You are currently viewing اُردو قصیدے میں سائنسی اشارات

اُردو قصیدے میں سائنسی اشارات

سجادنقوی(سیالکوٹ ، پاکستان)

تلمیذ: گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی ، لاہور

اُردو قصیدے میں سائنسی اشارات

          اردو قصیدے کو اردو اصناف  شا عری میں شاہی اور عالمانہ صنف کا درجہ حاصل رہا ہے۔اس صنفِ پارینہ میں ظاہراً کسی کی مدح یا ذم لکھنا مقصود ہوتی تھی۔البتہ زیادہ تر قصائد مدح کی صورت میں لکھے گئے۔لیکن قصیدہ جو بالعموم کسی کی شان و شوکت اور افضلیت کا بیانیہ ہے ، اس میں سائنسی اشارات یا سائنسی شعور کیسے ممکن ہے؟ اس کا جواز اور جواب قصیدے کے وسیع  معنوی تناظر اور اس کے اجزا میں پوشیدہ ہے۔یہ واضح ہے کہ ظاہری شکل کے لحاظ سے قصیدے کی دو قسمیں ہیں اول تمہیدیہ ؛ جس میں ممدوح کی تعریف سے پہلے ایک فضا تشکیل دی جاتی ہے اور تمہید کے طور پر تشبیب اور گریز شامل ہوتے ہیں۔دوم خطابیہ /مدحیہ؛ جس میں تشبیب اور گریز  کے بغیر براہ راست ممدوح کی تعریف سے قصیدے کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔مثلاً عالمگیر ثانی کی مدح میں سودا کا قصیدہ “ہے اشتہار تجھ سے مرا اے فلک جناب”

واضح رہے کہ اردو قصیدے میں سائنسی اشارات یا علمی اصطلاحات کی نشان دہی تین حوالوں سے ممکن  ہوتی ہے۔اول تشبیب ، دوم مدح، سوم تعبیر کی شرح۔تشبیب : تشبیب ایک کامیاب قصیدے کا جزو ہوتا ہے۔تشبیب سے مراد قصیدہ کے آغاز میں تمہید کے طور پر شاعر ممدوح کے شان و مرتبہ سے متعلقہ ایک شعری فضا قائم کرتا ہے۔عربی میں شعرا عشقیہ اشعار سے قصیدے کا آغاز کرتے تھے اسی نسبت سے اس حصے کو تشبیب یا نسیب کہا جاتا ہے۔تشبیب کے معنی شباب کا تذکرہ جبکہ نسیب کے معنی ہیں حسن نسوانی کا کردار۔

لیکن فارسی اور اردو کے قصیدہ نگاروں نے تشبیب کو محض عشقیہ موضوعات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے مضامین میں وسعت اور تنوع پیدا کیا۔اس لیے تشبیب میں مضامین کی کوئی قید نہیں ہوتی یہاں  پر شاعرموسم بہار ، واردات حسن و عشق ، رندی و سرمستی ، دنیا کی بے ثباتی ، علم و فن کی ناقدری ، فن شعر سے بحث ، تاریخی واقعات ، ذات و ملکی حالات اس کے علاوہ ہئیت ، نجوم ، منطق ،فلسفہ ،حکمت ،اخلاق و تصوف اور مشرقی علوم فنون اور ان سے متعلق دیگر اصطلاحات نظم کی جاتی ہیں۔شعرا حضرات نے تشبیب کو مضمون آفرینی ، جدت ادا ،ندرت بیان ، رفعتِ تخیل ،زبان و بیان کی پختگی اور بلند آہنگی سے آراستہ کیا ہے  اور اسی کے بطن سے غزل نے جنم لیا۔

قصیدے کا یہی (تشبیب) وہ اہم ترین جزو ہے جہاں پر شعرا نے خیال کی پرواز ، وجدان و الہام ، گہرے مشاہدات ، قوتِ متخیلہ اور اجتماعی لاشعور کے سبب ایسے ایسے مضامین قلم بند کیے جو  کائناتی حقائق  اور سائنسی صداقتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔شعرا نے تشبیب میں کھل کر اپنی علمی استعداد کا اظہار کیا ہے۔ بقول ڈاکٹر جمیل جالبی’’ تشبیب قصیدے کا وہ حصہ ہے جہاں شاعر کے اصل جوہر کھلتے ہیں‘‘(۱)

سائنسی اشارے کے حوالے سے راقم نے دوسرا اہم جزو ’’مدح  ‘‘اخذ کیا ہے جس کی وضاحت آگے انشاءاللہ خاں کے جارج ثالث کی شان میں لکھے قصیدے میں پیش کی گئی ہے۔تیسری صورت  ان  کلاسیکی شعری متون کی سائنسی تعبیر کی صورت ہے۔جو شعری ساختیہ اپنے جواز میں  کوئی آفاقی صداقت رکھتا ہے اسے سائنسی تعبیر کی کسوٹی پر کسا گیا ہے۔لہذا یہ مضمون اردو قصیدے میں ان سائنسی اشارات کو نشان زد کرتا ہے جو ایک قصیدے میں شاعر کے تخلیقی وفور کا زائدہ ہیں اور دوسرا یہ کہ انگریز ممدوح کے دور میں سائنسی و صنعتی کارکردگی کی مدح ہے۔اس مضمون میں اردو قصیدے کے ارکان اربعہ : سودا ، ذوق ، انشاء اللہ اور غالب کے قصائد کا خصوصی مطالعہ شامل ہے۔

اردو قصیدہ نگاری کی تاریخ میں محمد رفیع سودا کو نقاشِ اوّل کا درجہ حاصل ہے۔ان کے قصائد فارسی قصیدے کے نمونے پر نہ صرف پورا اترتے ہیں بل کہ اردو نظم قصیدہ میں اپنی منفرد حیثیت قائم کرتے ہیں۔سودا کے علوئے تخیل اور غائر مشاہدے کے سبب قصیدے میں ایسے لفظ مستعمل ہیں جن کی ساختیات میں سائنسی حقیقت صورت پزیر ہے۔

تمام جانداروں مثلاً نباتات اور حیوانات وغیرہ میں فطری طور پر پھولنے پھلنے اور نشوونما کی طاقت پائی جاتی ہے۔ یہ طاقت قوت نامیہ (Faculty of growth )کہلاتی ہے۔قوت نامیہ کی اصطلاح مقبول ماہر علم حیاتیات مسٹر ڈارون کے نظریہ ارتقا سے متعلق ہے۔فطرت نے نباتات ،حیوانات اور انسانوں میں جسمانی طور پر ہر پہلو سے آگے بڑھنے اور نمو پانے کی صلاحیت رکھی ہے۔اس صلاحیت کے محرکات میں غذا(Nutrients) رطوبتیں (Hormones)  اور ماحول (Environment )اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ماحول میں اطراف و جوانب یا موسم بہار میں کسی باغ میں جتنے پھول ،پھل ، کونپلیں ، چھوٹی بڑی شاخیں اور ٹہنیاں دکھائی دیتی ہیں ان سب میں اسی پر اسرار قوت کا کرشمہ ہے۔نباتات ضیائی تالیف (photosynthesis )عمل کے ذریعے اپنی غذا خود تیار کرتے ہیں اور یہی غذا تمام تنے میں پہنچ کر قوت نامیہ کا کردار ادا کرتی ہے۔تہہ خاک تاریکی میں ننھا سا نہال بیج جب لگایا جاتا ہے تو اس کے تناور شجر تک کی صورت اختیار کرنے میں قوت نامیہ کلیدی اور قوت نمو کا کردار انجام دیتی ہے۔

مرغ کا بچہ ہو یا انسان کا ، سب شکم مادر میں اسی قدرتی قوتِ نامیہ کے سبب جسمانی پرورش کے مراحل طے کر رہے ہوتے ہیں۔

مذکورہ تمام معروضات کے اشارے سودا کی برتی قوت نامیہ اصطلاح سے ظاہر ہیں۔

قوتِ      نامیہ لیتی ہے نباتات کا عرض

ڈال سے پات تلک پھول سے لے کرتا ہے پھل

حدِ ایام کی بس از مددِ نامیہ سے

بچہِ مرغ ِ چمن تخم سے آتا ہے نکل

برگ پیدا کرے تا باغ میں ہر ایک نہال

پھوٹے تا نامیہ سے شاخِ شجر میں کونپل (۲)

سودا کے معروف قصیدے منقبت در حضرتِ علی کی  تشبیب میں اس پر اسرار قوت( قوت نامیہ) کا برت سائنسی حقیقت کا اشارندہ ہے۔

سودا کے بعد شیخ ابراھیم ذوق قصیدہ نگاری میں خاص مقام رکھتے ہیں۔اردو قصیدے میں کم و بیش سب قصیدہ نگاروں کے ہاں علمی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں مگر ذوق کو سب پر برتری حاصل ہے۔ذوق علمی اصطلاحات کے بادشاہ واقع ہوئے ہیں۔

ذوق نے اپنے دور کے متعدد مقبول علوم سیکھے اور یوں اپنی علمی استطاعت میں اضافہ کرتے رہے۔ایک تشبیب میں ذوق اپنی علمیت کا اظہار یوں کرتے ہیں:

شب کو میں اپنے سرِ بستر خواب راحت

نشہِ علم میں سر مست ِ غرور و نخوت

جو مسائل نظری تھے وہ بدیہی تھے تمام

عقل کو تجربہ کی اتنی ہوئی تھی کثرت

کبھی منطق کو تفوق یہ مرے ناطقے سے

فوقِ حکمت ہو یہ فن گرچہ ہے تحتِ حکمت

کبھی میں کرتا تھا تصریح ِ معانی و بیاں

کبھی میں کرتا تھا توضیح ِ نجوم و ہیئت

کبھی تھی عرصہِ تدویر فلک کی مجھے سیر

کبھی میں ناپتا تھا سطح زمیں کی وسعت

کبھی ثابت مرے نزدیک فلک کی گردش

کبھی مثبت مرے نزدیک زمین کی حرکت (۳)

قصائد میں یہ فخریہ قصیدہ کی قسم ہے جو ذوق کی علمی استعداد پر دال ہے۔درج بالا اشعار میں آخری شعر زمین اور تمام فلک کی گردش کا اظہاریہ ہے۔آج یہ ایک مسلم سائنسی حقیقت ہے کہ زمین سمیت خلا میں موجود تمام اشیا متحرک ہیں۔ جبکہ ذوق جس دور سے تعلق رکھتے ہیں اس دور میں زمین کے ساکن ہونے اور کئی ایسے فرسودہ عقائد کا رواج تھا۔مذکورہ قصیدے کی تشبیب کئی اصطلاحات مثلاً منطق ، فلسفہ ، کلاسیکل سائنس ، طب ، فلکیات ، نجوم ، علم کیمیا ، موسیقی ،ریاضی ، ارضیات ،فقہ ،تفسیر ،حدیث اور عروض جیسے علوم کا  احاطہ کرتی ہیں جن میں کئی اصطلاحات سائنسی اشارات اور سائنسی صداقتوں پر منتج ہیں۔

علم ارضیات میں خط استوا (Equator) ایک اہم اصطلاح ہے۔جو ایک ایسی فرضی لکیر ہے جو زمین یا زمینی نقشے کو شمالی اور جنوبی نصف کُرے میں تقسیم کرتی ہے اور یوں دو برابر حصوں میں اعتدال کی صورت نظر آتی ہے۔

ذوق نے اپنے ایک قصیدے (تشبیب) میں خط استوا کی اصطلاح کو کس قدر عمدگی سے شعری قالب میں ڈھالا ہے:

ہے مزاجِ اہلِ عالم یہ قریب اعتدال

ساتوں اقلیمیں ہیں گویا اب بہ خط استوا(۴)

ایک صحت مند معدے کی نشانی ہے کہ خوراک کو بروقت ہضم کر دیتا ہے۔نوالے کے منہ کے راستے معدے تک جانے میں اور پھر یہاں  سے جسم کا حصہ بننے تک کئی چھوٹے چھوٹے مرحلے ہیں۔جب خوارک معدے میں جاتی ہے تو معدہ کئی رطوبتیں ( gastric juice ) خارج کرتا ہے جس میں پانی ،تیزاب(Hcl) اور دیگر مواد شامل ہوتا ہے یہ سب خوراک کو ایک پتلے شوربے میں تحلیل کر دیتے ہیں جسے کیموس(chyme) کہتے ہیں ، ہضم شدہ خواراک ہمارے جسم کا حصہ بن جاتی ہے اور طب کی زبان میں جید الکیموس کہلاتی ہے۔معدے کی قوت فعال اور جیدالکیموس اصطلاح پر قصیدے کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

ہضم کامل اس قدر معدہ نے پہنچایا بہم

جید الکیموس ہے جو حلق سے اتری غذا(۵)

یہ چند مثالیں ذوق کے قصائد میں سائنسی اشارات کی عکاس ہیں۔

سودا اور ذوق کے بعد زبان دانی میں انشااللہ خاں انشا کے قصائد اپنی مثال آپ ہیں۔انشا کا علمی وقار بہت بلند تھا۔ذوق کی طرح انشا بھی فقہ و حدیث ، منطق و فلسفہ ،صرف و نحو اور علم طب کے علاوہ کئی دوسرے علوم متداولہ سے واقف تھے۔

انشا کی اہم خوبی کئی زبانوں پر دسترس تھی جن میں اُردو ،فارسی ، عربی ،ترکی ،انگریزی سمیت کئی علاقائی زبانیں پنجابی،بنگلہ،کشمیری ،پوربی ،راجھستانی اور مرہٹی شامل ہیں۔

ابتدائیہ میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ سائنسی اشارات کے حوالے تشبیب کے بعد دوسرا اہم ماخذ مدح ہے۔ اس کے لیے “قصیدہ در مدح بادشاہ ِ انگلستان جارج سوم  منتخب کیا گیا ہے۔اس قصیدے میں انشا کے دو ممدوح نواب سعادت علی خاں اور جارج سوم ہیں۔اس کی تشبیب بہاریہ ہے جو پُر مسرت کیفیات کا احساس دلاتی ہے۔

یہ قصیدہ نو آبادیاتی صورت ِ حال اور نظام کا کلامیہ ہے۔جس میں انشا اللہ استعماری دور میں انگریز باد شاہوں کی نہ صرف مدح بیان کرتے ہیں بل کہ اس دور میں ہونے والی سائنسی ترقیوں اور دیگر کارگزاریوں کو بھی نشان زد کرتے ہیں تاکہ انگلش باد شاہ کا قرب حاصل کر سکیں۔

جارج سوم کی مدح کے ضمن میں ڈاکٹر جمیل جالبی قم طراز ہیں

’’یہ مدح بھی اپنی نوعیت کی منفرد مدح ہے۔اس مدح میں جہاں تاج و تخت ،فوج و بخشش کی تعریف کی جاتی ہے وہاں علم و تحقیق ،سائنس اور ترقی کی مدح بھی کی جاتی ہے ‘الک ٹرسٹی'(electricity) کی دریافت کو بھی موضوعِ سخن بنایا جاتا ہے‘‘(۶)

قدر ہر علم کی، کی اس نے یہاں تک کہ بہم

سیکڑوں جمع ہوئے فضل و ہنر کے خرمن

جستجو     دیکھ   ،    نئی     نکالی      دنیا

رائج اس کو بھی کیے اپنے تھے جیسے کہ چلن

قوم نے اس کی جو دوڑائے سمندر میں جہاز

وہ کیا کام سکندر سے نہ جو آیا بن

ایک الک ٹرسٹی ایسی ہے بنائی جس کو

کبھی دیکھے تو فلاطوں رہے سرکن برکن(۷)

استعمار کار ، استعمار زدہ باشندوں پر اپنی تہذیب و تمدن اور مقامی باشندوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لیے ہر حربہ اپناتے ہیں تاکہ اپنے چلن (ثقافت، تہذیب ،زبان وغیرہ) رائج کر سکیں اور مقامی باشندوں کے چلن کو ازکار رفتہ دکھائیں بقول ڈاکٹر احتشام علی:

’’ ہاں یہ بات یقیناً غور طلب ہوگی کہ کیا یہ یورپی اجارہ محض فوجی طاقت اور سیاسی تدبیروں کے ذریعے ممکن ہوا تھا یا اس اجارے کے پس پشت وہ تقافتی تدبیریں اور نو آبدیاتی حربے بھی کارفرما تھے جنھوں نے مقامی باشندوں کے ذہن و دل کو بھی مغلوب کرلیا تھا۔یاد رہے کہ برصغیر میں مغربی استعمار کار جو برتر ثقافتی اقدار اپنے ہمراہ لائے تھے ،اُن کا  سب سے بڑا مقصد مقامی تہذیب و تقافت کو از کار رفتہ ثابت کرنا تھا‘‘(۸)

بالا درج اشعار خصوصی دوسرا شعر اس ساری صورت حال کو نشان زد کرتا نظر آتا ہے۔

نیز علوم کی ترقی اور کتب کے بیان میں لکھتے ہیں :

تھے ریاضی میں جو ماہر حکمائے یوناں

سب بجاتے تھے وہ نقارہ الملک لمن

پر ترے عہد میں موجود جو ہوتے تو انھیں

ایک  لڑکا  یہی  کہتا  کہ  بڑے  ہو کو دن

ہوئیں تصنیف کتابیں جو ترے عصر میں ہیں

ان  کے   آگے  کتب ِ   ماضیہ  تقویم  کہن (۹)

یہ مکمل قصیدہ اپنے اندر نو آبادیاتی نظام کے آثار سمائے ہوئے ہے۔اس قصیدے میں کئی انگریزی الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں جو انگریز ممدوح کی مدح سے منطبق ہیں جیسا کہ پوڈر (powder) ،کین(cane)، بوتل(bottle)، پلٹن(platoon)، کوچ (Coach اور کنگ (king) سمیت کئی انگریزی اشیا کے اردو ترجمے بھی کیے گئے مثلاً صندوقِ فرنگی (Musical Box) ، ساعتِ فرنگی(clock)وغیرہ۔ڈاکٹر جمیل جالبی اپنی کتاب تاریخ ادب اردو میں جہاں انشا کو پہلے ایسے شاعر قرار دیتے ہیں جس نے اپنی غزل اور قصیدے میں انگریزی الفاظ برتے وہیں انگریزی تہذیب کے اثرات کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’یہ انگریزی زبان و تہذیب کے اثرات کی وہ ابتدا تھی جو پوری شدت کے ساتھ نہ صرف آج ہماری زبان و تہذیب پر چھائی ہوئی ہے بلکہ اس نے ہماری اصل تہذیبی روح کو بھی محصور و نظر بند کر دیا ہے۔اس دور میں طبقہ خواص ان اثرات کو تیزی سے قبول کر رہا تھا۔خود نواب سعادت علی خاں انگریزی زبان سیکھ رہے تھے۔انگریزی وضع کی کوٹھی بنوا رہے تھے اور انگریزی اشیاء و لباس بھی استعمال کرنے لگے تھے‘‘(۱۰)

انشا کے بعد مرزا غالب کو قصیدہ نگاری میں جدت پسندی کا مقام حاصل ہے۔غالب نے کئی قصائد لکھے مگر ان کے صرف چار قصائد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔غالب جدت کے امام ہیں۔ وہ روایتی راستوں پر چلنا گوارا نہیں کرتے بلکہ منفرد اور جدید راستہ اپناتے ہیں۔ قصیدہ نگاری کے سلسلے میں بھی وہ انفرادیت پسند شاعر واقع ہوئے ہیں۔

بقول عبدالسلام ندوی:

’’غالب نے اردو زبان میں اگرچے چند ہی قصیدے لکھے ہیں ،لیکن یہ قصیدے اردو زبان کے لیے مایہ صد فخرو نازش ہیں‘‘(۱۱)

غالب کے قصائد میں کائنات اور مظاہر فطرت کا گہرا مشاہدہ ملتا ہے اور اسی گہرائی و گیرائی میں سائنسی شعور کی جھلکیاں نمایاں ہوتی ہیں۔

جب ہم رات کے آسمان پر نگاہ کرتے ہیں تو ہمیں ستاروں کا ایک بھرپور جہانِ حیرت نظر آتا ہے۔لیکن دن کے آسمان پر ہمیں صرف ایک ہی روش ترین ستارہ دکھائی دیتا ہے جس کی توانائی اور روشنی سے دن واضح ہوتا ہے وہ سورج ہے۔اسی سورج کے سبب رات کو سیارے اور چاند منور ہوتے ہیں۔جبکہ ان چاند اور سیاروں کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی یہ بے نور ہوتے ہیں۔

رات کے آسمان پر ان گنت ستارے نظر آتے ہیں جن میں کچھ سیارے بھی موجود ہوتے ہیں اور روشنی منعکس کرتے ہیں جس کے سبب روشن دکھائی دیتے ہیں مگر عام آنکھ ان میں فرق نہیں کر پاتی کہ یہ سیارے ہیں یا ستارے کیوں کہ دونوں ایک جیسے منظر پیش کرتے ہیں۔

بقول غالب :

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں  دھوکا  یہ بازی گر کھلا

سطح گردوں پر پڑا تھا رات کو

موتیوں کا ہر طرف زیور کھلا (۱۲)

آسمان پر نظر آنے والے ستارے ہم سے کئی لاکھ نوری سال کی مسافت پر ہوتے ہیں۔اتنی کثیر مسافت پر وہ ہمیں ساکن دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن سائنسی نقطہ نظر سے وہ ساکن نہیں بلکہ متحرک ہوتے ہیں اور کئی ستارے تو فنا ہو چکے ہوتے ہیں لیکن چوں کہ ستاروں کی روشنی ہم تک پہنچنے میں تاخیر کرتی ہے اور اس لیے وہ ہمیں وہیں قائم مقام روشن اور ٹمٹماتے نظر آتے ہیں۔درج بالا پہلا شعر اس دھوکے بازی پر دال ہے جبکہ دوسرے شعر میں رات کے آسمان پر ستاروں کے جال کے لیے” موتیوں کا زیور کھلا ” مصرع استعارے کی صورت اپنی شعری خوبصورتی برقرار رکھتا ہے اور دودھیا کہکشاں (Milky way)کے منظر کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں ہماری زمین ،سورج اور اربوں ستاروں سمیت نظام شمسی واقع ہے۔

ایک اور قصیدے میں اسی منظر کو دام سے مملو کیا گیا ہے

اُڑ کے جاتا کہاں کہ تاروں کا

آسماں  نے  بچھا رکھا تھا           دام (۱۳)

تاروں کے اس دام کو اگر ہماری کہکشاں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

غالب کو اشیاء کی ماہیت اور فطرت کا پورا درک حاصل تھا۔ان کے کلام میں کثافت و لطافت کے فطری حقائق پر کئی اشارے ملتے ہیں۔غالب نے ایک قصیدے میں غزل کا حسین استعمال بھی کیا ہے اسی غزل کا ایک شعر عناصر اربعہ (آگ ،ہوا ،پانی اور مٹی ) کی فطری حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔

آتش و آب  و  باد  و خاک نے  لی

وضع ِ  سوز   و  نم  و    رم  و  آرام(۱۴)

آگ دراصل ایک کیمائی تعامل ہے جو حرارت خارج کرتی ہے ،آب یعنی پانی اپنے اندر نمی رکھتا ہے ، ہوا  گیسوں کا مجموعہ ہے جس کے سبب اس کی نیچر متحرک رہنا ہے اور خاک کشش ثقل کے سبب حالت سکون میں رہتی ہے کیوں کہ خاک کئی مادی عناصر پر مبنی ہوتی ہے اور یہ سب طبیعی حالتیں اور سائنسی صداقتیں ہیں۔

غالب کے ایک قصیدے سے افتخار راغب  صاحب نے دو اشعار کی عمدگی سے سائنسی تعبیر پیش کی ہے ، ملاحظہ کیجیے:

’’آپ نے ویو اینرجی (Wave Energy) یعنی پانی کی لہروں سے پیدا ہونے والی بجلی کا نام سنا ہو گا۔ سمندر کی لہروں پر ایک آلہ نصب کر کے لہروں سے بجلی پیدا کی جاتی ہے گویا آب سے طاقتِ سیلاں سلب کی جاتی ہے۔ طاقتِ سیلاں یعنی پانی کی طاقت سے پن بجلی بھی بنائی جاتی ہے اور کوئلہ وغیرہ جلا کر آگ سے تھرمل اینرجی (Thermal Power)حاصل ہوتی ہے جسے ہم بجلی کہتے ہیں۔ غالب کے چار مصرع ملاحظہ کیجیے:

توٗ آب سے گر سلب کرے طاقتِ سیلاں

توٗ آگ سے گر دفع کرے تابِ شرارت

ڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانی

باقی نہ رہے آتشِ سوزاں میں حرارت

غالب کہتا ہے کہ توٗ آب سے طاقتِ سیلاں یعنی ویو اینرجی یا پن بجلی یا برقاب سلب یعنی جذب کرنے یا چھیننے لگے تو ڈھونڈے سے بھی دریا کی موجوں میں روانی نہیں ملے گی۔ اور آگ سے توٗ اگر شرارت کی تاب دور کرنے لگے تو آتشِ سوزاں یعنی جلانے والی آگ میں کوئی حرارت یعنی گرمی باقی نہ رہے۔ آگ سے شرارت کی تاب دور کرنے سے مراد تھرمل اینرجی یا بجلی پیدا کرنا ہے‘‘(۱۵)

المختصر قصائدِ غالب میں فطری حقائق اور مظاہر کائنات کے آئینے میں کئی فکری لہریں سائنسی اشارات سے عبارت ہیں۔

سودا ،ذوق ،انشا اللہ اور غالب کے قصائد کے علاوہ ہمیں مصحفی ، مومن ، داغ اور اسیر لکھنوی سمیت دیگر قصیدہ نگار ایسے ملتے ہیں جن کے ہاں سائنسی شعور کی رمق محسوس ہوتی ہے۔

قصیدہ کو ادبیات مشرق میں شہنشاہ اقلیم ادب اور انٹلیچوئل صنف کا درجہ حاصل ہے۔یہ قوتِ تخیل کا طلسم کدہ ہے۔یہ شعرا کے علمی، عمیق مشاہدے اور غیر معمولی ذہانت کا زائدہ ہے۔قصیدے کی شعریات میں اس قدر تنوع اور وسعت ہے کہ سائنسی جمالیات کا برابر شعور ملتا ہے۔شعرا نے اپنے قصائد میں معنیات کا ایک جہاں مرتب کر کے اسے بام ثریا پر پہنچایا اور انھیں معنوی جہتوں میں سائنسی اشارات کو نشان زد کیا گیا ہے۔

قصیدہ(درباری) اور دربار دونوں چولی دامن کا ساتھ رکھتے ہیں لیکن جب دربار فاتح کے قبضے اور نوآبادیات کی اجارہ داری میں منقلب ہوگئے تو قصیدہ اپنی اصل ہیئت اور افضلیت سے معدوم ہوگیا اور اس میں پہلے جیسی طمطراق صفت نہ رہی۔

حوالے:

(1)جمیل جالبی ،ڈاکٹر ،تاریخ ِادبِ اُردو (جلد دوم)،لاہور:مجلس ترقی ادب ،1994،ص:688

(2)  فاروق ارگلی(مرتبہ) ،انتخاب کلیات مرزا محمد رفیع سودا ،نئی دہلی:فرید بک ڈپو ،،2005،ص:381

(3)قصائدِ ذوق ،شیخ ذوق ابراھیم ،لاہور : ناشر عالمگیر پریس ،سن اشاعت ندارد، ص:17,18

(4)ایضاً،ص:3

(5)ایضاً

(6)حسن عسکری،مرزا مع محمد رفیع ،فاضل دیوبندی،کلام انشا(انشااللہ خاں انشا) الہ آباد:ہندوستانی اکیڈمی ،1952،ص:322

(7)جمیل جالبی ،ڈاکٹر،تاریخ ادب اردو(جلد سوم)،لاہور :مجلس ترقی ادب،اپریل2008 ،ص:142

(8)احتشام علی ،ڈاکٹر ،جدید اردو نظم کا نو آبادیاتی تناظر لاہور:عکس پبلیکیشنز ،2019،ص:14,15

(9)جمیل جالبی ،ڈاکٹر ،تاریخ ادب اردو(جلد سوم)،ص:113

(10)امِ ہانی اشرف ،ڈاکٹر ،اردو قصیدہ نگاری ،علی گڑھ:ایجوکشینل بک ہاوس ،1982،ص:276

(11)محمد انوالحق ،مفتی (مرتبہ)،دیوان غالب جدید(نسخہ حمیدیہ) ،بھوپال:مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی ،1982،ص:461

(12)ایضاً،ص:457

(13)ایضاً،ص:460

(14)ایضاً،ص:477

(15)افتخار راغب ،اشعار غالب میں سائنس کے تابندہ ذرات،مشمولہ سہ ماہی ’سمت‘ ، شمارہ۴۲،اپریل تا جون۲۰۱۹(آنلائن)

فون نمبر :+923426858518

ای میل: hussainsyedsajjad268@gmail.com

Leave a Reply