You are currently viewing دسمبر آبھی جائے تو

دسمبر آبھی جائے تو

شوکت محمود شوکت

دسمبر آبھی جائے تو

دسمبر آبھی جائے تو

ترے آنے کا امکاں اب نہیں رہتا

دل ناداں ، سدا خاموش رہتا ہے

کسی سے کچھ نہیں کہتا

زمانہ ایک سا ہر گز نہیں رہتا

تری یادیں تری باتیں

بھلا بیٹھا ہے ناداں دل

تری الفت ، تری چاہت

گنوا بیٹھا ہے ناداں دل

دسمبر آبھی جائے تو

خوشی اب کے نہیں ہوتی

لبوں پر مسکراہٹ بھی

ذراسی اب نہیں ہوتی

ہے عالم بے قراری کا

ہے موسم آہ وزاری کا

اداسی ہی اداسی ہے

خزاں کا راج ہے ہر سو

جو مجنوں کا فسانہ تھا

و ہی اپنی کہانی ہے

دسمبر آبھی جائے تو

نہ لوٹے اب جوانی  ہے

۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply