You are currently viewing 1980 کے بعد نمائندہ خواتین افسانہ نگار

1980 کے بعد نمائندہ خواتین افسانہ نگار

مسر ت آرا

پی ایچ۔ڈی اسکالر، کشمیر یونی ورسٹی

1980 کے بعد نمائندہ خواتین افسانہ نگار

         اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افسانہ نگاری کی روایت میں جو رتبہ قرۃالعین حیدراورعصمت چغتائی کو ملا ہے اس رتبے تک ابھی بھی کوئی خاتون افسانہ نگار نہیں پہنچ پائی ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ 1980  کے بعد بڑی تعداد میں خواتین نے فکشن کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ اردوافسانہ نگاری کی تاریخ اگر دیکھی جائے تو ان میں بہت ساری ایسی خواتین ہیں جن کے ہاں موضوعات محدود ہیں۔ ان کے سامنے چند ایک موضوعات جیسے عورتوں کے مسائل ، عشق و محبت ، جنسیات وغیرہ ہی عام رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ تانیثیت کے پہلو کو بھی یہ خواتین نظر انداز کرتی آئیں ہیں۔لیکن اب وقت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کے موضوعات کا دائرہ بھی بڑھ رہا ہے ۔ اب جو خواتین اردو افسانے کے میدان میں داخل ہوئیں ہیں انھوں نے اس روایت کوکافی حد تک رد کیاہے اور اپنے موضوعات میں تنوع لانے کی کوشش کی ہے ۔

         آج کی عورت آزاد ہے ۔ وہ کسی بھی روایت ، تحریک ، نظریے یا ازم کے حصار میں قید نہیں ہے ۔ اس کی سوچ بالکل آزاد ہے ۔ وہ آج کے دور میں جہاں دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، مردو ں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہی ہے ۔ آج کے موضوعات، مسائل ، چیلنجز وغیرہ کو وہ بڑی سنجیدگی سے اپنا رہی ہے ۔ اردو افسانوں میں جو جو نئی تبدیلیاں آ رہی ہیں ان میں بھی خواتین کا اہم حصہ ہے ۔اردو میں افسانے کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ہوا مگر خواتین نے اس کی طرف بہت بعد میں توجہ دی ۔ اردو افسانے کی تاریخ میں رشید جہاں وہ پہلی عورت ہے جس نے باقاعدگی سے صنف افسانہ کو اپنایا ۔ اس کے بعدعصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، جیلانی بانو وغیرہ جیسے نام ہمارے سامنے روشن ہوتے ہیں۔ 1980 کے بعد خواتین کی ایک بڑی تعداد نے افسانے کے میدان میں قدم رکھا۔ جن میں ترنم ریاض، نگار عظیم، ذکیہ مشہدی، شائستہ فاخری،صادقہ نواب سحر،غزال ضیغم،تبسم فاطمہ، فریدہ زین،قمر جمالی،کہکشاں پروین، ڈاکٹررینو بہل وغیرہ کا نام قابلِ ذکر ہے ۔ان میں سے چند نمائندہ خواتین افسانہ نگاروں کو میں نے موضوع ِ بحث بنایا ہے ۔

         1980ء کے بعد کے عہد کو ہم مابعدجدیدیت کے نام سے جانتے ہیں ۔ اس عہد کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں فن کار کو موضوعاتی طور پر پوری آزادی میسر تھی ۔ اور اسی عہد میں کئی طرح کے مسائل سر اٹھائے سامنے آئے تھے ۔ دراصل جدیدیت کے دور میں ادب مسائل سے لاپرواہ ہوگیا تھا اور اسی لاپرواہی نے جدیدیت کے رد عمل میں مابعد جدیدیت کا بیج بویا ۔ 1980ء میں جب ادب باقاعدہ طور پر جدیدیت کے شکنجے سے آزاد ہوگیا تو فن کاروں نے اپنے آس پاس کے ماحول کا بغور جائزہ لیا ۔ یہاں بے شمار سیاسی ، سماجی اور معاشی مسائل بکھرے پڑے تھے ۔ دوسری طرف ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ جدیدیت والوں نے ادب کو ابہام ، تجریدیت اور علامتوں سے کافی مشکل ترین بنا دیا تھا ، بیانیہ اختتام ہوچکا تھا۔ عوام ادب سے کافی دور ہوچکی تھی ۔ لہذا یہ دور فن کاروں کے لیے ایک امتحان کی حیثیت رکھتا تھا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھا ۔ 1990ء تک آتے آتے بیانیہ کی واپسی ہوچکی تھی اور عوام پھر سے ادب کی طرف راغب ہوچکی تھی ۔ہمارے ادبا نے عوام کے مسائل اور ان کی صداؤں کو اپنے فن پاروں میں جگہ دی ۔

                   نگار عظیم عہد حاضر کی خواتین افسانہ نگاروں میں ایک اہم نا م ہے۔ ان کا اصل نام ملکہ مہر نگار ہے اور قلمی نام نگار عظیم ۔ نگار عظیم کی ادبی زندگی کا آغاز 1974ء سے ہوتا ہے ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’عکس‘‘ کے نام سے 1990ء میں شائع ہوا جس میں بیس افسانے شامل ہیں۔ ان کی کہانیاں مرد، بدلے کا سہاگ ، فرق، رونی، سیلاب، زخم ، فریڈم فائٹر،زرد پتے ، بھوک ، دوسرا قتل ، محافظ وغیرہ اہم ہیں۔ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ’’گہن ‘‘ہے جو 1999ء میں شائع ہوا ۔ اس افسانوی مجموعہ میں ’’فرض، سنگین ، حرم ، زندگی زندگی ،گہن ، زاہدہ مقدس ، عکس نگینے وغیرہ کہانیاں شامل ہیں ۔

         نگار عظیم کے افسانوی موضوعات سماجی اور گھریلو زیادہ ہو تے ہیں ان کی چند کہانیاں سیاسی نوعیت کی ہیں ورنہ زیا دہ تر کہانیاں گھریلو سطح کی ہیں۔تانیثیت کا جذبہ بھی وہ خوب رکھتی ہیں۔ انہوں نے عورتوں کے مسائل کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے ۔

          نگار عظیم کے افسانوں کے موضوعات نفسیات اور سماج پر مبنی ہو تے ہیں ۔ وہ اپنے بیشتر افسانوں میں نچلے متوسط طبقے کے مسلم سماج کی عکاسی کر تی ہیں۔ وہ ترقی پسند تحریک سے زیا دہ متاثر نظر آتی ہیں ۔ نگار عظیم کی کہانیوں میں شہروں کے متعلق مسائل زیا دہ ہیں اور دیہات و قصبات کی کہانیاں نسبتاً کم ہیں۔ رشتوں کی کہانیوں میں زیا دہ تر بھائی بہن ماں باپ ، بیٹا میاں بیوی وغیرہ عام ہیں۔ عورتوں اور مردوں کے لیے ان کا رویہ زیادہ تر نرم و سادہ ہوتا ہے ۔ لیکن اس سادگی میں اثر انگیزی ہوتی ہے ۔ زیا دہ تر کر دار جدوجہد کرتے ہیں ایک دوسرے سے ہمدردی رکھتے ہیں ۔ کوئی انقلابی کردار وہ اپنی کہانیوں میں پیدا نہیں کر پاتی ہیں بلکہ ان کے کردار سماج کے بنے بنائے اور ڈھلے ڈھلائے اصولوں پر چلتے رہتے ہیں۔ پر وفیسر قمر رئیس ان کے افسانوں کے حوالے سے لکھتے ہیں:

         ’’ نگار عظیم جب کہانیاں لکھتی ہیں تو انسانی سماج اور انسانی سیرت دونوں کے ناسور اور نہا خانے ان کے تخلیل میں روشن ہوتے ہیں ۔ متوسط طبقہ کی شائستہ ، معنی خیز لیکن نثار آلو دہ زندگی ان کا خاص موضوع ہے ۔وہ عصمت چغتائی کی طرح اپنے ماحول اور زندگی کی سچائیوں کو اس طرح ڈوب کر تیکھے شفاف اور بے باکی لہجہ میں بیان کر تی ہیں کہ بعض لوگ سوچتے ہیں وہ کہانی نہیں لکھتیں خود کہانی انہیں لکھتی ہے‘‘۔ ۲؎

         ( اردو افسانے کا تنقیدی جائزہ ‘‘۱۹۸۰ء کے بعد،احمد صغیر ،ص۲۶۳،ع۲۰۰۹)

         فریدہ زین کا نام حیدرآباد کی خواتین افسانہ نگاروں میں اہم ہے ۔ فریدہ زین کو کہانیاں لکھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ جب وہ آٹھویں جماعت کی طالبہ تھیں اس وقت کہانیاں لکھنا شروع کی تھیں۔ ان کا پہلا افسانہ ’’ شمع ہر رنگ میں جلتی ہے ‘‘ کے عنوان سے 1970ء میں ر سالہ’’ بیسویں صدی‘‘ میں شائع ہو ا۔ اس کے بعد ان کے افسانے بر صغیر کے رسالوں میں چھپنے شر وع ہوگئے۔

         فریدہ زین کے اب تک چھ افسانوی مجموعے چھپ چکے ہیں ۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ سسکتی چاندنی ‘‘ کے نام سے چھپا ۔ دوسرا ’’ دل سے دار تک ‘‘ تیسرا ’ ’ اے گردشِ دوراں‘‘چوتھا ’’دھر تی کا دکھ ‘‘ پانچواں ’’ایک حرف تمنا ‘‘ وغیرہ شائع ہوئے۔ان کا سب سے پہلا فسانوی مجموعہ ’’ سسکتی چاندنی ‘‘ 1979ء میں منظر عام پر آیا ۔ اس کا پیش لفظ جیلانی بانو نے لکھا تھا۔

         فریدہ زین کے افسانوں کے مطالعے سے ان کی خداداد صلاحیتوں کاندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے افسانوی سفر کا آغاز رومان اور شاعرانہ انداز سے ہوتا ہے ۔ا نہوں نے دلکش اسلوب اور رومان کے سنگم سے کافی لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ ان کے افسانوں میں سماج کے ساتھ ساتھ فرد کی کشمکش کی بھی بہترین عکاسی ملتی ہے۔ اپنے اطراف کے ماحول اور ذاتی تجربات و مشاہدات کو اپنے افسانوں میں سمونے کی وہ ہمیشہ سے ہی کوشش کرتی آئی ہے۔

         فریدہ زین کے افسانوں کے کردار ایثار، قربانی کے جذبۂ پاکیزگی اور سمجھوتے و مفاہمت کو اجاگر کر تے ہیں۔ انہوں نے عورتوں کے مسائل پر بھی خاص توجہ دی ہے۔ ان کا ایک افسانہ ’’اے گردشِ دوراں‘‘ اس کا ثبوت ہے۔ اس افسانے میں ایک غریب اور معصوم سات سالہ لڑکی گلابی کا اہم کر دار ہے جو ہمارے سماج کی عورتوں کی علامت ہے ۔ گلابی کی پیدائش کے دوسرے سال ہی اس کا باپ گلابی اور اس کی ماں کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اس کی ماں کے ساتھ ساتھ تمام لوگ گلابی سے نفرت کر تے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ گلابی منحوس ہے ۔ چوں کہ اس کی پیدائش پر اس کا باپ اس کی ماں کا ساتھ چھوڑ گیا ۔ مگر گلابی سب جان کر بھی برداشت کر تی رہی۔ یہاں تک کہ جب ماں بیمار ہو گئی۔ تو ماں کو بچانے کے لیے چوریاں بھی شروع کردی۔ مگر اس کی محبت کو کوئی بھی نہ سمجھ پایا۔ فریدہ زین کی کہانیاں عام طور پر بیانیہ ہوتی ہیں۔ ان کو زبان و بیان پر قدرت حاصل ہے ۔ ان کے افسانوں میں منظر کشی کا مشاہدہ بہت وسیع ہوتا ہے۔

         ترنم ریاض کا تعلق ریاست جموں کشمیرسے ہے۔ 1980ء کے بعد خواتین افسانہ نگاروں میں ان کا نام سر فہرست ہے۔ وہ ایک فکشن نگار ہو نے کے ساتھ ساتھ ایک عمدہ شاعرہ بھی ہیں۔ ترنم ریاض نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1975ء میں کیا ان کا ایک افسانہ اور ایک نظم بیک وقت روزنامہ ’’آفتاب‘‘ سری نگر میں شائع ہوئے ۔ ان کے افسانوی مجموعے ’’ یہ تنگ زمین‘‘،’’ ابابیلیں لوٹ آئیں گی ‘‘  ’’ میں یمبرزل‘‘ اور ’’میرا رخت سفر‘‘   شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دو ناول ’’مورتی‘‘ اور’’ برف آشنا پرندے ‘‘ بھی منظر عام پر آچکے ہیں اور ’’ پرانی کتابوں کی خوشبو‘ ‘ کے نام سے ایک شعری مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔

         اردو ادب سے جڑی تمام خواتین نے زیا دہ تر اپنے موضوعات کو پھیلا یا نہیں۔ وہ ہمیشہ عورتوں کے مسائل ، تانثیت اور عشق و محبت جیسے موضوعات سے جڑی رہی ہیں ۔ اردو افسانہ نگار وں میں قرۃ العین حیدر ، عصمت چغتائی وغیرہ جیسی خواتین نے اپنے آپ کو محض ان ہی موضوعات تک محدود نہیں رکھابلکہ عالمی مسائل تک رسائی حاصل کر نے کی کوشش کی ہے۔ ترنم ریاض کا تعلق بھی ان ہی افسانہ نگاروں سے ہے جنہوں نے روایت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے عالمی مسائل کو بھی اپنے فن پاروں میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔

         1980ء کے بعد جن خواتین افسانہ نگاروں نے قارئین کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں ترنم ریاض  سر فہرست ہیں ان کے افسانے نہ صرف موضوعات بلکہ فن کی کسوٹی پر بھی پرکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے افسانے ’’ایجاد کی ماں ‘‘،’’ میرا پیا گھر آیا ‘‘ اور ’’آدھے چاند کا عکس ‘‘ کسی بھی عالمی زبان کے عمدہ افسانوں کے مقابلے میں رکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کشمیری سماج کی عکاسی بھی بڑی فنکاری سے کی ہے۔ پروفیسر عتیق اللہ ترنم ریاض کے بارے میں لکھتے ہیں :

         ترنم ریاض کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی کسک ہے جس سے ایک ٹھیس کی طرح ان کے افسانوں کے بطن میں محسوس کیا جا سکتا ہے ‘‘۔

                           (ڈاکٹر غضنفر اقبال ، اردو افسانہ ۱۹۸۰کے بعد ، ص ۲۶۲)

         ترنم ریاض کے افسانوں میں تصوف کی ایک سر مستی جھلکتی ہے ۔ وہ اسی طرح اپنے جذبات کا اظہار کر تی ہیں۔ ترنم ریاض اپنے افسانوں میں کوئی فلسفہ کی بات یا ادراک والی بات یا پھر بصیرت افروز بات کر نے کی قائل نظر نہیں آتی ہیں۔ ترنم ریاض کے افسانوں میں گھر یلو زندگی میاں بیوی کے رشتے بھائی بہنوں کا رشتہ ، ماں بننے کا رشتہ اور انہیں رشتوں کے حوالے سے لکھی گئی کہانیاں ملتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں پڑی لکھی سلیقہ مند عورتیں ملتی ہیں جو فطرت اور قدرت سے محبت کر نے والی ہیں، شوہر بچوں سے محبت کر نے والی ہیں۔ صبر ایثار وقربانی والی عورتوں کے کردار کو ترنم ریاض اپنے افسانوں میں پیش کر تی ہیں۔ اگر کہیں ماں کی ممتا سے بھری ہوئی کہانیاں لکھتی ہیں تو بالکل جذباتی ڈھنگ سے افسانے کو پڑھ کر قاری کی آنکھوں سے آنسو آجا تے ہیں ۔ترنم ریاض اپنی کہانیوں میں سماجی اور سیا سی مسائل کو پیش کر تی ہیں اور کشمیر سے متعلق کہانیاں و ہاں کے مسائل ، حالات، منظر نگاری وغیرہ کو بیان کیا ہے۔

         موجودہ دور کی خواتین افسانہ نگاروں میں ذکیہ مشہدی کا نام سب سے نمایاں ہے۔ ذکیہ مشہدی نے 1980ء کے بعد افسانے لکھنا شروع کیے اور جلد اس صنف پر قابض ہوگئی۔ ناقدین نے بھی ان کو سراہا ہے۔ذکیہ مشہدی ایک ذمہ دارشہری ہیں اور انھوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ حقیقت پسندی کے انتخاب تک لکھا ہے انھوں نے عورت کو انسان ہونے کا احساس دلالیا ہے۔ ان کے افسانوں کے اکثر موضوعات کافی دلچسپ ہوتے ہیں اور وہ اپنے افسانوں کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں جن کو اپنا نا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ وہ اسی طرح کے اچھوتے موضوعات اپنے سماج اور آس پاس سے لاتی ہیں۔ ایسے موضوعات ہمارے اردگرد ہمیشہ رہتے ہیں ۔

         ان کی افسانہ نگار ی کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اگرچہ ان کا تعلق جدید دور سے تھا مگر انھوں نے روایت اور جدیدت دونوں کو ملاکر اپنے افسانے پیش کیے ہیں۔ انھوں نے نہ صرف موضوعات بلکہ ہیئت اور اسلوب کے کامیاب تجربے بھی کیے۔ انھوں نے افسانے کا آغاز تب کیاجب افسانے سے کہانی پن کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ ذکیہ مشہدی کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے نئے تجربے بھی کیے۔ اور کہانی پن کو بچائے رکھا۔اب تک ذکہ مشہدی کے چار افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔ ’’پرائے چہرے‘‘جولائی 1984ء ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے۔ دوسرا ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘ تیسرا ’’صدائے بازگشت‘‘ 2003 ء اورچوتھا مجموعہ ’’نقش ناتمام‘‘2018ء میں شائع ہوا۔

         ذکیہ مشہدی نے ان تمام افسانوی مجموعے میں ایک عورت کے جذبات و احساسات ان کی ذہنی کشمکش وغیرہ کے بارے میں کھل کر اظہار کیا ہے۔ ان کے تمام افسانوں کے عناوین بھی بڑے ہی دلچسپ ہوتے ہیں۔ پہلی نظر میں قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرلیتے ہیں۔ ذکیہ مشہدی کے افسانوں کے مطالعہ کے بعد یہ محسوس ہوتاہے کہ ان کے ہم عصر افسانہ نگاروں کے مقابلے ان کے یہاں منظر نگاری زیادہ نمایاں اور پُر اثر ہے۔ ذکیہ مشہدی کا ایک افسانہ ’’تھکے ہوئے پاؤں‘‘ کافی مشہور ہوا تھا۔

         غزال ضیغم کا ادبی سفر بچپن میں ہی شروع ہو چکا تھا وہ بچپن سے ہی شاعری کی طرف راغب ہوئی تھیں۔ انہوں نے نثری ادب کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی ہے مگر بنیادی طور پر وہ ایک افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے اپنی پہلی کہانی ’’تیمو ر لنگ‘‘ کے نام سے لکھی جو بعد میں اسکو ل کی میگزین میں شائع ہوئی۔ اس وقت وہ آٹھویں جماعت کی طالب علم تھیں۔

         ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ایک ٹکڑا دھوپ کا ‘‘ جو 2000ء میں منظر عام پر آیا جس میں کل تیرا افسانے ہیں ۔غزال ضیغم کا سب سے پہلا افسانہ ’’بھولے بسرے لوگ ‘‘ ہے اس افسانے میں غزال ضیغم نے سلطان پور کے گاؤں کا منظر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کی پیش کش جادوئی اور طلسمی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فلم کی شوٹنگ ہورہی ہو ۔ اس افسانے کا مرکزی کردار حسن ہے۔ جس کو ہجرت کا غم ہے۔ حسن کو پھوپھی گود لے کر پاکستان چلی جا تی ہے۔ وہ اپنی محبت اور لگن سے کروڑ پتی تو بن جاتاہے مگر وہ اپنے وطن ہندوستان اور اپنے گائوں ،ماں اور بھائی بہنوں کو بھول نہیں پاتا حسن کو گھر اور ماں کی بہت یاد آتی ہے۔ غزال ضیغم کے افسانوں میں سماجی کہانیاں زیا دہ ہیں ۔ زیادہ تر رشتوں کی کہانیاں ہیں جس میں میاں بیوی، بھائی بہن ، دوست اور ہندو مسلم یکجہتی نظر آتی ہیں۔

         اردو کی خواتین افسانہ نگاروں میں ایک نام قمر جہاں کا بھی ہے ۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز 1964ء میں کیا ۔ ان کا پہلا افسانہ ’’جنونِ وفا‘‘ کے نام سے ماہنامہ’’صبح نو ‘‘ (پٹنہ ) میں شائع ہو ا۔ ان کا افسانوی مجموعہ ’’چارہ گر‘‘ کے نام سے 1983ء میں منظر عام پر آیا ۔ جس میں کل 15کہانیوں ہیں ۔

         قمر جہاں کا افسانہ ’’انتظار ‘‘ میں سیا سی کشمکش کو دکھایا گیا ہے ۔ اس میں اذیت ناک کرب کو پیش کیا گیا ہے ۔ا ور ساتھ ہی ساتھ ہندستان و پاکستان کے مابین چل رہے جھگڑوں کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ قمر جہاں کو کہانی بیان کر نے کا ڈھنگ بھی خوب آتا ہے۔ موضوعات کا تنوع بھی ان کے افسانوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

         قمر جہاں کے افسانے زندگی سے بہت قریب ہیں یہ انسانی زندگی کے اتار چڑھاؤ، سکھ دکھ ، محرومیوں خواہشوں اور بنتے بگڑتے انسانی رشتوں سے استوار ہیں۔ قمر جہاں زندگی کی حقیقتوں کو فطری انداز میں پیش کر تی ہیں۔ وہ علمی زندگی سے اپنے افسانوں کا موضوع اٹھاتی ہے ۔ اپنے مشاہدہ اور تخیل سے زندگی کی تصویر اس طرح کھینچی ہیں کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا ۔ ان کے کچھ افسانے علامتی بھی ہیں لیکن یہ قارئین کی د سترس سے باہر نہیں ہیں انہیں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عام طور پر اپنے افسانوں میں حقیقی زندگی کے بعض اہم مسائل کو پیش کیا ہے جیسے کہ گھر آنگن میں در آئے چھوٹے چھوٹے مسائل وغیرہ ۔

         قمر جہاں کے افسانوں میں زبان و بیان سادہ اور سلیس ہے ۔ وہ فن کاری کے ساتھ کہانیوں کو آگے بڑھا تی ہیں ان کی بیشتر کہانیوں میں کہانی کا تصور شروع سے آخر تک قائم رہتا ہے ۔ اظہار بیان اور جملوں کی ساخت و ترتیب میں ان کا انفرادی انداز جھلکتا ہے اور انداز قاری کو کھینچ لاتا ہے ۔

         ڈاکٹر رینو بہل نے ۱۹۹۴ء سے باقاعدہ طور پر افسانے لکھنے شروع کیے ۔ اور اب تک ’’ آئینہ ‘‘ 2001ء ، ’’ آنکھوں سے دل تک ‘‘ ( 2005ء) ، ’’ کوئی چارہ ساز ہوتا ‘‘ (2008ء) ، ’’ خوشبو میرے آنگن کی ‘‘ (2010 ء ) ، ’’ بدلی میں چھپا چاند ‘‘ (2012ء) ، ’’ خاموش صدائیں ‘‘ (2013ء) اور ’’ دستک ‘‘ ( 2016ء) کے عناوین سے کل سات افسانوی مجموعے منظرعام پر آئے ہیں ۔

         رینو بہل کے افسانے روایت کی پاسداری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ وہ سماج اور حقائق کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ۔ ان کے یہاں ہمیں سماجی مسائل اور خواتین مسائل کا رحجان غالب نظر آتا ہے ۔ ان کے اکثر کردار ہمیں مظلومیت کا شکار اور سماج کی رسموں میں دبے نظر آتے ہیں ۔ مظلومیت ، لاچاری ، غربت ، تصادم وغیرہ ان کے بنیادی موضوعات ہیں ۔ ان کے اکثر کردار نئی دنیا ، نئے کلچر اورنئے دور کواپنانے میں کئی دشواریوں کا سامنا کرتے ہیں ۔ فنی اعتبار سے ان کے افسانے مکمل ہیں ۔ ’’سانجھ ڈھلے ‘‘ ، ’’ خوشبو میرے آنگن میں ‘‘ ، ’’ دھند ‘‘ اور ’’ قیدی نمبر ۲۳۴‘‘ ان کے مشہور افسانے ہیں ۔

1980ء سے لے کر 2020ء تک مذکورہ بالا خواتین افسانہ نگار اردو افسانے کے میدان میں ڈٹی رہیں۔ یہ چالیس سال کا عہد کئی قسم کے اتار چڑھاؤ سے گذرا ہے ۔

***

Leave a Reply