
فیضان بریلوی
ریسرچ اسکالر، دہلی یونیورسٹی
غزل
باقی رہا نہ ربط کوئی درمیان تو
اچھا گماں رہا نہ رہا بد گمان تو
زخموں کی آرزو تو بہت کر رہے ہیں ہم
لیکن ملا نہ زخم بھی شایان شان تو
زلفوں کی نرم چھاؤں سے بچکر تو چل دیے
لیکن ملا نہ دوجا کوئی سائبان تو
کب تک یوں طرز نو سے لبھائیں گے دل کو ہم
یاد آ گئی پرانی کوئی داستان تو
واقف ہوئے ہیں آپ ہمارے کلام سے
ہم نے سکوت کر لیا طرز بیان تو
دل سے چراغ اُلفت جاناں کو غل کیا
تا عمر روشنی کو جو ترسا مکان تو
ویسے ہے عمر آخری منزل کی چاہ میں
پھر بھی ہوا جو رہ میں کوئی امتحان تو
میری عنایتوں کی تُجھے قدر ہی نہیں
تُجھ کو بھی مل نہ پایا کوئی قدردان تو
ویسے تو کل جہاں ہے محبّت کے واسطے
لیکن جب ایک شخص ہی ہو کل جہان تو
***