منشا یاد کے افسانوں میں تہذیبی عناصر

صائمہ اقبال،لیکچرار شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد

سعدیہ منیر،اسکالر،  شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد

منشا یاد کے افسانوں میں تہذیبی عناصر

(افسانوی مجموعوں تماشا، خواب سرائے اور اک کنکر ٹھہرے پانی میں کے حوالے سے)

Abstract:

Minsha Yaad (1935.2011)is one of the most important and highly regarded writers in our literary history.He creative journey is about 1955. During this time Nine fiction collections have come to light.The legends of Mansha Yaad reflect the rural culture and society of Punjab in his stories. The rural life of Central Punjab with its fairs, politics,social,economic and folklore is now an unforgettable part of the cultural history through his stories.In this article we presented cultural review in his three collections “Tamasha” “Khuab Saray” and “Ik kankar Tehry pani main”.

Key words: Minsha Yaad, fiction, culture, “Tamasha” “Khuab Saray” and “Ik kankar Tehry pani main”.

محمد منشا یاد ضلع شیخوپو رہ فا روق آبا د کے نزدیک ایک گا ؤں ٹھٹہ نستر میں ۵ ستمبر ۱۹۳۵ء کو پیدا ہو ئے ۔ منشا یا د ہما ری ادبی تا ریخ کا بہت اہم اور انتہا ئی لا ئق توجہ با ب ہیں ۔ان کو پنجا بی اور اردو زبا ن پر یکسا ں عبو ر حاصل ہے وہ ایک عظیم افسا نہ نگا ر ہو نے کے سا تھ سا تھ ایک کا میاب نا ول نگا ر بھی ہیں انہیں پا کستا نی ادب کے عصری منظر نا مے میں نما یا ں حیثیت حا صل ہے انہو ں نے ادب میں بنیا دی آفا قی قدروں کی ترجما نی کی ہے ۔ بہت سی کتب شا ئع کیں۔ منشا یا د ۱۵ اکتو بر ۲۰۱۱ء کو ۷۵ سا کی عمر میں دل کے دورہ پڑنے سے اپنا خا لق حقیقی سے جا ملے ۔

اُردو افسانہ یا Short Story افسانوی نثر کی مقبول ترین صنف ہے۔ اردو میں یہ صنف انگریزی ادب سے آئی۔ مختصر افسانہ کیا ہے۔ اس کے بارے میں اُردو لغت بورڈ میں مندرجہ ذیل تعریف درج ہے:

“وہ قصہ، کہانی، داستان،وہ کتاب جس میں کوئی داستان یا قصہ لکھا ہو۔۔۔ ناول کے مقابلے میں ایک مختصر کہانی جس میں زندگی کا کوئی خاص رُخ مختصر طور پر پیش کیا جائے۔” (۱)

اُردو لغت بورڈ کے مطابق افسانہ وہ داستان ہے جو ناول سے چھوٹی ہو اور اُس میں زندگی کا صرف ایک رُخ بیان کیا جائے۔ فرہنگ آصفیہ میں اس کی تعریف ملتی جلتی ہے:

“(۱) حکایتِ بے اصل، قصہ، کہانی و من گھڑت کہانی، گھڑا ہوا قصہ، جھوٹی بات، (۲) سرگزشت، حال، ماجرہ، ذِکر (۳) افسوس، حسرت، پچھتاوا، معلول، (۴)مشہور، شہرت یافتہ۔”  (۲)

 دنیا کی ہر زبان میں اساطیر و قصص، حکایات و تمثیل اور داستانوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ تاہم افسانہ ادب کی ایک ایسی صنف ہے جو اپنی تاثیر اور جذبات کے اظہار کی شدت کے لحاظ سے ناول اور ناولٹ سے بالکل مختلف اور نمایاں ہے۔ اُردو افسانے کی اب تک مختلف تعریفیں سامنے آچکی ہیں۔ مختصر افسانے میں پلاٹ، کردار اور تھیم یعنی مرکزی خیال شامل ہیں، اور یہ محض قصہ یا مشغلہ نہیں بلکہ یہ حقیقی واقعات پر مبنی ہو سکتے ہیں یا ان  سے تعلق رکھتے ہیں۔اردو میں افسانہ نگا ری کا با قا عدہ آغا ز بیسویں صدی کے ابتدا ئی سا لوں میں ہوا ۔ ۱۹۳۵ ء کے لگ بھگ ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر افسا نے میں نئے رجحا نا ت پیدا ہو ئے اور اس کا دا من وسیع سے وسیع تر ہو تا گیا ۔  افسا نہ منشی پریم چند سے چلتا ہوا انتظار حسین تک اور انتظا ر حسین سے محمد منشا یا د تک پہنچا ہے ۔

منشا یا د جدید اردو افسا نے کا ایک اہم اور نمایاں نام ہیں ۔انہو ں نے اپنے افسا نے کا آغا ز بیسویں صدی کی چھٹی دہا ئی(۱۹۵۵ء) سے کیا۔ اس وقت بیا نیہ اسلوب کا افسا نہ علا متیت اور تجریدیت کے دور میں دا خل ہو رہا تھا ۔ان کا کما ل یہ ہے کہ جس دور میں افسا نے سے کہانی پن ختم ہو رہا تھا انہوں نے کہا نی پن کو بر قرا ر رکھا اور وقت کی رو میں بہہ جا نے کی بجا ئے اپنا ایک الگ مقا م بنایا۔اب جبکہ افسانے میں کہا نی پن اور ابلا غ واپس آرہے ہیں تو ان کا افسا نہ مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھتا شہرت کی بلندیو ں کو چھو رہا ہے ۔اور ملکی اور بیرو نِ ملکی ادبی اور تعلیمی رسا ئل ان پر خصوصی گو شے شا ئع کر کے ان کو خراج ِتحسین پیش کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ مختلف زبا نوں میں ان کی کہا نیوں کے ترا جم بھی کیے جا رہے ہیں ۔ان کی اس پذیرا ئی کا دارومدار ان کے افسا نوں کا عمدہ اسلو ب اور مخصو ص کرا فٹ ہے جس نے قا رئین کی وسیع تعداد کو تجریدیت اور لغویت سے ہٹا کر اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ اس با ت کا اظہا ر حیدر قریشی نے اپنی کتا ب ’’حاصل ِمطالعہ‘‘کے ایک مضمو ن ’’ منشا یاد کا ’’ شہر ِافسانہ‘‘  میں اس طر ح کیا ہے ۔

’’ منشا یاد نے تجریدیت کے تجریدی ما حول میں افسا نہ نگا ری شروع کر کے  خو د کو اس میں گم نہیں ہو نے دیا بلکہ اس انداز سے کہا نی لکھی کہ افسا نے سے گم شدہ کہا نی اپنے جسم میں وا پس آگئی۔اس لحا ظ سے منشا یاد کا شما ر گنتی کے ان چند افسا نہ نگا روں میں کیا جا نا چا ہیے جو افسا نے میں کہا نی پن واپس لا نے وا لے جدید افسا نے کے پیش رو کہلا سکتے ہیں۔‘‘ (۳)

منشا یا د کا تخلیقی سفر تقریباََپچپن برس (۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء)ہے ۔ اس عرصہ میں ان کے نو افسا نوی مجمو عے منظر عا م پر آچکے ہیں۔’’ بند مٹھی میں جگنو ‘‘ محمد منشا یا د کا پہلا افسا نو ی مجمو عہ ہے ۔جو ۱۹۷۵ء میں ما ورا پبلی کیشنز ‘ راولپنڈی سے شا شائع ہو ا ۔’’ ما س اور مٹی ‘‘ منشا یا د کا دو سرا  افسا نو ی مجمو عہ ہے ۔ پہلی دفعہ اسے ذا کر شاہ نے ۱۹۸۰ء میں ما ڈ رن بک ڈپو اسلا م آبا د سے شا ئع  کیا ۔ دوسرا ایڈیشن ۱۹۵۷ ء میں شا ئع ہوا ۔’’خلا اندر خلا ‘‘ منشا یا د کا تیسرا افسا نو ی مجمو عہ ہے ۔جو پہلی دفعہ ۱۹۳۸ء میں مطبو عا ت حرمت راولپنڈی سے شائع ہوا ۔’’ وقت سمندر ‘‘منشا یاد کا چو تھا افسانو ی مجمو عہ ہے۔جو دسمبر ۱۹۸۶ء میں ما ڈرن بک ڈپو اسلام آباد میں شا ئع ہوا۔  منشا یاد کا پا نچوا ں افسا نو ی مجمو عہ ’’ درخت آدمی ‘‘ہے۔یہ ۱۹۹۰ ء میں پا کستا ن بکس ،لا ہو ر سے شا ئع ہوا۔

’’دور کی آواز ‘‘ منشا یا د کا چھٹا افسا نو ی مجمو عہ ہے جو پہلی با ر ۱۹۹۴ ء میں پا کستا ن بکس لا ہو ر سے شا ئع ہوا ۔’’ تماشا ‘‘منشا یا کاسا توا ں افسا نو ی مجمو عہ ہے جو پہلی با ر دوست پبلی کیشنز اسلا م آبا د سے آصف  محمو د کے تعاون سے شا ئع ہوا ۔’’ خوا ب سرائے ‘‘منشایادکا آٹھوا ں افسا نوی مجمو عہ ہے جو ایک ہی با ر دوست پبلی کیشنز،اسلام آبا د سے ۲۰۰۵ء میں شائع ہوا ۔’’اک کنکر ٹھہرے پا نی میں‘‘منشا یاد کانواں افسا نوی مجمو عہ ہے جو دوست پبلی کیشنز اسلا م آبا د ۲۰۱۰ء میں آصف محمو د کے اہتما م سے شا ئع ہوا ۔

منشا یاد نے ناول’’ ٹا واں ٹا واں تا را‘‘پنجا بی زبا ن میں ۱۹۹۷ء میں تحریر کیا تھا ۔نا ول ’’ راہیں ‘‘ منشا یا د کے پنجا بی ناول ’’ ٹاواں ٹا واں تارا ‘‘ کا اردو روپ ہے ۔منشا یا د کے پنجا بی افسا نوں کا پہلا مجمو عہ ’’وگدا پا نی‘‘کے نا م سے پاکستان پنجا بی ادب بو رڈ لا ہو ر کے زیراہتما م پہلی با ر ۱۹۸۷ء میں شا ئع ہوا ۔

 اس نصف صدی میں نہ صرف معا شرے اور ما حو ل میں نما یا ں تبدیلیا ںرونما ہو ئیں ہیں بلکہ اردو افسا نہ میں تکنیک ،اسلوب اورفکر کی کئی تبدیلیا ں ہو ئیں ۔حقیقت سے علا مت اور علا مت سے تجریدیت اسی دور کی پیدا وار ہے۔منشا یا د کے افسا نوں میں پنجا ب کی دیہی معا شرت کا عکس ملتا ہے انہوں نے یہاں کی سیا ست ،معاشرت،اور معیشت سے گہرے اثرات قبو ل کیے ہیں اس لیے ان کے افسا نے پریم چند ،بلو نت سنگھ ، غلا م الثقلین نقوی اور احمد قاسمی کے افسانوں کی طر ح یہا ں کی زندگی ،رسو م و رواج اور گردو پیش کی فضا کی ترجما نی کرتے نظر آتے ہیں ۔ڈاکٹر آغا سلیم ان کی اس خصو صیت کا ذکر کرتے ہو ئے اپنی کتا ب ’’ اشا رے ‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’دراصل منشا یا دکا شما رصف ِاول کے ان افسا نہ نویسوں میں ہو تا ہے جن کی جنم بھو می دیہات ہے ،مگر جنہیں حصو لِ معاش کے لیے مجبو راََشہروں میں قیا م پذیر ہو نا پڑا۔شہروں کی طرف نقل مکا نی کر جا نے وا لے افسا نہ نو یسو ں نے جب عہدِ رفتہ کو آواز دی تو دیہا ت اپنی با نہیں سکھو لے بے اختیا ر ان کی جا نب بڑھا اور اپنی چھاتی سے چمٹا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ منشا یاد کے دیہی پس منظر میں لکھے گئے افسا نوں میں بڑی توا نا ئی ہے۔‘‘(۴)

ان کے افسا نوں کو سمجھنے کے لیے دیہا ت کی پیشکش کے رجحا ن کو سمجھنا بہت ضرو ری ہے۔وہ پنجا ب کی اسی دیہا تی زند گی کی منا سبت سے اُردو زبا ن میں بڑی مہا رت کے سا تھ پنجا بی الفا ظ ومحا ورے استعما ل کر تے ہیں ۔ اس سلسلے ڈا کٹر مرزا حا مد بیگ اپنی کتا ب ’’ اُردو افسا نے کے روایت ‘‘ میں رقمطراز  ہیں :

’’پنجا ب کے دیہی منظر نا مے سے مطا بقت رکھنے کے سبب زبا ن کے ورتا وے سطح پر منشا یاد نے پنجا بی الفاظ کو مو قع کی منا سبت سے برتا ہے ۔اس ضمن میں لسانیات سے خصو صی شغف رکھنے وا لے نا قدین کیا فیصلہ صا درکر تے ہیں ۔ اس کی منشا یاد کو پروا نہیں ،وہ تو کہا نیاں بنتے چلے جا رہے ہیں اور اپنے آپ میں مگن اپنے افسا نو ی کرداروں کی زندگی سہنے کے جتن میں مبتلا ہیں ۔‘‘(۵)

منشا یا د نے اپنے افسا نوں میں پنجا ب کے دیہا ت کی غربت ،محرومی ،قتل وغارت ،تعصب ،جہا لت اور رسم و روا ج پر کھل کے با ت کی ہے ۔انہوں نے کردار نگا ری میں خو ب مہا رت سے کا م لیا ہے ۔انہوں نے اپنے معاشرے سے ایسے کردا روں کا انتخا ب کیا ہے جن کا تعلق نچلے طبقے سے ہے ،انہوںنے اپنے افسا نوںمیں کردار کی ذات میں پیدا ہو نے والے طو فا ن کا نفسیا تی مطا لعہ پیش کر تے ہیں ۔ان کی کردا رنگا ری کے حوا لے سے ایک عجیب paradox تشکیل پذیر ہو تا ہے کہ منشا یا د کر داروں کی کھا ل میں چھپ کر نہیں بیٹھتا بلکہ کردار ان کے اندر داخل ہو کر اپنا آپ ظا ہر کر تے ہیں جن کیفیا ت سے ان کے کردار گزرتے ہیں وہ ان کو برا ہ راست محسو س کر تے ہیں ۔ انہوں نے ایک ہی زندگی میں ان گنت زند گیا ں گزا ری ہیں ۔ان کی تحر یر میں خلو ص، سچا ئی اور ہمد ردی ملتی ہے وہ دوسرو ں کے درد کو کس طر ح محسوس کر تے ہیں ان کے اپنے الفا ظ میں ملا حظہ ہو :

’’ مجھے لت پڑ گئی کہ میں خو د کو دو سروں کی جگہ رکھ کر دیکھو ں ۔ان کی لذتوں ،مسرتوں ،حسرتوں اور اذیتوں کومحسوس کر وں میں نے سینکڑو ںروپ بدلے ان گنت قا لبو ں میں ڈھلا ۔مجھے بہت سی ایسی زندگیوں  ۔کے تجر با ت حاصل ہو تے رہے جو میں نے خو د تونہیں گزا ری ہیں میرے اندر دکھو ں کی چکی لگی ہو تھی جو دکھو ںکا آٹا پیستی رہتی تھی ۔مجھے اچھے ‘خو بصو رت ‘خو شحا ل اور بے فکرے لو گوں کی زندگیوں کا لطف نہیں  اُٹھا نے دیتی تھی گر ے پڑے اور مفلو ک الحا ل اور بے تو قیر لو گ ہی میر ے اندر حلو ل کرتے رہے۔۔۔۔۔۔ میں ریڈیو پر گیت سنتا تو شا عر ،گلو کا راور مو سیقا ر سے زیا دہ مجھے ان دیکھے سا زندوں کا خیا ل  ستا تا رہتا اور ان کا بھی جو اس گیت کی ریکا رڈنگ اور ریہر سلو ں میں  پہرو ں مصروف ِ کار رہے مگر جن کے گلے میں سو ز تھااور ہا تھ میں سا ز  نہیں ۔’‘(۶)

منشا یا د کی افسا نہ نگا ری کا یہ وصف ایسا ہے جس سے انکا ر ممکن نہیں وہ ہما ری دنیا کے ہر پہلو کوآسا نی سے اپنی گرفت میں لے آتے ہیں ان کے افسا نو ں میں محسو سات کا ایک خزا نہ بکھرا ہوا ہے اور قاری  ان خزا نوں کو اپنے اند ر محسو س کر تا ہے ۔انہوں نے اپنے افسا نوں میں ابلا غ کے عنصر کو یقینی بنا یا ہے کہیں بھی ایسا محسو س نہیں ہو تا کہ ان کا افسا نہ ابہام کا شکا ر ہے حا لنکہ جس دور میں وہ افسا نہ لکھ رہے تھے وہ دور مبہم اور تجریدی افسا نے کا دور تھا لیکن انہوں نے ابلا غ اور کہا نی پن کا خا ص طور پر خیا ل رکھا ۔

انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقائی عمل پر نظر دوڑائیں تو واضح ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم یا فرد تہذیب ہمیشہ سے انسانوں کے درمیان شناخت کا ذریعہ رہی ہے۔ تہذیب صدیوں سے انسانی زندگی کا حصہ رہی ہے۔ لفظ تہذیب کی جامع تعریف مختلف اور متنوع انداز میں کی گئی ہے۔ یہ ایک وسیع لفظ ہے جو اپنے اندر بہت سے مفاہیم کو سموئے ہوئے ہے۔بادی النظر میں اس کا جھکاؤ روحانیت کی طرف زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ کلچر میں ایک انسان کی پوری مادی تہذیب داخل ہے اور دوسری طرف پوری روحانی تہذیب یعنی اس میں صرف کھانا، لباس، گھر، مشینیں اور وسائل مواصلات نقل و حمل ہی نہیں بلکہ مذہب، قانون، اخلاق، فلسفہ، قنون لطیفہ، ادب اور حکومت بھی شامل ہے۔ کلچر کا لفظہ تمدن کے مقابلے میں تہذیب کے زیادہ قریب ہے۔ سبط حسن لکھتے ہیں؛

“تہذیب عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں کسی درخت یا پودے کو کاٹنا، چھانٹنا، تراشنا تاکہ اس میں نئی شاخیں نکلیں اور نئی کونپلیں پھوٹیں۔” (۷)

کلچر ذہنی، مادی اور خارجی طرز عمل کے اظہار کا نام ہے جو باضابطگی کے ساتھ معاشرے کے افراد میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو ایک معاشرے کو دوسرے معاشرے سے ممیز کرتی ہے۔ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:

“کلچر کا لغوی مفہوم تو کانٹ چھانٹ ہے، جب آپ اپنے پھولوں کی کیماری کو جڑی بوٹیوں سے پاک کرتے ہیں۔ پودوں کی تراش، خراش کرتے ہیں اور پھولوں کو کچلنے کے پورے مواقع مہیا کرتے ہیں۔ تو گویا کلچر کے سلسلے میں پہلا قدم اٹھاتے ہیں۔۔ بنیادی طور پر انسان کا باطن ایک جنگل کی طرح ہے، جو جذبات کی خاردار جھاڑیوں سے اٹا پڑا ہے۔ اور جس میں راستہ بنانا بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ انسان کے وہ تخلیقی اقدامات جن کی مدد سے اس نے اپنی ذات کے گھنے جنگل میں راستے بنائے اور پھر ایک مستقل تراش خراش کے عمل سے ان راستوں کو قائم رکھی، کلچر کے زمرے میں آتا ہے۔” (۸)

 کلچر کسی معاشرے میں بسنے والے انسانوں کے تصور حیات اور ان کی داخلی و خارجی زندگی میں ہم آہنگی ، قلبی وابستگی اور تفاخر کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اُردو تنقید میں تہذیب، کلچر، ثقافت، تمدن جیسی اصطلاحات کی صورت میں مباحث ملتے ہیں۔ افسا نہ نگا ربھی  اپنے ما حو ل کی نما ئند گی  اپنے افسانوں میں کر تے ہیں ۔ افسا نو ں میں اپنے عہد کے مسا ئل اور مصا ئب کو نما یا ں کرتے ہیں۔جب بھی کو ئی افسا نہ معا شرتی حوا لے سے لکھا جا ئے او ر خا ص طور پرکسی خا ص طبقے یا مذہب کے لو گو ں کے با رے میں لکھا جا ئے تو اس علا قے کی تہذیبی زندگی کا عکس اس افسا نے میں نظر آتا ہے ۔محمد منشا یا د کی افسا نہ نگاری حقیقت کا رنگ لئے ہو ئے ہے ۔انہو ں نے جس سر زمین پر آنکھ کھو لی اسی کے مسا ئل ،رسوم وغیرہ کواپنی کہانیوں کا موضوع  بنا یا ۔ان کے افسا نے پنجا ب کی دیہی تہذیب و معاشرت کی عکا سی کرتے ہیں ۔وسطی پنجا ب کی دیہی زندگی یہاں کے میلے ٹھیلے، سیا ست ،معا شرت ،معیشت اور لو ک دا نش ان کی کہانیوں کے ذریعے اب اردو ادب کی تہذیبی  تا ریخ کا ناقا بل فرامو ش حصہ ہیں ۔اب ہم ان کے افسا نو ں کا تہذ یبی جائزہ لیتے ہیں ۔

’’ تما شا ‘‘منشا یا کاسا توا ں افسا نو ی مجمو عہ ہے جو پہلی با ر دوست پبلی کیشنز اسلا م آبا د سے آصف محمود کے تعاون  سے شا ئع ہوا ۔اس کا سر ورق خا لد رشید نے تر تیب دیا ہے اس مجمو عے کا نا م معروف افسانہ ’’تما شا ‘‘ کے نا م پر رکھا گیا ہے وہ اس کتا ب میں شا مل نہیں ہے ۔آئیے اب ہم اس مجمو عہ کے منتخب افسا نوں دیدہ یعقو ب تما شا کل اور آج کا تہذیبی مطا لعہ کر تے ہیں ۔

’’ دیدہ یعقو ب ‘‘اس افسا نہ میں ایک با پ اپنے بیٹے کا انتظا ر کرتا ہے۔ اور اس انتظا ر میں وہ اس کے بچپن کے تمام واقعا ت کو یا دکرتا ہے۔  اور ساتھ ساتھ وہ اپنے با پ سے اپنے تعلق کو بھی یا د کرتا ہے جس سے دو نسلو ں کا تفاوت سا منے آتا ہے ۔

پنجا بی گیت ہما ری تہذیب کا ایک اہم عنصر ہیں ۔ افسا نہ ’’دیدہ یعقوب ‘‘ میں مر کز ی کردار جب اپنے بیٹے کو یاد کر رہا ہو تا ہے۔ تو اسے اپنے ماں باپ بھی یا د آجا تے ہیں۔ اس کی ماں اس کے آنے کی خوشی میں اندر با ہر آتے جا تے وقت ،کھانا بنا تے وقت اور بستروں کی چا دریں ٹھیک کرتے وقت مو لوی عبدلستار کا ستوارہ گنگنا تی رہتیں ۔اس حوا لہ سے اس افسا نہ سے ایک اقتباس ملا حظہ کریں:

’’ اس روز ماں جی اندر با ہر جا تے ‘ ہنڈیا میں ڈوئی چلا تے اور بستروں کی چا دریں اور

تکیوں کے غلا ف بدلتے ہوئے مو لوی عبدالستار کا ستوا رہ گنگنا تی رہتیں ۔

چھن چھن وار اداسی ہو ئی کیو ں نئی آیا یا ر میا ں

نین میرے بھر ہنجو روون کر کے زاروزارمیا ں

غم سنیا ر چھکے جند میری جیوں با رے وچ تا ر میاں

آکھ ستار رٹھو ں کس کا رن ایہہ دنیا دن چا ر میاں ‘‘۔(۹)

منشایا د نے اپنے افسا نوں میں پنجا بی گیتوں کا استعما ل کر کے ایک نیا تا ثر پیدا کیا ہے ۔ہر ماں کو اپنے بیٹے کے آنے کی بہت زیا دہ خوشی ہو تی ہے اور وہ بہت بے چینی سے اس کا انتظا ر کرتی ہے اس کے لیے طرح طرح کے کھا نے بناتی ہے ۔

افسا نہ ’’دیدہ یعقوب‘‘ کامو ضوع والدین کی اپنی اولاد سے محبت اور اولاد کی وا لدین سے محبت  ہے ۔انتظار میں کرب اور اذیت جیسے جذ بات کو منشا یاد نے بہت خو بصو رتی سے بیا ن کیا ہے ۔ان کی افسا نہ نگا ری کی کا یہ ایک خا ص وصف ہے کہ وہ کردار کے اندر کی کیفیا ت کو بیا ن کرتے ہیں ۔

’’ تما شا ۔کل اور آج‘‘کا مر کز ی کردار ’’سا ئیں ٹوبھے شا ہ‘‘ ہے جس کے با رے میں بہت عجیب و غریب قصے مشہو ر تھے ۔جیسا کہ ان کے قبضے میں جنو ں کا لشکر تھا ۔جن سے جنگل صا ف کرواکر انہوں نے یہ بستی  اور زمین کو قا بل کا شت بنایا تھا ۔اسی طرح کے اور بھی بہت قصے مشہو ر تھے ۔ گاوں کے لو گ اپنے سادہ پن کی وجہ سے اس کی تمام با توں پر یقین رکھتے تھے ۔

ہمارے معا شرے میں اکثر پیر فقیر اپنی عجیب و غریب کرا ما ت بتا تے ہیں۔ گا ئوں کے لو گ سادہ لوح لو گ ان کی با توں میں آجا تے ہیں ۔ان جعلی پیروں کی کرا ما ت کے متعلق افسا نہ ’’ تما شا۔کل اور آج ‘‘ سے ایک اقتبا س ملاحظہ کریں :

’’دن کو وہ لنگوٹی پہنے اس تا لاب کے کنا رے بیٹھے رہتے تھے اور چا روں طرف عقید ت مندوں کا جمگھٹالگا رہتا تھا۔رات کو تا لاب میں ٹبی مار جا تے اور رات بھر تا لاب کی تہہ میں بیٹھ کر چلہ کشی کرتے اور صبح سے پہلے باہر آکر درخت کے نیچے بیٹھ جا تے ۔دن کے وقت جب جی چا ہتا ،تا لاب میں کو د   جا تے اور بڑی دیر تک اوپر نہ آتے ۔‘‘(۱۰)

منشایاد نے اپنے افسا نوں میں تقریباََ زندگی کے تما م پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے ۔ان کے اکثر افسا نوں کا موضوع دیہات اور اس سے وابستہ مسا ئل ہیں ۔اس افسا نہ میں منشا یاد نے دیہا تی زندگی خا میوں پر روشنی ڈالی ہے ۔دیہاتی لوگ تعلیم کی کمی کی وجہ سے پیروں فقیروں پر بہت جلد ی یقین کر لیتے ہیں ۔اس افسا نے کا پلاٹ بہت سا دہ ہے اور تمام کردار بھی نا رمل ہیں سوائے سائیں ٹوبھے کے ۔اس افسا نوی مجمو عے کے بیشتر افسا نے بیا نیہ تکنیک میں لکھے گئے ہیں ۔اس کے افسا نے سما جی اور اشترا کی حقیقت پسندی کے نما ئندہ دکھا ئی دیتے ہیں ۔

’’ خوا ب سرائے ‘‘منشایادکا آٹھوا ں افسا نوی مجمو عہ ہے جو ایک ہی با ر دوست پبلی کیشنز،اسلام آبا د سے ۲۰۰۵ء میں شائع ہوا ۔اس افسا نو ی مجمو عے کا دیپا چہ ’’ نصف صدی کا قصہ‘‘کے عنوا ن سے ہے ۔اس مجمو عے میں بائیس افسا نے اور ’’مٹھی بھرجگنو‘‘کے عنوان سے متعدد افسا نچے شا مل ہیں ۔اب ہم اس مجمو عہ کے منتخب افسا نو ں کہانی کی رات ،کر مو ں والی اور ہا ری ہو ئی جیت کا تہذیبی مطا لعہ کر تے ہیں ۔

’’ کہا نی کی رات‘‘میں ایک دا د ا اپنے پو توں کو مختلف ہندو دیو ما لا اور بچوں کی کہا نیوں سے مواد لے کر کہا نی سناتا ہے کہ ایک جا دو گر نے اپنی جا ن طو طے میں قید کی ہو تی ہے اور پھر بچے اس سے طرح طرح کے سوال پو چھتے ہیں۔کہا نی کی صورت میں سیاستدانوںپرطنز کیا گیا ہے۔

ہما رے دیہاتی کلچر میں ابھی بھی زیا دہ تر فیصلے پنچا یت کے ذریعے ہی ہو تے ہیں اسی طرح افسا نہ ــ’’خواب کی رات ‘‘ میں جب اس کا مر کزی کردار اپنے باپ اور بچو ں کے ساتھ گا ڑی میں جا رہا ہو تا ہے تو شا ہرا ہ ’’ جمہو ریت ‘‘ سے گزرتے وقت اس کے ابّا جی کو اپنے گائوں کی پنچا یت کا ایک واقعہ یا د آجا تا ہے ۔ اس حوا لہ سے افسا نہ ’’خواب کی رات‘‘ میں سے ایک اقتباس ملاحظہ کریں :

’’مجھے اپنے گا ؤں کی پنچایت کا ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔‘‘

’’ کیا ‘‘

کہنے لگے“ گا ؤں کی پنچا یت میں بڑے اچھے فیصلے ہوا کرتے تھے ۔لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ سر پنچ کے اپنے لڑکے نے سا تھیوں کی مدد سے ایک غریب جلا ہے کے کنبے کو بے عزت اور زدکوب کیا اور اس کا گھر جلا ڈالا اور ساتھ ہی مو قع پر مو جود لو گوں کو دھمکی دی کہ اگرانہوں نے ان کے خلاف گواہی دی تو ان کا بھی یہی حشر ہو گا ۔جلا ہا اپنا مقدمہ پنچایت میں لے کر گیا ۔پنچا یت نے نہا یت توجہ اور ہمد ردی سے اس کی فریاد اور چشم دیدگوا ہوں کے بیا نا ت سنے ۔سر جو ڑ کر بیٹھی رہی اور آخر کار یہ فیصلہ دیا کہ اس میں شک نہیں ہو گا گا مو جولاہے کا گھر جلا دیا گیا اور اس کے بال بچوں کو مارا پیٹا گیا جس کا پنچایت کو بہت افسو س ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ مو قعہ پر مو جود لو گ مجرموں کو پہچان نہ سکے کہ آگ اور فسا د کے خو ف سے دور کھڑے تھے ‘‘۔(۱۱)

ہما رے معا شرے میں ایسا ہی ہو تا ہے غریب کو کبھی بھی انصا ف نہیں ملتا کیو نکہ انصا ف کر نے والے خو د ان ظالمو ں کے سا تھ ہو تے ہیں ۔اس افسا نے میں منشا یا دنے آج کل کے سیا ستدا نوں پر طنز کیا ہے ۔ اس کہا نی کا کردار ابّا جی جو کہا نی سنا تا ہے اگر اس غور کیا جا ئے تو اس سے یہ با ت ہما رے علم میں آتی ہے کہ آج کل کے سیاستدان اپنی دولت  بیرون ملک بنکوں میں محفو ظ کر تے ہیں جس طرح جا دو گر اپنی جان طو طے میں پنجرے کے اندر قید کر لیتا ہے۔

’’ کر مو ں وا لی ‘‘ کی بیا ن کنندہ حج سے وا پسی پر ہوا ئی جہا ز میں بھا گی کی بیٹی نا ئلہ کو دیکھتی ہے جو کہ اس کے تا یا کی بیٹی سعدیہ آپا کی دوست اور ہمسایہ تھی ۔ان دونوں کا دکھ ایک جیسا تھا وہ دو نوں جوا نی میں ہی بیوہ ہو جا تی ہیں ۔بھا گی کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے گا ئوں کے کچھ لو گ اس کی مدد کر دیا کرتے تھے اور اس کے تا یا جی بھی حسب تو فیق اس کی مدد کرتے تھے ۔پھر اس کے تا یا کی بھینس زہریلی گھا س کھا نے کی وجہ سے مر جا تی ہے اور اس کی ایک چھو ٹی بچھڑی ہو تی ہے ۔ تواس کی آپا کی سفا رش سے وہ بچھڑی بھا گی کو دے دیتے ہیں ۔وہ اور اس کے بچے ایک اعلیٰ نسل کی کٹٹری پا کر بہت خو ش ہو تے ہیں ۔اور اس کی بہت دیکھ بھا ل کرتے ہیں پھر جب وہ بچھڑی دیتی ہے تو ان کے دن پھر جاتے ہیں ۔

پھر اس کی تا یا زاد کو حسد کی آگ نے گھیر لیا اور اس نے بھا گی کی زندگی کا رُخ ہی بدل دیا بھا گی پنچائت سے سچ بو لتی رہی لیکن کسی نے بھی اس کی ایک نہ سنی ۔پیا رو محبت کی طرح نفرت اور حسد بھی ہما ری ثقا فتی اقدا ر میں پائے جا تے ہیں ۔حسد کسی بھی انسا ن کے غم و غصہ کا اظہار ہے ۔نفرت اور حسد ایسی چیزیں ہیں جو انسا ن کو اندر سے توڑ دیتی ہیں اور اس کی بدو لت ہر اچھی چیز بھی بُری لگنے لگتی ہے۔افسا نہ ’’کرموں والی‘‘ میں جب سعدیہ آپا بھا گی کی بھینس کو دیکھتی ہے تو حسد کی آگ میں جلنے لگتی ہے اور وہ بھا گی کی زندگی کا رُخ ہی بدل دیتی ہے اور پنچا ئت بھی اس کے حق میں فیصلہ دیتی ہے اور بیچا ری بھا گی کی کو ئی بھی نہیں سنتا اور پھر جب اسے بھا گی کی بددعا سے طلا ق ہو جا تی ہے تو وہ پھر اس با ت کا اقرار کر لیتی ہے کہ اس نے یہ سب غصے اور حسد میں کیا تھا ۔اس حوا لہ سے افسا نہ ’’ کر مو ں والی ‘‘ سے ایک اقتبا س ملا حظہ کریں :

’’ہاں بعد میں جب انہیں واقعی طلاق ہو گئی تو وہ ہل گئیں اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ ضرور کینسر ہی سے مریں گی ۔انہوں نے اعتراف کر لیا کہ یہ سب  انہوں نے غصے اور حسد میں کیا تھا ۔‘‘(۱۲)

حسد انسا ن کو اندر ہی اندر کھا جا تا ہے جب انسا ن نفرت اور حسد کی عینک سے دیکھتا ہے تو اسے ہر اچھا ئی بھی بُری لگنے لگتی ہے کو نکہ جب حسد کے جذبا ت ہما رے دل و دما غ پر چھا جا تے ہیں تو ہم اسی جذبے کے زیرِ اثر رویوں کو پرکھتے ہیں ۔اس افسا نہ میں دیہا تی زندگی کی پیچیدگیوں کو بیا ن کیا گیا ہے ۔

’’ ہا ری ہو ئی جیت‘‘ کا مرکزی کردار گھر سے اپنی بیٹی کی شا دی کی تا ریخ لینے کے لیے جا تا ہے اور ۔واپسی پر اس کی ٹرین حادثے کا شکا ر ہو جا تی ہے جس میں وہ شدید زخمی ہو جا تا ہے ۔منزل ہما ری تہذیب کا ایک نما یا ں پہلو ہے ہر ذی روح کسی نہ کسی منزل کی تلا ش میں ہے اور اس کی طرف رواں دواں ہے ۔منزل پر پہنچنے کی خوا ہش کی تکمیل میں اسے بہت سے مرا حل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ بہت سی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے لیکن پھر بھی اس کی حصو ل منزل کی جستجو اسے اپنی طرف گا مزن رکھتی ہے  افسا نہ ’’ ہا ری ہو ئی جیت ‘‘ کا مر کزی کردار ٹرین میں بیٹھتا ہے تو اس میں بیٹھا ہوا ہر شخص جلدی سے اپنی منزل پر پہنچنا چا ہتا ہے ۔اس حوالہ سے افسا نہ  ’’ہا ری ہو ئی جیت ‘‘سے ایک اقتباس ملاحظہ کر یں :

’’جب انجن آکر گا ڑی سے لگا وہ بہت سی چیزیں بیچ چکا اور اب میزا ن کر نے میں مصروف تھا ۔زور کا دھکا لگنے سے منہ کے بل گرتے گرتے بچا۔بعض دوسرے مسا فر جو غفلت اور بے خیا لی میں بیٹھے تھے سیٹو ں سے نیچے گر گئے۔مگر زیا دہ تر مسا فروں کو یہ دھکا خوش گوار معلو م ہوا اس کا مطلب تھا انتظا ر ختم ہوا اور منزل کی طرف روا نہ ہو نے کا وقت آگیا۔

ہر مسا فر کو اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہو تی ہے ۔‘‘(۱۳)

یہ حقیقت ہے کہ ہر کسی کو اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہو تی ہے اور وہ جلد از جلد اپنی منزل پر پہنچ جا نا چا ہتے ہیں۔دعا عبا دت کا مغز ہے اور ہما ری تہذیب وثقافت میں نما یاں اہمیت رکھتی ہے دعا کی ہما رے معا شرے میں بہت اہمیت ہے یہ دعا ہی ہے جو تقدیر بدل دیتی ہے ۔دعا زندگی کی علامت ہے ۔افسا نہ ’’ ہا ری ہو ئی جیت ‘‘میں جب ٹرین چلتی ہے تو مسا فر اپنے سفر کا آغاز دعا ئوں سے کرتے ہیں ۔اور ان میں سے اکثر اپنے گنا ہو ں کی معا فی بھی ما نگتے ہیں ۔ اس حوا لہ سے افسا نہ ’’ ہا ری ہو ئی جیت ‘‘ سے ایک اقتبا س  ملا حظہ کریں :

’’ہرمسا فر کو اپنی پر منز ل پہنچنے کی جلدی ہو تی ہے اور وہ اپنے سفر کا آغاز دعا ئو ں سے کرتا ہے ۔بعض دور اندیش اور ہو شیا ر آدمی اللہ سے اگلے پچھلے سا رے گناہوں کی معا فی مانگ لیتے اور آئندہ کے لیے تو بہ بھی کرلیتے ۔‘‘ (۱۴)

اکثر ایسا ہے ہو تا ہے کہ جب بھی ہم سفرکر تے ہیں تو بہت سے ایسے مسا فر ہو تے ہیںجو اللہ سے یہ سوچ کر اپنے گناہوں کی معا فی ما نگ لیتے ہیں کہ کہیں یہ ان کا آخری سفر نہ ہو ۔ اس مجمو عے میں زیا دہ تر افسا نے سنا جی حقیقت نگا ری کے کے تحت تحریر کیے گئے ہیں ان میں علا متی اور استعا راتی انداز بھی اپنا یا گیا ہے ۔

’’اک کنکر ٹھہرے پا نی میں‘‘منشا یاد کانواں افسا نوی مجمو عہ ہے جو دوست پبلی کیشنز اسلا م آبا د ۲۰۱۰ء میں آصف محمو د کے اہتما م سے شا ئع ہوا ۔اس مجمو عے میں چو دہ افسا نے ہیں ۔اور ’’ مٹھی بھر جگنو ‘‘ کے نا م سے متعدد افسانچے شا مل ہیں ۔اور آخر میں منشا یاد کا’’ منٹو کے نام خط ‘‘شا مل کیا گیا ہے جو انہوں نے ۱۰ فروری ۲۰۰۸میں منعقدہ سیمینار بعنوان ’’منٹو ۔ ہما را ہم عصر ‘‘ میں پڑھا تھا ۔اب ہم اس مجمو عہ کے منتخب افسا نوں بیل کہا نی اور پنجرے میں بسیرا کا تہذیبی مطا لعہ کرتے ہیں ۔

’’ بیل کہا نی‘‘کی کہا نی ایک بیل کے گرد گھو متی ہے یہ ایک ایسا بیل ہے جو طاقت کے نشے میں دھت ہے اور جب اس پر سرکا ری مہر لگ جا تی ہے تو اور بھی زیا دہ بد دما غ ہو جا تا ہے اور کسی کو بھی خا طر میں نہیں لا تا ۔جو کو ئی بھی اس کے راستہ میں آتا ہے وہ اسے کچل دیتا ہے ،شرفو تیلی کا تو وہ دشمن ہی بن جا تا ہے اور جہا ں کہیں بھی اسے دیکھ لیتا ہے تو اسے ما رنا شروع کر دیتا ہے ۔ایک نہ ایک دن ہر جا ندار نے مو ت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ایک دن جب وہ ریل کی پٹری پر چل رہا ہو تا ہے تو شرفو کو دیکھ کر بیل غصے اور انتقام کی آگ میں بھڑک اُٹھتا ہے اور اس کی طرف بھا گنا شروع کر دیتاہے۔  شرفو اس کے سا تھ ایک چال چلتا ہے اس کے اور گا ڑی کے درمیا ن فا صلہ دیکھ کر آرام سے ریلوے ٹریک پر چلتا رہتا ہے اور جب گا ڑی اس کے بہت قریب آجا تی ہے تو وہ ایک طرف ہو جا تا ہے ۔

ہندو مذ ہب میں گا ئے کو بہت مقدس سمجھا جا تا ہے اور وہ اس کی پو جا کرتے ہیں ۔افسا نہ’’ بیل کہا نی‘‘ میں جب اس کا مر کزی کردار اپنے بھتیجے کو کہتا ہے کہ میں تمہیں شرفو تیلی اور اور اس کا بیل کی کہا نی سنا تا ہوں کہا نی سنا تے ہو ئے وہ اسے ذیلدار کے بیٹے کے با رے میں بھی بتا تا ہے کہ اس کی پا لتو گا ئے جس کی بیما ری کی وجہ سے اس کے ملا زم نے اسے ذبح کر نے کی صلاح دی تھی وہ یہ سن کر اسے بہت ما رتا ہے ۔ پھر وہ ہندو مذہب پر با ت شروع کر دیتے ہیں کہ وہ گا ئے کو بہت مقدس ما نتے ہیں ۔ اس حوا لہ سے افسا نہ  ’’ بیل کہا نی‘‘ سے ایک اقتبا س ملا حظہ کریں :

’’ہندو مذہب میں شروع ہی سے گا ئے اور بیل کو متبرک سمجھا جا تا ہے ۔‘‘

’’اصل با ت یہ ہے چچا جی کہ گا ئے چو نکہ دودھ دیتی ہے اور بچھڑے پیدا کرتی تھی اور بیل ہل ‘رہٹ‘خراس اور برد با ری کی گا ڑی کھینچتے تھے ،اس لیے قدیم زرعی معا شرے میں مویشیوں اور نسبتاََصا ف ستھرا ہو نے کے سبب  ۔خا ص طو ر پر گا ئے اور بیل کو بہت اہمیت حا صل تھی ۔‘‘(۱۵)

ہندو مذہب سے تعلق رکھنے وا لے زیا دہ تر گا یء کی پو جا بھی کرتے ہیں شا ید اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ گائے اور بیل ہل ‘بیل گاڑیا ں اور بار برداری کی گا ڑیا ں کھینچتے تھے اس لیے مقدس سمجھے جا تے تھے آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر ہندو اور مسلما نوں میں گا ئے کی وجہ سے جھگڑا رہتا ہے کیو نکہ ہم مسلمان اس کی قربا نی کرتے ہیں اور اس کا گوشت کھا تے ہیں جبکہ ہندو اس کی پو جا کر تے ہیں ۔

گاؤ ں کے لو گ تعلیم کی کمی وجہ سے بہت زیا دہ ضعیف العقیدہ ہو تے ہیں اور بھو ت پریت کی باتوں پر بہت جلد یقین کر لیتے ہے۔افسا نہ ’’بیل کہا نی ‘‘ میں جب قبرستا ن سے کا ٹے گئے درختو ں کی نیلا می ہو تی ہے تو لکڑیوں سے بھرا ہوا چھکڑا جب پُل سے گزررہا ہو تا ہے تو بند ہو جا تا ہے پھر بیل وہا ں آجا تا ہے اور وہ اس لکڑیو ں سے بھرے ہو ئے چھکڑے کو بہت ٹکریں ما رتا ہے اور وہ لکڑیو ں سمیت نیچے کھا ئی میں گر جا تاہے ۔ اور گا ؤ ں کے لو گ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ سب ان بزرگوں کی وجہ سے ہے جن کی قبریں اس قبرستان میں ہیں ۔ اس حوا لہ سے ایک اقتبا س ملاحظہ کریں :

’’گاؤں کے کچھ لو گوں کو اس واقعہ کا افسو س بھی تھا مگر زیا دہ تر لو گ جو  قبرستا ن کے درخت کا ٹے جا نے کے خلاف تھے ‘اندر سے خو ش بھی تھے ۔ ان کا خیا ل تھا کہ یہ سب ان پیروں فقیروں کی نا راضی اور بد دعا کی وجہ سے ہو ا تھا جن کی قبروں کے آس پا س کے درخت کا ٹے گئے تھے بلکہ بعض ضعیف العقیدہ یقین رکھتے تھے کہ سانڈ سرکا ری تو بہا نہ تھا ‘اصل کرا مت تو ان بزرگوں کی تھی جن کی وہا ںقبریں تھیں ۔‘‘(۱۶)

گاؤ ں کے لو گ بہت جلد ضعیف العقیدہ با توں کو ما ن لیتے ہیں چا ہے ان میں سچا ئی ہو یا نہ ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ چھکڑا کے اندر کو ئی خرا بی پیدا ہو گئی ہو لیکن ان لو گون نے اس با ت پر یقین کر لیا کہ یہ سب ان بزرگو ں کی وجہ سے ہوا جن کی قبریں قبرستان میں تھیں ۔

یہ ایک علا متی افسا نہ ہے اور اس میں بیل کو علامت کے طور پر بیا ن کیا گیا ہے کہ جب بھی کسی کے پاس کو ئی اختیا ر آجا تا ہے خواہ انسا ن ہو یا جو تو وہ آپے سے با ہر ہو جا تا ہے اور دوسروں کو اپنے پا ئوں کی  دھو ل سمجھتا ہے۔

’’ سوا لوں میں گھرا ہوا آدمی‘‘ کا مرکزی کردار ’’ بھو لا‘‘جو نئی نسل سے تعلق رکھتا ہے اور اپنے با پ سے ہر چیز کے متعلق مختلف قسم کے سوا ل پو چھتارہتا ہے ۔اس کا با پ اس کی اس عا دت سے پریشا ن ہو تا ہے۔ ’’ بھو لا ‘‘ تجسّس اور حقیقت کا متلا شی ہو تا ہے ۔وہ بے درپے سوال پو چھ کے اپنے بزرگ وا لد کو پریشا ن کرتا ہے ۔

لیلۃالقدر ایک ایسی رات ہے جس کی عبا دت کا ثواب ہزار راتوں کے برا بر ہے ،ہم مسلما ن اس رات کو عبا دت کا خا ص اہتما م کرتے ہیں اور مسا جد میں بہت رش ہو تا ہے سب لو گ اس رات کو نوافل ادا کرتے ہیں اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اپنے گنا ہو ں کی معا فی ما نگتے ہیں اور اپھرامام مسجد دعا بھی منگوا تے ہیں ۔افسا نہ ’’ سوا لوں میں گھرا ہوا آدمی‘‘ میں ’’ بھو لا ‘‘ اور اس کا والد ستا ئیسویں رمضا ن کو مسجد میں عبا دت کے لیے جا تے ہیں ۔اس حوا لہ سے افسا نہ’’ سوا لوں میں گھرا ہوا آدمی ‘‘ سے ایک اقتباس ملا حظہ کریں :

’’اگلے روز ستا ئیسویں رمضا ن تھی لیلۃالقدر ۔برکت اور عبا دت کی رات ہم طرح طرح کے پکوا ن کھا کر قریبی مسجد میں پہنچے تو تل دھرنے کی جگہ نہ تھی ہما رے اما م صا حب کی دعا کی دور دور تک شہرت تھی اس لیے دوسرے محلوں اور مضا فا ت سے بھی لو گ آئے ہو ئے تھے ۔ہمیں بڑی مشکل سے بیرو نی صحن میں جگہ ملی ۔ نما زِ عشا کے بعد اما م صا حب  نے دیر تک شبِ قدرکی فضیلت بیا ن کر تے رہے ۔ پھر سب کو گ نوا فل پڑھنے میں مصروف ہو     گئے ۔رات با رہ بجے دعا شروع ہو ئی اور ڈیڑھ بجے کے قریب ختم ہوئی۔‘‘(۱۷)

لیلۃالقدر کی رات ایسا ہی ہو تا ہے کہ لو گ سا ری رات اللہ کی عبا دت کرتے ہیں نوا فل ادا کرتے ہیں اور مسجد وں میں بہت رش ہو تا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ہو تی ۔اس افسا نہ میں ’’ بھو لا ‘‘ تجسّس اور حقیقت کا متلا شی نظر آتا ہے۔ اس طرح وہ نئی نسل کا نما ئندہ بن کر سا منے آتا ہے جو بے درپے سوا ل کر کے پرا نی نسل کو پریشا ن کرتا ہے ۔

’’ پنجرے میں بسیرا ‘‘ میں ملک کی سیا سی ،سما جی اورمعا شرتی صو رتحا ل کو بیا ن کیا گیا ہے ۔اس    افسا نہ میں مو جو دہ دور میں ہو نے وا لی دہشت گر دی اورعدم تحفظ کی صو رتحا ل کو بیا ن کیا گیا ہے ۔مرکزی کردار اس دہشت گردی کی وجہ سے اپنی ما ں کاآ خر ی دیدار کرنے سے بھی محروم رہ جا تا ہے ۔ٹھپے ،دوہڑے اور ما ہیے ہما ری پنجا بی تہذیب کا ایک اہم پہلو ہیں ۔افسا نہ ’’ پنجرے میں بسیرا ‘‘ کا مر کزی کردار’’ پرویز‘‘ جب دہشت گردی کی وجہ سے اپنی ما ں کا آخر ی دیدار کرنے سے محرو م رہ جا تا ہے تو وہ رات کو حا فظ کا دوہڑا پڑھ پڑھ کر خو د بھی روتا ہے اور اپنے دوست کو بھی رُلا تا ہے ۔اس حوا لہ سے افسا نہ  ’’ پنجرے میں بسیرا ‘‘ سے ایک اقتبا س ملا حظہ کریں :

’’رات کو وہ حفظ کا دوہڑا پڑھ پرھ کر خو د بھی روتا اور ہمیں بھی رلا تا رہا ۔

’’وقت جنا زے آیا نئیں‘لنگھ آویں وقت دفن دے ۔۔۔۔۔۔ول ڈیکھ گھنٹی تیڈی آمد تیکھل ویسن بند کفندے

ڈُکھ ٹلسِن عا لم بر زخ دے لنگھ ویسن وقت امن دے۔۔۔۔۔جُل آکھسوں حا فظؔروحا ںکوں ہن لکھ احسا ن سجن دے‘‘۔(۱۸)

منشا یا د نے اپنے افسا نوں میں پنجا بی دوہڑے اور الفا ظ کا استعما ل کر کے ایک نیا تا ثر پیدا کیا ہے ۔

اس مجمو عے کے افسا نے زیا دہ تر سما جی سطح پر مو جو د برا ئیوں کی نشا ندہی کرتے ہیں ۔ان برا یوں کو بیا ن کر نے کے لیے منشا یاد نے علا متی اسلوب اختیا ر کیا ہے ۔ محمدمنشا یاد کے فن کے اعتراف میں بہت کا م ہو چکا ہے مگر میں سمجھتی ہو ں کہ ابھی ان کے فن پر مزید کام ہو سکتا ہے ان کے ہا ں  بہت اچو تی اور انو کھی تشبیہا ت اور استعا رات کا بھر پو ر استعما ل ہے اس پر اگر الگ سے کا م کروایا جا ئے تو بہت سو د مند رہے گا ۔منشا یا د اپنے عہد کی سچی آواز ہیں ۔انہو ں نے اپنے لفظوں کی حرمت کو قا ئم رکھتے ہو ئے اپنے ہم عصروں میں ایک نما یا ں اور انفرا دی مقا م حا صل ہے آپ کے فن کا اظہا ر نہ صرف قو می بلکہ بین الاقوامی سطح پر کیا جا تا ہے

حوالہ جات

۱۔      اردو لغت (تاریخی اصول پر)، جلد اول، کراچی: ترقی اُردو بورڈ، ۱۹۷۷ء، ص ۶۱۳

۲۔      احمد دہلوی، سید، مولوی، فرہنگ آصفیہ، جلد اول، دوم، لاہور: سنگ میل پبلی کیشنز، ۲۰۰۲ء، ص ۱۸۶

۳۔      حیدر قریشی، حاصل ِ مطالعہ،  دہلی :ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ص، ۸۵

۴۔      سلیم آغا قزلباش، ڈاکٹر، اشارے،  راولپنڈی نقش گر پبلی کیشنز، ۲۰۱۱ء، ص۸۴

۵۔      حامد بیگ، مرزا،ڈاکٹر، اردو افسانے کی روایت، اسلام آباد: اکادمی دبیات، ص ۹۸

۶۔      منشا یاد، خلا اندر خلا، نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اسلام آباد: ۲۰۱۰،  ص ۱۰

۷۔      سبطِ حسن،سید، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء، کراچی: کتب پرنٹرز پبلشرز، ۱۹۷۵ء، ص ۹۰

۸۔      وزیر آغا، اردو شاعر ی کا مزاج، لاہور: جدید ناشرین، ۱۹۶۵ء، ص ۱۵۴

۹۔      منشا یاد ،میں اپنے افسا نوں میں تمہیں پھر ملو ں گا ،اسلا م آبا د :نیشنل بک فا ئونڈیشن ، ۲۰۱۱ء ،ص۶۰۳

۱۰۔     ایضاََ :ص۶۰۵

۱۱۔     ایضاََ:ص ۶۴۲

۱۲۔     ایضا َ:ص۶۸۲

۱۳۔      ایضاََ:ص ۷۰۹

۱۴۔     ایضاً: ص، ۷۱۱

۱۵۔     منشا یا د ،اک کنکر ٹھہرے پا نی میں ،کرا چی :دوست پبلی کیشنز، ۲۰۱۰ء:ص۲۵

۱۶۔     ایضاََ:ص ۱۳۳

۱۷۔     ایضاََ:ص ۱۷۶

۱۸۔     ۱یضاً:ص، ۱۸۶

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *