جدید طریقۂ تدریس: ایک جائزہ

راشدہ حیات ریسرچ اسکالر،شعبۂ اردو، الہ آباد یونیورسٹی

جدید طریقۂ تدریس: ایک جائزہ

 

غضنفر ایک ہمہ جہت ادیب ہیں۔ انھوںنے ناول بھی لکھے ہیں اور افسانے بھی۔ خاکے بھی تحریر کیے ہیں اور ڈرامے بھی۔ شاعری بھی کی ہے اور مضمون نگاری بھی۔ ایک انفرادیت ان کی یہ بھی ہے کہ انھوں نے تدریسی نوعیت کے مضامین بھی قلم بندکیے ہیں جو زبان و ادب کے درس و تدریس کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں اور طلبہ و اساتذہ دونوں کی رہنمائی کا کام انجام دیتے ہیں۔ ان کے معاصرین میں ایسا کوئی بھی ادیب نظر نہیں آتا جو مختلف ادبی شعبوں بیک وقت اتنے سارے اہم اور کامیاب مضامین تحریر کیے ہوں۔ غضنفر کی ناول نگاری اور ان کی افسانہ نگاری پر تو بہت کچھ لکھا گیا، ان کے فکشن پر تقریباً ایک درجن کتابیں لکھی جاچکی ہیں اوراس سے زیادہ تحقیقی مقالے مختلف یونیورسٹیوں میں سپرد قلم کیے جا چکے ہیں اور سلسلہ ہنوز جاری ہے مگر جہاں تک میری معلومات ہے غضنفر کی ان تحریروں پر ابھی پوری طرح بات نہیں ہوسکی ہے جن کا تعلق درس و تدریس سے ہے۔ جبکہ ان کی تدریسی نوعیت کی تحریریں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ان پر تفصیلی گفتگو کی جائے، ان کا محاکمہ کیا جائے اور ان کی قدر وقیمت کا تعین بھی کیا جائے۔ جتنی سنجیدگی سے غضنفر فکشن لکھتے ہیں اتنی ہی سنجیدگی سے وہ علمی کام بھی کرتے ہیں خصوصاً زبان و ادب کے سلسلہ میں تدریسی نوعیت کے کاموںپر وہ کافی توجہ فرماتے ہیں۔ ان کی اس سنجیدہ روی کا ثبوت ان کا وہ رسالہ بھی ہے جسے انھوںنے اپنی ملازمت کے دوران جاری کیا۔ ا نھوں نے ’’تدریس نامہ‘‘کے عنوان سے تدریسی نوعیت کا ایک ایسا رسالہ نکالا جو ان سے پہلے اس طرح کا مجلہ کہیں بھی نظر نہیں آیا۔ اس رسالے کی خاص بات یہ تھی کہ زبان وادب کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کیا جاتا تھا اور متن کی تشریحیں اتنی مدلل، آسان اور دلچسپ انداز میں کی جاتی تھیں کہ طلبہ اساتذہ کے تعاون کے بغیر بھی زبان و ادب کے بہت سے نکات آسانی سے سمجھ جاتے تھے۔ انھوںنے درس وتدریس کے موضوع پر چار کتابیں تحریر فرمائیں، (1)لسانی کھیل(2)زبان و ادب کے تدریسی پہلو (3)تدریس شعر و شاعری(4)جدید طریقہ تدریس۔ جدید طریقۂ تدریس 2019میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی سے شائع ہوئی۔ اس موضوع پر اپنی نوعیت کی یہ کتاب ایک اہم اور منفردہے۔ اس کتاب کی کیا نوعیت ہے اور اس میں کس طرح کے مضامین شامل ہیں اس کا اندازہ ان کی فہرست سے لگایا جاسکتا ہے۔ آپ کی آسانی کے لیے اس کتاب کے مشمولات درج کیے جارہے ہیں: 1۔بچوں کو اردو سکھانے کا جدید طریقہ 2۔زبان و ادب کی تدریس کا جدید طریقۂ کار 3۔خاکۂ نصاب کا ایک لازمی جز: مشق 4۔خاکۂ نصاب کا ایک اہم پہلو: مشکل الفاظ 5۔تدریسی فضا اور شعری ذرائع 6۔تدریسی فضا اور دیگر ذرائع 7۔تحریری مہارت کے فروغ کا طریقۂ کار 8۔تدریسِ نظم کا طریقۂ کار 9۔اردو درس و تدریس میں لغات کا کردار 10۔تشریح کی تدریس کا طریقۂ کار 11۔تحقیق کیسے کریں؟ 12۔افسانہ کیسے پڑھیں 13۔مختصر افسانہ: فن اور ارتقا 14۔کفن کو کیسے سمجھیں؟ 15۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کو کیسے سمجھیں؟ 16۔زبان و بیان میں ا ضافت کا کردار 17۔تلفظ پر قابو کیسے پائیں؟ 18۔سبق کا ایک نمونہ 19۔دانش مندی بمعنی کتاب دانی اس کتاب میںشامل یہ انیس مضامین رسم خط، املا، انشا، تلفظ، طریقۂ کار، منصوبہ بندی، نصاب، خاکۂ نصاب، مشق، زبان و ادب کی تقریباً تمام تدریسی پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم کو بہتر بنانے اور اساتذہ کی تربیت کے لیے یہ کتاب کتنی اہم اور ضروری ہے۔ زبان کی تدریس میں مہارتوں کی نوعیت کیا ہوتی ہے۔ کون سی مہارت کس طرح فروغ پاتی ہے۔ اس کی تدریس کے رہنما اصول کیا ہوتے ہیں۔ہر ایک مہارت کے عملی نمونے کس طرح تیار کیے جاتے ہیں۔ کس سطح پر کس طرح کی مشق کی ضرورت پڑتی ہے۔ کس کس طرح کی مشقیں ہوتی ہیںجو املا، تلفظ،تفہیم،تحسین ، تنقید وغیرہ کے فروغ میںمعاون ہوتی ہیں اور جن سے پتا چلتا ہے کہ طلبہ کے سیکھنے کی رفتار کیا ہے اور کس کس طرح کی رکاوٹیں ان کی راہ میں حائل ہیں اور ان کو دور کرنے کا کیا طریقہ سوچا جاسکتا ہے۔ اس کتاب میں درس و تدریس کے مختلف طریقوں کے اصول مرتب کیے گئے ہیں اور ان کے عملی نمونے بھی پیش کیے گئے ہیں تاکہ ان کی مدد سے اساتذہ اور طلبہ دونوں اپنی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں۔ ان سے یہ بھی ا ندازہ ہوتا ہے کہ کس سطح پر کون سا طریقہ زیادہ مفید اور مؤثر ہوسکتا ہے۔ نصابات میںکھیل کی کیا اہمیت ہوتی ہے، اس جانب بھی غضنفر صاحب نے روشنی ڈالی ہے کہ کھیل کھیل میں بچوں کو اردو کس طرح پڑھائی جاسکتی ہے۔ مشمولات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ غضنفر نے ابتدائی درجات سے لے کر ریسرچ اسکالرز تک کے مسائل پر نظر رکھی ہے۔ یہاں تک کہ اساتذہ کی رہنمائی کے لیے بھی کچھ اصول مرتب کیے ہیں اور عملی نمونے بھی پیش کیے ہیں جن کی مدد سے اسباق کی منصوبہ بندی آسانی سے کی جاسکتی ہے اور باقی اسباق کی تیاری میں ان اصولوں اور نمونوں سے کام لیا جاسکتا ہے۔ تلفظ سکھانا یا تلفظ پر قابو پانا سب سے مشکل مسئلہ ہوتا ہے اس لیے اس موضوع پر کوئی ٹھوس مواد نہیںملتا۔ غضنفرکی یہ کتاب اس مسئلے کا حل بھی پیش کرتی ہے۔ غضنفر نے تلفظ پر قابو پانے کے کچھ ایسے مفید اور کارگر نمونے پیش کیے ہیں کہ ان کی مدد سے ہم اردو کی تمام مشکل آوازوں کی ادائیگی پر قابو پاسکتے ہیں اور بولنے کی سطح پر اپنی زبان کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ کفن اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تدریسی نمونے نہ صرف یہ کہ ان افسانوں کو پڑھانے میں ہماری مدد کرسکتے ہیں بلکہ ان کی روشنی میں ہم دوسرے افسانوں کو بھی آسانی سے پڑھا سکتے ہیں اور اساتذہ کی غیر موجودگی میںطلبہ ان افسانوں کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ لغت ہماری تدریس میں کیا کردار نبھاتی ہے، اس پر بہت کم غور کیا جاتا ہے مگر غضنفر نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ لغت کے استعمال سے ہم اپنی درس و تدریس کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہ کتاب ایک طرح سے ایک ایسا انسائیکلوپیڈیا ہے جس کی مدد سے ہم درس و تدریس کے بہت سارے بنددروازوں کو کھول سکتے ہیں۔ غضنفر نے اس کتاب کی تیار ی میں اس بات کا بھی خیال رکھا ہے کس سطح پر کس طرح کی زبان کی ضرورت پڑتی ہے اور ایک بات پر خاص طور سے زور دیا ہے کہ اساتذہ کی زبان آسان، مدلل اور دلچسپ ہونی چاہیے۔ اس سلسلہ میں مناسب لگتا ہے کہ میں غضنفر کا ہی ایک اقتباس نقل کرکے اپنی بات ختم کروں۔غضنفر لکھتے ہیں : ’’ایک ا یسا طریقۂ تدریس تلاش کیا جائے جو مرحلہ وار، آسان، وضاحتی، استدلالی اور دلچسپ ہو۔ اس طریقۂ کار کی ان خصوصیات کو ایک لفظ ’’ماواد‘‘ سے یاد رکھا جاسکتا ہے۔م واد یعنی م= مرحلہ وار ۱=آسان و= وضاحتی ا= استدلالی د= دلچسپ یہ وہ منترہے جن کے استعمال سے متن اپنے تمام ترمعانی اور محاسن کے ساتھ سامنے آسکتا ہے۔ اور نہایت سہج اور پر اثر انداز سے طلبہ کے دل و دماغ تک پہنچ سکتا ہے۔‘‘

***

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *