You are currently viewing بیکل ؔاُتساہی شخص و شاعر

بیکل ؔاُتساہی شخص و شاعر

امام الدین امامؔ

جے این یو ، نئی دہلی

بیکل ؔاُتساہی شخص و شاعر

پَدم شری بیکلؔاُتساہی کی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات سے پوری اُردو دنیا اچھی طرح واقف ہے۔ بیکل ؔاُتساہی علمی، ادبی، مذہبی اور سیاسی دنیا کی اس شخصیت کا نام ہے۔جس نے اپنی گیتوں اور غزلوں کے ذریعہ پوری دنیا میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا یاہے۔بیکلؔاتساہی کی اصل پہچان نعت نبی ؐاورلوک گیتوں کے لئے ہے۔بیکلؔ اُتساہی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس کو ہر قاری اپنے نقطۂ نظر سے پڑھتا ہے اور اپنے حساب سے ان کے متعلق اپنی رائے قائم کرتا ہے۔بیکلؔایک عظیم شاعر و فنکار ہی نہیں بلکہ ایک عظیم انسان بھی ہیں۔اور ایک عظیم شاعر و فنکار وہی شخص ہو سکتا ہے جو ایک اچھا انسان ہو۔موصوف کی شاعری میں ہندوستانی تہذیب وثقافت، گاؤں، دیہات کی سادہ زندگی،کھیت ،کھلیان کی پر کشش عکاسی ملتی ۔ان کے اشعار میں اپنی مٹی کی بھینی خوشبوبدرجۂ اتم رچی بسی ہے۔بیکلؔ اُتساہی نے اپنی غزلوں کو ایک غیر روایتی زبان سے روشناس کرایا ہے،انہوں نے اپنی غزلوں، نظموں اور گیتوں میں جن اکائیوں کو پیش کیا ہے۔ وہ یقینا ایک بڑا کارنامہ ہے۔اس طرح بیکلؔ کی شاعری اپنے اندر ہزاروں روپ لئے صفحۂ قرطاس پر بکھری پڑی ہیں۔

  بیکل ؔ اتساہی (۱۹۲۸؁ء سے  ۲۰۱۶؁ء)کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ اس لئے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کاشتکاری میں مصروف ہو گئے ۔مگر زمینداروں کے مزاج میں جو تیکھا پن اور استحصال کی جو بوآتی تھی بیکلؔ اس سے میلوں دور تھے۔ ان کے مزاج میں نرمی،انکساری رچی بسی ہوئی تھی، انہوںنے ظلم و تشدد ، مفلسی ،غریبی ،مصائب و آلام ،استحصال ،بے ایمانی ، ناانصافی اور غریب مزدوروں پر ہو رہے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کیا اور آگے چل کر ایک بڑے قومی لیڈر بن گئے۔ اور اپنی سیاسی نظموں و گیتوں کے ذریعہ جبر و استبداد کے خلاف ملک کی سادہ لوح عوام کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔موصوف کی عظیم الشان شخصیت اور ان کی شاعری کے بارے میں ناگیشور پرساد سین رطب اللسان ہیں۔ ملاحظہ ہو  :

’’وہ ایک اچھے شاعر ہیں۔ایک عمدہ انسان اور نہایت سنجیدہ سماج سیوک ہیں بیک وقت ایسی تین صفات کم ہی لوگوں میں دیکھنے کو آتی ہیں، اگر اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے تو میں عرض کروں گا کہ یہ تینوں صفات ان کی شخصیت کا جزو ہیں۔ان کی شاعری پر قومی یکجہتی ،وطن پرستی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بلیغ فکر کی گہری چھاپ ہے۔ ‘‘(فکر و آگہی ،بیکل ؔاتساہی نمبر :ص۔۲۲۶)

 بیکلؔ کادل اپنے ملک کی محبت سے اس قدر لبریز تھا کہ جب  ۱۹۶۲؁ء میں ہند و چین کے درمیان جب جنگ چھڑی اس وقت بیکلؔکی شاعری نے ایک اہم موڑ لیا ان کی حب الوطنی نے انگڑائی لی اور ان کے جذبہ کا لاوا کچھ اس انداز میں پھوٹتا ہے   ؎

شہیدِ ملک ہونا قوم و ملت ہی کی عظمت ہے

بچانا لاج اپنے دیس کی انساں کی فطرت ہے

اگر عزّت وطن کی ہے تو سمجھو اپنی عزت ہے

وطن پہ جان دے کر زندگی پانے کا وقت آیا

وطن والو اٹھو

اور جب اس جنگ کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد بھی بیکل ؔنے اپنی قوم کو اس انداز سے خبر دار کیا   ؎

دیکھنا گھات میں دشمن کی نظر باقی ہے

ابھی بارود میں جلنے کا اثر باقی ہے

اس کے بعد بیکلؔ اُتساہی کی شعری و ادبی خوشبو نے پورے ملک کی فضا کومعطّرکردیاتھا۔پھر  ۱۹۶۹؁ء میں ہندوستان کی سرحدوں کو پھلانگ کر صد سالہ جشن غالبؔ کے سلسلے میں برطانیہ گئے وہاں پر انہوں نے یہ شعر سنایا   ؎

مجھ کو بخشی ہے خدا نے وسعتِ فکر و نظر

فہم و دانش راہ میری عزم میرا ہم سفر

اس کے بعد وہ وقت بھی آیا جب بیکل ؔپر انعامات و نوازشاعت کی برسات ہونے لگیںنہ جانے کتنے ایوارڈ ملے ،بہت سی کمیٹیوں اور اکاڈمیوں کے رکن منتخب کئے گئیں۔ اس سلسلے میں چند انعامات کے نام پیش کئے جا رہے ہیں :پدم شری  ۱۹۷۶؁ء،راجیہ سبھا کا ممبر بنایا گیا۔یوپی اسٹیٹ سے منتخب ہوئے۱۹۸۶؁ء،پریسیڈنٹ آف انڈیا کے ہاتھوں راشٹریہ گیت ایوارڈ۱۹۵۵؁ء،ہندی ساہتیہ سمیتی ۱۹۰۶؁ء،قومی گیت ایوارڈ۱۹۶۵؁ء،محمد علی جوہر ایوارڈ۔یو۔پی۱۹۷۴؁ء،وجئے استنبھ ایوارڈ ۱۹۷۹؁ء،گولڈ میڈل نعت اکادمی(پاکستان ،کراچی)    ۱۹۸۲؁ء وغیرہ جیسے انعامات سے نوازے گئے ۔اسی ادبی اور علمی سلسلے میں کئی ملکوں کا دور ہ بھی کیا۔بیرون ممالک کے سفروں کا دور ۱۹۵۵؁ء سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ جن میںکویت،دبئی،شارجہ، سعودی عربیہ، برطانیہ، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال وغیرہ شامل ہیں۔

بیکلؔ اُتساہی جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ اپنے دل کی عمیق گہرائیوں سے کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ان کی آزاد شاعری کا مطالعہ کریں تو اس میں بیکل پن بالکل واضح طور پر نظر آئے گا اسی طرح ان کی نعتیہ شاعری کا اگر مطالعہ کریں تو اس سے جذبۂ ایمانی کی کرنیں پھوٹتیں ہوئی نظر آئیں گیں،جو موصوف کی ایمان و عقیدے کی سچی ترجمانی کرتی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں   ؎

ایماں کی اصل روح محبت حضورؐ کی

مومن ہے، جو اسیرِ وفا ہے رسولؐ کی

چاند جب تم فضا میں اُڑانے لگے

ہم کو شاہِ عرب یاد آنے لگے

یہ چاند پہ جانے والا معراجِ نبیؐ کیا جانے

سائنس کا یہ دیوانہ خود کو پہلے پہچانے

حبشیؓ کی نگاہوں سے دیکھو، اس محفلِ اطہر کی رونق

سلمانؓ سے پوچھ تو اے بیکلؔ، کس ڈھنگ سے پینا آتا ہے

اردو میں گیت کی روایت ہندی سے مستعار ہے ۔سب سے پہلے امیرخسروؔ نے اس کے لئے دروازہ کھولا تھا۔ ان کے بعد عظمت اﷲ مطلبی فرید آبادی ،میراجیؔ، حفیظ ؔجالندھری، ساغرؔ نظامی، احسان ؔدانش،آرزوؔ لکھنوی وغیرہ نے اس فن میں کامیاب تجربے کئے ہیںلیکن بیکلؔ اتساہی کی ادبی زندگی کی پیدا ئش ہی گیتوں کے آنگن میں ہوئی۔اس لئے موصوف نے تمام صنفوں جیسے غزل ،نظم وغیرہ پر بعد میں اپنی توجہ دی کیونکہ ان کا تعلق گاؤں سے تھا اسی وجہ سے ان کی گیتوں میں کچی مٹی کی خوشبو،دیہاتیوں کی سریلی آواز ،کوئل کی کوک،چوپالوں کی محفلیں ،سرسبز و شاداب درختوں کی پتیوں کی چھایا،باغات، نہریں، کھیت ،کھلیان،جاڑا اور برسات کے دن،گوری کی دھانی آنچل، پگڈنڈی پر صبح و شام کو بکھری ہوئی آفتاب کی شعاعوںکی بہت ہی خوبصورت عکاسی نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل اشعار ملاحظہ ہوں   ؎

سُنا ہے مومنؔ و غالبؔ نہ میرؔ جیسا تھا

ہمارے گاؤں کا شاعر نظیرؔ جیسا تھا

وہ ایک ناگ جو دھرتی کو تھا اٹھائے ہوئے

مِری کتاب میں وہ بھی لکیر جیسا تھا

کیسا ماٹی کا دیا، کیا باتی کا تیل

دیوالی کا پرب تو ہے بجلی کا کھیل

بیکلؔ تو نے کیا لکھا ، کیا تیری اوقات

جا تجھ کو اب کیا کہیں ہے ہولی کی بات

گوری کا مکھ دیکھ کے ہوئی سجیلی بھور

بکھرے کیس کی چھاؤں میں ناچے من کا مور

ٹرین چلی تو چل پڑے کھیتوں کے سب جھاڑ

بھاگ رہے ہیں ساتھ ہی جنگل اور پہاڑ

کوئی تنکا ہو اس کو ٹھکانے سے رکھ

اپنے کو جوڑ کر آشیانے سے رکھ

آکاش پہ چاند رسیلا

ہو گیا یاد میں رسیلا

جاڑا آیا سلگی آگ

لگتی ہے اب اچھی آگ

بیکل ؔاتساہی کی غزلوں کے بارے میں معروف ادیب پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی مرحوم کا ایک اقتباس حاضر خدمت ہے۔ تاکہ ہمارے دعوے کی تصدیق ہو سکے۔ملاحظہ ہو   :

’’بیکلؔ اتساہی کی غزلوں میں معاشرتی اور سیاسی تغیرات کے عکس نہیں ملتے یا صرف ایک صنف یا کیفیت کے دائرے میں ہی ان کی غزلیں مقید نہیں ہیں بلکہ شکستگی ، ناوابستگی، تنہائی ، کرب ِ ذات،لایعنیت اور لاسمتیت کے ساتھ عصری تقاضے کو محسوس کرانے کے لئے ذائقہ دار شاعری بھی کی ہے۔ اس لئے انہوں نے تلخ و ترش ذائقے کو چکھ کر شیریں دہن سخن رہنا پسند کیا ہے۔ یہ انفرادیت بیکلؔاتساہی کی ہی غزلوں کا حصہ ہے۔‘‘        (فکر و آگہی ،بیکل ؔاتساہی نمبر:ص ۳۲۵)

اخیر میں بیکل ؔ اتساہی کی غزلوں کے چند اشعار پیش کرنے کی جسارت کرتا ہوں ملاحظہ ہوں   ؎

کوئی جھوٹی بات کہے تو اچھی لگتی ہے

یار جوانی میں ہر صورت اچھی لگتی ہے

وہ ہے گرم ہواؤں کا جھونکا ، ہم کو ملی پھولوں کی پات

وہ نرموہی ہم دل والے اس کو ہماری یاری کیا

یوں تو تمہارے شہر میں سب ٹھاٹ باٹ ہے

لیکن کسی حسیں کی طبیعت اچاٹ ہے

نہ کمالِ ترکِ دنیا، نہ جلالِ بادشاہی

مرے واسطے ہے کافی تری دی ہوئی تباہی

گرد ہو گر ذہن و دل میں تو جھٹک کر پھینک دے

فکر و فن میں ہو ملاوٹ تو پھٹک کر پھینک دے

میں مفلس ہوں مجھے دنیا کا دُربل لکھ دیا جائے

مری صدیوں کو کوئی سُکھ بھرا پل لکھ دیا جائے

صبح نہ جانے پھر کیا بیتے، شہر کے بنگلے والوں پر

بات کوئی گمبھیر چھڑی ہے، خانہ بدوش فقیروں میں

لباس قیمتی رکھ کر بھی شہر ننگا ہے

ہمارے گاؤں میں موٹا مہین کچھ تو ہے

درج بالا اشعار صرف مشتِ نمونہ از خروارے کی مثال ہے ورنہ اس قسم کے سینکڑوں اشعار بیکلؔ اُتساہی کے یہاں بہ آسانی دیکھنے کو ملتے ہیں۔بیکلؔ کی کیفیت آفریں لفظ و معنیٰ کی شعری کائنات ، زندہ جذبات اخلاقی دیانتداری زیادہ ہے جو معنیٰ خیز اور حسن پرور ہے۔بیکل ؔاتساہی کی معیاری تخلیقات گاؤں اور شہر کی تہذیبوں کا جیتا جاگتا آئینہ دار ہے۔ بیکلؔاُتساہی کی تخلیقات کا احاطہ کرنا ہم جیسے کم علموں کے بس کی بات نہیں ۔

****

Leave a Reply