سیتا کا بن باس

نجمہ عثمان۔ لندن 

سیتا کا بن باس

 

         ’’ آخری فیصلہ آپ کو ہی کرنا ہے ۔‘‘  شازیہ کہہ رہی تھی ۔’’ میں آپ کو اکیلا چھوڑ کر اتنی دور ہر گز نہیں جائوں گی ۔‘‘

         رابعہ جو اس کی بات سن کر کھو سی گئی تھی گھبرا کر بولی ۔

         ’’اکیلا کہاں ؟  تمہارے ڈیڈ بھی توہیں ۔‘‘

         ’’ اوہ !  مما یونو واٹ آئی مین وہ ٹھیک ہوتے تو ۔۔۔‘‘

         وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر رابعہ کی طرف دیکھنے لگی ۔

         ’’میں سمجھتی ہوں تم کیا کہنا چاہتی ہو لیکن اب تم اپنے مستقبل کے بارے میں سوچو ہماری فکر چھوڑو۔۔۔ اور سلمان کیا کہتا ہے ؟‘‘

         ’’ انہوں نے فیصلہ مجھ پر چھوڑ دیا ہے ۔وہ بھی آپ دونوں کے لئے پریشان  ہیں ۔‘‘

         رابعہ غور سے بیٹی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔کتنی سمجھدار ہو گئی ہے اور تئیس برس کی عمر میں کتنی ذمہ داری کا احساس ہے اسے ۔۔۔

         ’’بولیں نا مما۔۔۔‘‘ شازیہ نے لاڈ سے اس کا کندھا ہلایا ۔

         ’’ بس اب تم جائو رات کے دس بج رہے ہیں سلمان بھی انتظار کر رہا ہوگامجھے سوچنے کا موقع دو۔ویک اینڈ تک آنا سلمان کو لے کر ۔پھر اطمینان سے باتیں کریں گے ۔‘‘  وہ کہتے کہتے کھڑی ہو گئی ۔’’ اور ہاں گھر پہنچ کر مجھے فون کر دینا۔‘‘

         شازیہ کے کار اسٹارٹ کرنے تک وہ اپنی دوسری منزل کے فلیٹ کی کھڑکی سے اسے دیکھتی رہی ۔اب دس بجے رات کو یہ کار دوڑاتی برکسٹن (Brixton)سے ویمبلے (Wembley)تک جائے گی اور میرا دل اسی میں پڑا رہے گا ۔کتنی نڈر ہے جیسے عموماً یہاں کے پلے بڑھے بچے ہوتے ہیں ۔وہ کھڑکی کے پردے برابر کرکے مڑی ۔ سامنے دیوار کے ساتھ کارنرٹیبل پر شازیہ او ر سلمان کی بڑی سی شادی کی تصویر مسکرا رہی تھی ۔پر اعتماد چہرے ۔۔۔ اندرونی خوشی کے غماز چہرے ۔وہ ٹیلی فون کے پاس والے صوفے پر ڈھیر ہو گئی ۔تو  فیصلے کی کنجی پھر اس کے ہاتھ میں تھما دی گئی تھی ۔

         پہلے فیصلے کی کنجی اٹھائیس برس پہلے اسے سونپی گئی تھی ۔اور وہ ۔۔۔ آنکھو ں میں خواب سجانے والی لڑکی جو ابھی ابھی ایم اے کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی  ۔۔۔ راتوں کو دیر تک پڑھنے کی جگارا بھی آنکھوں میں بھری ہوئی تھی ۔امتحان ہال تک آنے جانے کی تھکن ابھی کہاں اتری تھی ۔لمبی نیندیں لینے اور سارا دن دنیا بھر کے فضول کاموں کا پروگرام ابھی ذہن میں ترتیب بھی نہ دینے پائی تھی کہ لندن سے ڈاکٹر حامد کا رشتہ ہوا کے دوش پر اڑتا چلا آیا۔

         خاندان بھر کی رائے تھی کہ اس سے بہتر جوڑ رابعہ کے لئے نہیں ملے گا۔ایم اے پاس لڑکی کے لئے کم از کم پی ایچ ڈی تو ہو اور وہ بھی لندن میں مقیم ۔شاید اسی رشتے کے توسط سے باقی چھوٹی بہنوں کی قسمت بھی کھل جائے ۔امی ابو راضی نہیں تھے اور سمجھانے والے اپنی سی کوشش کئے جاتے تھے ۔بڑی خالہ جن کی اپنی دو بیٹیاں اچھے رشتوں کے انتظار میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو چلی تھیں امی کو سمجھا رہی تھیں ۔

         ’’اے بہن !  یہ رشتہ ہاتھ سے نکل گیاتو سر پکڑ کر رہ جائو گی ۔ سوچو تو تمہارے لئے آسانی ہی آسانی ہے چار کپڑوں میں لڑکی رخصت ہو کر لندن چلی جائے گی ۔ پاکستان میں شادی اور رخصتی ہوتی تو اخراجات چوگنے ہوتے اور پھر کون سے تمہارے بیٹے ہیں جو ہاتھ بٹاتے ۔بس خدا رکھے میاں کا دم ہے اور کل کس نے دیکھا ہے ۔میری مانو تو بس بسم اﷲ کرو۔‘‘

         ابو کے ماتھے پر سوچ کی لکیریں بڑھتی رہیں ۔۔ان کی لاڈلی رابعہ کتنے ارمانوں سے لکھایا پڑھایا کیا اسی دن کے لئے کہ سب کو چھوڑ کر اتنی دور چلی جائے ۔۔۔ رابعہ سب دیکھتی رہی ۔گھر میں کھچڑی سی پک رہی تھی ۔سرگوشیوں میں باتیں ہوتیں ۔ اسے دیکھ کر سب چپ ہو جاتے ۔ اس کی منہ زور طبیعت سے سب واقف تھے ۔بڑی خالہ شہہ دیتیں ’’اے لڑکی سے پوچھ کر تو دیکھو ۔‘‘  لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ۔

         ادھر رابعہ کے ننھے ، منے دل میں اپنے والدین اور بہنوں کے لئے جو نرم نرم احساس دھڑک رہا تھا اس نے بی مانو کو خود ہی گھنٹی باندھنے کے لئے لا کھڑا کیا ۔ابو کی خاموش نگاہوں کا پیغام وہ پڑھ چکی تھی ۔امی کے چہرے پر التجا کے نظر نہ آنے والے آنسو اس کے وجود کا ایک ایک انگ بھگو رہے تھے ۔ایک ہی آواز تھی ۔راستہ دے دو آگے بڑھ جائو۔۔۔ یہ لو فیصلے کی کنجی اور بہنو ں کے مستقبل پر لگے ہوئے قفل کھول    دو ۔۔۔ خود اس کا اپنا مستقبل کیا تھا اسے سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

         ڈاکٹر حامد لندن میں سائیکالوجی کے پروفیسر تھے ۔بڑی خالہ کے دیور جو ایک عرصے سے لندن میں مقیم تھے ان کے توسط سے یہ رشتہ آیا تھا ۔۔۔ اور پھر ۔۔ ٹیلی فون پر نکاح ہو گیا اور دسمبر کی ایک ٹھنڈی اور کہر آلود شام کو ۔۔۔ سرخ بنارسی ساڑھی میں لپٹی جب وہ ہیتھرو ائیر پورٹ پر اتری تو اس کے قیمتی اثاثے میں ماں باپ کی دعائیں ، بازوئوں پر امام ضامن اور ہینڈ بیگ میں حامد کی تصویر اور نام پتے کی تفصیل تھی ۔

         حامد کو پہچاننے میں اسے تھوڑی دقت ہوئی ۔ تصویر کے مقابلے میں وہ اسے کہیں زیادہ دبلا اور کمزور دکھائی دیا۔ اور وہ بھی اکیلا نہ دوست احباب اور نہ کوئی رشتہ دار یا جاننے والی خاتون ۔وہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ ڈری ڈری سہمی سہمی اس کے ساتھ ائیر پورٹ سے باہر نکلی تو لندن شہر کی برفیلی ہوائوں نے اس کا استقبال کیا۔ ٹیکسی میں گھر تک کا راستہ خاموشی میں ہی کٹا۔ حامد نے سفر کے بارے میں دوچار سوال کئے اور بس ۔۔۔

         حامد کے فلیٹ میں فرنیچر کم اور کتابیں زیادہ تھیں ۔ وہ سمجھ رہی تھی شاید اس نے اپنے گھر پر جاننے والوں کو بلایا ہو گالیکن یہاں بھی اسے مایوسی ہوئی ۔بڑی خالہ کے دیور جو رشتہ کرانے میں آگے آگے تھے وہ بھی نظر نہیں آئے ۔ اور جب حامد نے بڑی نرمی سے اس کہا کہ اگر وہ چاہے تو ہاتھ منہ دھو کر کپڑے تبدیل کرلے تو حیرانی اور     غم و غصہ سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے جنہیں چھپانے کے لئے وہ تیزی سے باتھ روم میں گھس گئی ۔اندر لگے ہوئے آئینے میں اس نے اپنے اوپر نظر ڈالی بہنوں نے کس محبت سے اس کے بالوں کا خوبصورت جوڑا بنایا تھا۔ چودہ گھنٹے کی فلائیٹ میں وہ اس جوڑے کو سنبھالتی رہی کہ کہیں خراب نہ ہو جائے ہاتھوں کی مہندی کچھ زیادہ ہی لال ہو گئی تھی ۔گھر کی بوا نے اس کے ہاتھوں میں تیل لگا کر سوکھی مہندی چھڑاتے ہوئے کہا   تھا ۔ ’’اے ذرا دیکھنا !  بی بی کے ہاتھوں پر کیا تیز رنگ چڑھا ہے ۔نصیبوں والی ہے میری شہزادی ۔۔دولہا پلکوں پر بٹھا کر رکھے گا۔‘‘ وہ اپنے ہاتھوں کی سرخ سرخ مہندی کو آنسو بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔نہ جانے میرے نصیب میں کیا لکھا ہے وہ سوچ رہی تھی ۔لندن آنے سے پہلے روز رات کو اس کے جسم پر ابٹن ملا جاتا تھا ۔لڑکیاں ڈھولک پر سہاگ گیت گاتیں ۔ شادی کی خوشی یک طرفہ ہی تھی ۔بس اماں بہنوں نے اپنی خوشی پوری کر لی تھی ۔حامد کے سب رشتہ دار ہندو ستان میں تھے ۔

         اس روز رابعہ نے اپنی سرخ بنارسی ساڑی اتار کے کیا رکھی جیسے اپنے کنوار پنے کے سارے خواب بھی اس میں لپیٹ کر رکھ دئے۔۔۔ اور پھر اسے پتہ چلا ۔۔۔ حامد بیمار تھا شدید نفسیاتی بیمار۔۔۔ وہ تین مہینے سے ایک نفسیاتی ہسپتال میں زیر علاج تھا۔   کا لج سے سک لیو  ) (sick leave  پر تھا ۔پچھلے تین سالوں میں یہ تیسرا کالج تھا جہاں اس نے پڑھانا شروع کیا تھا وہ تھوڑے عرصے ایک جگہ پڑھاتا پھر وہاں کے اسٹاف سے اس کی ان بن ہو جاتی ۔ وہ چاہتا تھا کہ ہر کوئی اسے پروفیسر کا درجہ دے، ڈاکٹر حامد کہے ۔پھر اسے ڈپریشن کے دورے پڑنے لگتے اور مجبوراً ڈاکٹر اسے گھر پر آرام کا مشورہ دیتے ۔ اور یوں بھی ہوتا کہ حامد کسی بہت ہی معمولی بات پر ناراض ہو کر کالج والوں کو اپنا استعفیٰ بھیج دیتا۔

         یہ باتیں کچھ حامد نے اور کچھ سامنے کے فلیٹ پر رہنے والی بیوہ مسز سمتھ نے بتائیں ۔مسز اسمتھ کو رابعہ سے گہری ہمدردی تھی۔ بیچاری لڑکی لا علمی میں کس بیمار کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔رابعہ کی ڈائری میں بڑی خالہ کے دیور کا پتہ اور ٹیلی فون نمبر تھا ۔اس نے ان سے رابطہ کیا وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ بھیانک مذاق اس کے ساتھ کیوں کیا گیا۔وہ لا علم نکلے ۔۔۔۔ انتہائی شرمندہ تھے کہ اتنے عرصے سے حامد کو جاننے کے باوجود وہ اس کی نفسیاتی بیماری کے بارے میں نہ جان سکے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے حامد نے یوں بھی ان سے قطع تعلق سا کرلیاتھا۔ کسی سیاسی موضوع پر بحث کرتے ہوئے وہ ان سے الجھ گیا اور بات اتنی بڑھی کہ اب وہ ان کی صورت تک دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔

         رابعہ نے یہ سب کچھ تحمل سے سنا اور شریف گھرانے کی سمجھدار اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی طرح اپنے نوشتہ تقدیر کو قبول کر لیا۔اس نے گھر والوں کو پاکستان میں کچھ نہیں بتایا ۔کیا فائدہ امی ابو کا دل دکھانے سے ۔پھر اس کے کسی بھی غلط قسم کے قدم اٹھانے کا اثر اس کی بہنوں کے مستقبل کو تاریک کر سکتا تھا ۔

         حامد کو کالج میں پھر سے پڑھانے کے چانس ملنے کا امکان بہت کم تھا ۔جہاں بھی درخواست بھیجتا اسے کسی نہ کسی بہانے سے رد کر دیا جاتا۔ رابعہ نے ہاتھ پائوں مارے ایم اے انگلش تھی اچھی خاصی انگریزی بول لیتی تھی ۔لندن کے ایک (chain) چین فوڈ اسٹور کے اسٹاک ڈیپارٹمنٹ میں کام مل گیا۔ اس نے بڑی محنت سے کام سیکھا اور ایک سال کے اندر ہی اسی سیکشن کی جونیئر منیجر بن گئی ۔ فوڈاسٹاک کی ساری سپلائی کا ریکارڈ رکھنا اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا ۔حامد کا گزارہ مستقل سوشل بینیفٹ) (social benefit پر تھا۔ وہ اب بھی لندن کے کالجوں میں لمبی لمبی درخواستیں بھیجتا اور زیادہ تر سائیکالوجی کی بڑی بڑی کتابوں میں غرق رہتا۔مہینہ دو مہینہ میں اسے ڈپریشن کے شدید دورے پڑتے اور دوروں کے نتیجے میں رابعہ تختۂ مشق ستم بنتی۔ حامد دوروں میںبالکل وحشی بن جاتا اور اذیت پرستی پر اتر آتا۔مسلسل بار بار جسمانی اور جذباتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کر نڈھال ہو کر رابعہ ڈاکٹر کو بلاتی ۔ڈاکٹر آتا اور اینٹی ڈپریشن گولیوں کی تعداد بڑھا دیتا۔ ان کے زیر اثر حامد زیادہ تر سونے میں وقت گزارتا ۔اس کی لمبی لمبی سونے جاگنے کی کیفیت کے بیچ، رابعہ کی ازدواجی زندگی میں چھوٹے سے چھوٹے جذبے بھی سہم سہم کر بیدار ہوئے اور کسی ان جانے خوف کے تحت ڈر ڈر کر اپنی موت آپ مر گئے ۔کتنی ہی راتیں ایسی گزریں جب وہ خود سخت تکلیف اور جان کنی کی حالت میں تھی اور بیدا ر تھی ۔جب کہ حامد نیند کی گولیاں کھا کر غفلت کی نیند سو رہا تھا۔لندن میں اس سال سخت برفباری ہوئی ۔وہ اپنے فلیٹ کے سامنے والے فٹ پاتھ ہی پر پھسل کر گر پڑی۔دو ہفتے پلاسٹر میںجکڑی ٹانگ لئے کراہتی رہی ۔شادی کے بعد چار سالوں کے دوران دو دفعہ اس کا اسقاط حمل ہوا ۔ ۔۔ ذبیحہ خانے سے بھاگے ہوئے ادھ کٹے بکرے کی طرح اپنے ہی خون میں نہا کر وہ پھر اٹھ کھڑی ہوئی ۔ لوٹ پوٹ کر وہ خود ہی ٹھیک ہو گئی ۔

         شادی کے پانچویں سال شازیہ اس دنیا میں آگئی ۔اس رات بھی حامد سو رہا تھا ۔ رابعہ نے اسے اٹھانا مناسب نہ سمجھا۔گولیوں کے زیر اثر سوئے مریض اگر اٹھا دئیے جائیں تو خطرناک ہو تا ہے ۔اس نے خود ہی ایمبولینس کے لئے فون کر دیا۔ حامد کے لئے نوٹ لکھ کر اور مسز اسمتھ کو بتا کر وہ ہسپتال چلی گئی ۔حامد دوسرے روز مسز اسمتھ کے ساتھ ہسپتال دیکھنے آیا ۔ بچی کو دیکھ کر نہ جانے کیوں پہلے تو خوش ہوا پھر رونے لگا۔ رابعہ حیران حیران اسے دیکھتی رہی پہلے تو وہ کبھی اتنا جذباتی نہ ہوا تھا۔

         ’’دیکھو رابعہ ۔۔۔ ‘‘ وہ سنبھل کر بولا ۔’’ یہ بالکل تمہاری طرح ہے ہم اس کا نام شازیہ رکھیں گے ۔۔۔ اچھا نام ہے نا!‘‘

         اس کے جانے کے بعد رابعہ تکیہ میں منہ دے کر خوب روئی ۔نہ حامد نے پوچھا اور نہ ہی رابعہ بتا سکی کہ اس بچے کی پیدائش کے بعد ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ رابعہ کے لئے دوبارہ ماں بننا خطرناک تھا ۔اپنے لئے بھی اور بچے کے لئے بھی ۔حامد کو جس تعداد میں مختلف دوائیں دی جاتی تھیں بہت ممکن تھا کہ ہونے والے بچے کی نشو نما میں کسی قسم کا نقص پیدا ہو جاتا۔ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ شازیہ میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں تھا۔ لیکن آئندہ کے لئے ڈاکٹر یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہ تھے ۔

         رابعہ کی نوکری پکی ہو چکی تھی اس لئے اسے تین مہینے کی میٹرنٹی  (maternity)کی چھٹی مل گئی ۔ یہ بھی اس کی خوش قسمتی تھی کہ نیچے والے فلیٹ میں سنگل مدر جین اسکاٹ رہتی تھی ۔اس کا اپنا بچہ چھ مہینے کا تھا ۔اس نے شازیہ کو رکھنے کی ذمہ داری لے لی اور یوںرابعہ چھ ہفتے کی شازیہ کو اس کے پاس چھوڑ کر پھر سے کام پر چلی گئی ۔

         شازیہ نے آنکھ کھول کر باپ کو اسی حالت میں دیکھا ۔جب وہ ذرا سمجھ دار ہوئی تو نہ جانے کیسے خود بخود یہ بات سمجھ گئی کہ میرا باپ او ر باپوں سے مختلف ہے ۔اس نے حامد سے کبھی کسی چیز کی نہ فرمائش کی اور نہ دوسرے بچوں کی طرح ضد کی ۔ البتہ ہر کورس یا نئی کلاس شروع کرنے پر وہ حامد کو تفصیل سے سب کچھ بتاتی ۔اس کا موڈ اچھا ہوتا تو سن لیتاکبھی ایک آدھ مشورہ بھی دے دیتاورنہ یہ کہہ کر اپنے کمر ے کی طرف چلا جاتا کہ جو کچھ بھی کر رہی ہو اپنی مما سے پوچھ کر کرنا۔

         ٹیلی فون کی گھنٹی کی تیز آواز سن کر وہ اپنے خیالات کی دنیا سے لوٹ آئی ادھر سے شازیہ بول رہی تھی ۔’’مما میں خیریت سے پہنچ گئی ہوں ۔اب آپ آرام سے سوجائیں اور ہاں جلدی فیصلہ کر لیں تاکہ پیکنگ وغیرہ کر سکیں ۔‘‘

         ’’کیسی پیکنگ ؟‘‘ رابعہ حیران ہو کر پوچھنے لگی ۔

         ’’یو نو مما ۔میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائوں گی ۔‘‘

         ’’اچھا ۔۔۔اچھا۔۔۔ اب خدا حافظ ، اتوار کو بات کریں گے ۔‘‘  رابعہ نے جلدی سے فون بند کردیا۔

         حامد حسب معمول گہری نیند سورہا تھا ۔ پچھلے ہفتے اسے پھر ڈپریشن کا دورہ پڑا   تھا ۔ ڈاکٹر نے گولیوں کی تعداد بڑھا دی تھی اس کے سوا ان کے پاس کوئی دوسرا حل بھی تو نہ تھا۔ نیشنل ہیلتھ کے تحت چلنے والے زیادہ تر نفسیاتی ہسپتال بند کر دئیے گئے تھے ۔ ورنہ ممکن تھا حامد کو کسی ایسے ہسپتال میں داخل کر دیا جاتا۔اب حامد جیسے کئی مریض یا تو اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر تھے اور جن کا دنیا میں کوئی نہیں تھا وہ اکیلے ہی ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے تھے ۔

         رابعہ بستر میں سونے کے لئے لیٹی تو نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔وہ کیاکرے ۔۔۔ فیصلہ ۔۔۔ پھر وہی صبر آزما لمحے ۔۔۔ کرب و اذیت ۔۔۔ راستہ دے دو ۔۔۔ ہٹ جائو ۔۔ اٹھائیس برس پہلے کا فیصلہ تو شاید بوڑھے والدین کی مجبوری اور چھوٹی بہنوں کے مستقبل کی مصلحت میں لپٹا ہوا تھا۔ مجبوری جو اسے سات سمندر پار لئے آئی ۔ اپنوں سے جدا کردیا۔ اس کے خواب ۔ کنوار پنے کے خواب ، اب بھی اس سرخ بنارسی ساڑی کی تہوں میں لپٹے رکھے تھے ۔وہ اس ساڑی کی تہیں کھولتے ڈرتی تھی ۔اس نے سوچا تھا شازیہ کی شادی پر یہ ساڑی اسے دے گی۔ لیکن نہ جانے کیوں وہم اور وسوسوں نے اسے گھیر لیا۔اس نے ساڑی کوجوں کا توں پرانے سوٹ کیس میں رکھ کر لاک کر دیا۔

         وہ کروٹیں بدل رہی اور ماضی کی تصویر یںذہن کے پردے پر چلتی رہیں ۔ شازیہ نے اے لیول کا امتحان دیا تھا ۔وہ ان دنوں آنرز کی ڈگری کے لئے مختلف یونی ورسٹیوں میں اپلائی کر رہی تھی ۔  جو کمپیوٹنگ کورس وہ کرنا چاہتی تھی وہ لندن کے علاوہ برمنگھم اور لیوٹن یونیورسٹی میں بھی مل رہا تھا۔

         ’’مما دعا کریں مجھے لندن میں ہی داخلہ مل جائے ‘‘ شازیہ کہہ رہی تھی ۔

         ’’اور میں چاہوں گی تم لندن سے باہر رہ کر آنرز کرو۔‘‘  رابعہ کے لہجے میں سنجیدگی تھی ۔

         شازیہ حیران تھی ’’مگر کیوں مما؟  آپ ڈیڈ کو اکیلی کیسے سنبھالیں گی میں ہر گز گھر سے دور نہیں جائوں گی ۔۔۔ نو  وے ۔‘‘

         ’’کیوں نہیں جائو گی۔کل کلاں تمہاری شادی ہو جائے گی جب بھی تمہیں گھر چھوڑنا ہو گا۔‘‘

         ’’اوہ! مما۔ یو تھنک ٹوفار‘‘

   سوچنا پڑتا ہے ہم ساری زندگی تمہیں ساتھ نہیں رکھ سکتے ۔پھر بیٹیاں تو ویسے بھی مہمان ہوتی ہیں ۔‘‘  رابعہ اور سنجیدہ ہو گئی تھی ۔ شازیہ اس کو ٹالنے کے لئے اور موضوع بدلنے کے لئے بولی ’’جسٹ لائیک یو ۔۔۔ آپ بھی تو سب کو چھوڑ کر چلی آئیں ۔‘‘

         ’’ہاں میری جان ۔‘‘ رابعہ آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو ئوں میں ہنس کر    بولی ۔۔۔ ’’جسٹ لائیک می ۔‘‘

         شازیہ کو واقعی لندن سے باہر لیوٹن یونیورسٹی جانا پڑا ۔تین سال کا لمبا عرصہ ، رابعہ نے کس مشکل سے کاٹا اسے اپنی بیٹی پر ہر طرح سے اعتماد تھا ۔شازیہ کی شخصیت میں خود اعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔وہ حد سے زیادہ نڈر اور سمجھ دار تھی ۔ اپنی ماں کے حالات کو دیکھتے ہوئے بھی اس کے اندر مردوں کے لئے کسی قسم کا غصہ یا نفرت نہ پل سکتی تھی ۔حامد اسے جس قدر بے بس اور بے ضرر نظر آتا رابعہ اتنی ہی بہادر اور مظلوم ۔رابعہ نے شازیہ کو لیوٹن بھیج دیا اور خود اس کا اپنا سکون و قرار بھی اس کے ساتھ رخصت کردیا۔اٹھارہ سال کی جوان جہاں لڑکی کو یونیورسٹی کے ماحول میں بھیجنے کا مطلب وہ اچھی طرح جانتی تھی ۔ان کے جاننے والے مسلمان گھرانوں نے سنا تو انگلیاں دانتوں میں داب لیں ۔

         لڑکی کو اتنی دور اکیلا بھیج دیا ۔یونیورسٹی کا ماحول ویسے بھی آزاد ہو تا ہے ۔  شراب ۔ ڈرگز ۔توبہ ۔توبہ ۔ اتنے گندے ماحول میں ایک شریف مسلمان لڑکی کس طرح رہ سکتی ہے ۔توبہ ۔توبہ ۔

         رابعہ کا فیصلہ چٹان کی طرح اٹل تھا۔’’میری لڑکی ہے کسی کو کوئی اختیار نہیں ۔ کہنے والے کو ذہنیت ہی گندی ہے ۔سوچنے والے جو چاہیں سوچیں ۔جو جی چاہے  کہیں ۔ مجھے کسی کی پرواہ نہیں ۔‘‘

         اس کی زندگی میں ایک کمزور لمحہ ضرور آیا تھا جب شازیہ ایک سنجیدہ اور بردبار قسم کے انگریز کو لئے ہوئے گھر میں داخل ہوئی ’’ مما یہ مائیکل ہے ہماری کمپیوٹنگ فرم کا مینیجر ۔‘‘ رابعہ نے پکی عمر کے اس غیر ملکی کو غور سے دیکھا ۔وہ شازیہ سے کم از کم دس بارہ سال بڑا ہوگا لیکن اس کے چہرے پر ایک خاص قسم کی نرمی اور باتوں میں اتنی ملاحت تھی کہ رابعہ اس سے ایک گھنٹے ہی کی ملاقات سے بے حد متاثر ہوئی ۔

         مائیکل حامد سے ملنے کا مشتاق تھا لیکن وہ اس وقت سور ہا تھا ۔شازیہ نے خوش ہو کر بتایا کہ مائیکل نے اسلام کا بہت گہرا مطالعہ کیا ہے ۔کئی سال سے کر رہا ہے ۔آج کل قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ بھی پڑھ رہا ہے ۔یہ تو بڑی اچھی بات ہے ۔رابعہ کے سینے پر سے جیسے وزنی بوجھ سا ہٹ گیا۔پھر وہ بھی سوچ رہی تھی کہ ڈگری لینے کے بعد شازیہ کو اس کمپیوٹنگ فر م میں کام کرتے دو سال گزر گئے تھے ۔ آج تک اس نے کبھی مائیکل کا ذکر تک نہیں کیا تھا ۔اس نے شازیہ کو اپنی زندگی کا ساتھی چننے کے سلسلے میں پوری آزادی دے رکھی تھی ، صرف اچھے برے کا فرق سمجھا دیا تھا ۔اور کیا کرتی ۔وہ جانتی تھی کہ ملنے جلنے والے پاکستانی گھرانوں میں حامد کی بیماری اور بیکاری او ر شازیہ کی بے جا آزادی ، ہمیشہ ایک چٹ پٹے موضوع کی حیثیت رکھتی تھی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ شازیہ کوئی ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائے جو اسے برسوں ’’پرانی رابعہ ‘‘کا روپ دے دے۔

         مائیکل کے جانے کے بعد رابعہ چپ چاپ سی تھی ۔شازیہ اس کا بغور جائزہ لے رہی تھی پھر آہستہ سے بولی ۔’’ جو آپ سمجھ رہی ہیں مما ۔۔۔ایسا نہیں ہے ۔میں مائیکل کو دو سال سے جانتی ضرور ہوں وہ بہت نیک اور شریف انسان ہے ۔ہم اچھے دوست ہیں اور بس۔۔‘‘

         ’’ اوراب ۔۔۔؟‘‘  رابعہ نے اسے ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھا ۔

         ’’ اب مائیکل باقاعدہ دائرہ اسلام میں داخل ہو نا چاہتاہے ۔اور اس نے مجھے پرو پوز بھی کیا ہے ۔ آپ یقین کریں مما۔ اس سے پہلے شادی وغیرہ کا سوال ہی نہیں  اٹھا ۔۔۔‘‘

         رابعہ خاموشی سے سنتی رہی اور شازیہ بولتی رہی ۔’’ وہ میری بہت عزت کرتا ہے ۔ میرے والدین کی عزت کرتا ہے ۔میں نے اپنے گھر کے سب حالات اسے بتادئیے ہیں ۔وہ پھر بھی ڈیڈ سے ملنا چاہتا ہے ۔آج زبردستی میرے ساتھ آگیا ہے ۔اس سے ملتے ہوئے باتیں کرتے ہوئے مجھے کبھی گھبراہٹ) (uneasy feelingنہیں ہوتی ۔وہ ایک اچھا انسان ہے مما۔۔‘‘  بو لتے بولتے شازیہ کی آواز بھرا گئی اور رابعہ نے تڑپ کر اسے گلے لگا لیا۔

         مائیکل برابر ملنے آتا رہا۔ حامد سے بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کرتا۔سر کھپاتا، وہ سو رہا ہوتا تو رابعہ سے گپ شپ کرتا اس کے ہاتھ کے پکائے ہوئے تیز مصالحے والے کھانے سی سی کرکے اور خوش ہو ہو کر کھاتا۔ حامد کے لئے وہ انسان کے روپ میں ایک فرشتہ تھا جو زمین پر اتر کے چلا آیا تھا۔

         ایک طویل عرصے سے رابعہ اور بیٹی کے علاوہ وہ کسی تیسرے انسان کے قرب سے بھی نا آشنا تھا ۔ملنے جلنے والے اس کی لغت میں وہ لوگ تھے جو اس کی بے مصرف اور سسکتی زندگی رینگتی زندگی پر صرف تبصرے اور تنقید کر سکتے تھے اور فضول قسم کے مشوروں سے نواز سکتے تھے ۔مائیکل نے اس کی دکھتی رگ پر کبھی ہاتھ نہیں رکھا۔نہ ناصح بن کر سمجھایا اور نہ اس کے حال پر افسوس کیا ۔وہ حامد کے موڈ کے مطابق گفتگو کرتا اور بس ۔

         مائیکل مسلمان ہو گیا اور حامد کا پسندیدہ نام ’’سلمان ‘‘ رکھا گیا ۔پھر لوگوں نے دیکھا کہ رابعہ نے اس دھوم دھام سے شازیہ کی شادی رچائی کہ لوگ پاکستان میں ہونے والی شادی کی تقریبات کو بھول گئے ۔ مایوں ، ابٹن ، مہندی کی رسم سے لے کر اس نے چوتھی تک کر ڈالی ۔ دل کے سارے ارمان نکال لئے ۔سلمان کے والدین اور دو بہنوں نے مانچسٹر سے آکر شرکت کی ۔ گوکہ وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر انہوں نے شادی کی ہر رسم میں خوشی خوشی اوربڑھ چڑھ کے حصہ لیا ۔

         مہندی والے دن شازیہ کی سہیلیاں اس کے پیچھے لگ گئیں ۔

         ’’آئیے آنٹی آپ کو بھی مہندی لگادیں ۔‘‘

         رابعہ نے اپنی ہتھیلیوں کو غور سے دیکھا ۔برسوں پہلے لگی ہوئی مہندی اور اس میں سے چمکتے ہوئے ادھورے ارمانوں اور خوابوں کا خون جیسے پھر سے رس رس کر ٹپکنے لگا۔

         ’’نہیں بیٹی میں مہندی نہیں لگاتی ، سردی کا اثرہو جاتا ہے ۔‘‘ حامد نے صرف نکاح میں شرکت کی اس کے علاوہ گھر میں کیا ہو رہا ہے وہ تقریباً بے نیاز رہا۔

         سلمان کا فلیٹ ویمبلے(Wembley) میں تھا۔ مختصر دو بیڈ روم کا فلیٹ شازیہ اور سلما ن نے مل کر اپنی پسند سے سجایا تھا۔ وہ دونوں ویک اینڈ پر رابعہ اور حامد کے پاس ضرور چکر لگاتے گھر کی بھاری شاپنگ خاص طور پر گوشت ، چاول ، آٹا وغیرہ کی ذمہ داری اب سلمان نے لے لی تھی ۔اس دن وہ دونوں آئے تو رابعہ کے کچن کا نل ٹپکے جا رہا تھااور رابعہ کسی پلمبر کو فون کرنے کی فکر میں تھی ۔ سلمان فوراً نیا واشر(washer) لے آیا اور منٹوں میں نل ٹھیک کر دیا۔وہ تھا ہی D.I.Y.میں  ماہر ۔ دیکھتے دیکھتے رابعہ کا پورا کچن تقریباً نیا لگنے لگا۔ پرانے کچن میں یونٹ بدلے ، دیواروں پر پینٹ کیا اور نیا لائنو (lino)لا کر ڈالا۔ رابعہ کے دل سے اس کے لئے ڈھیروں دعائیں نکلتی تھیں وقت پر سب کام ہو جاتے تھے بغیر بتائے ، بغیر احسانوں کا پلندہ لادے ہوئے ۔رابعہ سوچتی یہ فرق ہے ہم میںاور انگریز قوم میں ۔سلمان کی سوچ کتنی پریکٹیکل) (practicalہے اس کے کام کرنے کا انداز ہم سے کتنا مختلف ہے پھر وہ سوچتی ہم ایشیائی لوگ،اس ملک کی ،اس ملک میں بسنے والے انگریزوں کی اچھی باتیں کیوں نہیں اپناتے ۔حامد جیسے نفسیاتی مریض کا اس ملک میں گزارہ ہو گیا۔ سوشل بینیفٹ کے سہارے نیشنل ہیلتھ کے بل بوتے پر ۔ہم پھر بھی یہاں کی گورنمنٹ سے گلہ کرتے ہیں ۔اپنے حقوق منوانے کے لئے نت نئے مطالبات لے کر جاتے ہیں ۔اور نہ ملنے پر ہائے واویلا کرتے ہیں ۔

         شادی کے کچھ عرصہ بعد شازیہ نے انہیں خوش خبری سنائی ۔حامد تو سن کر خوشی کے مارے رونے لگا ۔’’ میں نانا بن جائوں گا۔۔۔‘‘پھر وہ جذباتی ہوگیا۔’’میں اپنے نواسہ ، نواسی سے خوب کھیلوں گا ۔انہیں سکول سے لایا کروں گا، پارک لے جائوں گا۔‘‘

         شازیہ کی آنکھیں اپنے بچپن کی ننھی منی ادھوری خواہشوں سے لبریز ہو کر چھلک پڑیں ۔اس کے بچپن کی یادوں میں ایک معصوم خواہش اب بھی نمایاں تھی ۔کاش میرے ڈیڈ مجھے اسکول چھوڑنے اور لینے آتے ۔وہ حسرت سے دوسرے بچوں کو اپنے اپنے باپ کے ساتھ جاتا دیکھتی۔ پھر بڑی سمجھداری سے بہت ہی چھوٹی عمر میں اس نے یہ خواہش اندر ہی اندر دبا لی تھی۔ حامد پہلے بھی مجبور تھا اور اب تو اور بھی بیمار ، کمزور ہو گیا تھا ۔لیکن خواہشیں دبانے کے باوجود جوان رہتی ہیں ۔ ۔ترو تازہ و شاداب رہتی ہیں ۔۔۔ شازیہ روتی رہی اور رابعہ کے وجود کے اندر دور بہت دو ر کسی لہو کی صورت میں آنسو ٹپکتے رہے ۔لیکن اس نے بڑی مضبوط آواز میں باپ بیٹی کو اس جذباتی سین سے نکالنے کی کوشش کی ۔

         کبھی کبھی ایک چھوٹی سی خوشی اپنے ساتھ بڑی خوشیاں لے کر آتی ہے ۔ادھر شازیہ ماں بننے والی تھی اُدھر سلمان کی فرم نے امریکہ میں برانچ کھولنے کا فیصلہ کیا اور اسے وہاں پرو موشن پر بھیجنے کی آفر دی۔

         آخر ی فیصلے کی کنجی شا زیہ اس کے ہا تھ میں دے کر چلی گئی تھی اور را بعہ کر وٹیں بد لتے ہو ئے سو چ رہی تھی ۔وہ کیا کرے۔ حامد کی بیما ری روز بر وز بگڑتی جا رہی تھی۔آج کل وہ بڑی تعداد میں اینٹی ڈپریشن گو لیا ں کھا رہا تھا ۔بعض دفعہ جا گتی حا لت میں بھی اس کی گفتگو بالکل بے ربط ہوتی ۔ہفتو ں کپڑ ے نہیں بدلتا اور نہ نہا تا ۔پر دے گرائے بند کمرے میں لحا ف اوڑھے سوتا رہتا ۔پسینے میں بھیگے  ہو ئے کپڑو ں سے بو آنے لگتی ۔پھر را بعہ بک جھک کر نہا نے پر آما دہ کرتی۔

         وہ سو چ رہی تھی ۔میں نے اب تک حا لا ت کا اکیلے مقا بلہ کیا ۔پہلے شا ید اپنے سروائیول urvival) (sکے لئے شا زیہ کی خا طر اور اب صر ف اور صرف حا مد کے لئے ۔میں اس حا لت میںاسے لے کر کس طر ح امر یکہ چلی جا ئوں ۔یہا ں جیسا بھی ہے اپنا فلیٹ ہے۔ اپنی چھت کے نیچے بیٹھے ہیں ۔جو چا ہے کر و، اب میں وہا ں پر جا کر اپنے دا ما د کے یہاںپڑ جا ئوں ۔چلو یہ فلیٹ بیچ کر وہا ں پر اپنا ٹھکا نہ بھی کر لیا پھر بھی نیا شہر ہو گااور ہم رہیں گے تو بٹیی دا مادکے رحم و کرم پر۔اس عمر میں مجھے نو کر ی کو ن دے گا ۔پھر امر یکہ میں نیشنل ہیلتھ سسٹم بھی نہیں ہے ۔پرا ئیویٹ علا ج کرا ئو۔اتنا پیسہ کس کے پا س ہے ۔شا زیہ سلما ن کے پا س ابھی ہما رے لئے وقت ہے ۔بچے ہو ں گے مصرو فیات بڑھیں گی اور سا تھ میں ہم دونوں کی عمر اور بو جھ بھی۔

         اور یہ جو میں نے اتنا لمبا بن با س لیا وہ یو نہی را ئیگا ں جا ئے گا ۔اب تو آس تھی  ایک مبہم امید تھی شا ید بن با س ختم ہو نے وا لا ہو ۔ ادھرپا کستا ن سات سمندر پا رادھر امریکہ دو سرے پر ۔ اسے یا د تھا ایک دفعہ جب شا زیہ چھو ٹی تھی وہ اسے لے کر پا کستان گئی اور دو ہفتے میں ہی گھبرا کر وا پس آگئی ۔اتنے مشو رے اور ہمدردیاں تھیں اور ان کی آڑ میں چھپے ہو ئے تیرو نشتر کہ وہ پر یشا ن ہو گئی ۔

         شا دی کے بعد لندن آنے کے فیصلے کی کنجی کے گرداس کے والدین کی مجبو ری اور چھو ٹی بہنو ں کا مستقبل لپٹا ہو ا تھا ۔اب تو کو ئی مجبو ری نہیںتھی ۔یہی تو بات تھی کہ کوئی مجبوری نہیں تھی ۔ پھر کیا تھا ؟ زندگی کا بہتر ین حصہ۔۔۔اپنی سا ری جو انی ۔اس نے   حا لا ت کی قید میں گزار دی ۔۔۔اب جب کہ یہ مدت ختم ہو نے والی تھی کہ کھلنے وا لے   دروا زے کے سا منے ایک اور دیوارکھڑی کر دی گئی ۔ فرق یہ تھا کہ یہ دیوار اس نے خود چنی تھی۔قید کی معیاد تو بڑھنی ہی تھی ۔کو ئی مجبو ری نہیں تھی ۔یہ تو وہ خو د اپنے آپ کو پا بند کرر ہی تھی۔یہ دشوار گزار  را ستے اب کتنے جا نے پہچا نے لگتے تھے ۔۔۔یہ گلیا ں کتنی ما نو س ما نوس سی تھیں جن میں سے وہ اپنا دکھی اور آسودہ جسم لئے گزرتی رہی ۔ اس قفس کے کو نے کو نے سے اس کی صبح و شا م اتنی ما نو س ہو چکی تھیں کہ اب کسی نئے قفس میں رہنا ممکن نہیںتھا۔۔۔اس سو چا مجھے اس قفس سے لگائو سا ہو گیا ہے اور آس پا س کچھ شنا سا اور ہمدرد چہرے بھی مو جو د ہیں ،دوسرا بن با س تو مجھے گزا رنا ہی ہے اوراس میں کسی اور فیصلے کی گنجائش ہی کب ہے۔؟

***

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *