You are currently viewing غزل

غزل

اسرارلحق جیلانی

غزل

میرے ہمدم سمجھتے ہیں ستانے سے یہ دم نکلے

کہیں ایسا نہ ہو جائے جگر کو چیر ہم نکلے

جگر کے اِس پار بھی تم، جگر کے اُس پار بھی تم

رہو جو درمیاں دل کے، جگر سے وہ ستم نکلے

بچھڑ کر تم سے بچھڑے ہم، ازل سے ہم  کہاں ہم ہیں

مرے ہونے کا ہونا تھا تماشا، جو بھی کم نکلے

تری آنکھوں میں دیکھا ہے، محبت کا سمندر ہے

بچھڑ کر جب رہو گی تم، محبت دم بہ دم نکلے

مرے سینے میں دنیا بھر کی باتیں ہیں مگر تم سے

یہ کہتا اب نہیں ہوں میں، محض تم پر ہی دم نکلے

قلم زد کر دیا تم کو، مکمل اب نہیں کرنا

یہ باتیں ہیں، یہ باتوں کی مہربانی پہ دم نکلے

خیالوں سے ترے جب ہم وضو کرکے نکلتے ہیں

کئی آنکھیں یہ کہتی ہیں، مرے چہرے سے دم نکلے

***

Leave a Reply