صف سے باہر

سلیم سرور

افسانہ

صف سے باہر

جمعے کی نماز میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔مسجد کا صحن نمازیوں سے بھرنے لگا تھا۔ دوپہر کی کڑی دھوپ مسجد کی سفید دیواروں سے ٹکرا کر صحن میں اپنی حدت پھیلاچکی تھی۔مسجد کی مشرقی دیوار سے متصل وضوخانہ آدھا دھوپ اور آدھا سائے میں نہایا ہوا تھا۔وضوخانے کے داہنے ستون کے ساتھ اپنا بیگ رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ میں بھی  ابتدائی حصے کی دوسری ٹونٹی کے سامنے بنی سیمنٹ اوربجری کی سل پر جابیٹھا۔میرے بائیں ہاتھ دو چھوٹے چھوٹے بچے وضو سےزیادہ غسل کے سے انداز میں اپنے آپ کو بھگونے میں محو تھے۔وضوخانے میں میری آمد کی پروا کیےبغیراپنے موضوع کوجاری رکھے ہوئے تھے۔

سعدی  تجھے ایک بات بتاؤں’’ مولوی صاحب بہت تیز ہیں ،اپنی موٹر سائیکل میں دوسروں سے پٹرول بھرواتے ہیں‘‘۔

’’اوئے جوادے!موٹر سائیکل  کی تو خیر ہے جو پٹرول خود دوسروں میں بھرتے ہیں وہ؟‘‘ہاہاہاہاہا

’’اوئے  تجھے کس نے بتایا؟‘‘

’’جوادے اس دن عشاء کی نماز کے بعد نومی کو روٹی منگوانے کے بہانےروکا تھا ،اس کے بعد مولوی صاحب نے نومی  کی پتلون زبردستی  کھینچ کر اتارنے کی کوشش کی  تو اس نے خوب مزاحمت کی  مگر اس کھینچا تانی میں  کچھ گندبکھرگیا۔کسی بچے نے نومی کے گھربتادیاتو پھر اس  کا بھائی اورچچا پستول لے کر آگئے تھے۔حاجی کرم داد نے منتیں کرکےواپس کیا کہ ’’محلے کی بات ہے جانے دو‘‘۔

حاجی کرم داد’’چلو بھاگو !حرامی !مسجد کا پانی پتہ نہیں کب سے ضائع کر رہے ہیں‘‘؛اوئے نوجوان !آپ نے بھی نہیں دیکھا؟

انکل جی!میں یونیورسٹی سے واپس آیا ہوں اور موبائل بیگ میں تھا،سوچا جمعے سے پہلے کچھ میسجز کے جواب دے دوں پھر آف کردوں گا سو اپنے کام میں مگن تھا۔

’’موبائل بھی بیماری ہے۔مسجد میں بھی چچڑوں کی طرح اسی سے چمٹے رہتے ہیں پتہ نہیں ہر وقت کس بےبے کوراضی کرنے میں لگے رہتے ہیں۔‘‘

مسجد میں  کچھ لوگ پہلے سے موجود تھے اورکچھ لوگ گھروں سے نہا دھو کرطرح طرح کی خوشبو سے معطر ہوکر مرکزی ہال کی ابتدائی صفوں کی زینت بن رہے تھے۔میں  دھیمے دھیمے قدموں سے مسجد میں داخل ہوا۔اورچاروں اورطائرانہ جائزہ لےکروضوخانے سےدھتکارے گئے بچوں کی پشت میں جابیٹھا۔

کرم داد،چودھری اکرم،شاہ جی کریانہ سٹور کے مالک اورمحلے  کےدیگر صاحب ثروت لوگ پہلی صف میں ہمیشہ کی طرح کچھ ایسے بیٹھے تھے  جیسے کسی خاص مجلس میں مراتبی سیٹوں پر براجمان ہوتے ہیں ۔بلکہ ان اصحاب کے لیے مسجد کی پہلی صف مخصوص سمجھی جاتی ہے۔ ان کے کپڑے اجلے تھے، عطر کی خوشبو دور تک پھیلی ہوئی تھی اور جوتے صف کے دائیں جانب منجھلی کھڑکی کی وسطی تہوں میں جمادیے تھے۔دوسری اور تیسری صف میں  معمولی درجے کےدکاندار، ملازم، مزدور، طالب علم اور عام نمازی بیٹھے تھے۔آخری صفوں میں وہ لوگ تھے جنہیں کسی نے کبھی پہلی صف کی طرف جانے کی دعوت نہیں دی تھی۔

مرکزی ہال  کی آخری صف کےقریب سےوسطی  دروازے سے ایک ننھا سا بچہ اندر داخل ہوا۔عمر سات یا آٹھ برس سے زیادہ نہ تھی۔سفید مگر تھوڑی میلی پتلون پر ہلکے نیلے رنگ کی ٹی شرٹ زیب تن کی ہوئی تھی۔چہرے کی نازکی اوربالوں کی جمی ہوئی تہوں سے لگ رہا تھا کسی سگھڑ ماں کا تربیت یافتہ ہے۔بس غلط یہ تھا کہ دو تین صفحوں کے چکر کاٹنے اورتین چار جگہیں تبدیل کرنے کی وجہ سے اکھڑ بوڑھوں اورمسجد کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی نظر یں اس پر جم چکی تھیں۔بچہ کی خود اعتمادی اوربےخوفی دیکھ کر مجھے بوڑھوں سے ڈر لگنے لگا تھا اورقریب تھا کہ ان کی سرخ دہکتی ہوئی آنکھوں سے شعلے ہاتھوں  پر گریں اوربچے کے پھول سے گال جھلسا دیں۔

سر پر سفید ٹوپی تھی، مگر ٹوپی نئی نہیں تھی۔ٹوپی  کابوسیدہ پن اوربچے کا  پہننے کا انداز اس بات کا عکاس تھا کہ بچہ پہلے بھی ٹوپی کو متعدد بار سر کی زینت بناچکا ہے۔ٹوپی مذہبی طبقوں میں شرافت کا لائسنس ہے اورتجارتی حلقوں میں اعتماد دلانے کا آلہ اورنوجوان نسل میں ٹوپی فریب کا استعارہ ہے۔معصوم بچہ مذکورہ بالا تمام اوصاف سے بےنیاز خالصتاً عبادت کا جزو لاینفک سمجھ کرتھامے ہوئے تھا۔یہ عمر بھی کتنی سادہ اورفطرت کے قریب ہوتی ہے ،نہ اصول وضوابط کاخیال نہ کاسہ حرص وہوس کی تڑپ،جو بھی ہے دل سے دل تک ہے۔دین اوردنیا ایک ہی ڈول میں کسی گاڑھے مشروب کی طرح جو ذائقے سے بھرپور مگر کسی جزو کی ذاتی انفرادیت سے عاری۔

 ایک لمحے کے لیے رک کر چاروں طرف دیکھا۔پھر اپنی ٹوپی سیدھی کی اور آخری صف میں جا کر لمحہ بھر کے لیے بیٹھ کر کھڑا ہوگیا۔نظر کی گہرائی اورگیرائی عمر کی حدوں سے بہت پرےاورفکری بلندی کی انتہاؤں کو چھوتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔چہرے کی معصومیت اورعمر کی ناپختگی نے ایسا ہالہ بنارکھا تھا کہ پاؤں کی بےچینی بھی حسیں چہرے پر تل کا کام کر رہی تھی۔مگر یہ اکھڑ مزاج دو تین بوڑھے  جمالیاتی حسوں سے اتنا ہی ناواقف  تھے جتنے پاکستانی حکمران،حکومتی  امور سے نابلد ہوتے ہیں ۔اوروہ باربار کڑی نظر کا دائرہ بچے گرد بناتے تووہ ماہر ہرن کی طرح سے ان کے جال سےنکل کر دوسری صف میں جابیٹھتا۔بچہ یہ بھول بیٹھا تھا کہ مسجد میں عبادت کے اصول  قرآن و حدیث کے مطابق نہیں بلکہ مسجد کے متولیوں کی پسند اورخواہش کے مطابق ترتیب دیے جاتے ہیں؛کرم داد کے غصے اوربرداشت کی تمام حدیں جب دھڑم سے ڈھے گئیں تو اس نے کڑک دار لہجے میں:

“اوئے بچے!”

بچے نے مڑ کر دیکھا۔

“جی؟”

“یہاں کیوں کھڑے ہو؟”

“نماز پڑھنے۔”

کرم داد نے باقی بوڑھوں کاطائرانہ جائزہ لیتے ہوئے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔

“پیچھے جاؤ۔”

“کیوں؟”

“بڑوں کی صف ہے۔”

بچے نے صف میں بیٹھے آدمیوں کو دیکھا۔

پھر اپنے آپ  کو دیکھا۔

“میں بھی تو خطبہ سنوں گا۔”

شاہ جی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“پہلے بڑے ہوجاؤ، پھر خطبوں کا بھی شوق اتر جائے گا۔”

بچے نے کچھ نہیں کہا۔

 دو قدم پیچھے ہوگیا۔

مگر مسجد سے نکلا نہیں۔

کچھ دیر بعد ایک اور شخص نے اسے بازو سے پکڑ لیا۔

“بیٹا، ادھر بیٹھو۔”

“میں بیٹھوں؟”

“ہاں۔”

“کیوں؟”

“نماز ابھی شروع نہیں ہوئی۔”

“تو؟”

“بڑے لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔”

بچہ خاموش ہوگیا۔

وہ فرش پر بیٹھ گیا۔

مسجد کے منبر پر امام صاحب تشریف لائے۔سفید رنگ کے لٹھے کے سوٹ پر جالی کا بِشت ،بائیں کلائی میں سنہرے رنگ کی  بڑے ڈائل والی گھڑی،بنصر میں فیروزہ جڑی بھاری سی چاندی کی انگوٹھی اوردائیں ہاتھ میں سمارٹ فون۔ممبر کے دوسرے زینے پر بیٹھتے ہی امام صاحب نے موبائل کی سکرین پر دیکھتے ہوئے امامہ درست کیا۔آنکھوں کی چمک،چہرے کی تمکنت،گردن کی اکڑ اورسرکی اٹھان کسی شاہی نواب کا شائبہ دیتے اگر داڑھی کاپردہ حائل نہ ہوتا۔میرے پڑوس میں بیٹھے دو بچوں میں سے ایک سرگوشی کے اندازمیں بولا’’نومی کا۔۔۔آگیا‘‘۔میں نے بڑی مشکل سے اپنی ہنسی قابو کی۔

مائیک درست کیا گیا۔امام صاحب کے قریب کے پنکھوں کو بند کرکے ،منبر کے اوپری سمت لگے دونوں اسے سی آن کردیے گئے۔ہلکا سا کھانسنے کے بعد  امام صاحب کی آواز بلند ہوئی:

“الحمدللہ! ہم اس دین کے ماننے والے ہیں جس نے انسانوں کے درمیان طبقاتی،لسانی،سماجی اورمعاشی فرق  کوختم  کرکے مرتبت إ ِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ کے مصداق  قائم کیاہے ،باقی سب لغو اور دنیا کی ٹھان بان ہوسکتی ہے۔”

بچے نے سر اٹھایا۔

“اسلام نے غلام اور آقا کو ایک صف میں کھڑا کیا۔”

بچے کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“اسلام نے امیر اور غریب کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا۔”

بچہ اب پوری توجہ سے سن رہا تھا۔

“اسلام نے رنگ، نسل، زبان اور دولت کے غرور کو ختم کیا۔”

بچے نے   چاروں ا طرا ف  بغور دیکھا۔پھر پہلی صف کی طرف۔

امام صاحب کی آواز گونجی:

“اللہ کے نزدیک عزت صرف تقویٰ سے ہے۔”

بچے نے اپنے ساتھ بیٹھے ایک شخص سے آہستہ سے پوچھا:

“انکل!”

وہ شخص خطبہ سن رہا تھا۔

“کیا؟”

“تقویٰ کیا ہوتا ہے؟”

“خاموش بیٹھو۔ خطبہ سنو۔”

بچے نے پھر امام صاحب کی طرف دیکھا۔

خطبہ جاری تھا۔

“ہمارے اسلاف نے مساوات کی ایسی مثالیں قائم کیں جن پر دنیا آج بھی حیران ہے۔”

بچے کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔

اس نے سوچا شاید اب وہ صف میں کھڑا ہوسکتا ہے۔

وہ اٹھا۔

آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔

پہلی صف سے ایک آدمی نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔

“کدھر؟”

“صف میں۔”

“تمہاری جگہ پیچھے ہے۔”

“مگر مولوی صاحب کہہ رہے ہیں سب برابر ہیں۔”

آدمی نے ناگواری سے اسے دیکھا۔

“بچے ہو، خطبہ سمجھنے کی کوشش نہ کرو۔”

بچہ خاموش ہوگیا۔مگر واپس نہیں گیا۔

وہ اگلی صف کے کنارے کھڑا ہوگیا۔ایک اور شخص نے اسے دیکھا۔

“تم پھر آگئے؟”

بچے نے سر ہلایا۔

“مجھے نماز پڑھنی ہے۔”

“نماز پڑھو، لیکن اپنی جگہ پر۔”

“میری جگہ کہاں ہے؟”

اس شخص نے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔

“وہاں۔”

بچے نے پوچھا:

“وہاں کیوں؟”

آدمی کے پاس جواب نہیں تھا۔

اس نے صرف اتنا کہا:

“کیوں کہ یہی طریقہ ہے۔”

بچہ کچھ دیر اس شخص کو دیکھتا رہا۔

پھر بولا:

“طریقہ کس نے بنایا ہے؟”

آدمی نے جھنجھلا کر کہا:

“بہت سوال کرتے ہو!”

اور اسے پیچھے دھکیل دیا۔

خطبہ جاری تھا۔

“ہماری تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ کمزور کا حق طاقتور سے دلایا جائے…”

بچہ پھر آگے بڑھا۔

اس بار اس نے کسی کو نہیں پوچھا۔

وہ ایک صف عبور کر گیا۔

پھر دوسری۔

پھر تیسری۔

ہر صف پر کوئی نہ کوئی ہاتھ اسے روکنے کے لیے اٹھتا۔

“کس کے ساتھ آئے ہو؟”

بچہ ہر سوال کا ایک ہی جواب دیتا:

“میں نماز پڑھنے آیا ہوں۔”

اب لوگ اسے دیکھنے لگے تھے۔

خطبہ سننے والوں کی توجہ بٹنے لگی۔

کسی نے کہا:

“اسے باہر نکالو۔”

کسی نے کہا:

“ضرور کسی نے شرارت کے لیے بھیجا ہے۔”

ایک نوجوان نے موبائل نکال لیا۔

“ویڈیو بناؤ، دیکھتے ہیں آج کیا تماشا ہوتا ہے۔”

بچے نے موبائل کیمرے کی طرف دیکھا۔

پھر نظریں جھکا لیں۔

منبر سے آواز آرہی تھی:’’اسلام  کی کشش دیکھو:۔جہاں علی اورزید جیسے بچے ایمان لانے میں اول اول رہے اور آج کے دور کے بچے دیکھو۔موبائل سے نکلتے ہی نہیں اوراگر موبائل سے کبھی نکل آئیں تو سماج کے درندے منہ کھولے ان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘

بچہ اگلی صف میں پہنچ گیا۔

وہاں ایک صاحب بیٹھے تھے جنہیں دیکھ کر لوگ فوراً راستہ دیتے تھے۔

بچے نے ان کے قریب کھڑے ہو کر صف میں جگہ بنانے کی کوشش کی۔

چودھری صاحب نے اپنی جگہ سے ذرا سا ہٹ کر کہا:’’بیٹا، یہاں نہیں۔” مگر بچے کی ضد کو دیکھ کر چودھری صاحب کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔

“آج کل کے بچے اف خدا!‘‘’’والدین تربیت نہیں کرتے بلکہ  مسجد بھیج دیتے ہیں‘‘۔”مسجد میں بھی سکون نہیں۔”

امام صاحب نے ایک لمحے کے لیے خطبہ روک کر بچے کی طرف دیکھا۔

پھر بولے:’’میرے عزیزو! دین ہمیں صبر، برداشت اور محبت کا درس دیتا ہے۔”

بچہ امام صاحب کی طرف دیکھتا رہا۔

امام صاحب نے کہا:’’ہمیں اپنے دلوں میں تکبر نہیں رکھنا چاہیے۔”

بچے نے پہلی صف میں بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھا۔

پھر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔

شاید وہ اپنے دل کو ٹٹول رہا تھا کہ کہیں اس میں تکبر تو نہیں۔

مگر اسے کچھ محسوس نہ ہوا۔

خطبہ ختم ہونے کے قریب تھا۔

امام صاحب نے ہاتھ اٹھائے۔

“اے اللہ! ہمیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ ہمیں عدل، مساوات اور اخوت کا پیکر بنا۔”

لوگوں نے آمین کہا۔

بچے نے بھی دونوں ہاتھ اٹھائے۔

“آمین۔”

پھر وہ پہلی صف میں کھڑا ہوگیا۔معتبر اورباوقار لوگوں نے اسے صف سے نکال دیا اب وہ مرکزی ہال کی کسی بھی صف میں جگہ پانے میں ناکام رہا۔جماعت کھڑی ہوگئی اوربچہ پیچھے جانے اورجگہ پانے کے لیے ادھر ادھر گھومتا رہا۔جونہی امام نے سلام پھیرا۔

اذکار پڑھے بغیر دو بڈھے اٹھے اور انہوں نے بچے کو کندھوں سے پکڑ لیا۔

“بس! بہت ہوگیا۔”

“چھوڑ دیں۔”

“باہر لے جاؤ۔”

بچے نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔

“مجھے نماز پڑھنی ہے۔”

“تمہیں سمجھ نہیں آتی؟”

“مجھے نماز پڑھنی ہے۔”

“کہا نا پیچھے جاؤ!”

“میں پیچھے نہیں جاؤں گا۔”

“کیوں؟”

بچہ پہلی بار ذرا بلند آواز میں بولا:

“کیونکہ نماز میں سب ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔”

مسجد میں خاموشی چھا گئی۔

چند لمحوں کے لیے کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

پھر ایک شخص نے کہا:

“یہ بچہ  وہابیوں کا ہے اورفتنے کی باتیں کرتا ہے۔”

دوسرے نے کہا:

“اسے باہر نکالو۔”

دو آدمیوں نے بچے کو پکڑ لیا۔

وہ اسے مسجد کے دروازے کی طرف لے جانے لگے۔

بچہ اب بھی پیچھے مڑ کر صفوں کو دیکھ رہا تھا۔

بچے نے دروازے کے قریب رک کر آنکھیں بند کرلیں۔

اس کے ہاتھ خود بخود بندھے۔

وہیں کھڑا ہوگیا۔

نماز شروع  کردی۔۔

دعا کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔

کسی نے جوتے پہنے۔

کسی نے موبائل دیکھا۔

کسی نے بچے کو دوبارہ تلاش کیا۔

وہ مسجد کے صحن کے آخری کونے میں بیٹھا تھا۔

اس کی ٹوپی گود میں رکھی تھی۔

ایک شخص اس کے قریب گیا۔

“تمہارا نام کیا ہے؟”

بچے نے سر اٹھایا۔

“معاذ۔”

“معاذ! تم یہاں کیوں آئے تھے؟”

بچے نے چند لمحے اسے دیکھا۔

اس کے چہرے پر حیرت تھی، جیسے یہ سوال بہت عجیب ہو۔

پھر اس نے اپنی ٹوپی اٹھائی، اسے سر پر رکھا اور دھیرے سے کہا:

“میں تو نماز پڑھنے آیا تھا۔”

***

Leave a Reply