قومی یکجہتی اور اقوال سرسید

رمیشا قمر ( قمر النساء)

گلبرگہ یونیورسٹی

قومی یکجہتی اور اقوال سرسید

زندہ رہنا ہے تو پھر خود کو مٹانا سیکھو

گھٹ کے مرتے ہیں صدا جان بچانے والے

         سر سید کا شمار ان نابغہ روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جن کے لئے فلک برسوں آہیں پھرتا ہے اور نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے ۔یہ جہاں گئے اپنی داستاں چھوڑ آئے جس طرف جھکے تاریخ سازی کا کارنامہ انجام دیا ۔بلکہ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے خود جن کی تاریخ لکھی جاتی ہے ۔ہر راہ میں ان کے نقش قدم موجود ،ہر میدان میں سرگروہ لشکر ۔خواہ وہ ادب ہو ، دین ہو ،صحافت ہو یا تاریخ  ہو، صحافت کے میدان میں قدم رکھا صحافت کو نئے آفاق سے روشناس کیا،ادب کی طرف مائل ہوئے تو ادب میں اپنا لوہا منوایا ۔اس مختصر مضمون میں تو صرف چند اشارے ہی کئے جاسکتے ہیں انھوں نے اپنی علمی وادبی کاوشوں سے ہمارے ادب کا وقار زبان کی اہمیت و عظمت اور ہماری قوم کی زندگی بدل کر رکھ دی ان کی ادبی اہمیت اور نثری خدمات کا اعتراف پورے دنیائے ادب کو ہے ۔

         مسلمانان ہند کی دو سو سالہ کتاب کا کوئی ورق ایسا نہیں ہوگا جس پر سر سید کے گہرے اثرات کی مہر ثبت نہ ہوئی ہو ۔مذہب ، سیاست،معاشرت،تہذیب وتمدن اور تعلیم غرض زندگی کا کوئی میدان ہی ایسا ہوگا جو سرسید کی اصلاحی تحریک سے جاکر نہ ملتا ہو ۔سرسید نے اپنی پوری زندگی قوم کی فلاح کے لئے وقف کردی اس لئے مولانا محمد علی جو ہر نے کہا تھا کہ۔

                  ’’حقیقت یہ ہے کہ سر سید سے زیادہ وسیع الخیال اور غیر متعصب شخص ملنا محال ہے ‘‘

         وہ ایک فرد ہی نہیں تحریک تھے انھوں نے اپنی قوم کو باشعور ،متحرک اور باعزت بنانے کے لئے کافی جدوجہد کی۔ان کی دور رس نگاہوں نے زمانے کے رخ کو پہچانا ان کے قول وفعل میں تضاد نہیں تھا صرف ان کی تصنیفات اور ان کی علمی کاوشوں میں ہی نہیں ان کی شخصیت کا عکس ان کے اقوال کے آئینے میں بھی بہ خوبی دیکھا جاسکتا ہے۔اقوال ملاحظہ ہو ں۔

اپنی خامیوں کا احساس پیدا کرو:

         ’’دنیا میں کسی قوم کے یہی دونشان ہے ایک یہ کہ وہ سمجھنے لگیں کہ وہ ذلت اور خرابی میں مبتلا ہیں اور دوسرا نشان یہ ہے کہ اس ذلت سے نکلنے کی کچھ کوشش کریں ۔‘‘

تاریخی ورثہ کی حفاظت کرو:

         ’’کسی قوم کے لئے اس سے زیادہ بے غیرتی نہیں کہ وہ اپنی قوم کی تاریخ بھول جائیں اور اپنے بزرگوں کی کمائی کھودیں ۔‘‘

         سرسید پوری قوم کی فلاح وبہبودی چاہتے تھے  ابتداء میں وہ مشترک قومیت کے حامی تھے اور انھوں نے قوم کا لفظ عام ہندوستانیوں کے لئے کیا ہے ۔ علی گڑھ کالج ان کا اہم کارنامہ ہے علی گڑھ کالج میں طلباء کے درمیان کبھی کوئی بھید بھاو یا امتیاز نہیں کیا گیا یہ بات الگ ہے کہ وہاں مسلمانوں کی تعلیم کے لئے مخصوص انتظام بھی تھا اور سرسید نے اس بابت اپنے ایک لیکچر ۱۸۸۴ میں جو لاہور میں دیا تھا کچھ اس طرح ہے۔

         ’’مجھ کو افسوس ہوگا کہ اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ یہ کالج ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان امتیاز ظاہر کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا۔خاص سبب جو اس کالج کو قائم کرنے کا ہوا یہ تھا کہ جیسا میں یقین کرتا ہوں آپ واقف ہیں کہ مسلمان روز بروز زیادہ تر ذلیل و محتاج ہوتے جاتے تھے ان کے مذہبی تعصبات نے ان کو تعلیم سے فائدہ اٹھانے سے باز رکھا تھا جوسرکاری کالجوں اور مدرسوں میں مہیا کی جاتی تھی اور اسی وجہ سے یہ امر ضروری خیال کیا گیا کہ ان کے واسطے کوئی خاص انتظام کیا جائے۔‘‘

         شروعات میں ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے مگر وقت اور حالات کے ساتھ خیالات بھی بدلتے رہے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی حمایت اور وکالت کی  ایک مراسلے میں لکھتے ہیں ۔

         ’’مجھ سے زیادہ اور کوئی اس بات کا خواہش مند نہیں ہوسکتا کہ ان دونوں قوموں میں دوستی ہو اور دونوں ایک دوسرے کی مدد کریں۔میں نے اکثر  کہا کہ ہندوستان ایک دلہن ہے ہندو مسلمان جس کی دو آنکھیں ہیں اور اس کا حسن ان دو آنکھوں میں مضمر ہیں اگر ان میں سے ایک بھی ضائع ہوگئی تو یہی خوبصورت دلہن بھینگی ہوجائے گی۔‘‘

ہندوستانیوں کی تعلیم وتربیت کے لئے آخری دم تک کوشش کرتے رہے۔

         ’’تعلیم وتربیت کی مثال کمہار کے آوے کی سی ہے کہ جب تک تمام کچے برتن بہ ترتیب ایک جگہ نہیں چنے جاتے اور ایک قاعدے داں کمہار کے ہاتھ سے نہیں پکائے جاتے کبھی نہیں پکتے ۔پھر اگر تم چاہو کہ ایک ہانڈی کو آوے میں رکھ کر پکالو تو ہرگز درستی سے نہیں پک سکتی۔‘‘

ہندو ستانی قوم پروری کے تصور کو اپنے فکر وعمل سے چار چاند لگا دئیے تھے اور کہا کہ۔

         ’’اے ہندو اور مسلمانو !کیا تم ہندوستان کے سوا اور ملک کے رہنے والے ہو۔ کیا اسی زمین پر تم دونوں نہیں بستے کیا اسی زمین میں تم دفن نہیں ہوتے یا اسی زمین کے گھاٹ پر جلائے نہیں جاتے اسی پر مرتے اور اسی پر  جیتے ہوتو یاد رکھو کہ ہندو اور مسلمان  ایک مذہبی لفظ ہے ورنہ ہندو مسلمان اور عیسائی جو اس ملک میں رہتے ہیں اس اعتبار سے سب ایک ہی قوم ہیں ۔‘‘

انھوں نے اسی خیال کو ایک اور جگہ اس طرح بیان کیا ہے۔

’’لفظ قوم سے میری مراد ہندو اور مسلمان دونوں سے ہے ہم سب خواہ ہندو ہوں یا مسلمان ایک ہی سر زمین پر رہتے ہیں ہم سب کے فائدے کے مخرج ایک ہی ہیں یہی مختلف وجوہات ہیں جن کی بناء پر میں ان دونوں قوموں کو جو ہندوستان میں آباد ہیں ایک لفظ سے تعبیر کرتا ہوں کہ’’ہندو‘‘ یعنی ہندوستان کی رہنے والی قوم۔‘‘

         غرض سرسید ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اور اسے ایک قوم سمجھتے تھے ۔ سرسید نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی حمایت اور وکالت کی سرسید شخصی اور سماجی زندگی کے بہترین اقدار کے حامی تھے انھوں نے اپنے آپ کو ملک و قوم کی فلاح وبہبود کے لئے وقف کردیا اور عملی طور پر ملک وقوم کی خدمت انجام دی آخر میں ڈاکٹر تارا چند کے اس اقتباس کے ساتھ اپنی بات ختم کرتی ہوں ۔

ٍ       ’’سید احمد خاں ہندووںا ور مسلمانوں کے درمیان سیاسی اشتراک میں یقین رکھتے تھے یہ بد نصیبی ہی ہے کہ کچھ لوگ انھیں دو قومی نظریئے کا خالق تصور کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔‘‘

                                                      رمیشا قمر

                                                      شعبہ اردو وفارسی گلبرگہ یونیورسٹی

                                                               کلبرگی کرناٹک

                                                               mob:no 7259673569

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *