You are currently viewing  شہریار : شخص اور شاعر

 شہریار : شخص اور شاعر

علی حسن

بی اے آنرز اسکالر

شعبہ اردو، جی سی یونی ورسٹی، لاہور (پاکستان)

 شہریار : شخص اور شاعر

شہریار کا خاندانی نام کنور اخلاق محمد خاں تھا،  16 جون 1936 کو ضلع بریلی اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں آنولہ کے مسلم راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد جن کا نام ابو محمد خان تھا پولیس انسپکٹر تھے۔بچپن میں شہریار پروفیشنل ایتھلیٹ بننا چاہتے تھے اور ہاکی کے اچھے کھلاڑی تھے مگر حالات نے شاعری کے میدان میں لا کھڑا کیا اور طبع موزوں ہونے کے سبب شاعری میں منفرد مقام حاصل کیا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم ہردوئی سے حاصل کی اور 1948 میں والد کے ہمراہ علی گڑھ چلے آئے۔ آپ نے ہائی سکول کی تعلیم علی گڑھ سے ہی حاصل کی اور 1954 میں میڑک کا امتحان پاس کیا۔ ایک سال بعد جب ان کی عمر 19 سال تھی، گھر سے بھاگ نکلنے اور خلیل الرحمٰن اعظمی کے ساتھ رہنے لگے۔ اس بات کو انہوں نے “دھند کی روشنی” کے دیباچے میں یوں بیان کیا “میری زندگی میں ایک موڑ ایسا آیا کہ مجھے گھر چھوڑنا پڑا۔ خلیل الرحمٰن اعظمی سے میری دوستی ہو گئی اور میں 1955 سے ان کے ساتھ رہنے لگا”(1)

خلیل الرحمٰن اعظمی کے ساتھ رہتے ہوئے ان کا اصل جوہر کھلا اور ان کو اندازہ ہوا کہ وہ شاعری میں منفرد رنگ بکھیر سکتے ہیں۔ وجہ یہ کہ خلیل الرحمٰن اعظمی کے گھر چھوٹے بڑے ہر طرح کے ادیبوں اور شاعروں کا جمگھٹا رہتا تھا اور ان کی خاطر مدارت کی ذمہ داری شہریار کے سپرد تھی۔  اس جوہر کو پہچاننے میں خلیل الرحمٰن اعظمی کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ شہریار نے شاعری کا باقاعدہ آغاز 1958ء میں کیا اور مسلسل لکھنے لگے۔ ان کا نام کنور اخلاق محمد خاں تھا جو کہ شاعری کے میدان میں قدرے غیر موزوں تھا لہٰذا “جب شاذ تمکنت نے ان کے’قصباتی’ نام پر اعتراض کیا تو کنور صاحب نے خلیل صاحب کے مشورے پر، اپنا شعری نام شہریار کر لیا۔ اب شہریار ان کا خاندانی نام بھی ہو گیا ہے۔”(2)

شہریار اور خلیل الرحمٰن اعظمی کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جب 1957 میں خلیل الرحمٰن اعظمی کی کتاب “اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک” شائع ہوئی تو اس کا انتساب انہوں نے شہریار کے نام کیا۔

شہریار نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1961 میں ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ اسی دوران علی گڑھ میگزین میں ان کی نظمیں آل احمد سرور، اختر الایمان، سلام مچھلی شہری، منیب الرحمن اور خلیل الرحمٰن اعظمی کی نظموں کے ساتھ چھپنے سے کافی مقبول ہوئیں اور خاص توجہ کا مرکز ٹھہریں۔

ان نظموں میں سے ایک نظم ملاحظہ کیجئے:

یہاں کیا ہے برہنہ تیرگی ہے /خلا ہے، آہٹیں ہیں، تشنگی ہے

یہاں جس کے لیے آئے تھے وہ شے /کسی قیمت پہ بھی ملتی نہیں ہے

جو اپنے ساتھ ہم لائے تھے وہ بھی / یہیں کھو جائے گا گر کی نہ جلدی

چلو جلدی چلو اپنے مکاں کے / کواڑوں کی جبیں پر ثبت ہو گی

کوئی دستک ابھی بیتے دنوں کی / یہاں کیا ہے برہنہ تیرگی ہے

خلا ہے، آہٹیں ہیں، تشنگی ہے  (نظم: شہر اور گاؤں)

شہریار کا پہلا شعری مجموعہ 1965 میں “اسم اعظم” کے عنوان سے منظر عام پر آیا۔ اس میں دلچسپی کا عنصر یہ بھی تھا کہ اس کا انتساب خلیل الرحمٰن اعظمی کے نام تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلیل الرحمٰن اعظمی کو اپنا ادبی رہنما تسلیم کرتے ہیں۔ شہریار کو خلیل الرحمٰن اعظمی سے اتنی ہی محبت اور عقیدت تھی جیسی شاید امیر خسرو کو اپنے پیرو مرشد نظام الدین اولیا سے رہی ہو گی۔  اس بات کا اعتراف انہوں نے “دھند کی روشنی” کے دیباچے میں یوں بیان کیا “میں جو کچھ بھی ہوں، جیسا بھی ہوں، وہ صرف اور صرف خلیل الرحمٰن اعظمی کا فیضان ہے۔”(3)

1965 میں شہریار انجمن ترقی اردو (ہند) علی گڑھ میں لٹریری اسسٹنٹ بھی تھے۔ اس عہدے پر ان کے فرائض میں انجمن ترقی اردو (ہند) کے رسائل “ہماری زبان” اور “اردو ادب” کی ادارت بھی تھی۔

پہلے مجموعے کی اشاعت کے بعد آپ نے دوسرے مجموعے پر کام کرنا شروع کیا۔ اسی دوران 1966 میں آپ علی گڑھ مسلم  یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں لیکچرر منتخب ہوئے اور معلمی کے فرائض سر انجام دینے لگے۔ اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی کرسی صدارت پر آل احمد سرور براجمان تھے۔ شہریار کے تعلقات آل احمد سرور کے ساتھ گھریلو نوعیت کے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آل احمد سرور کی نواسی رخشندہ جلیل انہیں ماموں کہہ کر پکارا کرتی تھی۔ شہریار کی زندگی کا پہلا عشق تو شاعری تھا اور دوسرا عشق ملیح آباد کی ملیحہ نجمہ محمود سے کر بیٹھے مگر عشق کا اظہار ملیحہ نجمہ محمود کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اسی دوران شہریار کا دوسرا مجموعہ کلام بھی مکمل ہو چکا مگر دقت یہ تھی کہ ان کے پاس اتنے پیسے تھے کہ یا تو وہ اس سے ملیحہ نجمہ محمود سے شادی کرتے یا اپنا دوسرا مجموعہ شائع کرتے۔ ان کی اس پریشانی کا حل شمس الرحمٰن فاروقی نے یوں کیا کہ ان کے مجموعہ کو چھاپنے کی زمہ داری خود قبول کر لی اور ان پیسوں سے شادی کرنے کا کہا جو شہریار کے پاس تھے۔ اس شادی کے حوالے سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر اردو دنیا میں کسی شادی کو ادبی شادی کا نام دیا جائے تو وہ شہریار کی شادی ہو گی۔

اس حوالے سے بیدار بخت نے یوں لکھا ہے:

“اگر اردو دنیا میں کوئی شادی “ادبی” ہو سکتی ہے تو وہ شہریار کی ہوئی۔  1968 میں ادیبوں کا ایک قافلہ, جس میں آل احمد سرور اور منیب الرحمن جیسے کہنہ مشق ادیب بھی تھے اور شمس الرحمن فاروقی، محمود ہاشمی اور نیر مسعود جیسے نئے ادب کے علمبردار بھی، شہریار کے ساتھ ملیح آباد گیا اور نجمہ محمود کو نجمہ شہریار بنا کر واپس علی گڑھ لایا۔ اس پریوں کی کہانی کی شادی کا چرچہ اردو ادبی حلقوں میں مدت تک رہا۔”(4)

شہریار کا دوسرا مجموعہ کلام 1969 میں بعنوان “ساتواں در” شمس الرحمٰن فاروقی کے شب خون کتاب گھر، الہ آباد نے شائع کیا۔ یہ مجموعہ نظموں، غزلوں اور نثری نظموں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب پر اتر پردیش اردو اکادمی نے انہیں انعام سے نوازا۔

شہریار کا اگر کسی کے ساتھ اختلاف ہوتا تو وہ اس کو بھول جایا کرتے تھے اور دوستی پر حرف نہ آنے دیتے تھے۔ ادبی دنیا میں اختلافات کا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ نظریات کے ٹکراؤ کی بدولت ایک ادیب کا دوسرے ادیب سے مکالمہ و مباحث ہونا بھی معمول کا عمل ہے۔ ایسا ہی ایک اختلاف علی سردار جعفری اور شہریار کے درمیان تھا۔ شہریار ادب میں غیر مقصدی اور غیر افادی پہلوؤں پر زور دینے والے ادیب تھے۔ جبکہ علی سردار جعفری کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا، جس کا نظریہ “ادب، زندگی اور ماحول کا ترجمان” (5) تھا۔ اسی بدولت علی سردار جعفری ادب میں مقصدیت کو باقی تمام عناصر سے برتر مقام دیتے تھے۔ 1975 میں شہریار نے رسالہ شعر و حکمت کے اداریہ میں لکھا کہ ” پچھلے دس سال ہمارے ادب کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہم ادب کے فنی یا کھلے لفظوں میں ادب کے غیر مقصدی اور غیر افادی پہلوؤں پر زور دیتے رہے ہیں۔ ہمارا یہ انداز نظر ایک غیر ادبی صورت حال کا ناگزیر رد عمل تھا اور رد عمل کسی نہ کسی صورت میں انتہا پسندی کا شکار ہو جاتا ہے۔” (6) جب یہ اداریہ علی سردار جعفری کی نظر سے گزرا تو انہیں بات فورا کھٹکی کے غیر ادبی صورتحال سے شہریار کا اشارہ ترقی پسند تحریک کی طرف ہے۔ اس اداریے کا جواب علی سردار جعفری نے اپنے رسالے گفتگو میں یوں دیا “میں ذاتی طور پر یہ محسوس کرتا ہوں کہ شہریار کے دل میں ایک اچھا شاعر خوابیدہ ہے۔ غیر مقصدیت اسے بیدار نہیں ہونے دیتی.” ان سخت الفاظ کے بعد شہریار کے دل میں کدورت بیٹھ جانی چاہیے تھی مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔ اس کا اندازہ اس عمل سے لگائیے کہ جب علی سردار جعفری کو گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا تو شہریار اس جیوری کا حصہ تھے جس نے یہ انعام دینا تھا۔ علی سردار جعفری کا نام انہوں نے ہی تجویز کیا اور بعد میں کہیں لکھا “سردار جعفری ہی اس وقت ایک ایسے ادیب اور شاعر تھے جن کو یہ ایوارڈ مل سکتا تھا۔”

شہریار کی اس خوبی کا تذکرہ مجتبیٰ حسین اپنی کتاب “چہرہ در چہرہ” میں یوں کرتے ہیں:

“شہریار کو میں نے ہر حلقے اور ہر گروہ میں غیر نزائی پایا ہے۔ وہ ایک ایسا گھاٹ ہیں جس پر شیر اور بکری دونوں ساتھ پانی پیتے ہیں۔ شہریار کی اس ادا کے باعث میں جب بھی علی گڑھ جاتا ہوں تو انہی کے پاس ٹھہرتا ہوں اور حتی المقدور انھیں نقصان پہنچاتا ہوں۔ شہریار کی جن خصوصیات کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے ان کے تقاضے کے طور پر شہریار زندگی کو بہت دھیمے انداز میں برتتے ہیں۔نہ زندگی میں کچھ پانے کی جلدی اور نہ ہی کچھ بننے کی عجلت۔” (7)

ان کا تیسرا مجموعہ کلام 1978 میں “ہجر کے موسم” کے عنوان سے شائع ہوا جس کا انتساب انہوں نے نجمہ شہریار کے نام درج ذیل شعر کے ساتھ کیا:

آنکھوں میں تیری دیکھ رہا ہوں میں اپنی شکل / یہ کوئی واہمہ، یہ کوئی خواب تو نہیں

اس کے ساتھ ساتھ اس مجموعہ میں ایک نظم بھی نجمہ کے نام پر موجود ہے۔

نظم دیکھئے:

کیا سوچتی ہو /  دیوار فراموشی سے ادھر کیا دیکھتی ہو

آئینہ خواب میں آنے والے لمحوں کے منظر دیکھو  / آنگن میں پرانے نیم کے پیڑ کے سائے میں

 بھیو کے جہاز میں بیٹھی ہوئی ننھی چڑیا  / کیوں اڑتی نہیں

جنگل کی طرف جانے والی وہ ایک اکیلی پگڈنڈی / کیوں مڑتی نہیں

ٹوٹی زنجیر صداؤں کی کیوں جڑتی نہیں  / ایک سرخ گلاب لگا لو اپنے جوڑے میں

اور پھر سوچو (8) (عنوان :نجمہ کے لیے ایک نظم)

اس کتاب کے دیباچے میں خلیق انجم نے شہریار کے فن کے حوالے سے یوں لکھا:

“شہریار کے لب و لہجے پر زندگی کی ناہمواریوں،  ناکامیوں اور یاسیت کی تلخی اور درشتی کی گہری پرچھائیاں ہیں۔ ان کے ہونٹوں پر پھیلی ہوئی طنزیہ مسکراہٹ بھی اس لب و لہجے میں شامل ہے، جس کی وجہ سے تلخی میں شدت پیدا ہو گئی ہے، لیکن یہ تلخی ان حدود کو پار نہیں کرتی جہاں فنکار پر قنوطی یا یاسیت پسند ہونے کا الزام عائد ہوتا ہے۔ شہریار اپنے دھیمے اور گنگناتے لب و لہجے، آواز کی جرات مندی اور مستقبل پر بھرپور اعتماد کے اظہار سے اس تلخی کو ہمارے لیے گوارا بنا دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے تخلیقی شعور اور فکر کی تشکیل مانگے کے اجالے سے نہیں بلکہ عصری زندگی کے مشاہدے سے ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی فکر میں انتشار نہیں ہے بلکہ وہ مربوط، مسلسل اور منطقی ہے۔ اس لیے ان کے ہاں بہت کم تضاد نظر آتا ہے، ان کے دکھ ذاتی ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی ذات کو اتنی وسعت دے دی ہے کہ ان کا پورا عہد اور پوری کائنات اس ذات میں سمٹ آئی ہے۔ اب یہ دکھ کسی ایک شخص کے نہیں بلکہ ہر انسان کے دکھ ہیں۔ “(9)

اسی کی دہائی میں گوپی چند نارنگ نے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کے ہندوستانی زبانوں کی شاعری کے انتخاب کے سلسلے میں اردو شاعری کا انتخاب کیا جس میں انہوں نے شہریار کی چھ نظمیں شامل کیں اور اس پر ایک مقالہ بھی لکھا۔ ایک اقتباس دیکھئے:

“شہریار کو اس کی فکر نہیں ہے کہ ان کے شعر میں پیغام یا فیصلے ہوں۔ وہ اس روحانی کرب اور نفسیاتی کش مکش کا اظہار کرتے ہیں جس سے آج کا زخمی آدمی دو چار ہے۔ ہم وقت اور موت کی بے رحم حقیقتوں کے درمیان معلق ہونے کے باوجود حال کے لمحے میں جینے پر مجبور ہیں۔ شہریار سکھ اور دکھ کے مختصر لمحوں میں زندگی کے اصلی چہرے کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ “(10)

شہریار کو 1983 ء میں علی گڑھ یونی ورسٹی نے لیکچرار سے ریڈر بنا دیا۔  اس وقت تک ان کی ازدواجی زندگی درست دھارے پر چل رہی تھی۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی کی پیدائش ہو چکی تھی۔ مگر اس کے بعد ان کی ازدواجی زندگی میں مشکلات آنا شروع ہوئیں۔  اس کی دو وجوہات تھیں۔ ایک وجہ یہ کہ شہریار شراب پیتے، تاش کھلتے اور اکثر شامیں گھر سے باہر گزارتے تھے۔ دوسرا ان کی بیوی نجمہ قدرے شکی مزاج عورت تھی۔ اس بات کا ثبوت مجتبیٰ حسین کی کتاب “چہرہ در چہرہ” میں شہریار پر لکھے گئے قلمی خاکے سے ہوتا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک شام شہریار اور میں نے مغنیہ کا گانا سنتے ہوئے گزار دی اور آخر جب وہاں سے نکلنے لگے تو شہریار نے ان سے کہا “بھیا! صرف اتنا خیال رکھنا کہ جب علی گڑھ آو تو نجمہ سے اس بات کا ذکر نہ کرنا۔” (11)

 شہریار کے شاعر ہونے کے متعلق مجتبیٰ حسین یوں کہتے ہیں:

“وہ ہمہ وقتی شاعر نہیں ہیں۔ خود سے کبھی شعر نہیں سناتے۔ بہت اصرار کیا تو کسی غزل کے دو چار شعر سنا دیں گے۔ داد سے بے نیاز ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ کسی شعر پر داد دی جائے تو جھک جھک کے سلام نہیں کرتے۔ وہ خاص صحبتیں اور خاص لمحے ہوتے ہیں جب شہریار ترنم سے کلام سناتے ہیں۔ میں نے ایسی خاص صحبتوں اور خاص لمحوں کا کافی لطف اٹھایا ہے۔ “(12)

شہریار کا چوتھا شعری مجموعہ 1985ء میں “خواب کا دربند ہے” کے عنوان سے آل احمد سرور کے مختصر تبصرے کے ساتھ شائع ہوا۔ اس مجموعے پر انہیں ساہتیہ اکادمی نے 1987ء میں اپنے معتبر انعام،ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، سے نوازا۔ آل احمد سرور نے اس تبصرے میں شہریار کی شاعری کے متعلق یوں لکھا:

“شہریار اس دور کے ان ممتاز شاعروں میں سے ہیں جو اپنی غزلوں اور نظموں کی خواب آلودہ فضا، اپنے مخصوص لہجے اور اس میں معانی کی نت نئی پرتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ بہت سے نئے شاعروں کی آواز اجنبی سی معلوم ہوتی ہے مگر شہریار کی آواز نئی ہونے کے باوجود مانوس ہے۔ اچھی شاعری نئی ہوتے ہوئے مانوس بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے صرف باہر کے درخت کو ہی نہیں دیکھا یا دکھایا، اپنے اندر بھی ایک باغ اگایا ہے، جس کے رنگ اور خوشبوئیں ہمارے دلوں کو چھوتی ہیں۔ اس درد کرب و بلا نے انھیں بہت زیادہ زخم دیے ہیں، مگر وہ ان زخموں پر نالہ فریاد کرنے کے بجائے مسکراتے ہیں۔۔۔۔۔۔شہریار برابر ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، اور اردو شاعری کو ان سے ابھی بہت کچھ توقعات ہیں۔ خدا کرے وہ تکرار اور تکان سے محفوظ رہیں۔”(13)

1987ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں پروفیسر کا عہد تفویض کیا۔ اس میں اچھنبے کی بات یہ ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لٹریچر کے استاد کو پروفیسری کا درجہ اس وقت ملتا ہے جب وہ تنقید کی دو چار کتب لکھ ڈالتا ہے۔ مگر شہریار کے ہاں معاملہ قدرے برعکس ہے۔ شہریار خود یہ خیال کرتے تھے کہ ان کے پروفیسر بننے میں ان کی شاعری کا اہم کردار ہے۔ مگر اس بات کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ انہوں نے شاعری کے علاوہ ادبی مضامین لکھے، تراجم کیے، کتابیں مرتب کیں اور کئی رسالوں کی ادارت کے فرائض بھی سر انجام دئیے۔

شہریار کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی تلخیاں، ان کی ازدواجی زندگی کے لیے ایک خلیج کا درجہ اختیار کر گئیں اور آخر جب 1995ء میں نجمہ نے خلع مانگا تو پریوں کی شادی والی کہانی، ایک ناگوار خواب بن گئی۔ شہریار کی زندگی میں دو بڑے المیے ہوئے۔ پہلا 1978ء میں خلیل الرحمن اعظمی کی وفات اور دوسرا 1995ء میں نجمہ سے علیحدگی۔ اپنے ان المیوں کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب “شام ہونے والی ہے” کی ایک نظم “مغنی تبسم کے نام’ میں یوں کیا ہے۔

اے عزیز از جان مغنی  / تیری پرچھائی ہوں لیکن کتنا اتراتا ہوں میں

اعظمی کا مرنا، نجمہ کا بچھڑنا  / تیرے بل بوتے پہ یہ سب سہ گیا

بھول کر بھی یہ خیال آیا نہیں مجھ کو  / کہ تنہا رہ گیا (14)

شہریار کا پانچواں مجموعہ کلام 1995ء میں “نیند کی کرچیں” کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کا دیباچہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا۔ شہریار کی شاعری کو سمجھنے کے لیے اس دیباچے کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

اس دیباچے میں سے چند اقتباسات دیکھیے:

“شہریار کی شاعری ایسے شخص کی شاعری ہے جس کا بہت کچھ، یا شاید سب کچھ، کھو چکا ہے یا چھن گیا ہے۔ وہ اس صورتحال پر رائے زنی کر سکتا ہے، لیکن اس صورت حال کو بدلنے پر وہ قادر نہیں۔ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ تجربے کی شدت نے عمل کی قوت چھین لی ہے۔ اس میں کسی قسم کا اخلاقی یا سیاسی ڈائیلما نہیں، بس ایک منزل ہے، ایک وقت ہے جو ٹھہر گیا ہے۔۔۔۔۔۔شہریار کی نظموں غزلوں میں متکلم، جمود کے صحرا میں اکیلا ہے۔ اس حقیقت کو بیان کرنے کے لیے بعض اور حقائق بھی بیان کرنے پڑتے ہیں۔ مثلاً ایسا بھی ہے کہ متکلم کو اپنی صورتحال کا پورا احساس اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی تنہائی کی وجہ معلوم کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اختتام کا احساس اور یہ احساس کہ اگر اچھی چیزیں ختم ہو جاتی ہیں تو شاید بری چیزیں بھی ختم ہو جاتی ہیں، شہریار کی تازہ شاعری کا مرکزی تامل و تصور ہے۔ لیکن بری چیزوں کے ختم ہونے کا احساس کسی اطمینان کی سانس، کسی جھوٹی امید کی مصنوعی کرن، کسی مخالف و معاند آندھی کے ختم ہونے کا اعلان نہیں ہے۔ شہریار کا متکلم جہاں کھڑا ہے وہاں یہ سب چیزیں بھی ختم ہو چکی ہیں۔” (15)

ابتدا میں جب شہریار کو مشاعروں میں بلایا جاتا تو وہ مشاعرے بے دلی سے پڑھتے اور یوں محسوس ہوتا کہ وہ مشاعرہ نہیں پڑھ رہے بلکہ بیگار ٹال رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شہریار کی شاعری میں کچھ ایسے عناصر ہیں جو سامعین پر فوراً منکشف نہیں ہوتے۔ جبکہ مشاعرے کی ضرورت وہ اشعار ہوتے ہیں جو سامعین مشاعرہ پر فوراً کھل جائیں۔ مگر اس کے باوجود شہریار کی مشاعروں میں بڑی مانگ تھی۔ اس کے پیچھے شہریار کی ان غزلوں کا بھی ہاتھ تھا جو فلموں میں گائی گئیں اور بے حد مقبول ہوئیں۔ مثلاً فلم امراؤ جان (1981) میں موجود غزلیں۔ ان غزلوں کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے   / حد نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہے

نہ جس کا نام ہے کوئی نہ جس کی شکل ہے کوئی  / ایک ایسی شے کا کیوں ہمیں ازل سے انتظار ہے (16)

اور ایک غزل کے چند اشعار:

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے   / اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے

عمر بھر سچ ہی کہا، سچ کے سوا کچھ نہ کہا   / اجر کیا اس کا ملے گا یہ نہ سوچا ہم نے(17)

شہریار یونیورسٹی سے 1996ء میں ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد ان کے مشاغل دوستوں کے ساتھ گپیں ہانکنا، مشاعرے پڑھنا اور روز شام کو سات بجے سے گیارہ بجے رات تک علی گڑھ شہر کے ایک کلب میں رمی کھیلنا تھا۔ اس دوران، ان کی شراب پینے کی لت چھوٹ چکی تھی۔ وہ مشاعرے خوب پڑھنے لگے تھے اور اس میں تبدیلی کا عنصر یہ تھا کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ اب بیگار والا معاملہ نہیں رہا، بلکہ مشاعرہ کو ذاتی دلچسپی سے پڑھ رہے ہیں۔

1999ء میں ان کی غزلوں کا کلیات، حصہ اول،  بعنوان “میرے حصے کی زمیں” منظر عام پر آیا جس کا دیباچہ ابو الکلام قاسمی کا لکھا ہوا ہے۔ وہ اس دیباچے میں شہریار کی شاعری کے متعلق یوں لکھتے ہیں:

“ان کی شاعری کے بنیادی استعارے کے تعین کی کوشش کی جائے تو یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی کہ خواب، اور خواب کے حوالے سے نیند اور بیداری کے الفاظ، ان کا پورا استعاراتی نظام مرتب کرتے ہیں۔ تاہم لہجے اور استعارے کے اعتبار سے یہ وہ باتیں ہیں جن کی بنیاد پر شہریار کی عمومی شناخت متعین کرنے کی کوشش پہلے بھی کی گئی ہے اور اب بھی کی جاتی ہے، جبکہ ان کی بعد کے زمانے کی شاعری کا مطالعہ اس قدرے پرانی پہچان کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں بعض نئے گوشوں کے اضافے کا انکشاف کراتا ہے۔ اپنے نسبتاً ایک تازہ شعر میں وہ کہتے ہیں۔

سیاہ رات کو خاطر میں لائیے تو کیسے  / جمی ہوئی یہ نظر کب سے اک ستارے پہ ہے

اب رات، شہریار کے لیے محض نیند اور خواب کا وسیلہ نہیں بلکہ سیاہی کی صفت کے ساتھ منفی اقدار، مایوس کن صورت حال اور غیر یقینی مستقبل کا استعارہ بن گئی ہے۔ اور اسی استعارے کے اندر سے ایک دوسرا استعارہ بھی پھوٹ نکلا ہے جو مثبت اقدار، امید اور روشنی کا اعلامیہ بن جاتا ہے، جس کی نمائندگی ستارے کے لفظ سے ہوتی ہے۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہریار کی شاعری کا وہ استعارہ جو خواب کی شکل میں آرزوؤں، تمناؤں اور توقعات کا محور بن کر سامنے آتا رہا ہے، اب اس کے تلازمات نے اپنے اندر سے دوسرے مضمرات کو بھی نمایاں کیا ہے۔”(18)

2001ء میں “حاصل سیر جہاں” کے عنوان سے ان کا کلیات شائع ہوا اور 2003ء میں ایک انتخاب”دھند کی روشنی” چھپا۔

ان کا چھٹا مجموعہ کلام بعنوان “شام ہونے والی ہے” ان کے اپنے مختصر دیباچے کے ساتھ 2004ء میں منظر عام پر آیا۔ دیباچے میں انہوں نے اس مجموعہ کی شاعری اور شعر گوئی میں سستی کے حوالے سے یوں لکھا۔

“میرا یہ چھٹا مجموعہ ہے اس میں زیادہ تر وہ شاعری ہے جو میں نے ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد کی۔ ملازمت کے دوران میں نے کمیت کے اعتبار سے زیادہ شاعری کی۔ شعر کہنے کی رفتار کے سست ہونے کا سبب میری سمجھ میں نہیں آتا۔ اس لیے اس مسئلہ پر گفتگو کسی اور وقت کے لیے اٹھائے رکھتا ہوں۔” (19)

اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی نظموں میں جنسی اشارے بڑی معنویت رکھتے ہیں۔ شہریار نے جنسی موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے بات کو اتنے ملفوف طریقے سے بیان کیا ہے کہ فحاشی کا عنصر شامل نہیں ہونے پاتا۔

ایک مختصر نظم دیکھئے:

عنوان:- جاگنے کا لطف

ترے ہونٹوں پہ میرے ہونٹ   /ہاتھوں کے ترازو میں

بدن کو تولنا  / اور گنبدوں میں دور تک بارود کی خوشبو

بہت دن بعد مجھ کو جاگنے میں لطف آیا ہے۔ (20)

2008ء میں پاکستان سے ان کا کلیات “کلیاتِ شہریار” کے عنوان سے سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہوا۔ اس کے مختصر دیباچے میں شہریار نے اپنے متعلق یوں رائے دی۔ “طول کلامئ نثر کا میں کبھی قائل نہیں رہا اور اپنے بارے میں تو سخن مختصر سے بھی ہمیشہ احتراز کرتا رہا ہوں۔”(21) یہاں طول کلامی اور سخن مختصر سے ان کا اشارہ جذبی کے اس شعر کی طرف ہے کہ:

یہاں ہے طول کلامئ نثر کا سکہ   / یہاں مرے سخنِ مختصر کی قیمت کیا (جذبی)

2008ء میں شہریار کو بھارت کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس وقت وہ فراق گورکھپوری، قرۃ العین حیدر اور علی سردار جعفری کے بعد اردو کے چوتھے ادیب تھے جنہیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاؤہ انہیں اور بھی کئی اعزازات سے نوازا گیا جن میں ادبی سنگھم ایوارڈ، فراق سمان، اقبال سمان اور غالب انسٹیٹیوٹ ایوارڈ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ انہیں حیدر آباد یونی ورسٹی کی جانب سے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی گئی۔ ان پر مختلف یونیورسٹیز میں کئی تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔

شہریار کا انتقال 13 فروری 2012ء کو علی گڑھ میں ہوا۔ مگر ان کی شاعری اور فلموں میں گائے گئے گیت نہ صرف زندہ ہیں بلکہ مشہور و معروف بھی ہیں۔

حوالے

  1. شہریار، دھند کی روشنی، نئی دہلی، ساہتیہ اکادمی، 2003ء، ص 5
  2. شہریار، کلیاتِ شہریار، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2008ء، ص 21
  3. شہریار، دھند کی روشنی، نئی دہلی، ساہتیہ اکادمی، 2003ء، ص 6
  4. شہریار، کلیاتِ شہریار، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2008ء، ص 23
  5. ڈاکٹر انور سدید، اردو ادب کی تحریکیں، کراچی، انجمن ترقی اردو پاکستان، 2021ء، ص 437۔
  6. شہریار، کلیاتِ شہریار، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2008ء، ص 27۔
  7. مجتبیٰ حسین، چہرہ در چہرہ، نئی دہلی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، 1993ء، ص 70۔
  8. شہریار، ہجر کے موسم، نئی دہلی، انجمن ترقی اردو ہند، 1978ء، ص 54
  9. ایضاً، ص 7-8
  10. شہریار، کلیاتِ شہریار، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2008ء، ص 24۔
  11. مجتبیٰ حسین، چہرہ در چہرہ، نئی دہلی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، 1993ء، ص 73۔
  12. ایضاً، ص 71۔
  13. شہریار، کلیاتِ شہریار، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2008ء، ص 327۔
  14. ایضاً ، ص 590۔
  15. شہریار، نیند کی کرچیں،علی گڑھ، ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1995ء،ص 9-10۔
  16. Rekhta.com/ retrieved 24 April 2024
  17. شہریار، کلیاتِ شہریار، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2008ء، ص 215۔
  18. شہریار، میرے حصے کی زمیں، حصہ اول، علی گڑھ، ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1999ء،ص 5-6۔
  19. شہریار، شام ہونے والی ہے، علی گڑھ، لیتھوکلر پرنٹر، 2004ء، ص 14۔
  20. شہریار، کلیاتِ شہریار، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز، 2008ء، ص 683۔
  21. ایضاً ، ص 17۔

Leave a Reply