عربی ناول لطیفہ الزیات کا ناول” الباب المفتوح” ایک جائزہ

ڈاکٹرمصطفی علاء الدین محمد علی ،مصر

عربی ناول لطیفہ الزیات کا ناول” الباب المفتوح” ایک جائزہ

         مصری ناول نگار “لطیفہ الزیات” کا ناول “الباب المفتوح” سیکڑوں عربی ناول سے بہتر ہے۔ اس ناول میں لڑکیوں اور معاشرے کی آزادی کے جدا  معاملات کو بیان گیا ہے۔”الباب المفتوح” ناول کے واقعات ایک مصری لڑکی کے اردگرد گھومتی ہیجو اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گذارتی ہے۔ اس کا خاندان اس کے والدین اور ایک بھائی پر مشتمل ہے۔ اس کے والد آبی وسائل کی وزارت میں کام کرتے ہیں، ماں گھر میں پرورش وپرداخت اور دیگر امور کو  دیکھتی ہیں اور اس کا بھائی سب لوگ کے ساتھ قاہرہ میں رہتا ہے۔ لیلی بچپن سے ہی سیاسی شعور رکھتی تھی۔ لیکن وہ جیسے جیسے پروان چڑھتی ہے اوراس  معاشرے میں بڑی ہوتی  ہیجس میں مردوں کی بالادستی تسلیم کی جاتی ہے،اس کے سامنے اس کے اہل خانہ اسی پر رکاوٹ اور پاپندی لگانے لگتے ہیں اور اس کو گھر کے ایک کمرے میں قیدوبندکی زندگی گذارنے پر مجبور کیا جاتا ہے جس میں امر ونہی کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا۔ ان تمام چیزوں کے باوجود لیلی سن بلوغ کی منزل پر پہنچتے ہی اس نظام سے سرکشی اختیار کرتی ہے اور وہ قبضہ اور اقتدار کے مددگار کے خلاف مظاہرہ کرتی ہے۔ لیکن اسے خود اپنے اہل خانہ کی جانب سے غضب وناراضگی اٹھانی پڑتی ہے۔ اس معاملے کے اس سب سے بڑے مخالف اس کی ماں، باپ، بھائی اور خالہ زاد بھائی اور عرف وعادات ہیں۔ نیز یہ کہ اس کی پھر کوئی خواہش نہیں رہتی کہ وہ اپنی آزادی پر لگام لگائے اور جیتے جی ہی مر جائے۔لیلیٰ پھر ایک مرتبہ ان معاشرتی رسم ورواج کو چیلنج کرتی ہے اور اپنی کھوئی ہوئی عزت وشرافت کو پانے کی دوبارہ کوشش کرتی ہے اس لئے لیلیٰ اپنے یقین کو کھو دیتی ہے اور اپنے آپ میں محدود کر لیتی ہے خارجی اسباب کی بنا پر اس کے منگیتر ڈاکٹر رمزی جو یونیورسٹی میں استاد تھے وہ کہتے ہیں کہ وہ اس معاشرتی تقالید کو تسلیم کر لیتی جس کے دائرہ اثر سے وہ کئی مرتبہ نکلنے کی کوشش کر چکی تھی اگر وہ سابق مصری صدر جمال عبد الناصر کے خطاب کو نہ سنتی کہ جس نے اس کے اندر بدلے کا انتقام کو پھر سے اجاگر کردیا۔ جبکہ اس نے پوری طاقت وقوت کے ساتھ اس معاشرتی کیڑا کو مسل کر رکھتے کی کوشش کی جو اس کے اردگرد تھے اور جس نے اس کی تحریک پرکاری ضرب لگائی تھی۔ اس طرح وہ کامیاب ہو گئی کہ وہ اپنے خاص وعام مقاصد کو پورا کر سکے۔ اس لئے اس کے دل نے ایسے شخص کا انتخاب کیا جو نہ صرف اس کی زندگی کا ساتھی ہو بلکہ وطن کی آزادی میں بھی اس کی حصہ داری ہو کیونکہ اس سے پہلے کہ وہ دشمنوں سے اپنے ہتھیار کے ساتھ مقابلہ کر چکی تھی اوربہتوں  کو ٹھکانے لگا چکی تھی اس لئے یہ وہ وقت تھا کہ اس میں وہ اپنے ہاتھوں اور اپنے آزاد ارادوں کی کئی سال کے ضائع ہونے کے بعد مکمل کر سکے۔

         “الباب المفتوح” ناول کا شمار قومی ناولوں میں ہوتا ہے جنہیں عرب ممالک میں استعمار کے بوجھ تلے د اور خواب غفلت سے بیدار ہونے کے بعد بہت ناول لکھا گیا ہے۔ اس لئے جب مصری قوم نے انگریزی استعمار کے خلاف اعلان جنگ کیا تو مصری ناول نگاروں نے بھی عمدہ جنگ اور بہادری پر مشتمل ناول لکھنا شروع کیا جن میں ظلم واستبداد کے تحریکات نعرے اور مظاہرے کو بیان کیا جاتا تھا۔

         ناول نگار نے اس ناول میں لیلیٰ کے وطن سے متعلق 1946 اور 1956 کی تحریک کو بیان کیا ہے۔ ناول میں ایک متوسط طبقے کی مصری لڑکی(لیلیٰ) کی 11 سال سے لیکر اس کی جوانی اور 31 سال تک کی زندگی کو بیان کیا ہے۔ وہ  استعماری طاقتوں کے خلاف اور 1956 کی جنگ میں آزادی دلانے کے لئے قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ وہ اس بند دروازے کو کھولنے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ جس نے اس کی کھوئی ہوئی شخصیت اور اس کے ارادے کو متزلزل کر دیا تھا۔ ناول نگارنے اپنے ناول میں اس زمانے کی مصری تاریخ کو بھی بیان کیا ہے جیسے کہ 1946 میں غضبناک  عامہ الناس کا انگریزی قبضہ واقتدار کے خلاف بغاوت کرنا اور ان کا انگریزی حکومت کو مصر سے انخلا پر مجبور کرنا ، اسی طرح مصری حکومت کا 1936 کے معاہدے کو ختم کرنا، فدائین کا معرکہ، قاہرہ کے جلنیکا حادثہ، جولائی 1952 کا انقلاب اور مصری 1956 کی جنگ۔ ناول کا اختتام 1956 میں برطانوی فوج کے انخلا پر ہوتا ہے۔ لطیفہ الزیات نے اپنے ناول میں مصری لڑکیوں پر اس معاشرے میں جو کہ شرکشی اور سختی قبضہ اور خود مختاری کی حالت میں ہیں خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔

         لیلیٰ اس ناول کا مرکزی کردار ہے یہ ایک 40 یا 50 کی دہائی کی ایک لڑکی ہے۔ انقلابات، مظاہرے، جدووجہد، وطن کا دفاع اور آزادی کی خواہش کا دور تھا۔ یہ وہ مصری لڑکی ہے جو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتی ہے، معاشرے کے رسم ورواج سے آزادی کی طرف بلاتی ہے۔ یہ ایک مثال ہے اس مصری لڑکی کی جو معاشرے میں مردوں کی بالادستی کو دیکھتی ہے۔ایسا معاشرہ جو کہ عورتوں گری ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے اور ان کی خوابوں اور امیدوں کو کچل کر دکھ دیتا ہے۔ ان تمام چیزوں کے باوجود یہ ایک مثالی قدم ہے جو اپنے حقوق کی دفاع کے لئے قابل اتباع ہے اور وہ اس بار کی بھی کوشش کرتی ہے کہ اس کی ایک مستقل شخصیت ہو اس معاشرے میں جو کہ مردوں کی بالادستی کا قائل ہے۔

         لیلیٰ کی زندگی تین حصوں میں منقسم ہے : بچپن کا دور، بلوغت سے قریب کا اور جوانی کا دور۔ بچپن کا دور جس میں اس ناول کا قاری لیلیٰ کے خلاف اس کے اہل خانہ کی سختی کا مشاہدہ کرتا ہے، باپ چاہتا ہے کہ اس کو مٹا کر رکھ دے، ماں اس کو سخت ڈانٹ اور پھٹکار لگائی ہے اور وہ  یہ چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے موت دے دے اور اس کا بھائی اس بات پر فخر نہیں کرتا کہ اس کی کوئی بہن ہو۔ ان سختیوں اور پریشانیوں کے باوجود لیلیٰ اپنے اسکول میں ہمیشہ برتر اور ممتاز نظر آتی ہے اور وہ ہمیشہ خواب دیکھتی ہے کہ وہ جم غفیر کے ساتھ وطن عزیز کو استعمار سے آزادی دلائیگی۔

جب لیلیٰ عورتوں کی عمر میں پہونچتی ہے تو اس کے اہل خانہ اسے شرم کا سبب سمجھتے ہیں اور اس سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ اس کے والد اس کے ساتھ سختی کرتے ہیں،جبکہ ماں اور بھائی اس کا جینا دو بھر کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے ہوش وحواس کا خوبصورت مظاہرہ کرتی ہے۔وہ ریڈیو کے ذریعہ اپنے ملک کی خبروں کو سنتی ہے، اپنے ملک کی تاریخ اور اس کی عظمت کو کتابوں میں پڑھتی ہے اور اسی طرح اس کا سیاسی شعور پروان چڑھتا ہے۔ 1936 کے معاہدہ کے منسوخ ہونے کے بعد وہ طلبہ وطالبات کے ساتھ مظاہرے میں شرکت کرتی ہے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے اور آزادی کے گیت گاتی ہے۔ اور جب  وہ گھر کو لوٹتی ہے تو اس کے والد اس کو مارنے پیٹنے لگتا ہے۔ اس کی ماں اور بھائی بھی ظلم کی انتہا کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسے لگتا ہے کہ وہ انسان ہی نہیں ہے بلکہ جوتے کا وائپر ہے۔ جوانی کے مرحلے میں بھی معاشرے کے قید وبند کو جھپلتی رہتی ہے۔ پھر ان کے افراد خانہ میں ایک اور شخص داخل ہوتا ہے جو اس کا منگیتر ہے جس کا نام ڈاکٹر رمزی ہے۔

         ناول کے اختتام پر لیلیٰ اپنے ذاتی مقاصد اور اس شخص کو پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے،  جسے اس کا دل محبوب رکھتا ہیتاکہ وہ اس کی نئی زندگی کا ساتھی ہو اور اس کے سب سے بڑے مقصد یعنی وطن کو آزاد کرانے میں اس کا ہم سفر ہو۔

         مصری معاشرے میں عورتوں کو کئی مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا تھا خود اپنی ذات سے اجنبیت کا احساس اور عار کے ساتھ شادی کرنا جو عورتوں کو اس بات کی طرف ابھارتا ہے کہ وہ پوری قوت کے ساتھ معاشرے کے تلخ حقائق اور مردوں کی بالادستی کو ختم کر سکے۔ عورتوں کی آزادی اور ان کے ترقی کا مسئلہ پر انسانی آزادی اور ترقی کا مسئلہ ہے، عورتوں کا آزاد ہونا  انسان کی آزادی اور اس کی فکر کی آزادی پر دلالت کرتا ہے۔

         اس ناول میں لیلیٰ مظلوم، مقہور کی مثال نظر آتی ہے۔ اس لئے کہ وہ معاشرہ جہاں مردوں کی بالادستی اور جس کے سائے میں آزادی کے راستے میں چلنے والے ہر قدم کو مسل کر رکھ دیا ہو۔ اور اس پر معاشرے نے اپنی پکڑ مضبوط رکھی ہو تو اس کا گناہ صرف پہ تھا کہ وہ صرف عورت ہے جہاں لیلیٰ اپنے آپ کو اس دائرے میں مقید پاتی جہاں کہ اس کیباپ، ماں، بھائی، اس کا منگیٹر اور معاشرے کے ہر شخص نے اسے جگڑ کر رکھا ہو اور ہمیشہ اطاعت وفرمانبرداری کی آمید لگائے ہوں۔ بلکہ کبھی تو وہ ان عرف وعادات پر اپنی جان بھی چھڑک دیں تاکہ کوئی اس عرف وعادات کو پھلانگنے کی جرآت نہ کر سکے۔

         متوسط طبقہ کے ناول نگاروں کی کامیابی کا راز یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے طبقے کی لڑکیوں اور عورتوں کی صحیح تصویر پیش کرتے ہیں اور وہ لوگ اسی طبقے سے منسلک ہوتے ہیں اور گویا کہ وہ زندہ تختی پر ان الفاظ وعبارات کو ان شخصیات کی تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

ناول نگار نے اپنے ناول میں اس بات کی کوشش کی ہے کہ وہ مصری معاشرے کی برائیوں اور اس کیموجودہ منفی عناصر کو ختم کر سکے جو عورتوں کو ان کے بعض حقوق فراہم کرے اور ان کو مردوں کے مساوی کیا جائے۔ لیکن یہ تمام چیزیں عمل میں اب تک نہ آ سکی ہیں اور صرف کاغذ کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ اس لئے مصری عورتیں اب تک اپنی زیادہ آمیدیں مکمل نہیں کر سکی ہیں۔

         مشرقی معاشرے میں پروش وپرداخت کا نظام مردوں کو ایک مستقل شخصیت کے طور پر دیکھتا ہے۔ اور عورتوں کو دوسروں پر بھروسہ کرنے اور تکیہ لگانے پر ابھارتا ہے جس کی وجہ سے ان کے مستقل ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ تربیت کا یہ تقلیدی اصول لڑکیوں کی نئی تعلیمی وتہذیبی تربیت کے خلاف نظر آتا ہے اور آخر کار انہیں خود ان کی ذات اور ان کے اردگرد سے اجنبیت کا شعور دلاتا ہے۔

         لیلیٰ بلوغ کی عمر پہنچنے کے بعد مردوں کی بالادستی والے معاشرے میں لڑکیوں کی حالت راز کو سمجھنے لگی۔وہ یہ سمجھ گئی کہ وہ ایک محدود قید خانے میں بند ہے اور اس قید خانے کے دروازے پر اس کے باپ ماں اور بھائی کھڑے ہیں اور زندگی قیدیوں کی سی گذر رہی ہے۔ اس قید خانے کی صورت پہ ہیکہ قید خانے کا داروغہ اس خوف سے نہیں سوتا کہ کہیں قیدی بھاگ نہ جائے اور اس حدود سے نہ نکل جائے جسے خود اس نے کھودا ہیاور اس کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو پہریداربنایا ہے۔

         قید خانے سے یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ معاشرہ عورتوں کی آزادی رائے اور ان کے چال چلن کے متعلق کتنا محدود ہے اور عرف وعادات کی زنجیر میں کتنا جکڑا ہو اہے۔ جہاں صرف عورتوں کے بالغ ہوئے ہی اس میں اسے داخل کردیا جاتا ہے اور عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ اس پر تنگ ہوتا جاتا ہے اور اس کے بعد اس کے خوابوں اور خواہشوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، جہاں انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ رسم ورواج، عادات واطوار کو قبول کریں۔

         “لطیفہ الزیات” نے لیلیٰ کی تصویرکشی بڑی باریک بینی سے کی ہے۔ اس نے اس کے عمر پروان چڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی مختلف ذہنی حالتوں اور اس پر واقع ہونے والی تبدیلیوں اور خدوخال کی بہت مہارت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اسی طرح اس کی آواز کی بلندی، اس کی خوشی اور غم کے حالات اور اس کی امیدوں اور پریشانیوں کا ذکر بھی عمدہ طریقے سے کیا ہے۔ گویا کہ اسا نے اس کے احوال وکوائف کو طبعی انداز میں کاغذوں میں سمیٹ دیا ہے جس کو پڑھنے والا اثر قبول کے بغیر نہیں رہ سکتا۔

         “لیلیٰ” نے اس ناول میں عورتوں کی فکری (منجمد)تعصب کو واضح کیا ہے۔ جیسے کہ اس کی ماں، خالہ، دولت ھانم اور عدیلہ کا پسماندہ معاشرے کے سامنے سر تسلیم کرنا یا ان مردوں کے سامنے جھک جانا جو ان عورتوں کے والی ہوتے ہیں۔ یہ وہ عورتیں ہیں جو ان پسماندہ افکاراور غلط عقائد کو مضبوطی سے پکڑے ہوتی ہیں۔ اور تمام چیزوں کے باوجود اپنی یقین کامل کی بنا پر “لیلیٰ “زندگی کے اس معرکے کو تنہا سر کرتی ہے اور اپنے کاندھوں پر معاشرے کو ترقی دلانے کا بارگراں اٹھاتی ہے۔

         اس ناول میں “لیلیٰ” کے مختلف تعلقات ہیں جیسے ماں، خالہ، اپنی ہم عمر یا اپنی عمر سے زیادہ بڑی عورتوں کے ساتھ دوستی کا یا اپنی خالہ اور ماں کی دستوں کے ساتھ تعلق کا اور ان تمام تعلقات کا لیلیٰ کی شخصیت کو استوار کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔

         ماں ہمیشہ اپنے شوہر کی اندھی اطاعت کرتی ہے اور اس کے اشاروں پر کام کرتی نظر آتی ہے اس خوف سے کہ کہیں اس کا شوہر اس سے ناراض نہ ہو جائے۔ اس لئے ماں ہمیشہ لیلیٰ کو ضرب لگاتی ہے۔ اور جب اس سے کوئی غلطی صادر ہو جاتی ہے تو سخت زجر وتوبیخ کرتی ہے۔ اور قریب البلوغ کی عمر میں لیلیٰ پر معاشرتی عادات  واطوار کا دائرہ تنگ سے تنگ ہوتا جاتا ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی لیلیٰ سرکشی یا بغاوت کرتی ہے تو اس کی ماں اس پر سخت ظلم کرتی ہے اور اس کا باپ بھی اسے خلاقی درس دینے کی پوری کوشش کرتا ہے تو بیچاری لیلیٰ ایک انسان سے گڑ پا کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جس میں لیلیٰ نے یہ سیکھ لیا کہ ادب کے ساتھ کیسے مسکرایا جائے، کب اور کہاں بیٹھا اور اٹھا جائے۔ کس طرح مکمل خاموش رہا جائے جبکہ کوئی چھوٹی سی بھی بات ہو اور کب اپنے سر کو اثبات ونفی میں بلایا جائے اور پسندیدگی یا تعجب کو ظاہر کیا جائے۔ اگر وہ اپنی ماں سے ان لچھنوں  کا راز معلوم کرنا چاہتی تو اس کی ماں وہی گھسا پٹا جواب دیتی کہ “جو اصول وضوابط پر چلتا ہے وہ کبھی غلطی نہیں کرتا”۔

1936 میں مصری حکومت کا معاہدہ کو ختم کر دینیکیبعد جب لیلیٰ کو یقین ہو گیا کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کر سکتی ہے اور مظاہرے میں شرکت کر سکتی ہے تو اس کی ماں کو لگا کہ لیلیٰ جو کرنے جا رہی ہے، اس سے لوگوں کے درمیان اس کی رسوائی ہوگی اور شرمندگی اٹھانی پڑیگی جس کا دور کرنا ممکن نہیں  اس لئے اس سے سمجھاتے ہوئے کیا کہ کیا کہ وہ ان کاموں کے ذریعہ اپنے آپ کو مار رہی ہے اور اپنا مستقبل تباہ وبرباد کر رہی ہے۔ اس لئے یہاں ماں کا کردار منفی نظر آتا ہے۔ جبکہ اپنے اولاد کی زندگی کو بہتر بنانے اور اس کو صیقل کرنے میں یہاں اس کا کردار مثبت ہونا چاہیے اس کا یہ منفی کردار معاشرے کی قدیم قدروں کو ان پر نافذ کرنے میں گذرتا ہے جس سے ان کے بچوں کو خود اپنی ذات سے اجنبیت کا احساس ہوتا ہے۔

         عدیلہ اس کی ایک دوست ہے، حالانکہ وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتی ہے لیکن وہ اپنے آپ کو معاشرے کے حوالے اور سپرد کر دیتی ہے جو معاشرہ کہ مردوں کو مکمل حق دیتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی شادی کر سکیں۔ اس لئے جب اسے علم ہوا کہ لیلیٰ حسین سے محبت کرتی ہے تو وہ بہت خوفزدہ ہوئی اور لیلیٰ کو قائل کرنا چاہا کہ جو وہ کر رہی ہے وہ اس کے مستقبل کو برباد کر دے گا۔اور اسے اس بات کا یقین تھا کہ وہ اس رشتے کا استحصال کر لگاتا کہ وہ لیلیٰ کی زندگی کو تباہ برباد کر دے۔

         “سناء ” بھی لیلیٰ کی دوست ہے اور یہ ناول کا تنہا کردار ہے جس کو ناول نگار نے لڑکیوں کے لئے قابل اتباع قرار دیا ہے اور یہ “عدیلہ” کے بالکل برعکس ہے۔ جب وہ بالغ ہونے کے قریب ہوتی ہے تو ہم اس کو دیکھتے ہیں وہ مشرقی میل جول والے معاشرے میں عورتوں کی صورتحال پر افسوس ظاہر کرتی ہے اور کہتی ہے :

         ’’ اللہ کی قسم ہماری مصبیتیں بہت بڑی تاریک ہیں، کم سے کم ہماری ماں اپنی حالتوں کو سمجھتی ہیں لیکن ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ کیا ہم عورت بھی ہیں یا نہیں؟ محبت حرام ہے یا حلال ہے؟ ہمارے رشتہ دار کہتے ہیں کہ محبت حرام ہے اور سرکاری ریڈیو دن رات محبت کے گانے نشر کرتی ہے کتابیں عورتیں سے کہتی ہیں کہ تم آزاد ہو اور اگر میں اسے تسلیم کر لوں تو یہ بھی مصیبت ہوگی، اس کا ذکر بڑائی کے ساتھ ہو گا۔ کیا یہی صورتحال رہے گی؟ ہم مظلوم ومقہور ہو کر رہ گئے ہیں۔ وہ ہرعرف وعادات اور تقلید کے خلاف جو اس کے معاشرے میں قدیم زمانے سے وراثت میں منتقل ہوتی چلی آ رہی تھی بہادری کے ساتھ مقابلہ کرتی تھی۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں اس نے اس سے محبت کیا جس کو اس نے چاہا کہ وہ اس کا شریک حیات بنے اور وہ لیلیٰ کا بھائی “محمود” تھا اور وہ لوگوں کی باتوں اور ان کی چہ میگوئیاں سے ذرہ برابربھی نہ ڈری۔  ‘‘

         لیلیٰ کو خود اس بات کا اعتراف تھا کہ اگرچہ بعض مقامات پر وہ قوی ہے لیکن ہر قوت خود اپنے آپ پیدا نہیں ہوتی بلکہ خارج سے آتی ہے اس لئے وہ اپنے معاشرے میں ان قدیم رسم ورواج کو دیکھتی ہے جواس کی شخصیت اور اس کی ذات کو ختم کرنے اور مٹانے کی انتھک کوشش کرتا ہے۔ اور اس کو کمزور کرنے میں وہ سب کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اور اسے ایک کمزور ناٹواں ہڈی کی طرح بنا دیتے ہیں اس لئے لیلیٰ ہمیشہ اس فراق میں رہتی ہے کہ وہ کسی دوسرے کی حمایت حاصل کر لے اور اس سے مدد حاصل کرے۔ اس لئے بچپن میں وہ  اپنے بھائی محمود کی پناہ لیتی ہے جو کہ فوجی تسلط اور قبضے کے خلاف بہادری کی ایک مثال ہے۔ پھر بلوغت سے قریب کی عمر میں اپنے محبوب عصام کی اور یونیورسٹی کی زندگی میں ڈاکٹر رمزی جوکہ اس کا منگیتر ہے کی پناہ لیتی ہے۔

         لیکن ان تمام مردوں کا وجود معاشرے میں ان کے قول وفعل کے درمیان اختلاف کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ لوگ ازدواجی زندگی سے متعلق فکری کشمکش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ تو جب محمود اپنی شریک حیات کو چننے اور اس سے محبت کرنے کیاختیار کا دفاع کرتا ہے تو وہ دوسری طرف یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بہن اس کی محبوبہ کی طرح تعلقات رکھتی ہو۔ اسی طرح عصام جو لیلیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اسی وقت وہ لڑکیوں کو صرف یہ سمجھتا ہے کہ یہ ایک جسم ہے جو اس کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر رمزی کا بھی یہی حال ہے اس کی دیندار نگاہوں میں عورت کا مقام یہ ہے کہ وہ جس عورت سے محبت کرتا ہے وہ ایک بیکار عورت ہے جسے مردوں کے درمیان زندگی گذرانے کا کوئی حق نہیں ہے جبکہ مردوں کو مکمل حق ہے کہ وہ اس کا شکار کریں اور اس کے گوشت کو نوچ کھائیں اور اس کی ہڈیوں کو دور پھینک دیں اور عورت غور وفکر کے بھی قابل نہیں اس لئے محبت اس کے نزدیک ایک جسمانی خواہش کا نام ہے۔

         اس ناول کا قاری ناول کی ابتدا سے ہی باپ اور بیٹی کے ٹوٹے ہوئے رشتہ کو جان لیتا ہے جو کہ اس پر اپنی نظروں اپنی باتوں اور اشاروں سے ظلم وستم ڈھاتا رہتا ہے۔تو جب بھی وہ اپنے باپ سے بات کرنے کا ادارہ کرتی ہے تو ہمیشہ اس کی زبان میں ایک نظام سا لگ جاتا ہے اور وہ بات نہیں کر پاتی ہے۔

         “لطیفہ الزیات” نے مرد وعورت کے درمیان عدم مساوات کو بخوبی بیان کیا ہے وہ ایک باپ کا اپنی بیٹی اور بیٹے کے درمیان امتیازی سلوک پر روشنی ڈالتی ہے۔ لیلیٰ کا شعور لڑکی اور لڑکے کے درمیان اس امتیازی سلوک کی وجہ سے دن بدن بڑھتا ہی جاتا ہے یہاں تک کہ بلوغت سے قریب کی عمر میں جب مصری حکومت 1936 کے معاہدے کو ختم کرتی ہے تو لیلیٰ بھی مظاہرے میں شرکت کرتی ہے اور جب وہ گھر لوٹتی ہے تو اس کا باپ اس کو سخت مار مارتا ہے اور اس کے دل میں اپنی بیٹی کے لئے ذرہ برابر رحمت وشفقت پیدا نہیں ہوتا۔ تب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس کے والد سے انسانیت نام کی چیزیں چھین لی گئی ہیں اور وہ اپنے آپ میں کہتی ہے کہ میں اب انسان نہیں رہی بلکہ جوتے کا برش ہو کر رہ گئی ہوں۔قاری یہ بھی بآسانی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں مردوں کے مقابلے عورت کی کیا حالت تھی۔ جب اس کا بھائی مظاہرے میں شرکت کرتا ہے تو اس کا باپ خوفزدہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کو کوئی نقصان نہ پہونچ جائے اور جب وہ گھر لوٹا تو اس کے ساتھ معمول کے مطابق سلوک کرتے ہیں لیکن اپنی بیٹی کے ساتھ وحشیانہ سلوک اور برتاؤ کرتے تھے گویا کہ اسے انسان بننے کا کوئی حق ہی نہیں اور اپنے وطن کو آزادی دلانے کے لئے  نہ ہی وہ لوگوں کے ساتھ مظاہرے میں شریک ہونے کا حق رکھتی ہے۔

         ہم اس ناول میں یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ناول کے اختتام پر لیلیٰ 1956 کی جنگ میں قوم کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے جو “بورسعید” کے مقام پر لڑی گئی تھی۔ سب سے اہم بات جس نے لیلیٰ کو حسین کی محبت کی طرف مائل کیا وہ اس کا عصام سے بالکل مختلف ہونا تھا، وہ اس محبت پر فخر کرتا ہے اور شرمندہ نہیں ہوتا اور وہ اپنی اس محبت میں نور کو دیکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے  ’’ میں تیری محبت پر فخر کرتا ہوں اور تمام دنیا کو علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔‘‘  یہاں لیلیٰ کو اس کی مسیحی محبت کا احساس ہوتا ہے۔

         حسین اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ وہ لیلیٰ کی مدد کر سکے اور وہ اس سے کہے کہ ’’ اگر وہ گذشتہ دنوں اپنی زندگی میں خوشبخت نہیں تھی لیکن اندر وہ آزادی کے راگ الاپتی رہتی ہے اور آزادی میں مکمل شرافت کے ساتھ جماعت میں شرکت کر سکتی ہے اور وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اسے سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کر سکے خاص طور سے ناول کے آخر میں مذکور جملہ بہت زیادہ مؤثر ہے اور وہ لیلیٰ کی زندگی کو مکمل بدل کر رکھ دیتا ہے وہ لیلیٰ سے کہتا ہے  ’’ اے میری پیاری تم جو چاہو کرو ،تم اپنے لئے راستے کو کھول دو اور اسے کھلا ہی چھوڑ دو۔‘‘

         “لطیفہ الزیات” نے مردوں کی بالادستی والے معاشرے کی صورتحال کو یوں  بیان کیا ہے، وہ کہتی ہے

   ’’ وہ تربیت جو وہ اپنے معاشرے میں حاصل کرتی ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی شخصیت کو ختم کر دیا جائے اور اس کو اس چیز کے لئے تیار کیا جائے جو مردوں کے فائدے کے لئے ہے۔ اس کی ذات کو اس طرح ختم کر دے کہ عورت کی آواز ہی معاشرے سے غائب ہو جائے، اس کے آزاد ارادوں کو دبا کر رکھ دیا جائے، اس کے  ہر مثبت کام کو بیکار قرار دیا جائے۔ ‘‘  وہ مزید کہتی ہے  کہ ’’  میری مظلوم ماں نے مجھ پر ظلم کیا تا،کہ میں اس ظالم معاشرے میں برابری کا درجہ پاسکوں جو صرف مظلوم عورتوں کو ہی قبول کرتا ہے۔ میری ماں نے مجھے بتایا تھا کہ میں یہ نہ کروں، یہ نہ کہوں، یہ ظاھر نہ کروں۔ اس نے ہر مرتبہ میری آواز بلند ہونے سے پہلے ہی دبا دیا۔ مجھ میں منفی رویے کو بڑھایا ،میرے مثبت پہلو کو ہمیشہ ختم کرنے کی کوشش کی، مجھے یہ بتایا کہ کیسے مسکراؤں، کیسے اطاعت کروں اور ہر مرتبہ میرے نا پسندیدہ افعال کا غضبنا ہو کر ہی ختم کیا، میری ماں میرے ناخن بھی کاٹتی تھی، اور بتاتی تھی کہ محبت ایسا تحفہ ہے جس کا کوئی مقابل نہیں اور اس تحفہ وعطا کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، میری ماں نے مجھے سکھایا کہ میں اپنی ذات کو اپنے محبوب کے لئے کیسے فنا کردوں یا یہ کہ میری کوئی ذات ہی نہ ہو اور یہ کہ خود ہر کیسے ظلم کروں، میں وراثت کی کوئی حقدار نہ بنوں اور اپنے حصے کو پورے ہوش وحواس کے ساتھ لوٹا دوں ۔ ‘‘

         لیلیٰ کے گھر کے لوگ اسے انسان سے ایک گڑیا  بنانا چاہتے تھے جو ہمیشہ ان کے اشاروں پر کام کرتی رہے اور وہ لوگ اسے جب اور جہاں چاہیں ایک ڈوری کی طرح نچائیں یہاں تک کہ ایک ایسا وقت بھی آیا جس میں اس نے جان لیا کہ کب کہاں اور کیسے ہنسا جائے کب بیٹھا جائے اور کب اٹھا جائے وغیرہ  اگر وہ اپنی ماں سے ان کا راز معلوم کرنا چاہتی تو اس کی ماں وہی گھسا پٹا جواب دیتی کہ “جو اصول وضوابط پر چلتا ہے وہ کبھی غلطی نہیں کرتا”۔

         “لطیفہ الزیات” اپنی بچپن سے لیکر اپنی موت تک صرف اور صرف عورتوں کے  آزادی کے لئے وقف تھی اور اس نے اپنے وطن کی آزادی کے لئے ہر چیز کو قربانی کر دیا اور اپنی ہر طاقت کو اپنے وطن کے لئے وقف کر دیا۔ لیلیٰ بچپن سے وطنی ترانے گاتی، مجاہدین اور مظاہرین کی تحریک کی اتباع کرتی تھی۔

         “لطیفہ الزیات” کہتی ہے کہ لیلیٰ گرمی کی چھٹی کے ختم ہونے کا نہایت بے صبری سے انتظار کرتی تھی کہ کب ختم ہو اور میں اپنے اسکول کو واپس جاؤں جو میری حقیقی دنیا ہے۔ لیلیٰ اپنے مدرسے کو ایک الگ خاص قسم کی دنیا تصور کرتی ہے وہاں وہ قید وبند اور معاشرے کی پابندیوں سے آزاد رہتی تھی، وہاں وہ ادبی محفل میں شرکت کرتی اور کھیل کود میں باضابطہ حصہ لیتی اور وہ مختلف قومی مواقع پر  شعلہ بار خطاب بھی کرتی تھی۔

         لطیفہ اپنی بلوغت سے قریب کے سخت دور کے گذرنے کو بیان کرتی ہے وہ کہتی ہے کہ ’’ میری وہ زندگی حد سے زیادہ میرے باپ کے رنج وغم کا سبب تھی، اسی وجہ سے ان دونوں کے تعلقات دن بدن خراب ہوئے گئے۔لیلیٰ کی سیاسی بیداری بھی اس کے باپ کی پریشانیوں کا باعث تھی، خاص طور سے جب وہ 1936 کے معاہدے 1951 کے سال میں منسوخ ہونے کے بعد گھر لوٹی تو اس کا باپ اس پر ٹوٹ پڑا اور اس کو ذرہ برابر رحم بھی نہ آیا۔

         “لطیفہ الزیات” کہتی ہے کہ اس کی سیاسی بیداری اس کے بھائی عبدالفتاح  کے ذریعہ پروان چڑھی۔ اس نے اپنے بھائی سے تین مضبوط طاقتوں سے جو طرفہ لڑائی کو سیکھا جیسے بادشاہ، اس کے مددگار اور تیسرے برطانوی اقتدار کے خلاف خوب لڑائی کی۔ اس بنیاد پر اس نے گویا اپنے لئے خندق کو اختیار کیا کہ جسمیں وہ کھڑی ہوئی ہو اور پریشانیوں اور مصیبتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہو۔ اس کے برخلاف لیلیٰ کہ جس نے اپنے بھائی کو ان معاملوں میں اپنا پیشوا بنایا وہ اس کے خلاف ہو گیا۔ لیلیٰ کے خاندان میں وہ تنہا شخص تھا جس سے لیلیٰ کو آزادی کی ٹھنڈی ہواؤں کی امید ہوتی تھی اس لئے کہ وہ بھی گھر سے باہر ملک کے سیاسی اور معاشرتی مسائل کا مطالعہ بخوبی کرتا تھا۔

         لطیفہ کے والد کا سلوک بھی اس کے بھائی سے مختلف تھا اس کا باپ اس کے بھائی کو اجازت دیتا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کے گھر جاتے اور ان سے ملے اور اس کے دوست اس کے گھر آ کر اس سے ملیں لیکن لطیفہ کہتی ہے کہ ’’ مجھے اس بات کی اجازت نہ تھی کہ میں ہنسی مذاق کر سکوں اپنے دوستوں کے گھر جا سکوں اور ان کو اپنے گھر بلا کر مہمان نوازی کر سکوں۔ اس کا باپ خربوزہ کو جمع کرتا تھا اور بیٹے اور اس کے دوستوں کو اجازت دیتا تھا کہ وہ اس سے کھا سکتے ہیں جبکہ لطیفہ کو اس کے جمع کرنے کی جگہ کا بھی علم نہ تھا۔

*****

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *