کربل کتھا۔فضل علی فضلی

ڈاکٹر روحی سلطان

کربل کتھا۔فضل علی فضلی

 

         کربل کتھا کو مولوی کریم الدین نے سب سے پہلے اردو نثر کی ایک مسلسل کتاب کی حیثیت سے متعارف کرایا تھااو ر بعد میں تقریباًتمام ناقدین محققین اور مورخین ادب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شمالی ہند کی سب سے پہلی باقاعدہ اور مربوط نثری تصنیف ’’کربل کتھا ‘‘ہی ہے ۔بعد میں پھر مختارالدین احمد آزادؔ اورخواجہ احمد فاروقی ؔ نے اس کتاب کو باقاعدہ حواشی و تفصیلات کے ساتھ بالترتیب ادارہ تحقیقات اردو پٹنہ اور دہلی یونیورسٹی سے شائع کیا تو یہ بات گویا پایہ ٔ ثبوت کو پہنچ گئی کہ شمالی ہند وستان کی نثری تصانیف میں اولیت کا درجہ ’’کربل کتھا ‘‘کے سوا کسی دوسری کتاب کو نہیں دیا جا سکتا ۔کربل کتھا فضلی کی طبع زاد نہیں ہے بلکہ یہ کتاب واعظ کاشفی کی تصنیف روضتہ الشہدا سے ترجمہ کی گئی ہے۔ ملاحسین واعظ کاشفی بڑے پائے کے بزرگ اور اعلیٰ درجے کے مفسر بھی تھے ۔اس کے علاوہ مذہبی معاملات کے ساتھ ریاضیات وغیرہ میں بھی اچھی دستگاہ رکھتے تھے ۔ان کی تصانیف کی تعداد تیٖس سے بھی زائد بتائی جاتی ہے ۔روضتہ الشہدا ان میں سب سے اہم ہے اس کی مقبولیت اور اہمیت کے پیش ِ نظر اس کے بہت سے تراجم (نظم ونثر) میںکیے گئے مگر ان میں سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت جس ترجمہ کو ملی وہ ’’کربل کتھا‘‘ کے نام سے موسوم ہے اور تمام اربابِ ادب نے اسے ۱۱۴۵ء یعنی عہد محمد شاہی کی تصنیف مانا ہے ۔

          ’’کربل کتھا‘‘ ۳۳۔۱۷۳۲ء میں لکھی ہے ۔اس تصنیف کو عام طور پر ’’دہ مجلس ‘‘ بھی کہا جاتا ہے جس کا پہلا نایاب نسخہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران ٹیوبن گن یونیورسٹی کے کتب خانے سے دریافت ہوا ۔جس کے بارے میںخواجہ احمد فاروقی کربل کتھا کے مقدمے میں لکھتے ہیں :

’’کربل کتھا یا دہ مجلس کا یہ نادر اور نایاب نسخہ مجھے ذخیرہ اسپرنگر سے دستیاب ہو ا ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران برلن سے ٹیوبن گن یونیورسٹی کے کتب خانے میں منتقل ہو گیا تھا ۔جہاں تک میرا علم ہے اس کا کوئی اور نسخہ دنیا میں موجود نہیں۔ مخطوطات فورٹ ولیم کالج کلکتہ کی قلمی فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دہ مجلس کا ایک نسخہ اس کالج کے کتب خانے کی زینت تھا۔لیکن اب نا پید ہے۔ایک نسخہ مولوی کریم صاحب طبقاالشعرا کے پاس تھامگر اس کا بھی پتا نہیں ‘‘۔

                                    (کربل کتھا۔مرتبہ خواجہ احمد فاروقی )

         کربل کتھا فضلی کی اہم تصنیف ہے جو ملا حسین واعظ کاشفی کی فارسی تصنیف روضتہ الشہدا کا آزاد اردو ترجمہ ہے۔اس کی تالیف کا سبب یہ ہے کہ شرف علی خاں کے گھر محرم کی مجالسِ عزا منعقد ہوتی تھیں جن میں ملا حسین واعظ کاشفی کی روضتہ الشہدا پڑھی جاتی تھی لیکن یہ فارسی زبان میں ہونے کی وجہ سے اپنے معنی اور مطالب واضح کرنے میں پوری نہیں اترتی تھی چناچہ عورتوں کی فرمائش پر فضلی نے اسے آسان اردو میں منتقل کیا۔عورتوں کو اس کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تھے۔اس کے پر سوز فقروں پر انہیں رونا نہیں آتا تھا ان خواتینوں کا اصرار تھا کہ کوئی صاحب ِ شعور روضتہ الشہدا کا ترجمہ عام فہم زبان میں کرے تاکہ اس کتاب کے بیانات ان کی سمجھ میں آئیں اور انہیں سن کر انہیں رونا آئے ۔خواتین کی فرمائش پر فضلی نے اس کام کا بیڑا اٹھایااور روضتہ الشہدا کا ترجمہ کیا جس کا نام کربل کتھا رکھاگیا ۔جس کے بارے میں وہ خود لکھتے ہیں :

’’باعث تصنیف اس نسخہ مسودہ کا کہ ہر حرف اس کا ایک گلدستہ بوستان ولایت کا ہے۔ موسوم بہ ’’کربل کتھا‘‘ اس سبب ہوا کہ بندہ پر تفسیر حسب الارشاد اوس قلبہ گاہ کے خلص’’روضتہ الشہدا‘‘ کا سناتا تھا لیکن معنی اس کے نساء عورت کی سمجھ میں نہ آتے تھے اور فقرات پر سوزوگداز اس کتاب مذکورہ کے صد صیف و صد ہزار افسو س جو ہم کم نصیب عبارت فارسی نہیں سمجھتے اور رونے کے تو اب اسے بے نصیب رہتے ہیں ۔ایسا کوئی صاحب ِ شعور کہ کسی طرح من و عن ہمیں سمجھاوے اور ہم سے بے سمجھو ں کو سمجھا کر رلاوے مجھ احقر کی خاطر میں گزا کہ اگر ترجمہ اس کتاب کا برنگینی عبارت حسن استعارات ہندی قریب الفہم عامۂ مومنین و مومنات کیجئے تو بموجب اس کلام با نظام کے بڑا ثواب یا صواب لیجیے۔‘‘

         اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضلی کا مقصد اس ترجمے سے ان خواتین کی پریشانی دور کرنا تھا جو عربی و فارسی میں کم صلاحیت رکھتی تھیں اور اس سبب اعزا کی محفلوں میں رونے کی توفیق سے محروم رہ جاتی تھیں ۔یعنی ’’کربل کتھا ‘‘کی تالیف خالص مذہبی ضرورت کے تحت ظہور میں آئی ۔ادب کی ترقی اور نثر کی ترویج اس کا مدعا نہ تھا مگر فضلی نے اپنے بیان میں ایک تو اس کے عام فہم ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو دوسر ا اس کی عبارت کی رنگینی اور استعارات کے حسن کا ذکر بھی کیا ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کی زبان عربی و فارسی سے بہت دور جا چکی تھی اور صرف یہی نہیں بلکہ اس زبان میں سلاست کے ساتھ ہی تشبیہ و استعارہ کو حسن کے ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہو چکی تھی ۔ اس نثری نمونے سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ادبی نثر کے ابتدائی نقوش فضلی کی کربل کتھا میں بھی ملتے ہیں ۔فضلی ؔنے جس مقصد کے لئے یہ کتاب تالیف کی ہے ایک تو یہ کتاب اس مقصد کے لئے کھڑی اترتی ہے اور اہلِ مجلس کو متاثر کر کے انہیں رلانے کی فضا قائم کرتی ہے اور دوسرا اردو نثر ی ادب کو شمالی ہند میں ارتقائی سفر پر گامزن کر دیا ہے۔

         شمالی ہند میں اردو نظم و نثر کی تصنیف کا سلسلہ محمد شاہ کے عہد سے شروع جاتا ہے اور فضلی کی کربل کتھا بھی اس زمانے میں لکھی جاتی ہے ۔ سب رس سے پہلے اس کا ذکرمولوی کریم الدین مؤلف طبقاتِ شعرا ء ہند نے کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ان کے پاس کربل کتھا کا قلمی نسخہ ہے لکھتے ہیں ۔

