You are currently viewing غزل

غزل

فیضان بریلوی

غزل

اس کو چاہا عذاب ہونے تک

یعنی  خانہ  خراب ہونے تک

ختم ہوتی نہیں کبھی خوشبو

گل کی گل سے گل آب ہونے تک

رفتہ رَفتہ ہی حسن کھلتا ہے

اک  کلی  کا  گلاب  ہونے  تک

جانیں کتنوں کا انتخاب رہا

وہ  مرا   انتخاب   ہونے   تک

اس کے سارے سوال قائم تھے

میرا  بس  اک جواب  ہونے تک

کتنے آتش کدوں سے گزری ہے

زندگی    آفتاب     ہونے     تک

چاند  تاروں  کا  بول  بالا  تھا

اس کے بس بے نقاب ہونے تک

دل نہ سمجھا سکون کی حالت

دل میں اک  اضطراب  ہونے  تک

سب کو اپنا حساب دینا ہے

ویٹ کیجے حساب ہونے تک

کوششیں عادتوں میں شامل کر

کم  سے  کم  کامیاب  ہونے  تک

بار ظلم و ستم اٹھا کے چلو

ہند  میں  انقلاب  ہونے  تک

ہے کشش حسن میں مگر فیضان

حسن   کے   دستیاب   ہونے   تک

***

Leave a Reply