You are currently viewing غیر مسلم عاشقان اردو: پریم چند اور کرشن چندر

غیر مسلم عاشقان اردو: پریم چند اور کرشن چندر

ڈاکٹر ہردئے بھانو پرتاپ

اسسٹینٹ پروفیسر

ذاکر حسین دہلی کالج،دہلی یونیورسٹی

غیر مسلم عاشقان اردو: پریم چند اور کرشن چندر

اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اردو ادب کے ابتدائی زمانے سے ہی غیر مسلم عاشقانِ اردوکی ایک طویل فہرست موجود ہے۔لیکن کشمکش یہ ہے کہ ہم کہاں سے غیر مسلم عاشقان اردو کا نام لینا شروع کریں جبکہ اردو زبان کی پیدائش ہی ہندو مسلم اتحاد سے ہوئی ہے۔جو آج تک گنگا جمنی تہذیب کے نام سے دنیا بھر میں مقبول ہے۔عام طور سے کسی زبان کاکوئی دائرہ نہیں ہوتا ہے۔ اردو کا بھی کوئی دائرہ کار نہیں ہے۔ موجودہ دور میں یہ ہند و پاک کے علاوہ جرمنی ، ٹورنٹو،امریکہ ، جاپان،ماریشس،تاجکستان،ازبیکستان وغیرہ ممالک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زبانیں ہر عہد میں سیاست کی شکار ہوئی ہیں۔ اردو بھی اسی طرح کی سیاسی سرگرمیوں کی شکار ہوئی۔ اور آگے چل کر اسے مسلم قوم سے جوڑ دیا گیا ۔ شاید اسی لئے اس کے چاہنے والوں کو بھی مسلم اور غیر مسلم کے نقطہ نظر سے دیکھا جانے لگا وگرنہ ایسی کوئی بات نہیں کہ ہم ہندوستانی زبان کوعاشقانِ مسلم اور غیر مسلم وغیرہ ناموں سے یاد کرتے۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نہ جانے کتنے مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور سب ہندوستان کے ہی مختلف خطّوںکی بولیوں اور زبانوں کا استعمال کرتے ہیں۔ زبان کی بنیاد پر ہم انھیں آپس میں جدا نہیں کر سکتے ہیں۔ ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اردو زبان کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ اردو ہی کیوں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ کسی بھی زبان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ جو لوگ یا جس مسلک کے لوگ جس کسی بھی زبان میں اپنے روزمرہّ کے کارنامے انجام دیتے ہیںآہستہ آہستہ وہ زبان بھی انھیں لوگوں سے منسوب کر دی جاتی ہے۔ اردو زبان کے ساتھ بھی کہیں نہ کہیں کچھ ایسا ہی ہوا۔ آزادی سے قبل اردو محض عوام کی زبان تھی لیکن آزادی کے بعد یہ مسلمانوں کی زبان ہوکر رہ گئی۔لیکن اتنی بات تو ہر شخص جانتا ہے کہ اردو زبان کا مسلمانوں سے منسوب ہونا کوئی فطری عمل نہیں تھا۔ ۱۹۴۷؁ء کے سیاسی جنگ نے نہ صرف ملک کو دو حصو میں تقسیم کیا بلکہ انسانی جذبات و احساسات کو بھی تار تار کر دیا۔ اسی سیاسی جنگ نے انسانی ابلاغ کے ذرائع کو بھی مذہبی تعصب کا شکار بنایا۔دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوبصورت زبان مسلمان ہو گئی۔ اسی لئے مجھے یہ طے کرنے میں پریشانی ہورہی ہے کہ کہاں سے غیر مسلم عاشقان اردو کا ذکر کروں۔میری نظر میںاس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے نصاب سے یہ نام طے کر لینا چاہئے لہٰذا میں نے بھی نصابی کتب کے حوالے سے جن ناموں کی فہرست بنائی ہے کچھ اس طرح سے ہیں۔ ماسٹر رام چندر،دیا شنکر نسیم، منشی نول کشور،رتن ناتھ سرشار، پریم چند، برج نراین چکبست، فراق گورکھپوری، مالک رام، کرشن چندر،راجندر سنگھ بیدی، رام لعل، گیان چند جین، گوپی چند نارنگ اور جینت پرماروغیرہ قابل ذکر ہیں۔ یہ محض غیر مسلم عاشقان اردو کی محض چھوٹی سی فہرست ہے۔

اردو ادب کی تاریخ میں مختصر افسانے کو وہی اہمیت حاصل ہے جو اردو شاعری میں غزل کو حاصل ہے۔ کیوں کہ یہ دونوں اصناف اپنے ایجاز و اختصار کے لئے ہی مقبول ہیں۔ مختصر افسانے سے قبل اردو فکشن میں داستان اور ناول کا سلسلہ رواں دواں تھا۔ طوالت داستان اور ناول کی خصوصیت رہی ہے۔ لیکن اس خصوصیت کے برعکس مختصر افسانے نے جنم لیا اور ادبی دنیا میں کہرام مچ گیا۔ افسانے کے فسوں نے اردو دنیا کے قارئین کو اپنی گرفت میں لیا۔ اردو ادب کو افسانے کے اس فسوں سے روشناس کرانے والا کوئی اور نہیں بلکہ منشی پریم چند ہی تھے۔ انھوں نے نہ صرف اردو میں افسانے کی بنیاد ڈالی بلکہ اس فن پارے کو فرش سے عرش پر پہنچادیا۔ جیسے جیسے زمانہ گزرا افسانوی فن کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑااس کے باوجودافسانہ فن اور تکنیک کے اعتبار سے مسلسل کامیابی کی نئی نئی منزلیں طے کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ جس اردو افسانہ نے حب الوطنی کے جذبے سے جنم لیا تھاوہی آگے چل کر گاندھی جی کی سماجی وسیاسی تحریک اور ترقی پسند تحریک سے متاثر ہوکر کسانوں اور مظلوموں کی داستان بیان کرنے لگا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اردو افسانہ عوام کے دلوں پر حکومت کرنے لگا۔ افسانے کی اس شہرت کو دیکھ کر آئندہ تخلیق کاروں نے بھی اسی میدان میں اپنے قلم کا زور آزمانا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اردو افسانہ نگاروں کی ایک لمبی قطار وجود میں آ گئی۔ جس میں غیر مسلم افسانہ نگاروں کی بھی لمبی فہرست ہے۔ پریم چند ،کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی ان میں سے بہت ہی اہم نام ہیں۔

پریم چند کے افسانوں کے موضوعات کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ انھوں نے اپنی ادبی زندگی میں ہندوستان کے تمام مسائل کو بخوبی پیش کیا ہے۔ غریب ، کسان ، مزدور، مظلوم، دلت پریم چند کے محبوب موضوع رہے ہیں۔ لیکن جن افسانوں نے پریم چند کو شاہکار بنایا ان میں بیشتر دلت مسائل کی عکاسی کرنے والے افسانے شامل ہیں۔ یعنی دلت مسائل کی عکاسی پریم چند کے محبوب موضوعات میں سے ایک ہے۔ دوسری طرف دلت مسائل کو اپنے زور قلم سے صفحہ قرطاس پر اتارنے والے دوسرے قلم کار کرشن چندر تھے جنھوں نے پریم چند کے بعد اردو افسانوں میں دلت مسائل کو بہت ہی فنکارانہ ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔ اسی کے سبب میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ پریم چند اور کرشن چندر کے افسانوں کا سماجیاتی مطالعہ کیا جائے اور جب یہ مطالعہ دلت سماج کے حوالے سے ہوگا تو اور بھی دلچسپ ہوگا۔

اردو ادب میں ابھی تک دلت ادب کی جمالیات کو طے نہیں کیا جا سکا ہے ۔ اور نہ ہی کوئی خالص دلت ادیب کے طور پر ابھر کر منظر عام پر آیا ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم گذشتہ تحریروں میں سے دلت ادب کی جمالیات کی تلاش کریں اور یہ منظر عام پر لائیں کہ اردو ادب سماج کے کسی بھی طبقے کی عکاسی سے اچھوتا نہیں ہے۔واقعی یہ ایک بڑے پیمانے پر تحقیق کا موضوع ہے۔ یہاں محض پریم چند اور کرشن چند کے افسانوں میں دلت سماج کی عکاسی کا تقابلی مطالعہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پریم چند کے وہ افسانے جن میں دلت سماج واضح طور پر دکھائی دیتا ہے ، ان میں ٹھاکر کا کنواں، نجات اور کفن قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح کرشن چندر کے یہاں کالو بھنگی، انّ داتا اور مہا لکشمی کا پُل قابل ذکر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں افسانہ نگاروں کا زمانہ تخلیق مختلف ہے۔ لیکن ان کے ان افسانوں سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ہم ’کفن ‘سے ’انّ داتا ‘تک کا سفر طے کرنے کے باوجود بھی سماج کے بنیادی مسائل سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ لیکن ان دونوں ادیبوں نے بہت ہی فن کارانہ ڈھنگ سے دلت سماج کو اپنے افسانے کے پلاٹ میں ڈھالا ہے۔ ایک طرف پریم چند بہت ہی آسان انداز بیان میں دلت سماج کو عوام کے سامنے پیش کر رہے تھے تو دوسری طرف کرش چندر اپنے خاص رومانوی اور استفہامیہ انداز میں اردو افسانوں کو زینت بخش رہے تھے۔ پریم چند پہلے افسانہ نگار کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے سامنے اردو افسانہ نگاری کا کوئی نمونہ موجود نہیں تھا پھر بھی وہ نت نئے نئے فنی تجربے کے ساتھ کہانیاں لکھ رہے تھے۔ جبکہ کرشن چندر کے سامنے اس صدی کے شاہکار افسانہ نگار پریم چند کے افسانے موجود تھے۔ جو کرشن چندر کو افسانہ نگاری کے فن سے روشناس کرا رہے تھے۔شاید اسی وجہ سے دونوں افسانہ نگار کم و بیش ایک دوسرے کی ہی لیک پر کہانیاں رقم کرتے رہے۔ جبکہ موجودہ دلت ادب ان دونوں فنکاروں کے فن سے کہیں زیادہ آگے نکل گیا ہے۔

آج کا جو دلت ادب ہے وہ محض ادبی خصوصیات کی حدود تک سمٹا نہیں ہے بلکہ یہ ایک تحریک کی شکل میں زور شور سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دلت ادب محض دلت سماج کی عکاسی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ صدیوں سے چلے آرہے فرسودہ نظام سے آزادی چاہتا ہے ۔ اسی لئے اس میں امبیڈکرواد واضح طور پر دکھائی دیتا ہے جو قدم قدم پر براہمنواد کی جڑوں کو چوٹ مارتا ہے اور آنے والے سماج کے لئے ایک نئی سوچ دیتا ہے۔ جہاں مکمل طور سے جمہوری نظام دکھائی دیتا ہے۔جہاں لوگ قانون پر یقین کرتے ہیں اور سماجی مساوات پر بھروسہ بھی۔ یہ بہت ہی افسوس ناک امر ہے کہ اردو ادب میں ترقی پسند تحریک کامیاب رہی لیکن دلت ادب بہت پیچھے چھوٹ گیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پریم چند نے اردو افسانوں میں دلت سماج کی عکاسی بہت بڑے پیمانے پر کی ہے لیکن ان کے افسانوں میں دلت سماج کی جو تصویر دکھائی دیتی ہے وہ محض افسوس ہی ظاہر کر ا سکتی ہے اس سے کسی طرح کی تبدیلی کی امید بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ پریم چند نے افسانے کی تعریف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ’ افسانہ حقیقت کے جیسا ہوتا ہے لیکن حقیقت نہیں ہوتا۔ ‘اس لئے ہم ایک تخلیق کار سے یہ امید کرتے ہیں کہ وہ اپنے افسانوں میں حقیقت سے ایک قدم آگے بڑھ کر کچھ تحریر کرے تاکہ افسانے کے اختتام کے بعد قارئین کے ذہن میں مثبت پہلو ابھر کر سامنے آئے نہ کہ منفی پہلو۔

پریم چند نے جب کبھی بھی دلت مسائل پر قلم اٹھایا تو انھوں نے اُس کو ادبی لباس میںپوشیدہ نہیں کیا بلکہ  ایسے الفاظ کے ساتھ افسانوں کا آغاز کرتے ہیں جو سیدھے سیدھے دلت سماج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کس کے بارے میں کہانی رقم کر رہے ہیں اور ایک ادیب جب خود ہی اس بات کی وضاحت کرے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے تو اس کی تخلیقی صلاحیت پر ایک سوالیہ نشان قائم ہوتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’دکھی چمار دروازے پر جھاڑو لگا رہا تھا اور اس کی بیوی جھریا گھر کو لیپ رہی تھی۔ دونوں اپنے اپنے کام سے فراغت پا چکے تو چمارِن نے کہا۔

’’تو جاکر پنڈت بابا سے کہہ آو۔ ایسا نہ ہو کہیں چلے جائیں۔‘‘      (نجات)

افسانہ کفن کے ابتدائی حصے میں بھی اسی طرح کے الفاظ ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔

’’چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام۔ گھیسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام۔مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹہ بھر چلم پیتا۔ اس لئے انھیں کوئی کام پر رکھتا ہی نہیں تھا۔ ‘‘      (کفن)

پریم چند افسانوں میں جب دلت سماج کی عکاسی کرتے ہیں تو وہ واضح طور پر چمار اور چمارن جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جبکہ دوسرے افسانوں میں وہ ایسا نہیں کرتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پریم چند خود بھی اس سماج کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں کسی دوسری قوم کے ساتھ ایسا نہیں کیا ہے۔ ان کی شاہکار تخلیق ’کفن‘شاید اسی وجہ سے آج سوالوںکے گھیرے میں آ گئی ہے ۔ ’کفن‘ کو پریم چند کا سب سے شاہکار افسانہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن آج جب دلت ادب کے لوگ خود اس کہانی کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ کرتے ہیں تو پریم چند پر سوالوں کی بوچھار لگا دیتے ہیں۔ کیونکہ پریم چند نے جس انداز میں’ گھیسو‘’ مادھو‘ اور ’بدھیا ‘کی تصویر اس افسانے میں پیش کی ہے وہ حقیقت میں سوالیہ نشان کے گھیرے میں آ جاتی ہے ۔ خدا نے جب سے اس دنیا میں انسانوں کو پیدا کیا ہے تبھی سے اسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا ہے ۔ اور ایسا اس لئے ہے کیونکہ انسانوں کے پاس سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت  ہے۔ خدا نے اس زمیں پرسبھی انسانوں کو ایک جیسا پیدا کیا ہے۔ جذبات اور احساسات بھی ایک جیسا ہی عطا کیا ہے۔ خواہ وہ غریب ہو یا امیر، چھوٹاہو یا بڑا، کالا ہو یاگورا، ہندو ہو یا مسلم وغیرہ۔کوئی کتنا بھی غریب کیوں نہ ہو ہزار پریشانیوں کا ستایا ہواکیوں نہ ہو ، وہ مدّت سے بھوکا کیوں نہ ہو لیکن اس کے جذبات و احساسات کبھی اپنے اپنوں کے لئے نہیں مرتے ہیں۔ پریم چند نے اس افسانے میں گھیسو، مادھو، اور بدھیا کے ذریعہ نہ صرف چماروں کا نہیںبلکہ تمام انسانیت کے جذبات و احساسات کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کر دیاہے۔یہاں پر بیٹھا ایک ایک فرد کبھی نہ کبھی ، کسی نہ کسی مصیبت و پریشانی کا شکار ضرور ہوا ہوگا لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بولئے کہ کبھی آپ کے ذہن میں اس طرح کے خیالات پیدا ہوئے جیسے گھیسو اور مادھو کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا ایک ہی جواب ہوگا بالکل نہیں۔ یہی وہ صفت ہے جو ہمیں تمام مخلوقات سے اعلیٰ تر بناتی ہے ۔ پریم چند اس افسانے میں جب گھیسو کی بیوی کے مرنے کا منظر بیان کرتے ہیں تو لکھتے ہیں:

’’میری بیوی جب مری تھی تو میں تین دن تک اس کے پاس سے ہلا بھی نہیں ‘‘

یہ جملہ ثابت کرتا ہے کہ گھیسوانسانی جذبات سے بے بہرا نہیں ہے۔ پھر ایسی کون سی وجوحات ہیں جس کی وجہ سے مادھواپنی بیوی کے درد کو مسلسل نظر انداز کرتا ہے جبکہ صبح تک اس کی بیوی کا انتقال بھی ہو جاتا ہے۔ آپ خود طے کیجئے کہ زمانہ جب آگے بڑھتا ہے تو کیا ہماری تہذیبی قدریں مٹتی جاتی ہیں یقینا نہیں۔ لیکن پریم چند نے اس افسانے میں ایسا ہی دکھایا ہے۔بدھیا کی موت کے بعد کا منظر وہ کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں:

’’صبح کو مادھو نے کوٹھری میں جاکر دیکھا تو اس کی بیوی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ اس کے منھ پر مکھیاں بھنک رہی تھیں۔ پتھرائی ہوئی آنھیں اوپر ٹنگی ہوئی تھیں۔سارا جسم خاک میں لت پت ہو رہا تھا۔ اس کے پیٹ میں بچہ مر گیا تھا———–باپ بیٹے روتے ہوئے گاؤں کے زمیندار کے پاس گئے۔ وہ ان دونوں کی صور ت سے نفرت کرتے تھے۔ کئی بار انھیں اپنے ہاتھوں سے پیٹ چکے تھے۔ چوری کی علت میں وعدہ پر کام پر نہ آنے کی علت میں۔ پوچھا کیا ہے بے گھسوا!روتا کیوں ہے؟اب تو تیری صورت ہی نظر نہیں آتی۔ اب معلوم ہوتا ہے تم اس گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے۔ ‘‘

گھیسو اور مادھو کی ذاتی زندگی سے لے کر سماجی زندگی تک کا بیان اسی انداز میں دکھائی دیتا ہے جیسے وہ انسان ہیں ہی نہیں۔ وہ وعدہ فراموش ہیں ٹھیک ہے، کام چور ہیں وہ بھی ٹھیک ہے،زمیندار کے سامنے گڑگڑانا جانتے ہیں وہ بھی ٹھیک ہے اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ان کے اندر اگر کچھ نہیں ہے تو وہ ہے انسانی جذبات۔ جو انھیں اصل میں انسان بناتی ہے۔ مزید اس کے اس افسانے کے آخر میں جہاں بدھیا کی لاش اب بھی کوٹھری میں ہی پڑی ہے اور گھیسو اور مادھو دونوں کفن لینے کے لئے بازار کی طرف نکل پڑتے ہیں جہاں وہ کفن کے لئے جمع ہوئے پیسے سے پیٹ بھرتے ہیں اور شراب پی کر ناچتے گاتے ہیں جبکہ بدھیاکی لاش اب بھی کوٹھری سے باہر نہیں نکلی ہے۔ افسانے کا اختتام کچھ اس طرح سے ہوتا ہے:

’’سارا مے خانہ محو تماشا تھا اور یہ دونوں مے کش محویت کے عالم میں گائے جاتے تھے۔ پھر دونوں ناچنے لگے، اچھلے بھی ، کودے بھی، گرے بھی، بھاؤ بھی بتائے اور آخر نشہ سے بدمست ہوکر وہیں گر پڑے۔ ‘‘

اس افسانے کے اختتام میں افسانہ نگار نے انسانیت کے جذبات کو جس قدر مسمار کیا ہے وہ شاید ہی کہیں اور دیکھا جا سکتا ہے۔ کم از کم میں

اس امرسے اتفاق نہیں رکھتا کہ کسی کے گھر میں لاش پڑی ہو اور وہ خود نشہ خوری میں مدمست ہو۔ اس طرح کی کہانیاں دلت ادب کا

شاہکار نہیں ہو سکتی ہیں۔ دلت ادب ہمیں ایک نئی سوچ اور ایک نئی زندگی سے روبرو کراتا ہے۔

غیر مسلم افسانہ نگاروں میں کرشن کا چند ر کا نام بھی اولین درجے کے افسانہ نگاروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں میں سماجی ، معاشی، مذہبی، سیاسی ، نفسیاتی تمام طرح کے موضوعات دکھائی دیتے ہیں۔ کرشن چندر کا فن پریم چند سے بہت مختلف ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خودبھی اپنے افسانوں میں ایک کردار کی حیثیت سے موجود رہتے ہیں۔ جیلانی بانو کرشن چندر کی اس خصوصیت کے بارے میںرقم طراز ہیں کہ:

’’جب کوئی واقعہ یا فرد ان کے کسی افسانے کا موضوع بنتا ہے تو ان کے تمام پہلوؤں میں سے کوئی نہ کوئی ان کی فنکارانہ ہم دردی حاصل کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے معاشرے کے ہر کردار سے چاہے وہ کسی طبقے سے تعلق رکھتا ہو وہ ایک انسانی رشتہ قائم کر لیتے ہیں۔ اپنے کرداروں کے دکھوں میں شرکت کی یہ شدید خواہش بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ان کے کردار اپنے سے زیادہ کرشن چندر کی نمائندگی کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے لئے ان کی نظریاتی وابستگی ذمہ دار ہے۔‘‘

کرشن چندر جس طریقے سے اپنے افسانوی کرداروں کو اپنا بنا کر عکاسی کرتے ہیں وہ خود جذباتی طور پر ان کی نمائندگی کرنے لگتے ہیں۔ جب کہ پریم چند کے یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پریم چند دور سے کھڑے ہوکر کسی سماج کی طرف اشارہ کر رہے ہوں۔کرشن چندر کے یہاں نہ تو کرداروں کی عکاسی میں کہیں انتہا پسندی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی کسی سماج کی عکاسی نفرت کی حد تک دکھائی دیتی ہے ۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ جہاں بھی اپنے نقطہ نظر کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں تو بے حد خوبصورت اور لطیف طنزیہ اسلوب کا استعمال کرتے ہیں۔ احتشام حسین ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔ کہ:

’’کرشن چندر کا شعور سب سے زیادہ  تیز، سب سے زیادہ جاندار ہے کہ وہ کبھی پرانے نہیں ہوتے۔ان کا جاندار ہونا یہ ہے کہ ان کے افسانے زندگی کے سوتوں سے پھوٹتے ہیں۔ ان کے لطافت کا اظہار ، ان کا انداز بیاں، ان کے ہلکے پھلکے اشاروں، کنایوں ، ان کے اظہار کی روانی ، شعریت اور اثر انگیزی میں ہوتا ہے۔ یہ خوبیاں ایسی ہیں جو افسانہ نگاری کے ہر پہلو پر حاوی ہوتی ہیں ۔ آخر ایک فنکار کو اس سے زیادہ کیا کرنا چاہئے کہ اس کے مواد کی شگفتگی، اس کے طرز اظہار  میں باقی رہ جائے۔ اس کی کہی ہوئی کہانی کی لطافت پڑھنے ولاوں کو ہر طرف سے گھیرے۔‘‘(احتشام حسین :روایت اور بغاوت)

پروفیسر احتشام حسین کے اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کرشن چندر سماجی مسائل کو بیان کرنے میں پریم چند سے کہیں زیادہ کامیاب ہیں ۔ کیوں کہ جس انتہا پسندی کی بات میں کر رہا ہوں وہ کرشن چندر کے یہاں نہیں دکھائی دیتی ہے۔ کرشن چندر کے افسانوں میں جہاں کہیں بھی دلت سماج دکھائی دیتا ہے اس سے ہمیں ہمدردی ہو جاتی نہ کہ نفرت۔ ’انّ داتا‘ کرشن چندر کا ایک ایسا ہی افسانہ ہے جس میںدلت اور مزدور طبقے کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے ۔لیکن ان کا انداز بیان کچھ اس طرح سے ہوتا ہے:

’’اب کسی کے پاس کچھ نہ تھا سب تجارت ختم ہو چکی تھی—صرف گوشت پوست کی تجارت ہو رہی تھی۔اس کے تاجر شمالی ہند سے آئے تھے۔ ان میں یتیم خانوں کے مینیجر تھے۔جنھیں یتیموں کی تلاش تھی۔ ماں باپ اپنے ننھے منے بچے اور چھوٹے چھوٹے لڑکے ان کے حوالے کر کے انھیں یتیم بنا رہے تھے۔ دراصل غربت ہی تو یتیم پیدا کرتی ہے۔ ماں باپ کا زندہ رہنا ی مر جانا ایک خدائی امر ہے۔ ان تاجروںمیں ودھوا آشرموں کے کارکن بھی تھے۔ اور خالص تاجر جو ہر قسم کی اخلاقی ، مذہبی، تمدنی ، ریاکاری سے الگ ہو کر خالص تجارت کرتے تھے۔ نوجوان لڑکیاں بکریوں کی طرح ٹٹولی جاتی تھیں۔

مال اچھا ہے

رنگ کالا ہے

ذرا دبلی ہے

منھ پر چیچک ہے

ارے اس کی تو بالکل ہڈیاں نکل آئی ہیں

چلو خیر ٹھیک ہے

دس روپئے دے دو………………….(انّ داتا)

کرشن چندر نے بھی یہاں سماج کی ایک ایسی تصویر پیش کی ہے جو ناقابل برداشت ہے لیکن انھوں نے یہ تصویر جس ماحول میں پیش کی ہے، یا جس وقت میں پیش کی ہے یہ ہمیں کسی قدر بناوٹی یا بری نہیں معلوم ہوتی ہے۔ بلکہ بے حد فطری معلوم ہوتی ہے۔ انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کو تیا ر ہو جاتا ہے۔ پوری دنیا میں محض تین ملک ایسے ہیں جہاں انسان اپنی بھوک مٹانے کے لئے مردہ جسم قانونی طور پر بیچ سکتا ہے وہ ہیںیوتھوپیہ، سومالیہ، اور ہندوستان۔ کرشن چندر نے کہانی کے اس حصے میں تو محض زندہ لوگوں کی تجارت کی تصویر پیش کی ہے۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ فطرت کی مار اور انسانی سماج کی پیدا کی ہوئی پریشانیوں میںفرق ہوتا ہے۔ کیونکہ فطری قہر ہر سماج کو یکساں نقصان پہنچاتی ہے جبکہ انسانوں کے ذریعہ سماج میں پیدا ہوئی برائی کچھ ایک کو ہی اپنا نشانہ بناتی ہیں۔

کرش چند ر کا ایک اور افسانہ ’کالو بھنگی‘ بھی اس لحاظ سے قابل ذکر ہے۔ ’کالو بھنگی ‘صرف ایک افسانے کا عنوان نہیں ہے۔ بلکہ اس افسانے میں دکھائی دینے والے کردار کا نام ہے ۔ جس کے حوالے سے کرشن چندر ایک دلت شخص کی پوری زندگی کی کہانی ایک افسانے میں بیان کرتے ہیں۔ کسی افسانے میں کردار کی پوری زندگی کی کہانی بیان کرنا آسان کام نہیں ہے لیکن کرشن چندر کے بیشتر افسانے ایسے مل جاتے ہیں جن میں انھوں نے کردار کی پوری زندگی کا سفر بیان کیا ہے۔ افسانہ ’کالو بھنگی‘ میں بھی کرشن چندرنے اپنے نرم و نازک اور پُر لطف انداز بیان کا استعمال کیا ہے۔ کردار کو جس انداز میں انھوں نے یہاں پیش کیا ہے ، اس کے عادات و اطوار کو جس انداز میں بیان کیا ہے، وہ نہایت ہی غم گین اور سوچنے والی ہے۔ لیکن اس سے نفرت نہیں ہوتی بلکہ دل کی گہرائیوں سے اس کے لئے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ افسانہ کالو بھنگی سے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’میں سات برس کا تھا جب میں نے کالوبھنگی کو پہلی بار دیکھا۔اس کے بیس برس بعد جب وہ مرا، میں نے اسے اسی حالت میں دیکھا، کوئی فرق نہ تھا۔ وہی گھٹنے، وہی پاؤں،وہی رنگت، وہی چندیا، وہی ٹوٹے ہوئے دانت ،وہی جھاڑو جو ایسا معلوم ہوتا تھا ماں کے پیٹ سے اٹھائے چلا آرہا ہے۔ کالو بھنگی کا جھاڑو اس کے جسم کا ایک حصہ معلوم ہوتی تھی۔وہ ہر روز مریضوں کا بول و براز صاف کرتا تھا، ڈسپینسری میں فینائل چھڑکتا تھا، پھر ڈاکٹر صاحب اور کمپونڈر صاحب کے بنگلوں میں صفائی کا کام کرتا تھا۔ کمپونڈر صاحب کی بکری اور ڈاکٹر صاحب کی گائے کو چرانے کے لئے جنگل میں لے جاتا اور دن ڈھلتے ہی انھیں واپس اسپتال میں لے آتااور مویشی خانے میں باندھ کر اپنا کھانا تیار کرتااور اسے کھاکر سو جاتا، بیس سال سے اسے میں یہی کام کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ ‘‘    (کالو بھنگی)

کرشن چند کے اس اقتباس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ کہانی دلت سماج کے کسی فرد کے بارے میں تحریر کی گئی ہے ۔ اور کرشن چندر نے جس انداز میں کالوبھنگی کی رزمرہ کی زندگی کا بیان کیا ہے۔ اس میں کہیں بھی انتہا پسندی نہیں معلوم ہوتی۔ افسانہ نگار نے اس افسانے میں ایک ایسے کردار سے ہمیں روبرو کروایا ہے جسے ہم اپنے آس پاس روز بروز دیکھتے ہیں۔ لیکن کبھی اس کی اس زندگی سے ہمدردی نہیں دکھاتے اور نہ ہی کبھی چلتے پھرتے اس کا حال معلوم کرتے ہیں۔ لیکن کرشن چندر نے جس انداز میں کالو بھنگی کی شخصیت کا ذکر کیا ہے وہ ہمارے خاندان کا حصہ معلوم ہونے لگتا ہے اور ہم اسے اپنا سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم یہاں یہ بات بہت وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ کرشن چندر کے افسانے میں نظر آنے والا دلت سماج ہمارا اپنا معلوم ہوتا ہے ، ہمارے اسی سماج کا ایک اٹوٹ حصہ معلوم ہوتا ہے۔ جسے ہمارے فرسودہ رسم و رواج نے ہم سے الگ کر رکھا ہے۔ جو کہ ہمیں پریم چندر کے افسانوں میں نہیں دکھائی دیتا ہے۔ پریم چند کے یہاں دلت سماج کے مسائل کے ذمہ دار خود دلت ہی نظر آتے ہیں۔ جبکہ کرشن چندر کے یہاں ایسا نہیں ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ پریم چند اور کرشن چندر کے افسانوں کے تقابلی مطالعے سے جو بنیادی فرق ہمیں دکھائی دیتا ہے وہ یہ ہے کہ پریم چند سماج کے بنائے ہوئے فرسودہ نظام کی عکاسی کرتے ہیں جو عام طور سے سماج کے ایک منفی پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ جبکہ کرشن چندر کے افسانوں میں پیش آنے والے دلت مسائل فطری مسائل کے طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں جو ہمیں کسی قدر منفی نہیں معلوم ہوتے ہیں۔ بلکہ ہمارے اندر انسانی جذبات پیدا کرتے ہیںجو ہمیں انسان بناتے ہیں۔ جو اصل میںکرشن چندر کا مقصد ہوتا ہے۔

***

Leave a Reply