You are currently viewing ہل چل

ہل چل

ڈاکٹر عیسیٰ محمد

ہل چل

آج معمول کے برعکس فجر سے پہلے ہی گھروں کی چمنیوں سے دھواں رواں دواں ہیں۔    والدیں  کے اٹھنے کی آہٹ سن کر جاگ اٹھا۔ اٹھتے ہی  کھڑکی سے باہر جھانکا تو ایک آدمی  پہلے اور ان کے پیچھے اور دو لوگ کھڑکی کے نیچے تنگ گلی سے گزرتے دیکھا۔ ٹھوڑی دیر  مخمصے   میں رہا کہ آخر اتنی صبح کہاں جا رہے ہوں گے۔ سوچ ہی رہے تھے کہ والد صاحب کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔ جلدی اٹھو بیٹا دیر ہو رہی ہے۔میٹھی چائے میں نے بنا لی ہے آپ بسکٹ ،کلچے، مرکھور اور دوسری چیزیں ٹوکری میں رکھنا۔ والد صاحب کی آواز دماغ میں گھنٹی کی مانند گنجنے لگی اور اسے یاد آیا کہ آج ما ما نی ہے۔  مجھے صبح صادق کے اول ساعت  ہی میں  اٹھ کر  سبیل کے ساتھ قبرستان پہنچنا ہے۔

جلدی اٹھ کر اپنا بسترہ سمیٹ لیا  حاجت ضروریہ کر کے دوسرے ضروری فرائض بجالائے ۔اپنا گونچا جو  رات کو سوتے وقت لٹکن پر رکھا  تھازیب تن کیا۔اور سبیل اور دوسری اشیائے خوردنی  کے مختلف اقسام جو گزشتہ دو تیں دنوں سے تیار کر  رکھا تھا  تھوڑا تھورا ٹوکری میں رکھااور باقی چیزون کو سمیٹ کر   باہر دلہیز کی طرف بڑھنے لگا والد صاحب چائے کی تھرمس ہاتھ میں لیے پیچھے پیچھے آئے۔دلہیز پر ایک طرف ٹوکری کو احتیاط سے سنبھلتے ہوئےنیچے رکھا اور اپنا (ٹتپا) لداخی جوتا پہننے کے لئےدلہیز کے زینے پر بیٹھتے ہی اپنے ٹتپا کی طرف ہاتھ بڑھایا۔والدہ صاحبہ نے رات کو ہی جوتے میں نیا پھونسا ڈال کر چاول کے بوری کے دو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوتے کے ساتھ رکھی تھی   پیرون میں اونی جوراب پہنا تھا جوراب کے اوپر بوری کے ٹکڑوں سے دونوں پیرون کو لپیٹا اور ٹتپا پہن لیا تا کہ پیر وںکو ٹھنڈمحسوس نہ ہو۔والد صاحب نے تھرمس ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا لو بیٹا سنبھل کر جانا راستے میں اور لوگ ملین گے۔

 دلہیز سے باہر قدم رکھتے ہوئے خیال آیا آج صبح سویرے ان کی زیارت کا اچھا موقع ملے گا۔اسی خیال میں دوبڑے چٹانوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سڑک پر پہنچ گئے۔دونوں چٹانوں کو دیکھ کر خیال آیا یہ دو بڑے چٹان جو ایک دائیں اور ایک بائیں طرف موجود ہے  گائوں کی صدر دروازے کے مانندہے۔اسی خیال میں آگے بڑھنے لگے چند قدم کے فاصلے پر کسی کو جاتے دیکھا غور سے دیکھتے ہوئے آگے برھنے لگے محسوس ہوا کہ یہ وہی ہے رفتار کو تیز کیا تا کہ  موقع کو غنیمت سمجھ کرکچھ دل کی باتیں کروں نزدیک پہنچا تو معلوم ہوا کہ یہ تو اس کی بڑی بہن ہے۔اپنی رفتار کو اس خیال کے ساتھ کم کیا کہ چاہت میں کتنی مقناطیسی کشش ہے۔اندر ہی اندر ہنسی محسوس کی اور ان کے پیچھے تھوڑا فاصلے سے آگے بڑھتے رہے اپ قبرستان کے نزدیک پہنچ چکا تھا اور مختلف آوازیں کانوں سے ٹکرائی۔

اپنی ٹوکری  اور تھرمس کو احتیاط سے دوسری ٹوکریوں اور تھرمس  کے ساتھ رکھا صاور دوسروں کے ساتھ معمول میں مصروف ہونے لگا۔تقریباً آدھے گھنٹے کے وقفے میں سارا کریہ کرم مکمل ہوا اس دوران نظریں اس کو ڈھونتا رہا لیکن ناپید۔دوسری ممانی میں  دیکھنے کی امید لیے اپنے ٹوکری اور تھرمس سمیٹ کر لوگوں کے ساتھ گھر کی راہ لی۔دلہیز پر جوتا اتارا پیرون میں لپیٹے بوری کے ٹکڑوں کو کھول کر جوتے کے ساتھ رکھ دیا اور اندر داخل ہوا ،راہداری میں جہاں سے سیڑھی چہت کی طرف جاتی ہے وہی ٹوکری کو  اتار رکھا۔ٹوکری میں پڑے کپڑے کے ٹکڑے کو جس میں بسکٹ ،کولچے ،مارکھور،ہرجین کھور ،ہرژب کھور وغیرہ لپیٹ کر صلے گیا تھااور تھرمس کو ہاتھ میں لیے اس کمرے میں د اخل ہواجس میں کھانا بنایا جاتا ہے۔گھر میں والدین دوسری ممانی کی تیاری کررہے ہیں۔چولہےپر دو برتن ایک مٹی کی بنی مخصوص برتن میں’ زو ‘کا گوشت اور پیتل کی بنی برتن میں پوپوت پک رہے ہیں۔والد صاحب ایک کونےمیں اسٹو کی نیپل صاف کرنے کی غرض سےایک  ہاتھ میں ماچس کی سیلی اور دوسرے ہاتھ میں نیپل صاف کرنے والی پن لیے جھک کر اسٹو کی نیپل ڈھونڈ رہے ہیں۔والدہ نے چولہے میں پھونک مارتے ہوئےبیٹھ کر ہاتھ تپکنے کے لئے کہی۔

والدہ۔بیٹا پیروں کو ٹھنڈ تو نہیں لگی۔ویسے میں نے رات کو تمہارے جوتے کا پھونس بدل دی تھی ساتھ میں بوری کے ٹکڑے بھی جوتے کے ساتھ رکھے تھے۔

بیٹا۔ہاں امی اپ نے پھونس بدل کر اچھا کیاتھا اور بوری بھی نئی ہونے کی وجہ سے پیرون نے بلکل ٹھنڈ محسوس نہیں کی۔

امی۔قبرستان پہنچنے میں دیر تو نہیں ہوئی تھی نا بیٹا۔

بیٹا۔ نہیں امی میں ٹھیک وقت پر پہنچا تھا۔

اب دوسری ما مانی نکلنے کا وقت ہوچکاتھا۔والد صاحب نے کمرے میں ایک طرف  ‘چھلی ‘(لداخ میں رضائی  کا متبادل ہے) بچھائی۔اس پر پیتل کے درمیانی تھال میں پکی ہوئی چاول کو پروسا چاول کے اوپر  ایک طرف شلغم کا سالن دوسری طرف راجما دال کا سالن اور گوشت کے تین بڑے بڑے ٹکڑےسلیقے سے بیچ میں رکھے۔امی نے ٹوکری میں،مارکھور،ہرژب کھور،ہرجین کھور،تیہن تیہن (پولی )سلیقے سے رکھی۔اتنے میں گائوں کے بزرگ ،بچے بھالے جوق در جوق مخصوص جگے کی طرف آتے دیکھ کر والد نے پیتل کی   تھال جس میں چاول کے اوپر سالن کی دو قسم سمیت گوشت کے بڑےبڑے ٹکڑے رکھے تھے اٹھایا امی نے ٹوکری جس میں لداخی کلچے کے اقسام رکھی تھی اپنی پیٹ کی جانب کھینچتی ہوئی کہی بیٹا  اکبرتم چائے کی تھرماس اور اپنے لئے تھالی اور پیالی ساتھ رکھنا۔آگے آگے والد ہاتھ میں پیتل کی تھال تھامے پیچھے امی پیٹ پر ٹوکری لئے درمیان میں ایک ہاتھ میں چائے کی تھرماس اور دوسرے ہاتھ میں تھالی اور لکڑی کی بنی پیالی جو والد نے لیہ سے بطورتحفہ لایاتھا۔مامانی بانٹنے کی مخصوص جگے کے طرف جہان گزشتہ روز گائوں کے نوجوانوں نے برف کو ہٹا کر لوگوں کے بیٹھنے کے لیےجگہ بنایا تھا روانا ہوئے۔

گائوں کے چند افراد آگے آگےچند پیچھے پیچھے مامانی کے مقام کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔کچھ دیر بعد مامانی کے مقام پر پہنچ گئے۔جہاں چند افراد پہلے سے پہنچ چکے تھے۔انھوں نے اپنےساتھ لیے اقسام خوردنوش کو کونے میں بچھائے ہوئے ‘چھالی’ (چھلی لداخ میں رضائی کا متبادل ہے) وہاں حوالہ کرنے کے لیے اس طرف چلے۔والد نے پیتل کی تھال کو چھلی پر اس جگہ جہاں پہلے سے  کچھ تھال رکھا ہوا تھا  پاس رکھ کر اپنی جگہ کی جانب روانہ ہوا۔اکبر نے اپنی تھرمس کو ‘مدی’ (مہدی) کی طرف بڑھاتے ہے کہا ،یہ نمکین چائے ہے۔والدہ نے اپنی ٹوکری “مالی” (محمد علی) کے ہاتھوں تھماتے ہوئے بولی۔

والدہ۔مالی،ذرا یہ ٹوکری خالی کر دینا۔

مالی۔جی چاچی میں ابھی خالی کر دیتا ہوں۔اوہو ہاتھ جم رہےہیں سردی میں اتنی شدت آج تک نہیں دیکھی ۔یہ لیجیے۔

والدہ۔ہاں ‘مالی ‘ویسے برف تو اس برس کم برسا ہے لیکن پھر بھی آج سردی میں کچھ زیادہ ہی شدت ہے۔

ماحسن(محمد حسن) نے جیبھ لیتے ہوئے کہا ۔مامانی کے دن سردی نے شدت نہیں دکھائی تو مامانی کی معنویت کہاں باقی رہے گی۔

والدہ۔ پتے کی بات بتائی ”ماسن”آپ نے

والدہ نے ٹوکری سنبھالی اور خواتین کے غول میں موزوں جگہ دیکھ کر بیٹھ گئی۔

والد اور اکبر مردوں کے بیٹھک میں بیٹھ گئے۔

والد صاحب  بیٹھک میں جہاں ٹاٹ کے اوپر قالیں بچھا ہے وہاں ایک طرف بیٹھ گئے۔والد صاحب سے پہلے گائوں کے چند بزرگ اور مولوی قالیں پر بیٹھے قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے۔والد  ایک طرف قالین پر بیٹھ گئےاور تلاوت قرآن میں مصروف ہوئے۔مےمے ربگیس  قالین پر بیٹھے ہاتھ سے گھومانے والے مانے کو گھماتے ہوئےکچھ منتر دہرا رہے ہیں۔اکبر بچوں کے بیچ جا کر بیٹھ گئے۔اتنے میں تین چار نوجوان ہاتھوں میں چائے کی کیتلی اور تھرمس لیے نمودار ہوئے اور ہر ایک کے پیالے میں چائے انڈیلتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ان کے پیچھے پیچھے دوسرے نوجوان جو کھانا بانٹنے کے عمل میں مصروف ہیں۔کھانے کی ایک ایک قسم  تھال اور ٹوکری میں لیے باری باری ہر ایک کے ہاتھ میں اپنا اپنا حصہ حوالہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ کچھ چبا نے لگے کچھ اپنا حصہ ا پنے تھالی اور تھیلی میں رکھنے لگے۔نوجوانون میں سب سے پیچھے ایک 50 سالہ شخص جن کا نام ہادی ہے اپنے ہاتھ میں مضبوط ٹوکری مضبوطی سے پکڑے نمودار ہوئے اور ہر ایک کے ہاتھ میں سری کے گوشت کا ٹکڑا تھماتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔

اکبر نے کئی بار خواتیں کے مجمع میں اپنے محبوب کو ڈھوندنے کی ناکام کوشش کی۔

وہ دوبارہ خواتیں کی طرف دیکھ رہا تھا۔اتنے میں کاکا ہادی کسی کے ہاتھ میں سری کی گوشت اور کسی کے ہاتھ میں کھروڑا حوالہ کرتے ہوئے بچوں کے ہاتھ میں گوشت اور کھروڑاکا ٹکڑا تھماتے ہوئے اکبر کی طرف آنے لگے۔اکبر کی نگاہیں لڑکیوں کی طرف تھا۔دورجے نے اکبر کے کندھے پر ہلکے سے مارتے ہوئے بتایا۔

دورجے۔اکبر اپنا گوشت پکڑو۔

اکبر۔ہاں دورجے پکڑ رہاہوں۔اکبر نےاپنا ہاتھ آگے بڑھاتےہوئےکہا مجھے کھروڑا دیجیے۔

کاکا ہادی۔ٹھیک ہے بیٹا اکبر، تمہیں کھروڑا دیتا ہوں دورجے اور ضمیر کو بھی کھروڑا ملا ہے ۔مامانی کے بعد تینوں( میچو کھیلنا)

ضمیر۔یار اکبر پیروں میں ٹھنڈ لگ رہا ہے۔

اکبر۔مجھے بھی لگ رہاہے۔

دورجے۔ٹھنڈ تو لگے گا بھائی ،زمیں کے اوپر ایک ٹاٹ ہی تو بچھی ہے۔

ضمیر ہنستے ہوئے گویا ہوئے۔دیکھو نا ہمارے دائیں بائیں برف پہاڑ کے مانند کھڑا ہے۔

دوران گفتگو  اکبر نے کئی مرتبہ خواتین کی غول کی طرف دیکھا۔

قالین پر بیٹھے ایک مولوی نے اپنا سر اونچا کر کے ہر طرف نگاہ ڈالتے ہوئے  کاکا ہادی پر جا رکا۔مولوی نے کاکا ہادی کو آواز دیتے ہوئے کہا ۔

مولوی صاحب۔ کاکا ہادی بنٹائی کا کام مکمل ہو گیا؟

کاکا ہادی۔ہاں مکمل ہو گیا ہے مولوی جی

مولوی صاحب۔ تو آخری رسم  بجا لانے کے لیے کہوں؟

کاکا ہادی۔جی جی اچھی بات ہے۔

مولوی نے  کمر کو ذرا خمیدہ کرتے ہوئے ایک بزرگ مولوی کی طرف اشارہ کیا۔اشارے کو بھانبتے ہوئے بزرگ مولوی  لداخی گونچہ زیب تن کیے ہ سرخ رنگ کا کمر بند باندھے ہوئے  کمر کے دائیں طرف روایتی چاقو اور تین چار چابیاں لٹک رہے لٹک رہے ہیں کھڑے ہو کر مرحومیں کے حق میں فاتحہ پڑھا۔اکبر نے اس دوران اپنی ہاتھوں کو قدرے اونچا کر کے تین چار مرتبہ خواتین کی طرف نگاہ ڈالا۔

دعا خیر مکمل ہونے کے ساتھ لوگ اپنی اپنی تھالی اور تھلیاں اٹھا کر اپنے اپنے جگے سے اٹھنے لگے اور اپنے گھروں کی جانب روانہ ہونے لگے۔ اکبر نے اپنا  تھالی  اور پیالہ سنبھالا اور جلدی  جلدی  گھر کی راہ لی۔ اکبر کو اپنے گھر پہونچنے کے لیے ایک تنگ گلی سے گزرنا پڑتا ہے۔گلی میں اکبر تین چار عمر رسیدہ خواتین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ان کی چھوٹی بہن کے قریب گیا ۔ان کی بہن موبائل پر کچھ دیکھتے ہوئے گھر کی طرف گامزن تھی ۔اکبر نے چھوٹی بہن’  کلو’ (کلثوم )سے اپنی محبوبہ کے بارے میں دریافت کرنے کی غرض سے پوچھا ۔

اکبر۔کلو(کلثوم)،آج اقلیمہ نظر نہیں آرہی ہے کیا بات ہے خیریت تو ہیں نا وہ ۔

کلو(کلثوم)۔ہاں ٹھیک ہے وہ آج ماموں جان کے یہاں گئی ہے۔بڑی مامانی نکلنے سے پہلے ہی وہ واپس آجائےگی۔آب کیون پوچھ رہے ہیں۔

اکبر۔ہچکچاتے ہوئے۔۔۔۔کچھ نہیں بس ایسے ہی۔

اکبر کے لیے یہ اتنی بڑی خبر تھی جتنی کہ ایک اہم جنگ جیتنے جیسا۔ اکبر کا چہرا کھل اٹھا اور اپنے گھر کی راہ لی۔اب اکبرمسرور کن انداز میں بڑی مامانی کا انتظار کررہے ہیں۔

***

نوٹ)

اس تحریر کے تمام کردار،مقامات،واقعات،کرداروں کے نام فرضی ہیں۔ان کا کسی شخص کے ساتھ کوئی رابطہ یا تعلق نہیں۔کسی فرد،مقام،یا واقعے کے ساتھ مطابقت قطعی اتفاقیہ ہوگی،جس کے لئے مصنف کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کر سکتا اور نہ کر سکے گا۔

Dr. Issa Mohd

Assistant professor (contractual)

Urdu

Department of Urdu

Kargil Campus, University of Ladakh

194103

Mob. No 7051805659

Leave a Reply