دیوانِ نوری میں ہندی، ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کا استعمال

ڈاکٹر محمد احمد نعیمی

اسسٹنٹ پروفیسر ڈپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز

 جامعہ ہمدر د(ہمدرد یونیورسٹی) ، نئی دہلی

دیوانِ نوری میں ہندی، ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کا استعمال

مختصر تعارف

 مولانا مصطفیٰ رضا خاں نوریؔ فرزند ارجمند  مولانا احمد رضا خاں علیہما الرحمۃ والرضوان، دنیائے اسلام بالخصوص حلقۂ اہلِ سنت و الجماعت میں ممتاز عالمِ دین، معتبر فقیہ، مفتیٔ اعظمِ ہند اور عظیم روحانی مرشد کامل کے طور پر متعارف ہیں۔ آپ کی سیرت و سوانح کا تحقیقی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ قرآن و حدیث، شریعت و تصوف، شرعی نکات، روحانی اسرار و رموز، علوم عقلیہ ونقلیہ، علوم افتا و شریعت، اصولِ حدیث، اصولِ تفسیر، فقہ و اصول فقہ، علم وراثت و علم الفرائض، علم الکلام اور علم العقائد، علم بلاغت اور علم المعانی، منطق و فلسفہ، عربی ادب، علم صرف، علمِ نحو، علم تہذیب و ثقافت، علم تاریخ و تمدن، علم العروض، فارسی، عربی، اردو، ہندی اور شعر و سخن جیسے بہت سے علوم پر اچھی دسترس رکھتے تھے۔

مختصر یہ کہ آپ  ایک عظیم محقق و مصنف تھے اور قابلِ اعتماد فقیہ اور مستند مفتی بھی۔ آپ کی تحریر کردہ تصنیفات و تالیفات قدرے قلیل ہیں لیکن جو ہیں وہ شاہکار و بے مثال ہیں۔ جن سے آپ کے علم و فضل، ذہانت وفطانت، علمی گہرائی وگیرائی، دور اندیشی، فکری جولانی اور زرف نگاہی کا بخوبی انداز ہ ہوتا ہے۔

ہندی اور ہندوستانی زبان:

آج ہم جس زبان سے بنام ہندی متعارف ہیں وہ اَپ بھرنش زبان (مسخ شدہ یا بگڑی ہوئی) سے تخلیق شدہ ہے، جس کی پیدائش ایک ہزار عیسوی کے قریب ہوئی لیکن ادبی تخلیق کا عمل اس میں گیارہ سو پچاس یا تیرہویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔

اپ بھرنش زبان کی خاص طور سے دو قسمیں ہیں (۱) پچھمی ہندی (۲) پوربی ہندی۔  اول الذکر شورسینی اَپ بھرنش سے ارتقاء پذیر ہوئی۔ اس میں قنوجی، بانگڑو، بندیلی، کھڑی بولی اور برج بھاشا یہ پانچ بولیاں ہیں۔ جن میں کھڑی بولی اور برج بھاشا خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں بھی اول کا ادب دوسری کے قدیم ادب سے کافی ترقی یافتہ ہے۔ یہی کھڑی بولی اپنی ادبی شکل میں ’’ہندی‘‘ نام سے مشہور ہوئی اور یہی ہندوستان کی سرکاری زبان ہے۔ اس کا عربی و فارسی لفظوں سے مزین دوسرا روپ اردو ہے جو اردو شعر و ادب کے حوالہ سے کافی خوشحال ہے۔ کھڑی بولی یا ہندی کے لیے دیوناگری رسم الخط استعمال ہوتا ہے اور الفاظ کی سطح پر زیادہ تر سنسکرت کے لفظوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اردو عربی کے ترمیم شدہ رسم الخط یا فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور الفاظ کی صورت میں اس پر عربی و فارسی کے الفاظ کااثر غالب ہوتا ہے۔

پوربی ہندی نے اردھ ماگدھی اپ بھرنش سے عروج پایا ہے، اس میں اودھی، بگھیلی اور چھتیس گڑھی تین بولیاں ہیں۔ قدیم ادب کے نقطۂ نظر سے اودھی مالدار زبان ہے جس کو تلسی اور جائسی جیسے اعلیٰ درجے کے کوی (شاعر) حاصل ہوئے ہیں۔

(۱-تیواری، ڈاکٹر بھولا ناتھ، بھاشا وگیان کوش، وارانسی، گیان منڈل لمیٹڈ، ۲۰۲۰ سموت، ص ۷۲۷ تا ۷۴۱/ ۲- تیواری، ڈاکٹر بھولا ناتھ، بھاشا وگیان، الٰہ آباد، کتاب محل، ۱۹۵۱ء، ص ۱۹۴-۱۹۵)

ہندوستانی زبانوں کے ماہرین و محققین نے ہندی کی چار اقسام یا چار شکلیں بیان کی ہیں :

(۱)      خالص و اعلیٰ ہندی: یہ ہندی کی معیاری شکل ہے، جس کا رسم الخط دیوناگری ہے۔ اس میں سنسکرت کے بہت سے الفاظ موجود ہیں، جنھوں نے فارسی، عربی اور انگریزی وغیرہ کے بہت سے الفاظ کی جگہ حاصل کرلی ہے اور یہ کھڑی بولی پر منحصر ہے۔

(۲)     دکھنی: یہ اردو اور ہندی کی وہ شکل ہے جو حیدرآباد اور اس کے اطراف واکناف میں بولی جاتی ہے۔ اس میں فارسی اور عربی کے الفاظ بمقابل اردو کم ہوتے ہیں۔

(۳)      ریختہ: یہ اردو کا وہ روپ اور وہ قسم ہے جو شاعری میں استعمال ہوتا ہے۔

(۴)     اردو: یہ ہندی کا وہ روپ ہے جو عربی و فارسی رسم الخط میں لکھا جاتا ہے اس میں سنسکرت کے الفاظ قلیل ہوتے ہیں اور عربی و فارسی کے کثیر۔ اس کا بھی کھڑی بولی پر مدار ہے اور کھڑی بولی کی ان دونوں اقسام، یعنی اردو اور ہندی کو ہندوستانی زبان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

علاقائی زبان

قومی زبان کے علاوہ اپنے اپنے علاقوں میں جو زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں وہ علاقائی زبان کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ جیسے بھوجپوری، اودھی، بنگلہ، پنجابی، گجراتی اور مراٹھی وغیرہ۔ یہ اپنے اپنے علاقوں کی نمائندگی و ترجمانی کرتی ہیں۔ جب کہ قومی زبان کو ملک کے تمام حصوں اور علاقوں میں استعمال کیا جاتا اور سمجھا جاتا ہے۔ قومی زبان کو اس معنیٰ کر بھی بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ یہ علاقائی زبانوں کے تعاون اور اشتراک سے ملک کے تمام حصوں میں آباد لوگوں میں اتحاد اور اتفاق کا ماحول قائم کرتی ہے اور پورے ملک میں لوگوں کے مابین میل جول ، باہمی اتحاد، پیار اور محبت بڑھانے کا وسیلہ بن جاتی ہے اور اس طرح یہ ایک ملک کے مختلف زبان بولنے والے باشندوں کو ایک قوم کی شکل میں متحد کردیتی ہے۔ بلکہ انسانی ذہن کے سوچنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتی ہے۔

کسی ملک کی علاقائی زبانوںکا اس ملک کی قومی زبان سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔کیونکہ ایک زبان کے الفاظ دوسری زبان میں منتقل ہوتے رہتے ہیں اور پھر علاقائی زبانوں کے الفاظ، محاورے اور ضرب الامثال قومی زبان میں شامل و جذب ہوکر اس کی وسعت و ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح قومی زبان کے الفاظ، محاورے اور ضرب الامثال علاقائی زبانوں میں شامل ہوکر انھیں وسعت اور فروغ بخشتے ہیں۔ اگر یوں کہا جائے تو انسب ہوگا کہ علاقائی زبانیں اور قومی زبان ایک دوسرے کو تقویت فراہم کرتی ہیں۔

دیوانِ نوری میں ہندی، ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کا استعمال:

سامانِ بخشش علامہ مولانا مصطفی رضا خاں نوری علیہ الرحمۃ والرضوان کا نعتیہ دیوان ہے۔ جو حمد باری تعالیٰ، نعوت، مناقب، غزلیات اور رباعیات پر مشتمل کلام کا حسین گلدستہ ہے۔ اس کے اکثر حمدیہ، نعتیہ، منقبتیہ اور غزلیہ کلام کی ردیف، قافیہ اور زمین انتہائی سادہ اور سہل ہے۔ مکمل دیوان توحید رب العالمین، فضائل و محامد سید المرسلین، قرآن و حدیث، تفسیر، فقہ اور سیرتِ رسول اکرم ﷺ کی بوقلمونی سے سرشار نظر آتا ہے۔

علامہ نوری کو شاعری ورثہ میں ملی تھی، یہی وجہ ہے کہ آپ کے کلام میں آپ کے والد بزرگوار امام احمد رضا قدس سرہٗ کا عکس کافی حد تک جلوہ گر ہے۔ امام احمد رضا کا نعتیہ کلام عشقِ رسول کا منھ بولتا شاہکار ہے اور عشقِ رسول کا یہی رنگ و ڈھنگ دیوانِ نوری سے مترشح ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر دیوانِ رضا اور دیوانِ نوری کے حسب ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیں:

کروں تیرے نام پہ جاں فدا نہ بس ایک جاں دو جہاں فدا

دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروروں جہاں نہیں

جان ہے عشق مصطفی روز فزوں کرے خدا

جس کو ہو درد کا مزہ نازِ دوا اٹھائے کیوں

یاد میں جس کی نہیں ہوش تن و جاں ہم کو

پھر دکھا دے وہ رخ اے مہرِ فروزاں ہم کو

(حدائق بخشش، دیوانِ رضا)

چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا

کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہم زنگار کا

دل ہے کس کا جان کس کی سب کے مالک ہیں وہی

دونوں عالم پر ہے قبضہ احمد مختار کا

ہائے اس دل کی لگی کو میں بجھاؤں کیوں کر

فرطِ غم نے مجھے آنسو بھی گرانے نہ دیا

اب کہاں جائیگا نقشہ ترا میرے دل سے

تہ میں رکھا ہے اسے دل سے گمانے نہ دیا

(سامانِ بخشش، دیوانِ نوری)

قرآن و سنت کے مطابق خشیتِ الٰہی، حبِ رسول یا عشقِ رسول ایک مومنِ صادق کے لیے جزولاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بندئہ مومن کو معراجِ ایمانی اسی وقت حاصل ہوتی ہے، جب اس کا سینہ عشقِ مصطفی ﷺ کا مخزن و مسکن ہوتا ہے اور یہی وہ نعمتِ عظمیٰ ہے کہ جس کے باعث کلام میں روحانی طہارت و لطافت اور قلوب کو منور و مجلّٰی کرنے والی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور ایک عاشقِ صادق اور صاحبِ قلب و نظر شخصیت سے روشناس کراتی ہے۔ سامانِ بخشش کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یہ مجموعۂ کلام درحقیقت اس خوفِ الٰہی اور عشقِ رسول کا منظوم اظہار ہے کہ جو آپ کے دل میں موجیں ماررہا تھا۔مثلاً یہ اشعار دیکھیں:

یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروروں

ترے نام پر سب کو وارا کروں میں

ترا ذکر لب پر خدا دل کے اندر

یونہی زندگانی گزارا کروں میں

خدا ایک پر ہو تو اک پر محمد

اگر قلب اپنا دو پارہ کروں میں

دیوانِ نوری کی ایک ممتاز خوبی یہ ہے کہ حمد ہو یا نعت، منقبت ہو یا رباعی ہر ایک میں رنگ تغزل، نغمگی و شیرینی اور فصاحت و بلاغت کا ایسا تنوع موجود ہے کہ جو سامعین کو مسحور و مسرور کردیتا ہے۔ شعر و سخن سے ذرا سی بھی واقفیت رکھنے والے قارئین مندرجہ ذیل اشعار سے اس کیفیت کا بحسن و خوبی احساس کرسکتے ہیں:

کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں

ہمیشہ نقش رہے روئے یار آنکھوں میں

مئے محبتِ محبوب سے یہ ہیں سرسبز

بھری ہوئی ہے شرابِ طہور آنکھوں میں

یہ اشتیاق تری دید کا ہے جانِ جہاں

دم آگیا ہے دم احتضار آنکھوں میں

یہ حالِ زار ہے فرقت میں تیرے مضطر کا

کہ اشک آتے ہیں بے اختیار آنکھوں میں

قریب ہے رگِ گردن سے پر جدا ہے وہ

نہ یار دل میں مکیں ہے نہ یار آنکھوں میں

کسی بھی شاعر کی شعر گوئی، پروازِ تخیل اور اس کی فکری کاوش کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے شعری تلازمات ومناسبات اور ادبی اصطلاحات کے ساتھ اس بات کو ملحوظ رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ اس کے گردوپیش اور اطراف و اکناف میں پائے جانے والے ماحول اور زبان کا بھی جائزہ لیا جائے کہ جس میں اس کی جولانیٔ طبع پروان چڑھی اور اپنے افکار و خیالات کے موتی بکھیرتی رہی۔ کیونکہ ماحول اور زبان کا شاعر کے دل و دماغ پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ شاعر جب اپنے گردوپیش کے ماحول اور زبانوں سے متاثر ہوتا ہے تو اس کے کلام میں سوز و شگفتگی، جدت و برجستگی اور ندرت و جاذبیت جنم لیتی ہیں۔ اس پس منظر میں جب ہم حضرت نوی بریلوی کے کلام کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ موصوف اپنے گردوپیش اور اطراف و اکناف کے احوال کے ساتھ ساتھ ہندی، ہندوستانی اور علاقائی زبانوں پر بھی یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ آپ کے دیوان ’’سامانِ بخشش‘‘ کا مطالعہ بارہا یہ باور کراتا ہے کہ آپ کافی حد تک علاقائی اور مقامی بولیوں سے واقف و آگاہ تھے۔ اور ایک شاعر و ادیب کے لیے یہ ضروری بھی ہے کہ وہ اپنے مضافات اور قرب و جوار میں بولے جانے والے الفاظ، کلمات اور محاورات پر گہری نظر رکھے اور ان کو اپنی نگارشات، تصنیفات اور اشعار میں حتی الامکان استعمال کرے۔

مختصر یہ کہ آپ کے کلام میں ہندی، ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ اور کلمات کا بھی برمحل استعمال ہوا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے آپ کے مکمل دیوان کا تحقیقی جائزہ لینا کافی دقت طلب اور طوالت کا موجب ہے اس لیے چیدہ چیدہ اشعار کا مختصر تحقیقی و لسانی جائزہ لینے کی یہاں ہم جسارت کررہے ہیں۔ اسی سے آپ کے دوسرے کلام کے ادبی و لسانی معیار کا بحسن و خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ حضرت نوری فرماتے ہیں:

ذکر سے چوک کر ہوتا ہے وہ نڈھال

ذکر ہی تیرا ہے اس کی وجہ نمو

اللہ، اللہ، اللہ، اللہ،

ایک ہی ہے وہ بے شک ایک

بندہ اس کا ہر بد و نیک

کافر دل میں اس سے اٹیک

اپنے دل کی ہے یہی ٹیک

لا الہ الا اللہ اٰمنا برسول اللہ

سوتا پیتا کھاتا نہیں

اس کا رشتہ ناتا نہیں

اس کے پتا اور ماتا نہیں

اس کے جورو جاتا نہیں

لا الٰہ الا اللہ اٰمنا برسول اللہ

جب سجدے کا حکم ہوا

سب نے کیا اس نے نہ کیا

اور متکبر نے یہ بکا

یہ مٹی میں انگارا

لا الٰہ الا اللہ اٰمنا برسول اللہ

جب حضرت کا جی نہ لگا

تنہائی سے گھبرا اٹھا

اور ظلموں کی تھی بھرمار

ایک کو اک کرتا ناچار

لا الٰہ الا اللہ اٰمنا برسول اللہ

مذکورہ بالا اشعار میں چوک، نڈھال، اٹیک، ٹیک، سوتا، کھاتا، پیتا، ناتا، پتا، ماتا، جورو جاتا، بکا، مٹی، انگارا، جی، گھبرا اٹھا، پھلا، پھولا اور بھرمار ہندی الفاظ ہیں۔ علاقائی زبان یا ہندوستانی زبان کی صورت میں بھی عوام و خواص بکثرت ان الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے معانی و مفاہیم بھی تقریباً سبھی کو معلوم ہیں اس لیے ان کے لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

عرش اعظم پر پھریرا ہے شہِ ابرار کا

بجتا ہے کونین میں ڈنکا مرے سرکار کا

دو جہاں میں بٹتا ہے باڑہ اسی سرکار کا

جاری ہے آٹھوں پہر لنگر سخی دربار کا

کاٹ کر یہ خود سر میں گھس کے بھیجا چاٹ لے

کاٹ ایسا ہے تمہاری کاٹھ کی تلوار کا

اس کنارے ہم کھڑے ہیں پاٹ ایسا دھار یہ

المدد اے ناخدا ہے قصہ اپنے پار کا

رب سلّم کی دعا سے پار بیڑا کیجیے

راہ ہے تلوار پر نیچے ہے دریا نار کا

چوکڑی بھولا براق باد پا یہ دیکھ کر

ہے قدم دوشِ صبا پر اس سبک رفتار کا

وا اسی برتے پہ تھا یہ تتّا پانی واہ واہ

پیاس کیا بجھتی دہن بھی تر نہیں ہر خار کا

پاؤں میں چبھتے تھے پہلے اب تو دل میں چبھتے ہیں

یاد آتا ہے مجھے رہ رہ کے چبھنا خار کا

ان اشعار میں پھریرا (جھنڈا، پتا کا ،ہ -۴۲۱)، بجتا ہے، ڈنکا (ایک قسم کا نگاڑا، ہ-۲۲۷)، باڑا (خیرات ، ہ-۱۶۷)، آٹھوں پہر (دن رات، ہ-۵۲)، گھسنا، بھیجا چاٹنا، کاٹھ (لکڑی، ہ-۱۰۴)، پاٹ (چوڑائی، پھیلاؤ، ہ-۳۷۶)، دھار (پانی کا بہاؤ، ہ-۳۰۳)، پار (چھور، انتہا،ہ-۳۷۶)، بیڑا (ناؤ، لٹھے، بانس وغیرہ ایک ساتھ باندھ کر بنایا ہوا ڈھانچہ جس پر بیٹھ کر ندی پار کرتے ہیں، مصیبت سے بچانا، ہ-۵۷۵)، چوکڑی بھولنا (عقل کام میں نہ آنا، سب ترکیب و تدبیر بھول جانا، ہ-۲۴۱)، تتّا پانی (گرم جلتا ہوا،ہ-۳۰۵)، پیاس بجھنا اور چبھنا ہندی الفاظ ہیں۔

خیال رہے کہ مشکل ہندی الفاظ کے معانی کو ہم نے قوسین کے درمیان بیان کیا ہے اور حوالہ جات کے لیے ’’بھارگو آدرش ہندی شبد کوش‘‘ کی ترجمانی کے لیے ہ اور ’’فیروز اللغات‘‘ کی رہنمائی کے لیے ف کا استعمال بطور اشارہ کیا ہے۔

دل ذکر شریف ان کا ہر صبح و مسا کرنا

دن رات جپا کرنا ہر آن رٹا کرنا

سنسار بھکاری ہے جگ داتا دیاکرنا

منگتا کی دوا کرنا منگتا کا بھلا کرنا

سوکھی ہے مری کھیتی پڑجائے بھرن تیری

اے ابرِ کرم اتنا تو بہر خدا کرنا

اُف کیسی قیامت ہے یہ روزِ قیامت بھی

سورج ہے وہیں قائم بھولا ہے ڈھلا کرنا

پیش کردہ اشعار میں جپا کرنا، رٹا کرنا، سنسار، بھکاری، جگ، داتا، منگتا، بھلا کرنا، سوکھی، کھیتی، بھرن (زورشور کی بارش جو دم بھر میں جل تھل کردے، ف ۲۳۵)، بھولا اور ڈھلا کرنا ہندی یا ہندوستانی زبان کے الفاظ ہیں۔

دیس سے ان کی جو الفت ہے تو دل نے میرے

اس لیے دیس کا جنگلہ بھی تو گانے نہ دیا

دیس کی دھن ہے وہی راگ الاپا اس نے

نفس نے ہائے خیال اس کا مٹانے نہ دیا

میرے اعمال سیہ نے کیا جینا دو بھر

زہر کھاتا ترے ارشاد نے کھانے نہ دیا

شربتِ دید نے اور آگ لگادی دل میں

تپشِ دل کو بڑھایا ہے بجھانے نہ دیا

اب کہاں جائے گا نقشہ ترا میرے دل سے

تہ میں رکھا ہے اسے دل نے گمانے نہ دیا

سامانِ بخشش کے مذکورہ اشعار میں دیس، جنگلہ، (ایک راگنی، ف-۴۷۵) گانے نہ دیا، دھن، راگ الاپا (سرکھینچا، اپنی ہی کہے جانا، ف-۱۱۱)، مٹانے نہ دیا اور گمانے نہ دیا ہندی کلمات ہیں جن کو نوری صاحب نے انتہائی حسین پیرائے میں نظم کیا ہے۔

چوندھ جائے گی تری آنکھ بھی مہرِ محشر

ان کے ذرے کو جو دیکھے گا پریشاں ہوگا

بھیڑیوں کا ہے یہ جنگل نہیں کوئی راعی

بھولی بھیڑوں کا شہا کون نگہباں ہوگا

یہی اندھیر اگر اور بھی کچھ روز رہا

تو مسلماں کا نشاں بھی نہ نمایاں ہوگا

دیوانِ نوری کے مندرجہ ذیل اشعار میں چوندھ جائے گی، بھیڑیوں کا ہے یہ جنگل، بھولی بھیڑوں اور اندھیر ہندی زبان کے کلمات ہیں جن کی پیوند کاری سے اشعار کا حسن مزید دوبالا ہوگیا ہے۔

کیسے کاٹوں رتیاں صابر

تارے گنت ہوں سیّاں صابر

مورے کرجوا ہوک اٹھت ہے

مو کو لگالے چھتیاں صابر

چیری کو اپنے چرنوں لگالے

میں پروں تورے پیّاں صابر

ڈولے نیا موری بھنور میں

بلما پکڑلے بیّاں صابر

چھتیاں لاگن کیسے کہوں میں

تم ہو اونچے اٹریا صابر

تورے دوار سیس نواؤں

تیری لے لوں بلیّاں صابر

سپنے میں ہی درشن دکھلا دو

مو کو مورے گسیّاں صابر

تن من دھن سب تو پہ وارے

نوری مورے سیّاں صابر

مندرجہ بالا اشعار میں ہندی اور علاقائی زبان کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ نوری صاحب نے دونوں زبانوں کے الفاظ کو اتنے سلیقے سے استعمال کیا ہے کہ معنویت کے ساتھ ساتھ جاذبیت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ مثلاً تارے، مورے، ہوک (دل کا درد، ہ-۸۳۸) توری، چرن، تورے، چیری (باندی، کنیز، ف-۵۵۸)، ڈولے، نیّا، بھنور (پانی کا چکر، ہ-۲۳۹)، بلما، دوار، سیس (سر، ماتھا، ہ-۷۹۲)، نوانا (جھکانا، پوجا کرنا، ہ-۴۱۳)، سپنا، درشن، دھن، وارنا (نچھاور کرنا، قربان کرنا، ہ-۷۰۶)، ہندی الفاظ ہیں اور رات سے رتیاں، گننا سے گنت ، کرجوا، اٹھنا سے اٹھت، موکو، چھاتی سے چھتیاں، صورت سے صورتیا، پیاری، بات سے بتیاں، پڑوں سے پروں، پاؤں سے پیّاں، بانہہ سے بیّاں، لگنا سے لاگن، اٹاری سے اٹریا (چھت کے اوپر کامکان، ف -۶۵)، دوار سے دوارے، بلالینا سے بلیّاں (صدقے جانا، ف۲۱۱)، دکھلا دو، گوسائیں سے گوسنیاں (آقا، مالک، ہ-۲۰۵)، من اور سائیں سے سنیاں (آقا، محبوب، ہ-۷۷۸) وہ الفاظ ہیں جو ہندی، ہندوستانی اور علاقائی زبانوں میں بکثرت رائج ہیں۔

رب کے پیارے راج دلارے

ہم ہیں تمہارے تم ہو ہمارے

دھوویں گنہ کہ دھبے کالے

ابرِ کرم کے برسیں جھالے

ڈگمگ ڈگمگ نیّا ہالے

جیرا کانپے توئی سنبھالے

بگڑی ناؤ کون سنبھالے

ہائے بھنور سے کون نکالے

راج پرجا آپ کے دوارے

سب ہیں بیٹھے جھولی پسارے

داتا پیارے دولت والے

قوت والے ہمت والے

کھیون ہارے کھیون ہارے

بیّاں پکڑلے مورے پیارے

ہم ہیں بیٹھے تمرے دوارے

اپنی اپنی جھولی پسارے

بھینی بھینی نکہت والے

اچھی اچھی سیرت والے

کوئی نہیں ہے ایسا آقا

پردہ ڈھانپے جو تنگوں کا

سامانِ بخشش میں بعنوان ’’تم پر لاکھوں سلام اور اعلیٰ سے اعلیٰ رفعت‘‘ کلام کے تحت پیش کردہ مذکورہ بالااشعار ہندی، ہندوستانی اور علاقائی زبان کا حسین گلدستہ ہیں۔ ’’پیارے، راج دلارے، دھبہ، جھالے (ایسی بارش جو ایک جگہ برسے مگر اس کے قریب کے دوسرے مقامات پر نہ برسے، ف-۴۹۰)، ڈگمگ ڈگمگ، ناؤ، بھنور، راجا، پرجا، داتا، کھیون ہارے (پار لگانے والا، ہ-۱۸۲)، اور بھینی بھینی (میٹھی میٹھی ، ہ-۵۹۲) ہندی زبان کے الفاظ ہیں اور دھوویں، دھبے کالے، برسیں، نیّا ہلے سے ہالے، جی کانپے سے جیرا کانپے، توئی سنبھالے، بگڑی ناؤ، ہائے بھنور، آپ کے دوارے، جھولی پسارے، داتا پیارے، بیّاں پکڑلے، مورے، پیارے، تمرے داورے اور ڈھانپے جو تنگوں‘‘ کا علاقائی اور ہندوستانی زبان کے لفظوں کا حسین شاہکار ہیں۔

بانٹا تو نے نور کا باڑا ﷺ

نوری مورت نور کا پتلا ﷺ

غم کی کالی گھٹائیں چھائیں

رنج و الم کی بلائیں چھائیں

سر پر بادل کالے کالے

دودِ عصیاں کے ہیں چھالے

میں ہوں تنہا بن ہے سونا

دم گھٹتا ہے میرے مولیٰ ﷺ

ان اشعار میں ’’بانٹا، باڑا (خیرات، ف-۱۶۷)، مورت، پتلا، گھٹائیں چھائیں، بلائیں چھائیں، کالے کالے، چھالے (آبلہ، پھپھولہ، ف-۵۴۹)، اور دم گھٹتا ہے ہندی الفاظ ہیں، لیکن علاقائی زبان میں بھی بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔

ترے صدقے جاؤں مری لاج رکھ لے

ترے ہاتھ ہے لاج یا غوثِ اعظم

ارے مورے سیاں پڑوں تورے پیاں

پکڑ موری بیاں پیا غوثِ اعظم

کھلا میرے دل کی کلی غوثِ اعظم

مٹا قلب کی بے کلی غوثِ اعظم

مخالف ہوں گو سو پدم غوثِ اعظم

ہمیں کچھ نہیں اس کا غم غوثِ اعظم

گھٹا حوصلہ غم کی کالی گھٹا کا

بڑھی ہے گھٹا دم بدم غوثِ اعظم

کوئی دم کے مہماں ہیں آجاؤ اس دم

کہ سینے میں اٹکا ہے دم غوثِ اعظم

غوثِ اعظم کی شان میں لکھی گئی اس منقبت میں ’’مری لاج رکھ لے، ترے ہاتھ ہے لاج، ارے، مورے سیاں، پڑوں، تورے پیاں، موری بیاں، پیا، کلی، بے کلی، سوپدم (علم ہندسہ میں سو نیل کاایک پدم ہوتا ہے۔ ف-۲۸۳)، گھٹا، کالی گھٹا، بڑھی ہے گھٹا اور سینے میں اٹکا ہے‘‘ وہ الفاظ ہیں جو ہندی اور علاقائی دونوں زبانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

دہر یہ الجھا ہوا ہے دہر کے پھندوں میں یوں

سارا الجھا سامنے ہے اور سرا ملتا نہیں

جل رہے ہیں پھنک رہے ہیں عاشقانِ سوختہ

دھوپ ہے اور سایۂ زلفِ رسا ملتا نہیں

فرشتے آج جو دھومیں مچانے آئے ہیں

انہیں کے آنے کی شادی رچانے آئے ہیں

فلک کے حور و ملک گیت گانے آئے ہیں

کہ دو جہاں میں یہ ڈنکے بجانے آئے ہیں

یہ بھولے بچھڑوں کو رستے پہ لانے آئے ہیں

یہ بھولے بھٹکوں کو ہادی بنانے آئے ہیں

فقیر آپ کے در کے ہیں ہم کہاں جائیں

تمہارے کوچے میں دھونی رمانے آئے ہیں

الجھا ہوا، پھندوں میں، سارا الجھا سامنے، سرا ملتا نہیں، پھنک (گرنا، بکھرنا ، ف-۳۱۸)، دھوپ، دھومیں مچانے،شادی رچانے، گیت گانے، ڈنکے بجانے، بھولے بچھڑوں، بھولے بھٹکوں اور دھونی رمانے (آگ کا الاؤ جلا کر سادھوؤں کی طرح بیٹھ جانا، ف-۶۶۹)، جیسے کلمات ہندی اور علاقائی زبان کی فہرست میں شامل ہیں۔

تری کفشِ پایوں سنوارا کروں میں

کہ پلکوں سے اس کو بہارا کروں میں

جو ہو قلب سونا تو یہ ہے سہاگا

تری یاد سے دل نکھارا کروں میں

یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروروں

ترے نام پر سب کو وارا کروں میں

تری رحمتیں عام ہیں پھر بھی پیارے

یہ صدماتِ فرقت سہارا کروں میں

ترے در کے ہوتے کہاں جاؤں پیارے

کہاں اپنا دامن پسارا کروں میں

دیوانِ نوری کی یہ مشہور نعت ہے۔ اس میں بہارنا (جھاڑو دینا، صاف کرنا، ف-۲۲۶)، سونا، سہاگا (ایک کھار جو سونا چاندی گلانے اور دوا کے کام آتا ہے)، نکھارا، کروروں، وارا (صدقہ، نذر، ف-۱۴۰۱)، پیارے، سہارا (برداشت، ف-۸۲۳)، پسارا اور ان کے علاوہ سدھارا، پکارا، کنارا اور اتارا وہ الفاظ ہیں جو ہندی، ہندوستانی اور علاقائی لغات کے زمرے میں آتے ہیں۔

ڈیوڑھی کا اپنی کتّا بنالو

قدموں سے اپنے مجھ کو لگالو

ڈولت ہے نیا موری بھنور میں

مولی تراؤ ایکے نجر میں

موری کبھریا مورے پیا لو

موکو بچالو پیا مو کو بچالو

پیارے جلالو مجھے پیارے جلالو

ہاں ہاں نبھا لو مرے مولیٰ نبھالو

’’شاہ والا مجھے طیبہ بلالو‘‘ سامانِ بخشش کی بہت ہی عمدہ نعت پاک ہے۔ عشقِ رسالت مآب ﷺ کے ساتھ اس میں مختلف زبانوں کا حسین سنگم نظر آتا ہے۔ مثلاً ڈیوڑھی (مکان میںداخل ہونے کا کمرہ، ف-۶۸۸)، کتا، ڈولت ہے نیا، موری، بھنور، تراؤ، ایکے، نجر، موری، کھبریا، مورے، پیالو، موکو بچالو، پیاموکو، پیارے، جلالو اور نبھالو جیسے ہندی، ہندوستانی اور علاقائی الفاظ جس کا منھ بولتا شاہکار ہیں۔

جو سب سے پچھلا ہو پھر اس کا پچھلا ہو نہیں سکتا

کہ وہ پچھلا نہیں اگلا ہوا اس سے ورا تم ہو

گرفتارِ بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر

کر ہر بے کل کی کل ٹوٹے دلوںکا آسرا تم ہو

ہم نے یوں شمعِ رسالت سے لگائی ہے لو

سب کی جھولی میں انہیں کا تو دیا ہوتا ہے

ایسی سرکار ہے بھرپور جہاں سے لینے

روز ایک میلہ نیا در پہ لگا ہوتا ہے

جگمگا ڈالیں گلیاں جدہر آئے وہ

جب چلے وہ تو کوچے بسا کر چلے

کوڑیوں کوڑھیوں کے لیے کوڑھ دور

اچھا چنگا وہ خاصہ بھلا کر چلے

جن کو اپنا نہیں غم ہمارے لیے

دوڑے جھپٹے وہ پاؤں اٹھا کر چلے

دم میں پہنچے وہ حکمِ رہائی دیا

ان کو دوزخ سے پھیرا پھرا کر چلے

دیوانِ نوری کی مختلف نعوت سے ماخوذ ان اشعار میں پچھلا، اگلا، ٹوٹے دل، بے کل، کل (آرام، قرار، ف-۱۰۱۹)، لو، جھولی، بھرپور، میلہ، جگمگا، گلی، کوڑی، کوڑھی، کوڑھ، اچھا، چنگا، بھلا، دوڑے، جھپٹے، پھیرا اور پھرا کر ایسے الفاظ ہیں جو ہندی اور علاقائی زبانوں کی بھر پور ترجمانی کرتے ہیں۔

فوجِ غم کی برابر چڑھائی ہے

دافعِ غم تمہاری دہائی ہے

عمر کھیلوں میں ہم نے گنوائی ہے

عمر بھر کی یہی تو کمائی ہے

تم سے ہر دم امید بھلائی ہے

میٹ دیجئے جو ہم میں برائی ہے

میرا بیڑا کنارے لگے پیارے

نوح کی ناؤ کس نے ترائی ہے

میرے دل کی لگی بھی بجھا دیجیے

نارِ نمرود کس نے بجھائی ہے

مر رہا ہوں تم آجاؤ جی اٹھوں

شربتِ دید میری دوائی ہے

زندگی میں نے پائی مر مر کے

میں نے جی جی کے موت پائی ہے

موت کا اب نہیں ذرا کھٹکا

زندگی شبھ گھڑی سے پائی ہے

معصیت زہر ہے مگر اوندھے

تو نے سمجھا اسے مٹھائی ہے

چین کی نیند آج سویا ہوں

موت آرام کی سلائی ہے

سامانِ بخشش کی ایک ہی ردیف اور قافیہ کی دو نعتوں سے پیش کیے گئے ان اشعار میں چڑھائی (حملہ، دھاوا، ف-۵۲۷)، دہائی (فریاد، التجا، ف-۶۵۸)، کھیل، گنوائی، کمائی، بھلائی، میٹ دیجیے، برائی، بیڑا، کنارے، پیارے، ناؤ، ترائی، دل کی لگی، بجھا دیجیے، بجھائی، جی اٹھوں، دوائی، مر مر کے، جی جی کے، موت پائی، کھٹکا، شبھ گھڑی، اوندھے (بیوقوف، ف-۱۴۱)، مٹھائی، چین، نیند اور سلائی وہ الفاظ ہیں جو ہندی اور علاقائی دونوں زبانوں میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ ان نعتوں کے یہ کلمات بھی اسی قبیل سے ہیں۔ مثلاً: دکھائی، پھرائی، پرائی، بڑھائی، دھونی رمائی، پائی، لگائی، سنگھائی، جلائی، اٹھائی، پھنسنا، پلائی اور گھیرا وغیرہ۔

جہاں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ

جہاں شاہ و گدا سب کا ٹھیا ہے

عطا فرماتے ہو بے مانگے سب کچھ

یہ منگتا تم سے تم کو مانگتا ہے

جلا ایمان سے ہوتی ہے دل پر

وہ اندھا شیشہ ہے جو بے جلا ہے

لہابی کیا ہے اک چکنا گھڑا ہے

سبھی نے اک نیا مذہب گھڑا ہے

اسے ساون کے اندھے کا ہرا ہے

بنا ہے وہ جہنم کا گڑھا ہے

یہاں سے بھیک پاتے ہیں سلاطیں

اسی در سے انہیں ٹکڑا ملا ہے

مذکورہ بالا اشعار میں بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ، ٹھیا، منگتا، مانگتا، اندھا شیشہ، چکنا گھڑا، گڑھا بمعنی بنایا، ساون کے اندھے کا ہرا (محاورہ، یعنی ہر شخص اپنی حالت کے مطابق سب کی حالت خیال کرتا ہے)، گڑھا، (گڈھا)، بھیک اور ٹکڑا ہندی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ ہیں۔ علاوہ ازیں داتا، پل چکا، دکھ درد، ٹھہرا، لت، بھولا، جنا، گناؤں، گنوں، کیا کیا بکا، گمادے، چہیتا، خدا بھاتی، ہتھیلی، دولہا، گھنگر، کالی بلا، الٹ کر، دل گلے، بھڑکتا، بھاگتا، ہانپے، کانپے، کراہے، پھنسا، سہا، لکھوکھا، ٹھنڈے، پھل، پھول، دھرا، نہ کھٹکیں اور ڈھارس جیسے ہندی، ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ کی جلوہ گری کہیں کہیں پورے دیوانِ نوری میں نظر آتی ہے۔

مختصر یہ کہ نوری صاحب کی شاعری ادبی و شعری تنوع اور مختلف زبانوں کی بوقلمونی سے مرصع و مسجع ہے۔ اردو، عربی، فارسی الفاظ کے ساتھ ہندی، ہندوستانی اور علاقائی زبانوں کا استعمال نہایت برجستگی اور سلیقے سے کیا گیا ہے۔

٭٭٭

Dr. Mohammad Ahmad Naeemi

Asst. Professor

Department of Islamic Studies

Jamia Hamdard (Hamdard University)

New Delhi-110062

Email: manaeemi@jamiahamdard.ac.in

Mobile No. 9013008786

Leave a Reply