You are currently viewing فارسی ادب میں نعمت علی خان عالیؔ کی خدمات

فارسی ادب میں نعمت علی خان عالیؔ کی خدمات

ڈاکٹر سید محمدجواد

اسیسٹنٹ پروفیسر فارسی (ڈگری کالج بدھل،جامووکشمیر)

ڈاکٹریت: جواہر لعل نہرو یونیورسٹی

نئی دہلی۔۱۱۰۰۶۷

فارسی ادب میں نعمت علی خان عالیؔ کی خدمات

            ہندوستانی تاریخ میں فارسی زبان و ادب کو ایک الگ مقام و پہچان حاصل ہے۔ فارسی زبان تقریباً سات سو سال تک سرکاری زبان رہی ہے خاص کر اکبر کے زمانے میں فارسی زبان و ادب کی جس طرح گسترش ہوئی دوسرے مغل بادشاہوں کے دور میں نہیں ملتی۔ اس زمانے میں ہندوستان فارسی زبان و ادب کا مرکز رہا اورنگ زیب کا زمانہ آتے آتے فارسی زبان و ادب کو وہ مقام حاصل نہ رہا جو پہلے کے زمانہ میں فارسی زبان و ادب کو حاصل تھا لیکن یہ بھی کہنا غلط ہو گا کہ اورنگ زیب کے زمانے میں فارسی ادب بالکل ختم ہوگیا البتہ دیکھا جائے تو فارسی زبان و ادب اپنے آخری دور میں تھاچوں کہ اس وقت ایک نئی زبان معرض وجود میں آرہی تھی جو آگے چل کر اردو کے نام سے معروف ہوئی۔ اورنگ زیب کے زمانے میں بھی بہت سے شعراء نے فارسی ادب میں بے بہا خدمات انجام دیں جن میں سے نعمت علی خان عالیؔ کو فراموش نہیں کرسکتے اس زمانے میں نعمت خان عالیؔ کی اپنی ایک الگ پہچان تھی بلکہ یوں کہئے کہ ان کو دوسرے شعراء پر فوقیت حاصل تھی اور اس کا سبب ان کے مزاحیہ شعر تھے۔ جب اورنگ زیب اسلامی قوانین اور احکام کی طرف زیادہ مائل ہوئے تو کچھ چیزوں پر اورنگ زیب نے پابندی لگا دی جیسے موسیقی و تاریخ نویسی (البتہ تاریخ نویسی کے سلسلہ میں تاریخی اطلاعات نہیں ملتی لیکن ایرانی مورخ توفیق سبحانی نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اسی وجہ سے نعمت خان عالیؔ نے مزاحیہ اشعار کہنا شروع کیا۔

احوال زندگی نعمت خان عالیؔ:

            نعمت خان عالیؔ ۱۰۴۸ھ کو ہندوستان میں پیدا ہوئے ان کے آبا و اجداد اصلاً ترکی تھے ۔ نعمت خان عالیؔ کا اصلی نام میرزا نورالدین محمد تھا۔ نعمت خان عالیؔ کے اجداد اصلاً ترکی تھے جو عہد صفوی میں ہرات میں آباد ہوئے بعد میں شیراز جاکر فن طبابت میں شہرت حاصل کی۔ اس لئے بہت سے لوگ نعمت خان عالیؔ کو شیرازی بھی لکھتے ہیں شیراز میں ان کے والد طبیب تھے۔ نعمت خان عالیؔ کے چچا حکیم محسن کے ساتھ ان کے والد بھی ہندوستان آئے چوں کہ ان کے چچا اورنگ زیب کے یہاں کام کرتے تھے۔ نعمت خان عالیؔ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ شیراز گئے اور وہاں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور جوانی تک شیراز میں مقیم رہے اسی دوران وہاں کے سیاسی اور اجتماعی اور ادبی حالت نے ان پر گہرے اثر چھوڑے اور مجبور ہو کر ان کو روزگار کے لئے ہندوستان ہجرت کرنا پڑا۔ ہندوستان تشریف لانے کے بعد شفیعای یزدی سے رانوئے ادب طے کیا پہلے اپنے خاندان کے شغلت کی وجہ سے حکیم تخلص انتخاب کیا بعد میں اپنے استاد کے حکم پر عالی ؔ تخلص انتخاب کیا آغاز میں نعمت خان عالیؔ کو اورنگ زیب نے داروغہ مطبخ خانہ کا عہدہ دیا بعد میں اپنے آخری دور میں اورنگ زیب نے شاہی جواہر خانہ کا داروغہ کا عہدہ دیا اور مقرب خان کے لقب سے نوازا اس موقعہ پر نعمت خان عالیؔ نے اظہار تشکر کے لئے یہ قطعہ کہا:

بھر تاریخ خطاب بود چون عالی فکر کرد

سر بر آورد از حساب و خان عالی شان نوشت

            نعمت خان عالیؔ اورنگ زیب کے فوت ہونے تک شاہی دربار سے جڑے رہے نعمت خان عالی کو جس چیز نے شہرت کی بلندی پر پہنچایا وہ ان کے طنزیہ اور ہجو نویسی تھی۔ نعمت خان عالیؔ حاکموں اور معالجین پر بھی طنز کرنے سے نہیں چوکتے تھے ایک بار انھوں نے کامگار خان پر طنز کیا جس سے کامگار خان ناراض ہوا اور بادشاہ سے شکایت کرنے لگا لیکن بادشاہ نے درگزر کیا۔

            نعمت خان عالیؔ کو تمام علوم پر دسترس حاصل تھا ۔ انھوں نے فقط اشعار یا قصیدہ نہیں کہے بلکہ تاریخ بھی لکھی اور تفسیر قرآن بھی لکھا جس سے ان کی علمی صلاحیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور ان کی آثار میں صاف نظر آتا ہے ۔ یہاں تک کہ علم منطق پر بھی ان کو کامل دسترس حاصل تھا۔ مزاح میں تو ان کا کوئی ثانی نہیں تھا ایک بار زیب النساء کو ایک جیغہ دیا اور اس کا معاوضہ نہیں ملا اور بہت دن گزر گیا جب اس کا معاوضہ نہیں ملا تو یہ شعر کہے:

ای بندگیت سعادت اختر من

در خدمت تو عیان شدہ جوھر من

گر جبغہ خریدنی است پس کور زمن

و زیست خریدنی نزن بر سر من

بیگم زیب النساء نے پانچ ہزار روپیہ دیئے۔

            نعمت خان عالی نے نظم و نثر دونوں میں اپنے آثار چھوڑے ہیں نعمت خان عالی کے آثار میں دیوان ۔ وقائع نعمت خان عالی، جنگ نامہ، بہادر شاہ نامہ، زسالہ حسن و عشق، نعمت عظمیٰ، منثورات عالی شامل ہیں لیکن افسوس ہے کہ اس کے چند آثار کے علاوہ کوئی بھی آثار مکمل نہیں ملتا البتہ وقائع نعمت خان عالی جو قائع حیدر آباد یا وقائع گلکنڈہ کے نام سے بھی معروف ہے یہی ان کے آثار میں سے سب سے مشہور ہے۔ نعمت خان عالی سن ۱۱۲۱ھ کو اس دنیا سے رخصت ہوئے اور حیدر آباد میں دفن ہوئے۔

آثار نعمت خان عالیؔ:

            نعمت خان عالیؔ کے بہت سارے آثار ہیں اور بدقسمتی سے ان کے پورے آثار موجود نہیں ہیں کچھ اگر مل بھی جائیں تو و وہ مکمل نہیں ہیں ان کے مکمل آثار میں وقائع نعمت خان عالی موجود ہے جو کچھ کتاب خانوں میں موجود ہے۔

نعمت خان عالیؔ کے فارسی آثار مندرجہ ذیل ہیں:

دیوان عالیؔ:

            دیوان نعمت خان عالیؔ بیشتر غزل پر مشتمل ہے۔ البتہ چند قصائد بھی پائے جاتے ہیں جن میں انھوں نے بادشاہ کی مدح کی ہے۔ البتہ ان کے قصیدہ کو اتنی اہمیت نہیں ملی۔ دیوان میں رباعی کے چند اشعار بھی پائے جاتے ہیں۔ دیوان اس  شعر سے آغاز کرتے ہیں:

تمامی یابد از معراع بسم اللہ دیوانھا

بہ بین کہ ز آمد این ابروست زیب روی عنوانھا

            نعمت خان عالیؔ کے دیوان میں تاریخی قطعہ اور غیر تاریخی قطعہ بھی موجود ہے لیکن تاریخی قطعہ اورنگ زیب کے فتوحات سے منسوب ہے جیسا کہ بیجا پور کے فتح کے موقعہ پر یہ قطعہ کہا:

شاہ عالمگیر  غازی پادشاہ این پناہ

مالک الملک جھان از قوت شمیمہ شد

کرد روبا دولت و اقبال بر فتح دکن

ملک بیجا پور و گلکندہ ھمہ تسخیر شد

دیوان نعمت خان عالی میں تقریباً پنج ہزار ابیات ہیں۔

مثنوی:

            نعمت خان عالیؔ کی مثنوی سخن عالی ہے البتہ یہ مثنوی نعمت خان عالیؔ کے نام سے معروف ہے، مثنوی میں عالی سے اخلاقیات اور احتسابات کے بارے میں کہے ہیںاس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نعمت خان عالیؔ کے یہاں اخلاقیات کتنا معنی رکھتا ہے چوں کہ وہ خود ایک دیندار شخص تھا اسی لئے دینی اخلاقیات پر زیادہ توجہ دیا ہے اور صوفی ازم سے بھی متاثر تھا مثلاً یہ شعر تصوف کے بارے میں :

حرف تو طفلان است ای صوفیک

من از امثالت شنیدم یک بیک

آنچہ نامش را تصوف کردہ ای

ملتی از بیش خود آوردہ ای

وقائع نعمت خان عالیؔ:

            یہ آثار نعمت خان عالیؔ کے مشہور آثار میں سے ہے کہ جو قلعہ گولکنڈہ کے بارے میں ہے یہ آثار وقائع حیدر آباد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو کہ سن ۱۰۹۸ھ کو لکھی گئی تھی۔اس میں نعمت خان عالی نے گولکنڈہ کے حالات اور اورنگ زیب کے فوج کا گولکنڈہ پر حملہ کو تاریخ بہ تاریخ بیان کیا ہے البتہ سارے تاریخ کا انھوں نے ذکر نہیں کیا وہ خود اس موقع پر موجود تھا ۔ وقائع میں نظم و نثر دونوں کے آثار ملتے ہیں اور ساتھ میں مزاحیہ شعر بھی جس سے نعمت خان عالیؔ مشہور ہوئے اگر ہمیں نعمت خان عالی کے علمی مقام کو دیکھنا ہے تو وقائع میں اس کا بھر پور مثال ملتا ہے اس میں نعمت خان عالیؔ نے احادیث اور قرآنی آیات سے حالات کا استفادہ کیا ہے مثلاً قرآنی آیات:

بر کنگرۂ حصار چون موزون بر قفۂ منار بالا رفتہ ندای حی علی الپورش  و اذان الحریرہ خیرمن الجبن در دادند لا جرم صفوف جنود کانھم بنیان المرصوص بر دروازۂ حصن رسیدہ و آیہ و اذا السماء النشقت دمیدہ و بحکم و اتوالبیوت من ابوابھا داخل شدند۔

اس کے علاوہ وقائع میں نعمت خان عالی نے علم منطق۔ ادب لغت عربی الفاظ سے استفادہ کیا ہے۔ مثلاً یہ الفاظ : ملکوت، عساکر، سریع السیر اور خفیف العقل وغیرہ۔

حسن و عشق:

            اس میں نعمت خان عالیؔ نے ایک تخلیقی داستان کا ذکر کیا ہے کہ جو حسن و عشق کے بارے میں ہے البتہ یہ داستان مزاحیہ انداز میں کہے ہیں اسی وجہ سے یہ آثار بہت مشہور ہوئے ۔

منثورات:

            یہ مجموعہ خطوط پر مشتمل ہے جو انھوں نے اورنگ زیب کو لکھے اور دوسرا خط کو شیواجی کے موت پر لکھی گئی تھی اس خط میں بھی نعمت خان عالیؔ مزاح سے باز نہیں آئے جو کہ ان کا اب ایک طرز بن چکا تھا۔ ایک خط انھوں نے مرزا مبارک اللہ کو لکھا کہ میں قسم کھاتا ہوں اگر بادشاہ مجھے عہدہ داروغہ سے کوئی اعلیٰ عہدہ نہیں دیا تو میں استعفیٰ دوں گا لیکن بادشاہ نے عالی کو کوئی اعلیٰ عہدہ نہیں دیا اور استعفیٰ بھی نہیں دیا اور اپنا قسم توڑ دیا۔

جنگ نامہ:

            اس میں عالیؔ نے اورنگ زیب اور رانا ادیپور کے بیچ کی جنگ کو بیان کیا ہے اس میں اورنگ زیب کی وفات کا بھی ذکر کیا ہے ا س کی دو اہمیت ہے۔ پہلا وفات اورنگ زیب دوسرا اعظم اور معظم جو کہ اورنگ زیب کے اولاد تھے ان کی تخت نشینی کے حوالہ سے بیان کیا ہے اورنگ زیب کے بعد جب اعظم تخت نشین ہوئے تو پہلے عالیؔ اعظم کے ساتھ تھے بعد میں جب اعظم کا قتل ہوا تو مجبوراً معظم کے طرف ہوئے۔

بہادر شاہ نامہ:

            اورنگ زیب کے بعد عالیؔ کو بہادر شاہ نے تاریخ نویسی پر معمور کیا لیکن دو سال بعد ہی عالی کی موت واقع ہوئی وہ اس کتاب میں بہادر شاہ کے ولادت سے تخت نشینی تک اور جنگ اعظم اور معظم کو بیان کیا ہے۔

نعمت عظمیٰ:

            یہ عالیؔ کے تفسیر قرآن کا مجموعہ ہے جو انھوں نے اورنگ زیب کے نام منسوب کیا ہے تفسیر میں لغوی اور نحوی اور اشعار عربی سے بھی استفادہ کیا ہے۔

حوالا جات :

(۱)  نگاہی بہ تاریخ ادب فارسی ہند                           :  توفیق سبحانی

(۲)  فارسی ادب بہ عہد اورنگ زیب                                    :  نورالحسن انصاری

(۳)  شرح احوال آثار و سبک نظم و نثر نعمت خان عالیؔ          :  سید مقبول احمد

(۴)  بزم تیموریہ، جلدسوم                                      :  عبدالرحمن صباح الدین

(۵)  وقائع نعمت خان عالیؔ                                                 :  نعمت خان عالیؔ

(۶)  مآثر الکرام                                                   :  میر غلام علی ازاد بلگرامی

(۷)  عہد اورنگ زیب میں علماء کی خدمات              :  علاؤ الدین خان

Leave a Reply