You are currently viewing سیاہ فریم

سیاہ فریم

عظمیٰ نورین

سیالکوٹ پاکستان

سیاہ فریم

            ابومیں نے بہت کوشش کی، خود سے بڑھ کر، اپنےظرف سےبڑھ کر لیکن میں  اسےکیاکہوں اپنی بدنصیبی، بدقسمتی یاپھراپنامقدر، زندگی بھر کاساتھ سمجھا    اس رشتے کو،میاں  بیوی کے رشتےکومضبوط سے مضبوط ترکرنےکی کوشش کی۔ گھر میں آپ  کو اور امی کودیکھا، ہمیشہ امی کو ایک خدمت گزار اوراطاعت گزار وفاداربیوی کےروپ میں، اورآپ کومحبت کرنے وا لے ، خیال  رکھنےوالےاورمحافظ شوہرکےسارےتقاضے پورےکرتے دیکھا۔ ایسےماں باپ کی تربیت میں کوئی  کمی کیسےرہ سکتی ہے۔ابومیں جانتی ہوں کہ پانچ بیٹیوں کی مثالی پرورش کرنا ، یونیورسٹیوں میں  کم وسائل کے باوجود اعلیٰ تعلیم کےزیورسےآراستہ کرانااورپھر شادی کرناجوئے شیرلانے کے    مترادف تھا ۔میں بڑی بیٹی ہوں آپ کی ابو! مجھے بخوبی علم ہے کہ کس طرح امی جان نے گھر کے  خرچےمیں سے کچھ پیسے بچابچاکے کمیٹیاں ڈال رکھی تھیں اور حتی المقدور جمع کرکے شادی کے اخراجات برداشت کیے ہیں۔ میں خود سےایک جنگ لڑ رہی ہوں ہروقت  قلب و ذہن   ناقابل آزمائش وامتحان سےگزرتا رہتا ہے۔

باہرتندوتیز آندھی چل رہی تھی ۔موسم ابرآلودتھا کہ چشم زدن میں تیزبارش نے ہرطرف جل تھل کردی۔کمرےکی کھڑکی سے یخ   ٹھنڈی ہوا آرہی تھی ۔تعبیر! تعبیر! باہر آؤ جلدی۔ اولے پڑرہےہیں۔صحن میں پڑی چارپائیاں اٹھالو،بھیگ جائیں گی،خودکلامی کی منجد ھارسےدلبرداشتہ ہوکر شاہدہ بی بی کی آواز پرلبیک کہا،اورآن کی آن میں تمام بکھری چیزیں سمیٹ لیں،اگرکچھ نہ سمیٹ پائی تووہ اس کی خوشگوار زندگی کی خواہشات تھیں جوحسرت ویاس میں دن بہ دن بدل رہی تھیں۔

ہیلوتعبیرباجی! کیاحال ہے آپ کا اورعادل بھائی کیسے ہیں ؟ آپ توعیدکاچاند ہی ہوتی جارہی ہیں۔ ابھی توآپ کی شادی کودو مہینے ہی ہوئے ہیں اوریوں لگتاہے کہ دوسال ہوگئے ہیں۔ بھئی ہماری تودعاہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے گھر میں ڈھیروں خوشیاں  نصیب کرے۔میکے کی تویاد بھی نہ آئے،اچھا اچھا اب سمجھ میں آ یاکہ لڑکیوں کی شادی والے دن رخصتی کے موقع پر اکثر یہ گاناگاکر دعائیں  کیوں دی جاتی ہیں۔

بابل کی دعائیں لیتی جا،جاتجھ کوسکھی سنسار ملے

میکےکی کبھی نہ یادآئے، سسرال میں اتناپیار ملے

ارے سائرہ! جی امی! یوں لگ رہاہےکہ جیسے ٹیپ چل رہی ہو، اپنی ہی تقریر شروع کررکھی ہے کچھ بہن کی بھی توسنو، اللہ! میری بیٹی کوکسی کی نظر نہ لگے ، حمیدہ جائےنماز     لپیٹتے ہوئے مسلسل تعبیر کے لئے دعائیں کررہی تھیں ۔

ہیلوباجی! جی سائرہ! باجی دیکھا آپ نے امی مجھے ڈانٹ رہی ہیں کہ میں ٹیپ کی طرح بلاتعطل بول رہی ہوں۔ تعبیر! میں بھی آپ سب کو بہت یاد کرتی ہوں، تمہاری شرارتیں، اریباکی فرمائشیں، ابوکے تربیتی لیکچرز، اورامی کی کفایت شعاری اورسسرال کی خدمت گزاری پرنصیحتیں بہت یادآتی ہیں۔اچھااب آپ امی سےبات کرلیں، آپ کو بہت یاد کررہی تھیں۔

السلام علیکم! امی جان! وعلیکم السلام بیٹا! عادل کیساہے؟اورشاہدہ بہن کاکیاحال ہے؟بھائی صاحب ٹھیک ہیں ؟جی امی سب الحمدللہ خیریت سے ہیں۔ بیٹاسب کا خیال رکھاکرو، اب وہی آپ کا گھرہے. کوئی کمی وبیشی ہوبھی جائےتودل برانہیں کرتے،بیشک  عورت کوہی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔

میری پیاری امی جان! آپ بالکل فکرنہ کریں ۔میں آپ  ہی  کی  بیٹی ہوں، سسرال کو قیدخانہ یازندان نہیں بلکہ اپناگھرسمجھتی ہوں، میرے شوہرکےوالدین میرےوالدین اوران کےخاندان  اب میرا خاندان  ہے۔

  آپ کی دعاؤں سے میں اپنی زندگی میں آنے والی ہر آزمائش کا مقابلہ کرنے کی کوشش کروں گی۔ اللہ میری بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھے اورکسی بھی آزمائش سے دوچار نہ کرے۔ بیٹا کسی دن عادل کے ساتھ چکر ہی لگالو، دل بہت اداس ہے، ہرروزجب بھی ایک ساتھ  بیٹھتے   ہیں ۔آپ کے ابوبہانے بہانے سے آپ کی باتیں کرکےآپ کویاد کرتے رہتے ہیں اوراللہ کاشکر بھی اداکرتے ہیں کہ بیٹی کافرض اداہوگیا، بیٹیاں توپرایادھن ہوتی ہیں۔ سائرہ، اریبا، عریشہ،انعم اوررخساربھی اپنے اپنے گھر کی ہوجائیں گی تومیں اورآپ کےابواکیلے رہ جائیں گے، حمیدہ نےرقت جذبات سے

 چپ سادھ لی، مرزا شفاقت ہومیوپیتھک حکیم تھے۔ بہت نیک شہرت کے حامل اورانسان دوست شخصیت تھے۔ چھٹی   بیٹی کی پیدائش پرحمیدہ روپڑی، گلی محلے کی خواتین بھی آکر اظہارتاسف کرنےلگیں، گویاکوئی انہونی ہوگئی ہو، میں آپ کو بیٹانہیں دےسکی، ارے پگلی! بیٹاتم نےدیناتھایا اللہ رب العزت نے، کیسی مایوسی کی بات کررہی ہو، اللہ کاشکرہے کہ اس نے ہمیں صاحب اولاد کےمنصب پر فائز کیا ہے، اورپھر بیٹیاں تواللہ کی رحمت ہوتی ہیں، ہم توخوش نصیب والدین ہیں کہ اس نے ہمیں اپنی رحمت سے نوازا ہے، اللہ ان کےنصیب اچھے کرے،درخشاں ستارے ان کا مقدر چمکائیں،پھرجب ہم اپنی بیٹیوں کی شادی کریں گے توآنےوالے داماد بھی توہمارے بیٹے ہی ہوں گے۔آئندہ میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں اور نہ احساس محرومی اورمایوسی سے  نوحہ کناں دیکھوں۔

شفاقت اورحمیدہ نے صحیح معنوں میں زندگی کےہم سفرہونےکا حق اداکرتے ہوئے بیٹیوں کے بہتر مستقبل کے لئے کوئی کسر اٹھا  نہ رکھی۔تعبیر  بہنوں میں بڑی تھی۔ مرزاشفاقت شوگراوربلڈ پریشر کے مریض بن چکے ہیں، وقت کے ساتھ ہاتھ بالوں  میں بھی چاندی اترآ ئی تھی ۔ پچپن  سال کی عمر میں صحت گھلنے لگی، حمیدہ کودن بدن شوہر کی گرتی  صحت اورجوان ہوتی بیٹیوں کےہاتھ پیلے کرنےکی فکر کھائے جا رہی تھی۔ دن رات دعاؤں میں گزرتے۔

تعبیر کی شادی عادل سے ہوگئی۔چھ فٹ کاگوراچٹا نوجوان،شکل وصورت سےسلجھاہوا، ایم  ایس سی  ریاضی میں گولڈ میڈلسٹ اور سوسائٹی میں رکھ رکھاؤ رکھنےوالاایک نفیس اور جہاں دیدہ سنجیدہ نوجوان تھا۔ مرزا کاشف نے کافی تعریف کی۔ مرزاصاحب! ماشاءاللہ! چشم بدور! ہماری تعبیراورعادل کی جوڑی توبڑی خوبصورت ہے۔ اللہ تعالیٰ دونوں کا ساتھ سلامت رکھے۔ بہت اچھا خاندان ملاہے۔ اور داماد کے روپ میں آپ کی بیٹےکی کمی پوری ہوگئی۔ مرزاصاحب دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے تعبیر اوراپنی قسمت پررشک کر رہے تھے ۔مہمانوں کو رخصت کیااورتعبیر بھی اپنے بابل کا گھر چھوڑ کر پیا دیس بسانے جا چکی تھی۔ مرزا صاحب نے شادی کے تمام انتظامات اپنے ناتواں کندھوں پر  اپنی بیٹیوں اورجیون ساتھی حمیدہ کے ساتھ بخوبی سرانجام دیئے۔

رشتہ دارتوکم ہی ساتھ دینے والے  تھے  البتہ زیادہ تر حسد کرنے والے اور تماشائیوں کی مانند تھے۔ حمیدہ کبھی شکوہ بھی کرتی کہ لوگوں کو تو ہم پر ترس بھی نہیں آتا تومرزاصاحب ڈانٹ دیتے۔ حمیدہ بیگم! مجھے ترس کھانے والےاورجس پر ترس  کھایاجائے، دونوں سے نفرت ہے. اور پھر اللہ کاکرم ہےکہ ہمارےپاس کسی چیز کی کمی نہیں۔ اللہ کادیاسب کچھ ہے۔ اوراگراولاد نرینہ کی کمی کا خیال تمہارے ذہن میں آتا ہے تو اسے نکال دو۔ اوراللہ کاشکراداکرو کہ اس نے ہمیں بیٹیوں کےروپ میں بیٹوں سےنوازاہے۔ کیاہواجوہمارے پاس نعمت نہیں رحمتیں توہے نااسکی، اورپھر عادل بھی توہمارا بیٹا ہے۔

تمام مہمان جاچکے تھے اورمرزا صاحب اورحمیدہ بیگم اپنی بیٹیوں کے ساتھ میرج ہال میں واجبات کی ادائیگی کرنے کے بعد گھر پہنچے۔ تھکن سے بدن چور چور تھا لیکن دوسری طرف بیٹی اپنے گھر کی ہوگئی، بیٹی کی شادی کےفرض کی ادائیگی نے تمام تھکن پل  بھر میں رفوچکر کردی۔ حمیدہ نماز عشاء ادا کرنےکےبعد بسترپر لیٹی اوراپنے لخت جگر کی خوشیوں بھری زندگی کے لئے دعائیں کرتے کرتے سوگئی۔

تعبیراپنے شوہر کے گھر قدم رکھ چکی تھی وہ گھر جس کے خواب ہرلڑکی سجاتی ہے۔ شوہر کےروپ میں محبت کرنےوالےساتھی کی آغوش میں زندگی کی مشکلات وتکالیف کابوجھ بھی پھول سمجھ کراٹھالینےکادم بھرتی ہے۔ تعبیر کاکمرہ  گلاب کےپھولوں کی پتیوں سےمہک رہاتھا۔ کمرے میں چاروں طرف سفیدروشنی میں مہرون لہنگےاورطلائی   زیورات سے سجی تعبیر خوبصورت اور نرم ونازک گڑیا دکھائی دےرہی تھی۔ شاہدہ بیگم اورفیملی ممبرزنے تعبیرکو خوش  آمدیدکہتے ہوئےاس کےکمرے تک پہنچایااورعادل کی بہنیں اورکزنز ان کومذاق کرنے لگیں ۔ آخرکار عادل کی باری آئی۔ تعبیر کی دھڑکنیں بےترتیب ہورہی تھیں۔ ہاتھ لرزرہے تھے پیشانی پر پسینےکے قطرات بلب کی روشنی میں موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ گھونگھٹ اٹھاکراپنی چاندسی دلہن کوعادل نے سونےکی انگوٹھی پہنائی۔ تعبیر بہت  نروس   ہورہی تھی ،سہیلیوں سے سن چکی تھی کہ دلہااور دلہن پیاربھری باتیں کرتےہیں ایک دوسرےکےساتھ زندگی بھرساتھ نبھانےکے عہدوپیمان باندھتے ہیں۔ایک دوسرےکوجاننےکی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک دم سےعادل نے خشک لہجےمیں تعبیرکو آرام کرنےکاکہہ کرخوابوں  خیالوں  کی دنیاسے چونکا کر  واپس بلالیا۔ تعبیرکے لئے یہ آوازاورلہجہ بڑا حوصلہ شکن تھا۔ عروسی جوڑابدل کرہاتھ منہ دھوکر چپ چاپ لیٹ گئی۔ لمحہ بھر کوتویوں لگاکہ گویا خوابوں کامحل چکناچورہوگیاہے۔ آنکھیں موندتےہی شفیق باپ، اوربہنوں کےچاند سےچہرے دکھائی دینے لگے۔ ماں باپ کی سمجھ دار اورباحوصلہ بیٹی ہمت اورحوصلے کی مقدار بڑھاتے ہوئے اپنےبہتر مستقبل اورنئےگھرکی خوشیوں کی دعاکرنےلگی۔ علی الصبح اٹھ کرنماز فجراداکرکے  تعبیر قرآن کی تلاوت کرنےلگی۔ سوتےہوئے  اپنےشوہر اپنےجیون ساتھی  عادل کوغورسے دیکھ رہی تھی کبھی اس پرپیار آتاتوکبھی رات کےرویے پرغصہ کم شکوہ کےتاثرات  لیے تعبیر بیڈکےساتھ ٹیک لگائے آنکھیں موندے  سوگئی۔ تھکاوٹ اوررت جگےکی وجہ سےنیندکی دیوی جلدتعبیر پرمہربان ہوگئی۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ عادل کی بڑی بہن اوروالدہ آگئیں۔ بیٹا! کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ؟نہیں امی جان! اورتعبیر بیٹا! آپ کےگھروالے ناشتہ لےکرآرہے ہیں ۔میں نے تومنع کردیاتھا کہ تکلف  نہ کریں ۔ تو حمیدہ  بہن بہت رکھ رکھاؤ والی خاتون  ہیں۔ کہنےلگیں  کہ یہ تورسم ہے۔ پھرمیں نےانکار نہیں کیا۔ عادل ابھی تک سونےکابہانہ کررہاتھا۔ ماں اوربہن کےجاتےہی عادل تعبیرسےمخاطب ہوا. تعبیر!جی جی! آج ولیمہ ہے آپ کی فرینڈز اورکزنزآپ سےبہت سوال کریں گی۔ نئےنویلے جوڑےکی باتوں سے چٹخارے لینےکی کوشش کی جاتی ہے۔ تعبیرکے لئے یہ تمام باتیں غیرمتوقع تھیں لیکن یہ سوچ کرخود کوتسلی دی کہ دواجنبی  ابھی ابھی زندگی کے سفر میں شامل ہوئے  ہیں اورکچھ وقت تو لگے گاایک دوسرے کو سمجھنے میں۔ تعبیر اپنے  چہرےپر قہقہے اورمسکراہٹ سجائےسب کےسامنے خوش ہونےکا دکھاواکرنےلگی۔ عادل گرےپینٹ کوٹ میں ملبوس، مہرون ٹائی لگائےکمرے میں داخل ہوا، اورتعبیر گرےاور مہرون میکسی میں  چاند کاٹکڑا لگ رہی تھی۔ عادل کی نظر تعبیرپرپڑی تو وہ شرماکے رہ گئی۔ ہمارےدولہا بھائی توبہت ہینڈسم ہیں اورتم دونوں توایک مثالی  جوڑالگ رہے ہو۔ تم بہت خوش نصیب ہوتعبیر! اتناامیرترین سسرال اوراتناہینڈسم شوہر، تنزیل کی باتیں تعبیرکوبہت خوش کررہی تھیں ۔ایک لمحہ کواس نے گزشتہ رات عادل کے رویے کےبارےمیں سوچا، اورپھرخیال جھٹک کر اپنی قسمت پررشک کرنےلگی۔ ایسےہی دن گزرتےگئے۔ تعبیرعادل  کی وجہ سے غیرمتوقع کیفیت کاشکارہونے لگی۔ سب کے سامنے عادل   ایک مثالی بیٹے، بھائی، داماد، بہنوئی اورشوہرکےروپ میں دکھائی دیتالیکن بندکمرےمیں بالکل مختلف شخصیت، جواپنی بیوی کےساتھ سردمہری سےپیش آتا۔ تعبیرنے سسرال کوسسرال نہیں اپناگھراورساس سسرکواپنے حقیقی ماں باپ کادرجہ دیتےہوئےگھرداری سنبھال لی۔ دن کاآغازنمازفجرسےکرتی، پھر سب کے لیے ناشتےکی تیاری، گھر میں کام کرنے والی ماسی کی بھی چھٹی کروادی۔ گھرکےتمام کام کاج چاؤ چاؤسےخود کرنےلگی۔ حتٰی کہ کچن کی ذمہ داری بھی  تعبیر نے اٹھالی۔ کیاکسی نے کبھی یہ سوچاہےکہ بیوی شوہر کی محبت میں   ہردکھ ہرتکلیف خود پہ جھیل جاتی ہے۔ وہ  بھی اپنےشوہرکادل جیتنا چاہتی تھی ۔تمام فرائض خوش اسلوبی سے سر  انجام دےرہی تھی ۔ چونکہ وہ ایک اسلامی تعلیمات  کی حامل ماں کی اسلامی  مزاج کی بیٹی تھی۔ لیکن ابھی تک عادل کےرویے پرحیران کن تھی وہ بہت عجیب و غریب تھا۔ تعبیر گھرکےکام کاج نمٹاکےاپنےشوہرکے لئے بناؤ سنگھار کرتی، لیکن عادل برابر بےپروائی برت رہاتھا۔کمرےسے باہر تعبیر کی تعریفوں کےپل باندھتے نہ تھکتا۔ تعبیر ! میراخیال ہے کہ آج آپ کی امی ابوکےہاں چلتے ہیں وہ بھی اداس ہورہےہوں گے۔ آپ بھی ان سے مل کر خوش ہوجائیں گی۔ جی جی بہتر۔ تعبیرکے چہرےپرروہا نسی مسکراہٹ تھی۔ نہ جانےعادل بندکمرےمیں میرے ساتھ اتنے  کھچے کھچے  کیوں رہتے ہیں اورباہرآکرسب کےسامنے یوں اچانک ایک دم مختلف  روپ! تعبیر نے اب سنجیدگی سے سوچناشروع کردیا۔ اس کا ذہن الجھ ساگیا۔ کھڑی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر تعبیر بیٹھ گئی اورعادل نےسٹیر نگ سنبھالتےہوئےتعبیر کےچہرے پرگہری نظریں جماکرلمحہ بھر کو دیکھا جو ہلکے گلابی رنگ کے جوڑے میں بےحد خوبصورت لگ رہی تھی ،بےساختہ عادل کی زبان سےتعبیر کی تعریف میں الفاظ اداہوئے (ماشاءاللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں) تعبیر کاچہرہ توپہلےہی آفتاب وماہتاب تھا شوہرکےمنہ سے تعریف کے الفاظ سن کر خوبصورتی میں چارچاند لگ گئے اوروہ شرماکررہ گئی۔

آئس کریم کھائیں گی کیا آپ تعبیر؟جی جیسے آپ چاہیں ۔ تعبیرایک تابع فرمان بیوی ثابت ہورہی تھی ،اپنےشوہر کی خوشی میں اپنی خوشی ڈھونڈنےلگی۔

ڈوربیل بجائی، حمیدہ بیگم نے دروازہ کھولا۔ عادل اورتعبیر کےآنےسے گھرمیں خوب رونق  ہو گئی۔ عادل بھائی !آپ لوگ تواچانک آگئے؟اب بتائیں، کیاکھائیں گے؟اچھامیں آپ کے لئے اپنےہاتھوں سےپیزا بناتی ہوں۔ تعبیر باجی بتارہی تھی کہ آپ کوپیزابہت پسندہے۔ مرزاصاحب عادل کی صورت میں بیٹےکی کمی پوری ہوتے دیکھ رہے تھے اوراریبا، عریشہ عادل بھائی، عادل بھائی پکارتے نہیں تھکتی تھیں۔رات کا کھانا کھانے کے بعد تعبیراورعادل نے واپس آنےکے لئے اجازت لی اورواپسی کے لئے رخت سفرباندھا! آدھارستہ کٹ گیاایک انجانی سی خاموشی تھی، عادل بہت سنجیدگی سے گاڑی چلارہاتھا۔ تعبیر نےسکوت توڑتے ہوئے ،جھجکتے ہوئے پوچھا، عادل! آپ برانہ مانیں توایک بات پوچھوں ؟جی پوچھیں۔ میں بہت کنفیوزہوں۔کیوں؟آپ کیوں کنفیوز ہیں ؟آپ کےرویے کولےکر؟اچھاکیا ہوا میرے رویے کو؟ہماری شادی کوایک مہینہ ہوگیاہے۔ آپ نے ایک دن بھی مجھ سےپیارسے بات نہیں کی ،مجھ سےمیرا حال  تک نہیں پوچھا، میں تو آپ کی بیوی ہوں، میرے بھی تو بہت سے ارمان ہیں، لیکن  نہ جانے ابھی تک ہمارے درمیان یہ فاصلہ کیوں ہے؟اب تومیرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آتے ہیں۔کیاآپ کسی اورکوپسندکرتے تھے ؟کیایہ شادی آپ کی مرضی سے نہیں ہوئی؟تعبیر توپوچھےجارہی تھی. اورعادل چپ چاپ گاڑی چلاتا رہا۔ نہ تسلی اورنہ تشفی، نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ تعبیر! آپ بہت اچھی  ہیں۔بس یہی کہہ کر پھر چپ سادھ لی۔ گھر پہنچ کر تعبیر خودکو کسی حدتک پرسکون محسوس کررہی تھی کہ  اس کےدل میں جوخدشات اوروسوسے تھے وہ عادل سے شیئر کرچکی تھی اورتوقع کررہی تھی کہ عادل اس کی فیلنگز کوسمجھ گئےہوں گے۔تعبیر نماز عشاء ادا کرکے بیٹھی  ہی تھی کہ عادل نےکہاکہ تعبیر! دراصل میں اپنےکاروبار میں نقصان کی وجہ سے بہت پریشان ہوں. میں گھر میں کسی کوپریشان نہیں کرنا چاہتا، مجھے خود بھی اپنے رویے پرشرمندگی ہے۔ کہ آپ میری بیوی ہیں  اورآتے ہی میں نے آپ کو ذہنی دباؤ اورپریشانی کا شکارکردیا۔ عادل کاہاتھ تھامے محبت کی دیوی تعبیر دلاسہ دیتے ہوئے کہنے لگی۔عادل! میں آپ کی شریک حیات ہوں، زندگی کے سفر میں ہرہر مشکل میں آپ کی ساتھی ہوں۔ آپ کے لئے سکون کاجزیرہ ہوں گی۔ آپ کبھی بھی خودکو تنہا مت سمجھئےگا۔ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں۔ عادل نے تعبیر کو گلےلگایا، اورتعبیر کےدل میں عادل کی محبت دوچند ہوگئی۔ اسے ہرطرح کی بےانصافی اور بےاعنتائی بھول گئی اوردل میں صرف عادل کی محبت اوراطاعت گزاری کاجذبہ آگیا۔ دوسری طرف عادل نے اپنے جھوٹ سے تعبیر کورام کرلیاتھا، اورپھرسوگیا۔

شادی کودو مہینے گزرچکے  تھے ۔ایک دن تعبیر کی چھوٹی بہن عریشہ کافون آیاجو ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر میں تھی ۔بہنوں  میں دوستی تھی۔ تعبیر باجی! عادل بھائی کیسے ہیں ؟ آپ دونوں کے ازدواجی تعلقات کیسے ہیں ؟آپ کےعادل بھائی بالکل ٹھیک  ہیں  اور آفس گئے ہوئے ہیں ۔ازدواجی تعلقات بھی ٹھیک ہیں شکرہے اللہ کا۔

تعبیربیٹا! ہمیں کب خوش خبری سنارہی ہوپھر پوتے پوتی کی ؟شاہدہ نےمسکراتے ہوئے پوچھا! تعبیر شرماکےرہ گئی ۔شادی کے چار ماہ گزرگئے۔ عادل تعبیر کے ساتھ اچھا وقت گزارنے لگا۔ لیکن بیوی کےحقوق زوجین ادا کرنے سے کترانے لگا۔ ساس اورگلی محلے کی خواتین کے منہ سے خوشخبری، خوشخبری کےالفاظ نے تعبیر کوچونکادیا، اورپریشان تعبیر! فون پراپنی بہن عریشہ سے بات کرنے لگی، بات کرتے کرتے عریشہ نے تعبیر سے عادل اوراس کے تعلقات کے بارے میں پوچھا کہ شادی کوچارماہ گزر گئے ہیں تو کیا ہوا؟اللہ اپناکرم کردےگا۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا۔ عریشہ نے تعبیر سے میڈیکل کےحوالے سے کچھ تحقیقاتی باتیں پوچھیں جوکہ چونکادینے والی تھیں۔ اس نے تعبیر سے اپنا اندیشہ اور خدشہ ظاہر کیا۔ چارماہ گزر گئے ہیں اورعادل بھائی آپ کے قریب تک نہیں آئے تو بچہ کہاں سے آئے گا۔ آپ آنٹی شاہدہ کوساری بات کھل کر بتا دیں  تاکہ آپ کومورد الزام نہ ٹھہرایا جائے۔ تعبیر کے لئے عریشہ کی باتیں کسی دھماکے سے کم نہ تھیں۔ تعبیر باجی! آپ فورا اس مسئلے کو سلجھائیں اور اس بات کی تہہ تک جائیں کہ آخر وجہ کیاہے؟اورآپ اس گھر کی نوکرانی نہیں ہیں۔کہ سارادن گھر والوں کی خدمت کریں اوررات کو شوہر کے پاؤں دباکر سوئیں جب تک ازدواجی تعلقات ہی قائم نہ ہوں۔ کیاشوہراورکیا بیوی۔ عریشہ عمر میں تو تعبیر سے چھوٹی تھی لیکن تعبیر سے کہیں زیادہ میچیور تھی۔عریشہ نے تعبیر کو خوب جھنجوڑا اورخود اعتمادی سے حقیقت تک رسائی کامشورہ دیاکہ اگرکوئی ایسا ویسامسئلہ ہے تو آپ اپنی زندگی کااتناقیمتی وقت کیوں                     ضائع کریں۔                                                                                                   تعبیرسارا دن تذبذب کاشکاررہی اورعریشہ کے مشورے پرعمل کرنے کی ترکیب سوچنے لگی۔ گھرکے تمام کام کاج نمٹاکےاپنےشوہرعادل کاانتظار کرنے لگی۔ تعبیر کے ذہن میں کبھی ساس اورعورتوں کی باتیں گونجتی اورکبھی عریشہ کی باتیں چونکانے لگیں۔ اتنے میں  دروازہ کھلا اور چہرے پرسنجیدگی کی چادر  سجائے  عادل داخل ہوا۔ تعبیر اب عادل کی ہر حرکت پر غور کرنے لگی۔ وہ اس قدر سنجیدہ رہتاکہ مارے خوف کے ،تعبیر عادل سےبے تکلفی سے کوئی بات ہی نہ کرپاتی تھی۔ شادی کےچار مہینے گزرنے کے بعد بھی وہ دو اجنبیوں کی طرح رہ رہے تھے۔ تعبیر جب بھی عادل کے قریب آنے کی کوشش

 کرتی ،تو  وہ بہانے بہانے سے اس  سے دور چلا جاتا۔ کبھی رات گئے تک نوافل پڑھتارہتا اورکبھی کسی کتاب کے مطالعے میں گھنٹوں بیٹھا رہتا۔تعبیر تھک  ہار کر سو جاتی۔

چنددن مزید گزرےتو تعبیر نے یہ سوچے بغیر کہ میں ایک عورت ہوں اورعورت کے منہ سے حقوق زوجین کی بات کو کیسا سمجھا جائے گا عادل سے براہ راست اس کی ماں کی خواہش کا اظہار کردیا۔ عادل میں بہت پریشان ہوں ۔آخر وجہ کیاہے؟ آپ اپنے کاروبار کی وجہ سے پریشان ہیں ؟امی کو پوتا چاہیے، میں کیا کروں ؟ میں کیا جواب دوں ؟ مجھے کیوں گھروالوں کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے آپ نے؟   تعبیر کی آنکھیں  بھرآئیں ، اورآنسو پونچھنے لگی۔ عادل! قصوروار ہمیشہ عورت  ہی سمجھی جاتی ہے۔ آپ کو تو کوئی کچھ نہیں کہےگا، نہ پوچھے گا، سارےسوال تو مجھ سے کیے جانے ہیں۔

تعبیر!  عادل کچھ سوچتے ہوئے رک رک کربولا، مجھے تمہارا ساتھ چاہیے میں خود بہت پریشان ہوں۔ میں جانتاہوں کہ آپ ایک تعلیم یافتہ اورخوبصورت نیک سیرت لڑکی ہیں۔ میں اورمیرے گھر  والے آپ سےبہت  خوش  ہیں۔ آپ کی فیملی بہت سادہ اورشریف ہے۔ دراصل میں جسمانی طور پر کچھ کمزوری محسوس کرتاہوں اورمیں ایک مشہور اور مستند حکیم صاحب سے دوائی لےرہاہوں۔ انہوں نے ہی مجھے چار مہینے پرہیز کرنے اوردوائی کھانے کو کہا ہے۔ میں نے کاروباری نقصان کے بارے میں آپ  سے  جھوٹ بولاتھا۔

تعبیر خاموشی سے سنتی رہی، بس اتنا کہاکہ آپ مجھ سے جھوٹ کہہ رہے تھے۔ عادل نے ایک مرتبہ پھر چکنی چپڑی باتوں سے تعبیر کو مطمئن  کرلیا۔ دن گزرتے   رہے،تعبیر نے نمازکے بعدسجدے میں گڑگڑا کر دعامانگی.،یااللہ! میرے حال پر رحم فرما۔ میرے ماں باپ کو کوئی دکھ نہ دکھانا، یااللہ !مجھ پر میرے شوہرکی حقیقت کھول دے۔ روتے روتے جائےنمازپرہی سوگئی۔ حمیدہ اورمرزا صاحب تعبیر سے ملنےآئے۔ اورتعبیر ماں کےگلےلگ کربہت روئی، کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ حمیدہ پریشان ہوگئی,،بیٹا!کیابات ہے؟آپ اپنے گھر میں خوش توہیں ناں؟

جی امی جان میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آنکھوں میں آنسو اورہونٹوں پرمسکراہٹ سجائےتعبیر نےماں کو تسلی دی۔ حمیدہ بیگم کے چہرے پرپریشانی نمایاں ہوگئی۔ دل ودماغ میں وسوسوں نے ایک طوفان برپاکردیا۔ حمیدہ بیگم کسی سے کیا کہتی اور کیا سنتی۔ تمام خدشات اورلاڈلی بیٹی کادکھ لیے خاموشی سے ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئی۔

تعبیرمرزاصاحب کے لئے ان کی پسندکے گرماگرم پکوڑے، چائے اورقلاقند برفی ٹرالی پرسجائے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔ میری پیاری تعبیربیٹی! ہمارے گھر کی رونق بھئی! تمہارے آجانے سے سونی سونی ہوگئی ہے۔ لیکن خوشی اس بات کی ہےکہ ہماری بیٹی اپنےگھر میں بہت خوش ہے۔ اوراللہ بیٹیوں کوان کےاپنے گھروں میں شوہروں کے ساتھ سلامت اور خوش رکھے.۔کسی ماں باپ کو ان کی اولادکادکھ نہ دکھائے۔

مرزاصاحب دعائیں دینے لگے۔ اورتعبیراپنے  باپ کے کندھے سے لگ کر بہت خاموشی سے بیٹھی سب گھر والوں کی باتیں سن رہی تھی۔ حمیدہ بہن جب سے تعبیر اس گھر میں آئی ہے مجھے تو کچھ کرنے نہیں دیتی۔ کسی کام کوہاتھ نہیں لگانےدیتی۔ نہ جانے کون سے لوگ ہیں جو بہوؤں کی برائیاں کرتے ہیں۔ ہم تو بہت خوش قسمت  ہیں  کہ تعبیر ہماری بہو نہیں بیٹی ہے۔ اورپھر میرا عادل بھی تولاکھوں میں ایک ہے۔ بس اب تو ہروقت یہی دعاکرتی ہوں کہ گھر میں ننھے منے پوتے کی چہکارسنوں۔گھربارمیں رونق ہوجائے مجھے بھی کوئی دادی کہنےوالاآجائے۔ حمیدہ بیگم زندگی کاکیا بھروسا، اللہ اتنی مہلت دے کہ میں اپنے عادل کےبچوں کوگودمیں کھلا لوں . توچلوں۔ تعبیرچپکےسے ڈرائنگ روم سے اٹھ کراپنےکمرےمیں چلی آئی ۔ حمیدہ بیگم کو تشویش لاحق ہوچکی تھی جی جی انشاءاللہ شاہدہ بہن۔ یہ توہرماں باپ کی خواہش ہوتی ہے۔ انشاءاللہ اللہ پاک ہمارے بچوں کوبھی اس دولت سے نوازےاورصاحب اولادکرے۔ باہمی گفت و شنید کا سلسلہ اذان عصرپہ منقطع ہوا۔ حمیدہ بیگم نمازکی غرض سے اٹھیں اورادھر ادھر تعبیر کونہ دیکھ کرآوازدی۔ تعبیر بیٹا! کہاں ہو؟ جی امی! میں اپنے کمرےہوں۔ آپ اوپرمیرے کمرے میں ہی آکرنمازپڑھ لیں۔ فرسٹ فلورپرکمرہ تعبیرکے لئے مخصوص کیاگیاتھا۔ حمیدہ بیگم وضوکرکےسیڑھیاں چڑھتے  تعبیرکےکمرے میں آن  پہنچیں ۔ خون کی لالی کی طرح لال  لال سوجھی ہوئی آنکھیں دیکھ کرحمیدہ بیگم کاکلیجہ کٹ کررہ گیا۔ سینےسے لگتےہی تعبیرکےدل میں ناآسودگی کاسمندرٹھاٹھیں مارتا اشکوں کی مانندبہنےلگا۔ لیکن ہونٹوں پرخاموشی کےقفل لگےہوئے تھے۔ حمیدہ بیگم بیٹی  کو اس  حالت میں دیکھ کرتڑپ کررہ گئی۔ دیکھوبیٹا! ماں بیٹیوں کی سہیلی ہوتی ہے دوست ہوتی ہے کیابات ہے؟کیادردہے؟مجھےتوبتاؤ؟بیٹاکچھ توبتاؤ۔ تمہیں پتہ ہے ناں کہ تم ہماری بہت لاڈلی بیٹی ہواورتمہاری آنکھوں میں آنسونہیں دیکھ سکتے ہیں ہم۔ تعبیرسسکیوں اور ہچکیوں سے دل کاغبارمٹارہی تھی۔

آنکھیں صاف کرتےہوئے ماں کوپریشان دیکھ کرحوصلہ دیتے ہوئے کہا! ارے امی  جان! آپ سےدل بہت اداس تھا ابواورآپ سب بہت یادآتے ہیں ۔آنکھیں جھپکتے، چہرےکے تاثرات نارمل کرتےہوئے مسکرانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ماں کو مطمئن کردیا. بیٹا! اگریہی بات ہے توبہت احمقانہ بات ہے آپ سمجھ دار ہو،دل اداس تھا توعادل کے ساتھ ملنےآجاتی، امی جان آکیسے جاتی، عادل توبہت اچھے ہیں۔ میں کہتی توضرور آپ سے ملوانے لےآتے ۔لیکن آپ کوتوپتہ ہے کہ مجھے اپنے سسرال میں بھی ایڈجسٹ کرناہے۔ اورپھرآپ کی تربیت پہ کوئی حرف آئے، مجھ سے کسی کوشکایت ہویہ مجھے کیسے  گوارا ہ ہو۔ آپ کی تمام نصیحتیں مجھے ازبرہیں۔ اس لئے آپ بالکل فکرمند نہ ہوں۔ میں اپنے گھر میں بہت خوش ہوں۔ شاہدہ آنٹی میرا بہت خیال رکھتی ہیں بس اب انھیں پوتےپوتی کی خواہش کچھ معمول سےزیادہ ہونےلگی ہے۔ اس لئے کچھ پریشان ہوجاتی ہوں۔

اوہو! تعبیر بیٹا! اس میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟اللہ کی دین ہے، اللہ بہتر کرےگا۔ اس  پہ توکل کرو۔ بےشک وہی نوازنےوالاہے۔ ہمارا کام ہے اسی سےمانگنا،دعاکرنا،اوروہ مالک ہے، آقاہے، اس کا کام ہے دینا۔اس لیے ہمیں ہمیشہ اچھا گمان ہوناچاہیے۔ اب میں کبھی تمہاری آنکھوں میں یوں آنسوؤں کی جھڑی نہ دیکھوں۔ اچھی خاصی سمجھدارہے میری بیٹی! اوردیکھوذرا! ماں باپ سے دل اداس ہے اور روروکربراحال کرلیا۔ تعبیر کوپچکارتےہوئے حمیدہ بیگم نے پیار سے کہا! کہ اتنے میں مرزا صاحب اورعادل بھی کمرےمیں آگئے۔ تعبیر کااداس چہرہ دیکھ کرمرزا صاحب نے کچھ نہ کہنا ہی مناسب سمجھا۔ تعبیر بیٹا! اب ہمیں اجازت دو۔ گھر میں تمھاری بہنیں ہماراانتظار کررہی ہوں گی۔ باباجان! اپنا بہت زیادہ خیال کیا کریں۔ بیٹا اگرتم یوں اداس رہو گی اور آنکھوں میں آنسو ،توکیاجی پائیں گے  آپ کے  باباجان۔ جذباتی منظردیکھ کرعادل بولا! باباجان آپ کیسی باتیں کررہے ہیں ؟اللہ آپ کو عمر خضر عطافرمائے۔ آمین  کہتے ہوئے شاہدہ بیگم بھی تعبیرکےکمرے میں آگئی۔ اوریوں دعاؤں اورقہقہوں کی گونج میں حمیدہ بیگم اور مرزا صاحب نے اجازت لی اور  رخصت ہوگئے۔ عادل، تعبیر اورشاہدہ بی بی رسم مشایعت نبھاتے ہوئے دروازےتک آئے،خداحافظ کے الفاظ دونوں  طرف سےادا ہوئے اورگھر والے اپنے گھر میں رہے اورجانے والے اپنے گھر  کو روانہ ہوگئے۔

ماں رب کی ایک ایسی تخلیق ہے جواپنےوجود سے اپنی اولاد کوتخلیق کرتی ہے۔ اس کے جسم کا حصہ ہوتی ہے۔ دکھ سکھ، ہرتکلیف فورا محسوس کرنے کی خوبی سے متصف ہوتی ہے۔ اپنی اولاد کی محافظ اورڈھال بننے کی ہرممکن کوشش کرتی ہے۔ مامتا کےجذبے سے سرشار حمیدہ بیگم کے دل کی بےچینی نے جیسے دل ودماغ میں گھر کرلیاہو۔بناکچھ بات  کہے  حمیدہ بیگم نے مرزاصاحب کے ساتھ گھر کارستہ طےکیا۔ حمیدہ بیگم کی پریشانی وبےچینی اور اضطراری کیفیت کومحسوس تو مرزا صاحب بھی کررہے تھے لیکن مصلحتًا خاموش تھے۔

عورتیں توآنسوؤں کی صورت میں روکر کتھارسس کرلیتی ہیں لیکن مردبےچارے رو بھی نہیں سکتے۔ کہ مردانگی اوربہادری کاتقاضا بھی یہی ہے ۔ڈور بیل کی آواز سنتےہی عریشہ نے دروازہ کھولا۔ باباجان! میرے پیارے باباجان! شکرہے آپ توآپی کے پاس جاکر ہمیں بھول ہی جاتے ہیں۔ کیاحال تھا آپی کا؟ عادل بھائی کا؟آج آپ کے لئے میں نے آپ کی من پسند ڈش بنائی ہے آپ کوپتاہے کیا؟قیمے بھرے کریلے لے لے لے لے لے! کریلے واہ بھئی واہ! عریشہ بس بس بریک پہ پاؤں رکھو! بیٹا! سانس تولےلو! اورسانس لینے بھی دو۔ بھئی ہم گھر آگئے ہیں۔ ایک سانس میں اتنی باتیں! مرزاصاحب بیٹی کےلاڈ کاجواب ہزار گنا لاڈپیار سے دےرہے تھے کہ مرزاصاحب کی دنیا ہی ان کی بیٹیاں اورجیون ساتھی حمیدہ بیگم تھی۔

حمیدہ بیگم نے گھر آکر نماز مغرب اداکی اور دعاکے لئے ہاتھ اٹھےہی تھے کہ نگاہوں میں تعبیر کاچہرہ گھوم گیا،اورحمیدہ بیگم بھی گڑگڑاکر تعبیر کی خوشیوں اورپرسکون   زندگی کی دعائیں مانگتے مانگتے جائےنماز پر ہی سجدہ  ریز  ہوگئی۔ اورنہ جانےکب آنکھ لگ گئی۔ امی امی آپ ٹھیک تو  ہیں نا؟سائرہ نے گھبراکر آوازدی توحمیدہ بیگم ہڑبڑاکراٹھ گئیں ،چہرے پر تشویش کےاثرات نمایاں دکھائی دے رہے تھے۔ سائرہ نے پریشان ہوکر پوچھا! امی جان! سب خیریت ہے ناں؟آپی ٹھیک ہے؟خوش ہے؟کیابات ہے؟آپ جب سے آئی  ہیں ، بہت خاموش ہیں ؟کسی سےکوئی بات بھی نہیں کررہیں ؟بیٹامیں ٹھیک ہوں۔ آج تعبیر کوبہت روتے ہوئے دیکھاہے نہ جانےکیا دکھ ہے؟میری بیٹی کو۔ اس سے پوچھا توبتانے لگی کہ بہت اداس ہے۔ سائرہ سےبات کرکے حمیدہ بیگم کی پریشانی قدرے کم ہوئی۔ سائرہ نے بھی ماں کوتسلی دی۔امی آپ پریشان نہ ہوں۔ میں آپی سے خود پوچھوں گی۔ اورآپ بھی بھروسہ رکھیں ۔ ہماری آپی بہت عقل مند اور معاملہ فہم ہے۔ واقعی میں ہوسکتاہے کہ ان کا دل اداس ہو۔ ہاں اللہ کرے ایساہی ہو۔ سائرہ اپنی امی کولینے گئی کہاں رہ گئی ہوبیٹا؟ڈائنننگ ٹیبل پر سجا ہوا کھانا اورپھر آپ کے   پیارے  پیارے ہاتھوں سے پکے ہوئے  میرے پسندیدہ قیمہ بھرے کریلے ڈونگے میں پڑے پڑے آپ کےانتظار کی گھڑیاں گنتے تھک گئے ہیں اور حمیدہ بیگم صاحبہ کے منتظر ہیں۔ جی جی باباجان! بس آگئے، آگئے، میں بھی اورمیری امی جان بھی،کھانے کی میزپر مرزاصاحب اپنی بیٹی کے ہاتھ کے بنے ہوئے کریلوں کی تعریفوں کے پل باندھنے میں دن دگنی رات چوگنی ترقی جیسی باتیں کررہے تھے۔ اورپہلی باربہترین پکانےپر 500روپیہ انعام بھی دےدیا۔ تاکہ بچی کی حوصلہ افزائی ہو۔کھاناکھانے کے بعد عریشہ،اریبا،انعم اوررخسار  اسٹڈی روم میں اپنی اپنی پڑھائی میں مشغول ہوگئیں  اورسائرہ کچن میں برتن سمیٹنے لگی۔ مرزاصاحب بھی اپنے کمرے میں چلے گئے لیکن حمیدہ بیگم بہت کھوئی کھوئی سی دکھائی دےرہی تھیں۔ ایک ہی بات ستارہی تھی کہ تعبیر تو بہت سلجھی ہوئی سمجھ دار بچی ہے۔ اتنی سی بات پہ اتنی دلخراش کیسےہوگئی ؟دو دن گزرے مرزاصاحب نے بھی حمیدہ بیگم کوسمجھایا کہ بیگم پریشان کیوں رہنے لگی ہو؟جب سے تعبیر کے گھرسے آئے ہیں کچھ بدلاؤ دیکھ رہا ہوں۔ وہ بھی اداس تھی۔ کچھ سہمی سی تھی، میں نے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا اورپھر مائیں بیٹیوں کےزیادہ قریب ہوتی ہیں وہ بلاجھجک اپنے مسائل باپ کی نسبت ماں سے شئیر کرنے میں آسانی اور سہولت سمجھتی ہیں۔ سب خیریت توہے ناں بیگم ؟جی جی، مرزا صاحب! میرا دل بھی کچھ عجیب سااٹکا ہوا ہے۔ تعبیر میرے گلےلگتے ہی زاروقطار رونے لگی میراتو کلیجہ ہی کٹ گیا پوچھاتوبتانے لگی کہ آپ اور باباجان سےدل اداس تھا۔ آج آپ لوگ آگئے ہیں تودل بھرآیا کہ ایک وقت وہ ہوتا ہے جب ماں باپ ہروقت لاڈ اٹھاتے ہیں۔ ساتھ کھاناپینا، رہنا، زندگی کی ہرخوشی وغمی میں ساتھ ہونا، باپ بیٹیوں پہ جان قربان کرتا، ماں بلائیں لیتے نہیں     تھکتی۔ اوراللہ نےبھی کیسا نظام بنایا ہےکہ شادی کےبعد ماں باپ سے ملنے کوبھی ترسناپڑتاہے۔ جب جی چاہے ان سے ملا نہیں جاسکتا۔ جب اجازت ملےتو اپنےماں باپ کی قربت   نصیب ہوتی ہے۔ بصورت دیگر ،نہیں۔ ہاہاہاہاہا! کھوداپہاڑ نکلاچوہا۔ بیگم اب ہم کیاکہیں ؟ہنستے ہنستے مرزاصاحب کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ بیگم دل بڑاکرو۔ اوریہ کوئی بات ہے پریشان ہونے والی۔ پچھلےتین دن سے دل کسمسارہی ہو۔ میں خود اندرہی اندرپریشان ہوں کہ آخرکیاوجہ ہے ؟حمیدہ بیگم بھی پریشان اور تعبیر کی آنکھوں میں آنسو ؟اللہ خیر کرے۔دیکھو میری پیاری بیگم! یہ تو ازل سے نظام قدرت ہے اورتاابد رہے گا۔ بیٹیاں تو پیغمبروں، ولیوں اوربادشاہوں کی بھی گھر نہیں رہتی توہم کس کھیت کی مولی ہیں۔ آپ آئیں اوراب آپ کی بیٹی تعبیر کل کو  وہ اپنی بیٹی کی شادی کرے گی یونہی سلسلہ کائنات چلتارہے گا۔ آپ حوصلہ کرو۔ اس کی بھی ہمت بڑھایاکرو۔ اب اسکا اصل گھر وہی ہے اپنادل وہیں لگائے۔ اللہ اسے اپنے گھرمیں خوش وخرم رکھے۔ اورآپ بھی  سب غم والم  جوتین دن سے گٹھری میں جمع کرکے رکھےہیں ان سےجان چھڑائیں  اوراپنے ہونٹوں کی ہنسی اپنے چہرے پہ واپس سجائیے کہ آپ کے دم سے ہی تو ہماری زندگی کی رونقیں ہیں اورمہربانی کرکے انہیں بحال کریں۔ حمیدہ بیگم کاچہرہ گلاب کے پھول کی مانند کھل اٹھا۔ مرزا صاحب !میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ جیسے عظیم انسان کاساتھ ملا۔ میرارب   آپ کاسایہ ہم سب پر سلامت رکھے۔آمین! چاروں بیٹیوں نے باآواز بلند (آمین) پکارا۔ پورے گھر میں آمین، آمین کی آوازوں کی گونج میں مرزا صاحب اپنے ایک دوست سے ملنے چلے گئے اوراب حمیدہ بیگم بھی فریش لگ رہی تھیں ۔ اپنے وسوسوں اوربدگمانیوں کوجھٹک کر، اللہ سے اپنی بیٹیوں کے اچھے نصیب کی دعاکرنےلگیں ۔

تعبیر! آپ کیا ثابت کرنا چاہتی  تھیں  اپنے والدین کےسامنے روروکر کیادہائیاں دی جارہی تھیں۔ آپ کو کچھ اندازہ ہے کہ میری امی کتنی پریشان ہیں کہ حمیدہ آنٹی کیاسوچتی ہوں گی ہمارے بارے میں، کہ شاید ہم آپ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ کیاکمی ہے آپ کواس گھر میں ؟آئندہ میں آپ کو اس طرح روتے ہوئے نہ دیکھوں۔ چاہے آپ  کتنی تکلیف میں ہی کیوں نہ ہوں۔ میں اپنی ماں کو پریشان نہیں دیکھ سکتا۔

عادل کایہ روپ تعبیر نے آج پہلی مرتبہ دیکھا۔ اتنی بےحسی اوراتنا غیر لچک  دار لہجہ؟شادی کےدس مہینے میں کبھی کوئی فرمائش نہیں، کوئی نافرمانی وگستاخی نہیں، صرف خدمت اورصرف خدمت گزاری۔ عادل آپ کی نظرمیں میرے آنسواورمیرے دکھ کی کوئی وقعت نہیں ؟کاش اتناتواحساس کرلیتے آپ؟میرے دل میں بھی بہت سی خواہشات تھیں۔ بہت سے ارمان تھے۔ اپنے آپ سے عہدوپیمان باندھ چکی  تھی کہ محبت کروں گی توصرف اپنے شوہر سے، چاہوں گی تو صرف اپنے مجازی خداکو، کبھی اس کولاڈ دکھاؤں گی، کبھی وہ میری اداؤں پرقربان ہوگا۔ میں نے تو اپنےماں باپ کوایک دوسرے کا ساتھی بنتے دیکھا تھا۔۔ اوراپنے شوہر کے لئے محبت کاجال بن کر محبتوں کے حصار میں لائی تھی۔ لیکن عادل آپ نے میری خواہشات کے محل کوچکنا چورکردیاہے۔ آپ کی بےحسی اورسنگدلی نے میرےدل اورمیرے جذبات کوکچل دیاہے۔ دل ماتم  کدہ  بن  گیا ہے اور رونے کی بھی اجازت نہیں مجھے۔ خودسے جنگ کرتی تعبیر سوچتے سوچتے منتشر خیالات سے صرف اتناکہہ سکی۔ آئی ایم سوری! عادل! آئندہ ایسا نہ ہوگا۔ امی ابو کو دیکھ کربس دل بھرآیاتھا۔

دل بھرآیاتھا؟آپ بچی ہو؟سارے لوگ بیٹیوں کی شادیاں کرتے ہیں ۔آپ کی شادی کوئی انوکھی ہے یاآپ کوئی زمانے سے نرالی لڑکی ہیں ؟چپ چاپ گوشمالی کراتی ہوئی تعبیر آنسو خشک کرتے ہوئے ،عادل کے لئے چائے بنانے چلی گئی۔ عادل! کاش آپ مجھے ایک مرتبہ تواپنی بیوی سمجھ کر میرے دکھ کو سمجھتے۔میں نے تو کبھی سوچاتک نہ تھا کہ میں یوں بن بیاہی زندگی بھی گزاروں گی؟چولھےپر چائے کے لئے رکھا گیاپانی جل جل کرخشک ہوچکاتھا اورجلنے کی بو محسوس کرتے ہوئے شاہدہ بیگم نے امریکن طرزکے بنے ہوئے کچن میں کھڑی تعبیر کی توجہ چائے کی جانب دلاتے ہوئے چونکادیا۔ بیٹا!  کیا  بات ہے ؟چائے بنارہی ہواوردھیان کدھرہے؟ نہیں نہیں! امی جان جی ادھرہی ہوں۔ جی جی سب ٹھیک ہے بس ذراساسر میں درد ہے۔ عادل اورتم چائے پی کر ڈاکٹر سے چیک اپ کرالو۔ جی امی جان، جی بہتر!

 تعبیر اپنی ذات کی کرچیوں سے لہولہان عادل کے لئے چائے کے ٹرےکے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی حسب  معمول عادل موبائل میں مصروف  تھا۔عادل! عادل! چائےپی لیجیئے۔ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ عادل اس کمرے میں ٹیـ وی،موبائل اورکتابوں کے علاوہ بھی کوئی رہتاہے؟میں کوئی پتھر نہیں ہوں، آپ کی بیوی ہوں، مجھے بھی آپ کی ضرورت ہے۔ میرا بھی جی چاہتاہے  کہ  آپ گھر لوٹیں تومیری طرح آپ بھی میرے منتظر ہوں۔ مجھ سے باتیں کریں، کچھ میراحال سنیں اور کچھ سنائیں۔ سارادن گھر کے کاموں میں اورآپ کے انتظار میں گزرجاتاہے۔ اورآپ لوٹتے ہیں تو کوئی بات تک نہیں کرتے ہیں اورنہ سنتے ہیں کبھی تومجھے بناکہے محسوس کریں، کہ امی کہتی ہیں میاں بیوی تو ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کالباس ہوتے ہیں ۔آئینے کی طرح ایک دوسرے کاعکس  ہوتے ہیں ۔لیکن یہاں تو تمام باتیں کھوکھلی اور جھوٹی ثابت ہو رہی ہیں یا شاید میں ہی بد قسمت ہوں؟                                                                           تعبیر آج دل کاتمام غبار ہمت کرکے باتوں اور آنسوؤں کی صورت میں نکال رہی تھی، کاش عادل محسوس کرسکیں۔ کوئی اورہوتا تواس نرم وملائم گوری رنگت والی نازنین کی داستان الم سن کر موم کی طرح پگھل جاتااور اپنے  کیے پر شرمندہ ہوتا ۔لیکن نہ جانےعادل کس مٹی کابناہواتھا؟اپنی تقریر بندکریں تعبیر.! تقریر! عادل یہ تقریر ہے؟بڑےدکھ کی بات تھی اورآپ نےہنسی میں اڑادی۔ عادل کے الفاظ تعبیر کےدل ودماغ پرہتھوڑے کی طرح لگے جنہوں نے تعبیر کوہمیشہ کے لئے خاموش کردیا۔ شکوے شکایتیں نہ رہی تھیں۔ وہ گھر والوں کے سامنے تو شاہدہ بیگم کی لاڈلی بہواورعادل کی لاڈلی بیوی تھی لیکن حقیقت میں وہ گھر میں گھر کےکام کرنےوالی آیا  /نوکرانی تھی۔ تعبیرنے بناؤ سنگھار چھوڑ دیا۔ عبادت گزاری میں مزیدپابند ہوگئی۔ عادل کی خدمت میں اس نے کوئی کمی نہ کی۔ وقت گزرتاگیا۔ سسرالی رشتہ دار، گلی محلے کی خواتین جو گھرمیں  آتیں،ان کی طرف سے  اولاد جننے کاتقاضا بڑھ ساگیا کبھی توبانجھ پن کے طعنے ملنے لگے، کبھی گنہگاروں کی طرح دنیا والوں کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑتا تو کبھی ترس اوربےچارگی کے احساسات روح تک کوگھائل کرکےسب کی نظروں میں چھوٹا کردیتے۔ کوئی حقیقت نہ جانتاتھا۔ اورشایدجان بھی نہ سکتاتھا۔ عادل بظاہرتعبیر کی ہر خواہش پوری کرنے والا، لاڈ  اورپیار کرنےوالا، ہرضرورت کاخیال رکھنے والا شوہر واقع ہواتھا،. کہ جس کاخواب اورخواہش ہرلڑکی کرسکتی ہے۔اورکرتی ہے۔ لیکن کمرے میں جاتے ہی یہ کوئی اورعادل ہوتا۔ تعبیر نے بھی اب اپنے ارمانوں کاگلہ گھونٹ دیاتھا۔ اوروہ عادل سے اب کوئی مزاحمت نہ کرتی۔ وہ جس حال میں خوش رہناچاہتا اس کےآرام وسکون میں بالکل بھی خلل نہ  ڈالتی۔ شاہدہ بیگم نے ناشتے کی  ٹیبل پر  بیٹھے  عادل کوناشتہ کرتے ہوئے اپنی خواہش کااظہار کرتے ہوئے روہانسی سی آواز میں کہابیٹا! گھر بہت سوناسونالگتاہے۔ تمہاری شادی کی تھی کہ گھر میں پوتے پوتیوں کی رونق ہوگی۔ چاردن زندگی کے اپنے بیٹے ،اپنے لخت جگر کے لخت جگر گود میں کھلاتے خوشی خوشی گزارلوں گی۔ لیکن اب تودل کودھڑکالگ گیاہے کہ پتہ نہیں یہ خوشی میری قسمت میں ہے یانہیں ؟اوہو! امی جان! آپ مایوسی کی باتیں کیوں کررہی ہیں ؟ان شاءاللہ آپ ضرور اپنے پوتے سے کھیلیں گی۔ میں نے ایک ڈاکٹر سے بات کی ہے وہ انٹر نیشنل ڈاکٹر ہے۔ میرادوست بتارہاتھا کہ بہت قابل ڈاکٹر ہے کل ہی امریکہ سے واپس آئی ہے سوچ رہاہوں کہ اپائنٹمنٹ لےکر تعبیر کواس کےپاس لےکرجاتاہوں۔ اچھے کی امید رکھاکریں۔ شاہدہ بیگم کےدل کی بات عادل نے خود ہی کہہ دی۔ اوروہ مطمئن ہوکر دعائیں کرنےلگی۔ماں کو خوش کرنے کیلئے دروازےسے داخل ہوتے ہی عادل تعبیرکو آوازیں دینےلگا۔ تعبیر! تعبیر! میری پیاری بیگم صاحبہ ! کہاں  ہیں آپ؟تعبیرکواپنے کانوں میں گونجتی عادل کی آوازمیں اپنانام سننےپر یقین نہ آیا۔ بیٹاتعبیر! جی امی! بیٹاعادل آپ کوکب سےآوازیں دےرہاہے جلدی جاؤ. اچھاتومیراوہم نہیں ہے۔ عادل مجھے آوازیں دےرہے ہیں۔ تعبیرخودکو یقین دلاتے ہوئے سیڑھیاں اترکر لاؤنج  میں آگئی۔ تعبیر! جلدی سےتیارہوجاؤ۔ ہمیں ڈاکٹر کےپاس جانا ہے۔ ڈاکٹر کےپاس ؟کیوں ؟ خیریت ہے؟ آپ ٹھیک توہے ناں؟ہاہاہاہا! بھئی میں ٹھیک ہوں اوربالکل ٹھیک ہوں۔ تمہارے سامنے کھڑاہوں۔ کیا کہیں سے بیمارلگ رہاہوں؟پھرڈاکٹرکےپاس کیوں جاناہے؟ شاہدہ بیگم نے تعبیر کاہاتھ پیارسےدباتے ہوئے اشاروں میں سمجھادیاکہ عادل اورتم نےایک گائناکالوجسٹ کےپاس چیک اپ کیلئے جاناہے۔ عادل اسی لئے تودفتر سے جلدی لوٹ آیاہے۔ تعبیر گومگوکی سی کیفیت کاشکار ہوکر کمرے میں تیار ہونے چلی گئی۔ وہ اب بھی ہررشتے کابھرم رکھے ہوئے   اورہر الزام اپنے سردھرے تیار ہوکر عادل کے ساتھ  مشہور ومقبول گائناکالوجسٹ ڈاکٹر افشین کےپاس چلی گئی۔ گھرسےعادل ماں کی نظروں میں سرخرو  ہونے کے لئے تعبیر کوہاسپٹل  لے کرگیا۔ لیکن آج کےدن  لاہور کے مشہور ریسٹورنٹ بندوخاں  سے کھانا کھلایا۔ ادھرادھر کی باتیں کیں۔ دیکھوتعبیر! تمہیں یونہی میراساتھ دیناہوگا۔ مجھے ابھی بچہ نہیں چاہیے۔ وہ توامی ہروقت اٹھتے بیٹھتے پوتاپوتا،دادی دادی کی رٹ لگائے رکھتی ہیں کہ مجبوراً  مجھے ان کےسامنےڈرامہ کرناپڑا۔ تعبیرایک روبوٹ کی طرح بیٹھی بےحس وحرکت سن رہی تھی ۔وقت کی بےرحمی نے اسے بےجان لاش بنادیاتھا۔ نہ کسی شےکی طلب، نہ خوشی، نہ چاہت ،نہ تقاضا۔ آنکھیں بندکرتی، توڈھلتی عمر کے ماں باپ دکھائی دیتے۔ جوان بہنوں کے مسکراتے چہرے اورماں باپ کی ذمہ داریوں کے انبارتعبیر کوصبر اوربرداشت کی اتھاہ میں دفن کردیتے۔ ڈوربیل سن کر شاہدہ بیگم نے فوراً دروازہ کھولا۔ شکرہے تم لوگ آگئے ہوبیٹا! کب سے انتظار کررہی تھی۔ اورتسبیح پڑھ کر دعائیں کررہی تھی کہ اللہ تعالیٰ جلدی سے میری بہوکی گود ہری کردے۔ امی جان! آپ نے کھانا کھا یا؟ہاں بیٹا! کیاکھایا ؟تعبیرنے آج چکن کڑاہی پکائی تھی  نا۔ تم لوگوں نے بھی کھالیا؟جی امی جان۔آج  آپ کی بہوکو بہترین ڈنرکروایا ہے۔ میں نے شاپنگ کے لئے کہالیکن آپ کی بہو سمجھ دار ہی اتنی ہے کہ کہنے لگی کہ امی بھی ساتھ آئیں گی تو پھر سب مل کر شاپنگ کریں گے۔ تعبیرتو میری پیاری بیٹی ہے سینےسے لگائے شاہدہ بیگم نے پیار کیااورڈاکٹر کےبارے میں پوچھنے لگی۔ عادل نے کہانی جوڑتے ہوئے ماں کو مطمئن کرنے کے لیے کہہ دیا کہ امی جان ڈاکٹر افشین نے ہم دونوں کے ٹیسٹ کروائے ہیں، رپورٹ آنے پر پتہ چلےگا۔اللہ بہتر کرےگا۔ مجھے اپنے رب پر بڑا یقین ہے۔ جی امی! بےشک! میں تو آج بہت تھک گیاہوں شاورلےکر فریش ہوتاہوں۔ اوکےبیٹا! تم آرام کرلو۔ میں بھی سونے لگی ہوں۔ کمرے میں آتے ہی ایک مختلف شخص جس کانام عادل تھاتعبیر کاسامناہوا۔ وہی بےرخی،وہی سنگدلی۔آپ کو یہ سب کچھ کرنے کی کیاضرورت تھی ؟ضرورت تھی اسی لئے یہ سب کچھ کیا۔ میں تھکاہواہوں۔ تم سوجاؤ میں بھی سونے لگاہوں۔ تعبیر نے اپنی شوخ و چنچل زندگی گزارنا چھوڑ دی تھی اب تو زندگی اسے جی رہی تھی لیکن حیف! اپناحال دل وہ کسی سے بھی نہ کہہ سکتی تھی کوئی اس کامحرم راز نہ تھا۔ ماں کوبتانے کاسوچتی تو گھر میں آتابھونچال دیکھتی جواسے کسی صورت گوارا نہ تھا۔ وہ تو زندگی کی بےرحمی کی چکی میں پسی جارہی تھی۔ اورہونٹوں پرقفل بندی تھی۔

                        نہ جانے کس جرم کی پائی ہے سزایاد نہیں

تعبیر! نہ دنیاوالوں سےشکوہ کرتی، اورنہ دنیاسے، نہ لوگوں سے، نہ اپنے پالن ہارسے،  ہفتہ گزرگیا۔ شاہدہ بیگم کےدماغ میں ڈاکٹر کا خیال نقش تھا۔ عادل! ابھی تک رپورٹس نہیں آئیں کیا؟ چائے پیتے ہوئے عادل کوغوطہ لگنےلگا۔ جواب دیا۔جی امی آج پتہ کروں گا۔ ہاں بیٹا! میں تو ایک ایک دن گن گن کر گزاررہی ہوں۔ اچھامیری ماں! آج پتہ کرتاہوں۔شاہدہ بیگم کو خوش کرتاعادل ہنڈاسوک   گاڑی میں سوار ہوکر دفتر چلاگیا۔ معصوم تعبیر حسب معمول گھرداری میں مگن تھی کہ شام ساڑھے پانچ بجے عادل منہ لٹکائے گھر میں داخل ہوا۔ شاہدہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی مولانا  طارق جمیل صاحب کابیان “عائلی زندگی اوراس کے حقوق” سن رہی تھی کہ عادل کے چہرےپر اداسی چھائے دیکھ کرٹھٹھک کررہ گئی۔کیاہوابیٹا؟تم ٹھیک توہو ناں؟جی امی جان میں ٹھیک ہوں۔عادل ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے صوفےپر ڈھیر ہوگیا۔تعبیر! عادل کے لئے پانی لاؤ۔جلدی آؤ۔ کہاں رہ گئی ہو؟کیاہوامی؟ کیاہوا آپ کو؟آپ کابلڈ پریشر لولگ رہاہے۔ عادل ماں کی گود میں سررکھ کرعورتوں کی طرح اونچی آواز میں رونے لگا۔ سسکیوں اورآہ وبکامیں ہچکیاں لیتاعادل ماں کے آنچل سے آنکھیں صاف کرتاہوا تسلی دینےلگا۔امی جان! افسوس کہ میں آپ کی یہ خواہش پوری نہیں کرسکتا۔ دنیاکی ہروہ چیز جو پیسے سے خریدی جاسکتی ہے میں اپناآپ بیچ کربھی آپ کے قدموں پہ نچھاور کردوں۔ لیکن میں اولاد کی کمی پوری نہیں کرسکتا۔ امی تعبیر کبھی ماں نہیں بن سکتی۔آج رپورٹس آگئی ہیں آپ کابیٹاتو بالکل تندرست ہے لیکن آپ کی بہو اس کووارث دینےکے قابل نہیں۔ شاہدہ بیگم پر عادل کی باتیں سن کرجیسے سکتہ طاری ہو گیا ہو۔ بیٹے کوسہارا دیتے ہوئے شاہدہ اب خود گرپڑی تھی۔ ذہنی صدمےکا شکار شاہدہ بیگم بےہوش ہوگئی ۔ فورا ًڈاکٹر کوبلایاگیا۔ ڈاکٹر نے نیندکاانجکشن لگاتے ہوئے آرام کرنےکامشورہ دیا اوربتایا کہ کوئی گہری چوٹ ان کے  دماغ کو لگی ہے۔ تعبیر عادل کامکروہ چہرہ دیکھ کر اللہ کے حضور دل ہی دل میں آنسوؤں کی برسات میں گڑگڑاکردعا کرنے لگی یارب العزت! اس شخص کی حقیقت سب پرکھول دے۔مجھ پر بھی کھول دے۔عادل ماں کے پاس بیٹھا  تعبیر سے یکسرادائے بےنیازی برت رہا تھا جیسے تعبیر واقعی میں گنہگار ہے۔ رات کے آٹھ بجے شاہدہ بیگم کو ہوش آگیا۔ تعبیر ایک تابع فرمان بیٹی کی طرح اپنی ساس کے لئے چکن کارن سوپ کاپیالہ لیے کھڑی تھی اورشاہدہ بیگم کے دل کی دنیامیں تعبیر کی محبت میں کھلنے والے پھول اب نفرت کی خار دار تارسے اٹک کر بکھرچکے تھے۔ شاہدہ بیگم اب عادل کی باتیں سن کرایک محبت کرنے والی ماں سےطعن وتشنیع کرنےوالی ساس بن چکی تھی۔ ہرہرلمحہ تعبیرکو شاہدہ بیگم کی نفرت انگیز نگاہوں اورباتوں کاسامنا کرناپڑتا۔ تودوسری طرف عادل اپنی ماں  کےسامنے تعبیر کی حمایت میں علم  بلندکرتادکھائی دیتا۔ ماں تعبیر کاکیاقصورہے؟اس میں۔خداکی دین ہے. کوئی بات نہیں۔ آپ کی اتنی خدمت کرتی ہے۔ گھر گرہستی میں ماہرہے، کوئی بات نہیں زندگی کٹ ہی جائے گی۔ اولاد کادکھ تودنیاکاسب سے بڑادکھ ہے لیکن پھر کیاکریں ؟ برداشت توکرناپڑےگا ناں۔ تعبیرکچن میں کھانا بناتے ہوئے ماں اور بیٹے کی ترس، ہمدردی اورنفرت سے ملی جلی باتیں سن کر اندرہی اندر کٹ رہی تھی۔ کاش! مجھے موت آجائے۔ یااللہ توجانتاہے کہ میں بےگناہ ہوں۔ تعبیر کوواقعہ افک یاد آگیا  توحضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کاصبراوربرداشت کاجذبہ اورحوصلہ یادکرکے خودکو ڈھارس بندھائی اورگہرا سانس لیتے ہوئے اللہ کاشکر اداکیا۔ یااللہ! مجھے حوصلہ عطافرما۔ اورمجھے ہمت دے۔ میرے ماں باپ کو کوئی دکھ نہ دکھانا۔ میں تجھ پر توکل کرتی ہوں، تیری رضا میں میں راضی ہوں۔ تعبیر کھوئی کھوئی سی رہنےلگی۔ خودسے باتیں کرتی رہتی یادیواروں کو تکتی رہتی۔ گھر میں شوہر تھا جوبات کرنا پسند نہ کرتا تھا اورساس بھی اب تعبیر کواپنے بیٹے کی زندگی میں سوائے بوجھ کے کچھ نہیں سمجھ رہی تھی اوراسی کوشش میں تھی کہ جتنی جلدی ہواس عذاب کواس بوجھ کواتار پھینکے۔

اتناسب کچھ ہونے کے باوجود بھی تعبیر کی خدمت گزاری میں کوئی فرق نہ آیاتھا کہ حمیدہ بیگم کی تربیت نے تعبیر کوبہت حوصلہ دیا۔ دوسروں سے توقعات وابستہ کرلینا ہی ہماری ناکامی کاباعث بنتاہے۔ شومئی قسمت ہرپل دل ٹوٹتاہے۔ انسان کڑھتاہے،تڑپتاہے،نہ گلہ کرنےکی اجازت، نہ شکوہ کرنےاور سنانے کاحوصلہ دیاجاتا ہے۔ جب تک ایک انسان دوسرے کی ہاں میں ہاں ملاتاجاتاہے تو تعلقات استوار رہتے ہیں لیکن جب کسی ایک نے بھی کسی بات پر اختلاف کیاتوبرسوں کےتعلقات کھٹائی میں پڑ جاتے ہیں ۔جب کہ ہم سنتے آئے ہیں کہ اختلاف رائے تعلقات کاحسن ہے۔ لیکن افسوس! مجھے توکہیں یہ حسن دکھائی نہیں دیا۔ جوکچھ کتابوں میں پڑھاتھا میں تو اپنی حقیقی زندگی میں بھگت رہی ہوں۔ کتابیں توصرف افسانوی دنیامیں رکھنے کاذریعہ ہیں اصل زندگی کی تلخ حقیقتیں بہت کٹھن ہیں۔سچ کہا ہے کسی نے

life is not a bed of roses               “

مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے ۔زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے۔

تعبیر کےلیےعادل کاگھر سوائے مہمان خانے کےکچھ نہ تھا۔نہ جانےلوگ اتنی جلدی کیوں بدل جاتے ہیں ؟عادل! ابھی تومیرے چاؤ بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ آپ نے مجھے منہ کےبل گرادیا۔گھر میں ڈری سہمی اجنبیوں کی طرح رہنے لگی۔تعبیر کی زندگی عبادت اورگھر کےکام میں گزرنے لگی۔ عادل! تعبیر پر نا کردہ گناہوں کا بوجھ ڈال کر گھر والوں کے سامنے بہت  حد تک سر خرو ہو چکا تھا۔ اس کے چہرے کی طمانیت تعبیر کے چہرے پر گنہگاری کی سیاہی مل چکی تھی۔ لیکن وہ بھی اپنے پختہ یقین کے ساتھ اپنے رب پر توکل کیے ہوئے ہرطنزاور الزام کا سامنا کر رہی تھی۔ ایک دن عادل اپنے اسٹڈی روم میں رات دیر تک بیٹھا رہا۔ رات کے کسی پہر تعبیرکی آنکھ کھلی اور عادل کو بستر پر موجود نہ دیکھ کر ڈر  سی گئی۔ اور سارے گھر میں عادل کو تلاشنے لگی۔ نہ جانے اس وقت کہاں چلے گئے ؟ کہ اچانک اسٹڈی روم کی لائٹ جلتی دیکھی تو چپکے سے دروازہ کھول کر دیکھا کہ شاید  عادل یہیں ہوں۔ اسٹڈی روم میں دائیں جانب شمال کی طرف کتابوں کی  شیلف بنی ہوئی تھی۔ ایک ریوالونگ کرسی اور اسٹڈی ٹیبل کے مخالف سمت میں پڑے ہوئے صوفے پر عادل کو تعبیر نے بہت عجیب حالت میں دیکھا تو  چونک گئی لمحہ بھر کے لیے سکتہ کی کیفیت طاری ہوگئی۔                                                                                            الٹے قدموں چپکے  سے خاموشی سے لوٹ آئی۔گھبراہٹ میں ہی وضو کیا۔ جائےنماز بچھاکر کرسجدہ ریز ہوگئی۔ آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی بہنے لگی۔ ہاتھ دعاکے لئے اٹھے توتعبیر کی آواز بھرآئی۔ ہاتھ لرزرہے تھے۔ اورہونٹوں پر اپنے رب سے کوئی شکوہ کےالفاظ بھی نہیں تھے۔ بلکہ شکر  ادا کیا۔ اے میرے مولا! تیرا لاکھ شکرہے کہ مجھ پرمیرے شوہر کی اصل حقیقت کھل گئی۔اوراسےتو میری ضرورت ہی  نہیں ہے۔ تعبیر نے جائےنماز سائیڈٹیبل پررکھا اورعادل کی الماری کاایک دراز کھلاتھا جوعام طور پر  مقفل ہوتا تھا۔ تعبیر نے کھول کردیکھاتواس میں ایک میڈیکل رپورٹ پڑی  ملی ،کھولی تو تعبیر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ رپورٹ میں لکھا تھا کہ عادل کبھی باپ نہیں بن سکتا۔ تعبیر کی دعاپوری ہوگئی۔ اللہ رب العزت نے عادل کے جھوٹ کی حقیقت مکمل طور پر تعبیر پرعیاں کردی۔

تعبیر کے دل میں کوئی ملال نہ تھا۔ اسکےچہرے پرسکون اوراطمینان کی کیفیت تھی۔ لیکن ایک دکھ تھاکہ ایسے لوگ دوسروں کی بیٹیوں کی زندگی تباہ کیوں کرتے ہیں ؟لوگوں کی نظروں میں  گنہگار صرف عورت  ٹھہرتی  ہے۔ الزامات کی بوچھاڑ عورت ہی  کو برداشت کر نا پڑتی ہے ۔کبھی اس پر بانجھ پن اورکبھی بدچلنی کاالزام لگاکر طلاق کے سرٹیفیکیٹ  کے ساتھ نکال باہرکیاجاتا ہے۔. بناسوچے سمجھے کہ اس عورت کے مستقبل کاکیاہوگا؟اس کےماں باپ بہن بھائیوں پر کیاگزرے گی؟لیکن پدرسری معاشرے میں کلنک کاٹیکہ ہمیشہ عورت کےماتھے پرہی سجتاہے۔

اب شاہدہ بیگم کی طبیعت کچھ سنبھلنے لگی توتعبیر سےخائف رہنےلگی۔ شاہدہ بیگم کی عیادت کرنے  حمیدہ اورعریشہ آن  پہنچیں۔ حمیدہ بیگم نے شاہدہ کے مزاج میں بہت  بے حسی  اورتبدیلی محسوس کی۔ تعبیرکو دعائیں دیتی  اورپیار کرتی جونہ تھکتی تھی وہ اب تعبیر کونظرانداز کرنےکا کوئی لمحہ  ہاتھ سے جانے نہ دےرہی تھی۔ کیابات ہے؟شاہدہ بیگم!تعبیر سے کوئی غلطی ہوگئی ہے کیا؟ آپ نے اس کےہاتھ کابناہوا سوپ بھی نہ پیا؟حمیدہ!کیابتاؤں ؟ میں بہت دکھی ہوں۔ میرااکلوتا بیٹا ہے عادل۔ کس ماں کی خواہش نہیں ہوتی کہ اس کے بیٹے کی نسل آگے بڑھے،اسکاوارث ہو،اس کے خاندان کاکوئی نام لیواہو؟ لیکن میں بدنصیب کہ جس نے بیٹے کی شادی کی،ہزاروں ارمان تھے ۔لیکن تمہیں کیا بتاؤ ں ۔ تعبیرمجھے میرے بیٹے کاوارث نہیں دےسکتی۔ یہ بانجھ ہے۔ اوراونچی آواز میں رونے لگی۔

حمیدہ بیگم اورعریشہ بھی پریشان ہوگئیں۔ تعبیر پاس بیٹھی تمام باتیں سن رہی تھی اورپھر بھی اپنے شوہر کے جھوٹ پر پردہ ڈالے بیٹھی تھی۔ حمیدہ بیگم کچھ دن آپ تعبیرکو اپنےساتھ لےجائیں۔ میں اب ٹھیک ہوں۔ چلنے پھرنے کے قابل ہوں۔ گھر کاکام تھوڑا بہت کر ہی لوں گی۔ یہ بھی کافی عرصہ سے آپ کی طرف نہیں گئی اس کا بھی دل بہل جائےگا۔

حمیدہ بیگم شاہدہ بیگم کی طنزیہ باتوں کوبہت اچھی طرح محسوس کررہی تھی جیسے کسی کو بوجھ سمجھ کرناکارہ جانتے ہوئے دوسرے پر زبردستی لاددیاجاتاہے۔

تعبیر حمیدہ بیگم کی لاڈلی بیٹی تھی۔ ماں کے جگرکا گوشہ یوں بےمول سمجھاجائے گا یہ تو کبھی سوچانہ تھا۔ حمیدہ بیگم اورعریشہ تعبیر کے ساتھ گھر آگئیں۔ مرزا صاحب اور بہنوں نے تعبیر کا گھر پر خوشی سے استقبال کیا۔ عریشہ چونکہ ڈاکٹر بن رہی تھی اس نے تعبیر سے کچھ سوالات پوچھے اور جواب ندارد۔ تعبیر کو بہت جذباتی کرتے ہوئے ٹٹولنے کی کوشش کی کہ عادل بھائی سے  آپ کے تعلقات کیسے ہیں ؟ٹھیک ہیں۔ تعبیر نے جواب دیا۔ تعبیر ہم بہنیں بھی ہیں  اوردوستیں بھی۔ تم مجھ سے کھل کر بات کرسکتی ہو۔ عریشہ میں بس ایک ہی بات کہنا چاہوں گی کہ عادل کو میری ضرورت نہیں ہے۔ ہاں عریشہ مطلب اسے ایک بیوی کی ضرورت نہیں ہے بس اب مجھ سے کچھ مت پوچھو۔

عادل بیٹا!میں نے تعبیر کو حمیدہ بیگم کے ساتھ اس کے گھر بھیج دیاہے۔ میرے دل سے تواب ملال ہی نہیں جاتاکہ وہ میرے بیٹے کی اولاد کو جنم دینے کے قابل نہیں۔میں تو تمہاری دوسری شادی کروں گی۔ ہماری اتنی جائیداد ہے، ہمیں وارث کی ضرورت ہے عادل نے پھر ڈھٹائی سے ماں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ماں کی تجویز اورمشورے کے مطابق تعبیر کو طلاق کانوٹس بھیج دیا۔ سہ پہرتین بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ حمیدہ بیگم نے دروازہ کھولا تو دروازے پر سرخ پینٹ شرٹ میں ٹی سی ایس لوگوکی شرٹ پہنے ہوئے ٹی سی ایس کا نمائندہ کھڑاتھا۔ ڈاک پکڑائی اورموٹر سائیکل اسٹارٹ کرتے جھٹ سے روانہ ہوگیا۔ حمیدہ بیگم نے مرزاصاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مرزاصاحب آپ کاکوئی ڈاکومنٹ آیاہے۔ مرزاصاحب نے کھولاتو دیکھتے ہی سرچکراگیا، چشمہ ہاتھ سے گر پڑا۔ کیاہوا مرزاصاحب ؟تعبیر، عریشہ جلدی آؤ۔ دیکھوتو ابو کوکیاہوگیا ہے؟عریشہ نے جلدی سے بی پی چیک کیاجوایک سو اسًی سے اوپر تھا۔ تعبیر نے باپ کے ہاتھ سے گرے ہوئے پیپر کودیکھا توتعبیر کی حالت بھی غیر ہوگئی۔ لیکن خودکو سنبھالتے ہوئے حوصلہ کرتے ہوئے بتایا۔ عادل نے اسے طلاق کانوٹس بھیج دیا ہے۔ تعبیر کو اگرماں باپ کی عزت کا خیال نہ ہوتاتو وہ بہت پہلے ہی ایسے شخص  کی حقیقت سب کے سامنے کھول دیتی جواپنے گناہوں کی سیاہی بےگناہوں کےچہرے پرمل کر معاشرے میں معتبر لوگوں کےٹولے میں شامل ہوجاتے ہیں۔ مرزاصاحب کوفوری طور پر قریبی ہسپتال داخل کرایا گیا بروقت ہاسپیٹل پہنچنے  پرمرزا صاحب بہت بڑی آزمائش سے بچ گئے۔

دوسرے دن طبیعت کچھ بحال ہوئی ،گھر آئےتو گھر میں سوگ کی سی کیفیت تھی۔ ابھی تومیری بیٹی کےہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری تھی کہ اسےطلاق کاداغ بھی لگ گیا۔کیاقصور ہے میری بیٹی کا؟ اولاد تواللہ کی دین ہے۔بےشک وہی نوازنےوالاہے۔مرزا صاحب ،حمیدہ بیگم اپنی بیٹیوں کے ہمراہ بیٹھے  تعبیر جوبت بنی کھڑی تھی اسے حوصلہ دےرہے تھے، تسلی دے رہے تھے۔ کوئی بات نہیں بیٹا! یہ صدمہ توبہت بڑاہے۔ لیکن سہنا بھی توہے ناں۔ رشتہ دار سب باتیں کریں گے لیکن میری پیاری بیٹی! تمہیں اپنے ظرف کوآزمانا ہے۔ برداشت اورصبر کالیول بڑھاتے جانا ہے۔ یہ زندگی ہے جوہر قدم آزمائش ہے۔ خدادےکر بھی آزماتا ہے اورلے کر بھی۔ انسان کونواز کر اس کاشکر اور چھین کر اس کا صبر آزماتاہے. بس اللہ سے دعاکرو وہ ہمیں اس امتحان میں سرخروکرے۔ میں خودعادل سے بات کروں گا، ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ،نہیں ابوآپ کسی سے کوئی بات نہیں کریں گے۔

اورتعبیر نےاپنے پرس سے عادل کی رپورٹ لاکر عریشہ کے ہاتھ میں دےدی۔ رپورٹ مرزا صاحب نےدیکھی  اور اسی وقت تعبیر اورحمیدہ بیگم کوساتھ لیے گاڑی میں بیٹھے اورغصے میں شاہدہ بیگم کے گھر داخل ہوئے۔عادل اورشاہدہ بیگم چائے  اور  مٹھائی سے تعبیر کےچلے جانے کاجشن منار ہے  تھے۔ امی میں نے آج تعبیر کو طلاق کانوٹس بھیج دیا ہے۔ اچھاکیابیٹا! جتنی جلدی ہوسکے جان چھوٹ جائے۔ کس سےجان چھڑانا چاہتی  ہیں  شاہدہ بیگم ؟ تعبیر تو آپ کی بیٹی جیسی تھی ناں؟ لیکن افسوس کہ بیٹی سمجھی نہیں گئی۔ بیٹیاں پرایادھن ہوتی ہیں۔ نظام قدرت ہے کہ پال پوس کر،جوان کرکے اپنے جگر کےگوشے دوسروں کے حوالےکرنا مرنے کے مترادف ہے۔لیکن آپ کیاجا نیں ؟آپ کی بھی اپنی بیٹی ہوتی تو شاید  یہ  تکلیف  آپ محسوس کرسکتی۔ لیکن آپ ٹھہریں، بیٹےوالی! بیٹوں  والوں کےپاس توبیٹیوں والوں کو  ذلیل کرنے کا لائسنس ہوتا ہے  شاید۔

انکل! تھوڑا لحاظ کریں۔ میں اپنی ماں کی اوراپنی بےعزتی برداشت نہیں کرسکتا۔ عادل بہت خود اعتمادی سے بات کررہاتھا۔ عادل کوگمان تھا کہ تعبیر کوکسی بات کاعلم نہیں۔ تعبیر تمہارے ابوکیسی باتیں کررہے ہیں ؟

مرزاصاحب نے قریبی مشترکہ رشتہ داروں کو ٹیلی فون کیا اوروہ بھی عادل کے گھر پہنچ گئے۔ مرزا صاحب نے آٹھ معتبر لوگوں کومخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ آپ لوگوں نے ایک سال پہلے عادل اورتعبیر کی شادی میں شرکت کی تھی اورآج میری بیٹی کوبھیجا ہوانوٹس آپ بھی دیکھ لیں۔ الزام ہے میری بیٹی پربانجھ پن کا۔ شاہدہ بہن! آپ سے ایک بات پوچھتاہوں کہ کیامیری بیٹی نےآپ کے ساتھ کبھی کچھ براکیاہے؟کیاآپ کی خدمت گزارر ہی ہے؟ کیااپنے شوہر اورگھر کے ساتھ وفاداری  رہی  ہے؟ اس نے کبھی کوئی شکایت کاموقع دیاہے؟ کوئی فرمائش یاکوئی تقاضا؟ نہیں  بھائی صاحب! تعبیر سے مجھے سوائے اس بات کے کوئی شکایت نہیں کہ وہ اس گھر کو وارث نہیں دےسکتی۔ ایک قابل ڈاکٹر سے چیک اپ کروایا ہے ،اس نے بتایا ہے کہ تعبیر بانجھ ہے اورکبھی ماں نہیں بن سکتی۔ آپ ہی بتائیں کہ کیایہ عادل کے ساتھ زیادتی نہیں ؟جب اللہ نے مردکو چار شادیوں کاحکم دیاہے. تواس میں حرج ہی کیاہے؟

شاہدہ بہن! آپ نے درست کہا بالکل درست کہا  میں تو حیران ہوں کہ میری صابر شاکر بیٹی نے ایک سال تک ایک ایسے مردکے ساتھ گزارہ کیاہے جس نےاسے آج تک بیوی سمجھا ہی نہیں۔آج تک اپنے ماں باپ سے، بہنوں سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ اورآج کے نوٹس نے تعبیر کی بےگناہی اوراصل مجرم کی حقیقت سب پرکھول دی ہے۔

اللہ کاشکرہے اس نے میری بیٹی کوسرخرو کیاہے۔ مرزا صاحب نے عادل کی ناقص رپورٹ حاجی شبیر جوکہ عادل کاماموں تھا ،کےہاتھ میں پکڑاتے ہوئے کہا حاجی صاحب! اب آپ لوگ ہی فیصلہ کرلیں کہ اصل قصوروار کون ہے؟ شاہدہ بیگم پرعادل کی حقیقت کھلی تووہ گنگ ہوگئی۔

تعبیر نے آنکھیں بندکرکے اللہ کے حضور دل ہی دل میں شکراداکیا، عادل نے سب کے سامنے تعبیر سے ہاتھ جوڑتے ہوئے معافی مانگی۔ امی جان!  تعبیر بےقصور ہے۔ میں نے آپ سے بھی حقیقت چھپائی۔ تعبیر جیسی لڑکی توقسمت والوں کو ملتی ہے۔ وہ ایک اچھی بیٹی،بہو، اوربیوی ثابت ہوئی ہے۔ لیکن میں ہی بدقسمت ہوں۔ کہ جوتعبیر جیسی آئیڈیل لڑکی کے قابل نہیں تھا۔ اورآج بھی اعتراف کرتاہوں کہ وہ تمام مرد جوکہ شادی کے قابل نہ ہوں  وہ اپنے ماں باپ کو حقیقت سے آگاہ کردیاکریں تاکہ کسی بےگناہ کوناحق سزانہ ملے۔ کسی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ شادی توخوشی کانام ہے، گھر آباد ہوتے ہیں۔ میاں بیوی کارشتہ ایک خوبصورت رشتہ ہے۔ بیٹی کے ماں باپ بیٹیوں کی قسمت خوداپنے ہاتھ سے نہیں لکھ سکتے  جبکہ مادی چیزوں کے لیے توانہیں خود کوبھی بیچنا پڑے تودریغ نہیں کرتے۔

تعبیر مجھے معاف کردینا کہ جس دن سے ہماری شادی ہوئی ہے میرے ضمیرپر بوجھ ہے۔ میں اپنادکھ کسی کونہیں بتاسکتا تھا۔ نہیں جانتا تھا کہ تم میری رپورٹ دیکھ چکی ہو۔ اچھاہوا کہ میری حقیقت تمہارے ذریعے کھل گئی ا ور  میں اپنی ماں کی رضا کے لئے پھر کسی دوسری لڑکی کی زندگی کی تباہی کاباعث نہیں بناہوں۔ میں نے تمہیں طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی۔ عادل نے سب کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے تعبیر اوراس کے گھر والوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے ایک خوشحال زندگی کی دعا دی۔ مرزاصاحب ایک نیک شہرت کے حامل نفیس انسان تھے۔ حاجی شبیر نے مرزاصاحب سے تعبیر کارشتہ اپنے بیٹے عدنان کے لئے مانگ لیاجوکہ امریکہ میں ہارٹ اسپیشلائزیشن کے فائنل ائیر میں تھا۔ حمیدہ بہن تعبیر میری بیٹی ہے۔ میں احسان مند رہوں گا آپ کا۔ اگروہ میرے گھر میں میری بہو بن کرآئے۔

تعبیر نےآخری مرتبہ اپنے کمرے کوبھی نہ دیکھاجوکہ اس کا ایک سال تک مسکن رہا تھا۔تعبیر کی عدت ختم ہونے کے بعد تعبیر کی شادی عدنان سے طے ہوگئی۔ عدنان ایک خوش شکل، خوبرو نوجوان تھا۔ وہ ایک قابل انسان اور ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک محبت کرنے والا، قدرکرنے والا شوہر ثابت ہوا۔اس نے کبھی بھی تعبیر کوماضی کاکوئی بھی حوالہ یاعادل کاذکر کرکے کبھی اذیت تک نہ دی۔ اس کی چھوٹی سی چھوٹی ہرضرورت اورخوشی کاخیال رکھتا۔ صحیح معنوں میں وہ مرزا صاحب کابیٹا بن کر سامنے آیا۔ تعبیر اپنااذیت ناک ماضی بھول چکی تھی۔ وہ صدق دل سے عدنان سے محبت کرنے لگی۔ اوراللہ نے التمش کی صورت میں چاند سے بیٹے سے بھی نوازا۔مرزا صاحب اور حمیدہ بیگم ہر لمحہ اپنے رب کاشکر اداکرنے لگے کہ تعبیر کی زندگی تاریک راہوں سے گزر کرخوشیوں کی روشن راہوں پرچلنے لگی۔

***

Leave a Reply