
طیب فرقانی
کیا ہم زندہ ہیں؟خود شناسی پر مبنی ایک اہم کتاب
علیزے کی یہ کتاب خود آگاہی کے موضوع پر اردو میں نادر روزگار کتاب ہے. اس کا عنوان جتنا سنسنی خیز ہے کتاب اتنی ہی سنجیدگی سے مکالمہ کرتی ہے۔ زندوں سے یہ پوچھنا کہ کیا آپ زندہ ہیں؟ دماغ میں بڑا سوال قائم کردیتا ہے۔ کتاب کی ورق گردانی شروع کرتے ہی بنجامن فرینکلن کا درج ذیل قول قاری کے ذہن کو ایک ضرب اور لگاتا ہے :
’’کچھ لوگ پچیس سال کی عمر میں مرجاتے ہیں، لیکن پچھتر سال کی عمر میں انھیں دفن کیا جاتا ہے‘‘
اس قول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ مصنفہ نے کتاب کی فہرست میں بھی اسے شامل کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کتاب اسی موضوع کے محور پر گھومتی ہے۔خود آگاہی ہر عہد کا مسئلہ رہا ہے۔لیکن ہمارے عہد میں دنیا جس تیزی سے بدل رہی ہے اور انسانی زندگی میں جس برق رفتاری سے پیچیدگیوں کا اضافہ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے خود آگاہی پر گفتگو نے باضابطہ ایک شعبہ حیات، فن، اور صنعت کی شکل اختیار کرلی ہے۔
یہاں خود آگاہی سے مراد زندگی کو بہتر ڈھنگ سے جینے کے لیے اپنی ذہنی صحت کی چانج، تشخیص اور اس کا علاج ہے. مصنفہ اس کتاب میں بار بار اس بات کو دہراتی ہیں کہ ہندستانی معاشرے میں خود آگاہی سے متعلق بات کرنا اور اپنی ذہنی صحت کو درست کرنے کے تعلق سے انتہائی حد تک لاپرواہی اور کوتاہی برتی گئی ہے کیونکہ نفسیاتی امراض کو اس معاشرے میں دھبہ اور کلنک (stigma) سمجھا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ذہنی صحت کے تعلق سے گفتگو کی ضرورت کیا ہے۔مصنفہ کا جواب یہ ہے:
’’ہندوستانی ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (این آئی۔ ایم ۔ ایچ ۔ اے۔ این۔ایس ۔ ) کے ایک تازہ ترین سروے سے پتہ چلا ہے کہ تقریبا 15 کروڑ ہندوستانی شہریوں کو ذہنی صحت سے متعلق خدمات کی اشد ضرورت ہے، لیکن تین کروڑ سے کم ہی لوگ ذہنی امراض کے علاج کے خواہاں ہیں۔ لانسیٹ طبی جریدے نے ہندوستان میں سنہ 2017 میں ذہنی صحت سے متعلق جو سروے کیا تھا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 1990 سے 2017 کے دوران نفسیاتی امراض کی تشخیص دوگنی ہوگئی ہے۔‘‘
اس لیے ضروری ہے کہ ان موضوعات پر مسلسل مکالمہ قائم ہو تاکہ ذہنی عوارض سے نپٹنے کی سبیلیں پیدا ہوسکیں۔ علیزے نجف کی اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ میرے اس تجربے سے بھی ہوگا جو اس کتاب کے مطالعے کے دوران مجھے ہوا۔ اس کتاب میں کئی ذہنی امراض اور دماغی نظام کے ناموں کے مخففات لکھ دیے گئے ہیں. مثلاً ایک مقام پر وہ لکھتی ہیں:
’’ذہنی بیماری کی تعریف یہ ہے کہ اس سے متاثرہ انسان کی سوچ ، احساسات، رویے سبھی ایبنارمل ہو جاتے ہیں ۔ یہ جسمانی بیماریوں کی طرح کبھی شدید بھی ہو سکتی ہے اور کبھی معمولی نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ نارمل نظر آنے والے انسان میں بھی یہ نفسیاتی بیماری کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو سکتی ہے۔ شدید قسم کی بیماریوں کی علامات صاف محسوس کی جاسکتی ہیں۔ ان میں ڈپریشن، اینگزائٹی، آٹزم، ADHD ،OCD شیزوفرینیا، بائی پولر ڈس آرڈر وغیرہ شامل ہیں۔‘‘
اس میں OCD اور ADHD کی تفصیل جاننے کے لیے میں نے گوگل کیا. گوگل نے ہماری تلاش کو محفوظ کرلیا، جیسا کہ وہ کرتا ہے. اب جب یو ٹیوب پر میں کوئی ویڈیو دیکھتا ہوں تو مجھے ان تربیت کاروں کے اشتہارات دکھائی دیتے ہیں جو ذہنی نشوونما اور اس کی صحت سے متعلق ویبی نار، اور آن لائن کورسز کراتے ہیں۔ان میں ’’جوش ٹاک‘‘ والے گرو کا وہ کورس بھی ہے جو’’ماسٹر یور ماینڈ‘‘کے نام سے آن لائن پیش کیا جاتا ہے. اس میں حد سے زیادہ سوچنا، بے وجہ ڈرنا اور اندیشے پالنا جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے. ان کورسز میں اور اس کتاب میں فرق بس یہ ہے کہ کورس کو ایک دن ختم ہوجانا ہے مگر یہ کتاب آپ کے ساتھ اس وقت تک رہے گی جب تک آپ اسے اپنے پاس رکھنا چاہیں۔ علیزے نے اسے ایک کورس کے طور پیش نہیں کیا ہے بلکہ اردو معاشرے کو ذہنی صحت کے تعلق سے غور و فکر کا زاویہ دیا ہے. اس کتاب کا سلوگن ہے
’’ان لوگوں کے لیے جو صحیح زاویے کی تلاش میں ہیں۔‘‘
کیوں کہ’’بیماریاں کبھی بھی خود بہ خود ٹھیک نہیں ہوتیں؛ بلکہ اسے توجہ اور ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے‘‘۔جسمانی صحت کی جتنی اہمیت ہے، بہتر اور اطمینان بخش زندگی کے لیے ذہنی صحت کی بھی ویسی ہی اہمیت ہے۔ زندگی خوشی اور غم دونوں کا مجموعہ ہے، ہمارے لیے ضروری ہے کہ جذبات اور عمل کے درمیان مواقفت پیدا کریں اور زندہ رہنے کے ہنر سیکھیں۔اس کتاب میں ایسے ہنر پر بحث کی گئی ہے جن کو سیکھ کر ہم اپنی زندگی کو کم وسائل میں بھی بہتر بنا سکتے ہیں اور چڑچڑے پن، جھلاہت جیسے دوسرے ذہنی و نفسیاتی عوارض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔علیزے نجف نے اس کتاب میں درج ذیل بائیس مضامین کو یک جا کیا ہے۔
’’کیا ہم زندہ ہیں، مسائل حل کرنے والا ذہن، نرگسیت کی وبا، ٹاکسک پازیٹویٹی، ناکامی کی ذمے داری، سوچنا ایک آرٹ ہے، عادت کی طاقت، کمفرٹ زون کی قید، مواقع کبھی ختم نہیں ہوتے، فیصلہ سازی کی صلاحیت، اوور تھنکنگ کے مضر اثرات، ذہنی غربت ایک سنگین مسئلہ، موٹیویشن مع ڈسپلن، نفسیاتی صحت کی دیکھ بھال، مقصد زندگی کا تعین، مائنڈ فلنس کی اہمیت، اینگزائٹی کی اذیت، روحانی ذہانت کیا ہے، شکر گزار ہونا ناگزیر کیوں، مثبت ذہنی رویہ، خاندان کی لیڈر شپ، خوش رہنا سیکھنا پڑتا ہے۔‘‘
یہ مضامین ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے میں پیوستہ ہیں. جیسے کتاب ایک الماری ہے اور مضامین اس الماری میں رکھی ہوئی ایک ہی سلسلے کی متعدد کتابیں ہیں۔ ممکن ہے کتاب کی مذکورہ فہرست دیکھ کر آپ یہ سوچیں کہ یہ سارے موضوعات جانے پہچانے ہیں، کیوں کہ ان موضوعات کو ہم نے پہلے کبھی یہاں وہاں دیکھا، سنا اور پڑھا ہے؛ لیکن علیزے نجف نے ان موضوعات پر خوب غور و فکر کرکے منظم انداز سے روشنی ڈالی ہے. یہ کتاب اس موضوع پر لکھی گئی ماہرین فن کی کتابوں اور خیالات سے استفادہ کرتی ہے۔ علیزے نے ان ماہرین فن کو پیش نظر رکھ کر اپنے خیالات، تبصروں اور تجربوں سے اسے مزین کیا ہے۔یہ کتاب سماج کے ہر طبقے کو مخاطب کرتی ہے. یہ فرد کو بھی مخاطب کرتی ہے، خاندان اور سماج و معاشرہ کو بھی. اور ان ذہنی و نفسیاتی مسائل کو زیر بحث لاتی ہے جو ہر عمر اور ہر طبقے کے لیے مسئلہ ہے۔
اس کتاب کی اچھی بات یہ ہے کہ یہ آپ کی زندگی کو مکمل طور بدل دینے کا دعوا نہیں کرتی بلکہ بیداری پیدا کرنے، سوچنے اور لائحہ عمل طے کرنے پر بر انگیخت کرتی ہے۔ اس موضوع پر یہ کتاب متوازن زاویہ نگاہ پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے اور کسی قسم کا ہائپ تخلیق نہیں کرتی. مجھے یاد آتا ہے کہ 2009ء میں ارندم چودھری کی کتاب Find the diamond in you کا اردو ترجمہ جامعہ نگر، نئی دہلی کی گلی کوچوں میں بھرا پڑا تھا اور اس نے بڑی شہرت سمیٹی تھی. میں نے بھی اردو ترجمہ پڑھا تھا، بعد کے تجربے نے مجھے موٹی ویشنل اسپیکرز سے کبھی محبت ہونے نہیں دی، قاسم شاہ اور منور زماں کو میرے دوست احباب سنتے اور مشترک کرتے ہیں لیکن میرا رد عمل ہمیشہ پھیکا ہی رہا. مجھے لگتا رہا ہے کہ موٹی ویشنل مقرر صنعتی دور کا زائیدہ ہے اور یہ کسی حد تک فراڈ ہے۔علیزے نجف کی زیر نظر کتاب اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالتی ہے۔
علیزے کا خیال ہے اور درست خیال ہے کہ چھوٹی چھوٹی عارضی خوشیوں کے پیچھے بھاگتے رہنے سے انسان بڑے مقاصد کو پورا کرنے میں ناکام رہ جاتا ہے، اس طرح وہ معمولی خوشیاں ہی بڑے مقاصد کے حصول میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ اس لیے موٹیویشنل مقررین اور اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں کو سننا اور پڑھنا درست اور کار آمد ہے لیکن بیرونی موٹی ویشن سے زیادہ ضروری ہے اندرونی موٹی ویشن۔جب اندرونی موٹی ویشن کسی مقام پر کم زور پڑے تو بیرونی موٹی ویشن اس کا تدارک کرتی ہے جیسے جسم بیمار ہو تو دوائیں صحت لوٹا دیتی ہیں. موٹی ویشن کی سائنس پیچیدہ ہے اور اس میں ٹھہراؤ کی گنجائش کم ہوتی ہے. اس لیے موٹی ویشن کے ساتھ نظم و ضبط (ڈسپلن) ضروری ہے. کیوں کہ غیر منظم زندگی بے مقصدیت اور بے سمتی کا شکار ہوسکتی ہے. اور چوں کہ موٹی ویشن کی سطح ہمیشہ یکساں نہیں رہتی، کبھی ختم بھی ہو سکتی ہے اس لیے نظم و ضبط اور اصول و ضوابط کو اپنانا ضروری ہے، نظم و ضبط جب انسان کی عادت اور معمولات زندگی بن جائے تو اس میں تسلسل قائم رہتا ہے. یعنی پہلا قدم اٹھانے کے لیے موٹی ویشن (اندرونی و بیرونی) ضروری ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے نظم و ضبط ضروری ہے. یہ بھی ذہن نشین رہے کہ موٹی ویشن بہ مقابلہ نظم و ضبط کے بجائے موٹی ویشن مع نظم و ضبط کو اپنانا ضروری ہے۔
میرا ایک دوسرا تجربہ یہ ہے کہ جب میں چھوٹا تھا اور کبھی چپ چاپ خاموش بیٹھا رہتا تو میری ماں ٹوکا کرتی تھیں۔ وہ کہتی تھی تم بالکل اپنے باپ پر گئے ہو۔ ہر وقت کچھ سوچتے رہتے ہو۔ زیادہ سوچنے سے صحت خراب ہوتی ہے۔ تب میں کچھ نہیں کہتا تھا، بعد کے دنوں میں، میں ایسے موقعوں پر ان سے پوچھتا تھا کہ سوچنا کیوں کر بری بات ہوسکتی ہے جب کہ انسان کو غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ تب بھی وہ میرے خیال کی تردید کسی نہ کسی زاویے سے کرتی ہی تھیں۔یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم دونوں دو مختلف موضوعات کو ایک ہی اصطلاح کے ضمن میں زیر بحث لاتے تھے۔ میری ماں کے پاس اصطلاحات نہیں تھے، زندگی کے تجربات تھے، میرے پاس اصطلاحات جیسے کچھ الفاظ تھے، زندگی کے تجربات نہیں. میری ماں درست کہا کرتی تھیں اور میں بھی اپنی جگہ درست تھا۔وہ “چنتا‘‘ یا” اوورتھنکنگ‘‘ کو منع کرتی تھیں اور میں غور و فکر پر زور دیتا تھا. کبیر داس سے منسوب ایک دوہا ہے :
چنتا سے چترائی گھٹے دکھ سے گھٹے شریر
لوبھ کئے دھن گھٹے کہہ گئے داس کبیر
یعنی ذہن میں افکار کا پیدا ہونا فطری ہے لیکن یہ بہت زیادہ ہو یا بے وجہ ہو تو یہ چنتا ہے جسے انگریزی میں اوور تھنکنگ کہا جاتا ہے۔یہ ایک کیفیت ہے جس میں انسانی دماغ مسلسل کچھ سوچتا رہتا ہے اور یہ افکار عموماً منفی ہوتے ہیں۔اس سے ذہنی تناؤ، اضطراب اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔علیزے نجف نے وکتر فرینکل کے حوالے سے لکھا ہے کہ زندگی میں معنویت اور مقصدیت کی کمی کی وجہ سے اوورتھنکنگ پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کی متعدد شکلیں ہیں۔ علیزے نجف نے اس کتاب میں تفصیل سے لکھا ہے کہ کس طرح چنتا سے مکتی حاصل کی جائے۔
منفیت سے بچنے کے لیے مثبت فکر کو اپنانا ضروری ہے لیکن یہاں بھی اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ انسان بہت زیادہ مثبت نہ ہوجائے. اس عمل اور کیفیت کو علیزے نجف نے ٹاکسک پازیٹویٹی کا عنوان دیا ہے. کیوں کہ بہت زیادہ مثبت ہونے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ انسان حقیقت پر مبنی خیالات سے نظریں چرانے لگے. علیزے لکھتی ہیں :
’’جب ہم اپنے اندر کے غم کے احساسات یا حقیقت پر مبنی خیالات سے نظریں چرانا شروع کر دیتے ہیں۔ جب ہم خود کو ہر لمحہ مطمئن رہنے اور خوشی محسوس کرنے کا پابند کر دیتے ہیں۔ جب زندگی کی تلخ حقائق کا سامنا کرتے ہوئے ہم خود کو اندر سے مطمئن نہیں پاتے تو ہمارے اندر ایک طرح کی Shame یا Guilt پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ایسی ’’پازیٹیویٹی‘‘ٹاکسک پازیٹیوٹی (Toxic Positivity) میں بدل جاتی ہے۔ اس سے نجات حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
در اصل توازن ہی بہتر اصول ہے. زندگی کے ہر شعبے میں توازن قائم کرنے کی ضرورت مذہبی بیانیہ بھی رہا ہے. اس کتاب میں توازن کے بیانیے کو قائم رکھنے پر زور ملتا ہے. نرگسیت ہو، سہل پسندی ہو، سوچنا ہو، مثبت ہونا ہو؛ ان سارے موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے علیزے توازن قائم رکھنے پر ہی زور دیتی ہیں. وہ نا امیدی کو کفر ٹھہراتی ہیں اور آپدا میں اوسر تلاش کرنے پر زور دیتی ہیں. انھوں نے سن زو کا قول نقل کیا ہے کہ کامیابی مسائل میں مواقع ڈھونڈنے سے ملتی ہے۔
اس کتاب میں بیش تر مقامات پر اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے ایسے بہت سے چست اور قابل عمل و قابل فہم اقوال درج کیے گئے۔ان کی فہرست بہت لمبی ہو جائے گی۔ہر مضمون کی ابتدا اس مضمون سے متعلق کسی مفکر کے قول سے ہوئی ہے۔لیکن ہر مضمون کے اندرونی متن میں بھی متعدد اقوال درج ہوئے ہیں، جن میں سے چند کا ذکر یہاں ضروری سمجھتا ہوں تاکہ کتاب کی نوعیت کا بھی اندازہ ہوسکے۔
*خوشی ایک انتخاب ہے جس کے لیے باقاعدہ کوشش کرنی پڑتی ہے۔
*ہمارے خوش رہنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم زندہ ہیں۔
*لیڈر لیڈ کرتا ہے اور باس چلاتا ہے۔
*ہم صرف ایک فی صد عظمت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں بقیہ ننانوے فی صد عظمت اپنی محنت اور جد وجہد سے حاصل کرتے ہیں۔
*مثبت رویہ ہمارے سارے مسائل نہیں حل کرسکتا، لیکن اگر ہم مسائل سے نکلنا چاہتے ہیں تو یہی ہمارے پاس واحد آپشن ہے۔
*مثبت رویے کی تعمیر کا آغاز خود پر اعتماد رکھنے سے ہوتا ہے۔
*اینگزائٹی کی جڑیں بے اطمینانی اور عدم تحفظ کے احساس میں موجود ہوتی ہیں۔
*آپ لہروں کو نہیں روک سکتے، لیکن آپ سرفنگ کرنا سیکھ سکتے ہیں۔
*انسانی وجود صرف زندہ رہنے کے لیے نہیں بنایا گیا ہے، بلکہ وہ کسی مقصد کے تحت زندہ رہنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔
*جیل کا قیدی ہونا اتنا برا نہیں ہوتا، جتنا کہ سوچ کا قیدی ہونا برا ہوتا ہے۔
ان اقوال میں بہت سے معانی پنہاں ہیں. میں نے شعوری طور سے چھوٹے اور چست اقوال کا انتخاب کیا ہے اور طوالت کے خوف سے صاحبانِ اقوال کے ناموں کا اندراج نہیں کیا ہے. علیزے نے اس فن کے ماہرین اور ان موضوعات پر ہونے والی تحقیقاتی رپورٹس اور سرویے وغیرہ کے جس طرح حوالے دیے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ علیزے کو اس فن سے گہری وابستگی ہے۔ انھوں نے اس فن کے ماہرین سے انٹرویوز بھی کیے ہیں اور ان مسائل پر اہم گفتگو کی ہے۔
اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ علیزے ان مسائل کی تشریح و توضیح کے ساتھ ہی ان کے ممکنہ حل پر بھی تفصیل سے لکھتی ہیں. اور ہر نکتے کو واضح کرتی جاتی ہیں. وہ خواب نہیں دکھاتی، تعبیر بھی پیش کرتی ہیں. وہ جھاڑ پر نہیں چڑھاتی، مسئلے کے ارضی اور حقیقی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں. اگر وہ خوش رہنے کی مشق کراتی ہیں تو ساتھ ہی تنبیہ بھی کرتی جاتی ہیں، مثلاً ایک جگہ لکھتی ہیں :
“کچھ لوگ واقعی بہت مشکل زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے ذہنی سکون کی راہ میں کئی ساری رکاوٹیں ہوتی ہیں؛ لہذا ان سے بلا تمہید یہ کہنا کہ “خوش رہیے“ یہ ایک احمقانہ عمل ہوگا۔ ہر کسی کی ذہنی حالت مختلف ہوتی ہے۔ اسے سمجھتے ہوئے ہی ہم دوسروں کو اپنے نظریات میں تبدیلی لانے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو خوش اور پر سکون رکھنے کے لیے اگر چھوٹی چھوٹی ہی کوشش کرتے ہیں تو بھی ہم خود کو ایک دن بہتر زندگی کی طرف لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ خوش رہنے کا کوئی ایک حتمی اور واحد نسخہ نہیں، جسے سیکھ کر چند دن میں ہی سب کچھ بدل جائے گا۔ اس کے لیے ہر کوئی مختلف اصولوں کو آزماتا ہے اور کوشش و تجربے کے ذریعے سیکھتا رہتا ہے۔ ایک ہی حل ہر کسی کے لیے یکساں مؤثر نہیں ہو سکتا؛ اس لیے ہر کسی کو اپنے طور پر یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس کے لیے کون سی تکنیک کارگر ہو سکتی ہے۔
بیش تر مضامین میں علیزے نجف نے تشریح و توضیح اور تعبیر و تحلیل کے ساتھ تمثیلی کہانیاں بھی پیش کی ہیں، جنھیں ہم کیس اسٹڈی کہہ سکتے ہیں. اس سے مسئلے کی تفہیم آسان ہو جاتی ہے. ایک تمثیلی کہانی یہاں پیش کر رہا ہوں، اس کا انتخاب اس لیے کیا کہ اس سے روحانی ذہانت کی نشوونما بھی ہوتی ہے. علیزے نے ذہانت کی چار اقسام بتائی ہیں: ذہنی ذہانت (Intellectual Intelligence) ، طبعی ذہانت (Physical Intelligence)، جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) اور روحانی ذہانت (Spiritual Intelligence). روحانی ذہانت پر الگ سے مکمل اور با معنی مضمون لکھا ہے. درج ذیل تمثیلی کہانی انھوں نے اپنے مضمون “شکر گزار ہونا ناگزیر کیوں میں درج کیا ہے. اس میں وہ اس مسئلے پر روشنی ڈالتی ہیں کہ شکر کے الفاظ کا ورد کرتے ہوئے بھی انسان اپنی زندگی میں بے سکونی کا شکار اور جذباتی طور سے تھکا ہوا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان بہ ظاہر تو شکر ادا کرتا رہتا ہے لیکن شکر کی روح سے نا آشنا ہے. جو نعمتیں میسر ہیں ان پر غور کرنے کے بجائے غیر میسر نعمتوں میں انسان کا ذہن الجھا رہتا ہے. اسی مسئلے کی تمثیل اس طرح کی گئی ہے۔
“ایک صحرا میں ایک چھوٹا سا پرندہ رہتا تھا۔ صحرا میں کوئی درخت نہ ہونے کی وجہ سے پرنده دن بھر گرم ریت پر گھومتا پھرتا۔ خدا کی طرف جاتے ہوئے ایک فرشتے نے چھوٹے پرندے کو دیکھا اور اسے ترس آیا۔
اس نے جا کر پرندے سے پوچھا:”اے چھوٹے پرندے! تم اس تپتے صحرا میں کیا کر رہے ہو؟ کیا میں تمھارے لیے کچھ کر سکتا ہوں؟”
چھوٹے پرندے نے کہا: “میں اپنی زندگی سے بہت خوش ہوں؛ لیکن یہ گرمی نا قابل برداشت ہے۔ میرے دونوں پاؤں جل رہے ہیں۔ اگر یہاں ایک درخت ہوتا تو مجھے خوشی ہوتی ۔”
فرشتے نے کہا : ” صحرا کے وسط میں درخت اگانا میرے دائرہ کار سے باہر ہے۔ میں خدا سے ملنے جارہا ہوں، میں اس سے پوچھوں گا کہ کیا وہ تمھاری خواہش پوری کر سکتا ہے۔”
فرشتے نے خدا سے پوچھا : ” کیا وہ پرندے کی مدد کر سکتا ہے؟”
خدا نے کہا: ” میں صحرا میں درخت اگا سکتا ہوں، لیکن پرندے کی تقدیر میں درخت نہیں ہے۔ تاہم، تم پرندے کو میرا پیغام دے دینا، جس سے اسے گرمی سے بچنے میں مدد ملے گی۔ پرندے سے کہنا ایک وقت میں ایک پاؤں ریت پر رکھے اور ایک اٹھا لے، اس طرح ایک پاؤں کو تھوڑی دیر آرام مل سکتا ہے۔ پرندے سے یہ بھی کہنا کہ اپنی زندگی کی تمام اچھی باتیں یاد کرے اور ان کے لیے خدا کا شکر ادا کرے ۔
فرشتہ وہاں واپس وہاں آیا جہاں پرندہ تھا اور اسے خدا کی طرف سے یہ پیغام دیا۔ پرندہ اس پیغام سے خوش ہوا اور اس نے فرشتے کا شکریہ ادا کیا۔
کچھ دنوں کے بعد فرشتہ اسی صحرا کو پار کر رہا تھا کہ اسے ننھے پرندے کا خیال آیا۔ اس نے پرندے کو صحرا کے عین وسط میں بڑے سر سبز درخت پر بیٹھے دیکھا۔
فرشتہ پرندے کو آرام سے دیکھ کر خوش ہوا، لیکن ساتھ ہی بہت حیران ہوا؛ کیونکہ پرندے کی قسمت میں کوئی درخت نہیں تھا۔ فرشتہ خدا سے ملنے گیا اور حیرانی سے اسے سارا ماجرا سنایا۔
خدا نے جواب دیا: “پرندے کے نصیب میں درخت نہیں تھا۔ تاہم، جب تم نے اسے میرا پیغام دیا اور اپنی زندگی کی تمام اچھی چیزوں کے لیے خدا کا شکر گزار ہونے کو کہا، تو پرندے نے ان الفاظ کو عملی جامہ پہنایا۔ اس نے اپنی زندگی میں ہر حاصل شدہ نعمت کو یاد کیا اور سچے دل سے اللہ کا شکر ادا کیا۔ میں پرندے کے شکر گزاری کے جذبے سے متاثر ہوا اور میں نے اس کی تقدیر بدل دی اور اس کے لیے صحرا میں درخت اگا دیا۔
اس تمثیل سے یہ تفہیم ہوتی ہے کہ شکر سے نعمتوں کو عروج اور ناشکری سے زوال حاصل ہوتا ہے. زندگی میں نعمتوں کے ہونے کا اعتراف کرنا، زندگی کو خوش آمدید کہنا، اور نعمت اور نعمت دینے والے؛ دونوں کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے۔
اس کتاب کی اہمیت اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس کا فلیپ لکھا ہے یا اس کی تقریظ و تقریب لکھی ہے وہ بھی اس فن کے ماہرین ہیں اور اسی طرح کے عوارض کے معالج ہیں۔
لسانی نقطہ نظر سے علیزے نے زیادہ آزادی لے لی ہے. انھوں نے انگریزی الفاظ کا استعمال بے تحاشا کیا ہے۔ اس سے کتاب کی اہمیت پر تو کوئی حرف نہیں آتا لیکن قاری کے لیے یہ ضروری قرار دیتا ہے کہ اسے انگریزی کی شد بد بھی ہو۔