ڈاکٹر رابعہ سرفراز بطور مترجم

ڈاکٹر عاصمہ غلام رسول

انچارج شعبہ پنجابی

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد

ڈاکٹر رابعہ سرفراز بطور مترجم

         اکیسویں صدی میں ترجمے کی ضرورت واہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ویسے تو ہر دورمیں زندہ زبانوںمیں ادب کے تراجم کو خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے لیکن خصوصاََ عصرِ حاضر میں ترجمے کی اہمیت میں اضافہ ہُوا ہے۔اگرچہ آج بھی بہت سے نقاد اور محققین ترجمے کو ثانوی درجہ دیتے ہوئے درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے لیکن اس کے باوجود پاکستانی زبانوںمیں عالمی ادب کے تراجم کے حوالے سے بہت سے نام ابھر کے سامنے آئے ہیں۔ایسا ہی ایک نام ڈاکٹر رابعہ سرفرازکا بھی ہے۔  جنھوںنے نا صرف ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے تحت ترجمے کے فن اور اہمیت کے حوالے سے جامعات کی سطح پر ایک نہایت اہم کتاب لکھی ہے بلکہ شاعری اور ناول کے اردو تراجم بھی کیے ہیں۔ڈاکٹر رابعہ سرفراز کا شمار اردو ادب کے ان ناموںمیں ہوتاہے جو خود کو ادب کے ایک مخصوص دائرے کا پابند کرن کی بجائے متنوع جہات پر قلم اٹھاتے ہیں اور جن کی علمی وادبی کاوشیں سنجیدہ محنت کے رنگ سے بھرپور ہوتی ہیں۔

         اچھے ترجمے کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ اسے پڑھنے سے تخلیق کا گمان ہوتاہے اور یہ بات رابعہ کے تراجم پہ پوری طرح صادق آتی ہے۔زیرِ نظر موضوع کے حوالے سے انگریزی گیتوںکے اردو تراجم پر مبنی ان کی کتاب’’سدا وہ میرے ساتھ‘‘مشہور جرمن ادیب ہرمن ہیسے کے ناول ”The Journey to the East” کا اُرد وترجمہ’’مشرق کی سمت ایک سفر‘‘اور ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد سے شائع ہونے والی کتاب’’ترجمہ۔فن اور اہمیت‘‘بالخصوص اہمیت کی حامل ہیں۔

         ’’سدا وہ میرے ساتھ‘‘میں انگریزی گیتوںکے اردو تراجم کیے گئے ہیں۔یہ تراجم اپنے موضوع کی مناسبت سے سادگی اور بے ساختگی کی مثال ہیں۔ایسے برجستہ اور موزوں تراجم کو پڑھتے ہوئے گمان ہوتاہے کہ یہ رابعہ کی نظمیں ہیں ‘انگریزی گیتوںکے تراجم نہیں۔اسے مترجمہ کی ادبی دیانت کہیے کہ انھوں نے کتاب کے دیباچے میں ان گیتوںکے ماخذ کی نشاندہی اپنا فرضِ منصبی جاناورنہ گیتوںکے انگریزی عنوانات اور ان کے مغربی شعرا کے نام ہٹادینے سے یا یوں کہیے کہ چھُپا دینے سے یہ گیت مترجمہ کی نظموںمیں بآسانی شمار ہوسکتے تھے۔گیتوںکے ان تراجم میں انسانی جذبات اور کیفیات کی ترجمانی کا پورا حق ادا کیاگیاہے۔گیتوںکوچھوٹی چھوٹی لائنوںمیںتقسیم کرتے ہوئے نہایت خوبی اور مہارت کے ساتھ اُردومیں منتقل کیاگیاہے۔روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے موضوعات پر مشتمل یہ گیت اُردو قارئین کے لیے خاصے کی چیز ہیں۔ ساز اور آواز کی عدم موجودگی کے باوجود گیتوںکے یہ تراجم قاری پہ اپنی مضبوط گرفت قائم کرنے میں خاصی حد تک کامیاب ثابت ہوتے ہیں اورتنہائی میں ان کی سطریں قاری کو اپنی ذات کی طرف سفر پر مجبوربھی کرتی ہیں۔

رابعہ اس کتاب کے بارے میںخود لکھتی ہیں:

’’مَیں یہ تو نہیںکہتی کہ یہ ترجمہ مکمل طور پرایک کامیاب ترجمہ ہوگا‘مَیںاپنے آپ کو شایدترجمے جیسے کٹھن کام کی اہل بھی نہیںپاتی تاہم مَیںنے ان گیتوںکے مفہوم کی ترجمانی کا کچھ حد تک فریضہ ضرور انجام دیاہے۔ترجمہ کے بارے میںایک بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ ترجمہ خصوصاََ شاعری میںلفظوں کاتوہوسکتاہے کیفیات کانہیں۔گیتوںمیںتویہ بات اور بھی سچی ثابت ہوتی ہے کہ جس گیت کی پیشکش میںبہت سے لوگ کام کرتے ہیں‘خاص سیٹ لگائے جاتے ہیں‘مختلف آوازیںاور موسیقی کے آلات مل کر ایک خاص فضاپیداکرتے ہیںاورجس کے ساتھ مخصوص ملبوسات ‘حرکات وسکنات‘رقص کے زاویے‘فوٹوگرافی اور فلم بندی کی تکنیک ‘موسیقی کے زیروبم اور پھر اس کی ایڈیٹنگ‘یہ سارے عناصر مل کر جوایک تاثرپیداکرتے ہیں‘وہ ایک صفحے پر آہی نہیںسکتا۔تاہم ان پُرہجوم مناظر سے جولفظ کاغذ پر منتقل ہوئے ہیں اُن کے اندر ملائمت‘سرشاری‘انتظار‘شکوے اور اس طرح کی دوسری کیفیات مَیںنے جس طرح محسوس کی ہیں‘انھیںاس ترجمے میںمنتقل کردیاہے۔‘‘

                                                      (۱)

         ذیل میں گیت کے ترجمے کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:

’’مَیں ہمیشہ کے لیے اَمر ہوچکی ہوں

مَیں نے سب سے پہلا گیت لکھا

مَیں نے لفظ اور آہنگ اکٹھے کیے

مَیںموسیقی ہوںاور مَیںگیت لکھتی ہوں‘‘(۲)

         ’’مشرق کی سمت ایک سفر‘‘دراصل ایک لیگ کے اراکین کی کہانی ہے جو کسی خاص مقصد کے تحت اپنے سفر کاآغازکرتے ہیں۔اس سفر کو ایک مقدس سفر کا نام بھی دیا گیاہے۔ہرمن ہیسے کا یہ ناول ’سدھارتھ ‘‘سے خاصا مختلف ہے لیکن ہیسے کی دیگر تحریروں کی طرح اس میں بھی روحانیت کی وہ جھلک نظرآتی ہے جومغربی تحریروںمیں خال خال ملتی ہے لیکن مشرقی ادب کا خاصاہے۔جہاں تک اس کتاب کے ترجمے کا تعلق ہے یہ واقعی ایک مشکل کام تھا کیونکہ ہیسے کے اس ناول میں سطروں کی طوالت اور اس کا مخصوص اندازِ تحریر ایک عام ترجمہ نگار کے لیے کئی مقامات پر مشکلات کا باعث بن سکتاہے۔ ڈاکٹر رابعہ سرفراز اس حوالے سے خاصی کامیاب ثابت ہوئی ہیں کہ انھوں نے ان دونوں پیچیدگیوں کو سمجھتے ہوئے ان کا مناسب حل تلاش کیاہے۔وہ ترجمے کے فن ‘اصول و ضوابط اور اہمیت کو بخوبی سمجھتی ہیں یہی وجہ ہے کہ انھوں نے لمبی لمبی سطروں کو موزوں اندازمیں مختصر سطروںکی صورت ترجمہ کیاہے۔اس کے ساتھ ہی ان اصولوں اور ضابطوں کو بھی مدِّنظر رکھاہے جن کا ذکر وہ ترجمے کے حوالے سے اپنی کتاب میں کرتی ہیں۔یعنی پورے ناول میں ’’لیگ‘‘ کا لفظ متعدد بار استعمال ہُوا ہے اور اس کے ترجمے میں بھی ہرمقام پر’’لیگ‘‘ہی کا لفظ استعمال کیا گیاہے نا کہ اُسے کسی مقام پر جماعت یا گروہ کے لفظ سے تبدیل کیاگیاہے۔رابعہ سرفراز لکھتی ہیں:

’’مَیںنے ہرمن ہیسےHermann Hesseکے اس چھوٹے سے ناول کی مصاحبت میںکئی گزری اور آتی صدیوںکاسفر کیا اور اب مَیںاس ترجمے کے ذریعے آپ کو اپنے اس تجربے میںشامل کر رہی ہوں۔عین ممکن ہے کہ بعض مقامات پر ہرمن ہیسےHermann Hesseکے الفاظ میری کیفیات کے اظہار کا وسیلہ بھی بن گئے ہوںکہ تحریروںکی جگہ ترجمے میںبھی کہیںکہیںغیرارادی طورپر مصنف کی ذات کی جھلک پڑتی ہے۔‘‘(۳)

         اس ترجمے کے مطالعے سے ہمیں اہلِ مغرب بالخصوص جرمن ادیبوں کی روحانی تجربوںکی طرف دلچسپی کا پتا چلتاہے۔اُردو کا قاری یہ جاننے میں بھی کامیاب ہوتاہے کہ اہلِ مغرب کی مشرق سے دلچسپی کی وجوہات اور پسِ پردہ محرکات کیاہیں۔بحیثیتِ مجموعی اس ناول کا اندازِ تحریر اپنے اندر پُراسراریت کا رنگ لیے ہوئے ہے اور یہی انداز اس کے ترجمے میں بھی نظرآتاہے۔جسے مذکورہ کتاب کے ترجمے کی ایک بڑی کامیابی کہنا مبالغہ نہ ہوگا۔یہ ترجمہ حال کے قاری کو بیک وقت ماضی اور مستقبل کا سفر کراتاہے۔اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’مشرق کی سمت اس سفر کی خصوصیات میںایک یہ تھی کہ اگرچہ اس سفر کے دوران میںلیگ نے اپنے سامنے بہت ہی قطعی اور نہایت بلند مقاصدرکھے تھے (ان مقاصد کا تعلق ایک خفیہ زمرے سے ہے اور اس لیے بتائے نہیںجاسکتے)تاہم ہر شریکِ سفر کواجازت تھی کہ اپنے نجی مقاصدبھی رکھ سکتاہے۔‘‘(۴)

         ’مشرق کی سمت ایک سفر‘روشن روحانی سفر اور باطنی حیرتوںکی کہانی ہے جو فرد کے داخل کی فتح کی داستان سناتی ہے۔اصل متن کی طرح اس کا اُردو ترجمہ بھی حیرت اور اسرار کے عناصر سے بھرپور ہے۔ترجمے میں تشریح طلب مواد کو حواشی؍فٹ نوٹ کی صورت میں صفحے کے اختتام پر شامل کیاگیاہے۔ڈاکٹر رابعہ سرفراز نے ترجمے کو دوتہذیبوں اور معاشروںمیں ایک ایسے پُل سے تشبیہ دی ہے جو قوموں اور ادب کے مابین فاصلوں کو دُور کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتا ہے۔بلاشبہ ڈاکٹر رابعہ کے یہ تراجم اُردو قاری کو شعر ونثر کی ایک ایسی دنیامیں لے جاتے ہیں جہاں فرسودہ مضامین اور اندازِ بیان سے ہٹ کر تازگی‘جدت اور شادابی کی فضا نظر آتی ہے جو ناصرف اُردو قاری کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافے کا سبب بنتی ہے بلکہ اُسے دیگر زبانوں کے ادب سے بھی متعارف کراتی ہے۔بحیثیت مترجم رابعہ سرفراز کا یہ ترجمہ اُردو زبان و ادب میں موضوع اور تکنیک ہر دو حوالوں سے وسعت کا باعث ثابت ہو گا۔

         ترجمے کے حوالے سے ڈاکٹر رابعہ سرفراز کا تیسرا لیکن میری رائے میں اہم ترین کام اُن کی وہ کتاب ہے جو ’’ترجمہ ۔فن اور اہمیت‘‘ کے عنوان سے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے شائع کی ہے۔یہ کتاب جامعات کی سطح کے طالب علموں اور ترجمہ کامضمون پڑھانے والے اساتذہ کے لیے خاصے کی چیز ہے۔کتاب میں ترجمے کے فن‘عصرِ حاضر میں اس کی ضرورت و اہمیت‘ شعری و نثری ادب کے مسائل‘مترجم کے اوصاف‘اُردو کے نمایاں تراجم کے ساتھ ساتھ رابعہ نے مقدونیہ کی نظموں کے اُردو تراجم بھی بطور مثال شامل کیے ہیں۔یہ تراجم طالب علموں کو ترجمے کے اسرارورموز سکھانے کے لیے اس کتاب میں شامل ہیں ورنہ اگر مصنفہ چاہتیں تو’’سدا وہ میرے ساتھ‘‘کی طرز پر ِاِن تراجم پر مشتمل ایک الگ کتاب بھی شائع کراسکتی تھیں ۔مقدونیہ کی نظمیں بھی مختلف موضوعات پرمشتمل ہیں جن کا تعارف مصنفہ؍مترجمہ نے باب کے آغازمیں دیاہے۔ ’ترجمہ:فن اوراہمیت‘میںتراکیب‘محاورات‘ادبی اصطلاحات‘سائنسی و تکنیکی اصطلاحات کے تراجم‘شعری تراجم اور نثری تراجم کے حوالے سے ناول‘ڈراموں‘بچوںکے ادب اور تنقید کے تراجم‘مترجم کے اوصاف اور ترجمہ در ترجمہ کے موضوعات پر تفصیلی اندازمیں روشنی ڈالی گئی ہے۔ڈاکٹر رابعہ سرفراز رقم طرازہیں:

’’شعری تراجم کی مختلف صورتیںہیں۔بعض ناقدین کا خیال ہے کہ شاعری کا ترجمہ ممکن نہیں جبکہ لفظ اور کیفیات کے ترجمے کے حوالے سے بھی مختلف آرا ملتی ہیں۔پابند شاعری کے پابند تراجم میں قافیہ‘ردیف‘اوزان و بحور کے مسائل عموماََ زیادہ ہوتے ہیں اسی لیے بیشتر ناقدین غزل اور پابند نظم کے آزاد تراجم کو زیادہ موزوں خیال کرتے ہیںلیکن بعض صورتوںمیں مترجم کی عدم توجہی کی بناپر یہ طریق کار بھی کامیاب ثابت نہیں ہوتا۔‘‘(۵)

         اس کتاب کی اہم خوبی تکرار اور غیر ضروری مواد سے اجتناب ہے۔کتاب میں نثری اور شعری تراجم کے مسائل مثالوںکی مدد سے قارئین تک پہنچائے گئے ہیں جن سے ان کی تفہیم میں آسانی پیدا ہوگئی ہے۔مجھے ڈاکٹر رابعہ سرفرازکی تحریریں اس حوالے سے متاثر کُن لگتی ہیں کہ وہ گھِسے پِٹے موضوعات پر قلم اُٹھانے کی بجائے ہمیشہ ایک تازہ اور دلچسپ موضوع کا انتخاب کرتی ہیں۔اُردو میں ترجمہ نگاری کے اصول وضوابط کے حوالے سے یہ ایک شاندار کتاب ہے جو نا صرف اُردو بلکہ دیگر پاکستانی زبانوںکے مترجمین کے لیے بھی غوروفکر کے نئے در واکرتی ہے۔کتاب کے آخری باب میں شعری تراجم کی عملی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ذیل میں ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:

’’اگر مَیں مر جاؤں

مجھے استعاروںمیںمحفوظ کرلینا

مجھے کبھی پستی سے آشنا نہ کرنا

ایک سمندر کے ساحل سے دوسرے سمندر کے ساحل تک

ہمیشہ محوِ سفر رہنا‘‘(۶)

         ترجمے کے حوالے سے ڈاکٹر رابعہ سرفراز کی یہ تمام کاوشیںتعریف وتحسین کی مستحق ہیں۔الیکٹرانک میڈیا کی ترقی کے اس دور میں جب تراجم کی اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوچکاہے‘جامعات کی سطح پر ترجمے کے پرچے کو نصاب کا حصہ بنایا جارہاہے‘ایسی صورت میں پختہ تخلیقی شعور کی حامل اس مترجمہ کی تحریروںکا بغور مطالعہ قارئین خصوصاََادب کے طالب علموں کو عالمی ادب کے بہت سے پہلوؤں سے روشناس کرانے کا اہم وسیلہ ہے۔

                                                      حوالہ جات

۱۔رابعہ سرفراز‘سداوہ میرے ساتھ‘فیصل آباد:قرطاس‘۲۰۰۳‘ص۶۔

۲۔رابعہ سرفراز‘سداوہ میرے ساتھ‘ص۳۴۔

۳۔رابعہ سرفراز‘مشرق کی سمت ایک سفر‘فیصل آباد:قرطاس‘۲۰۰۷‘ص۶‘۷۔

۴۔رابعہ سرفراز‘مشرق کی سمت ایک سفر‘ص۱۲۔

۵۔ڈاکٹر رابعہ سرفراز‘ترجمہ:فن اور اہمیت‘اسلام آباد:ہائیر ایجوکیشن کمیشن‘۲۰۱۱ء‘ص۴۴۔

۶۔ڈاکٹر رابعہ سرفراز‘ترجمہ:فن اور اہمیت‘ص۱۵۸‘۱۵۹۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *