
ڈاکٹرامتیاز وحید
شعبہ اردو، کلکتہ یونیورسٹی
مرشد (خاکہ )
نومبر2017ء میں درگاپوجاکے بعد کلکتہ یونیورسٹی میں کاروبارِ حیات معمول پر آتے ہی شعبہ اردو میں حاضرہوا توڈاکٹرندیم احمدسے میری پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی۔ اسی دن یا اسی کے آس پاس کسی دن جیلانی صاحب بھی شعبے میں تشریف لائے، تعارف ہوا تو بڑی اپنائیت سے ملے اور مفید مشوروں سے نوازا۔پہلے دریافت کیا کہ کہاں قیام ہے؟اس وقت میں شمسی گیسٹ ہاؤس، چونا گلی میں مقیم تھا، پھررفتہ رفتہ گاؤں سے بچے آئے اور زندگی معمول پر آتی چلی گئی۔وہ میرے ذاتی معاملات میں اس قدردلچسپی لینے لگے کہ دو ایک روزہی میں غیریت ختم ہوگئی۔جیلانی صاحب کو فکردامن گیرہوئی کہ جب تک مجھے کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں مل جاتا بچوں کا داخلہ کیسے ممکن ہوپائے گااور ہم گیسٹ ہاؤس میں کب تک رہیں گے۔ لہٰذاانھوں نے کلکتہ یونیورسٹی کے ٹیچرس کوارٹرکی بابت تفصیلی معلومات فراہم کیں اور کہا کہ فارم پُرکردیجئے تاہم محض اسی سے کام نہیں چلے گا، الگ سے ایک چٹھی بھی لکھنی ہوگی تاکہ شیخ الجامعہ آپ کی درست پوزیشن سے واقف ہوجائیں اورآپ کو کوارٹرمل جائے۔انھوں نے ہی کانکورگاچھی کے فلیٹ میں مقیم ڈاکٹرشکیل احمدکے بارے میں بتایا کہ ان سے بھی مل لیجئے۔یہیں شعبہئ عربی وفارسی میں استاد ہیں اورجے این یو سے فارغ ہیں۔ جیلانی صاحب کے مشورہ پر عمل کیا،فارم پُرکیا اور پھرمیرے رفقائے کارمتحرک ہوگئے۔کئی بار ڈاکٹرندیم احمدمتعلقہ سیکشن میں میرے ساتھ گئے اور گہارلگائی بالآخریہ مرحلہ بھی خواہرمہربان ڈاکٹرزرینہ خاتون کی ذاتی کوششوں سے طے پایا اورکلکتہ میں میری رہائش کا بڑامسئلہ حل ہوگیا۔ یہ پہلافیض تھا،جو مجھے جیلانی صاحب کے مفیدمشوروں اور ان کی رہنمائی کے طفیل حاصل ہوا۔
شعبہ اردو، کلکتہ یونیورسٹی میں میرے ابتدائی ایام (ماہ وسال) بڑے یادگار گزرے۔ پروفیسرشہنازنبی سبکدوش ہوچکی تھیں لیکن غبارِ کارواں کی طرح فضا میں ان کی موجود گی کا احساس باقی تھا۔ زمامِ کار ڈاکٹر ندیم احمد کے ہاتھوں میں تھی۔وہ تنہا اس کشتی کے مانجھی تھے اور بڑی مہارت سے شعبے کے نظام کو چلارہے تھے۔ان کے گرد پروفیسر شمیم انور، جناب حیدرصفت، پروفیسرعبدالمنان، ڈاکٹرالماس حسین، ڈاکٹر فاروق اعظم اور ڈاکٹرعرفان نقوی جیسے سابق اور معاصر اساتذہ کی ایک کہکشاں موجود تھی۔شعبے میں بڑی رونق تھی۔ جیلانی صاحب ا سی قافلے میں شامل تھے۔ ان کی ذات رونقِ بزم تھی۔جیلانی صاحب کو خوش مزاج اور ہمدردپایا۔وہیں پہلی بار ان کے قہقہوں سے ملاقات ہوئی اور ہم بے تکلفی کے بندھن میں بندھتے چلے گئے۔ان کے مشفقانہ بلکہ دوستانہ برتاؤ میں بڑی اپنائیت تھی۔ افسوس کہ مجھے جیلانی صاحب کی گرمیِ صحبت سے زیادہ دنوں تک فیض یاب ہونے کا موقع نہیں مل پایا۔ دوایک سال بعد ہی صوبائی حکومت کے ضابطے کے مطابق انھیں شعبے سے جداہونا پڑا۔ اس مختصر مدت میں ان کی باغ و بہار شخصیت کو قریب سے دیکھنے، بہت کچھ سیکھنے اور کلکتہ کے ادبی ماحول کوسمجھنے کا موقع ہاتھ آیا۔محسوس ہوا کہ وہ کلکتہ میں اردو کے تمام دجلہ و فرات کے شناور رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کے گردو نواح اور اردو بستیوں میں بہنے والے ذیلی ندی نالوں کی بھی خبر رکھتے ہیں اوراردو کے لیے کام کرنے والوں کے سچے قدردان ہیں۔ اساتذہ، سینیر اور اپنے نگراں کا ذکرِ جمیل ان کی نوکِ زبان پر رہتا ہے۔ صلحِ کل کے آدمی ہیں۔ ادبی بوہیمزم ان کا مسلک نہیں اور نہ ہی گروہی حدبندی ان کی منزل ہے۔ وسیع المشرب اور کشادہ ظرف انسان ہیں۔وہ سمندر کے کھارے اور میٹھے پانی کے فرق کو بخوبی جانتے ہیں لیکن کبھی جارحانہ تنقید کرتے ہیں اور نہ کسی کی مذمت۔جہاں ذم کا سیاق ہووہاں زیرِلب تبسم اورپانی بالکل گدلا بلکہ بدذائقہ اور بدبودار ہو تو قہقہہ بکھیر کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
جیلانی صاحب کی شخصیت کھلی کتاب کے مانند واضح ہے۔کہیں ژولیدگی نہیں،دھلی دھلائی عبارت کی طرح رواں، دلچسپ اورپرکشش۔ ورق ورق میں سادگی اورافادیت پسندی ہے۔میں نے پایا کہ وہ کلکتہ کے نبض شناس ہیں۔یہی نہیں بلکہ وہ یہاں کے مشترکہ ثقافتی رنگ کے مداح اور مؤید بھی ہیں۔ سیاسی مسلک نے ان میں انسانی ترحم اور غریب پروری کی صفت پیداکی ہے اور ان کے دل کو گداز بنادیا ہے۔ وہ کلکتہ کی مسلم بستیوں میں روزی روٹی کی خاطر یوپی بہار سے آنے والوں کی صورت حال سے گہری واقفیت رکھتے ہیں اور ان کی جدوجہد کے عینی شاہد بھی ہیں؛ اس رعایت سے انھیں مضافات کی بستیوں میں اردو کی سرگرمیوں سے بھی گہری دلچسپی ہے۔ اس پہلو پر ان کی گفتگو بڑی لطیف اورکارآمد ہوتی ہے اور مخاطب بہ آسانی یہاں اردو کے مختلف ادوار اور اس کے لیے زمین فراہم کرنے والے ادبا، شعرا اوربہی خواہان کی کارگزاریوں سے واقف ہوسکتا ہے۔ فروغِ اردو کے سلسلے میں وہ کلکتہ یونیورسٹی کے شعبے سے وابستہ طلبہ اور اساتذہ کے بھی بڑے مداح ہیں۔وہ اس بات کے بھی شاہد ہیں کہ جدید ہندوستانی زبانوں (MIL)کے وفاقی ڈھانچے سے ہندی کے معاً بعد اردو نے کس طرح ایک خودمکتفی شعبے کی حیثیت حاصل کی اور پھر بڑی مضبوطی کے ساتھ آگے کے سفر پر گامزن ہوتی چلی گئی۔اس سیاق میں وہ اپنے اساتذہ بطورِ خاص پی ایچ ڈی کے اپنے مشرف کے بڑے ہی مداح اور قدردان نظر آتے ہیں۔ جیلانی صاحب کی گفتگو نے یہ آسانیاں پیدا کیں کہ میرے لیے کلکتہ کے بالکل اوائلی دور میں ہی یہاں کی ادبی کارگزاریوں کوسمجھنا آسان ہوگیا۔ اسی کے ساتھ ادبی معاشرت میں مدح و ذم کے بہت سے تناظرات، کردار اورسیاق روشن ہوگئے اور یہ عقدہ بھی کھلا کہ یہاں کی فضا میں پائے جانے والے ادبی تعفن سے کس طرح بچا جاسکتا ہے اوراپنی راہیں متعین کی جاسکتی ہیں۔
جیلانی صاحب بنگلہ زبان بڑی روانی سے بولتے ہیں۔ پہلے پہل تو بڑی حیرانی ہوئی کہ اردو کا کوئی باذوق استاد مقامی زبان کو اس روانی سے کیسے بول سکتا ہے مگر رفتہ رفتہ عقدہ کھلا کہ وہ بنگلہ ثقافت اور زبان کے بھی ماہر ہیں۔ اردو والوں کے ساتھ ان کے تعلقات یکساں طور پر بنگالی حضرات سے بھی بڑے مستحکم ہیں اور وہ یہاں کی معاشرت میں رس بچ چکے ہیں۔
مرشد ابو بکر جیلانی صاحب میں بڑی خوبیاں ہیں۔وہ خالص علمی آدمی ہیں۔انھیں ایک بڑا اورسنجیدہ علمی و ادبی طبقہ بخوبی جانتا اور سمجھتا ہے۔ معاصرادبی سماج میں وہ نہ کسی گروہ سے وابستہ ہیں اور نہ انھیں کبھی اپنی شناخت کے لیے کسی سہارے کی جستجو میں سرگرداں ہی پایاگیا۔ وہ طلبہ کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں مگر چونکہ سماج کی تشکیل میں سیاست ایک اہم محرک کا درجہ رکھتی ہے اور ادب، ادیب اور سیاست میں ناگزیررشتہ ہے لہٰذاجیلانی صاحب سیاست کو اہم خیال کرتے ہیں لیکن اس کے لیے ایک حداور وقت کے تعین کو بھی ناگزیرجانتے ہیں۔وہ خود سرگرم سیاست کا حصہ رہے تاہم انھیں گندی سیاست سے ہمیشہ خدائی بیررہا۔ موصوف حسنِ اخلاق کے پیکر،شیریں مقال اور سادگی پسند ہیں۔
کلکتہ یونیورسٹی کے اساتذہ کوارٹرمیں منتقلی کے بعدبچوں کے داخلے کے سلسلے میں انھوں نے جناب محمد رئیس صاحب سے میری ملاقات کرائی اور کہا کہ رئیس صاحب میرے اسٹوڈنٹ ہیں، بچوں کے داخلے کے سلسلے میں یہ آپ کی رہنمائی کریں گے۔جیلانی صاحب کا یہ مشورہ بھی کچھ اتنا مناسب اور موزوں تھا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے محاذ پر کلکتہ میں رئیس صاحب سے زیادہ مناسب شخص بھلا کون ہوسکتا تھا۔محسوس ہوا کہ جیلانی صاحب نے یہاں بھی حکیم حاذق کی طرح رئیس صاحب کا جو نسخہ تجویزکیا وہ میرے مسئلے کا کافی و شافی علاج نکلا۔جیلانی صاحب کے توسط سے انھوں نے بڑی مدد بہم پہنچائی اوراب تو یہ عالم ہے کہ رئیس صاحب کی حیثیت کلکتہ میں نہ صرف میرے فیملی ممبرکی ہے بلکہ وہ تارِ نفس کی طرح جزوِجاں بن چکے ہیں۔جیلانی صاحب کی طرح جناب محمد رئیس بھی سراپا اخلاص ہیں۔ جس سے ملتے ہیں ٹوٹ کرملتے ہیں اور تعلقات کے تقدس کا پاس رکھتے ہیں۔ جہاندیدہ انسان ہیں، زندگی کی دھوپ چھاؤں نے انھیں زمانہ شناس بنادیا ہے۔ اچھے بُرے انسان کو خوب پہنچانتے ہیں۔آڑے وقت کے ساتھی ہیں؛ کلکتہ میں ہراچھے بُرے وقت میں‘ میں نے انھیں ہمیشہ اپنے ساتھ پایا ہے۔ ہم دونوں کے درمیان جیلانی صاحب مشترکہ ورثہ یا نعمتِ غیرمترقبہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ گاہے بہ گاہے ہماری خبرگیری کرتے رہتے ہیں۔ ہم لوگ بھی ان سے کبھی بے گانہ نہیں رہتے بلکہ کبھی ان کے دولت کدے پر تو کبھی کسی مجوزہ پروگرام میں ان سے مل کر خود کو توانائی بخشتے رہتے ہیں۔ کانکورگاچھی، کلکتہ میں واقع باغ ماری مسلم قبرستان کی ہمسائیگی عذابِ جاں ہونے لگتی ہے تو ہم رئیس صاحب کے ہمراہ جیلانی صاحب کے فلک شگاف قہقہوں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں اور اپنی قیامت سی سنجیدگی کا دامن ان کے قہقہوں سے چاک کرتے ہیں اورزندہ دلی سمیٹ کر لوٹتے ہیں۔
جیلانی صاحب طبعاً جمال پرست ہیں۔ ان کے دل میں جھانکئے تو دل کے کسی کونے میں کوئی پری پیکر ضروربیٹھی ملے گی بلکہ انھوں نے اپنے دل کا ایک گوشہ صنفِ لطیف کے لیے مختص کر رکھاہے، جہاں پریاں قطار اندرقطاربستی ہیں، وہ نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن والی پریاں۔ سبکدوشی کے بعد بھی ان کی شخصیت جاذبِ نظر ہے اور انھیں اب بھی پری چہرہ لوگ بھاتے ہیں۔اس محاذ پر ان کی باتیں سننے سے تعلق رکھتی ہیں؛ان کاماضی روشنی میں نہایا ہوا محسوس ہوتا ہے۔عمر کی پینسٹھویں منزل سے آگے کے سفرمیں بھی ماضی کے جگنو ان کے ساتھ چلتے ہیں اور ان کے قلب و نظرکو روشنیوں سے منوررکھتے ہیں۔ کبھی کسی محفل میں ان کا شکوہ اسی سیاق سے سامنے آتا ہے کہ محفل مایوس کن ہے، کوئی جاذبِ نظر صورت نظرنہیں آتی اور کبھی چہک کرمخاطب ہوں گے کہ واہ محفل میں نوربرس رہا ہے؛ ان کے چہرے پہ آتے جاتے رنگ سے ان کی دلی کیفیت کو بہ آسانی سمجھاجاسکتا ہے۔ان کی یہی کیفیت گل افشانیِ گفتار کا رخ اختیار کرتی ہے تو مخاطب محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے سمینار ہال میں جناب عبد الستار فکر صاحب کی کتاب ’تجسس‘ کی رونمائی تھی۔ میں بھی شریک ِبزم تھا۔جیلانی صاحب نے مائیک پر آکر بتایاکہ ”فکشن سے ان کا گہرا تعلق ہے اور اگر فکشن نگار عورت ہو تو اس سے ان کا گہرا انسلاک رہتا ہے“۔
بزمِ نثار والے جناب اشرف جعفری جیلانی صاحب کا تیسرانسخہ ہیں، جو انھوں نے کلکتہ میں مجھ جیسے مریضِ کتب کے لیے تجویز کیاہے۔میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ایک بار انھوں نے اپنے حوالے سے مجھے اشرف احمد جعفری صاحب کے پاس بھیجا۔میرے سلسلے میں غالباً انھوں نے جعفری صاحب کو پیشگی اطلاع دے دی تھی۔جعفری صاحب یوں بھی بڑے خلیق اور منسکرالمزاج واقع ہوئے ہیں، دیکھتے ہی لپکے اور بڑی عزت افزائی فرمائی۔جعفری صاحب صحیح معنوں میں اہلِ کتاب ہیں،ان کی شخصیت کتاب سے شروع ہوتی ہے اور اسی پر ختم بھی ہوتی ہے۔بلکہ وہ کلکتہ میں علم و آگہی سے شغف رکھنے والوں کا مرجع ہیں۔اپنے گھر کے ایک حصے کو انھوں نے لائبریری میں تبدیل کررکھا ہے۔ ان کی یہ مبنی بر خانہ لائبریری’بزمِ نثارکی لائبریری‘کہلاتی ہے، وہ بزمِ نثار کے معتمد ہیں اور رضاکارانہ طور پریہ خدمت انجام دیتے ہیں۔اسکالرس، مضمون نگار، محقق، پروجیکٹ پر کام کرنے والے اور ہم جیسے ادب کے ادنی طالب سبھی اس شمع کے گردپروانے کے مانند منڈلاتے ہیں۔جیلانی صاحب نے جعفری صاحب کی نرم خو طبیعت اور ان کے شوق کے بارے میں جو کچھ بتایا تھا، جعفری صاحب کا کام اور ان کا رویہ اس سے کہیں بڑھ کرنکلا۔ میرااحساس ہے کہ جیلانی صاحب علم بشریات میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں۔ان میں انسان کو پڑھنے اور پرکھنے کی بے پناہ قوت موجود ہے۔جبھی تو انھوں نے اپنے گردوپیش میں جن لوگوں کو اکٹھاکررکھا ہے، وہ نہ صرف خوبیوں سے مملو ہیں بلکہ انہی کی طرح انسانی خدمت کو تکمیلِ ذات کا سامان تصور کرتے ہیں۔
جیلانی صاحب ماشاء اللہ اب بھی کافی ہشاش بشاش ہیں۔معمول کے مطابق چلتے پھرتے اور کہیں نہ کہیں ملتے جلتے اور بات چیت کرتے نظر آجاتے ہیں۔شکرہے کہ سبکدوشی نے ابھی ان کی سدابہار شخصیت پر دبش نہیں ڈالی ہے اورنہ ہی ان کے عزائم کو متزلزل کیا ہے۔ان سے مل کر کبھی احساس بھی نہیں گزرتا انھیں سبکدوش ہوئے بھی کئی برس بیت گئے بلکہ درست بات تو یہ ہے کہ ان سے مل کر زندگی میں ہمیشہ تازگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ان کی قہقہہ بردوش طبیعت انھیں ہمیشہ فرحت بخش رکھتی ہے۔وہ معمول کے مطابق ادبی سمیناروں اور محافل میں شریک ہوتے ہیں۔کئی جگہ وہ مختلف حیثیتوں سے مدعو بھی ہوتے ہیں۔جہاں مدعو نہیں بھی ہوں، طبیعت آمادہ ہوئی تو چلے جاتے ہیں۔جہاں جگہ ملے بیٹھ گئے۔ہٹوبچووالی زندگی سے انھیں گریز ہے۔ انھیں پاکر کسی نے اسٹیج پہ بلالیا تو ٹھیک، کسی نے نوٹس نہیں لیا تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی تو برجستہ جو بات دل میں آئی کہہ دی اور کبھی تردد سے کام نہیں لیا۔مجلسوں میں جیلانی صاحب کی گفتگو بالعموم مختصر ہوتی ہے۔طویل اور لایعنی گفتگو نہ انھیں پسند ہے اور نہ وہ خود کرتے ہیں۔کبھی ایسا بھی ہوا بلکہ بارہا ہوا کہ جیلانی صاحب نے فون کیا اور بتا یاکہ روحِ ادب میں ’صحافت اور صارفیت‘ پر آپ کا مضمون پڑھا،عمدہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ادب سے تعلق کا عالم یہ ہے کہ اب بھی ان کی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ قائم ہے۔ موج شاکری اور سر سید کے حوالے سے ان کی کتابیں ذہن میں بالکل تازہ ہیں۔ وہ ایک باخبر ادیب ہیں۔باخبری ہی ان کی متحرک اور فعال زندگی کا استعارہ ہے۔ جن لوگوں نے انھیں قریب سے دیکھاہے،ان کی صحبتیں اٹھائی ہیں وہ اس کی گواہی دیں گے کہ جیلانی صاحب جینے کے فن سے واقف ہیں۔ادبی اورمعاشرتی جبر کے اس دور میں ان کی زندگی عزم و استقلال، مثبت فکر، خیرطلبی اورباہمی احترام سے عبارت ہے۔اب جیلانی صاحب محض ایک فرد نہیں ایک جذبے میں ڈھل چکے ہیں۔ مرشد ویسے بھی فرد کہاں رہ جاتا ہے،اپنے عہدکاکبیربن جاتا ہے اورسب کے لیے خیرطلب کرنے لگتا ہے۔
***