جون ایلیا کی نظم نگاری

محمد ارشاد

ریسرچ اسکالر

شعبۂ اردو، کلکتہ یونیورسٹی

جون ایلیا کی نظم نگاری

جون ایلیا پر بات کرتے ہوئے عرفان ستار نے کہا تھا کہ ’’ جون ایلیا تقسیم ہندوستان کے بعدسے آج تک کے سب سے بڑے شاعروں میں سے ایک ہیں‘‘(۱)۔ عرفان ستار بذات خود ہمارے معتبر شاعروں میں شمار کئے جاتے ہیں اسی لئے جون پر ان کے بیان کو محض جذبات کی فراوانی کا اثر یا تاثراتی نہج کا بیان ہر گز نہیں کہہ  سکتے۔ مذکورہ بیان کو ذہن میں رکھتے ہوئے جون کا مطالعہ کریںتوجو چیز ہمارے ہاتھ لگتی ہے اس کا سرا غالبؔ تک جاتا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ دیگر شعرا کی طرح جون کے یہاں مافیہ کے اظہار کے لیے مرور ایام کے ساتھ اسلوبیاتی سطح پر کوئی بڑی اور واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔ غالبؔ کی طرح انہوں نے بھی اپنا بہتر ین اسلوب (کم از کم نظموں میں) اپنی شاعری کی ابتدا ہی میں پالیا تھا۔ جہاں تک موضوعات کے انتخاب اور مضامین کے برتنے کا سوال ہے ابتدائی زمانے کی تیرہ نظموں میں ’’دو آوازیں‘‘ ، ’’عہد زنداں‘‘ ، ’’داغ سینہ‘‘، ’’وقت‘‘وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جن کو کسی نو وارد ادب کی نو مشقی بالکل بھی نہیں کہا جا سکتا ۔

 جونؔ کی غزلوں پر بات کرتے ہوئے میں نے کہیں کہا تھا کہ غزل کے معاملے میں جونؔ نے چارو نا چار غالبؔ کے اسلوب سے بہت حد تک استفادہ کیا ہے  نیز غزلوں میں جونؔ اور مجازؔ کے درمیان تلاش معنی و مضمون کے سلسلے میں ایک طرح کی مماثلت ہے ۔ غزلوں میں مجازؔ کے اسلوب سے جون کے اسلوب کا کوئی علاقہ نہیں ہے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ جون کا نظمیہ اسلوب مجازؔ کی نظموں کے اسلوب سے قریب ہے ممکن ہے کہ انہوں نے لاشعوری طورپر مجازؔ کے اسلوب کی تقلید کی ہو۔ اگلی بات دونوں کے یہاں نظموں میں واحد متکلم کے ذریعہ بیانیہ کا انداز ہے۔ مجاز کی ’’بربط شکستہ‘‘ ، ’’اعتراف‘‘، ’’مجھے جانا ہے اک دن‘‘، ’’آج‘‘ وغیرہ کے بعد جون کی ’’شاید‘‘ ، ’’قطع‘‘ ، ’’دریچہ ہائے خیال‘‘، ’’سوفسطا‘‘ ،’’معمول‘‘،’’ شہید چوک‘‘، ’’رشتئہ آدم و حوا‘‘ ، ’’ سراغ‘‘  وغیرہ کو دیکھئے اسلوبیاتی سطح اور واحد متکلم کے ذریعہ بیانیہ کے معاملے میں جون ،مجاز کے آس پاس ہی نظرآئیں گے۔پھردونوں شاعروںنے ترقی پسند نظریات سے اپنی نسبت کا اعلان جس طمطراق سے کیاتھا، غزلوں کی حد تک دونوں ہی اس اعلان سے پہلو تہی کرتے نظر آئے تاہم اپنی نظموں میں دونوں نے ایفائے وعدہ کیا یعنی دونوں شاعروں کی نظموں میں ہمیں ترقی پسند عناصر کی دریافت میں زیادہ دشواری نہیں ہوتی۔

جانے کب سے

مجھے یاد بھی نہیں جانے کب سے

ہم یک ساتھ گھر سے نکلتے ہیں

اور شام کو

ایک ہی ساتھ گھر لوٹتے ہیں…         (معمول)

خزاں نے شام گزاری ہے ، میرے منظر میں

مرے تمام پرندے، تمام ہرکارے

مرے گمان کی سمتوں سے لوٹ آئے ہیں …    ۔(سراغ)

کلیات جون کا شاعر مجموعی طور پر ایک تجربہ کوش ذہن رکھتا ہے۔ تاہم اس کے غزل گو اور نظم نگار میں ہمیں ایک واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔ یہ فرق تجربہ کوشی کی نوعیت کا فرق ہے یعنی کلیات کا غزل گو معنی آفرینی کے لیے حتی المقدور کوششیں کرتا ہے، زبان و بیان کے کسی غیر معمولی استعمال کے بغیر بھی وہ نئے امکانات دریافت کرتا ہے اور قارئین کو سکتے میں ڈال دیتا ہے لیکن کلیات کا نظم نگار اپنے تجربے کی مختلف نوعیت رکھتا ہے۔جون کے پہلے مجموعے ’’شاید‘‘ کی کل سینتیس (37) نظموں میں انہوں نے ایسی کم نظمیں کہی ہیں جو موضوع کے اعتبار سے بالکل نئی ہوں ان نظموں میں جو بات اہم ہے وہ یہ کہ یہاں اظہار بیان کے لیے جس زبان اور جس طرح کی ترکیبوں اور اسلوب کا سہارا لیاگیا ہے وہ قابل ِ غور ہیں ۔ ’’جشن کا آسیب‘‘ کا آخری حصہ دیکھئے:

شمار لمحہ و ساعت سے بیگانہ فضا میں

اک صدائے پرفشانی کو نداٹھتی ہے

کوئی طائر فضا میں سایہ آسا تیر جاتا ہے

سگانِ زرد کا اک غول اک کوچے سے نکلا ہے

وہ تیزی سے گزر جاتے ہیں

وہ اور ان کے سایے بھی

سکوت بیکراں میں سہ پہر کا چوک ویران ہے

یا ’’رمز ہمیشہ‘‘ کا یہ ٹکڑا

دہر دہر اور دیوم دیوم میں

اب عدم در عدم کے سوا کچھ نہیں

اے خدا وند تو کیا ہوا

مجھ کو تیرے نہ ہونے کی عادت نہیں

وائے بر حالِ ژرفا و بالا و پنہا!

دریغا! سبب ہر مسبّب سے اپنے جدا ہوگیا

حسرتا! کہکشاؤں کے گلّوں کا چوپان کوئی نہیں

شاعر کے سلسلے میں ایلیٹ نے کہا تھا کہ شاعر کی تین آواز یں ہوتی ہیں۔ پہلی وہ جس میں شاعر خود کو مخاطب کرتا ہے، دوسری وہ جس میں دوسروں کو مخاطب کرتا ہے اور تیسری وہ جس میں وہ کسی شخص ِ غیر کی زبان میں گفتگو کرتا ہے۔ اگر کسی شاعر کے کلام میں تیسری آواز محسوس کی جائے یعنی کسی شخص غیر کی زبانی موضوع آگے بڑھے اور یہ شخص غیر الگ الگ نظموں میں اپنی شخصیت کو بدلے یعنی جس شخصِ غیر کی زبانی شاعر گفتگو کر رہا ہے وہ کوئی ایک فرد نہ ہو بلکہ موضوعات کے اعتبار سے الگ الگ کردار ہوں تو شاعری میں یہ عمل ڈرامائی خود کلامی Dramatic Monologue کہلاتا ہے۔ جون کے یہاں ڈرامائی خود کلامی کااحساس بہت کم ہوتا ہے۔ ان کے یہاں ایلیٹ کی پہلی اور دوسری آوازوں کی باز گشت ہی محسوس کی جاتی ہے۔ ان کی نظموں میں جو فرد ابھرتا ہے وہ ایک ہی فرد ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ یہ فرد اپنا تشخص تبدیل کرتا ہے لیکن جہاں کہیں بھی جون کا فرد تبدیلی کے مرحلے سے گزرتا ہے وہاں متن میں ڈرامائی خود کلامی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بہر حال ایلیٹ کی پہلی اور دوسری آوازوں کی مثالیں دیکھئے :

تم جب آؤگی تو کھویا ہوا پاؤگی مجھے

میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

میرے کمرے تو سجانے کی تمنا ہے تمہیں

میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

ان کتابوںنے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر

ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن

مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا

زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا۔۔۔(رمز)

سنا ہے تم نے اپنے آخری لمحوں میں سمجھا تھا

کہ تم میری حفاظت میں ہو، میرے بازوئوں میں ہو

سنا ہے بجھتے بجھتے بھی تمہارے سرد و مردہ لب سے

ایک شعلہ، شعلئہ یاقوت فام و رنگ و امیدِ فروغ زندگی آہنگ لپکا تھا

’’ ہمیں خود میں چھپا لیجیے‘‘

یہ میرا وہ عذابِ جاں ہے جو مجھ کو

مرے اپنے خود اپنے ہی جہنم میں جلاتا ہے…  (قاتل)

بوئے خوش ہو ، دمک رہی ہو تم

رنگ ہو اور مہک رہی ہو تم

 بوئے خوش ! خود کو رو برو تو کرو

رنگ ! تم مجھ سے گفتگو تو کرو۔۔۔۔       (دوئی)

ان تینوں مثالوں میں جو چیز مشترک ہے وہ یہ کہ یہاں جو آواز ابھر رہی ہے وہ کسی عاشق مہجور کے دل کی آواز ہے۔ ان نظموں کے علاوہ ’’ نقش کہن‘‘، ’’ بت شکن‘‘، ’’تم مجھے بتائو تو… ‘‘، ’’ فارہہ‘‘ وغیرہ میں بھی ڈرامائی خود کلامی کا احساس ہوتا ہے۔

جون کو میں نے پہلے بھی انکار ی شاعر کہا ہے۔ وہ ہر کائناتی مظہرکا ضد کی حد تک انکاری ہیں۔ غزلوں میں یہ انکار شدید تر جھنجھلاہٹ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے لیکن نظموں میں کسی وجود و شے سے انکار کی یہ شکل برجستہ نہیں ہوتی بلکہ جون پہلے فضا تیار کرتے ہیں اس کے بعد اپنے ا نکار کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ظاہر ہے غزل جیسی ایمائیت اور رمزیت سے بھرپور صنف میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ شاعر کسی شے کے انکار کے لئے تفصیلی جواز فراہم کرسکے۔ جون کے ’’بنیادی انکار‘‘ کے سلسلے میں خود ان کے الفاظ دیکھئے :

’’میں اپنے مزاج میں شروع ہی سے ایک نفی پسند (Nihilist) اور فوضوی(Anarchist) تھا۔ میں کسی بھی ضابطے اور قاعدے کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔ اس کی ایک نفسیاتی وجہ یہ بھی تھی کہ تمام ضابطے اور قاعدے انگریز سرکار اور اس کے دلال جاگیرداروں، تعلقہ داروں، رائے صاحبوں، خان بہادروں اور سبک سر ،سروں کو راس آتے تھے۔‘‘(۲)

یہ جون کا ابتدائی انکار ہے جو برطانوی حکومت کے خلاف تھا لیکن آزادی کے بعد پاکستان میں ان کے یہاں جس انکار نے سراٹھایا اس کی وجہ وہ نظام ہے جسے سماج نے ہی خلق کیا تھا۔ وہ کسی بھی طرح کے دکھاوے یا ریا کاری کے موکل نہیں تھے۔ سماج جن ریاکاریوں کا عادی بن چکا تھا وہ اس سے بیزار تھے۔ ریاکاری میں ہمارا گمان ہوتا ہے کہ ہم دوسروں کو حقیقت سے دور رکھ رہے ہیں لیکن معاملہ اس کے بر خلاف ہے ریاکاری سے انسان دوسروں کو کم اور خود کو زیادہ دھوکے میں رکھتا ہے ۔ جون چوں کہ ایک حقیقت پرست شاعر ہیں اسی لیے وہ ریاکاری سے گریزاں اور نالاں ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں حقیقتوں کا برملا اظہار کسی مصلحت پسندی کی نذر نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے حسن و قبح سے خوب واقف ہیں چوںکہ حسین تجربات کا بیان دوسروں کے یہاں آسانی سے دستیاب ہے اسی لیے انہوں نے زندگی کی قبا کو چاک کر کے اس کے کریہہ اور قبیح پہلوئوں کو اجاگر کرنے میں خود کو معمور رکھا۔ زندگی کے قبیح پہلوئوں کا بیان بھی دراصل ان کے بنیادی انکار کا ہی منتج ہے جس کی رو سے زندگی کے حسین مناظر اور طرب آمیز لمحات خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی نظم ’’بے اثبات‘‘ میں انسانی وجود کی اہمیت سے انکار کا بیان ہے، ’’رمز ہمیشہ ‘‘ میں تعقلا نہ طویل جواز کے بعد خدا کا انکار، ’’برج بابل‘‘ میں آرام پسند خدا کا انکار، ’’معمول‘‘ میں انسانی جذبات اور رشتوں کا تجربہ کرنے کے بعد انکار، ’’دوئی‘‘ میں محبت سے انکار لیکن اس انکار کا جواز بھی فراہم کیا گیا ہے۔

کس کو فرصت کہ مجھ سے بحث کرے

اور ثابت کرے کہ میرا وجود

زندگی کے لیے ضروری ہے۔۔۔(بے اثبات)

فضائے نیلگونِ آسماں ہے اور میں ہوں

      اور وہ سب کچھ نہیں ہے جو کبھی تھا

اور وہ جو ہو بھی سکتا تھا مگر اک وہم ہی تھا

اور اب تو خود سے اک بیگانہ واری ہے

                بلا کی دم گزاری ہے

              کہ بُودش زخم کاری ہے

(پہنا، درازا اور ژرفا)

ایک بات یہاں عرض کرنی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جون کے جس بنیادی انکار کو ہم ’’شاید‘‘ میں دیکھتے ہیں وہ ان کے دیگر مجموعوں تک آتے آتے ماند پڑنے لگتا ہے حتیٰ کہ ’’ لیکن‘‘ اور ’’ گویا‘‘ میں صرف ایک ایک نظم باالترتیب ’’بے معنی‘‘ اور ’’ زمان‘‘ ہی ملتی ہیں جنہیں ہم جون کے بنیادی انکار کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔

جون ایلیا ایک تعقل پسند شاعر ہیں۔ ہر نظام کو وہ عقل کی میزان پر تولتے ہیں۔ اس کے بعد ہی وہ کسی معاملے میں اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ وہ بلراج کومل کی طرح جذباتی نہیں ہیں جو صبح اٹھ کر بارش کے جمے ہوئے پانی میں بچے کی کشتی دیکھ کر جذبات سے مغلوب ہو جائیں یا کسی ’’ننھا سہ شوار‘‘ کو اپنی پشت پر بٹھا کر رشتوں کی انبساط میں کھو جائیں۔ وہ اپنی نظموں میں ہمیں بانیؔ کی طرح چونکاتے بھی نہیں ہیں (چونکنے کی لذت سے وہ اپنے قارئین کو اپنی غزلوں میں آشناکراتے ہیں) وہ فیضؔ کی طرح اپنے قارئین کو ایک نرم اور نیم گرم فضا میں بھی نہیں لے جاتے۔ ان کا طریقہ مختلف ہے۔ وہ اپنی منزل سے باخبر ہیں منزل تک پہنچنے کا راستہ بھی ان کا دیکھا بھالا ہے۔ نجی زندگی کے معمولی تجربات انہیں اس حد تک متحرک نہیں کر سکتے کہ وہ ان تجربات کی تحریک سے ایک نظم کہہ ڈالیں۔ حالاں کہ زندگی کے عام واقعات سے شاعری کے مضامین کشید کرنا کوئی عیب ہرگز نہیں ہے۔ وہ جب غزل کہتے ہیں تو خوب سمجھتے ہیں کہ انہیں کن موضوعات کو بیان کرنا ہے اور ان موضوعات کے لیے انہیں کس طرح کے اسلوب کی ضرورت ہے۔ وہ جب نظموں کی طرف آتے ہیں تو ان کا اسلوب ، موضوعات کے اعتبار سے زبان کا استعمال اور شاعرانہ اظہار کے تمام وسیلے یکسر بدل جاتے ہیں۔ جون کی نظمیں ہمیں جذباتی کم اور تعقلاتی سطح پر زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ مضمون آفرینی کی تلاش کے سلسلے میں آپ غزل کے جون اور نظم کے جون کو ایک سمجھ سکتے ہیں لیکن اظہار ِ بیان یا زبان کے خلاقانہ استعمال کے سلسلے میں ہمیں نظم کا جون غزل کے جون سے زیادہ قابل اور تجربہ کوش نظرآتا ہے۔ ’’زبان کے خلاقانہ استعمال‘‘ سے آپ پرہرگز یہ گمان نہ گزرنا چاہیے کہ میں عربی، فارسی و ترکی کے ادق الفاظ اور عسیر الفہم تراکیب سے مرعوب ہو کر جون کے سلسلے میں اس طرح کی رائے قائم کر رہا ہوں۔ بات صرف اتنی ہے کہ جس طرح کے تاریخی اور فلسفیانہ مضامین کو جون باندھ رہے تھے اس کے لیے زبان و بیان کے سیاہ و سفید سے مکمل واقفیت انتہائی ضروری تھی۔

اردو میں کم شعرا ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری میں باضابطہ کسی فلسفے کو بیان کیا ہو۔ اس مقام پر ’کم‘ کا لفظ بھی شاید لغویات میں شامل ہو کیوں کہ ہمارے یہاں صرف اقبالؔ ہی اکیلے ایسے شاعر نظرآتے ہیں جنہوں نے شاعرانہ جمالیات و شعریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی شاعری میں فلسفوں کو راہ دی۔ بہت سے شعرا ایسے بھی ہوئے جو شعر میں فلسفے کو بیان کرتے وقت شاعرانہ تقاضوں کو پورا نہ کر سکے لہٰذا ان کی شاعری فلسفے والی پھسپھسی شاعری کہلائی۔بہتوں نے علم فلسفہ سے دلی رغبت ہونے کے باوجود بھی کسی طرح کا خطرہ مول لینا مناسب نہ سمجھا اور شاعری میں فلسفے کی آبپاشی سے خود کو دور رکھا۔ جون ہمارے ایسے شاعر ہیں جو فلسفے کے کئی اسکولوں سے واقف ہیں۔ اشتراکی فلسفۂ حیات کو وہ زندگی کے دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ ادب کے لیے بھی ضروری سمجھتے تھے لیکن فن کے تقاضوں سے مکمل آگہی اور شاعرانہ جمالیات تک ان کے ذہن کی رسائی نے کسی بھی طرح کے ادبی ہیجان سے انہیں باز رکھا گویا وہ چاہ کر بھی اشتراکی شاعر نہ بن سکے۔ ان کے یہاں ’’دو آوازیں‘‘، ’’شہر آشوب‘‘، ’’اعلان جنگ‘‘، ’’سر زمین خواب و خیال‘‘، ’’آزادی‘‘وغیرہ نظموں میں ہی اشتراکی فلسفہ شاعری کا احساس ہوتا ہے۔ ’’شہر آشوب‘‘ میں یہ احساس اتنہائی نرم ہے لیکن ’’اعلان جنگ‘‘ اور ’’دوآوازیں‘‘ تک آتے آتے اس نرمی نے شدت اختیار کر لی ہے۔ جون نے بار کلے، ڈیوڈہیوم، بیکن، پلوٹی نس وغیرہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا ان ہی فلسفیوں کی برکت ہے کہ ان کی نظموں میں جگہ جگہ فلسفیانہ خیالات درآئے ہیں یا کبھی کبھی پوری نظم فلسفے کی نذر کر دی گئی ہے لیکن ایسا کہیں نہیں ہوا ہے کہ محض فلسفیانہ کاشت کاری کے لیے فنی اصولوں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہو۔ جون کے فلسفیانہ بیانات بھی جمالیاتی اصولوں کے پابند نظرآتے ہیں اور اقبالؔ کے بعد جون ہی ہمارے واحد شاعر ہیں جنہوں نے اپنے فلسفیانہ نظریات کی ترسیل مکمل طور پر فنی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کی۔ ان کی نظم ’’فیصلہ‘‘ اور ’’ اعلانِ جنگ‘‘ کے ابتدائی مصرعے دیکھئے جن میں کسی بھی طرح فن کو طرح نہیں دی گئی ہے ۔

چار سُو مہرباں ہے چوراہہ

اجنبی شہر، اجنبی بازار

میری تحویل میں ہیں سمتیں چار

کوئی رستہ کہیں تو جاتا ہے

چار سُو مہرباں ہے چوراہہ    ۔۔۔۔۔(فیصلہ)

سفید پرچم ، سفید پرچم

یہ ان کا پرچم تھا جو شکاگو کے چوک میں جمع ہو رہے تھے

جو نرم لہجوں میں اپنی محرومیوں کی شدت سمو رہے تھے

کہ ہم بھی حق دارِ زندگی ہیں مگر  دل افگارِ زندگی ہیں

  ہمارے دل میں بھی کچھ امنگیں ہیں ہم بھی کچھ خواب دیکھتے ہیں

خوشی ہی آنکھیں نہیں سجاتی ہے ، غم بھی کچھ خواب دیکھتے ہیں…(اعلان جنگ)

جون جس زمانے کی پرداخت ہیں اس میں شعوری کوشش کے تحت نظم نگاری کی تبلیغ کی گئی۔ سارا کا سارا ترقی پسند ادب نظموں کی ہی وکالت کرتا رہا۔ اس کے ابتدائی منبعوں سے نظموں کے ہی دھارے پھوٹے۔ ترقی پسند حضرات نے ایسا کیوں کیا؟ یہ سوال ابن صفی کے جاسوسی ناولوں میں پائے جانے والے اسرار کی طرح نہیں ہے بلکہ ان کی نوعیت پریم چند کے ابتدائی افسانوں کی سی ہے جن کے مضامین ان افسانوں کے عنوانات سے ہی ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ترقی پسند حضرات ادبی اصناف کے ذریعہ اپنے نظریات کی تبلیغ چاہتے تھے۔ میں نے اوپر عرض کیا کہ شاعری میں کسی بھی طرح کے نظریات کی ترسیل آسان نہیں ہے تاہم تمام شاعرانہ اصناف میں مثنویاں، نظمیں اور کچھ حد تک رباعیاں ایسی صنفیں ہیں جن میں اپنی بات پہنچانے کے لیے کافی مواقع موجود ہوتے ہیں۔ نظیر اکبرآبادی کو پڑھیے ان کے یہاں زندگی کے کسی نہ کسی بنیادی پہلو کی طرف اشارہ ضرور ملے گا۔ بعد میں حالی اور آزاد وغیرہ نے نظم نگاری کا احیا جس مقصد کے لیے کیا اس سے سب واقف ہیں۔ یہ الگ بحث کہ آج ان بزرگان ادب کی نظموں کی تاریخی اہمیت زیادہ ہے یا فنی؟۔ یا ایسی کتنی ترقی پسند نظمیں ہیں جنہیں آج کا قاری طبیعت پر بغیر کسی جبر کے پڑھ سکتا ہے۔ بہر حال اس مضمون کے چھیڑنے کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ ایسے شاعرانہ ایمرجنسی کے دور میں جون نے نظمیں ضرور کہیں اور ان کی شاعری کی شروعات بھی نظم نگاری سے ہوئی حتیٰ کہ وہ پہلے نظموں کے شاعر کے طور پر ہی جانے گئے لیکن ’’شاید‘‘ کے دوسرے حصے نیز ان کے دیگر مجموعوں میں موجود اکثر نظمیں غزل کے فارمیٹ میں لکھی گئی ہیں اگر ان نظموں کے عنوانات کو حذف کر دیا جائے تو ان میں سے اکثر پر غیر مردف اور تما م پربے مطلع غزلوں کا گمان گزرے گا۔ ’’سر زمین خواب و خیال‘‘ کے درمیانی تین اور آخر کے دو اشعار پرنیز ’’گمان‘‘ میں شامل ان کی نظمیں’ مذاق‘،’ زہرِ ناب کا دن‘ اور ’’ گویا‘‘ میں موجود ’ دیکھنے چلو‘، ’ جوانی‘ ، ’ دو مشورے‘ وغیرہ پر کسی غزل کے شعروں کا گمان ہوتا ہے۔ ذیل میں ان نظموں کے کچھ اشعار درج کئے جا رہے ہیں ۔

                           ہم جو باتیں جنوں میں بکتے ہیں

                           دیکھنا   جاودانیاں     ہوں گی

                            ہم ہیں وہ ماجرا طلب جن کی

                            داستانیں  زبانیاں  ہوں گی

                           تیری محفل میں ہم نہیں ہوں گے

                            پر  ہماری  کہانیاں  ہوں گی

                                                                                  (سر زمین خواب و خیال)

                            تھی گر آنے میں مصلحت حائل

                            یاد  آنا  کوئی  ضروری  تھا

                            دیکھئے     ہوگئی      غلط فہمی

                            مسکرانا کوئی ضروری تھا

                               لیجئے بات ہی نہ یاد رہی

                             گنگنانا کوئی ضروری تھا۔۔۔۔۔              (مذاق)

میں تیرے نامہ ہائے شوق تجھ کو

بہ صد آزردگی لوٹا رہاہوں

ترا راز دلی ہے ان میں پنہاں

ترا راز دلی لوٹا رہا ہوں

تری ’’دیوانگی‘‘ کی داستانیں

بہ صد دیوانگی لوٹا رہا ہوں۔۔۔۔۔(متاع زندگی لوٹا رہا ہوں)

یہ اور ان کے علاوہ ’آزادی‘، ’بنام فارہہ‘، ’چشمک انجم‘، ’داغ سینہ شب‘، ’تعظیم محبت‘ اور ’حسن اتنی بڑی دلیل نہیں‘ میں اسی غزلیہ فارمیٹ کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ نظمیں محض ہیئت پرستی کی مثالیں نہیں ہیں بلکہ ان کے موضوعات کا اطلاق غزلوں پر بھی ہوتا ہے بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ان نظموں میں غزل کے موضوعات ہی کوپیش کیا گیا ہے۔

ہر چند جون نے اپنے مضامین کی آبیاری روایتی سرمایے سے کی ہے۔ تاہم آخری تجزیے کے طور پر ہم یہ کہیں گے کہ بحیثیت مجموعی ان کی نظموں کو مضامین کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی وہ قسم ہے جس میں انہوں نے عشقیہ تجربے کو بیان کیا ہے۔ دوسری وہ جس میں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر نظمیں خلق کی گئی ہیں ( حالاں کہ اس قبیل کی نظموں کی تعداد کم ہے) اور تیسری وہ جس میں کسی تاریخی واقعہ یا کسی فلسفے سے متاثر نظمیں ملتی ہیں۔ ان تینوں قسموں میں آخر الذکر کی نظموں کو کھول پانا بہت مشکل ہے۔ جون کی بعض نظموں کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ E.E.Cummings کے اس خیال سے بہت متاثر ہیں کہ ’’ نظم کی زبان یعنی الفاظ کے آگے جو کچھ ہے(معنی، کیفیت وغیرہ) وہاں تک پہنچنے میں قاری کو دیر لگائی جائے۔‘‘(۳) بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شاعر کا علم نقاد کے علم سے بہت آگے ہوتا ہے۔ جون کے بارے میں یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ اسلامی تاریخ اور دنیا کی بہت سی دیگر قوموں کی تواریخ کا انہیں اچھا خاصا علم تھا۔ انہوں نے بارکلے، ڈیوڈہیوم، بیکن، پلوٹی نس وغیرہ جیسے فلسفے کے ماہروں کا مطالعہ بھی کیا تھا۔ ان تمام علوم کا عکس ان کی بہت سی نظموں میں ملتا ہے۔ مثال کے لیے ’’برج بابل‘‘، ’’سوفسطا‘‘ ، ’’رمز ہمیشہ‘‘، ’’ صفا زادہ‘‘ ، ’’فونیس‘‘،’’ انبوہ‘‘، ’’ مقولۂ عنکبوت‘‘ وغیرہ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ چند مثالیں دیکھئے۔برج بابل کے بارے میں تونے سنا ؟

برج کی سب سے اوپر کی منزل کے بارے میں تونے سنا ؟

’’ مجھ سے کلدانیوں ، کاہنوں نے کہا

برج کی سب سے اوپر کی منزل میں

اک تخت خوابِ قداست ہے

جس پر خداوند آرام فر ما رہا ہے ‘‘ (۴)۔     ( برج بابل)

میں پیاپے جو موجود ہوں

صرف موجود ہوں

صرف موجود ہونے کی حالت میں ہونے کو جو حوصلہ چاہیے

وہ خدایا خدا میں بھی شاید نہ ہو

عنکبوتِ رواقِ کہن کا مرے یہ مقولہ ہے :

                     ہے بھی نہیں

                   اور تھا بھی نہیں۔۔۔ (مقولۂ عنکبوت)

ایک بستی ہے ، آدمی ہیں دو

ایک تو میں ہوں ، اور دوسرا میں

گھر سے نکلا ہوں ، دیکھیے کیا ہو

محترم! دیکھ کر چلا کیجیے۔۔۔۔(انبوہ)

 بات صرف اتنی نہیں ہے کہ یہ نظمیں اپنے قاری یا نقاد پر بمشکل یا بدیر کھلتی ہیں بلکہ جوبات اہم ہے وہ یہ کہ جون نے کسی بھی طرح کے مضمون کی ترسیل کے لیے جس طرح کے اسلوب اور بیانیہ کے جس انداز کو وسیلہ بنایا ہے وہ انہیںاردو کے بڑے شعرا کی فہرست میں شامل کرتا ہے اور اغلب ہے کہ آئندہ جون کے اسلوب اور بیانیہ کے ان کے انداز کی پیروی ضرور کی جائے گی۔

جون نے اپنے پانچویں مجموعے ’’ گویا‘‘ کے آخری حصے میں نظموں کے ایک جتھے کو ’’ قومی نظمیں‘‘ کے عنوان تلے پیش کیا ہے ۔ اس جھتے میں دس نظمیں شامل ہیں جن میں ’’ پرتوِ تنویرِ سحر‘‘( ۲۳ مارچ ۱۹۵۷؁ء میں پاکستان کے یوم جمہوریہ کے موقع پر) ’’نگارِ فن‘‘( ۱۹۶۵؁ء کی جنگ کے بعد، ’’ سلام فتح‘‘( ۱۹۷۱؁ء کی جنگ میں کراچی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے) اور’’ استفسار‘‘( ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱؁ء، سقوطِ مشرقی پاکستان پر) شامل ہیں۔ نظموں کے سلسلے میں ان اضافی معلومات کو انہوں نے خود بہم پہنچایا ہے۔ دیگر نظموں میں ملک سے محبت کے سادہ سے جذبے کو اپنے غیر معمولی اسلوب اور بیانیہ پر حیرت انگیز مہارت کے وسیلے سے انتہائی رنگین اور دل کش بنا کر پیش کیاہے ۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جس پاکستان کے قیام کو جون نے کمیونسٹ نظریے کے تحت Opposed کیا تھا اسی پاکستان کی مداحی میں انہوں نے نہ صرف ’’ گویا‘‘ بلکہ دیگر مجموں میں بھی نظمیں کہی ہیں۔ دراصل مرور ایام کے ساتھ نہ صرف ان کے کمیونسٹ نظریے کی شدت میں کمی آتی گئی بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے اپنی شاعری کے ’’ بنیادی انکار ‘‘ تک کو ترک کرنا شروع کر دیا ۔

حوالے

  ۱۔ جون ایلیا: خوش گزراں گزر گئے، مرتب ، نسیم سید، اکادمی بازیافت ، کراچی، ص، ۱۱۴

۲۔ شاید، جون ایلیا، الحمد پبلی کیشنز،لاہور،ص،۲۴

 ۳۔ اردو نظم ۱۹۶۰ کے بعد ، اردو اکادمی ، دہلی، ص،۵۵

۴۔بنو اسرائیل کے دور اسیری کے بعد کے یونانی مورخ ہیروڈوٹس کے بیان سے استفادہ کیا گیا ہے  ۔ جون ایلیا ( بحوالہ ’’شاید‘‘ ص۶۰

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *