تنویر انجم کی نظموں میں نسائی امتیاز  اور بیگانگی

ڈاکٹر سمیرا   اکبر، اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد

Email: sumairaakbar@gcuf.edu.pk

زاہد حسین ، ایم فل سکالر، شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد

تنویر انجم کی نظموں میں نسائی امتیاز  اور بیگانگی

Feminism and Alienation in the Poems of Tanveer Anjum

  Abstract

Alienation is a state of mind in which human being feels  that he has no connection with the people around him or that he or she is not part of a group. He feels himself lonely and helpless. This is a phenomenon of modern age that depicted in Modern Urdu poem very well. Tanveer Anjum is an Urdu Poetess. She has been writing poetry for a long time. Her first collection of poems was published in 1982. Feminism and alienation are notable trends in her poems. In this article feminism and alienation in the poems of Tanveer Anjum is presented.

Key words: Feminism, Alienation, Tanveer Anjum, Urdu Poem, Loneliness.

کلیدی الفاظ: تانیثیت، بیگانگی، تنویر انجم، اردو نظم،تنہائی

بیگانگی سے مراد فرد کی وہ ذہنی کیفیت  ہے جس میں وہ ہر چیز سے لاتعلق ہو جاتا ہے۔سماجی و معاشرتی قیود سے فرار حاصل کر کے اپنی ذات میں پناہ گزین ہو جاتا ہے۔وہ ہزاروں لاکھوں کے مجمعے میں خود کو تنہا اور بے یارو مددگار محسوس کرتا ہے ۔سماج میں ہونے والے اچھے یا برے واقعات بھی اسے متاثر نہیں کرتے ۔ہر معاملے سے لاتعلق اپنی ذات کا لاش اپنے کندھے پر اٹھائے پھر رہے ہوتے ہیں۔ بیگانگی کی اصطلاح بہت سے علوم میں مستعمل ہے۔فلسفہ ، نفسیات، سماجیات، معاشیات اور ادب میں اس اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وجودیت میں اس کے لیے Alienationکا لفظ استعمال ہوتا ہے۔اس صورتحال میں انسان کادوسرے فرد سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے ۔نفسی بے حسی کا دور دورہ ہوتا ہے جو انسان کو تنہائی اور اکلاپے کے کرب میں مبتلا کر دیتا ہے۔

جنسی بیگانگی میں مرد اور عورت کی عدم مساوات کی صورت میں جنسی امتیاز یعنی”جنڈر  ڈسکریمینیشن ” کی صورتحال میں عورت استحصال کا شکار ہوتی ہے۔ مگر یہ ہر طبقہ فکر یا ہر معاشرے کا مسئلہ نہیں ہے ۔  میل ڈومینینٹ معاشرے میں  مرد ، عورت حقوق کے استحصال کرتا ہے تو عورت میں بیگانگی کا احساس جنم لیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں معاشرے کی عورت اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتی ہے ۔  بدلہ ،بے چینی ،غصہ  اور اس طرح کی دیگر کیفیات ا سے الگ تھلگ اور تنہا زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔  مادیت پرست معاشرہ جس میں ہر ایک چیز کو صرف “صارف “کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ،  اپنے کاروبار کو مزید پرکشش بنانے کے لیے عورت کا استعمال کرتے ہیں ۔ وہ عورت کو بطور ” سیلز آفیسر” پیش کرتے ہیں تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ متاثر ہوں۔  معاشی دباؤ کے پیش نظر عورت  اس طرح کی نوکری قبول تو کر لیتی ہے مگر رفتہ رفتہ ذہنی دباؤ کا شکار ہونا شروع ہوتی ہے۔ نتیجتاً  اضطراب، اپنی بے حیثیتی جیسی کیفیات عورت کو بیگانگی کی طرف لے جاتی ہیں۔ شیلا گریگر لکھتی ہیں کہ :

“The most important change has been the way in which working class woman, never entirely absent from the production process. The majority of the women work outside the home. This economic independence of women from men underpins the rise in divorce. The decline of marriage and the increasing number of single-parent household.”)[i](

