You are currently viewing اردو اُفق کا درخشندہ ستارہ: ڈاکٹر عتیق احمد ہنگولوی

اردو اُفق کا درخشندہ ستارہ: ڈاکٹر عتیق احمد ہنگولوی

 

 

ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی

اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو

سوامی رامانند تیرتھ مہاودیالیہ، امباجوگائی، ضلع بیڑ مہاراشٹر

اردو اُفق کا درخشندہ ستارہ: ڈاکٹر عتیق احمد ہنگولوی

تمہید:

          دنیا کے افق پر وہی نام ہمیشہ تابندہ وروشن رہتے ہیں جو اپنے علم، عمل اور خلوص کے جوہر سے انسانیت کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ وقت کی گرد سب کچھ مٹا دیتی ہے، مگر ان کے کارناموں کی روشنی صدیوں تک کائنات میں جگمگاتی رہتی ہے۔ ایسے ہی تابندہ ستاروں میں ایک درخشاں نام ہے ۔ ڈاکٹر عتیق احمد قریشی ہنگولوی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اردو زبان و ادب کی خدمت، اس کی بقا اور اس کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ہر دور میں کچھ ایسے خوش نصیب لوگ پیدا ہوتے ہیں جو اپنے وجود سے نہ صِرف علم و عرفان کے گلشن کو مہکا دیتے ہیں۔ بلکہ سارے عالم جلا بخشتے ہیں، ڈاکٹر عتیق احمد ہنگولوی بھی انہی ہستیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے علم کو عبادت، تعلیم کو خدمت، اور تدریس کو مشن کا درجہ دیا ہے۔ اُن کی شخصیت بیک وقت ایک استاد، محقق، مصنف، مقرر، منتظم، اور سب سے بڑھ کر ایک دردمند محسن انسان کی حیثیت رکھتی ہے۔

ابتدائی زندگی اور علمی سفر کی بنیاد:      ڈاکٹر عتیق احمد قریشی کا تعلق ریاستِ مہاراشٹر کے اس خطے ارضی سے ہے جس نے اردو زبان و ادب کے لیے ہمیشہ سے بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ علاقہ مراٹھواڑہ کے شہر ہنگولی کی سرزمین صدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے۔ اس مٹی نے نہ صِرف صوفی حضرت نورالدین چشتی شہید رحمۃ اللہ علیہ و سنت نامدیو کو پیدا کیا بلکہ عتیق احمد جیسے گوہرِ نایاب کو بھی جنم دیا۔بہر حال بچپن ہی سے علم کے چراغ نے عتیق احمد کے دل میں جگہ بنا لی تھی۔ مطالعے کا شوق، اساتذہ سے محبت اور زبان کے سلیقے نے انہیں بہت جلد اپنے ہم عمروں سے ممتاز کر دیا۔ زمانہ طالب علمی میں ان کے اساتذہ نے ان کی ذہانت، سنجیدگی اور تخلیقی رجحان کو بھانپ لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر انہوں نے نہ صرف اردو میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی بلکہ تحقیق و تنقید کے میدان میں بھی بہت جلد نمایاں مقام حاصل کیا۔انہوں نے اپنی محنت، لگن اور عزمِ راسخ سے وہ مقام پایا کہ آج ان کا نام مہاراشٹر کے معروف ادبی و علمی شخصیات میں بڑی عزت و احترام سے لیا جاتا ہے جو ان کی اپنی انفرادیت کی ضمانت دیتاہے۔

تدریسی سفر ۔ ایک خدمت، ایک عبادت:

          ڈاکٹر عتیق احمد قریشی گزشتہ دو دہائیوں سے آرٹس، سائنس و کامرس کالج بدناپور، ضلع جالنہ مہاراشٹر میں بطور اسوسیٹ پروفیسر و صدرِ شعبہ اردو اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تعلیم و تدریس ان کے لیے صرف پیشہ نہیں، بلکہ ایک مقدس فریضہ ہے۔ ان کی کلاس روم میں موجودگی طلبہ کے لیے محض درس نہیں بلکہ ایک وجدانی تجربہ بن جاتی ہے جو ان دیگراساتذہ سے ممتاز کرتی ہے۔ان کے اندازِ تدریس میں نہ صرف علم کی روشنی ہے بلکہ اخلاق و کردار کی خوشبو بھی شامل ہے۔ وہ شاگردوں کے دلوں میں علم کے ساتھ ساتھ شخصیت سازی و انسانیت کا چراغ بھی روشن کرتے ہیں۔ طلبہ کے لیے وہ ایک رہنما، دوست، مفکر اور مربی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تحقیقی و علمی خدمات:

          ڈاکٹر عتیق احمد قریشی نے صرف درس و تدریس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اردو تحقیق و تنقید کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ کئی برسوں سے مختلف یونیورسٹیوں میں ریسرچ گائیڈ کی حیثیت سے وابستہ ہیں، اور ان کی نگرانی میں کئی اسکالرز نے کامیابی کے ساتھ پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگریاں مکمل کی ہیں۔اور وہ اسکالرز ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرکے اپنے اپنے میدان میں ادب اُردو کی خدمات انجام دیتے ہوئے اپنا اور اپنے اُستادکانام روشن کررہے ہیں،جن میں ڈاکٹر سہیم الدین خلیل، ڈاکٹرابرارالحق، ڈاکٹر شگفتہ اور محترمہ تہمینہ وغیرہ پیش پیش ہیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹر عتیق احمد کے تحقیقی مزاج میں گہرائی، وسعتِ نظر اور تنقیدی توازن نمایاں ہے۔ ان کے زیرِ نگرانی ہونے والے تحقیقی موضوعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ادب کو محض لفاظی کا کھیل نہیں سمجھتے، بلکہ اس کے سماجی و فکری پہلوؤں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ادبی و تدریسی خدمات کا اعتراف ۔ مثالی معلم ایوارڈ:

          ادب اور تعلیم دونوں ہی خدمت کے میدان ہیں۔ خدمت کرنے والے ہاتھ اور سوچنے والے دماغ کبھی بے اجر نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ اعلانات کے مُطابق مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی ممبئی نے ڈاکٹر عتیق احمد قریشی کو ان کی گراں قدر خدمات کے عوض و اعتراف میں ”مثالی معلم ایوارڈ (یونیورسٹی سطح)” سے نوازا۔یہ اعزاز دراصل اس بات کی گواہی ہے کہ انہوں نے تعلیم و ادب کے میدان میں اپنی ایمانداری، محنت، لگن اور علم سے وہ مقام حاصل کیا جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔

شخصیت کا روشن پہلو ۔ عاجزی، انکسار و خلوص:

          بڑی شخصیات کی اصل پہچان ان کے انکسار اور خلوص میں ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عتیق احمد قریشی کی شخصیت میں یہی سہ اوصاف نمایاں نظر آتے ہیں۔ وہ بلند مقام پر فائز ہیں، مگر ان کے لہجے میں عاجزی ہے، رویے میں انکسار، اور عمل میں خلوص۔ان کے قریب آنے والا ہر شخص اس بات کا معترف ہوتا ہے کہ ان میں غرور نام کی کوئی شے نہیں۔ وہ ہر طالبِ علم کے ساتھ شفقت، ہر ساتھی کے ساتھ احترام، اور ہر دوست کے ساتھ خلوص سے پیش آتے ہیں۔

اردو زبان سے محبت ۔ ان کی زندگی کا محور:  ڈاکٹر عتیق احمد قریشی کی پوری زندگی اردو زبان کی خدمت کے لیے وقف ہے۔ ان کے نزدیک اردو محض زبان نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ، اور ایک زندہ احساس کا نام ہے۔ وہ اردو کو دل کی زبان سمجھتے ہیں۔وہ ہمیشہ یہ باور کراتے ہیں کہ اردو کسی قوم یا مذہب کی زبان نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے والی محبت کی زبان ہے۔ یہی فکر ان کی تقریروں، تحریروں اور تدریسی عمل میں جھلکتی ہے۔

ماحصل:

          یہاں ہمارا یہ کہنا بجا ہوگا کہ ڈاکٹر عتیق احمد قریشی کی شخصیت اردو ادب کی ایک روشن کہانی ہے ۔ علم، کردار، اور خلوص سے مزین ایک ایسی داستان حیات ہے جو ہر پڑھنے والے کے دل میں احترام و محبت کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہیکہ موصوف کی انکساری، عاجزی اور خلوص ان کا نام ان شاہ اللہ اردو کے افق پر ہمیشہ جگمگاتا رہے گا، جیسے صبح کی پہلی کرن اندھیروں کو چیر کر روشنی پھیلا دیتی ہے۔ اسی طرح موصوف کی خدمات ادب اردو کی تاریخی اہمیت کوروشن کرتے ہوئے سماجی تاریکی کو دور کرتی ہوئی نظرآتی ہے۔

٭٭٭

Leave a Reply