You are currently viewing ’’دبستانِ کوٹہ کے بنیاد گزار :  سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی‘‘

’’دبستانِ کوٹہ کے بنیاد گزار :  سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی‘‘

محمد باقر حسین

اسسٹنٹ پروفیسر

شعبۂ اردو گورنمنٹ کالج ٹونک ، راجستھان

’’دبستانِ کوٹہ کے بنیاد گزار :  سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی‘‘

تلخیص

         سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی کا شمار دبستانِ کوٹہ کی برگزیدہ شخصیتوں میں ہوتا ہے۔ آپ کا  آبائی وطن لکھنؤ تھا لیکن تلاشِ معاش کے لیے ترکِ وطن کرکے کوٹہ کو وطنِ ثانی بنایا۔ یہاں محکمۂ عدلیہ میں ملازم ہوئے اور ملازمت سے سبک دوشی کے بعد وکالت کرنے لگے۔ آپ کو شاعرانہ طبیعت وراثت میں ملی تھی۔ شاعری میں نانا رضا ظہیرؔ، مرزا محمد جعفر اوجؔ اور امیرؔ مینائی سے تلمذ حاصل تھا۔ ثابتؔ قادر الکلام شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین نثّار بھی تھے۔ آپ نے نثر میں جہاں ایک طرف ’’حیاتِ دبیرؔ‘‘ لکھ کر پہلی مرتبہ مرزا سلامت علی دبیرؔ کی مستند سوانح اور شبلیؔ کی کتاب موازنۂ انیس و دبیرؔ کا جواب دیا وہیں دوسری جانب اپنے مراثی کے مجموعے ’’صبرِ جمیل‘‘(جلد اول)کے مقدمے کی تمہید میں مرثیہ  گوئی کی زبان اور فن پر اپنے تنقیدی نظریات بھی پیش کیے ہیں  جو ناسخؔ کی تحریک اصلاح زبان سے مختلف ہیں۔ اس کے علاوہ ثابتؔ نے اردو مرثیہ گو شعرا کا پہلا تذکرہ ’’دربارِ حسین‘‘ کے عنوان سے ۱۹۲۰ء میں قلمبند کیا۔ ثابتؔ کی تصانیف ’’حیاتِ دبیرؔ‘‘ اور ’’دربارِ حسین‘‘ کو موضوع کے اعتبار سے اردو تحقیق میں اولیت کا شرف حاصل ہے۔آپ کاشمار راجستھان کے اولین محققین میں ہوتا ہے۔ آپ نے کوٹہ اور قرب و جوار میں اردو شعر و ادب کی شمع روشن کی اور ایک مستند انشا پرداز کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی۔

کلیدی الفاظ        :  کوٹہ،  حیاتِ دبیرؔ ،  مرثیہ،  نظریات،  زبان و فن،  تذکرہ،  اصطلاحات،  وقائع نگاری،

٭٭٭

         راجستھان میں تلوار کے ساتھ ساتھ قلم کے دھنی بھی بخوبی پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے کی تاریخ ایک جانب بہادر سورمائوں کے ولولہ انگریز کارناموں سے بھر ہوئی ہے تو دوسری طرف اہلِ قلم کی کامیاب ادبی کاوشوں کی بھی کمی نہیں۔ یہاں کے راجائوں اور ٹھکانے داروں نے ہر عہد میں شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے۔ انھیں میں سے ایک دیسی ریاست کا نام کوٹہ بھی ہے۔ کوٹہ کے فرما روائوں نے نہ صرف تعلیم کو اہمیت دی بلکہ متعدد شعراء اور ادباء کو اپنی ریاست کا حصہ بنا کر شعر و ادب کی سرپرستی بھی فرمائی۔ اسی حوالے سے کوٹہ کی ادبی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو جن اولین

علمائے ادب نے کوٹہ کو اپنی علمی اور تخلیقی صلاحیتوں سے بہرہ مند کیا، ان میں سے ایک نام سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی کا ہے۔

         سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی ۱۶؍جنوری ۱۸۶۲ء مطابق ۱۵ رجب ۱۲۷۸ ھ یوم جمعہ کولکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان تاریخی نام نظیر حسن تھا۔ (۱)   آپ کے والد کا نام مہدی حسن تھا۔ آپ کے بزرگ عرب سے مشہد مقدس اور وہاں سے دہلی پھر لکھنؤ آئے۔ ثابتؔ کے نانا محمد رضا ظہیرؔ مرزا دبیرؔ کے دوست اور شاگرد تھے۔ انھوں نے عربی اور فارسی کی کتب متداولہ علمائے فرنگی محل سے پڑھیں اور شاعری میں اصلاح نانا محمد رضا ظہیرؔ سے لی۔ بعد میں مرزا دبیرؔ کے بیٹے مرزا محمد جعفر اوجؔ کے دامنِ تلمذ سے وابستہ ہو کر مرثیہ کہنے لگے۔ اس طرح دبیریت آپ کو ورثہ میں ملی۔ اس ضمن میں ثابتؔ فرماتے ہیں:

کیوں نہ دکھلائوں جناب اوجؔ کو اپنا کلام

ان سے بڑھ کر آج کل اس فن میں کامل کون ہے

         ثابتؔ نے مرثیہ کے علاوہ غزلیں بھی کہیں۔ ان کی غزل گوئی کا باقاعدہ آغاز ۱۸۸۰ء میں ہوا۔ غزل میں وہ امیرؔ مینائی سے اصلاح لیتے تھے۔ ’’حیات دبیر‘‘ میں وہ لکھتے ہیں :

         ’’۱۸۸۰ء میں میں نے مستقل طور پر غزل کہنا شروع کیا اور جب ’’پیام یار‘‘ وغیرہ کسی گلدستہ میں غزل بھیجتا تھا تو امیرؔ مینائی کی خدمت عالی میں بھجوا دیتا۔‘‘ (۲)

         ثابتؔ تقریباً ۱۸؍ سال کی عمر میں یعنی ۱۸۸۰ء میں روزگار کے سلسلے میں لکھنؤ سے کوٹہ آئے اور ایسے آکر رہے کہ یہیں کے ہو کر رہ گئے اور یہاں ریاست کی عدالت العالیہ میں ملازم ہوئے، ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد آخری عمر تک یہیں وکالت کرتے رہے۔ اس دوران وہ کوٹہ کی علمی اور ادبی سرگرمیوں اور مشاعروں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ ثابتؔ ۷۹؍ سال کی عمر یعنی ۱۹۶۱ ء میں مالک ِ حقیقی سے جا ملے اور کوٹہ میں ہی پیوندِ خاک ہوئے۔ انھوں نے کوٹہ اور مضافات کوٹہ میں اردو کی ترویج اور احیا کی کوششیں کیں۔ ثابتؔ کا حلقۂ تلامذہ کافی وسیع تھا۔ آپ کے شاگردوں میں وحشیؔ رحمانی، رحمتؔ کوٹوی اور مفتوؔ کوٹوی  کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

         آپ بیک وقت شاعر، سوانح نگار، نقاد اور تذکرہ نگار تھے۔ آپ کی نثری تصانیف میں ’’حیاتِ دبیرؔ‘‘(دو جلدیں) اور’’دربار حسین‘‘ شامل ہیں۔ شاعری میں مرثیوں  کے دو مجموعے ’’صبر جمل المعروف برق غم‘‘ اور ’’ریاض فکر‘‘ (قولِ ثابتؔ) شائع ہو چکے ہیں۔ آپ کے مقدماتی ادب میں ثبع مثانی ( دبیرؔ کے ۱۴ مرثیوں کا مجموعہ جسے سید سرفراز حسین خبیرؔ نے مرتب کیا )اور معراج الکلام (مجموعہ ٔ مراثی اوجؔ مرتب ثابتؔ) کا شمار ہوتا ہے۔ موصوف کی یہ تمام کتب رثائی ادب کے علاوہ سوانح نگاری

اور نقد و نظر میں اضافہ شمار کی جاتی ہیں۔

         ثابتؔ کی شاعری پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اس لیے ہم یہاں ان کی نثری خدمات پر روشنی ڈالیں گے۔ آپ نے قدیم شعری تنقید کو بنیاد بنا کر حیاتِ دبیرؔ میں نہ صرف جدید سوانحی اصولوں کے پیشِ نظر مرزا سلامت علی دبیرؔ کی پہلی  سوانح عمری لکھی بلکہ دبیریت کا پرچم بلند کرتے ہوئے ’’موازنۂ انیس ؔ و دبیرؔ‘‘ میں مرزا دبیرؔ کے کلام پر کئے گئے شبلیؔ کے اعتراضات کے جوابات بڑے اعتدال، توازن اور فنی تقابل کے ذریعے دیے۔ مثال کے لیے موازنۂ  انیسؔ و دبیرؔ میں شبلیؔ مرزا دبیرؔ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

         ’’دونوں حریفوں میں سے اول کس نے میدانِ شاعری میں قدم رکھا اور خاص بند جو دونوں کے یہاں قریب المعانی پائے جاتے ہیں اول کس نے کہے ۔‘‘

         اس اعتراض کے جواب میں ثابتؔ ’’حیاتِ دبیرؔ‘‘ میں رقمطراز ہیں :

         ’’مرزا صاحب کو بہت پہلے شہرت ہو گئی تھی اور وہ استاد مان لئے گئے تھے اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ مرزا صاحب کے مقابلے پر بڑے بڑے کامل شاعر برسوں کوشش کرتے رہے مگر ملک نے ان کو مرزا صاحب کے مقابل نہ مانا۔‘‘ (۳)

         اس سوانحی اور تنقیدی کتاب ’’حیات دبیرؔ‘‘ کو دیکھ کر مرزا دبیرؔ کے بیٹے اور ثابتؔ کے استاد مرزامحمد جعفر  اوجؔ نے ثابتؔ سے کہا ’’ واقعی آپ نے حق تلمذ ادا کر دیا۔‘‘ حیات دبیرؔ کی شہرت والیِ ریاست کوٹہ مہارائو راجا لفٹننٹ سر امید سنگھ کو ہوئی تو انھوں نے بنا کسی سفارش ثابتؔ کا تنخواہ کے علاوہ دس روپیہ ماہوار وظیفہ بھی مقرر کیا۔

         یہاں ایک بات واضح رہے کہ جدید تحقیق کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ کے پہلے نقاد ریاست جے پور کے عالم و تذکرہ نگار مولوی سلیم الدین تسلیمؔ ہیں انھوں نے اپنے تذکرے ’’دفتر الشعراء‘‘(۱۸۷۰ء) میں غالبؔ کے کلام پر حالیؔ سے پہلے تنقید کی ہے۔ اسی طرح مرثیہ کے مشہور شاعر مرزا سلامت علی دبیرؔ پر پہلی مستند اور معتبر سوانح راجستھان کی ریاست کوٹہ میں لکھی گئی۔ اس طرح غالبؔ کے کلام پر تنقید اور دبیرؔ کی سوانح عمری لکھنے میں راجستھان کو اولیت کا شرف حاصل ہے۔ یہ دونوں تصانیف ایوانِ ادب میں راجستھان کو ایک الگ مقام عطا کرتی ہیں۔

         ثابتؔ لکھنوی مرثیہ کے اصول اور فن پر تفصیل سے لکھنا چاہتے تھے اور مرثیوں میں تاریخی واقعات کو موزوں کرنے کے رواج کو فروغ دینے کے طرفدار تھے۔ اس ضمن میں وہ اپنے تذکرے ’’دربار حسین ‘‘ میں لکھتے ہیں:

         ’’افسوس کے یہ دیباچہ بہت مختصر لکھا گیا ورنہ دل یہ چاہتا تھا کہ مرثیہ گوئی کے اصول پر میں دل کھول کر بحث کرتا اور

اس بات کو ثابت کرتا کہ اب دنیا کو ایسے مرثیوںکی ضرورت ہے جن میں زیادہ تر واقعات تاریخی نظم ہوں۔‘‘   (۴)

         ثابتؔ نے اپنے رثائی کلام کے مجموعہ’’صبر جمیل‘‘ جلد اول کے آغاز میں ایک مقدمہ لکھا۔ جس میں انھوں نے مرثیہ گوئی اور زبان و فن، صحت الفاظ کے سلسلے میں اپنے نظریات پیش کئے ہیں جو اس طرح ہیں :

۱۔       مرثیہ میں مبالغہ سے مطلق پرہیز کیا جائے، صحت روایت کا التزام رکھا جائے اور مضامین میں تنوع پیدا کیا       جائے۔

۲۔      وسعت زبان کے لیے ضروری ہے کہ کوئی لفظ متروک نہ قرار دیا جائے اور خاص طور پر متروکات کے استعمال کی

         اجازت ہونی چاہیے۔

۳۔      ثابتؔ نے مہند اورمہند المعانی کے ساتھ عطف و اضافت کے استعمال کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ مثلاً اکبر جرار،

         عطرِ سہاگ وغیرہ۔  (۵)

         اس کے علاوہ ثابتؔ لکھنوی نے قدیم شعری اصطلاحات مثلاً توارد، سرقہ، شعر، مبالغہ اوروقائع نگاری وغیرہ کی تعریفوں کے ساتھ ان کے عملی نمونے بھی پیش کیے ہیں۔ مثال کے  لیے ’’قولِ ثابتؔ‘‘ کے مقدمے کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

         ’’مرز ا دبیرؔ صاحب کے کلام کو ملاحظہ فرمائیے۔ ہزاروں روایات کیسے مختصر لفظوں میں نظم فرما دی ہیں۔ جس مضمون کو دوسروں نے دو صفحوں میں بیان کیا انھوں نے دو بندوں میں نظم کر دریا کو کوزے میں گویا بند کیا ہے۔ اہل ہند کو بتلا گئے ہیں وقائع نگاری اس کا نام ہے۔‘‘ (۶)

         اردو زبان میں تذکرہ نکات الشعراء سے لے کر آبِ حیات تک کے متعدد تذکرے لکھے گئے لیکن مرثیہ گو شعرا پر خصوصی تذکرہ ثابتؔ لکھنوی نے کوٹہ میں لکھا۔ ثابتؔ نے شاگردانِ دبیرؔ کا تذکرہ ’’درباتِ حسین‘‘ نام سے تالیف کیا۔ یہ اردو مرثیہ گو شعراء کا پہلا تذکرہ ہے جس میں مرزا سلامت علی دبیرؔ کے ۵۲ شاگردوں کے حالات ،۷۶ شاگردوں کے نام اور آخر میں ۱۰ ؍شاگردوں کے مرثیے شامل ہیں۔ اس تذکرے کے مقدمے میں انھوں نے مرثیوں میں تاریخی واقعات کو نظم کرنے پر زور دیا ہے اور اس کے علاوہ اپنی ایک خواہش بھی بیان کی ہے کہ وہ نہج البلاغہ کا ترجمہ انگریزی زبان میں اپنے بیٹے مفضل حسین سے کرانا چاہتے تھے لیکن عین عالمِ جوانی میں مفضل حسین انتقال کر گئے اور ثابتؔ کی یہ خواہش مکمل نہ ہو سکی۔

         اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ثابتؔ لکھنوی قادر الکلام شاعر اور مستند عروضی ہونے کے علاوہ ایک زبردست نثار، نقاد

اور بلند انشاء پرداز بھی تھے ۔ ان کی معلومات بہت وسیع تھی۔ فنِ شعر پر ان کی نگاہیں کافی گہری تھیں، قدیم طرز تنقید کے وہ بڑے ماہر تھے۔ راجستھان اور کوٹہ میں انھوں نے جو ادبی خدمات انجام دیں ہیں انھیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

٭٭٭

حوالہ جات:

۱۔       خمخانہ جاوید ، جلد دوم، مؤلف لالہ سررام، امپیرئیل بکڈپو ، پریس دہلی۔ ۱۹۱۱ء، ص-۱۶۳

۲۔      حیاتِ دبیرؔ جلد اول مؤلف سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی، مطبع سبوک سٹیم  پریس، لاہور، ۱۹۱۳ء، ص- ۱۹-۲۰

۳۔      حیاتِ دبیرؔ جلد اول مؤلف سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی، مطبع سبوک سٹیم پریس، لاہور، ۱۹۱۳ء، ص- ۴۹۶

۴۔      دربار حسین، مؤلف افضل حسین ثابتؔ لکھنوی، مطبع اِثنا عشری دہلی، ۱۹۲۱، ص-۶

۵۔      صبر جمیل (جلد اول)، از سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی، بحوالہ دبستانِ دبیرؔ از ڈاکٹر ذاکر فاروقی، نسیم بک ڈپو،

         لکھنؤ، ۱۹۶۶، ص- ۵۳۹-۵۴۰

۶۔      قولِ ثابتؔ از سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی، ص- ۶

۷۔      قولِ ثابتؔ از سید افضل حسین ثابتؔ لکھنوی، ص- ۷-۶

***

Leave a Reply