تنویر انجم(۱۹۵۶) جدید اردو نظم کی ایک نمایاں اور اہم شاعرہ ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ۱۹۸۲ میں ’’ان دیکھی لہریں‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ان کے سات شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کی نظموں میں عصرِحاضر کے انسان کے اہم مسئلے ’’احساسِ بیگانگی‘‘ کو بطور خاص موضوع بنایا گیا ہے۔ عصرِ حاضر کو اپنے ماحول سے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ وہ اپنے ماحول سے مطابقت قائم نہیں کر پایا۔ عدم مطابقت کی بہ صورت   حال فرد اور اس کے ماحول کے درمیان بیگانگی اور اجنبیت کی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ یہ کیفیت فرد کو احساسِ جرم کی صورت میں کرب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ تنویرانجم کی نظم میں تانیثیت کے حوالے سے معاشرتی ادراک بہت گہرا ہے۔ انہوں نے معاشرے میں عورت کا مقام پر بات کی ہے۔ مردغالب معاشرہ کس طرح عورت پر حاوی رہتا ہے اور اُسے اس کا اصل مقام و مرتبہ نہیں دیتا۔ تنویرانجم کی نظم اِس پر بحث کرتی ہے۔

         ان کی نظموں کے مطالعہ سے علم ہوتا ہے کہ  عورت کی اپنی ذات سے بیگانگی کا سبب یہ ہے کہ اُس کے دکھ درد بانٹنے والا کوئی نہیں ہے۔ اُسے اپنی تنہائی کا دکھ اکیلے برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اپنی یہ تنہائی اُسے لایعنی معلوم ہوتی ہے جو شاید عورت کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ ناصر عباس نیر لکھتے ہیں:

’’ایک نئی آ گہی اُن کی نظموں میں ظاہر ہوتی چلی گئی ہے کہ دنیا میں سب سے چھوٹی بڑی اشیاء آپس میں جڑی ہیں، لیکن انسان کی تنہائی اس کی تقدیر ہے۔‘‘([ii])

         اس کا مطلب ہے کہ انسان کی تنہائی اس کا مقدر ہے۔ فرد چاہ کر بھی اپنی تنہائی سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا۔ فرد کی یہی بے بسی اُسے بیگانہ ذات کرتی ہے۔ اپنے آپ سے بیگانہ شخص معاشرے سے بھی مطابقت Adjustment قائم نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی تنہائی پر قابو پانے کے لیے اپنی ذات سے جنگ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ذات سے کشیدگی یہ کرب اذیت ناک ہوتا ہے۔ اس کی اذیت اس کی لامحدودیت ہوتی ہے۔ اس تنہائی اور خود سے جاری جنگ کا کوئی مخصوص وقت طے نہیں ہے بلکہ یہ غیر متناہی کیفیت فرد کی ذات سے جڑی رہتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے دکھ اور کرب میں مزید پختہ ہوتی چلی جاتی ہے۔تنہائی کی یہ کیفیت نظم ’’ پہلے موسم کے بعد‘‘ میں نمایاں ہے:

’’آخری قدم کے آگے، دیوار کی اینٹیں چنتے چنتے رات ہو گئی

تو میں نے سوچا

جانے زنجیروں کا طول کون سے موسم سے کون سے موسم تک ہے

مگر آگے صرف لامحدودیت ہے

جس کی اینٹوں کا گارا

وقت کی مٹی سے بنا ہے

تنہائی کا پانی آخری قدم کے آگے دیوار کو مضبوط کر دیتا ہے۔‘‘([iii])

         حساس فرد کی تنہائی دیکھنے والے تو بہت سے لوگ ہوتے ہیں مگر اس کی تنہائی بانٹنے والا کوئی نہیں ہوتا۔تنویر انجم کے نزدیک تنہائی تو ازلی ہے۔ اپنی تنہائی سے چھٹکارا حاصل کرنے اور سماجی عمل کا حصہ بننے کے تمام طریقے عارضی ثابت ہوتے ہیں۔ وہ شخص جو اپنا بن کر تنہائی بانٹنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، وہ بھی عارضی ہوتا ہے۔ فرد کی یہ ازلی کیفیت ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ تقدیر فرد پر اپنی جبریت کا کھل کر اظہار فرد کی تنہائی کی صورت میں کرتی ہے۔ وقتی مشغلوں میں فرد کو لگتا ہے کہ اس نے اپنی تنہائی پر، اپنی ذات کی کشیدگی اور خود سے بیگانگی پر قابو پا لیا ہےمگر پھر قدرت اپنا کھیل رچاتی ہے اور فرد کی دوبارہ اس کی تنہائی سے دوچار کر دیتی ہے۔ نظم ’’تنہائی کی بے ایمان چیمپئن‘‘ میں تنویر انجم قدرت کے اس لیبر کو ’’سولیٹیئر‘‘ کھیل کے ذریعے‘‘ بیان کرتی ہیں:

’’ڈاکٹر مریض سے: آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟

مریض ڈاکٹر سے: میں سولیٹیئر کا چیمپئن ہوں

وہ اس لطیفے پربور ہونے کے باوجود

ہنس کر دکھاتی ہے

اور سولیٹیئر کھیلنا جاری رکھتی ہے

وہ کسی سے یہ نہیں کہتی

کہ سولیٹیئر میں زندگی کے برخلاف

اچھی بات یہ ہے

کہ ایک نامعلوم، غیرمرئی دشمن کے ساتھ

مکمل طور پر قسمت پر منحصر

تنہا بے معنی، لاحاصل مقابلے میں

اُسے بے ایمانی سے

کوئی روک نہیں سکتا۔‘‘([iv])

جز وقتی ہی سہی مگر فرد کوآزادی میسر آ جاتی ہے۔ وہ اپنے حریف کو مات دے سکتا ہے۔ یہ ’’غیرمرئی دشمن‘‘ دراصل فرد کی اپنی تنہائی جسے وہ جز وقتی مصروفیت میں خود سے الگ کر دیتا ہے۔ مگر آخر کار انسان کو تھک ہار کر واپسی اپنی اصل کی طرف آنا پڑتا ہے۔ ضرور پڑتا ہے۔ یہ تھوڑی دیر کی تسکین اور اپنی ذات کی بے گانگی سے نکلنے کا عمل محض کچھ وقت کا تماشا ہوتا ہے۔ ناصر عباس نیر اس نظم کے بارے میں کہتے ہیں:

’’سولیٹیئر اس لیے مختلف ہے کہ اس میں کوئی حریف نہیں ہوتا۔ کیسا پراڈکس ہے کہ کھیل بھی ہو اور حریف کے بغیر۔ سب فیصلوں کے اختیار، یہاں تک کہ قدری فیصلوں کا اختیار بھی، ایک ہی آدمی کے پاس ہے۔ ایسی پناہ گاہ، ایسا کھیل کس کا آدرش نہیں ہو گا۔۔۔ گہری نفسی سطح پر وہ ایک ایسی تنہائی سے دوچار ہے جسے کوئی بانٹ نہیں سکتا۔‘‘([v])

         تنویر انجم کے ہاں یہ تنہائی بالآخر اپنی ذات کے انکشاف کا باعث بنتی ہے۔ تنہائی فرد کے تمام دکھوں کا اس وقت مداوا ٹھہرتی ہے۔ جب انسان اس تنہائی میں خود کو پا لے۔ اپنی ذات سے ملنے کے لیے کبھی وہ تنہائی میں اپنا ہمزاد تلاش کر لیتا ہے تو کبھی اپنے ذہن سے ہم آہنگی پیدا کر لیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں اسے بیگانگی کی کیفیت سے چھٹکارا مل جاتا ہے اور فرد چاہتا ہے کہ اس کی بسائی ہوئی تنہائی کی اس دنیا میں اب کوئی بھی خلل ڈالنے والا نہ ہو۔ نظم ’’مرکزی کردار‘‘ یہ کیفیت ملاحظہ ہو:

’’چھوٹی سی تو ہے وہ

مگر نہیں ڈالنے دیتی مجھے

اپنی تنہائی میں خلل

مکمل طور پر آزاد

میری نفرت سے بھی

میری اصلی وارث

مگر مجھ سے کہیں زیادہ کامیاب

تنہائی کے فن میں‘‘([vi])

         اپنی تنہائی کی خفت مٹانے کے لیے فرد اپنے لیے خیالی پیکر تراشتا ہے۔ ایسے پیکر جو اس کی تنہائی میں اس کے مکمل ہمرازہوتے ہیں اور اس کی تنہائی کے عذاب کا دکھ بانٹ لیتے ہیں۔ تنویر  انجم نے بھی اپنی نظم میں نیلوفر کے کردار کو ایجاد کیا جو اس کی شخصی بیگانگی کو کم کر سکے۔ نیلو فر ایک ایسی علامتی کردار ہے جو فرد کو اس کی اپنی ذات سے بیگانگی سے بچانے کے لیے معاون ثابت ہوتا ہے۔ تنہائی سے فرار حاصل کرنے کے لیے شاعرہ نے  ایک خیالی ہمزاد تراش لیا ہے۔ نیلو فر یہی ہمزاد ہے۔ یہ کردار بیگانگی کے احساسِ جرم سے بچانے کے لیے ہوتا ہے۔ فرد کو اپنی تنہائی میں ایک بااعتماد خیالی امیر مل جاتی ہے جس کے سہارے وہ اپنی ذات میں مقید دن کاٹتا ہے۔ نظم ’’نیلوفر اور میں‘‘ میں تنویرانجم کہتی ہیں:

’’نیلوفر کو میں نے اس وقت تخلیق کیا جب تنہائی خوفناک اور ناقابل تسخیر ہو گئی۔ ایک ایسے دن کی کوکھ سے جسے ایک انتہائی تھکا دینے والے کام کے خاتمے نے اچانک بالکل خالی کر دیا گیا۔‘‘([vii])

         لیکن یہی وہ اظہار بھی کرتی ہیں کہ تنہائی سے اور اپنی ذات کی بیگانگی سے چھٹکارا پانے کی یہ تمام ترکیبیں عارضی ہیں۔ حقیقی زندگی میں یہ تمام خیال ٹوٹ جاتے ہیں اور فرد کو واپس تنہائی کے گہرے اندھیروں میں خوف کی زندگی بسر کرنی پڑتی ہے:

’’چوں کہ نیلوفر کی زندگی کا انحصار میری زندگی پر ہے اس لیے اپنے رہن سہن کے بنیادی وسائل حاصل کرنے کی خاطر مجھے اُس سے جدا ہونا ہی پڑتا ہے۔‘‘([viii])

         تنویرانجم کا زندگی کے نشیب و فراز کے بارے میں فہم و ادراک سماجی رویوں کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ عورت کو عام طور پر چاردیواری میں مقید ہو کر رہنا پڑتا ہے اور اُس کو سماج سے کٹ کر زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ اُسے سماج کے رویوں کا ادراک نہیں ہوتا۔ جب اِس گھر یلو  عورت کا واسطہ سماج سے پڑتا ہے تو دھوکہ فریب مطلب پرستی اور فائدہ اُٹھانے والے سماج سے بیزار ہو جاتی ہے۔ سماج اُس کے نزدیک صرف دوغلی چیز بن کر رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ سماج سے دوری اختیار کر لیتی ہے اور ’’سماجی بیگانگی‘‘ اُس پر طاری ہو جاتی ہے۔ سماجی المیہ یہ ہے کہ مرد کے پاس کتھارسس کے کئی مواقع موجود ہیں جبکہ عورت کے پاس سوائے گھر میں امورخانہ داری سرانجام دینے کے اور کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اگر وہ سماجی عمل کا حصہ بننے کے لیے سماج میں باہر قدم رکھتی ہے تو اُسے صرف تجارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ گھر سے باہر قدم رکھتے ہی اُسے جتنی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اُسے جذبات یا فرد کی صورت میں نہیں دیکھا جاتا بلکہ اُسے محض جسم کی صورت میں دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔ ’’صارفیت‘‘ کے اس عہد میں اُس کے جسم کو اشیائ کی خرید و فروخت کے استعمال کیا جاتا ہے اور عورت کی حیثیت بھی صرف اس کے جسم کی قیمت تک محدود رہ جاتی ہے تنویر انجم ایسے سماج کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے عورت کو صرف جسم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک فرد کی حیثیت سے آشنا کروانا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں:

’’میں کہتی ہوں

میں نے ایک طویل سفر کیا

تم سے ایک معمولی بات کی وضاحت کے لیے

کہ میرے جسم کا شمار اُن چیزوں میں نہیں

جن کی فروخت، چوری یا تبادلہ ممکن ہوتا ہے‘‘([ix])

         تجارت کے دو ہی طریقے ہیں خرید و فروخت اور تبادلہ۔ کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کا تیسرا طریقہ چوری ہے۔ تنویرانجم عورت کے جسم اور جذبات کی تجارت کو فرد کی بے قیمتی کہتی ہیں۔ عورت کی قدر اگر حرف تجارت کی غرض سے سماج میں ہو رہی ہو تو وہ اپنے آپ کو سماجی عمل سے الگ کر کے سماجی بیگانگی کے احساس جرم میں چلی جاتی ہے۔

         عورت جب دیکھتی ہے کہ مرد کو اس کے جسم کے سوا کوئی چیز عزیز نہیں۔ مرد اس کے احساسات و جذبات کی قدر نہیں کہ محض اُس کے جسم سے فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے تو وہ اپنی اس مخالف صنف کے خلاف ردِّعمل کا اظہار کرتی ہے۔ یہ ردِعمل سماج سے علاحدگی یا مرد سے نفرت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ نظم ’’انسان اور دوسرے انسان‘‘ سے کچھ مصرعے ملاحظہ ہوں:

’’میں سمجھتی ہوں

وہ سمجھتے ہیں

کہ میں انہیں انسان نہیں سمجھتی

وہ سمجھتے ہیں

میں سمجھتی ہوں

کہ وہ مجھے انسان نہیں سمجھتے‘‘([x])

مختصر یہ کہ تنویر انجم کی نظموں میں تانیثی مسائل   بھوک، عدم مساوات، تنہائی، شناخت اور عورت کے ہر طرح کے استحصال  کو موضوع بنایا گیا ہے۔ان کی نظموں میں عورت کے مردوں کے مساوی حقو ق کی بات کی گئی ہے۔ ان کی نظموں میں ایک ایسی عورت کا تصور ملتا ہے جو آزاد اور خود مختار عورت ہے۔ جسے صرف جسم نہیں سمجھا جا سکتا جو مکمل انسان ہے۔مشرقی اور روایتی عورت کے تصور کو یہ رد کرتی ہیں اور ہر طرح کے صنفی امتیاز کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتی ہیں۔

حوالہ جات

ْ[i].      Shiella McGregor, sexuality, Alienation and Capitalism, ISJ, issue 130

[ii] ۔    ناصر عباس نیر، دیباچہ: مشمولہ :نئی زبان کے حروف،کراچی : واحد آرٹ پریس،2020ء،  ص:32
[iii] ۔    تنویرانجم، نئی زبان کے حروف، ص:39
[iv] ۔    ایضاً، ص:180
[v] ۔     ایضاً، ص:32
[vi] ۔    ایضاً، ص:273
[vii] ۔   ایضاً، ص:111
[viii] ۔  ایضاً، ص:111
[ix] ۔    ایضاً، ص:124
[x] ۔     ایضاً، ص:277

2 thoughts on “تنویر انجم کی نظموں میں نسائی امتیاز  اور بیگانگی”

  1. shahid Hussain

    A great research work. A brief account of the subject matter.Really helpfull for upcoming researchers

  2. Now a day ,we can see the discrimination and faviroutism in every field of life.so it is irigate in our communities.The great man could be try to eridicate it.If we see religiously this discrimibation word have not meant in Islam. here i put a question,
    How can we eridicate “gender discrimination”and also how can improve it?

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *