محمد شفاء اللہ صدیقی ندوی
صدر شعبہ اردو ،عربی ومطالعہ اسلامیات،گرین ویلی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ
سفینہ ملٹی لینگول ٹرانسلیشن اینڈ ٹائپنگ سینٹر
وادی کشمیر کا ایک غیر معروف شاعر :پروفیسر غلام نبی عالیؔ
اردو شعرو ادب کی خوش قسمتی یہ رہی ہے کہ اسے ہردو ر میں چند مخلص شعرااور ادبا ایسے میسر رہے ہیں جنہوں نے اس زبان خسروی کی نہایت بے لوث اور بھرپر خلوص ہمہ جہت علمی ،ادبی ،ثقافتی اور تہذیبی خدمات انجام دی ہیں۔ایسی ہی بے لوث ادبی شخصیات اور شعری ہستیوں میںگمنامی کو حد سے زیادہ پسند کرنے اور شہرت و ناموری سے حتی الوسع دامن بچانے والی سراپا ادب شخصیت پروفیسر غلام نبی عالی کی ہے ۔ان کی نثری تحریریں ، شعری تخلیقات اور اردو تقریریں اردو سے ان کی محبت کی بین دلیل ہیں ۔
2014 کے نصف آخر کے بالکل ابتدائی ایام میں راقم الحروف اپنے منجھلے بھائیـ جناب مولانا محمد ثناء اللہ قاسمی صاحب ـکی زیر سرپرستی جنت ارضی ”کشمیر”وارد ہوا۔یہاں کی صحت بخش آب و ہوا میں پہلی ہی ملازمتانہ شخصی ملاقات میں جس شخصیت نے اپنے علم و فن سے حد درجہ متاثر کیا وہ وادیِ کشمیر کی باوقار علمی اورادبی ہستی پروفیسر غلام نبی عالی صاحب کی تھی ۔
نگا ہیں کاملوں پر پڑ ہی جاتی ہیں زمانے کی
کہیں چھپتا ہے اکبر پھول کانٹوں میں نہاں ہو کر
ر٢٠١٥ء کے دوسرے ماہ فروری کی٢٤تاریخ کو اس دیدہ زیب، ہوشیار، باوقار، پر متانت ،با وزن علمی، ادبی، تنظیمی اور سربراہانہ صلاحیتوں کی امین شخصیت سے شرف ملاقات حاصل ہوااور ان کی شعری اور ادبی ذوق کا انداز ہ ہوا ۔
پروفیسر عالیؔ انگریزی اردو اورکشمیر ی تینوں زبانوں پر یکساں عبور رکھنے والے متاثرکن انسان ہیں۔انگریزی گفتگو ہمیشہ برجستہ اور تمام تر گہرائی اور گیرائی کے ساتھ کیا کرتے ہیں ۔اردو زبان ان کی محبوبہ اور آج بھی معشوقہ کی حیثیت سے ان سے وصال دائم کا سلسلہ قائم کیے ہو ئی ہے ۔کشمیری ان کی مادری زبان ہے اور وہ اس میں بڑی بے باکی کے ساتھ فطری اور موثر انداز میں بولتے اور شعر و شاعری بھی کرتے ہیں۔راقم ہندوستان کی شمالی ریاست بہار سے پیدائشی تعلق اور ہندوستان کی جنوبی اور شمالی ریاستوں سے تعلیمی و تربیتی تعلق کا حامل رہا ہے۔ اس لیے اس زبان جنت ارضی سے ناواقف ہے۔ تاہم بول چال کی زبان کو سمجھنے سے قاصر بھی نہیں ہے۔مثل مشہور ہے جس بل کا منتر نہ معلوم ہو اس میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے۔بنا بریں ان کی کشمیری صلاحیت اور اس زبان میں ان کی شعری تخلیقات پر رائے زنی سے گریز کرتے ہوئے صرف ان کی اردو نظم گوئی اور رباعی گوئی کی روشنی میں ان کی شعری خصوصیات ،ان کی ادبی منزلت اور ان کی فنی بصیرت پر روشنی ڈالنے کی طالب علمانہ جسارت کرنے کی ہمت جٹارہا ہوں۔
ان کی شاعری میں تازہ کاری، جدت پسندی، خوبصورت تراکیب کا استعمال ،الفاظ کی بہترین بندش اور ان کی منفرد لفظیات دکھائی دیتی ہیں۔
پروفیسر صاحب کے شعری افکار میں جدت، ندرت اور تازگی ہے۔وہ کشمیر کی پرسکون فضا سے اپنی محبت کا والہانہ اظہار کرتے ہوئے صداقت کا دامن اس مضبوطی سے تھامتے نظر آتے ہیں کہ قاری کشمیر کی قلمی تصویرکے واسطے سے اس کے اہم خدو خال سے ملاقی ہو جاتا ہے۔
پروفیسر جی۔ این عالی علم سیاسیات کی ایک باوقار معلم ہستی، پر رونق سماجی اور من موہنی شخصیت، کامیاب استاد اور فنکار ادیب، ہردل عزیز منتظم، خوددار سربرا ہ ،مقبول پرنسپل ،خوش مزاج ذو زبان شاعر اور باغ و بہار شخص کے روپ میں دنیا ئے تدریس ،افق ادب، انجمن، کالج، دانش کدہ، اسکول، بساط ادب پر نہ صرف گمنام قبضہ جمائے ہوئے ہیں بلکہ اردو شعر و ادب کے ایک گوہر نایاب اور بلا شبہ ایک غیرت مند کشمیری قلم کار ہیں۔
جی این عالی کی رگ و پے میں کشمیریت، انسانیت اور آدمیت پائی جاتی ہے۔انگریزی زبان و ادب سے جتنا لگاؤ رکھتے ہیں اتنا ہی لگاؤ اردو شعر و ادب سے بھی وہ رکھتے ہیں۔ ” محشر خیال ” ان کی وہ تصنیف ہے جس سے ان کے شعری وجدان کا پتہ چلتا ہے ۔وہ اس(اردوشاعری) کا مطالعہ والہانہ کرتے اور اس سے اپنی منفرد شناسائی بھی قائم رکھتے ہیں۔ان کی اردو شاعری میں ان کی مضمون آفرینی یقینا ان کا ہی نصیبہ ہے۔کشمیری شاعری میں ان کے جذبات کی روانی اور خیالات کی فراوانی قابل مطالعہ ہے۔ وہ اردو زبان میںزیادہ اور کشمیری زبان میںنسبةً اس سے کم لکھتے ہیں۔مگر جتنا کہتے اور جتنا لکھتے ہیں وہ ادب وشعر کی کسوٹی پر بلاچوں وچراں کامیاب ثابت ہوتے ہیں ۔ انگریزی زبان میں لکھے ہوئے ان کے مضامین و مقالات قابل مطالعہ ہیں۔ گرین ویلی کے میگزین ”ایورگرین” میں شائع شدہ ان کی نگارشات اس(ایورگرین) کی عزت، آبرو، قدر اور قیمت قرار دی جا سکتے ہیں۔
ان کا شعری سرمایہ غزل نظم اور رباعیوں کے علاوہ قطعات پر محیط ہے۔ وہ موضوعی نظمیں خوب لکھتے اور مضامین و موضوعات کو سلاست کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیتے۔
پروفیسر صاحب کی نظموں میں آفاقیت و عالمگیریت ہے ۔عالمی تہذیبوں پر ان کی گہری نظر ہے ۔وہ مشرقی تہذیب کے دل دادہ اور اس کے تحفظ کے قائل ہیں ۔ان کی ایک شاندار نظم ” اسلام میں عورت کا مقام ” ہے ۔اس نظم میں سہل اور پرکشش پیرائے میں پیش کردہ خیالات اپنے آپ میں ایسی تاثیر رکھتے ہیں کہ پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔نظم کی بے پناہ ٹکسالی خوبیوں کے باعث میں نے اپنی تحریر کردہ نصابی کتاب ”حرا اردو زبان”ـ جو پہلی تا ساتویں جلدوں پر مشتمل وادی کشمیر اور بیرون ریاست ملک کے نجی اسکولوں میں داخل نصاب ہےـکی ساتویں جلد میں مغربی اور مشرقی تہذیبوں کو کھول کھول کر واعظانہ بیان کرنے والی اس شعری تخلیق کو شامل کیا ہے ۔اس کے قابل حفظ چند اشعار یہ ہیں :(١)
کس قدر اسلام نے تجھ کو دیا ہے احترام
کس قدر اس دین نے تجھ کو بلند بخشا مقام
کون کہتا ہے کہ تو مظلوم ہے مغلوب ہے
وہ تعصب سے ہیں اندھے دیں زبانوں کو لگام
عام تھی دختر کشی اسلام سے پہلے یہاں
یہ صرف اس دین نے وہ رسم کر ڈالی تمام
زندہ کرتے تھے دفن تجھ کو جنم لیتے ہی لوگ
یہ تو ہے اسلام جس نے تجھ کو بخشا ہے دوام
ماں بہن بیٹی کہ بیوی ہر طرح تو محترم
یا ںتو ہر صورت میں روشن ہے فقط تیرا ہی نام
ماں ہے تو جنت تیرے قدموں میں ہے اولاد کی
بنت حوا احتراماً تجھ کو دست بستہ سلام
ماں ہے تو تُو تیری خدمت فرض ہے اولاد پر
تو بہن ہے تو تیرا بھائی محافظ صبح و شام
جو ہے بیوی تو شریک زندگی ہے مرد کی
تیری سب آسائشوں کا وہ کرے ہے اہتمام
مرد کی رحلت پہ تو ہو جانا شعلوں کی نذر
ایسی ہر اک رسم ہے اسلام میں بالکل حرام
ازدواجی زندگی کا نام باہم احترام
نسل انسانی کی بہتر پرورش کا انتظام
ایک بیٹی ہے تو تُو ہے باپ کی لختِ جگر
ہے شفقت میں تیری خوشنودیِ خیر الانام
غرض ہر صورت میں ہے حوّا کی بیٹی سربلند
یہ ہے اسلامی تمدن یہ ہے اسلامی نظام
عیش و عشرت کا ہوسکاری کا تو ساما ں نہیں
ہم تیری عصمت فروشی کو سمجھتے ہیں حرام
جسم کی تیری نمائش یہ تیری عریانیت
اہل مغرب نے تجارت میں لیا یوں تجھ سے کام
تیری اعضائے بدن کی یہ نمائش ہے گناہ
مغربی تجّار نے تجھ کو بنایا ہے غلام
اختلاط مرد و زن شیطانیت کا یہ عروج
بے حیائی گمرہی اقوام مغرب میں ہے عام
ایک صدر مملکت مغرب کا جو سالار ہے
سن لیا کرتا ہے کیا عورت کے بارے میں کلام
تو نہیں منحوس تو ہے محترم ہر روپ میں
ایسی ہر توہین کا اب ہو خدارا اختتام
برملا تذلیل کی ہے اس نے عورت ذات کی
مغربی تہذیب اس کی سوچ کو بخشے دوام
تجھ کو جو ناپاک کہتے ہیں وہ خود ناپاک ہیں
ذہنیت جن کی ہو گندی ہوں نہ قوموں کے امام
الغرض اسلام نے بخشا ہے تجھ کو احترام
اور ہر اک حیثیت میں دے دیا اونچا مقام
مذکورہ بالا نظم اور اس جیسی ان کی دوسری شعری تخلیقات اس با ت کا ثبوت ہیں کہ پروفیسرصاحب کی نظمیں عصری حسیات کی ترجمان اور عہد حاضر کی عکاس ہیں۔ان کے یہاں عربی اور فارسی لفظوں کا خوب صورت اور موزوں استعمال ملتا ہے ۔ موضوعاتی نظم نگاری ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ان کی سبھی موضوعی نظمیں ان کے خیالات کی ترسیل میں یقینا کامیا ب ہیں ۔
اردو شاعر ی کی مقبول صنف ”رباعی” ان کی جیب کی گھڑی معلوم ہوتی ہے کہ وہ جس وقت چاہتے ہیں اور جب چاہتے ہیں اس صنف پر کامیاب طبع آزمائی کرتے ہیں۔
ان کی رباعیوں میں نئی لفظیات جدید تراکیب لفظوں کا اچھوتا استعمال فکر کی گہرائی تخیل کی بلند پروازی خیالات کی فراوانی سنجیدہ طبیعت کی جولانی اور شاہانہ مزاج کی جلوہ کاری لفظ لفظ اور مصرعے مصرعے سے ٹپکتی ہے۔
پروفیسر جی این عالی جہاں دیدہ شخصیت ہیں۔ان کی شاعری ان کی جہاںدیدگی اور ان کی فکری افاقیت کی گواہ ہے۔ان کی جملہ شعری تخلیقات میں ان کے عالمی تجربات کی گلکاری نظر اتی ہے۔ان کا ادبی مطالعہ بہت وسیع اور تنقیدی صلاحیت بڑی جو ہریانہ ہے۔
ان کے یہاں موضوعات کی بہتات ہے۔وہ ہر حساس اور سنجیدہ موضوع کے ساتھ ساتھ اصلاحی اور تبلیغی موضوعات پر خوب طبع آزمائی کرتے ہیں ۔ان کے کلام میں روایتی شاعری کے موضوعات کی چمک دمک بھی ہے اور جدید عنوانات کی گلکاری بھی ۔وہ فرسودہ خیالات سے دوری اختیار کرتے ہوئے قدیم شعری موضوعات کو اس جدت ترازی سے پیش کرتے ہیں کہ قاری کو اپنے جذبات کی احسن ترجمانی اور اپنی فکری پیاس کی سیراب کن لفظیات مل جاتی ہے۔
پروفیسر صاحب عشق و محبت اور اس کے متعلقات کی پیشکش میں نہایت تجربہ کاری اور پختہ بیانی سے کام لیتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کے کلام میں کامیاب عاشق کا دل دھڑکتاہے۔
وہ گھر کی چار دیواری سے بڑی محبت کرتے ہیں اور اس سے دوری و مہجوری انہیں یقینا برداشت نہیں ہوتی۔پردیس جانے کو وہ پسند نہیں کرتے اور اپنی جائے پیدائش سے راہی ملک عدم ہونے تک جڑے رہنے کو وجہ سکون اور سبب فرحت و مسرت اور محرک نشاط تصور کرتے ہیں۔اپنی ایک رباعی میں کہتے ہیں: (٢)
کبھی سوچا ہے کیا ہوتی ہے گھر کی چار دیواری
رلاتی ہے اگر یاد آئے وہ آنگن کی پھلواری
کبھی پردیس مت جانا کبھی جھانسے میں مت آنا
سنو میاں! وہاں لگتی ہے بس یادوں کی بیماری
انہوں نے غریب الوطنی کی بے بسی اور بے رونقی اور اس کے مزمرات و محرکات کو اپنی ایک رباعی میں بڑی مہارت اور قابل رشک انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا ہے۔(٣)
مراسم دوستوں سے ہیں پرانے
اکٹھے خواب دیکھے ہیں سہانے
یہاں پردیس میں جب نیند روٹھے
وہ تھپکی دینے آتے ہیں سلانے
حلقہ احباب کا قیام ذہنی آسودگی اور ہم خیالی کے لیے بہت ضروری ہے۔اس کے فوائد میں دوستانہ مراسم کی لذت اندوزی اور تنہائی و بے قراری میں دوستوں کی بہ شکل حسین یاد، موجودگی ان کی نظر میں بڑی کام کی چیز ہے۔دوستوں کی کشش انھیں بے چین رکھتی اور حلقہ احباب کا بلاوا ان پر خوب اثر انداز ہوتا ہے ۔ مثلا: یہ رباعی دیکھیے۔ (٤)
طبیعت کو نہ آئی راس جنت
میں چھوڑ آیا تمہاری خاص جنت
نہ یاروں ،دوستوں سے ملنا جلنا
جگہ بیکار ہے ،بکواس جنت
وہ شعر گوئی کے عادی کیسے اور نہ جانے کس وجہ سے ہوئے ۔یہ نہیں معلوم ۔مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ شاعری سے انھیں والہانہ تعلق ہے۔انھوں نے اپنی ایک رباعی میں اردو شعرگوئی سے اپنی اس تاحیات بہ خوبی ساتھ نبھانے والی محبت کا راز فاش کردیا ہے ۔مثلا :یہ رباعی دیکھیے ۔(٥)
میری تُک بندی کسی کو بھی پسند آتی نہیں
جو محرک اس کا ہے اس کو بھی یہ بھاتی نہیں
اپنی یہ عادت ترک کر دوں مرے بس میں نہیں
کیا کروں ظالم لگی منھ سے یہ اب جاتی نہیں
تعمیری شاعری دین داری ،عدل پسندی اور انصاف پروری کی اپج ہوتی ہے ۔رفتہ رفتہ اصلاح معاشرہ کا ذریعہ اورزندہ دل قاری کے دل کی دھڑکن بن جاتی ہے۔ مسلمانوں کے مقامی ،علاقائی، ریاستی ،قومی اور بین الاقوامی مسائل ان کی شاعری میں ضرور جگہ پاتے اور ان کی مشکلات کی ترجمانی ان کی شعری تخلیقات کا حصہ ضرور بن جاتی ہے۔شاعر اپنے قلم کو امت اور ملت کا ترجمان سمجھتا ہے تو ملت کے مسائل کے شافی حل اور اس کے امراض کے کامیاب علاج دونوں پر اپنی شاعری میں بے باکی اور جرأت مندی سے دو ٹوک بات کرتا ہے۔جناب جی۔ این عالی کی شاعری تعمیری اور اس میں امت مسلمہ کے مسائل اور ان کے مناسب حل کی ترجمانی ملتی ہے ۔گذشتہ سطور میں مذکور” مغربی تہذیب ”نامی اپنی نظم میں عورتوں کے لیے پردے کی قیمت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے مخاطبین کو مغربی تہذیب سے دور رہنے کی جس قوت اور اعتماد سے صلاح دیتے ہیں اسی اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنی ایک دعائیہ رباعی میں تمام ظالم حکمرانوں، بے غیرت رہبروں اور بے بس مسلم ممالک کے چوکیداروں کی جھوٹی شان و شوکت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے دندناتی ظالم طاقتوں کی تباہی کی دعا کرتے ہیں۔ مثلا :یہ چار مصرعے ان کے ملاحظہ کیجیے۔ (٦)
اس کی استعماریت پر جلد آجائے زوال
قہر کر فرعون پر جلدی خدائے ذوالجلال
وقت کا چنگیز در پے آزار ہے مظلوم کے
تیرے آگے ہے فلسطینی مسلمانوں کا حال
بچپن کی یاد ہر باشعور انسان کا خوشکن سرمایہ اور حسین ساتھی ہیں۔ بچپن کے دوستوں کی بے لوثی ان کا خلوص اور ان کی ہمرکابی وہمراہی یقینا اپنے آپ میں انمول نعمت ربانی ہے۔ پروفیسر صاحب اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے ایک رباعی میں کہتے ہیں:(٧)
کہاں بکھرے لڑکپن کے وہ موتی
نہیں مڈبھیر تک اب ان سے ہوتی
بہت جی چاہتا ہے پھر ہوں یکجا
کبھی قدرت وہ مالا پھر پر وتی
مہینوں امریکہ جیسی ترقی یافتہ مملکت قیام کے بعد آخر کار اپنے مادر وطن کشمیر کے ملہ باغ علاقے میں یہ کہتے ہوئے (٨)آگئے کہ
طبیعت کو نہ آئی راس جنت
میں چھوڑ آیا تمہاری خاص جنت
نہ یاروں دوستوں سے ملنا جلنا
جگہ بیکار ہے بکواس جنت
اپنے بیٹوں اور پوتوں کو اپنے تئیں بہترین رویہ اختیار کرنے اور بے پناہ خدمات فراہم کرنے پر فرشتوں کے لقب سے ملقب کرتے ہیں، مگر اس ماحول میں اپنے شبستان وادی کشمیر سے گرویدگی کے باعث اکتاہٹ کا اظہار بھی کرتے ہیں اور بر ملا کہتے ہیں ۔ (٩)
میں کافر ہوں اگر بھولوں تری فرمان برداری
تیری خدمت گزاری اور یہ سب ناز برداری
ترا مرہون منت ہوں فرشتو! عمر بھر لیکن
مگر جنت کی اکتاہٹ ہے دل پر بوجھ اک بھاری
پروفیسر صاحب وقت کے درست استعمال، تعمیری مشغولیت اور باکار مصروفیت کو کامیاب انسان کی پرسکون وپرلطف زندگی کا ضامن، اس کی زندہ دلی کا محرک اور فعال جسم کاسبب گردانتے ہیں۔ بیکاری ان کے نزدیک دم گھٹنے کے مترادف اور ضیاع وقت ان کے یہاں ناقابل تلافی نقصان اور باعث حسرت دائمی ہے ۔کام چوری،کسل مندی اور سستی کے تو وہ بہرحال دشمن ہیں۔ وہ اپنی نجی محفلوں میں حرکیت و سرگرمی کو انسان کی ممدوح صفت قرار دیتے ہیں۔ ایک رباعی میں اپنی اس البیلی طبیعت کا اظہار بڑی خوب صورتی سے اس طرح کرتے ہیں ۔ (١٠)
ہے آسائش بہت آرام ہر دم
فکر کوئی نہ ہے کوئی یہاں غم
مگر جنت کی اکتاہٹ نہ پوچھو
کہ بے کاری سے گھٹتا ہے یہاں دم
پروفیسر صاحب عالمی سیاسی صورتحال سے بھی پوری طرح باخبر اور عالم عرب و عالم اسلام دونوں کے احوال سے خوب آگاہ ہیں۔مسلمانوں کے عالمی مسائل اور ان کی بین الاقوامی دشواریاںبھی ان کے پیش نظر رہتی ہیں۔وہ فلسطین سے ہمدردی اور اہل غزہ سے سچے مومن کی طرح بے لوث اور مومنانہ محبت کرتے ہیں۔یہ محبت اور ہمدردی ہر مسلمان کے ایمان کا خاصہ اور امت محمدیہ سے انسلاک کا سبب ہے۔غزہ کی ہولناک صورتحال اور اس صورتحال کے مجرم اسرائیلی وصہیونی طاقتوں کی بخیہ ادھیڑتے ہوئے اپنی ایک رباعی میں یہودیوں اور صہیونیوں کے مابین فرق کو اجاگر کرتے ہوئے صہیونیوں کے ہاتھوں فسلطینیوںکی خوں ریزیاور ان کے بہیمانہ قتل وغارت کو قابل افسوس ہی نہیں بلکہ لائق مذمت بھی قراردیتے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں۔(١١)
لہو سے لال ہے ارض فلسطین
یہاں جاری ہے بس تجہیز و تکفین
صہیونی قتل و غارت کے مناظر
یہودی دیکھ کر ہوتے ہیں غمگین!!
غزہ کی صورتحال کو وہ پوری ملت اسلامیہ کی غفلت و بے غیرتی کا استعارہ قرار دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ فلسطینی عوام کی بیچاری و بے بسی ،عرب حکمرانوں کی روحانی موت اور حمیتی مفلوجیت کا ثبوت ہے۔مثلا :(١٢)
حمیت اور غیرت سو گئی ہے
عبرت ناک حالت ہو گئی ہے
فلسطینی بچارے کٹ رہے ہیں
یہ امت مستیوں میں کھو گئی ہے
ان کے قلم میں مداہنت اور موقع پرستی نہیں ہے ۔وہ جو دیکھتے ہیں محسوس کرتے ہیں اور جو محسوس کرتے ہیں انہیں لفظوں کے قالب میں پیش کردیتے ہیں ۔وہ باطل اور طاغوتی طاقتوں کو آئینہ اپنی شاعری اور عالمانہ تبصرے کے ذریعہ خوب دکھاتے ہیں ۔چنانچہ اپنے شاعرانہ ہنرکا درست مظاہرہ کرتے ہوئے عالم عرب اور عالم اسلام دونوں کی بے غیرتی، بے حسی،بے جرأتی، پست ہمتی، بے حیثیتی، بے بسی، مغرب نوازی ، ان کی غلامانہ ذہنیت ،امریکہ کے سامنے ان کی دست بستہ پیشی،اقتدار کی مستی ، دولت کی لت اور عہدے کی ہوس کو دو ٹوک الفاظ میں اپنی ایک رباعی میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ قاری ان کی ہمنوائی پر مجبور ہوجاتا ہے ۔(١٣)
نہ جرأت ہے نہ ہی غیرت ہے باقی
عرب مے خوار ہیں مغرب ہے ساقی
نشے میں مست ہیں عربی حکمراں
سعودی ہوں کہ مصری یا عراقی
بین الاقوامی سطح پر ان کی نظرجو ہے سو ہے وہ ملکی سطح کی سیاسی صورت حال سے بھی بحیثیت ایک ذمہ دار شہری خوب واقف ہیں ۔ رواں سال مئی کی١٠تاریخ کو انہوں نے اس طرح ادب کا حصہ بنایا کہ اردو شعرو ادب کی تاریخ میں یقینا انھیں مقتدر شعرا میں شمار کیا جائے گا۔ انہوں نے دو برصغیر ی ممالک ہندوستان اور پاکستان کو جنگی سرگرمیوں میں بلاوجہ حصہ لیتے ہوئے دیکھ کر اور اس جنگ کاری کے دور رس ناقابل تلافی نقصانات کو محسوس کرتے ہوئے اور اس کی دیرپا منفیات کو اچھی طرح بھانپتے ہوئے، اپنی متعدد رباعیوں میںاپنی بے چینی اور بے قراری کا بے باکانہ اظہار کیا ۔وہ دونوں ملکوں کے شہریوں کی سماجی زندگی کی بہتر تعمیر کاری کے باب میں بھرپور خیر خواہ ہیں۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کو ہوش کے ناخن لینے کی نہ صرف تلقین کی بلکہ اس مایوس کن موقع پر امن پسندی اس قدر ان پر حاوی تھی کہ وہ کسی ہوش مند ملک کو اس سلسلے میں ثالثی کرنے کی دعوت بھی دیتے نظر آئے۔ان کی اس نظم میں علم سیاسیات سے ان کی گہری واقفیت، ملکی سیاست پر ان کی باریک نظر اور دونوں ممالک کی معیشت پران کی محیط نظر بھی خوب محسوس ہوئی ۔ اس نظم کے مشمولات اور مضامین یقینا زندہ دل شاعر کی آواز معلوم ہوتے ہیں ۔جب کہ اس میں پیش کردہ خیالات و احساسات اور دو ٹوک انداز میں کیے ہوئے ان کے علمی تبصرے نے اسے تاریخی بنا دیا۔بطور مال اس تاریخی اور شاہ کار نظم کے درج ذیل اشعار دیکھیے۔(١٤)
دوبھکاری برسرپیکار ہیں ـ دیکھ بھی لو برسربازار ہیں
ہیں تماشہ بین بچ کے دور دورـسرگرم میداں میں دوفنکار ہیں
کہتے ہیں آپس میں ہمسائے ہیں یہـکچھ تو ہے آپس میں جو بیزار ہیں
اپنی غربت کا نہیں بالکل خیال ـفاقہ مستی میں یہ بس سرشار ہیں
ان کی بدمستی سے بستی کو ہے ڈرـدونوں کے ہمدرد ہیں کچھ یا رہیں
وہ کریں صلح وصفائی ان کے بیچ ـوہ کریں ثابت کہ وہ دمدار ہیں
خوب آپس میں کریں گالم گلوچـپھاڑنے کو چیتھڑے تیارہیں
پوچھنے والا انھیں کوئی نہیں ـکس لیے یہ اس قدر خونخوار ہیں
دشمنی نفرت ہے ان کے بیچ میں ـدونوں ذہنی طور پہ بیمار ہیں
کوئی روکے کوئی سمجھا ئے انھیں ـاس طرح سب میں ذلیل وخوار ہیں
کچھ بہی خواہ بیچ میں آئیں ذراـوہ جو دونوں کے ذرا غم خوار ہیں
بخش دے دونوں کورب عقل سلیم ـورنہ بربادی کے سب آثار ہیں
ہر شعر میں ایک کیفیت اور ایک مشورہ اور ایک درد مندی نظر آتی ہے اور شروع سے آخر تک اس نظم میں ایک مخصوص لے ،ایک منفرد رنگ، ایک انمول سر اور ایک یاد رکھا جانے والا اتار چڑھا ؤاور ناقابل فراموش نشیب و فراز نظر آتا ہے۔غضب کی بات یہ کہ اسی دن سرشام دونوں ملکوں کے مابین جنگ بندی معاہدہ ہوا۔ سوپر مداری(Super Jugler) کی وساطت اور اس کی ثالثی سے طے پا گیا ۔
پروفیسر غلام نبی عالی عصر حاضر کے شاعر اور منجھے ہوئے رباعی گو ہیں ۔وہ زبان کو بڑی مہارت سے برتنے کا ہنر رکھتے اور وادی کے شعرا اور ادبا میں اپنی منفرد حیثیت رکھتے ہیں ۔ادبی ذوق کے حامل افراد کے لیے ان کی شاعری میں یقینا بہت کچھ ہے ۔ذیل میں ان کی قابل حفظ چند شعری تخلیقات بہ شکل رباعیاںمستفیدین کے لیے پیش کی جاتی ہیں کہ یہی فنکار کے تئیں ہماری سچی خراج تحسین اور بے لوث قدردانی ہے ۔غزہ کی تباہی اور اس کے خوفناک اور قابل رحم سماجی منظر نامے کو حقیقی ترجمانی بخشتے ہوئی یہ رباعی پڑھ کر لطف اندوز ہوئیے ۔ (١٥)
غزہ کے بچے غذا کو ترسیں
مریض زخمی دو اکو ترسیں
فرات پر ہے یزید قابض
قفس میں پنچھی ہوا کو ترسیں
اسرائیل اور امریکہ اور اس کے معاونین کو بددعا دیتی ہوئی رباعی کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرلیجیے کہ (١٦)
تکبّر تیرا چکنا چور ہووے
توجو چاہے وہ تجھ سے دور ہووے
تو اک بد مست ہاتھی کی طرح ہے
زہر کھانے پہ تو مجبور ہووے
اسرائیل اور غزہ کے حوالے سے درست اور پر امید پیشین گوئی کرتی ہوئی ذیل کی رباعی اور عصری کرب کی نمائندہ اس شعری تخلیق کو لگے ہاتھ یاد کرلیجیے کہ (١٧)
بے رحم قاتل ستمگر کا مقدر ہے زوال
ہے یہی ایمان میرا آپ کا کیا ہے خیال ؟
مانگتا ہے ہاتھ پھیلائے فلسطینی یتیم
توڑ اب بازوئے قاتل اے خدا ئے ذوالجلال !
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو وقفے وقفے سے خواہ مخواہ کی شیخی بگھاڑنے پر اس کی درست اوقات دکھاتی ہوئی اس رباعی کو بھی اپنے ذہن میں بسالیجیے کہ (١٨)
تری دادا گری کب تک چلے گی
نہ تیری دال اب آگے گلے گی
ابے او مسخرے! تو ہوش میں آ
جلے گا تو بھی جو دنیا جلے گی
احتساب نفس کی دعوت ان کی جن رباعیو ںمیں ملتی ہے وہ درج ذیل ہیں:
نئے برس پر ضروری دعا کا اہتمام کرتے ہوئے کہتے ہیں : (١٩)
نیا سال خشیوں کی سوغات لائے
یہ ساتھ اپنے دلکش سے نغمات لائے
سوالات جو حل طلب ہیں
یہ ان سب کے حل اور جوابات لائے
ایک نئے سال کے رفتہ رفتہ خوش گوار انداز میں گذرجانے پر خوشی کا اظہار اور دوسرے نئے سال سے خیر کی توقعات وابستہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (٢٠)
شکر خدا کہ خیر سے نکلا یہ سال بھی
حمد خدا ہے خیر سے اہل وعیال بھی
صحت وسکون لائے نیا سال خدایا !
شیشے میں دل کے آئے نہ ہلکا سا بال بھی
نئے سال کے استقبال کا ہنر بخشتے ہوئے کہتے ہیں : (٢١)
گھٹ گیا ہے عمر کا اک اور سال
کتنی باقی اب رہی یہ ہے سوال
سال نو کو تم کہو خوش آمدید
مجھ کو ہے اپنے خسارے کا خیال
ریاست جموں وکشمیر ،ملک ہندوستان اور پورے برصغیر کے شیدائیان ادب ،اہالیان اردوادب اور شعروادب سے دلچسپی رکھنے والے اردو کے اساتذہ ،شعرا،ادبا،افسانہ نگار،خاکہ نگار،ناول نگار،غزل گو،رباعی گو حضرات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اردو شعرو ادب کے حوالے ایک نعمت غیر مترقبہ کی حثییت رکھنے والی اس علمی ادبی اور شعری شخصیت کے علم وفن،لفظیات وتراکیب،استعارہ بندی اور صنعت کاری سے خوب خو ب متعارف ہوں ۔ان کی تصنیف کردہ کتاب ” محشر خیال ”کی علمی ادبی اور جمالیاتی دنیا کی سیر کریں اور اس خوش گوار فضا میں ہر سو پھیلی شعری و فنی خوشبووں سے معطر ہونے کی کوشش کریںاور پروفیسر غلام نبی عالی کی مملکت لوح وقلم کی میراث کے لیے اپنے دامن استفادہ کو پسارلیں کہ وہ بہ قول فرا قؔ گو رکھپوری زبان حال سے یہ اعلان کررہے ہیں کہ
اے اہل ادب آئو میراث سنبھالو!
ہم مملکت لوح وقلم بانٹ رہے ہیں
٭٭٭٭٭
حوالے و حواشی
١ـکلیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٢٠،غیر مطبوعہ
٢ـرباعیاتِ عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ١،غیر مطبوعہ
٣ـرباعیاتِ عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٢،غیر مطبوعہ
٤ـرباعیاتِ عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص٥،غیر مطبوعہ
٥ـرباعیاتِ عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٦،غیر مطبوعہ
٦ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٥١،غیر مطبوعہ
٧ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٥١،غیر مطبوعہ
٨ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٥٤،غیر مطبوعہ
٩ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٥٩،غیر مطبوعہ
١٠ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص٥٧،غیر مطبوعہ
١١ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ١٣،غیر مطبوعہ
١٢ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٢١،غیر مطبوعہ
١٣ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٢٤،غیر مطبوعہ
١٤ـکلیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٢٧ـ٢٨،غیر مطبوعہ
١٥ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٧٠،غیر مطبوعہ
١٦ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٧١،غیر مطبوعہ
١٧ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٧١،غیر مطبوعہ
١٨ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٧١،غیر مطبوعہ
١٩ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٤٠،غیر مطبوعہ
٢٠ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ١١،غیر مطبوعہ
٢١ـرباعیات عالی،پروفیسر جی ۔این عالی ،ص ٨١،غیر مطبوعہ
٭٭٭٭٭٭
