You are currently viewing غزل

غزل

 

اسرارالحق جیلانی

گیسٹ فیکلٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دلّی

غزل

تغافل تجاہل نہ اتنا کرو تم

محبت کی میری کہانی بنو تم

رحم کر ہماری کہانی پہ قسمت

جہنّم جہنّم نہ دل کو کرو تم

کرو مسکراہٹ نہ ایسے کہ جیسے

رہے ہم نہ تب پھر تمنّا کرو تم

اگر دل توازن رکھے تو محبت

نہیں تو قیامت ویامت کرو تم

ہماری نشانی ہے چاہ زنخداں

اکارت تبسّم نہ ضائع کرو تم

یہ دنیا کی سب سے بڑی ہے محبّت

سلامن ولامن ادا جو کرو تم

نہ تم تھے نہ ہم تھے نہ یہ تھا نہ وہ تھا

محبّت کی ایسی وجاہت کرو تم

Leave a Reply