ایران میں اردو زبان وادب کی تعلیم و تدریس

ڈاکٹرمحمد رکن الدین

ایران میں اردو زبان وادب کی تعلیم و تدریس

آزاد دائرۃ المعارف ویکی پیڈیا کے مطابق اسلامی جمہوریۂ ایران(عرف عام: ایران، سابق نام: فارس، موجودہ فارسی نام: جمہوری اسلامی ایران) جنوب مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے، جومشرق وسطی میں واقع ہے۔ ایران کی سرحدیں شمال میں آرمینیا، آذربائیجان اور ترکمانستان، مشرق میں پاکستان اورافغانستان اور مغرب میں ترکی اورعراق (کردستان علاقہ)سے ملتی ہیں۔ مزید خلیج فارس اور خلیج عمان بھی واقع ہیں۔ملک کا سرکاری مذہب اسلام اورفارسی قومی زبان ہے۔ملک کی کرنسی ریال کہلاتی ہے۔ ایران مشرق وسطی میں واقع ہے۔ اس کے شمال میں آرمینیا،آذربائیجان،ترکمانستان اوربحیرہ قزوین، مشرق میں افغانستان اور پاکستان، جنوب میں خلیج فارس اور خلیج اومان جب کہ مغرب میں عراق اور ترکی واقع ہیں۔ ملک کا وسطی و مشرقی علاقہ وسیع بے آب و گل صحراؤں پر مشتمل ہے جن میں کہیں کہیں نخلستان ہیں۔ مغرب میں ترکی اور عراق کے ساتھ سرحدوں پر پہاڑی سلسلے ہیں۔ شمال میں بھی بحیرہ قزوین کے ارد گرد زرخیز پٹی کے ساتھ ساتھ کوہ البرس واقع ہیں۔

اس اہم اور جدید ٹکنالوجی سے آراستہ و پیرا ستہ ملک کی شرح خواندگی 97فیصد ہے۔جدید آلات اور جدید کھوج پرکھ کے ساتھ زبان و ادب اور ثقافت میں دل چسپی ایرانی باشندوں کے اندر ایک اہم خصوصیات ہیں۔ ان خصوصیات کا اعتراف ارباب علم و فکر کو ہے۔ڈاکٹر علی بیات کا ایک تحقیقی مقالہ’’ ایران میں اردو زبان کا مختصر تاریخی پس منظر‘‘ہے۔ ایران میں اردو زبان وادب کی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر علی بیات لکھتے ہیں:

’’ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی مشترکہ زبان اور شاید صحیح الفاظ میں اس خطّے کے باشندوں کی اکثریت کی مشترکہ زبان یعنی اردو، ایران میں طویل مدّت تک، بڑی حدتک ناشناختہ رہی۔ اس ملک میں اردو کو ایک زبان کے طور پر روشناس کرنے والوں میں ایک اہم نام سید محمد تقی فخرداعی گیلانی (1879-1964)ہے۔ انہوں نے 1905میں ہندوستان کا سفر کیا اور 15 سال کے قریب وہاں قیام کیا۔ اس دروان مختلف علما و دانشوروں سے ان کی ملاقاتیں رہیں اور کچھ عرصہ علی گڑھ میں فارسی، عربی اور فلسفے کی استادی کے فرائض بھی سرانجام دئیے۔ اس دوران انھوں نے شبلی نعمانی کی ”شعرالعجم”، ”الکلام”، ”سوانح مولانا روم”،”کتابخانہ اسکندریہ” و غیرہ جیسی چند اہم کتابیں کو اردو سے فارسی میں ترجمہ کیا۔ اسی طرح انہوں نے سرسید احمدخان کی ”تفسیر القرآن ”کو بھی فارسی کا جامہ پہنایا۔ یوں انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں، ایران میں اردو زبان کے تعارف کے سلسلے میں اپنا کردار اداکیا۔ لیکن اس سے اس زبان کووہ شہرت حاصل نہ ہوسکی جس کی ضرورت تھی۔ ان کے بعد ڈاکٹر خواجہ عبدالحمید عرفانی (1917-1990) کا نام اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔۔۔ اس سلسلے کی ایک اور اہم کڑی ڈاکٹر شہریار باحیدر نقوی مرحوم ہیں، جن کی ”اردو، فارسی لغت” اپنے دور کو مدنظر رکھتے ہوئے، بہت اہم کارنامہ شمار ہوتا ہے۔ مرحوم کچھ عرصہ اصفہان یونیورسٹی اور دانشگاہ تہران سے وابستہ رہے اور اس دوران بہت سے علمی وتحقیقی مقالات لکھے جو ایرانی اور پاکستانی جرائد و رسائل میں چھپتے رہے۔ ان کی خدمات کے سلسلے میں دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب آگے جاکر 1991 میں شعبہ اردو، دانشگاہ تہران کا قیام عمل میں آیا تو ان ہی کی ذاتی لائبریری جو اردو زبان میں منتخب ادبی اور علمی کتابوں پر مشتمل تھی، غیر ملکی زبانوں کے کالج کی مَین لائبریری کی زینت بنی۔ یہ کتابیں ڈاکٹر شاہد چوہدری کے ذریعے، مرحوم کی بیوہ سے اس لائبریری کے لیے خریدی گئیں۔ ‘‘(6 )

اردو زبان وادب کی تعلیم و تدریس کا اہتما م ایران کی صرف ایک یونیورسٹی’’تہران یونیورسٹی‘‘ میں ہے۔تہران یونیورسٹی اپنی گوں ناگوں خصوصیات اور تعلیم و تدریس کے ساتھ انتظامی امور میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔ایران کے نامور اور مشہور ومعروف دانش گاہوں میں ’’تہران یونیورسٹی ‘‘کا نام سر فہرست ہے۔تہران یونیورسٹی میں اردو زبان و ادب کی تعلیم و تدریس کی ابتداکیسے ہوئی؟تہران یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کا قیام کب اور کیسے عمل میں آیا؟ ان سب پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر علی بیات لکھتے ہیں:

’’دانش گاہ تہران کا ایک مشہور کالج، فارسی زبان و ادب کے کالج میں بی اے اور ایم اے فارسی، کی سطح کے طلبا کے لیے اردو زبان ایک اختیاری مضمون کے طور پر ابتدائی اور بنیادی واقفیت کی حدّتک کئی برسوں تک پڑھائی جاتی تھی۔اس سلسلے میں ڈاکٹر سید شہریار باحیدر نقوی لکھتے ہیں:’دو سال ہوگئے ہیں(مطلب سنہ 1955) کہ یونیورسٹی آف تہران میں، اردو کا شعبہ قائم ہوا ہے۔ فارسی زبان و ادب اور علوم معقول و منقول کے کالج میں سینکڑوں طالب علم  بڑے شوق سے اردو کی تعلیم میں مصروف ہیں۔۔۔ جب سے اس شعبہ کا افتتاح ہواہے، اہل علم کی توجہ کا مرکز بنا ہے۔‘یوں دانش گاہ تہران میں، اردو اور اس کی طرف توجہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ڈاکٹر صاحب کی کوششوں کے باوجود، مذکورہ کالج میں کبھی یہ شعبہ مستقل طور پر جاری نہ رہ سکا اور بہت جلد گوشہ گمنامی میں چلا گیا۔ اس وقت کے نصاب میں اردو کے حروف تہجّی کے تعارف کے بعد، عام اور سادہ فقرے کی مشق کی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ طلباو طالبات معمولی بول چال کی حدّتک اردو سے واقفیت حاصل کرلیتے تھے۔ ڈاکٹر شہریار باحیدر نقوی مرحوم جیسیایران میں مقیم پاکستانی استاد کے علاوہ پاکستان سے آئے ہوئے پی ایچ ڈی فارسی کے طلباوغیرہ، ایرانی طلبااور شائقین کے لیے استادی کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا۔ لیکن بالاخر1990 میں ایران اور پاکستانی حکومتوں کے درمیاں سرکاری سطح پر، ایک باقاعدہ معاہدہ ہوا، جس کی رو سے یہ طے پایا کہ بی اے آنرز کی سطح پر دانشگاہ تہران میں اردو زبان وادب کا شعبہ قائم کیا جائے۔ (7)

اس اقتباس سے تہران یونیورسٹی کے ساتھ ایران میں اردو زبان و ادب کی تدریس اور اردو ممالک کی معاونت کا ذکر موجود ہے۔ڈاکٹر علی بیات چوں کہ خود شعبۂ اردو ، تہران یونیورسٹی، تہران میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ چناں چہ موصوف کا تجربہ بھی کافی وسیع ہے۔موصوف نے تفصیلی طور پر تہران یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کے قیام اور اردو کے لیے جدو جہد کرنے والے افراد کے احوال و کوائف درج کیا ہے۔ایران میں اردو زبان کی تعلیم و تدریس کی معلومات کے لیے پروفیسر علی بیات کے مذکورہ اقتباسات یقینا بنیادی ماخذ ہیں۔

 تہران یونیورسٹی ، ایران میں تعلیمی سرگرمیاں یہ ہیں کہ اس وقت شعبۂ اردو ، تہران یونیورسٹی، تہران میں اردو زبان و ادب کی تعلیم وتدریس کا بندوبست دو سطح پر جاری و ساری ہے۔

1۔بی ۔ اے آنرز اردو زبان وادب

2۔ایم ۔اے اردو زبان وادب

واضح رہے کہ ایران کی تمام یونیورسٹیوں میں بی اے آنرز کی تعلیم کا دورانیہ چارسالوں پر مشتمل ہوتا ہے جو آٹھ سمسٹرز پر محیط ہے۔اس دورانیہ کو سمت ورفتار دینے کے لیے باضابطہ نصاب تیار گیا ہے ۔اس نصاب کے تحت طلبا وطالبات درس گاہ کی پابندی کو لازمی جز سمجھ کر حاضر ہوتے ہیں۔پاکستانی اساتذہ کے بعد اس وقت خود ایرانی النسل اساتذہ نے شعبے کی ذمہ داری خود سنبھالی ہیں۔اب جب کہ خود ایرانی الاصل اساتذہ نے شعبے میں اپنی اپنی خدمات انجام دینے کے اہل ہوگئے ہیں، اردو کے نصاب کو نئے سرے سے بنانے کی کوششیں کررہے ہیں ۔ نصاب کی تیاری میں ممکنہ حدتک خامیوں کو دور کرنے کی کوشش جاری ہے۔ وزارت تعلیم اسلامی جمہوریہ ایران کے قانون کی رو سے ہر پانچ سال جامعاتی نصابوں کوتشکیل نو کے مراحل سے گزارنا ناگزیر ہوتا ہے۔ وزارت تعلیم کی ہدایت کے مطابق شعبۂ اردو کی بھی یہی کوشش رہتی ہے کہ شعبے میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کے ادبی ذوق و شوق کا بھر پور خیال رکھا جائے۔ ساتھ ہی جدید اور رائج وسائل سے استفادہ بھی کیا جائے۔اس استفادہ کے عمل میں ہندوستان اور پاکستان کی مشہور و معروف یونیورسٹیوں کے نصاب کا عمل دخل بہت حد تک ہوتا ہے۔ہندو پاک کے اردو شعبوں کے نصاب کی مدد سے شعبۂ اردو ، تہران یونیورسٹی کافی استفادہ کرتے ہیں۔اس سے ایک سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایرانی طلبا و طالبات اردو کے مولد و مسکن کی تعلیمی و تدریسی ڈھانچوں سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔

بی اے آنرز اردو زبان و ادب کے نصاب کچھ اس طرح ہیں:

آٹھ سمسٹرزمیںسے، پہلے چار سمسٹرزکو زبان کی تعلیم کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس دوران اردو گرامر تین سمسٹرز میں پڑھایا جاتاہے۔ اس کے ساتھ اردو بول چال جس میں طلباکے اردو حروف و الفاظ کے سننے، تلفظ، اور حروف کی ادائیگی پر زور دیاجاتاہے۔گرامر کی رو سے ان سے سیدھے سادے مضامین لکھوائے جاتے ہیں، اس طرح وہ مختلف الفاظ کو اردو محاوروں اور روزمرہ کے مطابق استعمال سے آگاہی کے ساتھ مشق کرائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ چوتھے سمسٹر سے ترجمے کے بنیادی اور ابتدائی اصول و قواعد کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ سادہ متون کو اردو سے فارسی میں اور فارسی سے اردو میں ترجمے کے اصول کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ طلباکو پاکستانی اور ہندوستانی اسکولوں میں مروجہ نصابی کتب کے بعض مضامین کے منتخب حصے ان چاروں سمسٹرز کے ذریعے کلاسوں میں پڑھایا جاتاہے۔

 پانچویں سمسٹر سے آٹھویں سمسٹر تک، در اصل طلباو طالبات کا زبان آموزی کا دورانیہ مکمل ہوتا ہے اور وہ اس قابل ہوجاتے ہیں کہ اردو ادب کی نظم و نثر کا تفصیلی مطالعہ کرسکیں۔ نظم کی ابتدائی اصطلاحات کی تعریف سے لے کر نظم کے قدیم و جدید اصناف اور اردو شاعری کے کلاسیکی اور جدید دورکی شاعری کے منتخب حصے پڑھائے جاتے ہیں۔ نثر میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں طلباکے لیے نثر اور اسالیب نثر کی اصطلاحات کی وضاحت کی جاتی ہے اور اس کے بعد دور قدیم و جدید کے اہم نثرنگاروں اور فن پاروں کے منتخب حصے پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ ادب اردو اور ادبی متون کے اعلیٰ نمونے پیش کیے جاتے ہیں اور اس طرح آٹھویں سمسٹر کے اخیرتک طلبا بڑی حد تک اردو زبان اورادب سے واقف ہوجاتے ہیں۔

2009تک شعبے میں صرف بی اے آنرز کی سطح میں اردو زبان و ادب کی تعلیم دی جاتی تھی۔ لیکن شعبے میں (2009)سے ایم۔اے اردو کورس بھی باضابطہ شروع ہوگیا ہے ۔ ایم اے میں ہر سال چھ طلباو طالبات کو داخلہ ملتا ہے۔ایم اے کورس میں کل چار سمسٹر ز ہیں۔ پہلے تین سمسٹرزمیں اردو ادب کے مطالعے اور مشق کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ایم اے کی نصاب سازی میں بھی پاکستانی اور بعض ہندوستانی یونیورسٹیوں کے ایم۔اے کے نصاب کے علاوہ، ایم فل اردو کے نصاب سے بھی استفادہ کیاجاتاہے۔ کلاسیکی اور جدید دور کے اہم اسالیب، شعرا ،اور مصنفوں اور ان کے اہم کارناموں کا تفصیلی طور پر مطالعہ کیا جاتاہے۔ نیز تحقیق و تنقید سے تفصیلی طور پر طلبا واقف ہوکر اس کے اصول کی رو سے علمی مضامین لکھتے ہیں۔ ادب کا مطالعہ یہاں بھی کلاسیک اور جدید کی تقسیم سے کیا جا تاہے۔ کلاسیکی شاعری میں، ولی، میرتقی میر، مرزا محمد رفیع سودا، خواجہ حیدرعلی آتش اور غالب و مومن و ذوق کی شاعری شامل ہے۔ جدید دور کے شعرا میں ن م راشد، مجید امجد، میراجی، فیض احمد فیض اور دیگر اہم شعرا شامل ہیں۔ اقبالیات الگ مضمون کے طور پر بڑی تفصیل سے پڑھایاجاتاہے۔ اس میں ان کے تصورات کا مطالعہ، ان کے فارسی اور اردو کلام کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ فارسی اور اردو کلام کے کچھ منتخب حصے پڑھائے جاتے ہیں۔ تنقید اور اصول تنقید کی تفصیل سے تعلیم دی جاتی ہے۔ نثر میں بھی وہی اصول کاربند ہے، افسانوی اور غیر افسانوی نثر کا کلاسیکی عہد سے لے کر جدید دور کے اہم نثری اسالیب کا تفصیل سے مطالعہ کیا جاتاہے۔ تقابلی ادب ایک اہم مضمون کے طور پر پڑھایا جاتاہے جس میں تمام طلبا دل چسپی لیتے ہیں۔ آخری سمسٹر میں ہر طالب علم کو تھیسس لکھنے کا موقع دیاجاتاہے۔ ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایم اے اردو کے نصاب بناتے ہوئے یہ بات پیش نظر رکھی گئی ہے کہ تہران یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباکو ہندوستان اور پاکستان کی یونیورسٹیوں میں داخلے کے وقت، کسی بھی طرح کی کمی کا احساس نہ ہو۔ ایم اے اردو کے تمام طلباکو تھیسس لکھنا لازم ہے۔ شعبے کی ضروریات اور طلباکی قابلیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے، تھیسس کے لیے موضوعات کا انتخاب کیاجاتاہے۔ طلبااورساتذہ کے باہمی مشورے اوررضامندی کے مطابق کسی ایک موضوع کا انتخاب کیا جا تاہے ۔ اگر چہ یہ بات بھی ہمیشہ پیش نظر رہتی ہے کہ ایسے مقالات لکھے جائیں، جن سے شعبے کی تحقیقی ضروریات پوری کی جا سکے۔ مقالوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس لیے ذیل میں صرف بعض مقالوں کی فہرست ، مقالہ نگار کا نام اور اخیر میں نگراں کا نام پیش کیا جا رہا ہے۔

علامہ اقبال اور پروین اعتصامی کی مکالماتی نظموں کا تقابلی اور تنقیدی جائزہ:مقالہ نگار، فرناز زالزادہ :نگراں،ڈاکٹر علی بیات

انتظار حسین کے منتخب افسانوں کا تنقیدی مطالعہ:مقالہ نگار،فاطمہ فخرالدین :نگراں،ڈاکٹر محمد کیومرثی

اردو میں فارسی کے چند منتخب الفاظ کا تقابلی جائزہ:مقالہ نگار،زہرا آذرخش:نگراں،ڈاکٹر علی بیات

فارسی بولنے والوں کو اردو قواعد کی تعلیم:مقالہ نگار،لیلا غالبی:نگراں ،ڈاکٹر محمد کیومرثی

مثنوی معنوی میں مولانا روم کی کلیلہ و دمنہ اور پنج تنترہ سے اثرپذیری، ایک مطالعہ:مقالہ نگار،سیمین جوادی:نگراں،ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی

سعادت حسن منٹو اور صادق ہدایت کے افسانوں کا تقابلی مطالعہ:مقالہ نگار،مہدیہ نژاد شیخ:نگراں،ڈاکٹر محمد کیومرثی

پریم چند کے افسانوں میں استعمار دشمنی، وطن پرستی کا احساس اور کمزور طبقے کی زندگی کی عکاسی:مقالہ نگار،محمد علی ذاکری:نگراں،ڈاکٹر محمد کیومرثی

ترقی پسند تحریک کی افسانہ نگاری کا موضوعاتی مطالعہ: مقالہ نگار،منیرہ نژاد شیخ :نگراں،ڈاکٹر وفا یزدان منش

ایران کے بارے میں لکھے گئے سفرناموں کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ:مقالہ نگار،معصومہ شریفیان: نگراں، ڈاکٹر علی بیات

فارسی سے اردو میں اور اردو سے فارسی میں ترجمے کے دو طرفہ اصول: مقالہ نگار،رویا جوادی: نگراں،ڈاکٹر علی بیات

شیخ محمود شبستری کے گلشن راز اور علامہ اقبال کے گلشن راز جدید میں افکار کا تقابلی مطالعہ: مقالہ نگار،یونس رضائی عارف: نگراں،ڈاکٹر علی بیات

اردو اور جدگالی لہجے میں صوتی اور نحوی اشتراکات کا تقابلی مطالعہ: مقالہ نگار،سمیرا سپاہی: نگراں، ڈاکٹر وفا یزدان منش

شعبۂ اردو ، تہران یونیورسٹی ہر سال کئی علمی و ادبی نشستوں کا اہتمام کرتا ہے۔ ان نشستوں میں ہندو پاک اور ایرانی محقق ودانشوران کو مختلف علمی و ادبی موضوعات پر خطاب کے لیے مدعو کرتے ہیں جس سے تمام طلبا اور اساتذہ بہت استفادہ کرتے ہیں۔ نومبر میں تمام ایرانی یونیورسٹیوں میں ایک ہفتہ” ہفتہ پژوہش” کے نام سے منعقد ہوتاہے۔ اس میں ہر ایک شعبہ اورہر ایک استاد ایک سال کے دوران، اپنی علمی وادبی تحقیقات کی وضاحت کرتا ہے۔ 2014 میں منعقد ہونے والی مختلف تقریبات میں، شعبۂ اردو کے تمام اساتذہ نے بھرپور حصہ لیا۔ اردو کے مشہور شاعرافتخار حسین عارف جو کہ اُس وقت تہران میں موجودہ ای سی او(ECO) ممالک کے کلچرل سینٹر کی سربراہی کر رہے تھے ، افتخار صاحب کئی بار شعبے کے پروگرام میں تشریف لے گئے جس سے اردو شعبے کی ہمت افزائی ہوئی۔ اس ہمت افزائی کی وجہ سے   شعبۂ اردو نے ایک بین الاقوامی،یک روزہ سیمینار2010میں انعقاد کیا گیاتھا۔ اس سیمینار کا عنوان ’’علامہ اقبال اور اتحاد دنیائے اسلام‘‘ تھاجودانش کدہ زبان ہا و ادبیات خارجی ،تہران یونیورسٹی میںہوا تھا ۔ شعبۂ اردو ، تہران یونیورسٹی کے اساتذہ ہمیشہ ملک اور ملک سے باہر منعقد ہونے والے قومی اور بین الاقوامی سمیناروں میں ایران کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔شعبے کے اساتذہ اور ان کے اہم ادبی و علمی کی کتب کی فہرست درج کیے جاتے ہیں :

ڈاکٹر علی بیات اور ڈاکٹر محمد کیومرثی 1999سے اب تک شعبے میں تدریسی خدمات کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت شعبے میں پانچ مستقل اردو کے ایرانی اساتذہ موجودہیں جو ہمہ وقت اردو زبان وادب کی تعلیم و تدریس میں مصروف ہیں۔(1)ڈاکٹر علی بیات(2)ڈاکٹر محمد کیومرثی(3)ڈاکٹر زیب النساء علیخان(2019 میں ریٹائرڈ ہوگئی ہیں)(4)محترمہ ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی(5)محترمہ ڈاکٹر وفا یزدان منش(6)ڈاکٹر علی کاووسی نژاد

ڈاکٹر زیب النساء علیخان کی تالیفات و تصنیفات درج ذیل ہیں:

1۔’’ تصحیح انتقادی تذکرہ مجمع النفائس سراج الدین علی خان آرزو ‘‘

2۔’’زیب اللغات فرہنگ واژہ نامہ توصیفی اردو بہ فارس‘‘

3۔’’فرہنگ سہ زبانہ اردو، فارسی اور ہزارہ جامع اللغات سلطانی‘‘

ڈاکٹر علی بیات کی تالیفات و تصنیفات درج ذیل ہیں:

1۔’’مطالعہ بیدل درپرتو افکار برگسون‘‘(ترجمہ) اقبال اکادمی پاکستان 2000 (2006 میں یہ کتاب ایران سے ’’حقیقت و حیرت، مطالعہ بیدل درپرتو اندیشہ ہای برگسون‘‘کے نام سے ’’پرنیان خیال‘‘،نامی ایک ایرانی انتشارات سے بھی چھپی ہے۔)

2۔’’زیب اللغات فرہنگ واژہ نامہ توصیفی اردو بہ فارسی‘‘ ،(با ہمکاری دکتر خانم دکتر زیب النسا علیخان)

3۔’’نہضت تشکیل پاکستان ‘‘(ترجمہ)

4۔’’ پنجرہ ای بہ سمت باغ گمشدہ‘‘(ترجمہ منتخب اشعار افتخار عارف)

ڈاکٹر محمد کیومرثی کی تالیفات و تصنیفات درج ذیل ہیں:

1۔’’معاصر ایرانی شاعری‘‘، ترجمہ 30 شعر از شاعران معاصر ایران بہ زبان اردو

2۔’’ اردو فارسی افسانہ، تجزیاتی و تقابلی مطالعہ‘‘

3۔’’گفتگو در سکوت/ ترجمہ شعر معاصر اردو‘‘

ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی کی تالیفات و تصنیفات درج ذیل ہیں:

1۔’’فرہنگ تلمیحات اشارات اساطیری ،داستانی ،تاریخی،مذہبی در زبان و ادبیات اردو ۔ ہندی ۔ بہ فارسی‘‘

2۔’’منتخب نغمہ خداوندی گیتا‘‘

3۔ ’’ فرہنگ مہان‘‘

ڈاکٹر وفا یزدان منش کی تصنیف ’’نوسرایان اردو در سدہ بیستم‘‘وغیرہ اردو زبان و ادب کے اساتذہ کی تالیفات وتصنیفات قابل ذکر ہیں۔ ان کتابوں کے علاوہ درجنوں بھر تحقیقی و تنقیدی مقالات ہیں جو اردو زبان و ادب کے بیش بہا قیمتی ورثے ہیں۔ایران کی مقبول و معروف یونیورسٹی تہران میں ہی صرف اردو زبان و ادب کی تدریس ہے۔ دیگر یونیورسٹیوں میں اردو زبان و ادب کی تدریس و تعلیم کا کوئی بندو بست نہیں ہے۔اردو کے متحرک و فعال ادارے اگر اس جانب سنجیدگی اور دل چسپی سے کام کرنے کی کوشش کریں تو یقینا دیگر یو نیورسٹیوں میں بھی اردو کے شعبے قائم ہو سکیں گے ۔اور ایران شرح خواندگی میں اردو زبان وادب کا بھی بول بالا قائم ہو سکے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *