You are currently viewing منٹو آگاہی مضامین منٹو کی روشنی میں

منٹو آگاہی مضامین منٹو کی روشنی میں

ساجدہ ٹی

ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو،مقامی مرکز کوئی لانڈی،

شری شنکرآچاریہ یونی ورسٹی آف سنسکرت، کیرلا

منٹو آگاہی مضامین منٹو کی روشنی میں

         منٹو جیسے عظیم فن کار نے افسانہ نگاری کے علاوہ جن نثری اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان میں ان کے کامیاب مضامین بھی شامل ہیں۔ منٹو کے مضامین کی تعداد بھی خاصی ہے۔ ان کے مضامین کے موضوعات میں تنوع ہے۔ ہر مضمون نئے موضوع پر لکھا گیا ہے۔ سماجی، مذہبی، سیاسی، لسانی وغیرہ ان کے مضامین کے اہم موضوعات ہیں۔

         منٹو کے مضامین تین مجموعوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے مضامین کا پہلا مجموــعہ’ منٹو کے مضامین ‘ہے جو۱۹۴۲؁ء میں شائع ہوا۔ یہ اکتیس مضامین پر مشتمل ہے۔اگر، ہندوستان کو لیڈروں سے بچاؤ، مجھے شکایت ہے، شریف عورتیںاور ظلمی دنیا، عصمت فروشی، باتیں، ترقی یافتہ قبرستان، میکسم گورکی‘‘ وغیرہ اس مجموعے کے اہم مضامین ہیں۔

         منٹو کے مضامین پڑھتے ہوئے ہمارے سامنے ایک اچھی تصویر ابھرتی ہے۔ ان کے ابتدائی مضامین پر اشتراکیت ، مارکسسم، سرخ انقلاب، جد و جہد آزادی ، جلیان والاباغ اور عدم تعاون کی تحریک کے اثرات پڑے بعد میں فرقہ وارانہ سیاست، فسادات، تقسیم، کشمیر کی لڑائی، مذہبی ریاست کا تصوّر، عورتوں کی آزادی، اور سماج میں طوائف اور مغویہ عورتوں کے مسائل وغیرہ موضوعات بھی شامل ہو گئے۔

         ’’اوپر نیچے اور درمیاں‘‘ منٹو کا دوسرا مضامین کا مجموعہ ہے۔ ۱۹۵۲؁ء میں یہ مجموعہ پچیس مضامین پر اوپر نیچے درمیاں کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ ’’پس منظر‘‘ میری شادی، اللہ کا بڑا فضل ہے، ضرورت ہے، چچا سام کے نام نو خطوط، وغیرہ اہم مضامین ہیں۔

         تلخ ترش اور شیرین منٹو کا تیسرا مجموعہ کلام ہے۔ اس میں اٹھارہ مضامین ہیں۔ دیواروں پر لکھنا، ناک کی قسمیں، سوال پیدا ہوتا ہے، کچھ ناموں کے بارے میں، مجبوس عورتیں، وغیرہ اہم مضامین ہیں۔

         متنوع نوعیت رکھنے والے ان مضامین کی روشنی میں منٹو کی ادبی اور سماجی بصیرت کے مختلف پہلؤوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ’’اگر‘‘ منٹو کے قلم سے نکلا ہوا ایک بہترین مضمون تصوّر کیا جاتا ہے۔ لفظ ’’اگر‘‘ کی اہمیت اور زبان و اظہارِ خیال میں اس کی ناگزریت پر قاریوں کی توجہ کھینچنے والا مضمون ہے۔

         منٹو لفظ اگر کے ساتھ واقعات کی کڑیاں بڑے دلچسپ پیرایے کے ساتھ مربوط و منسلک کی ہیں۔ اگر یہ ہوتا تو کیا ہوتا اور اگر یہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا اور اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا۔ اس مضمون سے منٹو کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

         ’’اگر حکیم سقراط اس ماردھاڑ میں جوکہ چار سو بیس سال قبل ازمسیح ایتھنز کے باشندوں نے مچائی تھی، قتل ہو گیا ہوتا تو افلاطون اور ارسطو کا نام کبھی سننے میں نہ آتا۔ یونانی فلسفے کا وجود تک نہ ہوتا اور وہ سبق جو یورب کی دانش گاہوں میں دو ہزار سال سے پڑھایا جارہا ہے، معرض وجود ہی میں نہ آتا‘‘؎۱

         منٹو کے اس مضمون سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ منٹو کو اقوام عالم کے سیاسی،  سماجی،  تمدنی اور ثقافتی و تہذیبی حالات سے کس قدر دلچسپی تھی اور دنیا کے واقعات پر ان کی نظم کس قدر گہری تھی۔ اقوام عالم کے پیچیدہ سیاسی واقعات کو قدرے تفصیل سے لیکن فلسفیانہ انداز میں بیان کرنے کے بعد منٹو اپنی فطری بزلہ سنجی اور طنز آمیز ی کو بھی اس مضمون میں شامل کرتے ہیں۔

         اس طرح منٹو نے تاریخ کے حوالوں سے مزاحیہ انداز میں کئی تاریخی، اگروں، کا جائزہ لیتے ہوئے لفظ اگر میںموجودہ معنوں اور خیالوں کی ایک وسیع دنیا کو بے نقاب کیا ہے۔ اگر جیسے چند گنے چنے الفاظ ایسے بھی ہیں جن میں ایک دنیا ئے معنی آباد ہے اور ان کی بنا ہمیں سوچنا اور تبادلہ خیال کرنا دشوار پڑتا ہے۔ اگر کا جیسا ایک اور لفظ ہے ’’وغیرہ‘‘ وغیرہ کا استعمال ہمارے بیان کو مختصر کرانے میں بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ معنوں کی ایک دنیا اس کے اندر سموئی ہوئی ہے۔ الغرض مضمون اگر منٹو کے قلم سے نکلا ہوا ایک بہترین ادب پارہ ہے۔ جو اردو کے بہترین مضامین میں شمار کیا جا سکتا ہے اوریہ وہ مضمون ہے جو اس کے تفکراتی ادراک اور لسانی بصیرت پر دال ہے۔

         منٹو کا ایک اور اہم مضمون ہے ’’ہندی اور اردو‘‘ جو منٹو کے زمانے میں ایک گرماگرم موضوع رہا ہے۔ ہندی اور اردو کا جھگڑا ایک زمانے سے جاری ہے۔ منٹو کو ہندی اور اردو کے جھگڑے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ مگر منٹو نے اس کا مطلب سمجھ نہیں پائے ہیں۔ ہندی کے حق میں ہندو کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہیںاور مسلمان اردو کے تحفظ کے لیے کیوں بے قرار ہیں! زبان بنائی نہیں جاتی، خود بنتی ہے۔ اس لئے اس نے سوال کیا ہے کہ ہندی کے حق میں ہندو کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں؟ مسلمان اردو کے تحفّظ کے لیے کیوں بے قرار ہیں۔ گاندھی جی ہندی سے پریم کرتے ہیں تو عبدالحق اردو سے عشق کرتے ہیں۔ مگر ہمیں ایسا لگتا ہے کہ منٹو کو ہندی اور اردو دونوں کے ساتھ پریم بھی ہے اور عشق بھی۔

         ان دونوں کی بحث کو منٹو نے اس مضمون کا کلائمکس افسانوی انداز میں تحریر کیا ہے۔ اختتام پر یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ ہم سوڈا اور لیمن مکس کرکے پئیں گے یعنی اردواور ہندی کی اگرچہ اپنی اپنی خوبیاں ہیں اپنی اپنی الگ پہچان ہے لیکن کئی لحاظ سے دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور ایک کے بغیر دوسری کا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔

         عصمت فروشی کے موضوع پر بھی منٹو کا ایک مضمون ہے۔ اس کا عنوان بھی انہوں نے عصمت فروشی رکھا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے اس دھندے کے مثبت اور منفی دونوں پہلؤں کا تفصیلی ار مدلل تجزیہ پیش کیا ہے۔ یہ مضمون کئی لحاظ سے اہم ہے۔ منٹو کے اسلوب اور ان کے افسانوں کے موضوعات کی بابت بھی ہمیں اس مضمون کے ذریعے بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ عصمت فروشی پر سماجی نقطئہ نظر سے منٹو کا کیا نظریہ تھا، یہ ہماری بحث کا موضوع نہیں۔

         منٹو کا خیال یہ ہے کہ کسی شخص کے اندر بظاہر بہت سی بْرائیاںہو سکتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اس کا دل بھی ان برائیوںکوقبول کرتا ہو، ہوسکتا ہے کہ اس کے ذریعے انجام دی جانے والی بْرائیاں کسی مجبوری کا ردّ عمل اور شاخسانہ ہوں۔

         اس مضمون میں منٹو نے عورت کی فطرت، عشق و محبت کے جذبات، سماجی مسائل، آرائش و آسائش، عورتوں کی سماج میں حصّے داری، سماج میں ان کا مقام، شادی بیاہ، انسان کے جذباتی رشتوں وغیرہ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان تحریروں میں منٹو ایک سوشیل ریفارم (Social Reformer) ایک فلسفی، سماج کے نچلے اور گرے پڑے طبقے سے محبت کرنے والے نظر آتے ہیں۔ ان مضامین میں منٹو، وہ منٹو نہیں جس سے نفرت کرنے والے خود بھی اس کی کہانیاں چھپ چھپ کر پڑھتے تھے۔ منٹو کے سارے مضامین کو پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے سینے میںایک درد مند، نرم و ملائم اور لوگوں کے دکھ درد پر رنجیدہ ہوجانے والادل تھا۔

         ’’اللہ کا  بڑا فضل ہے‘‘ ، ـ’’اوپر نیچے درمیاں ‘‘مجموعے کے دیگر اہم مضامین ہیں۔ ان میں پاکستان کی نام نہاد مذہبی حکومت کی عوام دشمن پالسیوں کے خلاف صدائے احتجاج ہے۔

         منٹو کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی ناگواریوں کے خلاف ہنستے ہوئے مداخلت کا کام لینا خوب جانتا ہے اور وہ صرف مزاح کے پھول ہی نہیں برساتا بلکہ نشترزنی میں بھی مہارت رکھتا ہے۔ یہ مضمون منٹو کا کامیاب طنزیہ مضمون ہے۔ جس میں مملکت خدادار میں فنونِ لطیفہ اور اہلِ فن پر پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے حکومتِ وقت پر طنزیہ وار کیا ہے۔

         منٹو نے اپنی شادی کے بارے میں بھی ایک مضمون لکھے۔ ’’میری شادی‘‘ مضمون میں زندگی کے تین بڑے حادثات کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ پہلا پیدائش، دوسرا شادی اور تیسرا افسانہ نگار بن جانے کا۔

         منٹو کو زندگی میں بہت سی مشکلات سامنا کرنا پڑا۔ صفیہ بیگم کے والد افریقہ میں پولیس انسپکٹر تھے ۔ جن کو کسی حبشی نے ایک بلوے میں قتل کر دیا تھا۔ ان کے بعد صفیہ کی پرورش اُن کے چچانے کی اور وہ اس سلسلے میں منٹو سے کئی بار ملنے پر رشتہ طے ہوا مگر جیب میں پھوٹی کوڑی نہ تھی۔ امپیرئل کے مالک کی جانب منٹو کے ڈھائی ہزار رویۂ واجب الادا تھے۔ یہ پیسے مل جائیں تو ان کا کام چل سکتا ہے مگر انہوں نے منٹو کو ضروری چیزیں اپنے ملازم حافظ جی کے ذریعے فراہم کرادیں جس کا ذکر انہوں نے یوں کیا ہے۔

         ’’میں حافظ جی کے ساتھ ہولیا۔ ہم موٹر میں ایک ہزار ی کی دُکان پر پہنچے وہاں سے دوساڑیاں لیں‘‘۔ ؎۲

         ایک اور مضمون ہے ’’سرخ انقلاب‘‘ یہ مضمون منٹو کا  ایک معلوماتی اور تاریخی واقعات کے تناظر میں لکھا گیا مضمون ہے۔ اس میں تاریخی حوالوں کے ساتھ ۱۹۱۷؁ء کے روسی انقلاب اور اس کے اسباب و علل اور اسی انقلاب کے اقوام عالم پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ مضمون بھی منٹو کے وسعت مطالعہ اور اقوام عالم سے ان کی آگاہی کا عکاس ہے۔ اس مضمون میں زار، لینن، نکولس پستل، وغیرہ لیڈروں کے حالات اور روس میں ان کے عوام کے ساتھ رویہ اور وہاں کی سیاست کے بارے میں تفصیل سے لکھا گیا ہے۔

         منٹو کا ایک طویل مضمون ہے ’’میکسم گورگی‘‘ اس میں منٹو نے نہ صرف گورکی کی سوانحی تفصیل سے بیان کیا ہے بلکہ اس کے ادبی سفر اور اس کے ادبی خدمات کا بھر پور جائزہ بھی لیا ہے۔ گورکی پر لکھے گئے اس مضمون سے ایک اقتباس پیش ِ خدمت ہے۔

         ’’گورکی انسان کو اس شکل میں پیش نظر رکھتا ہے جیسا وہ ہے اس کے کردار بھوک کو معاشی دباؤ نہیں کہتے۔ وہ اسے صرف بھوک کہتے ہیں۔ وہ امراء کو سرمایہ دارانہ عناصر کا احتجاج نہیں کہیں گے۔ وہ انہیں صرف امرا کا نام دیں گے۔ کورکی کی یہ سادہ بیانی اور صاف گوئی ان کی تمام تصانیف میں موجود ہے‘‘۔    ؎ ۳

         اس مضمون کے مطالعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ منٹو گورکی سے بہت متاثر ہے۔ منٹو اپنے اس مضمون میں گورکی کے افسانوں، ناولوں اور اس کے کرداروں، اس کی انشاپردازی، اس کے ڈراموں وغیرہ کا تفصیلی جائزہ بلکہ تنقیدی تجزیہ پیش کیا ہے۔

         منٹو کا ایک اور طنزیہ اور مزاحیہ مضمون ہے ’’مجھے بھی کچھ کہنا ہے‘‘۔ اس مضمون میں منٹو نے دو مثنویوں کے چھہ چھہ اشعار بھی نقل کیے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے افسانے ’کالی شلوار‘ کے مقابلے میں ان مثنویوں کے اشعار کہیں زیادہ فحش اور قابلِ اعتراض ہیں۔ ان میں پہلی مثنوی خواجہ میر درد کی ہے۔ دوسری مثنوی کلیات ِ مومن سے لی گئی ہے۔

         الغرض منٹو کی بنیادی خوبی اور ان کی بے باک تحریروں کا اساسی وصف سچائی اور حقیقت کا دلیرانہ اظہار ہے۔ ان کے مضامین ان کی قوت فکر کے ہی غماز نہیں ہیں بلکہ ان میں حقیقت نگاری کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ ان کی زبان دلچسپ اور شاندار ہے۔ اسلوب انہوں نے ہر مضمون کے موقع کی مناسب سے اختیار کیا ہے۔ کہیں طنز آمیز ہے کہیں فلسفیانہ تو کہیں مدبرانہ ۔ موضوعاتکا تنوع اور اظہار بیان کی ندرت کا احساس ان کے ہر مضمون سے ہوتا ہے۔ یہی وہ فنی خوبیاں ہیں جو منٹو کو دوسرے مضمون نگاروں سے منفرد و ممتاز بناتی ہیں۔

حواشی

۱۔ کلیات منٹو کے مضامین۔ اگر ۔ معادت حسن منٹو ۔ صہ

۲۔ کلیاتِ منٹو کے مضامین۔ میری شادی۔  سعادت حسن منٹو ۔ صہ ۳۹۷

۳۔ کلیات منٹو کے مضامین۔  میکسم گورکی۔ سعادت حسن منٹو۔ صہ ۴۲۰

ٔٔ٭٭٭

Leave a Reply