعل پبلی کیشنز،1999ء ،ص:48

[vii] ۔ انور سدید، ڈاکٹر ،ا ُردو ادب کی تحریکیں،کراچی: انجمن ترقی اُردو،2010ء،ص:427

[viii] ۔سردار جعفری،ترقی پسند ادب،لاہور: مکتبہ پاکستان،س ن،ص:152

[ix] ۔ رشید امجد، ڈاکٹر ، اُردو میں مزاحمتی ادب کی روایت ،مشمولہ  مزاحمتی ادب،ص:40

[x] ۔  انور سدید، ڈاکٹر ،ا ُردو ادب کی تحریکیں،ص:431

[xi] ۔ایضاً،ص:356

[xii] ۔ایضاً،ص:464

[xiii]  ۔سلیم اختر ، ڈاکٹر ، اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ( آغاز سے 2010 ءتک) ،، لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز،2017ء، ص:441

[xiv] ۔عزیز احمد،ترقی پسند ادب ، دہلی :چمن بک ڈپو، س ن ،ص:57

[xv] ۔ کوثر مظہری، احتجاج کی منفرد آواز:سردار جعفری،مشمولہ اُردو ادب احتجا ج اور مزاحمت کے رویے ،ص:151

[xvi] ۔ فیض احمد فیض،نسخہ ہائے وفا،لاہور: مکتبہ کارواں،س ن،ص:81

[xvii] ۔ انور سدید، ڈاکٹر ، ا ُردو ادب کی تحریکیں،ص:505

[xviii] ۔ محمد نعیم، اُردو ناول اور استعماریت ، لاہور: کتاب محل ،2017ء،ص:171

[xix]۔ ڈپٹی نذیر احمد،ابن الوقت،لاہور،مجلس ترقی ادب،1995ءص:32 تا 117

[xx] ۔رتن ناتھ سرشار،سیر کہسار(جلد دوم) لکھنؤ:منشی نول کشور،1934ء،ص:14

[xxi] ۔ محمد نعیم، اُردو ناول اور استعماریت ،ص:176

[xxii] ۔ منشی سجاد حسین ،طرحدار لونڈی،لاہور: مجلس ترقی اُردو ،1965ء،ص:80

[xxiii] ۔سراج اجملی،احتجاج کی منفرد آواز: پریم چند، مشمولہ اُردو ادب احتجاج اور مزاحمت کے رویے ،ص:170

[xxiv] ۔ ابو ظہیر ربانی،اُردو ناول:1940ء تا1960ء،مشمولہ اُردو ادب احتجاج اور مزاحمت کے رویے ،ص:281

[xxv] ۔عصمت چغتائی ، پیش لفظ ،مشمولا ٹیڑھی لکیر، لکھنؤ:نصرت پبلی کیشنز،1990ء،ص:07

[xxvi] ۔عزیز احمد ،آگ ، لاہور:تخلیقات،2000ء،ص:195

***

Leave a Reply