’’ فضل علی نام تخلص فضلی ،محمد شاہ با دشاہ کے عہد میں وہ موجود تھا۔اس نے ایک کتاب ’’دہ مجلس‘‘ اردو زبان میں قدماء کے محاورات پر لکھی ہے۔وہ خو د کہتا ہے کہ اون ایام میں میری عمر بائیس برس کی تھی ۔اوس کتاب کا نام اوس نے کربل کتھا رکھا ہے ۔سبب تصنیف اوس کتاب کا جو اوس نے بیان کیا ہے نعتیہ اوس کی عبارت بے کم وکامت لکھتا ہوں ۔‘‘

         (طبقات شعرا ہند مولفہ مولوی کریم الدین طبع ۱۸۲۸ء ص۱۶)

         جیسا کہ پہلے ہی ذکر کیا گیا کہ فضلی نے یہ کتاب ملا حسین واعظ کاشفی کی تصنیف ’’ روضتہ الشہدا‘‘ کے خلاصے سے ترجمہ کیاہے ۔ ’روضتہ الشہداء‘ فارسی کی مشہور تالیف (سنہ۹۰۸ھ ۱۵۰۲ء) ہے۔ فضلی نے محرم کی مجالس کے لئے سنہ ۱۱۲۵ھ۱۷۳۲ ء میں اس کاترجمہ اردونثر میں کیا اور نثر کے علاوہ بعض حصے نظم میں ترجمے کئے گئے ۔یہ ترجمہ لفظی نہیں ہے بلکہ فضلی نے اس میں حسب مواقع تصرفات بھی کئے گئے ہیں اور روضتہ الشہدا کے نفیس مضموں کو اردو کے قالب میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔منظوم حصوں کو جہاں ترجمہ کیا ہے وہاں ترجمہ لکھا ہے ۔جہاںخود تخلیق کیا ہے وہاں مؤلفہ لکھا ہے ۔مجموعی طور پر کربل کتھاکی عبارت روضتہ الشہداء سے اتنی مختلف ہے کہ اس سے بجا طور پر فضلی کی تصنیف کہا جا سکتا ہے ۔غالباً ابتدائی سورہ صرف مجالس میں سنانے کے لئے لکھا گیا اور مولف نے اسے عام نہیں کیا ۔پندرہ سولہ سال کے بعد ا س پہ نظر ثانی کرکے حذف و اضافہ کیا اور اسے آخری شکل دی گئی ہے۔

         فضل علی فضلی کا یہ کارنامہ ’’ دہ مجلس‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے جب کہ فضلی نے اس کا نام ’کربل کتھا ‘  رکھا ہے۔ جب یہ کتاب جناب مالک رام اور ڈاکڑ مختار الدین احمد کی کوششوں سے اکتوبر۱۹۶۵  میں چھپ کر سامنے آگئی تو اس کتاب میں مولف کے دیباچے کے بعد بارہ مجلسیں ہیں اور ایک خاتمہ جس کی پانچ فصلیں ہیں۔ یہ کتاب اُس زمانے میں لکھی گئی جب خاص وعام ہر محفل میں اردو کا چرچاہونے لگا تھا اور فارسی کا چلن کم ہوگیاتھا۔اردو ادب کوچہ و بازار کے علاوہ مجلس و دربار میں بھی بولی جانے لگی تھی۔شعراء کثرت سے اس میں داد سخن دینے لگے تھے۔ تاہم نثر کے لئے ابھی فارسی کا سہارا لیا جاتا تھا۔اردد شعراء کے تذکرے اور آب بیتیاںفارسی میں ہی لکھی جا رہی تھیں ۔اس حالات میں کہ شمال میں اردو ابھی نثر ی نگارش کی زبان نہیں بنی تھی۔ فضلی نے یہ جرات مندانہ اقدام اُٹھایا ۔نقش اول میںجو خامیاں رہ گئیں تھیں وہ کربل کتھا میں بھی ۔تاہم اردو نثر میںیہ نقش اول اتنا خام اور نامانوس بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ ظاہر ہے کہ اس زمانے میں ا ردو زبان ایک بولی کے طور پر فن کمال تک پہنچ چکی تھی لیکن تحریری زبان کی جزئیات اور تفاصیل ابھی متین نہیں ہوئی تھیں ۔اس لئے ’’ کربل کتھا ‘‘ میں زبان و بیان کی یہ الجھنیں موجود ہیں۔

         کربل کتھا کا موضوع سانحۂ کربلا ہے۔اس کی مجلسیں محرم کے دس دنوں میں پڑھنے کے لیے اس وقت کی عام فہم زبان میں لکھی گئی۔ خواجہ احمد فاروقی نے اس تصنیف کو فاتحہ، دیباچہ، مقدمہ، اور دس مجالس کے ساتھ شائع کیا ہے جب کہ وہ خود اسی کتاب میں لکھے گئے ’مقدمہ ٔ مرتب‘میں اس تصنیف کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’فضلی کی کربل کتھا میں ایک مقدمہ، بارہ مجلسیں اور ایک خاتمہ ہے۔فضلی نے اپنے ترجمے کا نام ’’کربل کتھا ‘‘رکھا ہے۔ لیکن فہرست نگار مخطوطات فورٹ ولیم کالج ڈاکٹر اشپر نگر اور مولانا محمد حسین آزاد نے ’’  دہ مجلس‘‘ لکھا ہے۔مگر مولوی اکرم الدین جنھوں نے اس کتاب کو پڑھا تھا اور جنھوں نے اس کے طویل اقتباسات بھی نقل کئے ہیں اس کا نام کربل کتھا لکھا ہے:

’’فضل علی نام تخلص فضلی ، محمد شاہ بادشاہ کے عہد میں وہ موجود تھا۔ اوس نے ایک کتاب اردو زبان میں قدما کے محورات پر لکھی ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ اون ایام میںمیری عمر بائیس برس کی تھی۔ اوس کتاب کا نام اوس نے کربل کتھا رکھا تھا۔‘‘

                  ( کربل کتھا،مرتب: خواجہ احمد فاروقی، صفحہ، ز۔ح)

         چناچہ فضلی نے عوام کی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے ’’کربل کتھا ‘‘تصنیف کی ۔اس لئے اس میں صاف،سادہ عبارت اور سلجھا ہو ا اسلوب اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اگرچہ ان کے سامنے اس سے پہلے کا کوئی نثر ی نمونہ نہیں تھا مگر پھر بھی کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے صرف لفظی ترجمہ پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اپنی طرف سے اس میں بہت سے اضافے اور ترمیمات کی ہیں۔ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور ڈاکٹر خلیق انجم کا خیال ہے :

’’ادبی نقطۂ نظر سے اس کی کچھ زیادہ اہمیت نہیں،لیکن اردو نثر کی ابتدا اور اردو زبان کے ارتقا ء سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب نعمت عظمی کا درجہ رکھتی ہے ۔’’کربل کتھا ‘‘میں اکثر مقام پر نثر رواں اور سلیس ہے ۔غالباً اس لئے کہ فضلی نے واعظ کاشفی کے مفہوم  کے اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے لیکن جہاں کہیں وہ اصل متن کے پابند ہوتے ہیں عبارت میں سلاست اور روانی نہیں رہتی ،بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ لفظی ترجمہ کیا گیا ہے ۔‘‘

                  (کربل کتھا کا لسانی مطالعہ ، ص ۸۔۱۲)

         اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے فضلی کا اسلوب صاف اور سلیس ہے اور انھیں زبان پر قدرت حاصل ہے مگر ترجمہ کے فن میں وہ زیادہ کامیاب نہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان کے قواعد اور صرف و نحو سے انہیں مکمل واقفیت نہ تھی ۔دوسرے یہ کہ ’’کربل کتھا ‘‘ایک ایسے دور کی تصنیف ہے جس میں صرف سیاسی و سماجی و جنوں کے تمدنی دھارے بھی گلے مل رہے تھے۔ تہذیب کے نئے سوتے چھوٹ رہے تھے اور زبان و بیان کے نئے معیار اور بگڑ رہے تھے ۔حاتمؔ کے شعری نمونے اور میر ضاحک ؔکی نثر ان تبدیلیوں کی عکاس ہے جو اس دور میں رونما ہو رہی تھی۔ زبان و بیان ابھی دوراہے پر تھے کوئی ایک راستہ ایسا نہ ملا تھا یہی وجہ ہے کہ ’’کربل کتھا‘‘ کے اسلوب میں بھی بہت جگہ توہم پرستی اور اکھڑا پن ملتا ہے مگر مجموعی طور پر دیکھیں تو اس میں لڑ کھڑاتا اور پختہ دونوں اسالیب نظر آتے ہیں اور فضلی نے اس کا آزاد ترجمہ کرنے اور باقاعدہ اردو نثر کا پیکر عطا کرنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے ۔ڈاکٹر گوپی نارنگ لکھتے ہیں ۔

         ’’کربل کتھا کی بنیادی اہمیت یہی ہے کہ یہ کھڑی بولی کی پہلی مستند نثر تصنیف ہے ۔اس سے پہلے کھڑی بولی کے جتنے بھی نمونے دستیاب ہوئے ہیں وہ نہایت مختصر ہیںیا منظوم ہیں۔ ’’کربل کتھا ‘‘کھڑی بولی کے سرمائے میں وقیع درجہ رکھتی ہے ۔دہلی کی قدیم زبان نوائے دہلی کی بولیوں سے اس کے تعلقات اور اردو اور کھڑی کے رشتوں پر کام کرنے والے لوگوں کے لئے ’’کربل کتھا ‘‘بہترین ماخذ ہے۔‘‘

                           (اردوئے معلی، قدیم اردو نمبر شمارہ ، ص ۶۵)

         صرف کھڑی بولی ہی نہیں بلکہ کربل کتھا میں پنجابی ،ہریانوی ،دکنی اور قدیم ارد وکے لہجے بیک وقت ملتے ہیں ۔گویا یہ زبانوں کا ایک سنگم ہے مگر اس کثرت میں وحدت بھی موجود ہے یعنی شروع سے آخر تک اردو کے لہجہ اور اسلوب کی گونج سنائی دیتی ہے روزمرہ اور عوام کی زبان نیز عوامی محاورہ عام کرنے میں کافی توجہ صرف کی گئی ہے۔کتاب چونکہ براہِ راست فارسی سے ترجمہ ہے اس لئے جملوں کی ساخت اور عبارت پر بوجھل پن بھی موجود ہے مگر یہ سب جگہ یکساں نہیں کچھ مقامات ایسے ہیںجہاں فضلی کا قلم آزاد اور تخیل ان کے ہمراہ نظر آتا ہے ایسے مقامات پر ’’کربل کتھا ‘‘کی نثر میں تخلیقی شان نمایا ں نظر آتی ہے جس میں روانی،شگفتگی اور شادابی کے عناصر کا پر تو بھی ملتا ہے ۔کربل کتھا کی نثر میں درحقیقت دکنی و پنجابی لہجہ کی ایسی ہمہ آہنگ صدا ہے جس میں پنجابی کا اکھڑ پن بھی ہے مقفٰی و مسجع انداز بھی ہے ۔فارسی کی شیرینی اور ہریانی کی سادگی وبے ساختگی بھی ہے ۔فضلی نے قافیوں کا اہتمام بھی کیا ہے مگر یہ رنگ زیادہ دیر نہیں رہتا مثلاًیہ عبارت دیکھئے:

’’آہ حضرت یعقوب کے بار نہ فرزند تھے ۔ایک یوسف جدا ہو ا تھا،روتے روتے آنکھیں مبارک نابینا ہوئیں ۔لیکن حسین مظلوم کی آنکھوں کے آگے علی اکبر سا نوجوان اور علی اصغر سا تشینہ دھان ،قاسم سا پُرارمان اور برادران ،ذی شان ،ھفد نفر ذبح ہوئے، صبر کیا اور دم نہ مارا اور آپ بھی اپنا سریہ تسلیم رضا دیا۔‘‘

                                             (کربل کتھا ، ص۴۹۔۵۰)

         البتہ اس میں املا قدیم استعمال ہوا ہے۔مثلاً’اس ‘کے بجائے’ اوس‘ ،’سناتا‘ کے بجائے’ سوناتا‘،’ ان ‘کے بجائے ’اون‘،’ اٹھانے‘ کے بجائے ’اوٹھا‘وغیرہ ۔ایسے ہی بہت سے لفظوں میں املا کی قدیم صورت ملتی ہے مگر ان کے با وصف تحریر میں موج آفرینی ہے ،بے تکلفی اور سلاست ہے مثلاًفضلی حضرت زین العابدین میدانِ جنگ کے لئے روانگی کا ذکر ان لفظوں میں کرتے ہیں:

’’جب زین العابدین نے باپ کو اکیلا روتے دیکھا باوجود یہ کہ بیمار تھا اور طاقت و حرکت نہ تھی خیمے سے باہر نکل نیزہ اٹھایا اور ضعف سے مثال بیت کے لرزتا اور کانپتااوسی حال سے قصدِ میدان کیا۔‘‘

                                                               (کربل کتھا، ص۔۱۹۶)

          کربل کتھا کی عبارت میں سادگی اور روانی موجود ہے اور کہیںبھی مدعاو مطلب تک پہنچنے اور لکھنے بات کو سمجھنے میںدشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اگر فضلی اس کے برعکس عالمانہ زبان لکھنے کی کوشش کرتے توان کی زبان دستور عام کے مطابق پر تکلف اورمغلق ہوجاتی ۔فضلی نے فارسی کے مروجہ پرُ تکلف انداز اور قافیے اور مسبع وغیرہ کے التزام سے بچنے کی پوری کوشش کی ہے کیونکہ جس مقصد اور جن لوگوں کے لئے وہ یہ تصنیف تحریر کی جا رہی تھی ان کے لئے ان کا سمجھنا مشکل ہو جا تا ہے۔ کہیں کہیں ان کی عبارتوں میں قوافی کا التزام بھی ملتا ہے لیکن یہ قوافی عبارت کی روانی اور بے ساختگی پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوپائے۔بعض فقرے اگر ساخت میں نامکمل ہیں یا قواعد کے مطابق نہیں ،لیکن بعض فقرے مکمل ،برجستہ اور با ساخت ہیں ۔اسی تعلق سے اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ پھر مسلم نے ہاتھ واسطے دعا کیا ،بارخدایا ،فتح دے دوستوں کو اور رونڈ دشمنوں کو۔ پھر کلمہ شہادت پڑھ ،امید وار قتل ہوئے۔ جو ابن حمران نے چاہا کہ شمشیر مسلم پر مارے ہاتھ ملعون کا خشک ہو گیا اور اوپر کا اوپر ہی رہا ۔ابن زیاد نے کہا، تجھے کیا ہوا۔ ملعون نے کہا ،ایک مرد باہیت کوں دیکھا میں نے کہ میرے برابر کھڑا ہے اور اونگلی اپنی دانتوں سے کاٹتا ہے۔ میں اس سے ڈرا ۔ ابن زیاد ملعون نے کہا توچاہا خلافت عادت کام کرے ،دہشت نے غلبہ کیا تب اور ملعون کو بھیجا ، جب وہ لعین اوپر گیا ،جمال باکمال مصطفی دیکھ ،کلیجا پھٹ مر گیا۔۔۔۔ تیسرے ملعون شوم شامی بے حیا نے مسلم غریب کو شہید کیا اور سر کو بدن سے کاٹ ، لاش کوٹھے سے نیچے ڈال دیا۔  انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ‘‘

                  ( کربل کتھا ، صفہ ۷۸)

         کربل کتھا میں کہیں واقعات کا بیان ہے ،کہیں مختلف کرداروں کی گفتگو اورکہیں مواقع اور مناظر کا ذکر ۔ اس لئے انداز بیان میں بیانیہ ، مکالماتی اور وصفیہ صورتیں موجود ہیں۔مختلف کرداروں کی گفتگو اور مکالے اس اندازسے پیش کئے گئے ہیں کہ عبارت میں ادبی حسن ظاہر ہوتا ہے ۔گفتگو کے دوران اپنے جذبات کا منظوم اظہار ان کرداروں کو ڈراما کے ماحول میںلے آتا ہے جس سے قاری یا سامع کی دلچسپی اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کربل کتھا کی ان خوبیوں کو جب ہم اس امر کاخیال رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ یہ شمالی ہندمیں اردو نثر کا ابتدائی نقش ہے اور پھر یہ وہ زمانہ ہے کہ جب زبان و بیان کے قواعد ابھی طے نہیں ہوئے تو اس کی خامیوں سے قطع نظر اس کی خوبیوں کا اعتراف کرنا پڑتا ہے ۔

         فضلی نے اس کتاب میں لفظوں کا وہ ناتا جوڑا ہے کہ ماتمی مجلس کے علاوہ اردو ادب کی ہر مجلس کی خواہش پوری ہو گئی جو روضتہ الشہدسے نہ ہو پائی تھی ۔اس کے جملوں کی رنگینی جذبات کو ابھارنے اور ماحول کو سوگوار بنانے میں کوئی کمی باقی نہ رکھتے تھے۔واقعات ایسے پر سوز انداز میں بیان ہوئے ہیں کہ مذہبی جوش بڑھ کر، جذبات میںہلچل مچا کر پتھر دل بھی پگھلنے لگے تھے اور انسان کے جذبات اور احساسات کو اہلِ مجلس میں اپنے مقصد تک پذیرائی حاصل ہوتی تھی ۔فضلی نے اس کتاب میں سادہ لفظوں اور روزمرہ محاوروں سے کام لے کر عبارت میں بے ساختگی اور بے تکلفی پیدا کی ہے اور دوسری طرف آس پڑوس کے فارسی جملوں کو بھی استعمال کرتے ہیں جس سے عبارت میں توازن اور اعتدال پیدا ہوتا ہے ۔اردو اور فارسی کے ملے جلے توازن سے عبارت میں ایک منفرد توازن پیدا ہوا ہے جو اس کتاب کی مقبولیت کی وجہ بنی اور یہی خصوصیات اس کتاب کو اردو نثر کی تاریخ میں ایک اہم مقام فراہم کرتی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ابن زیاد ملعون نے نعمان لعین کو پچاس سوارے ایک مسلم کے پیچھے بھیجا ۔ جوں مسلم نے دیکھا کہ تنکہ سواروں کا میرے پیچھے آیا ہے ۔گھوڑے سے اتر ،تازیانہ مارا ہانک دیا اورآپ ایک مسجد خراب میں ایک کونے میں چھپ نعمان لعین نے گھوڑے کے پاؤںکی پے لی گھوڑا پایا لیکن مسلم کا اثر نہ پایا ۔ ابن زیاد ملعوں نے کہا کہ شہر کے دروازوں کو محکم موندیں اور منادی کریں کہ جو کوئی مسلم کی خبر لاے مال و منال دنیا بہت پائے کئی بدبخت مسلم کے ڈھونڈھنے میں پڑے اور حضرت مسلم بھوکے پیاس سے اوس مسجد ویرانہ میں تھے ۔تب تک رات آئی۔مسجد سے پاؤں باہر رکھتے ،لیکن نہ جانتے تھے کہاں جاتا ہوں اور کہتے تھے افسوس کہ دشمنوں کے ہاتھ گرفتار ہوں اور امام حسین سے برکنار۔

ترجمہ:نہ قاصد کوئی جو پیغام میرانہ محرم کوئی سلام تام میراجو پہونچاوے حسین ابن علی کوںکہے میرا غم ویسے ولی کوپڑا اس شہر میں بے یار افسوس نہ میرا یہا ںکوئی غم خوار افسوسکہو کس سیتی اس دم یہ دو کہہ اپناکہ یہاں رکھتا نہیں ہوں کوئی اپناغربت و بے کس و بے آشنا ہوںسراسر خستہ مکر و دغا ہوں۔

         ( کربل کتھا ،ء صفہ ۷۵۔۷۶)

         فضلی کے سامنے اگرچہ اس وقت کسی بھی قسم کی کوئی اردو نثر ی کتاب بانمونہ موجود نہ تھی لیکن اس نے پہلے تخلیقی کاوشوں کی بدولت اس کتاب کو صاف سادہ اور سلجھا ہو ا اسلوب عطا کر کے اردو نثری ادب کو زینت بخشی ۔اس کتاب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ فضلی نے روضتہ الشہدا کا لفظی ترجمہ نہیں کیا بلکہ اپنی محنت اور کاوشوں سے اس میں اضافے بھی کئے اور ترمیمات بھی جس کی وجہ سے کربل کتھاکو translationنہیں بلکہ Transcreationکہا جاتا ہے۔ڈاکٹر گوپی چند نارگ اور خلیق انجم لکھتے ہیں :

’’ادبی نقطہ نظر سے اس کی کچھ زیادہ اہمیت نہیں ۔لیکن اردو نثر کی ابتدا اور اردو زبان کے ارتقا سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب نعمت عظمی کا درجہ رکھتی ہے کربل کتھا میں اکثر مقام پر نثر رواں اور سلیس ہے غالب اس لئے فضلی نے واعظ کاشفی کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے لیکن جہاں کہیں وہ اصل متن کے پابند ہوئے ہیں عبارت میں سلاست اور روانی نہیں رہتی بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ لفظی ترجمہ کیا گیا ہے۔‘‘

         کربل کتھا کا موضوع اگرچہ واقعاتِ کربلا ہے لیکن اس کی کہانی میں پیش کیا گیا سارا ماحول ہندوستانی ہے۔واقعات میں ہندوستانی رہن سہن ،رسم و رواج ،لباس ،زیورات اور ہندوستانی تہذیب کا رنگ نمایاں ہے۔اپنی ان ساری خوبیوں اور خصوصیات کی بنا پر کربل کتھا اردو نثر کے ارتقا ء میں اہمیت کی حامل ہے۔

         الغرض اس تصنیف سے فضلی کا مقصداہلِ مجلس کو متاثر کرکے انہیں ماتم ِ حسین میں شریک کرنے کے لئے رونے رلانے کی فضا قائم کرنا تھا۔اس لئے وہ لفظوں کی چنگاریوں سے جذبات کو سلگانے اور آنکھوں کی راہ سے اس دھوئیں کو بہانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ ماحول کو سوگوار بنانے میں انہیں کمال درجہ حاصل ہے ۔واقعات کو ایسے پُر سوز انداز میں پیش کرتے ہیں کہ جذبات میں ہل چل مچ جاتی ہے ۔مذہبی جوش امڈآتا ہے اور پتھر دل بھی پگھلنے لگتے ہیں۔ ان کی عبارت میں لفظی ترتیب اور جملوں کی ترکیب سے بلا شبہ ایسا لطف آہنگ پیدا ہو جاتا ہے جس کی جھنکارقاری کے حواس ِ خمسہ پر چھا جاتی ہے اور انہیں دوسری طرف متوجہ نہیں ہونے دیتی ۔وہ ایک طرف اردو کے سادہ لفظوں اور روز مرہ محاوروں سے بے ساختگی و بے تکلفی کی فضا پیداکرتے ہیںتو دوسری طرف اس کے گرد فوراًفارسی جملوں کی باڑھ لگا دیتے ہیں اور نتیجے میں عبارت میں جو اعتدال اور توازن پیدا ہو جاتا ہے اسے بلا شبہ ہم ادبی نثر کا پیش رو کہہ سکتے ہیں ۔ یہ توازن ’’کربل کتھا‘‘کا عام انداز ہے جو اس کی شہرت اور مقبولیت کا ضامن ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *