کلامِ اقبال کا آفاقی تناظر:تجزیاتی مطالعہ

ڈاکٹرمحسن خالد محسنؔ

لیکچرار،شعبہ اُردو،گورنمنٹ شاہ حسین  گریجوایٹ کالج،چوہنگ،لاہور

ڈاکٹر عظمی ٰ نورین

لیکچرار، شعبہ اُڑدو، گورنمنٹ ویمن یونیورسٹی،سیالکوٹ

کلامِ اقبال کا آفاقی تناظر:تجزیاتی مطالعہ

Universal perspective of Kalam-e-Iqbal. Analytical study

Today we are living in the era of globalization of the 21st century. The world of literature of the nineteenth century is unique in the sense that its readers had formed an opinion by grasping all the emotions and moods and concepts and possibilities of the coming era with the eyes of consciousness. The land of the subcontinent has the distinction of being the birthplace of Allama Muhammad Iqbal, whose far-sighted and thoughtful vision encapsulated the vastness of the wider narrative of the universe in poetry with all the details. Despite the passage of hundreds of years, Allama Muhammad Iqbal’s poetry has covered all the attributes of universality. Which not only provides guidance in correcting the direction of the world, but also the thought stream of a leader and a reformer’s constructive thinking is waiting to show the way in the implementation of the political, social, religious, and economic issues and problems of the present era. This paper is based on the analytical study of the universal perspective of Allama Muhammad Iqbal’s poetry and the issues of human poetry in the present era. Through this paper, it will help to compare the universal scope of Allama Muhammad Iqbal’s speech with the widespread universal system of the concept of universality and make a comparative analysis that the relationship of poetry with universality is being developed and why poetry is human life. It has been playing a pioneering role in all matters and concepts.

Key words: Allama Iqbal, globalization, Pakistani society, self, consciousness, Islam, philosophy, Iranian tradition, Sufism, monarchy, freedom،  Intellectual sense ، Coherent، Self, Khuddi،  contemporary relevance

خلاصہ: انیسویں صدی کا عالمی ادب اس حوالے سے اختصاص رکھتا ہے کہ اس کے حاذقین نے آنے والے دور کے جملہ  ہیجانات و میلانات اور تصورات و امکانات کو شعور کی نگاہ سے ٹٹول کر رائے قائم کر دی تھی۔  برصغیر کی دھرتی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں علامہ محمد اقبال نے جنم لیا جن کی دور اندیش متفکر نگاہ  نے آفاقیت کے وسیع تر بیانیے کی وسعت  کو تمام تر جزئیات کے ساتھ شاعری میں سمو دیا۔ سینکڑوں برس گزرنے کے باوجود علامہ محمد اقبال کی شاعری اپنے اندر آفاقیت کی جملہ صفات کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس سے دُنیا کی  سمت درست کرنے میں نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ عہدِحاضر کے سیاسی و سماجی اور مذہبی و اقتصادی معاملات و مسائل کی انجام دہی میں ایک رہبر و مصلح راہنما کی تعمیری سوچ کا فکری دھارا  ،راستہ دکھانے کا منتظر دکھائی دیتا ہے۔ یہ مقالہ علامہ محمد اقبال کی شاعری کےآفاقی تناظر کا عہدِ حاضر کے جملہ  نظم ِ انسانی کے معاملات کاکلامِ اقبال کے تجزئیاتی مطالعہ پر مبنی ہے۔اس مقالہ کے ذریعے علامہ محمد اقبال کے کلام کی آفاقی وسعت کو عالمگیری تصور کے  پھیلے ہوئے آفاقی نظام سے منطبق کر کے  تقابلی تجزیہ کرنے میں  یہ مدد ملے گی کہ شاعری کا آفاقیت سے کیس نوع کا تعلق اُستوار رہا ہے اور شاعری کیوں کر انسانی حیات کے جملہ معاملات و تصورات میں ایک پیش رو کا کردار ،ادا کرتی آئی ہے۔

کلیدی الفاظ:علامہ اقبال، آفاقیت، برصغیر، عالمگیریت، پاکستانی سماج،عقل و عشق،خودی،اسلام،عظمتِ انسانی،ایرانی روایت،،تصوف،ملکوکیت،آزادی

دُنیا تیزی سے آگے  بڑھ رہی ہے۔ ہر آن بدلاؤ کا عمل جاری ہے۔ ہر لمحےکچھ نیا سامنےآرہا ہے۔اکیسویں صدی میں  وقت اس قدر سُرعت سے گزر رہا ہےکہ انسانی عقل اس کے آگے سرنگوں دکھائی دیتی ہے۔ کیاکِیا جائے کہ وقت کو تھامنے کی گرفت کسی کے پاس نہیں ہے۔ وقت کا دھارا یونہی بہتا  ہے ۔انسان مثلِ خس  و خاشاک اس دھارے میں بہتے چلے جاتے ہیں۔

انسان  ہزاروں لاکھوں برس سے وقت کا اسیر رہا ہے۔ اس نے دُنیا کے جملہ نظام کو بدلنےکی بھر پور کوشش کی۔ اس  کوشش میں اس کا حلیہ بگڑ گیا، طور ،اطوار تبدیل ہوگئے۔ اس کی جملہ شخصیت کے نقوش یکسر متبدل ہو گئے لیکن  وقت پر اس کی دسترس ہنوز ہے نہ شائد کبھی ہو سکے گی۔

انسانوں میں اچھے،برے،اعلیٰ ادنی ، کمال و پست ہر قسم کے انسان ہیں جو اپنی  عقل کی بساط  سے دُنیا کے نظام کو  اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتےہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ زبردست حکمران بن جائے ۔اس کے آگے پتہ بھی حرکت نہ کر سکے۔ اس کے حکم کے بغیر موت کو بھی مداخلت کی  جرات نہ ہو۔ یہ حکم ربی  کا ،ازن ہے کہ اس کا نائب اپنے مالک کی فطرت پر چلنے کی بجائے  دھڑن تختہ  کرنےکی کوشش میں غلطاں رہتا ہے۔

 دُنیا میں کتنے حکمران ایسے آئے  جنھوں نے رب تعالیٰ کے مقابلے میں خود کو عوام کے سامنے بطور”خدا” کے پیش کیا۔ کسی حد تک یہ اپنے عزم میں بظاہر کامیاب بھی دکھائی دئیے۔ ابراہیم و نمرود اور عیسیٰ وغیرہ کے مکالمات اسی خواہش کی ترجمانی کرتے ہیں۔ آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری میں  انسان  ہاتھ میں پتھر لیے کھڑا ہے۔

 کسی کو پروا نہیں کہ انسان جو  شیشے سے زیادہ کمزور اور ناپائیدا ہے ،وہ پل بھر میں ٹوٹ کر، کرچیاں ہو جائے گا اور کسی صورت مندمل ہونے کی حالت میں کبھی لوٹ نہ سکے گا۔

 دُنیا ایک آفاقی رنگ و بو کا مظہر ہے جہاں غیر معمولی  انسانوں نے اپنی فکر، سوچ، تفکر، فلسفے اور اندازِ حیات سے ایک عالم کو متاثر کیا۔ دُنیا بھر کی  زبانوں میں ایسی نابغہ روزگار شخصیات موجود ہیں جنھوں نے  حیوان ِ ناطق کو حیوانِ ظریف بنا ڈالا۔ گنگ کو ماہر انداز ِ تکلم کر ڈالا۔ دُنیا کبھی  عاقل و حازق سے خالی نہیں رہی ۔ دُنیا کا جملہ نظام حازقین اور ذی شعور افراد کے ہاتھوں تشکیل پایا ہے اور استحکام کے دوام سے آشنا ہوا ہے۔

  برصغیر پاک و ہند کو اس حوالے سے امتیاز حاصل ہے کہ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک بڑا شخص پیدا ہوا جس نے اپنی فکر اور فلسفہ سے مقامی نسبت سے ماورا ہو کر کم و بیش پورے عالم کے باشعور لوگوں کو متاثر کیا۔ ایسی شخصیات کے نام گنوانے پر آجائیں تو ہزاروں  کے نام کم پڑ جائیں۔

برصغیر پاک و ہند کی مجموعی معاشرت،تہذیبی اقدار اور  طریق ہائے زیست کو  متاثر کرنے والی شخصیات میں سرفہرست علامہ محمد اقبال ہیں۔ علامہ محمد اقبال(1877-1938)  کی شخصیت ،شاعری اور جملہ فکر و فن    اس تھا کہ چہار عالم میں بطور شاعر ِمشرق   ڈیڑھ سو برس گزر جانے کےباجود ان کی شہرت برقرار ہے۔

علامہ محمد اقبال نے اُردو ،فارسی اور زبان میں شاعری کی۔ ان کی شاعری میں دُنیا بھرکے  موضوعات کی بازگشت دکھائی دیتی ہے۔ علامہ محمد اقبال کا جنم ایک ایسے پُر فتن دور میں ہوا ، جب برصغیر غلامی کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ حکومت انگلشیہ نے سلطنت ِ مغلیہ کا آٹھ سو سال پر محیط اقتدار  کو  تلوار کے زور پر لپیٹ دیا تھا۔ 1803 میں   رعونت سے دہلی میں داخل ہونے والی  ایسٹ انڈیا کمپنی 1857 کے غدر سے 1947 تک  برصغیر کی واحد مطلق العنان  بادشاہت بن کر حکومت کرتی رہی ۔

مزے کی بات یہ کہ برس ہا برس سے بہادر شاہ ظفر کی حکومت محض کٹھ پتلی کی صورت عوام الناس کو دُھوکے میں ڈالنے کے لیے کافی تھی۔ بے بسی و لاچاری کے عالم میں جب پورا ہندوستان  یہ  توقع کر رہا تھاکہ ہمارا بادشاہ ہمارے لیے کچھ  کرے گا، وہ صاحبِ عالی یاسیت کے عالم میں   نا اُمیدی و نا پائیدای ِحیات کے  نوحے الاپ رہے تھے۔ برصغیر کی زمین پر کتوں،  چیلوں اور گدھوں کی طرح بیرونی حملہ آوروں نے پے در پئے اتنے  چھید کیے کہ اس  دھرتی کی کُوک نے خود کو  بنجر کے القاب سے ملقب ہونے کی مستقل شرمندگی کو برسوں تازہ داغ کی صورت جھیلا۔

 حکومتِ انگلشیہ کے مکمل اقتدار(1858-1947) کے بعد برصغیر میں دیگر اقوام سمیت مسلمان بھی غلامی کی دلدل میں مستقل اسیر کر لیے گئے۔ ایسے عالم میں جب ہر طرف لعنت پھٹکار پڑ رہی ہو، غیر تو غیر اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ برصغیر دُنیا کا 20 فیصد جی ڈی پی نکالنے کا والا ملک جسے ہیرے جواہرات سے لیس  سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا، بدیسی قوم کے ہاتھوں ذلت آمیز غلامی میں مبتلا تھا ۔ اس وقت کوئی آواز ایسی نہ اُبھر سکی جو اپنی قوم کی آزادی اور بہ حیثیت انسان  مستحق عزت کے حصول کے لیے سامنے آسکے۔

آلام و آزمائش کے  طویل خلا کے بعد یاسیت کی   دبیز تاریکی میں ایک پُرزور صدا پکاری جس نے یہ کہا کہ اب بہت ہو چکا ۔ہم ایک قوم ہیں  اور ہمیں اسی شناخت کے ساتھ پکارا جائے۔ اس آواز نے دیکھتے ہی دیکھتے  پورے برصغیر میں شعور کی شمع کو آناً فاناً جلایا۔ یہ آواز علامہ محمد اقبال کی صورت میں برصغیر کی جملہ محکوم رعایا کے لیے  آزادی کی نوعیت بن کر اُبھر ی تھی جس پر  ہر جنس و مذہب و مسلک نے لبیک کہا۔

؎         اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے                        مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
؎         اس سراب رنگ و بو کو گلستان سمجھا ہے تو                      آہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

علامہ محمد اقبال  کی  تربیت خالصتاً دینی ماحول میں ہوئی تھی۔ ان کے والد نے اپنے بیٹے میں یقینی طور پر اُس شعور کی رو کو  بھانپ لیا تھا جو آگے چل کر الاؤ کی صورت اختیار کرنے والی۔ اقبال کی تربیت اور اس کے شعور کو آفاقی رنگ دینے میں ان کے والد،اساتذہ اور دینی ماحول نے اہم کردار ادا کیا۔

اقبال نے “بانگِ درا”(1924)کی نظموں سے   آزادی کے تصور کا نعرہ بلند کیا۔ اقبال نے یورپ کے سفر(1905-1908) کے بعد اس بات کو شدت سے محسوس کر لیا تھاکہ ہم بہ حیثیت قوم کئی  لاینحل عوارض کا شکا ر ہیں  جن کا حل فقط دینِ اسلام کی تعلیمات سے مل سکتا ہے۔اقبال اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ برصغیر کی رعایا پر عالمگیری سامراج کا تادیر غلبہ مختلف حکمرانوں کے تسلط کی صورت رہا ہے اس لیے یہ اتنا آسان نہیں ہے کہ کسی ایک  فکر، بیانیہ یا فلسفہ کی لاٹھی سے انھیں ہانک کر  ایک مقصد کے حصول پرمجتمع کر لیا جائے۔

؎         فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں                         کیا زمانےمیں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

؎         ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکرے نوع انساں کو                  اخو ت کابیاں ہوجا،محبت کی زباں ہو جا

 اقبال نے یورپ کے سفر کے بعد اس بات کو پوری صداقت سےمحسوس کر لیا تھا کہ برصغیر کی دھرتی پر ہزاروں برس سے بیرونی حملہ آوروں کی حکمرانی کے گہرے نقوش ثبت ہیں۔ برصغیرکی رعایا نے لاشعوری طور پر     متنوع قسم کے رسوم و رواج اور  انداز ہائے زیست کو اختیار کر رکھا ہے جس میں قسم قسم کی آلائش آمیز  رنگیناں اور کثافتی  جلوؤں کی مستیاں  ہیں جو انھیں ذہنی و قلبی طور پر غرقاب کر چکی ہیں۔

؎         اپنی ملت پر قیاس اقوام ِ مغرب سے نہ کر                        خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسول ِ ہاشمی ﷺ

؎         ترا وجود سراپا تجلی افرنگ                                     کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر

؎         مگر یہ پیکر خاکی خودی سے ہے خالی                             فقط نیام ہے تو، زرنگار و بے شمشیر

 مغربی تہذیب کی چکا چوند سے  اثریت کی عملی صورت کا اطلاق  جدرس گاہوں میں زیرِ تعلیم طلبہ ، خانقاہوں میں جلوہ گر صوفیا، مساجد کے ممبروں پر  متمکن علمائے سُو اور عملی زندگی میں بر سر پیکار سورماؤں کے ہاں بڑی آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔اقبال  نے مسلمانوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ کر اس کے اندر کی منافقت اور ذاتی مفادات کے حصول کی بُو کو محسو س کر لیا تھا۔

؎            کیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میں                             تو پیر میخانہ سُن کے کہنے لگے کہ منہ پھٹ ہے خوار ہوگا

؎         تمہاری تہذیب اپنے  خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی      جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

 سفر ِ یورپ کے بعد اقبال نے اس بات کو بھی محسوس کر لیا تھاکہ اسلام ایک آفاقی دین ہے جو پوری دُنیا کے انسانوں کی رہنمائی کے لیےوضع کیا گیا ہے۔ پھرکیا وجہ ہےکہ اس کے  جانشین اسی کے خلاف صف آرا ہیں۔مغربی تہذیب کی چمک دمک ہو ،یا ،ایرانی تہذیب کی جلوہ گری  یا ترکوں  کی کھوکھلی معاشرت کی کسمپرسی  ،ان اتہازب کے سنگم نے برصغیر کے تعمیری اذہان کو سطحیت کی گرواٹ سے ہم آہنگ کر ڈالا تھا ،یہ وہ پاتال ہے جہاں سے سطحِ آب تک آنا قریباً ناممکن ہو چکا تھا۔

؎         سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار                              غلامی سے ہے بہتر بے یقینی

؎         لے گئے تثلیث کے فرزند میراث عمل                         خشت بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز

ایم ڈی تاثیر نے   اقبال کی آفاقی وسعت کے تناظر میں کیا عمدہ رائے دی:

”ڈاکٹر اقبال بدنی اعتبار سے دُنیا میں موجود نہیں اس کے باوجود ان کی جملہ تخلیقات کا سرمایہ اس قدر زندہ و تابندہ ہے ان کا بہ حیثیت انسان چرچا پہلے سے  زیادہ ہے۔ گویا مر کر وہ اور بھی زندہ ہو گئے ہیں اور جوں جوں وقت گزرتا جائے گا،ان کے اثر اور ان کی شہرت میں اضافہ ہو تا جائے گا۔ موت کے بعد زندگی نام کو تو بادشاہوں اور جرنیلوں کو حاصل ہو سکتی ہے مگر اصلی زندگی،مسلسل اثر ڈالنے والی زندگی، ادبیوں اور صناعوں کے لیے ممکن ہے۔“ (1)

اقبال  نے  مابعد الطبیعات(Metaphysics) کے  مطالعہ کے بعد اس بات  کو بھی جان لیا تھا کہ فلسفے کی آفاقیت دم توڑ چکی ہے اور خِردکی گھتیوں کو سلجھانے والا خود ایک گھتی بن کر رہ جاتا ہے ،ایسے میں اس کے شعور کی جلا ،کا محرک  کہاں سے ڈھونڈا جائے۔ اقبال نے دینِ اسلام کی تعلیمات کو فلسفے کی شعوری پرتوں کو کھولنے اور عقل کے دریچے وا ،کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جس میں یہ کامیاب دکھائی دئیے۔

؎         ہے مری جرأت سے مشتِ خاک میں ذوقِ نمو                    میرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار پو

؎         خردکی گُتھیاں سلجھا چکا میں                                  مرےمو لا مجھے صاحبِ جنوں کر

اقبال کے ہاں مشرق و مغرب کے  تمام تر بیانیوں کی ترجمانی ملتی ہے۔ اقبال نے متقدمین سے لے کر اپنے ہم عصر تک جملہ   حازقین کی تصانیف و تالیفات سے استفادہ کیا۔وہ ” کامل انسان ہو “یا “سپر مین کا فلسفہ ، خودی کا تصور” ہو، یا” کاملِ عرفانِ یزداں  کی شناسائی کا معمہ ، عقل و عشق کے مظاہرات” ہوں یا “غمِ جاناں “اور “غمِ دوراں کے پُر پیچ  مجازی قضیے”، اقبال نے   فکرو فلسفہ کے ان بیانیوں پر  اپنے  افکار کی گہری چھاپ  چسپاں کی  ہے۔

اقبال اپنے عہد کا بڑا شاعر ہونے کے ساتھ آنے والے زمانے کے لیے روشنی کا پیامبر بھی تھا۔ اس کے ہاں وہ سبھی امکانات موجود ہیں جو آفاقی نوعیت کے مسائل و معاملات  کے حل کے لیے کارگر ہو سکتے ہیں۔ اقبال نے برصغیر کی رعایا کے ذہن کو سمجھ لیا تھا ۔اس کے ہاں گہری  فکرکی  دسترس موجود تھی جس کے آئینے میں ہر دھندلی چیز ثقیل ہو کر فروزاں ہو جاتی ہے۔

؎         خدایا!آرزومری یہی ہے                           مرا نورِبصیرت عام کر دے

ڈاکٹر شوکت سبز واری لکھتے ہیں:

”اقبال کی شاعری کا موضوع بہت وسیع ہے، اس میں اتنی ہی وسعت ہے جتنی اس  رنگارنگ کائنات میں ہے۔ اقبال کے حیات و کائنات کے حقائق و مسائل کو فکری کی جنگاہ بنایا  اور ان میں پیچدگی تھیا س لیے اس کی پیچدگی کا پرتو اقبال کے کلام پر پڑا لیکن وقتِ نظر سے کام لے کر بظاہر متضاد کیفیات و احوال میں جس انداز سے اس نے توازن قائم رکھا اس کی داد نہیں دی جاسکتی۔“ (2)

اقبال کے پہلے شعر ی مجموعے”بانگِ درا”(1924) پر سرسری نگاہ دوڑائیں تو پتہ چلتا ہےکہ اس کے ہاں  مغربی شعرا  کے کلام سے استفادہ کا رجحان نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے ۔ پہلی نظم “ہمالہ “میں آفاقیت کا  عنصر بدرجہ غایت موجود ہے۔ نظم “ہمالہ” سے شروع ہونے والے آفاقی پیغام نے اقبال کی فکر کو چہار دانگ عالم میں نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اس کی لے نے ہر سوز کے درد کو مہمیز بھی کیا۔اقبال نے مرزا غآلب(1797-1869) ایسے آفاقی شاعر کو جس انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے،یہ بھی دیکھنےکی چیز ہے۔ علاوہ ازیں “سرگذشتِ آدم “میں اقبال کی آفاقی سوچ کا تفکر کس قدر بلند دکھائی دیتا ہے۔

؎         رہی حقیقتِ عالم کی جستجو مجھ کو                       دکھایا اوجِ خیالِ فلک نشیں میں نے

؎         لہو سے لال کیا سینکڑوں زمینوں کو                    جہاں میں چھیڑ کے پیکارِ عقل و دیں میں نے

اقبال نے”  ایک مکڑا اور مکھی،ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری، ماں کا خواب، آفتاب” نظموں کو مشہور مغربی شعرا کی نظمیات  کا طبع زاد ترجمہ کیا ہے۔ بظاہر یہ نظمیں بچوں کے لیے لکھی گئی ہیں لیکن ان نظموں کے سیاق کو تنقیدی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ معلو م ہوتا ہے کہ اقبال   مقامی دھرتی کی قید میں  اپنے شعور کو مقید نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ اپنے آپ کو سرحدوں سے ماورا سمجھتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ ان کے کلام میں آفاقیت کے جملہ پہلوؤں کی بازگشت سنائی دے۔

؎         آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا                     منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں

؎         تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا                      تیرے سامنے آسماں اور بھی ہے

اقبال نے مغربی شعرا کی فکر اور مخصوص طرز حیات کے  متنوع بیانیے کو کمال فنی چابکدستی سے سہل ،رواں اور آسان زبان میں  شعری  زبان عطا کرکے نہ صرف اپنے کلام کو امر کیا بلکہ ان شعرا کو ہمیشہ کے لیے برصغیر کے باسیوں کے لیے متعارف بھی کروادیا ۔

 اقبال نے اسی شعری مجموعے میں “عشق اور موت، موجِ دریا، تصویرِ درد، نالہ فراق، ماہِ نو، ایک آرزو ، شمع و پروانہ” ایسی نظمیں شامل کیں جن میں آفاقی عنصر کی گہری پرتیں مفلوف دکھائی دیتی ہیں۔ آفاقی رنگ کا تانا بانا کائنات کے وسیع نظام سے ہم آہنگ ہے۔ آفاقی رنگ کا تعلق کسی ایک خطے، علاقے  یاجغرافیے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس میں کل کائنات کی  جلوہ گری معمور دکھائی دیتی ہے۔

؎         یہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیدا                         کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہے

اقبال کی غزلیات میں بھی ہمیں آفاقی رنگ کی  متنوع پرتیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔ اقبال ایک بڑا ذہن تھے،ان کے ہاں بہت کچھ کہنے کی خواہش کے باوجود مزید کچھ کہنےکی تڑپ ہمیشہ رہی۔ اُردو زبان کی تنگ دامانی کا گلہ ہر بڑے شاعر کو رہا ہے۔ یہ شاعر دُنیا کی کسی بھی بڑی زبان سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ  اقبالؔ، غالبؔ(1797-1869)، رومیؔ(1207-1273)، برگساںؔ(1869-1914)،شکیسپیرؔ،(1564-1616)رودکیؔ(858-941)،فردوسیؔ(940-1020)،ایلیٹؔ(1888-1965)، کیٹس(1795-1821) ؔہو ،یا پھر وہ جس کے نام آپ کے ذہن میں کلاسیکی و مابعد جدید روایت کے پیشِ نظر  سامنے آچکے ہیں۔

 اقبال جانتے تھے کہ انھیں کیاکہنا ہے اور کس طرح سے کہنا ہے، اسی لیے اقبال نے اُردو زبان میں وہی کچھ کہا جو اس زبان میں وہ آسانی سے کہ سکتے تھے۔ اقبال نے”  اسرارِ خودی(1915)” اور “رموزِ بےخودی(1918) “میں جس طرح اپنے ذہن کی جلا کو وسعت عطا کرتے ہوئے سیر افلاک کے مناظر تخلیق کیے اور محض  تخیل کی کارفرمائی سے حقیقت کے ٹھوس شواہد کو جھٹلا دینے کی کوشش کی ،یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ ایم ڈی تاثیر لکھتے ہیں:

”اقبال کا شاعرانہ معدہ بہت مضبوط ہے، اسے بد ہضمی نہیں ہوتی،وہ ثقیل سے ثقیل خیالات کو ہضم کر لیتا ہے، اور وہ اپنے مشہور انگریزی لیکچروں میں ہم سب کو دعوت دیتا ہے کہ ہم بھی ایسا کریں اور پچھلے ساتھ آٹھ سو سال سے جو ایشا علم کی دوڑ میں پیچھے رہا جاتا ہے ،اس کی تلافی کریں اور ہمیں اپنے سے آگے آگے چلنے والے مغربی متلاشیان علم کی کوششوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔“(3)

مولانا رومی ؔ(1207-1273)کی معیت میں آسمانوں کی سیر کا سفر کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے جسے نظر انداز کر دیا جائے۔ کہاں رومؔی اور کہاں اقبال ۔دونوں کے زمینی دور اور عصری عہد میں سینکڑوں برس کا بُعد ہونے کے باوجود تخیلی اعتبار سے ہم آہنگی کا امتزاج اپنی مثال آپ بن کر رہ گیا ہے۔ سیرِ افلاک کے اس فن پارے کوآفاقی تناظر میں  پرکھ کر دیکھا جائے تو انسانی حواس مختل ہو جاتا ہے کہ ایک عام خس و خاشاک سے عمار ت وجودِ خاکی ذہنی و قلبی اور روحانی  اعتبار سے افلاک کی بلندیوں پر محضِ پروازہے اور جو کچھ دیکھ رہا ہے اور محسوس کر رہا ہے وہی اپنے قارئین کو بھی لوٹا رہا ہے۔

؎         اگر چاہوں تو  نقشہ  کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں                      مگر ترے تخیل سے فزوں تر ہے وہ نظارہ

 اقبال  نے “صقیلیہ (Sicily, ,(“نظم میں بھی کچھ ایسا ہی تجربہ کیا ہے،اقبال کے ہاں “انسان” کوئی معمولی جنس نہیں ہے بلکہ اسے “عشرتِ امروز” کے تناظر میں تجزیہ کر کے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے “عاشق ہرجائی” کی تان “سلیمیٰ” پر جا کر ٹوٹتی ہے جہاں “کوشش ِ ناتمام” کی ساری کاوشیں “وصال” کی منتظر ہونے کے باوجود”نوائے غم” میں پناہ لینے پر مجبور ہے۔ مذکورہ نظمیات کے سیاق میں آفاقی پہلوؤں کی برکھا  چھم چھم کرتی انسانی حواس کو شرابور کرتی محسوس ہوتی ہیں۔

؎         ہر شے میں ہے نمایاں یوں تو جمال اُس کا                         آنکھوں میں ہے سلیمیٰ تیری کمال اُس کا

؎         رازِ حیات پوچھ لے خضرِ خجستہ گام سے                           زندہ ہر اک چیز ہے کوششِ ناتمام سے

؎         بے نیازی سے ہے پیدا مری فطرت کا نیاز                       سوزوسازِ جستجو مثلِ صبا رکھتا ہوں میں

اقبال نے مناظر ِ فطرت میں ایسی جلوہ گری دکھائی ہےکہ ان کے ہم عصرشعرا کے ہاں ایسا آہنگ مشکل سے دکھائی دیتا ہے جس میں آفاقی رنگ کی  مہک مدغم ہو کر شِیر و شکر ہو گئی ہے۔ اقبال نے “بلادِ اسلامیہ” سے  تخلیقی سفر کا آغاز کیا جس نے “گورستانِ شاہی” کی دیواروں سے ہمیں “فلسفہ غم” کوسمجھنے میں مدد فراہم کی۔

 اقبال کے ہاں “ترانہ ملی” کوئی خاص چیز نہیں کہ جس میں “وطنیت” کی  آمیزیش کے بغیر” شکوہ “اور “جواب ِ شکوہ” کا جواز بے معنی ٹھہر جاتا ہے۔ اقبال نے ہمیں یہ بتا یا کہ” نمودِ صبح” کی سحر انگیز  کیفیات میں  مبتلا انسانی ذہن  دراصل “نوید ِ صبح” کی آس لیے ہوئے ہے جس کے ہاں ” غلام قادر روہیلہ(1789 وفات)،”، شبلی(1857-1914) وحالی(1837-1914)، صدیق(573-634)،ابو طالب کلیم(1581-1665)، فاطمہ بنت عبداللہ(1898-1912)، صائب(1592-1676)، شیکپئیر(1656-1616)، ہمایوں(1508-1556)”  اور” عرفی(1556-1591)” ایسے شعرا و حاذقین   کا تفکر سرنگوں دکھائی دیتا ہے۔

؎         میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا                            گہرا ہے مرے بحرِخیالات کا پانی

؎         سکوت آموز طولِ داستاں ِ درد ہے ورنہ                          زباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تابِ سخن بھی ہے

 اقبال کے ہاں محض دینِ اسلام کی پرچاری کا تصور نہیں پایا جاتا بلکہ اقبال نے تقابل ادیان کے تصود احدیت کو بھی انسانی تصور کا اوج ِ ثریا قرار دیا ہے۔ ایک انسان جسے   ذات پات ،رنگ نسل، اونچ نیچ اور معیار و اقدار ہائے زیست کی حاجت نہیں ،وہ  خود کو عقلِ کل اور حاذقِ موجد تصور کرتا ہے ؛اُس کے لیے راہ ِہدایت کی روشنی خدائے واحد کے طریقِ ایزدی کے پیامبر کی سوانح سے با آسانی مل سکتی ہے۔پروفیسر آل احمد سرور لکھتے ہیں:

”اقبال کی شاعری ایک طرف پیمبرانہ شاعری کے راہنما اصول فراہم کرتی ہے تو دوسرے طرف نغمہ ونالہ کے آداب بھی ۔ اقبال کیشاعری میں بلندی پرواز کا thrill ،دھرتی اور آفاق کا نیا تناظر اور ماضی،حال اور مستقبل کا ایک نیا صحیفہ ملتا ہے اور انسان کی عظمت پر ایک نیا اعتماد پیدا کرتا ہے۔“ (4)

انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا شعور عقل کے تابع ہونے کی بجائے شعور کو عقل کے تابع کرنے کی  خواہش کرتا ہے ۔انسان اپنے آپ کوکامل ترین انسان بنانےکی خواہش تو کرتا ہے لیکن اس کی یہ آرزو” دریوزہ خلافت” کی حسرت پر آکر دم توڑ دیتی ہے اور وہ” میں اور تو” کے فلسفےمیں اُلجھ کر “اسیری ” میں مبتلا ہو جاتا ہے اور ” شبِ معراج” کی حقیقت سے منکر ہو کر”مذہب” سے بیگانگی اختیار کر لیتا ہے جس کا نتیجہ” تہذیبِ حاضر” کی چکاچوند کشش میں بہک کر “کفر و اسلام” کے تقابل میں  کبھی “نانک(1469-1539)” کبھی “عرفی” اور کبھی “صائب” سے روشنی مستعار لیتا ہے لیکن” حضورِ رسالت مآب” میں سرنگوں کی ہونے کوشش نہیں کرتا اور  ہمیشہ کے لیے جہل کی نذر ہو جاتا ہے۔

؎         ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاضِ ہستی میں                           وفا کی جس میں ہو بُو، وہ کلی نہیں ملتی

اقبال نے “مسجد قرطبہ” (ہسپانیہ کی سرزمین)سے جس ذہنی بدلاؤ کے سفر کا آغاز کیا تھا وہ دراصل انسان کے باطن کا سفر تھا۔ اقبال نے حقیقتاً اس بات کو تسلیم کر لیا تھاکہ مشرق و مغرب کی آفاقی اقدارو روایات کے سنگم میں اگر کہیں شعور کی  سمت موجود ہے تو اُس کی بجھی چنگاری قرطبہ کے مسمار شدہ طاقچوں میں ہے۔اقبال جب “طارق(670-720) کی دُعا” کا ذکر کرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری کائنات ایک انسان کی مدد کے لیے پِل پڑی ہے اور باطل کے خلاف صف آرا ہوگئی ہے ۔

؎         طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی  کو                         وہ سوز اُس نے پایا اِ نھی کے جگرمیں

؎         کشادہ دردِ دل سمجھتے ہیں اِس کو                                 ہلاکت نہیں موت اِن کی نظر میں

 اقبال  نے”ملا اور بہشت” کے  تصور کو آفاقی رنگ میں کس قدر عمدگی سے  شاعرانہ  آہنگ  عطا کیاہے۔ اقبال نے  “ساقی نامہ” میں اس بات پر زور دیا ہےکہ گرتے ہوئے کو سنبھالنے والے دراصل  مستحکم بنیاد کے شنا وروں سے آگےکے مسافر ہیں۔اقبال ہمیں بتاتا ہےکہ ” دین و سیاست” کوئی چیز نہیں ہے ، ساری کائنات کامالک و خالق” الارض اللہ” ہی ہے۔ اقبال نے  اپنی شاعری میں فقط مسلمانوں اور ان کے داعی کے پیغام کے  پرچار کو فروغ دینے کی کوشش نہیں کی بلکہ عالم ِ اسلام سے قبل و مابعد کے جدید تناظرات کو بھی تصورِ احدیت کے آفاقی پہلوؤں میں رکھ کر دیکھا ہے۔

؎         اس دور میں تعلیم ہے امراض ِ ملت کی دوا                        ہے خون ِ فاسد کے لیے تعلیم مثلِ نیشتر

 اقبال اُس وقت کی بات کرتا ہے جب ” روح ِ ارضی آدم ؑکا استقبال کرتی ہے” اور ہمیں پتہ  چلتا ہے کہ “جبر ئیل و ابلیس” کے درمیان آدم ؑ کی  خلاف کے معاملے میں  کیا مکالمہ کارفرما تھا۔ اقبال ہمیں   مغربی مفکرین کے نظریات سے آگاہ کرتا ہے ۔ اقبال تخلیل کے گھوڑے پر بیٹھ کر ہمیں کبھی ” نپولین(1769-1821) کےمزار پر “پر لے جاتا ہے اورکبھی” مسولینی(1883-1945)، نادر شاہ افغان(1883-1933)، خوشحال خان خٹک(1613-1689)، ابولالعلامری(973۔1057)، شیخ مکتب،ہارون(766-809)” سے بات کرواتا ہے اور ان کے نظریات اور تصورِ زیست کے بارے میں بتلاتا ہےکہ یہ   عظیم شخصیات کس طرح  آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری  کو دیکھتے تھے اور اس کی تعمیر و تخریب میں انھوں نے کیا حصہ ڈالا۔

؎         کہہ رہا ہے مجھ سے اے جوائے اسَرار ِ ازل!                      چشمِ دل وا ہو تو ہے تقدیرِ عالمِ بے حجاب

؎         تُو کوئی چھوٹی سی بجلی ہے کہ جس کو آسماں                        کر رہا ہے خرمنِ اقوام کی خاطر جواں

 اقبال کے ہاں آفاقیت کے تصور کو جدید تناظرات میں دیکھا جائے تو ہمیں ہر چیز صاف اور ثقیل دکھائی دیتی ہے ۔اقبال نے کہیں یہ مبالغہ کرنےکی کوشش نہیں کی اور نہ ہی تاریخ کو مسخ کر کے اپنی طرف سے حذف و اضافہ کرنےکی کوشش کی ہے۔ اقبال کے ہاں ہر چیز کے بارے  میں تشکیک کا عنصر دکھائی دیتا ہے ۔ اقبال ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان دراصل ماٹی کا ایک پُتلا ہے جس کی بنیاد خالصتاً  سلسال مٹی سے ہوئی ہے جو ذرا سی سختی کو برداشت نہیں کرتی اور  بکھر کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔

؎         یہ تڑپ ہے ،یا ازل سے تیری خُو ہے ،کیا ہے یہ                     رقص ہے ،آوارگی ہے،جستجو ہے،کیا ہے

مجنوں گورکھپوری لکھتے ہیں:

”ایک عظیم مفکر  اور فلسفی کی حیثیت سے علامہ اقبال نے جن عوارض کی بنا پر معاشرے کی اصلاح اور قومی کردار کی تعمیر کی بات کی ہے وہ اپنے اندر آفاقی پہلو لیے آج بھی ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ دوسری طرف ہمارے دشمن ہماری کمزوروں سے فائدہ اُٹھا کر ہمیشہ اس گھات میں رہتے ہیں کہ ہماری ملی یکجہتی کو پراگندگی اور اتنشار کی بھینٹ چڑھا کر ہمیں تباہی کے دہانے تک پہنچا دیں۔“ (5)

اقبال نے انسانی نفسیات کے  پُر پیچ نکتوں اور گتھیوں کو سلجھانے کے لیے  علم بدیع کے جملہ فنی محاسن کو برتا ہے۔ اقبال کے ہاں علامتوں کا ایک مربوط نظام موجود ہے ۔اقبال کے ہاں شائد ہی کوئی پہلو چھوٹ گیا ہو،جس پر شاعرانہ صناعی کی قلعی نہ چڑھائی گئی ہو۔ اقبال کی زبان سادہ ہے لیکن  فکر کا دھارا  ،اس قدر وسعت لیے ہے کہ الفاظ اپنی بے مائیگی پر شرمساری محسوس کرتے ہیں۔

؎         زندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہے                        خود نمائی،خود فزائی کے لیےمجبور ہے

اقبال  نے پنجا ب کی دھرتی اور اس کے باسیوں کو بارہا پکارا ہے اور انھیں اپنا فرض ادا کرنے اور اپنا کردار اداکرنےکی تلقین کی ہے۔ اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ  “ستارے کا پیغام ” کیا ہے “پنجاب کے دہقان سے” بھی کچھ رازو نیازکی باتیں کرتے ہیں اور اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ تمہارا خدائے واحد کے ساتھ  ایک آفاقی تعلق ہے اور  تیرے ہاتھوں میں رزق اُگانے کی طاقت قدرت نے ہی ودیعت کی ہے جسے بروئے کار لانا بہت ضروری ہے ۔

اقبال”پنجاب کے پیرزادوں سے” سے مکالمہ کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ کرامت کچھ نہیں ہوتی۔ یہ تو ایک  خودساختہ اختیاری عمل ہے ۔تصوف کےمناہج کو اس کی اصل غائیت میں سمجھنا ضروری ہے۔ اقبال “خانقاہ” کی اصل  نِیو کے  حقیقی فلسفہ کا  تعارف جداگانہ اندازمیں کرواتے ہیں۔

؎         رمز و ایماں اس زمانے کےلیے موزوں نہیں                     اور آتا بھی نہیں مجھ کو سخن سازی کا فن

 اقبال” ابلیس کی عرضداشت” کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ خدا نے اپنے نظامِ احدیت کے تیقن کے لیے ابلیس کی تخلیق اس لیے کہ تاکہ انسان کو آزمائش و آسایش کی کسوٹی سے گزارا جائے اور دیکھا جائے کہ یہ کس طرح خود کو اپنے مدار کے تابع کرتا ہے یا خدائے لم یزل کی لبیک پر دوڑا چلا آتا ہے۔

؎         تجھ کو نہیں معلوم کہ حُورانِ بہشتی                             ویرانیِ جنت کے تصور سے ہیں غم ناک؟

 اقبال کے ہاں  فضا کے پرندوں سے لے کر جنگل کے درندوں تک کا ذکر ملتا ہے ۔ اقبال نے پرندوں کی صفات میں آفاقیت کے تصور کو ڈھونڈنےکی کوشش کی ہے۔ پرندوں کا نہ کوئی گھر ہوتا ہے اور نہ کوئی گھونسلا اور مسکن۔ ان کی قوتِ پرواز ہی ان کی پہچان ہوتی ہے ۔پوری کائنات  ان کے رزق اور ٹھکانے کی آماجگاہ ہے جہاں اس کا رین بسیرا ہو جائے وہی ان کا ٹھکانہ ہو جاتا ہے۔

؎         یہ پورب یہ پچھم  چکوروں کی دُنیا                                میر انیلگوں آسماں بیکرانہ

؎         پرندوں کی دُنیاکا درویش ہوں میں                              کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ

 اقبال کے ہاں پرندوں کے ذکر کو آفاقی حیثیت حاصل ہے ۔ اقبال نے پرندوں کو کسی ایک خطے،علاقے اور جغرافیت تک محدود کرکے نہیں دیکھا۔ اقبال کا تصورِ شاہین آفاقیت کی درخشاں شناخت ہے جس میں انسان اپنے کامل ترین  تشخص کے عرفان کو دیکھنے کی سعی کرتا ہے۔ اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ “لہو” اور “پرواز” میں کیا تعلق ہے اور  ” حال و مقام” میں کس چیز کا اتصال  کارفرما ہے۔

اقبال کے ہاں “آزادی افکار” کا فلسفہ بڑا معنی خیز ہے۔ اقبال نے اس بات کو شدت سے محسوس  کر لیا تھاکہ انسان اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں ہے ،اس کی حیات کی ناپائیداری ہی اس کی بقا کی خواہش میں مضمر ہے ۔انسان چاہتا ہے کہ  کامل ترین تصور کے اوج کو چھو، لے لیکن ہاتھ میں ہاتھ دے کر وحدت اور یگانت کے اُسلوب کواختیار کرنےکی شعوری کوشش نہیں کرتا۔یہی وجہ ہےکہ اس کی یگانت اور اتحاد و اتفاق کے  آفاقی تصور میں ہمیشہ سے بدگمانی و در اندازی کا رخنہ موجود رہتا ہے جس کی سطوت اور رُعب سے ہر نئی  سوچ کو  اندیشے  لاحق ہوتے ہیں جو اس کی خودی اور نیابتِ الہیٰ کے وجدانی ذوق کو مضمحل  کر ڈالتا ہے۔

؎         یہ گھڑی محشر کی ہے،تُو عرصہ محشر میں ہے                       پیش کر غافل ،عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

اقبال کا شعری سفر ایک منطقی ترتیب کے ساتھ جاری رہا۔ اقبال کے ہاں جیسے جیسے سوچ  کا دھارا وسیع ہوتا گیا ویسے ویسے اس کی فکر میں جولانی نے زور پکڑا۔ اقبال کے “ضرب ِکلیم(1936)” مجموعےمیں تفکر کی گہرائی اور  روحانی ریاضت کی مشقت کے استحکام کو “بانگِ درا” کی نسبت زیادہ محسوس کیا جاسکتا ہے۔

 اقبال نے مشرق و مغرب کے فلسفے کھنگال ڈالے،  حاذقین و ناقدین  کے نظریات و تصورا ت سےآگہی لے لی۔  اپنےعہد کے اذہان کی جملہ تصانیف تالیفات سے اخذ و استفادہ کرلیا۔ اتنا کچھ کر لینے کے بعد اس شخص کی تان مذہب کے گیان پر ٹوٹتی دکھائی دی۔ اس کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں  جس کا ماحصل یہ کہ انسان لوٹ کر اپنی فطرت پر  آتا ہے۔

؎         بیاں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کو                             ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ

؎         تری فطرت میں ہے ممکنات زندگانی کی                         جہاں کے جوہرِمضمر کا گویا امتحاں تو ہے

  شعور، تدبر، تفکر اور فلسفہ ہائے زیست کا جملہ نظام انسانی فطرت کے تابع ہے جس سے سرمو انحراف ممکن نہیں ہے۔ اقبال نے اس بات کا واشگاف اعلان کیا ہےکہ خِرد کی گتھیاں سلجھانے والا ایک مُعمہ بن کر رہ جاتا ہے جسے دینِ حق کی روشنی مل جائے تو نیا پار لگ جاتی ہے ورنہ غرقاب ہونا اس کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے۔

؎         خرد کے پاس خبر کے سِوا کچھ اور نہیں                            ترا علاج نظر کے سِوا کچھ اور نہیں

اقبا ل کے  ہاں” اسلام اور مسلمان” ایک مستقل موضوع کی حیثیت سے موجود ہے ۔ اقبال نے ” مسلمان کا زوال” میں ہمیں بتایا ہے کہ کس طرح مسلمان سب کچھ ہونےکے باوجود تنزل کی کھائی میں گر پڑا ہے۔ اقبال نے” تقدیر، توحید، علم اور دین،ہندی مسلمان، جہاد،قوت اور دین،فقر وملوکیت، اسلام،تصوف،دنیا،نماز، وحی، قبر،قلندر کی پہچان، کافرو مومن ،مومن، مدینیت اسلام ” کے ذریعے ہمیں یہ بتلانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام فطرت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور انسان کی حقیقی فلاح اور ترقی و خوشحالی کے ایک داعی کی حیثیت رکھتا ہے۔

اقبال نے “تسلیم و رضا” کے فلسفے کو بھی سمجھایا اور یہ بتایا کہ ” نکتہ توحید” سے کیا مراد ہے اور “جاں و تن”  کس کے لیے قربان ہو نے چاہیے ۔اقبال نے “آدم ” کے تصور کو ” مہدی” کے تخیلی پیکر میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے ، اقبال”مرد مومن” کو “احکام الہی” کے تابع کرنا چاہتا ہے ۔

 اقبال “اقوامِ مشرق” کو “زمانہ حاضر کا انسان” گردانتا ہے۔ اقبال” مصلحین مشرق” سے التجاکرتا ہے کہ “مغربی تہذہب” کی کشش ایک دن ماند پڑجائے گی اور تم پھر لوٹ کر اپنی اصل پر آؤ گے اس لیے بہتر ہے کہ  ملانجار بننے کی کوشش نہ کرو اور ” خودی کی تربیت” کے لیے “بیداری” پر زور دو اور “خودی کی زندگی” کو “تربیت” کے ذریعے مشاق کرنے کی کوشش کرو  ، تاکہ “حکومت” کرنے کا تمہار اخواب “آزای فکر” کا  علمی نعرہ بن کر سامنے آئے جس  کے لیے تمہیں ” سلطان ٹیپو (1751-1799)کی وصیت” پر عمل کرنا ہوگا اور “ہندی مکتب” کی اصلاح کے ساتھ ” عصرِ حاضر” کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔

؎         نہنگ زندہ ہے اپنے محیط میں آزاد                     نہنگِ مردہ کوموجِ سراب  بھی زنجیر

؎         تجھ میں  ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی             وہ پاکی ِ فطرت  سے ہوا محرمِ اعماق

؎         قسمتِ بادہ مگر حق ہے اُسی ملت کا                     انگبیں جس کےجوانوں کو ہے تلخابِ حیات

اقبال نے  اپنے عہد کے جعلی “اساتذہ” کو مسلمانوں کی تنزل کی وجہ قرار دیا ہے اور ان کی جملہ اخلاقی تباہی کا قصور وار گردانا ہے ۔اقبال کہتے ہیں انسان کی شخصیت کے  آفاقی قدوقامت کا تعین ” مدرسہ”کرتا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں تو شعور کا گلہ ہی گھونٹ دیا جاتا ہے پھر لا الہ اللہ کی صدا ” جاوید سے”  کہاں سے آئے گی کہ اس کی ” خلوت” پاک نہیں ہے اور اسے “امتحان” کی کسوٹی سے گزارا نہیں گیا۔

؎         اُس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا                            جو یہ کہتا تھاخرد سے کہ بہانے نہ تراش

؎         دُنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار                         کیا مدرسہ،کیا مدرسے والوں کی تگ و دو!

 اقبال کے ہاں  تہذیب کی پرورش عورت کے ہاتھ سے ہونا ،ناگزیر ہے۔ اقبال نے عورت کو کائنات کا واحد “معمار ِ قوم”قرار دیا ہے جس سے کائنات کی رونق اورکشش باقی ہے۔ اقبال کے ہاں” عورت” محض عورت نہیں ہے بلکہ “عورت کی حفاظت” “عورت اور تعلیم” کے سنگم سے ممکن ہے ۔

؎         اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش                      مجبور ہیں،معذور ہیں،مردانِ خرد مند

اقبال کے ہاں جہاں جوابات کی برکھا برستی ہے وہاں سوالات کی بوچھاڑ  بھی دکھائی دیتی ہے۔ اتنے سوالات ہیں جن کے جوابات ہنوز اقبال کو نہیں مل سکے۔ اقبال ہر چیز پر سوال اُٹھاتا ہے ،اس کے سوالات کی نوعیت بھی آفاقی قسم کی ہے۔سوال جتنا بڑا ہوتا ہے جواب اس سے زیاہ وسیع تناظر کا حامل ہوتا ہے۔ اقبال نے کچھ سوالوں کے جوابات خود سے تراشنے کی کوشش کی ہے۔

محمد علی ولادیت خان (1956-2006)لکھتے ہیں:

”اقبال کو زمانے نے مہلت نہ تھی،اس کی عمر نے اس سے وفا نہیں کی،اقبال کو اپنی شاعری کی آخری منزل پر پہنچنے سے پہلے موت آگئی اور یہی وجہ ہے کہ بعض نقادوں کو اس کی شاعری میں بڑا تضاد اور بے راہ روی نظر آتی ہے۔ اقبال کا عطا کردہ شاہینی تجسس، اس کا عشق براہیمی،اس کی نگاہ قلندانہ،اس  کی حرات مجاہدانہ، اس کی طبیعت خطر پسند،اس کانالہ شب گیر، اس کی آہ  سحرگارہی،اس کا فقر ملوکانہ،اس کے خیال و نظر کی مجذوبی، نئی دُنیا کے انسان کو زندگی کے جو صحیح آداب سکھارہی ہے اس کے لیے انسانیت آخری غروبِ آفتاب تک اس کی ممنون رہے گی۔“ (6)

اقبال “پیرس کی مسجد ” میں کچھ دیکھتا ہے تو “مردِ افرنگ” کی نیت کا پتہ چلتا ہے۔اقبال کی “نگاہِ شوق” میں “اہرام  ِمصر” کی “مخلوقاتِ ہنر” اپنا جلوہ دکھائی نظر آتی ہے۔ “اقبال” خود کو بھی نہیں پہچانتا اور کہتا ہے کہ اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے واللہ نہیں ہے۔

؎         رگِ تاک منتظر ہے تری بارشِ کرم کی                          کہ عجم کے مے کدوں میں نہ رہی مے مغانہ

 اقبا ل نے اپنی دریافت کے لیے  ” خاقانی(1120-1199)، رومی، مرزا بیدل(1642-1720)،  کارل مارکس(1818-1883)، ابی سینا(1033)، بلشویک،سکندر(323-356)،مسولینی ” وغیرہ سے  راہنمائی لینے کی کوشش کی ہے جہاں سے اسے کچھ نہ کچھ ضرورملا ہے جس کی جھلک اس کے کلام میں دیکھی جاسکتی ہے۔

اقبال فقط ایک تالاب کے  تیراک نہیں ہیں۔ ان کے ہاں وطنیت کا تصور آفاقی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال کے ہاں پوری  کائنات ایک گھر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اقبال نے زمانی حدود  سے ماورا ہو کر انسان کو ،خود کو،کائنات کو،آفاق کو اور کل عالم کے نظام  کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اقبال کے ہاں  ایسا  کوئی موضوع موجود نہیں جو اس کی ذاتی زندگی کے سانحات سے عبارت ہو۔ اقبال نے عالمِ کائنات کی از سر نو،توضیح کرنے کی کی کوشش کی ہے جس میں یہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

؎         مری نوا میں نہیں ہے ادائےے محبوبی                          کہ بانگِ صور اسرافیل دل نواز نہیں

؎         اُلٹ جائیں گی تدبیریں ،بدل جائیں گی تقدیریں                    حقیقت ہے نہیں میرے تخیل کی یہ خلاقی

اقبال کی نظر صرف برصغیر کے اندرونی معاملات پر نہ تھی بلکہ دُنیا بھر میں جہاں تک اقبال کی رسائی تھی وہاں جس لحاظ سے بھی ظلم ہوا ہے اور زیادتی و جور کا بازار گرم رہا۔ اقبال کے ہاں اس کی بازگشت نظم و نثر میں برابر دکھائی دی ہے جو ان کی آفاقی سوچ کی آئینہ دار ہے۔

 اقبال ظالم اور مظلوم کو ایک نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ زیادتی کرنے والا خواہ کسی قوم،قبیلے،علاقے،نسل ،مذہب اور وطن سے تعلق رکھتا ہے وہ ظالم ہے اور اُس کے خلاف اعلانِ جنگ کھلم کھلا کیا جائے گا۔ اقبال اس معاملے میں ممولے کو شاہین سے لڑوا دینے کے قائل ہیں لیکن ڈر کر پسپا ہونا گوارا نہیں کرتے ہیں۔ اقبال کے اس تصور کی آفاقیت ہمیں “یورپ ،سوریا،جمعیت اقوام،شام و فلسطین، دارم تہذیب، اہل مصر سے، یورپ اور یہود” میں نظر آتی ہے۔

؎         صلہ فرنگ سے آیا ہے سوریا کے لیے                           مے وقمار و ہجومِ زناں بازاری

اقبال  اپنے عہد کے واحد نباض تھے جنھو ں نے اپنے عہد کے ٹیبو موضوعات پر کھل کر لکھا اور باوجود سخت تنقید کے اپنی رائے کا اظہار ببانگِ دُہل کیا ہے۔ اقبال نے “ابلیس کی مجلس شوریٰ”(1936) کا مقدمہ جس دلیری اور ہمت سے لڑا ہے،وہ معمولی  کارنامہ نہیں ہے۔ “شکوہ” کے بعد “جوابِ شکوہ” سے اقبال کی انفرادی سوچ اور تفکر کے  اوج کا  پوری دُنیا نے مظاہرہ دیکھا تھا لیکن ” ابلیس ” کے تصور کو جس مثبت انداز میں اقبال نے متعارف کروایا ہے یہ ایک  ناقابل فراموش چیز ہے ۔

؎         ہے مری جرات سے مشتِ خاک میں ذوقِ نمو                    میرے فتنے جامہ عقل و خرد کا تاروپو

؎         میں کھٹکتا ہوں دلِ یزداںمیں  کانٹے کی طرح                      تو فقط اللہ ہو،اللہ ہو،اللہ ہو

اقبال کے ہاں تخیل کی کارفرمائی فکری حدود سے متجاوز، دکھائی دیتی ہے۔ اقبال نے ہزاروں برس  قبل کی دُنیا ہمیں دکھائی اور ہزاروں برس بعد کے احوال سے بھی آگاہ کرنے کی تخیلی سعی کی۔ اقبال کی تخلیی پرواز میں اُڑان کی شدت اس قدر تیز ہےکہ پل جھپکتے ساتوں آسمان  پر ان کا تخیل   پرواز کرتا ہے اور یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ اگر میں چاہوں تو الفاظ میں اُس نظارے کا  نقشہ کھینچ کر تمہارے سامنے رکھ دوں جسے میں سر کی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں مگر تمہاری سوچ ،عقل،شعور اور تدبر نے اس حقیقت کو ماننے سے یکسر انکاری ہو جانا ہےکہ یہ تو مہمل اور لایعنی  واردات ہیں ۔

 اقبال  نے “دوزخی کی مناجات”  کے ذریعے اسی تخیلی تموج کو ہمارے سامنے لانےکی شاعرانہ کوشش کی ہے۔ اقبال”آواز ِ غیب” کے ذریعے”عالمِ برزخ” کے معاملات کو دیکھتے ہیں اور دکھاتے  بھی ہیں ۔ اقبال  “بڈھے بلوچ کی نصیحت کو بیٹے  ” کے لیے کتنی اہم سمجھتے ہیں،یہ صرف اقبال کے کلام کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے۔

؎         یہ علم،یہ حکمت،یہ سیاست،یہ تجارت                جو کچھ ہے،وہ ہے فکر ملوکانہ کی ایجاد

؎         مر کے جی اُٹھنا فقط آزادمردوں کا ہےکام              گرچہ ہر ذی روح کی منزل ہے آغوشِ لحد

؎         کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک              مہر ومہ و انجم نہیں محکوم ترے کیوں

اقبال نے جس پیغام کو شاعری کے ذریعے ہم تک پہنچانے کی کوشش کی ہے وہ آفاقی رنگ لیے ہوئے ہے۔ اقبال ایک خطے،علاقے،رنگ،نسل،یا مذہب و مسلک کے شاعر نہیں ہیں۔ ان کے ہاں پوری دُنیا کے جملہ متنوع طرزِ زیست کے مظاہر ملتے ہیں۔ اقبال کو  یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کی شاعری اپنے اندر اس قدر پھیلاؤ رکھتی ہے۔

خلیفہ عبدالحکیم (1893-1969)لکھتے ہیں:

”انسانی تاریخ میں بڑے بڑے عظیم معجزہ ہائے  ہنر ،مرور ایام سے ناپید ہوگئے،کہیں کھنڈر باقی ہیں اور کہیں نشان بھی نہیں ملتا لیکن فلاسفہ فن لطیف نے فن کو خوبی اور کمال کو جانچنے کے لیے ایک یہ معیار بھی قائم کیا ہے کہ فن جس قدر حقیقی مظہر ِحیات ہوتا ہے اسی قدر اس کو ثبات حاصل ہوتا ہے ۔دُنیا میں ہزار ہا شعرا پیدا ہوئے  جن کا اب تک کوئی نام جانتا ہے اور نہ ان کے کلام کانمونہ ملتا ہے لیکن ہومرؔ،حافظؔ، سعدیؔ، شیکسپئرؔ،گوئٹے ؔپر زمانے کی دستبرداری کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ کلام کی معنویت اور آفاقیت کے تناظر میں اقبال کے عشق کو بھی یہی مقام میسر ہے ۔عشق کو موت نہیں اس لیے اقبال اپنے زمانی ومکانی مظاہرات کے ساتھ ثبات کی طرف گامزن ہے۔“ (7)

اقبال اوائل شاعری میں اُوب گئے تھے اور چاہتے تھےکہ شاعری چھوڑ کر کوئی اور کام کروں کیوں کہ یہ تووقت  کاضیاع ہے۔ ان کے ایک  مغربی  اُستاد آرنلڈ(1822-1888)نے ان کی ہمت بندھائی تھی اور کہا تھاکہ شاعری کو ترک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ذوق کو جاری رکھو۔ یہ مشور ہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا مرزا غالبؔ نےمولا نا حالیؔ کو دیا تھا۔

 اگر مرزا غالبؔ، مولانا حالیؔ کو شاعری ترک کرنے کا مشورہ دے ڈالتے تو آج “مسدس  مدوجزر اسلام “(1879) ایسا عظیم اور وقیع شعری  فن پارہ تخلیق نہ ہوتا جس سے ایک دُنیا نے استفادہ کیا۔ مولا نا حالیؔ کا” مسدس “اور اقبال کا پورا کلام  یکجاشاعری میں میزان  کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں پوری اُردو شاعری کی روایت مجمتع کر دیا جائے تو بلاشبہ   اقبال والا پلڑا بھاری ثابت ہوگا ۔

مختصر یہ کہ اقبال ایک شخص کا نام نہیں، ایک ادارے کا عنوان بن چکا ہے۔ اقبال کے بعد اقبال کے تفکر کی پذیرائی آج پوری دُنیامیں ہے۔ اقبال  نے جو کچھ کہنا تھا وہ کہ چکے۔ان کی جملہ تعلیمات کو از سرِنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبالیات کو باقاعدہ ایک تحقیق کا میدان تصور کر لیا گیا ہے۔ اقبال کے کلام ِنظم و نثر پر اب تک ہزاروں کتب اور مقالات ومضامین لکھے جاچکے ہیں۔ پاکستان وبھارت کے علاوہ دُنیا کے پچاس سے زائد ممالک میں اقبال پر تحقیقی کام  شائع ہو چکا ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان کی    دسیوں جامعات میں” اقبال سٹڈی” اور” اقبالیات” کے شعبہ جات کے علاوہ “اقبال چئیرز” کا اہتما م کیا گیا ہے جہاں اقبال کی فکر کو رواج  و فروغ دینے کے لیے جویائے علم  جوق در جوق آتے ہیں اور کلامِ اقبال کے حقیقی تصور سے فیض  یاب ہوتے ہیں۔

حاصلِ کلام: اقبال کےکلام میں بلاشبہ  وہ طاقت اور قوت موجود ہے جو ایک قوم کی تشکیلِ نو  کر سکتی ہے۔ اس طاقت اور قوت کو بروئے کار لاناعہدِحاضر نے نمائندگان کی ذمہ داری ہے۔دیکھنا یہ ہےکہ فکر و شعور کی اس شمع کو جلائے رکھنے میں پہل کون کرتا ہے۔اقبال کے کلام میں ہمیں ہر مکتبہ فکر کی راہنمائی کا درس ملتا ہے۔ اقبال نے شعر و شاعری کے پنڈ کو اپنی ذات کے لیے اگرچہ ترک کر دیا تھا لیکن امت محمدیؑ کے اجتماعی شعو رکوبیدار کر نے کے لیے اس شمع کو آخری سانس تک جلائے رکھنے کی اقبال نے کوشش کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اقبال کے پیام کو اوروں تک لے جائیں تاکہ جو اقبال کی فکر سے ناآشنا ہے وہ بھی نالہ سوز کی حدت سے تڑپ اُٹھے اور اپنے آپ کی تلاش میں حقیقی عرفان کا گیان حاصل کر لے۔

          ؎         اور دکھلائیں گے  مضموں  کی ہمیں باریکیاں              اپنے فکرِنکتہ آرا کی فلک پیمائیاں

          ؎         اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبلِ شیراز بھی             سیکڑوں ساحر بھی ہوں صاحب ِاعجاز بھی

          ؎         لکھی  جائیں گی کتابِ دل کی تفسیریں بہت              ہوں گی اے خوابِ جوانی! تیری تعبیریں بہت

حوالا جات

1۔تاثیر،ایم ڈی، اقبال :ایک آفاقی شاعر،مشمولہ،مضمون،اقبالیات کے سو سال، مرتبین،رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر، محمد سہیل عمر، وحید عشرت،ڈاکٹر، لاہور: اقبال اکادمی،پاکستان،طبع سوم،2012،ص155

2۔شوکت سبزواری،ڈاکٹر، اقبال : آفاقی شاعر،مشمولہ،مضمون،اقبالیات کے سو سال، مرتبین،رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر، محمد سہیل عمر، وحید عشرت،ڈاکٹر، لاہور: اقبال اکادمی،پاکستان،طبع سوم،2012،ص230

3۔تاثیر،ایم ڈی، اقبال :ایک آفاقی شاعر،مشمولہ،مضمون،اقبالیات کے سو سال، مرتبین،رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر، محمد سہیل عمر، وحید عشرت،ڈاکٹر، لاہور: اقبال اکادمی،پاکستان،طبع سوم،2012،ص158

4۔ آل احمد سرور،پروفیسر، اقبال کی معنویت،مشمولہ،مضمون،اقبالیات کے سو سال، مرتبین،رفیع الدین ہاشمی،ڈاکٹر، محمد سہیل عمر، وحید عشرت،ڈاکٹر، لاہور: اقبال اکادمی،پاکستان،طبع سوم،2012،ص200

5۔مجنوں گورکھپوری، اقبال،مشمولہ مضمون، علامہ اقبال:حیات،فکر وفن،مرتبہ،سلیم اختر،ڈاکٹر،لاہور:سنگ میل بپلی کیشنز،2003،ص558

6۔محمد ولایت علی خاں، اقبال کا سیاسی پس منظر، مشمولہ ،مضمون،علامہ اقبال:افکار و خیالات،مرتبین،مصباح الحق صدیقی، تسنیم کوثر گیلانی،لاہور: فرحان پبلشرز،سن،ندارد،ص113

7۔خلیفہ عبدالحکیم،فکرِ اقبال،دہلی: ایجوکیشنل پبلشنگ،ہاؤس،1977،ص523

Reference:

1.Taseer ,MD,Iqbal:ayk afaqi shayar,mashmola,Iqbaleat k so sal,mutrebeen,Rafi u din Hashmi,dr,Muhammad Sohail Umer,dr,Waheed Ishrat,dr,Lahore,Iqbal Academy,Pakistan,taba soum,2012,p155

2.Shoukat sabazwari,dr,Iqbal:afaqi shayar,mashmola, Iqbaleat k so sal,mutrebeen,Rafi u din Hashmi,dr,Muhammad Sohail Umer,dr,Waheed Ishrat,dr,Lahore,Iqbal Academy,Pakistan,taba soum,2012,p230

  1. Taseer ,MD,Iqbal:ayk afaqi shayar,mashmola,Iqbaleat k so sal,mutrebeen,Rafi u din Hashmi,dr,Muhammad Sohail Umer,dr,Waheed Ishrat,dr,Lahore,Iqbal Academy,Pakistan,taba soum,2012,p158

4.Aal e Ahmad Saroor,prof, Iqbal ki manveat, Iqbaleat k so sal,mutrebeen,Rafi u din Hashmi,dr,Muhammad Sohail Umer,dr,Waheed Ishrat,dr,Lahore,Iqbal Academy,Pakistan,taba soum,2012,p200

5.Majno Gorakhpuri,Iqbal,mashmola ,mazmon,Allama Iqbal:hayat o fan,mutrba,Saleem Akhtar,dr,Lahore:Sang e meel,publication,2003,p558

6.Muhammad Welaet Ali Khan,Iqbal ka seyasi pas manzar,mashmola,mazmon,Allama Iqbal:afkar o khayalat,murtebeen,Misbah ul haq sadiquee,Tanseen Kausar Geelani,Lahore, Farhan publisher,san nadarmp558

  1. khaleefa Abdul Hakeem,fikar e Iqbal,Dehli,,educational publication house,1997,p523

Contact

Mohsin Khalid Mohsin

Lecturer,Govt.Shah Hussain Graduate College Chung,Lahore

House no 3,street no 09,Shadab colony Chung Multan Road Lahore

03014463640

mohsinkhalid53@gmail.com

Leave a Reply