You are currently viewing قربانی

قربانی

سلیم سرور

قربانی

شہر کے جنوب میں، بازارِ یوسف کے آخری کونے پر وہ چھوٹی سی دکان برسوں سے کھڑی تھی۔ تختی پر ہاتھ سے لکھا تھا: ‘‘درزی فن پارہ’’۔ مگر فن پارہ کا ترجمہ اس نے خود سے “فریب پارہ” کر لیا تھا۔وہ کپڑے کم اورتاثر زیادہ سیتا تھا،اور جب سوئی قمیص میں چلتی تو دھاگا ضمیر پررینگتا محسوس ہوتا۔۔۔مگر وہ ہر باراس آواز کوسلائی مشین کے شور میں دفن کردیتا۔

اس کا اصل نام تو‘‘دراب زی’’ تھا، گویا تقدیر کا ایسا کڑاک دار طنز تھا جس نے اپنے نام کے بامعنی حرفوں کو بامقصد عمل میں کبھی بھی ڈھالنے کی کوشش نہ کی ۔مگر محلے بھر میں بس درزی کے نام سے پہچانا جاتا۔ شاید اسی لیے کہ وہ ہر کپڑے میں کوئی نیا ‘‘دھاگا’’ چھوڑ جاتا تھا،کبھی کم بٹن، کبھی ٹیڑھی قینچی، اورسچ تو یہ ہے کہ اس  ٹیرھی قینچی سے کپڑا کم اور اعتماد زیادہ کاٹتا تھا۔اور کبھی پرانی سلائی نئی قیمت پر۔اس نے کبھی دھاگے کے ایک تار کو بھی رائیگاں نہیں جانے دیا، اور ایک گز کپڑے میں بھی ایسا کمال دکھاتا کہ دیدۂ بینا دنگ رہ جاتا۔ مگر یہ کمال اس کے ہاتھ میں کم، اس کی نیت کی گرہ میں زیادہ پنہاں تھا۔ جہاں چار گز ریشمِ فاخرہ درکار ہوتا، وہ تین گز میں ہی کام چلانے کے ہنر دکھاتا، اور بقیہ پارچہ اپنی گٹھڑی میں ‘‘فائدہ’’ کے نام پر سمیٹ لیتا۔ زبان پر ہر وقت شریعت کے موتی بکھرتے، مگر اس کی دکان کا میزان ہمیشہ ایک پلڑے کی جانب جھکا رہتا، گویا عدل و انصاف کی آنکھ توازن کے معیار سے عاری ہے۔

ذی الحج کا چاند نکلا توآسمان پرمگرچمک  درذی کی آنکھوں میں بکھیرگیا۔ دکان کے سامنے گویا چاندنی بکھر گئی۔ گاہکوں کی قطار لمبی ہوتی گئی، اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری۔ “بھائی جان، سلائی اب دو دن میں ہو گی، اور ریٹ… تھوڑا سا بڑھ گیا ہے، مہنگائی دیکھ رہے ہیں نا!”۔گاہک گھبرا کرمان جاتے،اوردرزی مطمئن ہوجاتا جیسے ہر سلائی کے ساتھ کسی فریب کا علم سینے جارہا ہو۔

جب کوئی ناچارگاہک تعریف کردیتا تو مصنوعی  انکسار سے کہتا:‘‘اللہ کا  کوئی خاص کرم ہے،میرے ہاتھ ہنر کاکرشمہ بن چکے ہیں۔محنت اورنیک کمائی کا اثر ہے۔’’

اصل میں جناب ریاکاری کی پگڑی باندھ کرخود کوپارسا ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔لفظوں کا جال،غیرعملی زندگی اورفیس بک کی پوسٹیں اس کاغیر مکتوب عقیدہ تھا۔

عید سے پانچ دن قبل وہ بازار مویشیاں سے دو دانتوں والا،چمکتے سینگوں والا سیاہ بکرا لے آیا۔۔۔چال ایسی گویا نرگس کاہر قدم ادا ہو،جسم ایسا کہ دینوساری پہلوان لگے۔گھر میں بیوی بچوں سے محلے کے ہرفرد،دکان کے ہرگاہک اورحتی ٰ کہ راہ چلتے گامے شیدے کو بھی بتاتا کہ لکھ روپیا تے لگ گیا مگر بچے بھی راضی اور سنت  ابراہیمی دی بھی چس آجائے گی۔

بیوی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا:‘‘کیا اتنی بڑی قربانی کا بوجھ۔۔۔؟’’جواب آیا

‘‘قربانی میں دکھاوا نہیں دکھانا ضروری ہوتا ہے۔’’

محلے کے مولوی صاحب نے بھی جوڑے کے لیے کپڑا دیا۔ درذی نے سوچا:”اسی کے ہاتھ قربانی کے خلوص کا سبق سنوں گا، اور اسی کو دکھاؤں گا کہ میں بھی حضرت ابراہیمؑ کی سنت کا پیروکار ہوں۔”

درزی:‘‘مولوی صاحب،قربانی کی اصل روح کیا ہے؟’’

مولوی:‘‘خلوص،نیت اورایثار۔’’

درزی سینہ چوڑا کرتے ہوئے:تو اگر کسی نے مہنگا بکرا لیا،وہ بھی خلوص اورایثار کے عام درجے پر ہوگا؟’’۔

مولوی:خلوص کا تعلق د ل سے ہے،نرخ سے نہیں۔اللہ کو نہ گوشت پہنچتا ہے،نہ خون۔۔۔بس نیت پہنچتی ہے۔’’

درزی  کھیسیں  نکالتے ہوئے:‘‘نیت تو میری جیب میں ہے مولوی صاحب،اوربکرا محلے بھر کی آنکھوں میں۔’’

مگر اصل قربانی تو وہ محلے کے درزی شاگردوں سے لیتا تھا۔۔۔تین سوروپے فی جوڑا، اور وہی جوڑے گاہک سے پندرہ سو میں۔ کسی نے پوچھا تو کہتا: “بھائی، میں تو بس معیار کا خیال رکھتا ہوں۔ خود ہی سیتا ہوں سب کچھ۔”ریا کا خنجر چپ چاپ چلتا گیا، اور کپڑے ترازو میں رکھ کر ایمان کا وزن کم کیا جاتا رہا۔

دوروز قبل بکرا لاکر دکان کے باہر باندھ لیا اورہمسائے دکان دار نےقیمت سنتے ہی آنکھیں پھیلا دیں۔ درذی نے دھیمی آواز میں کہا:

“پورا لکھ۔ اصل میں بچوں کی خوشی اور اللہ کی رضا—بساط سے زیادہ لیکن نیت صاف ہے!”

نیت؟ یا نیت کی تشہیر؟

محلے بھر میں بکرا گلی گلی گونجا۔ بچے خوش، بیوی مطمئن، مگر سب سے زیادہ خوش وہ خود۔

کہتا پھرتا:”ہم بھی کچھ کم نہیں، اللہ کی راہ میں بہترین دیتے ہیں!”

عید سے ایک روز قبل پھر مولوی صاحب کو راہ چلتے جالیا:

درذی: “مولوی صاحب، آپ کے خیال میں قربانی میں نیت اہم ہے یا جانور؟”

مولوی: “نیت تو اصل ہے درذی بھائی، جانور تو محض علامت ہے۔”

درذی: “بس یہی سوچ کر مہنگا خریدا ہے، نیت کی گہرائی نظر آنی چاہیے!”

مولوی صاحب نے کچھ کہنا چاہا مگر پھر چپ ہو گئے۔ شاید جانتے تھے، یہ زبان نیت کے بجائے نمود کی عبادت گزار ہے۔

          دوپہر کو درزی ،بکرا دکان سے واپس گھر لےجارہا تھا تو رحیم بخش سے سامنا ہوگیا۔ درزی نے رحیم بخش کی بکری پر نظر ڈالی تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ “رحیم بخش! یہ بھی کوئی قربانی ہے؟ اللہ کی راہ میں لٹانے والی چیز تو ایسی ہونی چاہیے جو اپنی جان سے بھی عزیز ہو! لوگ فربہ اونٹ اور تنومند گائے ذبح کرتے ہیں،میرے بکرے کودیکھو اور تم اس چھیچھڑے کو لے آئے ہو، گویا بچھو کے ڈنک کو سانپ کا تریاق سمجھ رہے ہو!”

رحیم بخش نے ایک گہری آہ بھر کر کہا، “درزی صاحب! یہ میری بساط ہے۔ مجھے صرف قربانی کرنی ہے تاکہ سنت پوری ہونہ کہ دنیا سےمقابلہ ہو، اور مجھے یقینِ کامل ہے کہ اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے، ظاہری آب و تاب کو نہیں۔” اس کی بات میں وہ سچائی تھی جو رومی کے فلسفے میں “نیت کی پاکیزگی” کا جوہر کہلاتی ہے۔

درذی نے قمیص پر خون کے چھینٹے سجا لیے، مگر قصائیوں کو پیسے دے کر قربانی بھی کروا لی۔قصابوں کودو کلو گوشت دینے سے اس بناپر انکارکردیا ہے کہ اجرت کے عوض پیسے دیے اورساتھ مفت میں گوشت دینے سے مسکینوں کے حق پر ڈاکا پڑے گا اورقربانی کا ثواب کرکرا ہوجائےگا۔

دوران قربانی قصابوں سے گٹھ جوڑ کرلیا اوران کے ساتھ مل کرپیسے کمانے کی ٹھان لی۔عید کے تینوں دن وہ اپنے قصائی دوستوں کے ساتھ گھر گھر جاکر قربانیاں کرواتا رہا اورگھر آکر سینے پر ہاتھ مارکرکہتا:‘‘ہرگھر کی قربانی دیکھی مگر اپنے بکرے کا کوئی  پاسنگ بھی نہیں دکھا۔’’

اہلِ خانہ کو بتایا: “میں دوستوں کے ساتھ مصروف تھا، ہر گھر کی قربانی کا حصہ ادا کیا ہے۔”مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ گوشت کے تھیلے سنبھالتا رہا،جیب میں پیسے ڈالتا رہا اور دل کی زمین پر ایک بھی چھری خلوص کی نہ چلی۔

تیسرے دن شام، بچے بازار چلنے کو کہنے لگے۔ بیٹے نے کہا: “ابو، کچھ پیسے زیادہ مل جائیں تو اچھا کھلونا آ جائے گا۔”

درذی جھنجھلا گیا:

“میں نے تمہارے لیے لاکھ روپے کا بکرا خریدا! اب پیسے کہاں سے آئیں گے؟”

گویا بکرا نہیں، ان کی خواہشیں قربان ہوئیں۔

چوتھی شب درذی کو خواب آیا: سیاہ بکرا تین چور،ایک اندھیری گلی۔رسی کھلتی ہے اوربکرا چھن جاتا ہے۔درزی بکرے کا تعاقب کرتا ہے،لاکھ ہاتھ پاؤں مارنے کے باوجود بکرے کوپکڑ نہیں پاتا۔اچانک دو نقاب پوش درآمد ہوتے ہیں ۔آہ وپکار سنے بغیرگندہ غلیظ گوشت اس کے منہ میں ٹھونسنے لگتے ہیں۔بکرے کی کھریاں جیبوں میں بھردیتے ہیں۔زبردستی خود کوچھڑانے کی کوشش کرتا ہے تو خون اورپیپ کے بھرے نالے میں جاگرتا ہے۔ وہ چیختا ہے، دوڑتا ہے، پسینے میں بھیگا ہوا بستر سے ہڑبڑا کر اٹھتا ہے۔

بیوی جاگتی ہے۔

“خیر تو ہے؟ خواب میں کیا دیکھا؟”

وہ ہنسا اورہنسی میں خالی پن عیاں تھا:

“ارے وہ بکرا… چوری ہو گیا!”

بیوی نے حیرانی سے کہا:

“کیا بات کرتے ہیں، وہ تو تین دن پہلے قربان ہو چکا۔ آپ تو کہتے تھے ہر جگہ خود موجود رہے۔ کچن میں دیکھیں، اس کا گوشت رکھا ہے۔”

درذی نے کچن کی طرف نظر دوڑائی۔ فریزر سے ٹھنڈی ہنسی سنائی دی۔ ایک لمحے کو یوں محسوس ہوا جیسے گوشت پر تحریرلکھی ہو:

“نہ خلوص تھا، نہ قربانی۔”

اگلے دن، وہ دکان پر بیٹھا بٹن لگا رہا تھا۔ سامنے اخبار کھلا پڑا تھا۔۔۔صفہ اول پر ایک تصویردیکھتا ہے:

“ایک عورت،خون آلود چادر میں لپٹے بچے کے وجود کوسینے سےلگائے،جیسے ابراہیم اپنے بیٹے کورب کی رضا کے لیےپیش کررہے ہوں، شہید بچے کی ماں، بیٹے کے وجود کے ساتھ رخصت ہوتی سنت ابراہیمؑ کوارد گرد پھیلی تاریکی کے ساتھ تقابل کرکے دیکھتی ہے۔”

درذی کی آنکھوں میں ایک سایہ ابھرا۔ریا کی ترازو، خلوص کے میزان کے سامنے کانپنے لگی۔‘‘وہ تھی قربانی،خالص،بےریا،بےغرض اورمیں۔۔۔۔؟میں تو قینچی ہوں جو ہرکپڑےکو کاٹنا اپنا حق سمجھتی ہے۔’’

اس نے بٹن کا دھاگا توڑ دیا۔

اس روز سے دکان پر نئی تختی لگی:

“درذی فن پارہ نہیں—درذی آئینہ”

مگر آئینہ صرف دیکھنے والے کو نظر آتا ہے،

جسے دیکھنے کی جرأت ہو۔

Leave a Reply