You are currently viewing عروض کی ماہیت:شاعری میں قافیہ کی اہمیت

عروض کی ماہیت:شاعری میں قافیہ کی اہمیت

جیم فےغوری

( شاعر و ادیب، افسانہ و ناول نگار  ،صحافی و دانشور، مقیم اٹلی)

عروض کی ماہیت:شاعری میں قافیہ کی اہمیت

کلام موزوں کو شعر کہا جاتا ہے جس میں نہایت مؤثر طریقہ سے انسانی جذبات کا بیان ہو اسے شاعری کہا جاتا ہے۔  یعنی  جو کلام اوزان مقررہ میں سے کسی ایک وزن پر مقفی  ہو اور با مقصد موزوں کیا گیا ہو ۔ شعر کے لیے وزن اور وزن کے لیے  بحر ضروری ہے یعنی شعر کو وزن میں تولنے کا نام بحر ہے۔

مولانا الطاف حسین حالی مقدمہ شعر و شاعری میں لکھتے ہیں  یورپ نے ڈریمٹک شاعری سے بہت فائدہ حاصل کیا ہے مثال کے طور پر

شیکسپیئر کے ڈرامے جن سے سیاسی اور سماجی اور اخلاقی اور ہر طرح کے بے شمار فائدے اہل یورپ کو پہنچے ہیں  لیکن اس کے برعکس ایشیا میں ایسی مثالیں شاید مشکل سے مل سکیں، لیکن ایسے واقعات بکثرت بیان کیے جا سکتے ہیں جن سے شعر کی غیر معمولی تاثیر اور اس کے جادو کے کافی ثبوت ملتے ہیں۔

ملٹن  کے مطابق شعر سادہ اور جوش سے بھرا ہو  اور اصلیت پر مبنی ہو،فریڈرک رابرٹسن  نے کہا کہ شاعری جذبات کا نام ہے۔

ورڈز ورتھ نے شاعری کی  تعریف  اس طرح کی ہے کہ “طاقتور احساسات کا بے ساختہ بہاؤ ہےجو سکون میں یاد کیے گئے  ہوں اور  جن کا جذبات سے  آغاز ہوتا ہے۔

 میرے نزدیک  شعر ایک ایسی تحریر ہے  جو منتخب کردہ زبان میں  شاعر کے تجربے کے بارے میں تخیلاتی بیداری پیدا کرتی  ہو اور معنی، آواز اور تال کے ذریعے مخصوص جذباتی ردعمل پیدا کرنے کا اہتمام کرتی ہے۔ سب سے پہلے شعر کے جز قافیہ اور ردیف  کے بارے  کچھ ضروری  باتیں جان لیتے ہیں۔

قافیہ  اور ردیف کا جوہر

اصطلاح میں قافیہ وہ کلمات ہیں جو شعر میں ردیف سے پہلے آتے ہیں یہ ہم وزن ہوتے ہیں اور مطلع کے دونوں مصرعوں میں ردیف سے پہلے آتے ہیں  یہ مختلف حروف پر مشتمل الفاظ  کا حصہ ہوتے ہیں  مگر مشترک صوتیت  رکھتے ہیں اور الفاظ کی آخری اصوات متماثل ہوں۔ اور ردیف دونوں مصرعوں میں قافیہ کے بعد  آتا ہے اورمطلع  کے بعد   ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں اس کی تکرار ہوتی ہے۔ردیف اور قافیہ میں فرق یہ ہوتا ہےکہ ردیف کے الفاظ ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں جو تبدیل نہیں ہوتے ہیں اور  قافیے کے الفاظ متفرق ہوتے ہیں اور املا اور اصوات  میں ایک دوسرے سے مشابہ ہوتے ہیں۔

حرف روی

مثال کے طور پرکسی شعر کے آخر میں ، دَر ہوتا ۔ گَھر ہوتا لکھا گیا ہے  تو اس  شعر میں  یہ حروف ،در اور گھر  قافیہ کے حروف ہیں اور حرف ہوتا،  ردیف ہے۔

ویسے تو حروف قافیہ نو(9) ہیں لیکن قافیہ کی بنیاد حرف روی پر ہی ہے کیوں کہ قافیہ میں حرف روی مقدم حرف ہے  اور یہ ہر قافیہ میں ضرور ہوتا ہے  اگر یہ حرف قافیہ میں نہیں ہو گا تو وہ درست قافیہ  نہیں ہو گا۔  جیسے دَر اور گَھر میں  حرف آخر ( رے )ہے اور یہ حرف روی شمار کیا جائے گا ۔ خالص حرف روی کی پہچان یہ ہے کہ اس سے ماقبل حرف متحرک ہوتا ہے   جیسے   در اور گھر کے پہلے حروف کے اوپر زبر ہے اور یہ متحرک ہیں۔ اس طرح سَفر اور  قَمر کی میم اور فے کے اوپر زبر  نے انھیں متحرک کر دیا ہے اور یہی خالص حرف روی کی پہچان ہے کہ اس  سے ماقبل حرف پر   زبر کی حرکت موجود ہے۔ اردو زبان میں ایک لفظ کم از کم دو حروف اور زیادہ سے زیادہ سات حروف پر مشتمل ہوتا ہے دو حرفی لفظ میں آخری حرف  روی ہو گا ۔یاد رکھیں کہ روی کا حرف کبھی بدل نہیں سکتا  البتہ اس کے ماقبل حرف  بدل جاتا ہے لیکن اس کی حرکت نہیں بدل سکتی۔ مثال کے طور پر چَل اور ٹَل میں حرف روی لام ہے اور یہ ساکن ہیں ۔ جب کہ  دو پہلے حروف  چ  اور ٹ پر زبر ہے اس لیے یہ خالص روی ہیں۔ کچھ خالص حرف روی مندرجہ ذیل ہیں۔

 در، گھر ۔تر، سر، بھر ، کر  ،چل،  اس کے علاوہ جب ، تب، کب، سب، اب ، رب وغیرہ ۔ثمر، شجر، نظر، سفر،اثر، قمر ، قبا،صبا،خدا، شفا، دوا، مزا، کفن، چمن، وطن، شکن، ہرن، بدن، لگن، سخن، رقم، قلم، الم، ستم، عدم، کرم وغیرہ۔

۔روی مفرد۔

جب ایک لفظ میں دو سے زیادہ حروف ہوں اور ایک لفط میں صرف دو حروف ہوں  لیکن ان کا آخری حرف  ایک ہی ہو اور حرفِ روی سے ماقبل حرف پر حرکت یکساں ہو اور اس میں کوئی دوسرا حرف قافیہ کا حرف نہ ہو تو اسے حرف روی مفرد کہتے ہیں ان کو ہم باہم قافیہ کر سکتے ہیں۔

اب روی مفرد کی چند  مثالیں دیکھیں اور ان پر آنے والی حرکات ثلاثہ کو ذہن نشین کر لیں۔  مثال کے طور پر بلُبُل اور گُل کا حرف ِروی لام ہے او ر  گل کی گ اور  بلبل ب پر پیش ہے اسی طرح محفِل اور دِل کا آخری حرف لام   ہےاور فے   اور دال  کے نیچے زیر یعنی کسرہ ہے۔ اس لیے یہ باہم قافیہ ہو سکتے ہیں روی مفرد  معنوی بھی ہو سکتا ہے اسم بھی اور فعل بھی ہو سکتا ہے اگر کمی اور کبھی کا قافیہ کیا جائے تو اردو میں جائز ہے کبھی میں یائے ( ی)  آخر ہے اور روی ہے اور اس کے ماقبل بھ کو فتحہ ہے اور یہ روی مفرد ہے یہ حرف ربط ہے یہ نہ تو اسم ہے اور نہ ہی فعل ہے کمی میں حرف روی معنوی ہے۔

اس طرح خلِش،روِش، تپِش،کشِش،سرزنِش اور پرورِش میں حرف روی شین (ش) ہے اور اس سے ماقبل حرف پر کسرہ ہے لہذا یہ باہم قافیہ ہو سکتے ہیں۔ جم ، سم ، غم ، دم ،  کم، ۔ بگر رگڑ، پکڑ، اجڑ ، ادھڑ۔، مرقد، مسند، ابجد، مرتد،  مشدد ۔، خس ، دس،  رس، بس، کس، نورس، مخمس۔، ہدف۔ طرف، کف، صدف، یہ سب روی مفرد کے قافیہ ہیں۔ میرے خیال میں اب آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ جب مختلف الفاظ میں جتنے مرضی زیادہ یا کم  حروف  ہوں تو وہ باہم قافیہ ہو سکتے ہیں ۔ اب  قافیہ  میں پائے  جانے والے عیوب پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

عیوب ِ قافیہ۔

 جب روی ساکن ہو تو اس سے ماقبل حرکت کا نام توجیہ ہے یعنی توجیہ سے مراد  کسرہ، فتحہ، ضمہ ہے مثلا لفظ چمَن کی توجیہ فتحہ ہے اور دِل میں کسرہ ہے اور گُل میں ضمہ ہے۔ اس لیے مبتدی کو بڑی احتیاط کی ضرورت ہے اگر اس حرکت یعنی توجیہ کو بدل دیا  جائے تو یہ غلطی ہے اس عیب کو اقوا کہتے ہیں۔  مرزا غالب کی ایک غزل کا حوالہ دے رہا ہوں جس میں قافیہ لب، کب،مطلب اور مکتب استعمال ہوا ہے،

ع۔ دل لگا کر آپ بھی غالب مجھی سے ہو گئے

عشق سے آتے تھے مانع میرزا صاحب مجھے

اب اس مقطع میں استعمال ہونے والا قافیہ  دیکھیں اس   میں حرف روی بے   ہے اور اس سے ماقبل حرف ح کے نیچے زیر ہے اور غزل کے مطلع  اور دوسرے اشعار میں  استعمال ہونے والے قوافی میں  توجیہ زبر ہے۔ اس لیے یہاں پر اقوا کا عیب آیا  ہے جو ناجائز ہے اسی طرح باطن اور دشمن اور گلشن اور محفل کا قافیہ کرنا ناجائز ہے۔

جب قافیہ کا ایک ٹکڑا مصرعے کی ردیف کا  حصہ بن جائے اور  دوسرا حصہ مفرد ہو یعنی صحیح اور اصلی لفظ ہو  تو اس کو معمول یا  معمولہ کہتے ہیں یہ بھی عیب میں شمار کیا جاتا ہے مثال کے  طور پر دیکھیں۔

پھر مجھے دیدہ تر یاد آیا

دل جگر تشنہ فریاد آیا

  مرزا اسد اللہ خاں غالؔب کی   اس غزل  کے مطلع میں یاد آیا  ردیف ہے            اور پہلے مصرعے میں تر قافیہ ہے جو مفرد لفظ ہے اور دوسرے مصرعے میں فر قافیہ ہے جو لفظ فریاد کا دوسرا حصہ ہے اور   یہ قافیہ  دوسرے مصرعے میں یاد آیا ردیف کا  حصہ  بن جاتا ہے اسی طرح ایک اور مثال  دیکھتے ہیں۔

گلے لپٹے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے

الہی یہ  گھٹا دو دن تو برسے

اب اس     غزل کے مطلع     میں ہم دیکھتے ہیں  ردیف   (سے) ہے اور پہلے مصرعے  میں قافیہ ڈر ہے اور دوسرے مصرعے میں بر قافیہ ہے اور اصل میں یہ لفظ برسے کا حصہ ہے۔

   مضمون  کو مختصر کرتے ہوئے  صرف ایک اور عیب کی  مثال پیش کرتا ہوں جس کو  قریب الصوت قوافی کا نام دیا جاتا ہے جس کے بارے ایک  مکتب فکر کا کہنا ہے جائز ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ ناجائز ہے۔ جیسے  ساتھ کے تھ کے مقابل   لانا بہت عام ہو چکا ہے ایسی غزلیں بھی موجود ہیں جن کے قوافی میں  ذ، ض، ز،  ظ کے علاوہ الف اور عین کو بھی ایک دوسرے کے مقابل لایا گیا ہے پروین شاکر کی ایک غزل کے دو اشعار دیکھیں۔

موجۂ گل کو ہم آواز نہیں کر سکتے

دن ترے نام سے آغاز نہیں کر سکتے

عشق میں یہ بھی کھلا ہے کہ اٹھانا غم کا

کارِ دشوار ہے اور بعض نہیں کر سکتے

الطاف حسین  حالی ؔنے مقدمہ شعر و شاعری میں لکھا ہے کہ قافیہ بھی ہمارے ہاں ضروری ہے جیسے وزن ہے لیکن کہیں  پر حالیؔ قافیہ کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں اور  کہیں پر  لکھتے ہیں کہ وزن اور قافیہ پر ہماری موجودہ شاعری کا دارومدار ہے۔ قافیہ شعر کا حسن تو بڑھا دیتا ہے مگر بعض اوقات شاعر کو ایک دائرے میں پابند کر دیتا ہے وہ پہلے سے ذہن میں تیار خیال کو بدلنے پر مجبور  ہو جاتا ہے یا پھر قافیہ  اصل خیال کو ادا کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ شاعر کے ذہن میں جب  ایک خیال آتا ہے اور وہ اسے شعر میں ڈھالنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے قافیہ کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔

  طوالت مضمون سے بچنے کے لیے میں پھر عیوب ِقافیہ  کی طرف آتا ہوں  کچھ اور عیوبِ قافیہ  کا مختصر بیان کرنا چاہتا ہوں اوپر بیان کردہ عیب معمول یا معمولہ کی کچھ اور مثالیں  دیکھیں یہ ایک عیب  تو ہے مگر اردو کے شعرا نے ایسے قافیے بھی  نظم کیے ہیں جن کی وجہ سے اساتذہ کی تقلید میں ان  کو جائز کر لیا گیا ہے۔

مثال  کے طور پراحمد فراز کی ایک غزل کا مطلع دیکھیں۔

کچھ نہ کسی سے بولیں گے              تنہائی میں رو لیں گے

 اب دیکھیں  اس غزل کا قافیہ بولیں   اور ردیف گے ہے بولیں  ایک لفظ ہے اور دوسرے مصرع کا قافیہ   رو لیں  دو الفاظ  ہیں پہلا لفظ رو ہے  جس کا مطلب  ( رونا، آنسو بہانا ) ہے دوسری مثال دیکھیں،

بھول کر بھی تجھے بھول پایا نہیں

نام  دل پر  لکھا پھر مٹایا نہیں

رات کی  دلکشی قاری شب سے پوچھ

پوچھ اس سے کہ حسن تھا یا نہیں

اب یہاں پر شاعر نے قافیہ پایا، مٹایا کے ساتھ تھایا  لگایا ہے جو دو الفاظ پر مشتمل ہے ۔

ایک اور عیب کا مختصر ذکر کرتا چلوں جس کا نام تنافر ہے اس کا مطلب ہے کہ کلام میں ایسے الفاظ لے کر آنا جن کو ادا کرتے ہوئے گرانی محسوس ہو ، اس  کی صورت یہ ہے کہ ایک لفظ جس حرف پر ختم ہو اسی سے اگلا لفظ شروع ہو ، مثال کے طور پر امجد اسلام امجد کی اس غزل کا مطلع دیکھیں۔

در و دیوار ہیں مکان نہیں ۔۔ واقعہ ہے یہ داستان نہیں

یہاں پر آپ نے دیکھا ہے  قافیہ  مکان اور داستان کا نون ٹکرا رہے ہیں اسے ہم تنافر لفظی کہیں گے، آپ کو بتاتا چلوں کہ قافیہ میں   عیب دو طرح کے ہیں ایک وہ ہیں جو حرام کے زمرے میں آتے ہیں  دوسرے وہ ہیں جن کو ہم مکروہ کہتے ہیں  اور حرام کا استعمال جائز نہیں ہے اور مکروہ کا استعمال  مجبوری کے تحت جائز مانا جاتا ہے۔

ایک اور عیب جس کا نام ایطاء ہے یعنی قافیہ میں ایسے حروف کو روی قرار دینا جس میں روی بننے کی صلاحیت نہ ہو ، اس کے لئےنا صر کاظمی کی اس غزل کا مطلع دیکھیں۔

جب میں نے لکھنا سیکھا تھا       پہلے تیرا نام لکھا تھا

جس بحر میں یہ مطلع ہے اس بحر کا نام بحر متقارب  ہے اور بحر کے  اراکین ہیں فعلن فعلن فعلن فعلن دو بار ایک شعر میں، اس کی  تقطیع کچھ یوں  ہو گی ، فعلن جب مے فعلن نے لک فعلن نا سی فعلن کاتا۔ اب آپ دیکھیں اس مطلع میں  قافیہ لکھا اور سیکھا کا استعمال ہوا ہے جب کہ لکھا کا   لام  متحرک ہے لیکن اسے ساکن کر کے  نام کے میم کو متحرک کر لیا گیا ہے اور اگر  مطلع کے دونوں مصرعوں  میں ردیف کھا   کو قرار دیا جائے تو حرف  روی لکھا میں لام اور سیکھا میں یائے ہوں گے جو ایک جیسے اور ایک حرکت رکھنے والے نہیں ہیں اس طرح ناجائز ہے۔

اسی طرح   اس عیب کی ایک اور مثال دیکھیں دو لفظ دانا اور بینا لیتے ہیں ان میں سے اگر نا کو  ردیف  مان لیا جائے تو باقی حروف دا  اور بی رہ جاتے ہیں جو باہم قافیہ نہیں ہو سکتے ہیں۔ کچھ ہم قافیہ الفاظ نیچے درج کر  رہا ہوں۔

 رقم، قلم، ستم، کرم، عدم، الم، حرم، ارم میں حرف آخر میم ہے ۔ اب ، سب، تب، کب، جب، ڈھب، میں حرف روی ب ہے۔ جان، زبان، آسمان، افغان، کمان، نشان، جہان، امتحان، دکان، باغبان باہم قافیہ ہو سکتے ہیں ان حروف میں حرف نون ساکن روی ہے اور الف ساکن روف ہے۔بیمار، تلوار، رفتار، دیدار، رخسار، نادار،، آثار، انوار، عیار، اظہار، ناچار، اشعار، دشوار، اغیار، اسرار،، بیکار، اصرار، اسرار،  مختار، گفتار، دیوار، تیار، غدار، تکرار ان سب الفاظ میں  رے روی ہے اسی طرح رومال، اعمال، اقبال، جال، خیال، حال، استقبال، بلال، ڈھال، چال، سال، ملال، تھال، رال، شوال، سوال، احتمال۔

آفتاب، گلاب، شراب، کتاب، خراب، عتاب، عذاب،  حجاب، آب ، حباب، جواب، کباب، خواب، حساب، تاب، ارباب، اور قیام، تمام، رام، شام، سلام، عام، ایام، دام، کام، خام، جام، نام آرام، انجام، بادام، مقام اس کے علاوہ  دیکھیں مشہور، ظہور، ناسور،مذکور، معمور، دور، نور، مزدور، مزمور، منظور، حور، مسرور، معذور، کافور، یہ سب ماقبل ضمہ معروف واؤ کے روف ہیں۔

تحریر، تقریر، تکبیر، توقیر، تصویر، تعمیر، تکبیر، زنجیر، امیر، سفیر، اسیر، مینر، شریر، تدبیر، نظیر، ضمیر، فقیر، یہ سب  کسرہ معروف ہیں ۔

ردیف کے لیے ضروری ہے کہ ایک جیسے الفاظ ہوں ایک جیسی صورت ہو اور ردیف کو ہم قافیہ کی طرح لکھنا عیب ہے جس کو تقابل ردیف کہتے ہیں جو مکروہ کے زمرے میں آتا ہے، مثال کے طور پر۔

مقروض تھا شاہد جو سر شام مر گیا۔۔ کیوں اس کا ہر شخص کفن نوچ رہا ہے

اس شعر میں دیکھیں رہا ہے اور مرا ہے تقابل ردیف کہلاتا ہے  اسی طرح لیں اور ملیں ردیف کے طور پر لکھیں تو تقابل ردیف شمار ہو گا۔

ایک اور   عیب کا نام اکفا ہے اس میں روی کو بدل دیا جاتا ہےاور روی کو بعید المخراج سے بدل کر قافیہ بنا لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر خندق  کو  فلک اور شک کو سچ کے ساتھ قافیہ کیا جاتا ہے جو ناجائز ہے اور عیب اکفا میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ  ایک اور  عیب کو اجازہ کہا جاتا ہے جس میں روی کو قریب المخراج حرف سے بدل دیا جاتا ہے۔ جس طرح لفظ خبیث کو لفظ نفیس یا پھر نویس سے باندھ لیا جاتا ہے جو ازروئے لغت اور محارہ غلط اور ناجائز ہے   ۔اس کے بعد دیکھیں اس  عیب کا نام تحریف روی ہے جس میں اہل اصطلاح   لغت کے خلاف لفظ کا استعمال کرتے ہیں  اور ایک لفظ  کا تلفظ غلط بولا جاتا  اور لکھا جاتا ہے۔ جیسے نماز کو نماج اور ناز کو ناج لکھ کر راج  کا قافیہ کر لیا جاتا ہے یہ چار عیوب قافیہ میں ناجائز اور غلط ہیں جن سے شاعر کو بچنا ضروری ہے۔ روی کے کچھ قافیے دیکھیں، ثمر ، شجر، نظر، قمر، اثر، سفر کے علاوہ بدن، وطن، سخن، کفن، شکن ، لگن، چمن، ہرن، بدن اور رقم، قلم، الم ،ستم، عدم کرم   وغیرہ۔

 روف کیا ہے ؟

حرف روی سے قبل اگر حرف علت ہے اور وہ ساکن ہے تو اس کو روف کہتے ہیں،پہلے آپ نے دیکھا کہ روی مفرد دو حرفی ہوتا ہے مگر قافیہ روف کم از کم  تین حروف سے شروع ہوتا ہے اور اس میں روی سے قبل حرف علت ساکن ضرور  ہوتا ہے اسے روی معروف کہتے ہیں اس کی دو قسمیں ہیں پہلی قسم روف مطلق اور دوسری روف زائد ہے پہلی میں حروفِ علت میں سے کوئی یعنی الف، واو اور یائے (ا۔و۔ ےی) میں سے کوئی ایک بلافاصلہ آ جائے، مثال کے طور پر نُور اور دُور میں واو مطلق ہے اور دوسری قسم میں علت لفظ کے درمیان میں ہو، مثال کے طور پر دوست میں ہے روف کے کچھ قافیے دیکھیں۔

عذاب، شراب، آفتاب، کتاب، خراب، جواب، عتاب اور سلام، دام، کام، شام، قیام، مقام، جام، تمام،عام،۔

اس کے علاوہ حرف قافیہ مندرجہ ذیل ہیں  جن کی وضاحت میری آنے والی کتاب میں موجود ہے۔ ان میں قید، تاسیس، دخیل، وصل، خروج، مزید، اور نائرہ حروف ہیں۔ حرف روی کو آسانی سے سمجھنے اور اس کی پہچان کے لیے قاعدہ یا کلیہ یہ ہے۔

1۔ اگر  دو حرفی لفط ہے تو ظاہر ہے اس کا دوسرا  حرف روی مفرد ہو گا  جیسے جب، اب، اور کل ہیں۔

2۔اگر تین حرفی لفظ ہے اور پہلا اور دوسرا متحرک ہیں تو پھر آخری حرف خالص روی ہو گا جیسے سفر اور قمر۔

3۔ اگر سہ حرفی لفظ میں دوسرا  علت اور پہلا متحرک ہو جبکہ دوم اور سوم ساکن اور تیسرا روی ہو تو حرف دوم روف ہوگا  جیسے یار اور نور۔

4۔ اگر چار حرفی لفظ کا تیسرا علت اور چوتھا ساکن ہو  تو سوم روف اور چوتھا روی ہو گا جیسے نصیب اور شعور میں ہے۔

حوالہ کتب مطالعہ۔  1۔شاعری کی پہلی، دوسری،تیسری اور چوتھی کتاب از محمد عبدالروف ،عشرت لکھنو۔2۔علم عروض از عقیل روبی، 3۔شاعری کرنا سیکھیں از احسان اللہ ثاقب۔4۔استفادہ از  شکیل سروش۔5۔آسان علم قافیہ ازمحمد یعقوب آسی۔6۔آسان عروض اور شاعری کی بنیادی باتیں از سرور عالم راز سرور۔7۔ مقدمہ شعر و شاعری از مولانا الطاف حسین حالی، 8۔بحرالفصاحت  جلد اول تا پنجم از مولوی نجم الغنی رام پوری،9۔فاعلات از محمد یعقوب آسی،10۔علم العروض از خلیل الرحمان،11۔خورشید حسین بخاری۔۔۔

***

Leave a Reply