
فریدہ انجم
پٹنہ سٹی
غزل
مرا یار مجھ سے جدا ہو گیا
سنا ہے کہ وہ بے وفا ہو گیا
جنم جب لیا مرے عشق نے
مرا صبر اس دن قضا ہو گیا
یہ آنکھیں تمہاری ہوئیں منتظر
کہ مرنا شب و روز کا ہو گیا
کہوں کیا کہ ان سے جو پوچھا سبب
کہ داغ جگر پھر ہرا ہو گیا
وفا کے عوض اب جفائیں ملیں
خدا جانے کیا ماجرا ہو گیا
حقیقت کی آنے لگی ہے سمجھ
مرا بھی جوں آئنہ ہو گیا
چراغِ محبت بجھے گا نہیں
یہ انجم،حریف ہوا ہو گیا
***