غالب اور ایبک:مولانا حالی اور پروفیسر نذیر احمدکے حوالے سے

پروفیسراخلاق احمد آہنؔ

شعبۂ فارسی و مرکزی ایشیا،  جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

akhlaq.ahan@gmail.com

غالب اور ایبک:مولانا حالی اور پروفیسر نذیر احمدکے حوالے سے

غالب شناس محققین کی ایک طویل فہرست ہے، جنھوں نے غالب کی زندگی، ان کے فن ، ان کے عہد اور معاصرین کے حوالے سے مختلف ابعاد اور جہات پر قابل قدر تحقیقی کارنامے انجام دیے ہیں، لیکن بحیثیت غالب شناس، مولاناحالی کا مقام سب سے ممتاز ہے اور’’یادگارِ غالب‘‘ کوسب سے اہم منبع کی حیثیت حاصل ہے۔

         ہندوستان کے متاخر محققین میں  چند ہی افراد ایسے ہوئے ہیں، جنہوں نے علم و ادب کے مختلف گوشوں میں تحقیقی کارنامے انجام دئے اور موضوعات کی گوناگونی کے باوجود اس کے ساتھ بھرپور انصاف کرنے میں کامیاب رہے۔ ایسے محققین میں پروفیسر نذیر احمد کا نام خاص طور سے لیا جا سکتا ہے۔ اس موضوعاتی تنوع کے ساتھ جو بات حیرت زدہ کرنے والی اور ساتھ ہی آج کے محققین کے لیے مقام عبرت ہے، وہ ہے ان کی تحریر و ترتیب کردہ کتابوں، رسالوں، مقالوں اور مضامین کی تعداد۔لگ بھگ ساٹھ سال کے اس علمی سفر میں، تین درجن سے زائد کتابیں، تقریباً اتنے ہی رسائل اور سیکڑوں کی تعداد میں اردو، فارسی اور انگریزی  میں مقالے اور مضامین۔ بغور دیکھنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کام انجام دینے میں نذیر صاحب نے جو وقت صرف کیا ہے، اس مدت میں کوئی اس کا مطالعہ بھی کرلے تو خود کو خوش نصیب تصور کرے۔ بلاشبہ، یہ ان کا جنون اور تحقیقی کاوشوں سے ان کا فطری لگاؤ ہی ہے، جس نے ان سے یہ کام انجام دلوالیا ہے۔ساتھ ہی ان کے اس Devotion اور اس استعدادکے لیے وہ ماحول اور اساتذہ بھی ذمہ دارہیں ، جو خوش نصیبی سے انھیں میسر آئے۔ ان میں پروفیسر مسعود حسین رضوی کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے، جس نے ایک اچھے اور مشفق استاد کے ساتھ آدم شناس بھی تھے۔ چنانچہ انھوں نے اپنے لائق اور باصلاحیت شاگردوں کا ایسا حلقہ تیار کیا، جو آیندہ بھی ان کی علمی و ادبی روایات کو نہ صرف زندہ رکھا، بلکہ اسے ترقی کے نئے منازل سے ہم آہنگ بھی کیا۔ پروفیسر نذیر احمد اسی سلسلۂ علمی کے ایک اہم ستون ہیں۔ آج جب کہ درسگاہوں اور علمی اداروں میں اس علمی شوق و سرگرمی کی جگہ بے کیفی اور بے مایگی بڑی سرعت سے سایہ فگن ہورہی ہے، ایسے حالات میں ان بزرگوں کے کارناموں اور ان کی علمی وراثت کو سامنے لانے اور نسل نوکو اس سے آگاہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

         پروفیسرنذیر احمد کی تنقیدی و تحقیقی تحریروں کی ایک خاصیت یہ ہے کہ ان میں وہ جارحانہ انداز نہیں دکھائی دیتا، جو محمود شیرانی کے طرز نگارش کا خاصہ ہے۔ وہ عموماً اپنے متقدمین کی تحقیقات پر تنقید اور رائے زنی کیے بغیر اضافی اطلاعات کے ذریعہ اس کمی کو پورا کردیتے ہیں۔

         موصوف نے مختلف موضوعات پر لکھا ہے اور ان کا تخصص کسی ایک موضوع تک محدود نہیں، بلکہ متعدد موضوعات پر محیط ہے، جن میں خاص طور سے فرہنگ و لغت شناسی اور زبانشناسی،تصحیح و تحقیق مخطوطات، نسخہ شناسی، اصول تحقیق، حافظ شناسی ، غالب شناسی، سنائی شناسی، فنون لطیفہ،  نقد ادب یا تنقید،  تاریخ، تاریخ ادب وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔البتہ فرہنگ و لغت کی بحث و تحقیق ان کا سب سے مرغوب موضوع ہے اور اس حوالے سے ان کے کارنامے تمام علمی دنیا کے لیے چراغ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔  فارسی کی اہم ترین اور قدیم ترین لغات کی تصحیح و ترتیب کے حوالے سے جس تحقیقی کمال کا مظاہرہ کیا ہے، وہ انھیں کا خاصہ ہے مثلاً فرہنگ قواس، فخرالدین مبارک شاہ غزنوی، قبل از ۶۹۵ھ، دستورالافاضل، حاجب خیرات دہلوی، ۷۴۳ھ، زفان گویا، بدر ابراہیم، ۸۳۷ھ، لسان الشعراء، محمد عاشق، نقد قاطع برہان مع ضمایم، ۱۹۸۵ء؛ محمد حسین تبریزی ۱۰۶۲ھ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

          فرہنگ اور لغت کے مباحث کے علاوہ موصوف کے یہاں جس موضوع سے گہری دلچسپی ظاہر ہوتی ہے، وہ تاریخ ہے۔ چنانچہ انھوں نے بالخصوص ان دواوین و مخطوطات پر کام کیا ہے، جن کی تاریخی اہمیت ہے یا جن سے تاریخ کے کسی گوشے پر روشنی پڑتی ہے یا کسی نئی اطلاع کا انکشاف ہوتا ہے۔دواوین کی تصحیح کے ذیل میں ان کی توجہ زیادہ تر تاریخی اطلاعات و انکشافات کی طرف ہوتاہے۔ شعریات کے تعلق سے وہ عروض وغیرہ سے بحث تو کرتے ہیں ، لیکن شعری محاسن یا نقد کی طرف توجہ نہیں کرتے، یہ در حقیقت تاریخ یا تاریخی حقائق کی طرف ان کی توجہ ، تمایل خاطر اور ان کی دلچسپی کی دلیل ہے۔ ان کے مضامین میں ایسے بے شمار عناوین مل جاتے ہیں، جو تاریخ سے متعلق ہیں مثلاً ہسٹری جرنل ، ۱۹۵۹ء میں تاج محل کے معمار سے متعلق نئی اطلاعات کا انکشاف۔مملوک اور مغل عہد کے امراء مثلاً نظام المک جنیدی، عزالدین بختیار، غازان خان،خانوادۂ نورجہاں وغیرہ سے متعلق حقائق افزا مضامین،عہد اکبری میں فرقۂ نقطوی کا عروج، دکن کی تاریخ اور بہمنی، عادل شاہی حکمرانوں سے متعلق ان کے تحقیقی کارنامے وغیرہ۔ تاریخ ادب بھی تاریخ کا ہی ایک حصہ ہے،  اور تاریخ سیاست و تمدن سے اس کا گہرا رشتہ ہے؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی تمدن کی روح کا جوہرادبی شہ پاروں سے مترشح ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ادبیات کی تاریخ نویسی زیادہ بہترہے، کیوں کہ ادبی شہ پارے ، تاریخی کرداروں  کے بہ نسبت زندہ نمونے ہیں۔ چنانچہ ہیگل نے تاریخ نویسی کی تقسیم بندی میں تاریخ ادبیات کو ’خاص تاریخ‘ کے ضمرہ میں رکھا ہے ، جو کسی قوم کے علمی، ادبی، فنی و ہنری فتوحات پر مشتمل ہوتا ہے۔

         خود ’’نقد قاطع برہان‘‘ کی بحث میں جو فرہنگ سے متعلق ہے، ان کا سب سے بڑا کارنامہ ، اس حقیقت کی نقاب کشائی ہے کہ دساتیر(جو مبینہ طور پر ۱۶ ؍کتابوں کا مجموعہ ہے اور پندرہ ایرانی پیمبروں اور ایک برگزیدہ شخصیات پر نازل ہوئی) ایک جعلی کتاب ہے، بلکہ اس میں شامل جعلی الفاظ کی بہتات ہے۔لیکن بشمول غالب، دیگر فرہنگ نویس اور علماء اس کے استناد کے قائل تھے۔ غالب لکھتے ہیں:

         ’’دساتیر صحیفۂ چند است کہ بر پییمبران پارس نازل شدہ است و آن زبان بہ ہیچ زبان مشابہ نیست،               ساسان پنجم آنرا در زبان پارسیِ ناآمیختہ بہ عربی ترجمہ کردہ است۔‘‘ (۱)

چنانچہ شاعری میں بھی پروفیسر نذیر صاحب کو قصائد سے زیادہ رغبت ہے، کیوں کہ یہ تاریخی اطلاعات کا منبع ہیں۔  غالب نے ایک سوگندنامہ عرفی سے متاثر ہوکر لکھا ہے۔ اس اہم قصیدہ میں غالب نے کئی قدیم تاریخی اطلاعات سے استفادہ کیا ہے اور پروفیسر نذیر احمد نے اس کی توضیح کی ہے۔ اسی میں ایک شعر ہے کہ:

بدشتبانی ترکان ایبک و قبچاق            بہ میرزائی خوبان خَلُّخ و نوشاد

یہاں موصوف نے’ ایبک‘ کی توضیح میں لکھا ہے کہ:

          ـ’’ ایبک بمعنی بت مجازاً معشوق، بعض لوگوں نے بمعنی’ شل‘ لکھا ہے جو طبقات ناصری کی عبارت کے غلط سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ غالب نے ایبک، ترکوں کے ایک قبیلہ کا نام غلط لکھا ہے۔‘‘ (۲)

جب کہ’ قبچاق‘ کے متعلق پروفیسر نذیر احمدلکھتے ہیں کہ یہ:

         ’’دشت و ناحیہ ای در شمال بحرخزر، ترکان قبچاقی یہیں ساکن تھے، اکثر گلہ بان تھے ۔‘‘(۳)

اور اسی طرح دوسری تلمیحات خوبانِ خَلُّخ اورخوبانِ نوشاد کی توضیح کی ہے۔ یہاں بحث صرف ایبک کے حوالے سے ہے۔ موصوف نے برہان قاطع، غیاث اللغات، لغت نامہ دہخدا،فرہنگ معین وغیرہ کے حوالے سے لفظ ایبک کے تلفظ اور معانی سے بحث کے ساتھ ساتھ یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ:

         ’’غالب کے مندرجہ بالا شعر میں جہاں ایبک کو ترکوں کا ایک قبیلہ قرار دے دیا ہے، اس قبیلے کی گلہ بانی کی طرف اشارہ ہے ۔‘‘(۳الف)

مزید فرماتے ہیں کہ:

’’غالب ترکوں اور ترکمانوں کی گلہ بانی تو جانتے تھے لیکن ان کے قبیلوں کے نام سے واقف نہ تھے، اسی بنا پر انھوں نے ’’ایبک‘‘ کو ترک قبیلہ بتادیا۔‘‘(۳ ب)

 حالی نے ’’یادگار غالب‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ ’’مرزا کے خاندان اور اصل و گوہر کا حال جیسا کہ انھوں نے اپنی تحریروں میں جابجا ظاہر کیا ہے، یہ ہے کہ ان کے آبا و اجداد ایبک قوم کے ترک تھے۔‘‘(۴) حالی کے اسی بیان سے غلط فہمیوں کی بنیاد پڑتی ہے، جو انھوں نے غالب کے مندرجہ ذیل شعر کی تشریح میں رقم کیا ہے:

غالب از خاک پاک تورانیم            لاجرم در نسب فرہ مندیم

ترک زادیم و در نژاد ہمے                       بہ سترگان قوم پیوندیم

ایبکیم از جماعۂ اتراک                           در تمامی ز ماہ دہ چندیم(۵)

البتہ حالی نے لفظ’ ایبک ‘کی توضیح کچھ یوں کی ہے کہ ’’ایبک ترکی لفظ ہے، مرکب آے اوزبیک ہے۔ آے چاندکو، اوزبیک کامل اور بزرگ کو کہتے ہیں۔ پس اَیبک کے معنی ماہ تمام و بزرگ کے ہیں۔ اسی لیے مرزا نے کہا ہے ’در تمامی ز ماہ دہ چندیم‘۔‘‘(۶)’’ برہان قاطع‘‘ کے مطابق یہ لفظ ترکی کاہے، جس کے معنی صنم اور بت ہیں۔(۷)   غالباً پروفیسر نذیراحمد نے ’’برہان قاطع‘‘ کے پیش نظر اپنا فیصلہ دیا ہے، جو قرین قیاس ہے۔ صاحب طبقات ناصری کے مطابق جب قطب الدین ایبک جوانی کو پہنچا تو تاجر اسے دربار غزنہ میں لے آئے اور سلطان غازی معزالدین سام نے اسے تاجروں سے خرید لیا۔ اگرچہ وہ قابل ستائش اوصاف اور برگزیدہ محاسن کا حامل تھا،مگر ظاہری حسن و خوبی سے خالی تھا۔ اس کی چھنگلی ٹوٹی ہوئی تھی، اس لیے اسے ’ایبک شل‘ کہتے تھے(یعنی وہ شخص جس کی ایک انگلی کمزور ہو)۔ البتہ معروف افغان مورخ استاد عبدالحیٔ حبیبی قندھاری نے منہاج سراج کی اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے ایبک کی اس توضیح کو بالکل بے اصل کہا ہے اور اسے ایک ترک قبیلہ ہی بتایا ہے۔یہی نہیں بلکہ غالب کی رائے کو درست بتایا ہے۔ (۸)   معاصرافغان محقق پروفیسر محمد حسین یمین اس شہر( ایبک) کی وجہ تسمیہ کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ چونکہ اس جگہ بدھ اوربودھ روایات سے متعلق بے شمار بت اور مجسمے تھے، اسی مناسبت سے اس کا نام ایبک رکھا گیا، جو صوبہ سمنگان میں مزارشریف اور کابل کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے، البتہ عہدوسطیٰ میں صوبہ سمنگان کو ایبک بھی کہا جاتا رہا ہے اور دونوں مترادفات کے بطور استعمال میں رہے ہیں ۔ (۹)

          یہاں یہ ذکر کرنا شاید بے جا نہ ہوگا کہ راقم کے حالیہ سفر افغانستان کے دوران شمالی صوبہ سمنگان کے علاقے سے آئے کچھ افراد ملے، جن میں ایک وکیل یعنی ریاستی اسمبلی کے رکن عوض بیگ بیگوگلی نے بتایا کہ ان کا تعلق سمنگان صوبہ کے ضلع ایبک سے ہے۔ مزید یہ کہ یہ صوبہ کا مرکزی مقام بھی ہے اور۸۰ گاؤوں پر مشتمل اس ضلع کی آبادی تقریباً ایک لاکھ کے قریب ہے، جن میں اوزبیک ۴۰ فی صد اور تاجیک ۴۵ فی صد ہیں۔(۱۰) ایک مورخ PaulClammer  کے مطابق یہ خطہ کوشان سلطنت کے زمانے میں آباد ہوا اور بودھزم کا مرکز بنا۔یہاں سے نزدیک ایک پہاڑی پر تاریخی کھنڈر کا نام تخت رستم ہے۔ اس مقام کا نام ایبک تب پڑا ،جب عہد وسطی میں باہر سے آئے کاروان یہاں ٹھہرنے لگے۔(۱۱)

          البتہ یہاں یہ نکتہ توجہ طلب ہے اور وضاحت طلب بھی کہ کیا واقعی میرزاغالب نے ’ایبک‘ کسی قبیلہ کا نام لکھا ہے یا ان کی مراد یہ ہے کہ جس قبیلہ سے ان کا تعلق تھا ، اس کا نام ’ایبک‘ تھا؟ ان کے مذکورہ شعر سے اس کی کوئی حتمی تصدیق نہیں ہوتی۔ وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ: ’’ایبکیم از جماعۂ اتراک‘‘ جس کا درست ترجمہ یوں ہوگا کہ ترکوں کی ایک جماعت جو اہل ایبک ہے، اس سے ان کا تعلق ہے۔ بقول خود ’’میں قوم کا سلجوق ترک ہوں۔ میرا دادا (میرزا فوقان بیگ) ماوراء النہرسے شاہ عالم کے وقت ہندوستان آیا۔‘‘ (۱۲)  غالباً یہ غلط فہمی مولانا حالی کے مذکورہ شعر کے ترجمہ سے ہوئی ہے کہ ’’ ان کے آبا و اجداد ایبک قوم کے ترک تھے۔‘‘اور بظاہر پروفیسر نذیر احمد اور استاد حبیبی کی مذکورہ رائے بھی یہیں سے مستنبط ہے۔ جب کہ استاد حبیبی وہ خود دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ :

بلخ اور بامیان کے درمیان یہ مقامات ہیں: بامیان، سیغان، کھمرو، مدر، روئی، خرّم و ساربند اور ایبک۔(۱۳)

 اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ در اصل ’ایبک‘ سے غالب کی مراد وہ مقام ہے، جہاں ان کے آبا و اجداد آبسے تھے اور وہ ترک نژاد تھے۔ بعد ازاں انھوں نے ہندوستان کوچ کیا۔مزید یہ کہ ترکوں کی اس شہر میں آمد کے بعد اس کا نام ایبک پڑا کیوں کہ وہاںمہاتمابدھ اور بودھ مذہب سے متعلق بتوں اور مجسموں کی بہتات تھی اور ترکی میں بت کو ایبک بھی کہتے ہیں۔

منابع و مآخذ:

۱۔نقد قاطع برہان، ص۔۲۸۴

۲۔پروفیسر نذیر احمد، غالب پر چند مقالے، غالب انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی،۱۹۹۱ء،ص۔۶۱

۳۔ایضا

۳الف۔ پروفیسر نذیر احمد، غالب پر چند تحقیقی مقالے، غالب انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی،۱۹۹۶ء،ص۔۵۸

۳ب۔ایضا

۴۔حالی، خواجہ الطاف حسین، یادگار غالب، غالب انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی،۱۹۹۶ء،ص۔۹

۵۔ایضا ،ص۔۱۲

۶۔ایضا

۷۔تبریزی، ابن خلف، برہان قاطع(تصحیح۔محمد عباسی)،ص۔۱۳۴

۸۔منہاج سراج، طبقات ناصری، جلد اول(ترتیب و تحشیہ۔ عبدالحیٔ حبیبی قندھاری)، لاہور،۲۰۰۴ء،ص۔۷۴۰۔۷۴۶

۹۔یمین،دکترمحمد حسین، شناسنامہ افغانستان تاریخی، انتشارات سعید، کابل،ص۔۱۶۷

۱۰۔   (https://en.wikipedia.org/wiki/Samangan_Province)

 ۱۱۔ (Clammer, Paul (2007). Afghanistan. Lonely Planet. p. 158. )۔

۱۲۔شریف الحسن، غالب کون ہے؟،نگارشات، لاہور،۱۹۸۸ء،ص۔۹

 ۱۳۔ منہاج سراج، طبقات ناصری، جلد اول(ترتیب و تحشیہ۔ عبدالحیٔ حبیبی قندھاری)، لاہور،۲۰۰۴ء،ص۔۴۱۰؛ ، جلد دوم۔ص۔۳۷۳

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *