
یاور حبیب ڈار
انصاف کا گھر
رات کی خاموشی میں
میرا ضمیر جاگا
خیالات کے جنگلوں میں
ایک پڑاؤ ڈالا میں نے
دنیا داری کی اندھی روشنیوں سے پرے،
میں آخرت کی دھیمی راہوں پر
لمحہ لمحہ خود کو تکتا رہا۔
میرے عمل کی آگ
کبھی دھیمی پڑتی، کبھی بھڑکتی
اور میرا شعور
پرواز کی کوشش میں زخم خوردہ ہوا
کبھی خیالوں کی تپش
اندر سے مجھے پگھلاتی
کبھی امید کی کوئی کرن
دور سے آواز دیتی
میں نے چاہا
کہ دل کے زخموں کو دھو ڈالوں
مگر خود ہی ان پر
نئی خراشیں لگا بیٹھا
مایوسی کے لمحات میں
صلح کا کوئی رستہ نہ ملا
اور سفر کا رخت اٹھا کر
میں پھر نکل پڑا
دور افق پر
ایک شعلہ جلتا نظر آیا
ایک ہاتھ میں مشعلِ عدل
دوسرے میں عَلم انصاف
میں نے دیکھا
وہ نور پھیلاتا ہوا بڑھتا گیا
اور جب میں اس کے قریب پہنچا
تو احساس ہوا
وہ کوئی دوسرا نہیں تھا
وہ میں ہی تھا
میرا اندر
میرے انصاف کا گھر
جہاں نہ گناہ ہے نہ ناانصافی
بس ایک سچ
ایک روشنی
ایک قرار