
محمد نورعین خان
ریسرچ اسکالر : مانو سری نگر کیمپس
اردو افسانے پر ایمرجنسی کے اثرات
26جون 1975 کو وزیراعظم اندرا گاندھی کی قیادت والی حکومت کی سفارش پر اس وقت کے صدر جمہوریہ فخر الدین علی احمد نے ہندوستانی آئین کی دفعہ 352 کے تحت ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا۔ جب ایمرجنسی نافذ کی گئی تو ہندوستانی عوام پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑی ،ایمرجنسی کے دوران حکومت کی مخالفت کرنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ،میڈیا پر سینسرشپ نافذ کی گئی۔ جس میں حکومت کے خلاف خبریں شائع کرنا جرم قرار دیا گیا، رد عمل کے طور پر متعدد صحافیوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ گھر سے باہر نکلنے والوں کو خود اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ صحیح سلامت واپس آپائیں گے یا نہیں۔ ایمرجنسی میں عوام نے پہلی بار تانا شاہی کے خدوخال دیکھے، اور جمہوریت کو دم توڑتے دیکھا۔ ایسے حالات میں جنہوں نے حکومت کی آنکھوں سے آنکھیں ملائیں ان کے شب و روز زندان کی نظر ہو گئے۔ مگر اس کے باوجود ادباء نے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے احتجاجی ادب تخلیق کیا اور خصوصی طور سے اردو افسانہ اس سے بے حد متاثر رہا۔
جس دور میں ایمرجنسی نافذ کی گئی وہ دور دور جدیدیت تھا۔ اس درمیان افسانے علامتی اور تجریدی انداز میں لکھے گئے۔ جدیدیت کے زیر اثر بے شمار کہانیاں وجود میں آئیں افسانہ نگاروں نے مبہم اشاروں میں ایمرجنسی کے خلاف کہانیاں لکھیں۔ کیونکہ وہ دور ایسا تھا کہ کھل کر اس سیاسی سانحے کے خلاف لکھنا اپنی جان کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ اسی لیے انہوں نے منظم طور پر علامتی انداز میں ایمرجنسی کے خلاف اپنے احتجاج کو درج کرایا۔ محمد حسن اس کے متعلق رقم طراز ہیں:
’’ایمرجنسی سے نئے اردو افسانے کا جنم ہوا جب زبان اور قلم پر پہرے لگے اور اعلان ہونے لگا کہ احساس کو حکومت وقت کے فرمان کے مطابق چلنا چاہیے اور اظہار سینسر کے اشارے کے مطابق ہونا چاہیے تو اچانک ادیب کو نئے اور تیکھے احساس نے آگھیرا یعنی اس پر فرض ہے کہ جو کچھ وہ محسوس کر رہا ہے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اس کو بیان کرے۔ چونکہ اظہار پر پابندی تھی اس لیے احساس کی اس گہری چوٹ کو بیان کرنے کے لیے اسے غیر روایتی طریقے اختیار کرنے پڑے اور اس طرح سماجی تشویش سے بھرپور علامتی افسانہ وجود میں آیا‘‘ ۱؎
ایمرجنسی کے دوران یا اس کے بعد لکھے گئے اردو افسانوں میں بیشتر ایسے افسانے ہیں جن میں ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔اقبال مجید کا افسانہ پوشاک ایک شاندار تمثیلی کہانی ہے یہ ہنس اینڈرسن کی مشہور کہانی the emperor’s new cloth کو ایک الگ ہی تناظر میں پیش کرتی ہے اینڈرسن کا بادشاہ ایک بچے کو صرف اس بنیاد پر گلا گھونٹ کر مار دیتا ہے کہ اس نے بادشاہ کو ننگا کہا تھا۔ حالانکہ بادشاہ حقیقت میں برہنہ تھا لیکن کسی میں ہمت نہ تھی کہ اس کو برہنہ کہہ سکے افسانہ میں پوشاک یہ ایمرجنسی سے علامت ہے۔
ایمرجنسی کے دوران جس نے حکومت کی غلط فیصلے کی مذمت کی یا اس کی مخالفت کی تو اس کی آواز کو سختی کے ساتھ دبایا گیا۔ اسی طرح ان کی کہانی’’ مدافعت‘‘ بھی ایمرجنسی سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے اس کہانی میں ایمرجنسی کا استعارہ دھوئیں سے کیا گیا ہے۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ دھوئیں کی گھٹن سے پریشان ہیں وہ اس سے بچنا چاہتے ہیں اور اس سے بچنے کی ترکیب ڈھونڈتے ہیں تو انہیں منع کر دیا جاتا ہے کہ خاموش اسی میں پڑے رہو، کیونکہ اسی میں بھلائی ہے۔’’جہاں سے بھی ہو مجھے تازہ ہوا چاہیے میں اس دھوئیں میں نہیں رہ سکتا ۔وہ تو تمہیں رہنا پڑے گا اسے ٹوکا گیا۔ لیکن کیوں رہنا پڑے گا؟ اسے جواب میں ملا اپنی مدافعت کے لیے۔‘‘۲؎
اسی طرح ایمرجنسی کے دوران پابندی تحریر و تقریر سے عوام کا دم گھونٹ گیا سریندر پرکاش کا افسانہ’’ باز گوئی‘‘ ایک تاریخی اور سیاسی افسانہ ہے ۔ کہانی میں ایمرجنسی کا تذکرہ کھل کر کیا گیا ہے افسانے کا محور مصر کے ایک تاریخی واقع پر مشتمل ہے جو افسانہ نگار کو ایک لائبریری میں رکھا ہوا مل جاتا ہے ۔کہانی میں ملکہ کا عوام کے ساتھ ظالمانہ رویہ دیکھنے کو ملتا ہے اس افسانے کے ذریعے بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم آج بھی اسی فضا میں سانس لے رہے ہیں، بھلے ہی جمہوری نظام آگیا ہے حکومت بدل گئی ہے حکومت کا طریقہ کار بھی مختلف ہو گیا ہو لیکن حکمرانوں کی سوچ نہیں بدلی، وہی ظلم و زیادتی جبر و کرب کا ماحول آج بھی ہے۔ افسانہ ’’بجوکا ‘‘سریندرپرکاش کا ایک علامتی افسانہ ہے جسے تجریدی انداز میں لکھا گیا ہے۔ کہانی کو پڑھ کر قاری کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ افسانہ نگار کہیں نہ کہیں اس جمہوری نظام سے رنجیدہ ہے۔ افسانے میں کردار نگاری کا ایک عمدہ نمونہ پیش کیا گیا ہے کہانی میں ہوری یہ علامت ہے عوام سے اور بجوکا حکومت سے ُ بجوکا کے ذریعے کاٹا گیا فصل کا حصہ ٹیکس سے علامت ہے۔جب جمہوری نظام آیا تو ہوری نے اس کا دل سے استقبال کیا’’ہوری نے انگوچھا کندھے پر رکھتے ہوئے سوچا کتنا اچھا سمے آپہونچا ہے نہ اہلمند کی دھونس نہ بنیے کا کھٹکا نہ انگریز کی زبردستی اور نہ زمیندار کا حصہ اس کی نظروں کے سامنے ہرے ہرے خوشی جھوم اٹھے‘‘۳؎
جب ہندوستان کو آزادی ملی تو ہر شخص آزادی کا مطلب اپنے اعتبار سے نکال رہا تھا کہ حکومت ہماری ہوگی ہم ہی اسے چلائیں گے جب حکومت کی طرف سے مختلف طرح کی ٹیکس لگے تو انہیں احساس ہوا کہ کہیں نہ کہیں ان کا اسی طرح استحصال کیا جا رہا ہے جس طرح انگریزوں کے دور میں ہوا کرتا تھا ۔ اور موجودہ دور کا جمہوری نظام محض انہیں دھوکہ لگا۔
اگر ہم افسانے کے آخری حصے پر نظر ڈالیں تو پتہ لگتا ہے کہ ہوری جو کہ عوام کی علامت کے طور پر پیش ہوا ہے وہ بجوکا کے فصل کاٹنے یعنی جمہوری نظام میں مختلف طرح کے ٹیکس لگانے سے بے حد ناراض ہے’’میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں اپنی فصل کی حفاظت کے لیے پھر کبھی بھی بجوکا نہ بنانا اگلے برس جب ہلچلیں گے بیچ بویا جائے گا اور بارش کا امرت کھیت سے کون نپلوں کو جنم دے گا تو مجھے ایک بانس میں باندھ کر کھیت میں کھڑا کر دینا بجوکا کی جگہ پر‘‘۴؎
پریم چند کا ہوری آخر میں مر جاتا ہے لیکن سریندر پرکاش کا ہوری مر کر بھی بجوکا بن جاتا ہے سرندر پرکاش کے افسانوں سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ افسانہ نگار کہیں نہ کہیں حکومت کی رویے سے پریشان ہے۔ طارق چھتاری سریندر پرکاش کے افسانے بجوکا بازگوئی بال خورہ پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں: یہ کہانی (بجوکا)ایمرجنسی کے دور اقتدار اور اس کی تشکیل کی طرف قاری کی توجہ مبذول کراتی ہے۔ یوں بھی سریندر پرکاش کی کئی کہانیوں میں ایمرجنسی کا ذکر اس سے غیر اطمینانی کی جھلک نمایاں ہے ‘‘۵؎۔اس کے علاوہ ان کے دیگر افسانوں جس سے سرکس، بنواس، ایلوپیشیا میں احتجاج و مزاحمت کی فضا کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے ۔
اردو افسانوں میں احتجاج و مزاحمت کو موضوع بنانے والے افسانہ نگاروں میں سلام بن رزاق کا نام اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا افسانہ’’ روشنی کا سراب‘‘ ایک شاندار احتجاجی اور علامتی افسانہ ہے جو اظہار کے اولین شمارے میں شائع ہوا تھا۔ سات سطروں پر مشتمل یہ مختصر ساافسانہ سلام بن رزاق کی فنکاری کا بلو پرنٹ ہے۔ کہانی اس طرح ہے کہ شہر کی بجلی فیل ہو جانے کے سبب چاروں طرف اندھیرا چھا جاتا ہے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھوڑی دیر بعد لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ اندھیرا کم ہو رہا ہے کیونکہ انہیں کچھ کچھ دکھائی دینے لگا۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اندھیرا کم نہیں ہو رہا تھا بلکہ ان کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہو گئیں تھیں۔ انہوں
نے اپنے اس افسانے کے ذریعے بتایا ہے کہ یہی اندھیرا کسی انسان کی زندگی پر تقدیر بن کر ایمرجنسی کی صورت میں مسلط ہوتا ہے۔
’’صرف ایک شب کا فاصلہ‘‘ پروفیسر ابن کنول کا ایک تاریخی اور سیاسی افسانہ ہے جو ان کے افسانوی مجموعے ’’بند راستے ‘‘میں شامل ہے ابن کنول نے اپنے افسانے میں کئی سو سال کی تاریخ اور اس دور کی سیاسی صورتحال کو نہایت ہی عمدگی کے ساتھ بیان کر فنکاری کا اعلی نمونہ پیش کیا ہے۔ افسانے کی ابتدا اصحاب کہف کے واقعے سے شروع کر کے دور حاضر کی سیاست کے ساتھ جوڑ کر سیاست کی حقیقی روح کو پیش کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ایمرجنسی کے دوران پیدا شدہ حالات اور ہندوستانی سیاست کو ایک الگ اور عمدہ رنگ میں بیان کیا ہے۔ افسانہ’’ اصحاب کہف ‘‘کے قصے کی طرح شروع ہوتا ہے چار آدمی ایک غار میں سوئے جب یہ لوگ جاگتے ہیں اور بھوک کا احساس ہوتا ہے تو گائوں کی طرف جاتے ہیں۔
انہوں نے دیکھا کہ حالات بالکل بدل چکے ہیں معلوم کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہاں جمہوری نظام آچکا ہے عوام جسے چاہتی ہے بادشاہ بنا دیتی ہے اور چنا ہوا بادشاہ صرف پانچ سال تک ہی اقتدار میں رہتا ہے۔ اور اس کے بعد پھر عوام کی رائے مانگی جاتی ہے۔ یہ سب باتیں وہ سن کر خوش ہو جاتے ہیں کہ یہ تو اچھا ہے وہ لوگ بھی یہی چاہتے تھے ایسا ہی جمہوری نظام آئے۔اتنے میں یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص موجودہ بادشاہ کے خلاف احتجاج کر رہا ہے وہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ لوگوں کے بتانے پرمعلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ وقت ٹھیک سے کام نہیں کر رہا جو وعدے اس نے عوام سے اقتدار میں آنے سے پہلے کیے تھے ان کو پورا نہیں کیا۔ وہ لوگ یہ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب تو بادشاہ وقت کے خلاف احتجاج کرنا کوئی گناہ نہیں ان کے زمانے میں ایسا نہیں تھا بادشاہ وقت کے خلاف بولنا اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ اسی اثنا میں وہ دیکھتے ہیں کہ احتجاج کر رہے لوگوں پر فوجی کاروائی ہوتی ہے اور کئی لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں پھر وہ لوگ اپنی روداد بیان کرتے ہیں کہ ان کے دور میں بھی ایک ملکہ تھی جو لوگوں پر ظلم و زیادتی کیا کرتی تھی ان کے ظلم سے بچنے کے لیے وہ ایک غار میں پناہ لینے کے لیے چلے گئے اور جب صبح اٹھے تو انہیں لگا کہ ہم توصرف ایک رات سوئے ،ہاتھ میں موجود سکوں اور موجودہ زمانے میں300 سال کا عرصہ ہے یعنی وہ لوگ ایک رات نہیں بلکہ300 سال تک اس غار میں سوتے رہے۔افسانے میں داستانوی رنگ کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ افسانہ نگار کو فن داستان پر اچھی گرفت حاصل ہے افسانے کا پلاٹ کئی سو سال پر محیط ہے اصحاب کہف سے لے کر معرکہ قحط اور اس کے بعد ایمرجنسی کو ایک
نئے انداز میں پیش کیا ہے۔
احسان قاسمی کا افسانہ ’’پہلا پتھر‘‘ ایمرجنسی کی یاد دلاتا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار سپاہی رام دین ہے اس کی وجیہ اور ممتنوع شخصیت سے افسانہ نگار بے حد متاثر ہے عمر کی تفاوت کے باوجود وہ اسے اپنا دوست سمجھتا ہے، ایک ایسا دوست جو اس کے کچے ذہن کا آئیڈیل بھی ہے مگر ایک عرصہ گزر جانے کے بعد سپاہی رام دین کی رنگا رنگ شخصیت حالات کی چکی میں پس جاتی ہے پسپائی کا یہ منظر دیکھ کر افسانہ نگار کے دل پر قابض رام دین کی شخصیت زبردست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے ملک کے حالات بدلتے ہیں اور سیاسی نظام کے جبر کے خلاف طالب علم احتجاجی کاروائی میں ملوث نظر آتے ہیں ایسے حالات میں نادانستہ طور پر سپاہی رام دین ان کے ہاتھوں پھینکے گئے پتھر سے شدید زخمی ہو کر دم توڑ دیتا ہے۔اس کے علاوہ احمد یوسف کی کہانی جو ہسپتال کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور اس کے چاروں طرف بکھری کڑوی سچائیوں اور ظلم و زیادتی کو سمیٹتی ہیں۔ انیس رفیع کی کہانی جس نے علامتی پیرائے کو معاشرے میں رہنے بسنے والوں کی بے بسی کو بیان کیا فیروز عابد کی کہانی “پالی تھن کی دیوار” سماج کے غیر حقیقی فضا کی تصویر کھینچتی ہوئی نظر آتی
ہے۔ اگر ہم اردو افسانے کے موضوعات پر نظر ڈالیں تو ایک بڑی تعداد میں افسانہ نگاروں نے ایمرجنسی اور اسکے دور کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایااور بہترین افسانے وجود میں آئے۔
حواشی
۱۔ محمد حسن عصری ادب شمارہ جنوری تا اپریل،1989
۲۔ قصہ رنگ شکستہ،47
۳۔باز گوئی،110
۴۔ایضا،115
۵۔جدید افسانہ اردو ہندی،211
***