ڈاکٹر رمیشاقمر
گلبرگہ کرناٹک
خودمیں کھوئی رہتی ہوں
چاند جب نکلتا ہے
اک سماں سا بندھتا ہے
ظلمتوں کے پردوں سے
یاد کے پرندے سب
پاس آ دھمکتے ہیں
بولیاں سناتے ہیں
حال سب بتاتے ہیں
کچھ تو گدگداتے ہیں
پیار سے ہنساتے ہیں
کچھ مجھے رلاتے ہیں
درد کو جگاتے ہیں
یاد کے پرندوں کا
لمس جب بھی چھوتا ہے
دل کے ریشے ریشے میں
ہلچلیں سی ہوتی ہیں
ہلچلوں سے تن من میں
موج ایک اٹھتی ہے
جسم کی زمینوں پر
موج خواب بوتی ہے
خواب بھاؤ لاتے ہیں
ہونٹ مسکراتے ہیں
نین جگمگا تے ہیں
کچھ بھنویں بھی کھنچتی ہیں
کچھ چبھن بھی ہوتی ہے
ذہن و دل بھی دکھتے ہیں
پر سکوں گھر میں بھی
اضطراب بھرتے ہیں
مسکراتی رہتی ہوں
تلملاتی رہتی ہوں
اک آواز آتی ہے
ڈانٹ مجھ بہ پڑتی ہے
کیوں اکیلے بیٹھی ہو
شام کے اندھیرے میں
خوفناک گھیرے میں
کون سی مصیبت ہے
من میں کیا اذیت ہے
کس فراق میں گم ہو
کسی جہاں میں الجھی ہو
میں صدا یہ سن کر بھی
خود میں کھوئی رہتی ہوں
جیسے سوئی رہتی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