
زہرہ
خط نمبر ۱
جانِ دل! جانِ جاں! نورِ نظر!
امروز پھر اتفاق ایسا ہوا کہ نگاہِ شوق اُس تصویرِ پُرانوار پر جا ٹھہری جس کے متعلق گزشتہ مکتوب میں، بہ قدرِ ظرفِ خامہ، آپ کے حسنِ صورت و سیرت کا ایک نہایت ناقص سا خاکہ کھینچنے کی جسارت کی تھی۔ اگرچہ أس حلیۂ دل آویز کے بیان میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے مجھے اپنی بے بضاعتی کا شدت سے احساس تھا، لیکن اس کے باوجود دل نے یہی گمان کیا کہ شاید چند الفاظ میں اُس جمالِ دل آویز کی کوئی دھندلی سی جھلک پیش کر سکوں، جس کے تصور ہی نے اسیرِ حیرت و وارفتگی بنا رکھا ہے۔
جانم! اس تصویر کے ذکر پر آپ نے اپنے مکتوب میں جس استعجاب و استفہام کا اظہار فرمایا، وہ نہ صرف فطری بلکہ قرینِ قیاس تھا۔ واللہ! جب میں اُس تصویر کے متعلق سطور رقم کر رہی تھی، اسی لمحے دل نے گواہی دے دی تھی کہ آپ اس معاملے کو اسی شدتِ حیرت کے ساتھ دریافت فرمائیں گے۔ میرا ارادہ تو یہ تھا کہ اس رازِ سربستہ کو اس ساعت تک سینۂ خاموشی میں محفوظ رکھوں، جب بختِ نارسا مجھے آپ کی زیارتِ پُرانوار سے مشرف ہونے کا شرف بخشے، لیکن آپ کے پُر شوق سوالات اور شدتِ استعجاب نے مجھے اس رازِ نہاں کو قبل از وقت صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے پر مجبور کر دیا۔
مجھے اپنے ربِّ کریم کی رحمت سے کامل یقین ہے کہ میں اسی حیاتِ فانی میں ایک بار اور زیارت سے سرفراز ہوں گی۔ یہ امر جداگانہ ہے کہ اُس ساعتِ سعید میں آپ کے رخِ انور کی تجلیات میرے وجودِ ناتواں کو غشی و بے خودی کے سپرد کر دیں یا پھر جمالِ یوسفی کی تاب نہ لا کر یہ قفسِ عنصری روحِ مضطرب کو آزاد کر دے، تاہم اس امر پر میرا ایمان کامل ہے کہ ہم ایک روز ضرور کسی کوہِ طور کے دامن میں، کسی ساعتِ تجلی میں، ایک دوسرے سے ہم کلام ہوں گے؛ جہاں نگاہ، نگاہ سے اور خاموشی، خاموشی سے ہم راز ہوگی۔
اور ہاں! آپ نے اپنے مکتوب میں یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ ’’آپ نے مجھے کبھی نہیں دیکھا، اس لیے شوقِ دید روز، افزوں ہوتا جاتا ہے، کہیں اسی اشتیاق میں۔۔۔‘‘آگے کے الفاظ نقل کرنے کی تاب اس ضعیف القلب کو کہاں! خدا گواہ ہے کہ اُن سطور کو پڑھتے ہوئے دل کی دھڑکنوں نے بھی اضطراب کا پیراہن زیبِ تن کر لیا تھا۔ خدارا اگر اس خاکسار کو زندہ دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں تو آئندہ اس قسم کے جان ستاں اور روح فرسا الفاظ سے اجتناب فرمائیے۔ کہ بعض اوقات اس قسم کا ایک لفظ بھی سینۂ مضطرب میں قیامت برپا کر دیتا ہے۔
اب بر سرِ مطلب آمدم کہ آخر وہ تصویر میرے پاس کیسے پہنچی؟
حقیقت یہ ہے کہ میری ایک ہم جماعت مدت سے آپ کا ذکر نہایت عقیدت و شیفتگی کے ساتھ کیا کرتی تھی۔ لیکن وہ ذکر، ذکر نہ تھا بلکہ داستانِ حسن و فضیلت کا ایسا مرقع تھا کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ شاید آپ اس خاک دانِ عالم کے باشندے نہیں بلکہ کسی فراموش شدہ داستان کے وہ کردار ہیں جنہیں ادیبوں نے اپنے بہترین تخیلات کے آبِ زر سے رقم کیا ہو، یا کسی پرستان کے پریزادے ہیں۔ وہ کبھی آپ کو کسی ناول کے ہیرو سے تشبیہ دیتی، کبھی کسی افسانوی کردار کی صفات آپ کے نام کرتی اور کبھی یوں محسوس ہوتا کہ گویا تمام محاسنِ عالم ایک وجود میں جمع کر دیے گئے ہوں۔اتفاق سے ایک روز آپ کا ہماری گلی سے گزر ہوا اور اُس نے آپ کو دیکھ لیا جبکہ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار آپ کو دیکھ چکی تھی۔ دوسرے روز حسبِ معمول اس نے پھر آپ ہی کا ذکر کیا، مگر اس مرتبہ اُس کی گفتگو میں ایک عجیب شانِ افتخار تھی کہ گویا اُس نے کسی نایاب گوہر کو اپنی نگاہوں میں سمو لیا ہو۔ جب اُس نے یہ کہا کہ کل آپ کا ہماری گلی سے گزر ہوا تھا تو اس دن کے بعد میری کیفیت یہ ہوئی کہ ہر روز اُسی ساعت میں نگاہیں آپ کی راہ تکا کرتیں۔ مگر میری بد بختی یہ کہ آپ ایک ماہ تک اُس کوچے سے نہ گزرے۔
اس ایک ماہ کی مختصر سی مدت میں وہم و گمان کے کتنے ہی لشکر ذہن پر حملہ آور ہوتے رہے۔ کبھی خیال آتا کہ کہیں میری ہم جماعت محض ایک فرضی کردار کا نقشہ تو نہیں کھینچ رہی؟ کبھی دل کہتا کہ وہ ہم سب سہیلیوں کو اپنے سحرِ بیان میں مبتلا کر کے اچھے نمبروں کے حصول کا کوئی پُراسرار منصوبہ تو نہیں بنا رہی؟ (کیوں کہ انہیں دنوں ہم سب کا امتحان تھا اور ہم سب نصابی کتابوں کو پڑھنے کی بجائے آپ کا قصہ سننے کے تجسس میں گھر کے کاموں سے جلدی فارغ ہو کر اس داستان گو سہیلی کے گھر آ جاتے جو آپ کا قصہ سناتی۔) اور کبھی یہ اندیشہ دامن گیر ہوتا کہ کہیں اس نامراد کی نظرِ بد تو نہیں لگ گئی کہ اُس دن کے بعد آپ نے اُس کوچے کا رخ ہی نہ فرمایا۔
ایک روز ایک اجنبی مسافر ہماری گلی سے گزرا تو یکایک دل نے گواہی دی کہ شاید آپ ہی ہیں، لیکن جیسے ہی وہ نظر آنے لگا تو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ وہ آپ نہیں ہیں۔ اسی اثنا میں ایک سوال نے ذہن پر دستک دی کہ اگر واقعی ایک روز آپ کا گزر ہو بھی گیا تو کیا خبر پھر یہ سعادتِ نظارہ نصیب ہو یا نہ ہو؟ تب یہ خیال آیا کہ اگر قسمت ایک لمحے کے لیے مہربان ہو جائے تو اُس لمحۂ نایاب کو کسی تصویر میں قید کر لینا چاہیے۔
چنانچہ تقریباً دو ماہ کی طویل ریاضتِ انتظار کے بعد، جب آپ نے پھر اُس گلی کو اپنے قدموں کی سعادت بخشی تو آپ کی اُن صفاتِ حمیدہ نے، جن کے بیان میں میری کنجوس اور بخیل ہم جماعت نے اگرچہ انتہائی بخل سے کام لیا تھا، آپ کو پہچاننے میں میری رہنمائی کی۔ ہڑبڑاہٹ، اضطراب اور مسرت کے عالم میں میں نے ایک تصویر تولے لی لیکن دل میں ایک حسرت باقی رہی کہ
صورت وصل نکلتی کسی تدبیر کے ساتھ
میری تصویر ہی کھنچتی تیری تصویر کے ساتھ
لیکن کچھ خواہشیں لمحوں میں کہاں پوری ہوتی ہیں؟
لیکن وصل کی میں ایک صورت یہ نکالی کہ
اپنی تصویر کو رکھ کر تری تصویر کے ساتھ
میں نے یہ عمر گزاری بڑی تبدیر کے ساتھ
تصویر اگرچہ نہایت دھندلی آئی، لیکن کیا تعجب! آفتاب کو چراغ کی کیا حاجت؟ تصویر کے دھندلا ہونے کے بعد بھی آپ کی جلوہ سامانی تو ایسی تھی کہ اگر سیاہ ترین شب بھی اپنے تمام اندھیروں سمیت آپ کے مقابل صف آرا ہو جاتی تو آپ کا چہرۂ انور اُس پر مثلِ آفتابِ نیم روز غالب آتا۔اس تصویر کی دھندلاہٹ نے آپ کے حسن کو ہرگز مخفی نہیں کیا بلکہ اس نے تو اُس کے گرد ایک اور پردۂ اسرار بُن دیا، اور شاید اسی لیے وہ تصویر میرے نزدیک محض ایک تصویر نہیں بلکہ ساعتِ انتظار کی ایک امانت اور لمحۂ سعید کی ایک خاموش یادگار بن گئی۔
اس مکتوب میں، میں نے بہت سی باتوں کو اختصار اور حجابِ تہذیب کے باعث حذف کر دیا ہے اور صرف اصل واقعہ آپ کی خدمت میں عرض کیا ہے کہ وہ تصویر میرے پاس کیسے آئی۔اب مجھے گمان ہے کہ اگلا سوال آپ کا یہی ہوگا کہ اس بے نشاں مسافر کو آپ کے نشیمن کا پتہ کس نے دیا؟ سو، یہ راز بھی اپنے وقت پر پردۂ اخفا سے باہر آئے گا۔ فی الحال اسے آئندہ مکتوب کے لیے امانت رہنے دیجیے۔ہاں البتہ ابھی اپنا گزارا اسی تصویر کے ساتھ ہو رہا ہے کہ
پہلے تو تصویر بناتی ہون تیری
پھر تیری تصویر میں کھوئی رہتی ہوں
والسلام
فقط
آپ کی زہرہ
دوسرا خط
جانِ دل! جانِ جاں!
آپ نے اپنے گزشتہ مکتوب میں تحریر فرمایا تھا کہ یہ قصہ پھر کبھی سہی کہ اس بے نشاں مسافر کو آپ کے نشیمن کا سراغ کس نے دیا؟ فی الحال آپ یہ دریافت فرمانا چاہتے ہیں کہ اس کم نصیب نے اپنے مستقبل کی بابت کیا سوچ رکھا ہے؟جانم! سچ عرض کروں تو مجھ میں وہ دماغ ہی کہاں باقی رہا ہے جس سے مستقبل جیسے دقیق مسئلے پر غور کیا جائے۔ میں تو مدت ہوئی فکر و تدبیر کی دنیا سے دست بردار ہو چکی ہوں۔ ذہن ایسا خالی ہے کہ گویا وہاں کبھی عقل و خرد کا گزر ہی نہ ہوا تھا اور اب حال یہ ہے کہ الو اور دیگر پرندوں نے اسے اپنا نشیمن بنا لیا ہے۔ اب تو میرا وظیفہ فقط آپ کی یاد ہے، یہی زادِ راہ، یہی قوتِ جاں، یہی میری دنیا، یہی عقبیٰ اور اگر میرے لیے کسی مستقبل کا کوئی وجود ہے، تو وہ بھی یہی ہے۔ آپ کی یاد کے سہارے زندہ ہوں اور عقل و فہم کی دنیا میں مدت ہوئی مر چکی ہوں۔مجھے نہیں معلوم کہ مستقبل کی بابت کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں، بلکہ سچ پوچھیے تو یہ بھی نہیں جانتی کہ آپ کے متعلق کیا سوچنا روا ہے اور کیا سوچنا ناروا۔ سوچنے کے لیے بھی آخر کچھ عقل درکار ہوتی ہے، اور وہ نعمت اس خانماں خراب کے حصے میں کہاں!
فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں
جانم!
میں نے عرض کیا کہ میں بالکل خالی الذہن ہوں تو اسے محض کسرِ نفسی نہ سمجھیے گا مراد یہی ہے کہ مطلقاً خالی الذہن ہوں۔اور اس کا معنی و مفہوم اور تعبیر سب کچھ یہی ہے کہ قطعی خالی الذہن ہوں نہ منطقی طور پر سوچنے کے لیے عقل کا سرمایہ ہے، نہ ہی کچھ کھو دینے کے خوف کے لیے خواہشات کی پونجی ہے۔
مجھ سے سوگند لے لیجیے، میں سچ کہتی ہوں کہ میرے دل میں آپ کو پانے کی خواہش تک نہیں۔ اور بھلا ایسی جسارت اس دلِ کم مایہ میں پیدا بھی کیوں کر ہو؟ کہاں یہ خاک نشیں اور کہاں آپ کی صحبتِ عالیہ! وہ صحبت جسے سونے سے گراں بہا کہنا بھی سونے کی توقیر بڑھانا ہے، اور ہیرے سے انمول کہنا بھی خود ہیرے پر بے جا عنایت ہے۔
خیر! میں بھی کہاں سے کہاں جا پہنچی۔
کہاں آپ کی صحبت، اور کہاں اس ہیچ مداں کے تصور و خیال کی رسائی! آپ کی صحبت تو شاید پری زادیوں کے نصیب میں لکھی گئی ہوگی، ہم تو زمین زاد ہیں، سو زمین ہی پر بیٹھ کر آسمان کو دیکھ لینے میں اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔
جی، تو آپ نے دریافت فرمایا تھا کہ میں نے مستقبل کے متعلق کیا سوچا ہے؟
بہت غور و خوض یا یوں کہیے کہ غور و خوض کی سی نا کام کوشش کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ مستقبل کے بارے میں سوچنے کے لیے کم از کم تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے-
ایک مستقبل، دوسرے سوچنے کی صلاحیت، اور تیسرے کوئی ایسی شے جس کے متعلق سوچا جا سکے۔
اب پہلی مصیبت تو یہی ہے کہ مجھ ایسی لڑکی کا مستقبل کہاں، جس کے متعلق بیٹھ کر تدبیریں کی جائیں! ہاں، آپ کے نام کی مالا جپتی رہتی ہوں، یہی میرا سرمایہ، یہی متاعِ حیات اور یہی حاصلِ زندگی ہے۔ مستقبل تو شاید اُن خوش نصیب اور سلیم العقل لوگوں کے حصے میں آتا ہے جنہیں حال سے فرصت نصیب ہو۔ یہاں حال کے بے حال کا یہ عالم ہے کہ ایک نام سے آگے دنیا دکھائی ہی نہیں دیتی، مستقبل کی خبر کون لائے!
سو اس باب میں مزید عرض کرنے سے معذور ہوں کہ ابھی تک لفظِ ’’مستقبل‘‘ کا کوئی ایسا معنی اس کم بخت پر منکشف نہیں ہوا جس کی بنیاد پر مستقبل کی بابت کچھ سوچ سکوں۔
رہی دوسری چیز، یعنی سوچنا۔
سو حضور! سوچنے کے لیے عقل درکار ہے، اور آپ کی یہ داسی اس دولت عظمیٰ سے یکسر محروم رہی۔ میں تو یہ تک نہیں جانتی کہ عقل کس پرندے کا نام ہے، کہاں پائی جاتی ہے اور اہلِ عقل اسے کس مصرف میں لاتے ہیں۔ یہ تک معلوم نہیں کہ عقل عرض ہے یا جوہر؟ ذی روح ہے یا غیر ذی روح؟ ظرف ہے یا مظروف؟ آکل ہے یا ماکول؟ اگر ان میں سے کچھ ہے تو کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟ اور اگر ان سب میں سے کچھ بھی نہیں ہے تو آخر یہ عقل ہے کیا بلا؟
بہرحال عقل کے جملہ مفاہیم سے یہ ناچیز بندی عاری ہے، اور سبب اس کا کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جس روز قسمت عقل جیسی نعمت تقسیم کر رہی تھی، شاید آپ کی یہ داسی کسی گوشے میں آپ ہی کا نام جپنے میں مشغول تھی، سو اس نا مراد کی باری آئی اور قسمت اس کی حماقت پر مسکرا کر گزر گئی۔
اب رہی تیسری شرط، یعنی کوئی شے جس کی بابت سوچا جائے۔
اوپر کی گزارشات سے حضور نے اندازہ فرما ہی لیا ہوگا کہ اس لاشے بندی کے پاس بھلا ایسی کون سی شے ہوسکتی ہے جسے فکر و خیال کی زحمت دی جائے؟ ہر متاع سے عاری، ہر ملکیت سے خالی، آپ کی یہ غریب و فقیر و مسکین داسی کسی ایسی چیز کی مالک نہیں جسے سامنے رکھ کر مستقبل کے نقشے بنائے۔
ہاں، وہی ایک نام ہے۔
اور وہی ایک نام میرا سب کچھ ہے۔
اگر ’’مستقبل‘‘ نام کا کوئی پرندہ واقعی اس جہان میں پرواز کرتا ہے تو میرے آسمانِ قسمت پر اس کا نام بھی وہی ہوگا۔ اگر آنے والے زمانے میں میرے لیے کچھ لکھا ہے تو وہ اسی نام کی یاد ہے، وہ یاد جس کی مالا جپنا میں اپنی معراج سمجھتی ہوں، جو میرے ویران دل کو زندگی بخشتی ہے، جو میرے جینے کا سبب ہے، اور جو میری دنیا و عقبیٰ کی واحد متاع ہے۔
مجھ سے کوئی پوچھے کہ کل کیا ہوگا تو میرے پاس جواب نہیں، پرسوں کہاں ہوں گی، اس کی خبر نہیں، زمانہ کس کروٹ بیٹھے گا، قسمت کون سا ورق الٹے گی، کچھ معلوم نہیں کہ عقل و خرد سے عاری و خالی ہوں اور اسی لیے دور اندیشی کی مشق کرنے سے عاجز و قاصر ہوں۔ بس اتنا جانتی ہوں کہ آج دل میں ایک نام ہے، اور اگر فردا نصیب ہوا تو میری تمنا صرف اتنی ہے کہ وہ نام فردا بھی وہیں رہے۔
گفتا چہ تسبیح کنی گفتم کہ ورد نام تو
گفتا چہ رکن دین تو گفتم قد دلجوئے تو
سو جانِ جاں! یہی میرا حال ہے اور یہی میرا مستقبل۔
اور ہاں، میری کسی گستاخی، بے عقلی یا یاوہ گوئی سے خاطرِ نازک پر گرانی گزری ہو تو آپ کی یہ داسی بہ صد عجز معافی کی خواستگار ہے۔ سر تو پہلے ہی آستانۂ محبت پر رکھا ہے، حضور فرمائیں تو اس تقصیر کا تاوان بھی وہیں ادا کر دوں۔
والسلام
آپ کی زہرہ
جاری۔۔۔
***