You are currently viewing ’’عید‘‘

’’عید‘‘

ڈاکٹر محمد کلیم ضیاؔ

سابق صدر شعبۂ ادرو،اسماعیل یوسف کالج،جوگیشوری (مغرب)ممبئی۔

’’عید‘‘

عید ہے عالم  ِ امکاں کے لیے روزِ سعید

اس کے جلوئوں میں نمایاں ہے خوشی کی تمہید

فرض ہے فکر  ِ بشر کے لیے دہری تقلید

کیونکہ ہر دل میں محرم ہے ہر اک ذہن میں عید

ظاہراََ حسن و مسّرت کی فراوانی ہے

یہ حقیقت ہے کہ جو لمحہ ہے بحرانی ہے

روشنی لائی ہے بے کیف اندھیروں کا ہجوم

آج ہر چہرے پہ تابانی ہے ہر دل مغموم

ظلم حالات  کا  سہتی ہے تمنّا مظلوم

کون کس فکر کا  مارا  ہے کسیِ کیا معلوم

اشک ِغم پردۂ فطرت میں چھپا لیتے ہیں

جو بھی ملتا ہے کلیجے سے لگا لیتے ہیں

بات ایسی ہے کہ کہتے ہوئے دل ڈرتا ہے

عزم پر ڈھنگ سے جینے کے جتن کرتا ہے

ہاتھ پر ہاتھ کوئی جان  کے کب دھرتا ہے

جو بھی انساں ہے وہ عظمت کے لیے ڈرتا ہے

پھر بھی احساس کا  بحران نظر آتا ہے

عید کا چاند بھی رمضان نظر آتا ہے

ہاتھ کنگال ہے اور بے  سروسامان ہے دل

مشکلیں ہوگئیں واجب کہ  پریشان ہے دل

وہ گرانی ہے وہ  افلاس کہ حیران ہے  دل

عیش کیا چیز ہے اس بات سے انجان ہے  دل

کیفیت دل کی زمانے کو دکھائیں کیسے

روح غمگین ہے ہم عید منائیں کیسے

صاحب زر کے لیے عید  اک  ادنٰی سا  مذاق

کثرت  زر سے چمکتے  ہوئے  محراب وطاق

عیش وعشرت کے گھروندے میں ہے غربت سے نفاق

مفلسی  سینے  سے  چمٹائے  ہے بھوکا  اخلاق

اہلِ زر سختی ِدوراں  سے بپھر  جاتے ہیں

مفلسِ وقت ہراک بات سے ڈرجاتے ہیں

عید ہے عشق  مزاجوں کو  وفا کا  پیغام

عید کے چاند سے ملتا ہے  محبت کا  پیام

حسنِ تہذیب میں اعلٰی ہے محبت کا مقام

لگ کے محبوب کے سینے سے کیا دل نے سلام

وہ لگے سینے سے جب جذبۂ معصوم لیے

میری معصوم تمنائوں نے لب چوم لیے

لوگ کہتے ہیں ضیاؔ تم کو ہے کس بات کا  غم

عید کے دن ہیںبھلا کس لیے آنکھیں پُر نم

ٹوٹ جائے نہ کہیں حسن  بصیرت کا  بھرم

دیکھ کر آج کے ماحول کو  کہتا ہے  قلم

آئو ہم عزم سے احساس کی تمہید کریں

نوعِ انساں کو خوشی ہو تو پھر ہم عید کریں

Leave a Reply