You are currently viewing ادب کا ثقافتی مطالعہ

ادب کا ثقافتی مطالعہ

عارف این

ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، سری سنکراچاریہ یونیورسٹی آف سنسکرت، کیرالا

ادب کا ثقافتی مطالعہ

ادب دراصل ایک قوم کی ثقافت کا آئینہ ہوتا ہے۔ ثقافت ایک وسیع اصطلاح ہے جو ایک قوم کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔ یہ زبان، مذہب، تاریخ، فنون لطیفہ، موسیقی، رقص، کھانا، لباس اور بہت کچھ شامل ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتا ہے۔ ثقافت در اصل ایک ورثہ ہے جو ایک نسل اپنے بعد آنے والی نسل کو منتقل کرتی ہے۔ ادب نئی نسلوں کو اپنی تاریخ سے روشناس کرانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ثقافتی مطالعہ اس بات کا واضح مظہر ہے کہ ایک قوم کی تاریخ، روایات، رسم و رواج، عقائد اور سماجی حالات کس طرح ادب میں منعکس ہوتے ہیں۔احمد طارق کے مطابق:

“تہذیب میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کا تعلق اقدار یا اعیان سے ہے، انسان کی علمی جدو جہد ، اس کی ذہنی کاوش اور اس کی سوچ اور فکر سے ہے۔ تہذیب کے تحت وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جن کا تعلق مادی مظاہر سے ہے۔ مادی نقطہ نظر سے اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں لباس ، رہن سہن ، مصوری، نقاشی، سماجی رسوم ورواج اور فن تعمیر وغیرہ بھی چیزیں شامل ہیں ۔ اور روحانی نقطہ نظر سے جائزہ لینے پر علوم وفنون، فکر و فلسفہ علم و ادب، مذہبی اقدار ، خیالات، احساسات اور تصورات وغیرہ شامل ہوں گے جو پورے سماج کو ایک تہذیبی وحدت میں ڈھال دیتے ہیں ۔”[i]

ادب نہ صرف ثقافت کا آئینہ ہوتا ہے بلکہ اسے پروان چڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اچھی کتابیں پڑھ کر ہم اپنی سوچ کو وسیع کرتے ہیں ، اپنے دائرہ معلومات کو بڑھاتے ہیں اور اپنی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ ادب ہمیں مختلف ثقافتوں کے لوگوں سے روشناس کراتا ہے اور ہمیں ان کی زندگیوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح ادب ہماری فکری اور سماجی ترقی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ادب ثقافتی تبدیلی،  سماجی تبدیلی کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔  بہت سے ادیب اپنے قلم کے ذریعے سماجی برائیوں، ناانصافیوں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ ان کی تحریریں لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں اور سماجی تبدیلی کا آغاز کرتی ہیں۔اس طرح ایک قوم کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ ادب  سماجی مصلح   کا کام بھی  کرتا ہے۔ ڈاکٹر سید اسد علی انگریزی زبان کے لفظ کچھ کلچر  کا مترادف اردوزبان میں لفظ  ثقافت کو قرار دیتے ہیں اور اسے ہندی زبان کے لفظ سنسکرتی کا ہم معنی قرار دیتے  ہوئے  لکھتے ہیں :

“در حقیقت لفظ ثقافت ( سنسکرتی ) انگریزی کے لفظ کلچر اور کلٹویشن Cultivation    دونوں یکساں ہیں ۔ کلٹیویشن کے معنی زراعت کے ہیں، یعنی زمین کی قدرتی حیثیت کو بہتر بنانا۔ لہٰذا ز مین ہی کی مانند انسان کے رجحان اور فطری صلاحیتوں اور قوتوں کو بہتر بنانے کا دوسرا نام کلچر سنسکرتی یا ثقافت ہوگا۔ یہی نہیں خود کلچر میں وہی مادّہ ہے جو ایگریکلچر Agriculture میں ہے۔ جس کا مطلب پیدا کرنا بھی ہے اور اصلاح کرنا بھی۔ اس لئے انسان کے فطری رجحان اور مزاجوں کی اصلاح کو ہم ثقافت کے نام سےتعبیر کرتے ہیں۔”[ii]

اس طرح تہذیب کلچر یا ثقافت کا لفظ پوری انسانی زندگی پر محیط ہے۔ اس کا مقصد انسانی سماج اور زندگی کی اصلاح کرنا اور اس کا ہمہ جہتی ارتقاء ہے تاکہ سماج اور اس میں رہنے والے افراد اپنے ذہنی اکتسابات اور خلا کا نہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے کارہائے نمایاں انجام دے سکیں جن کا تقاضاحیات انسانی کے ارتقاء میں ایک ذمے دار سماج اور فرد سے کیا جا سکتا ہے۔ تہذیب و ثقافت کا اطلاق کھانے پینے ، پہنے اوڑھنے ، رہنے سہنے، نیز علم و ادب سیاست و مذہب اور اعتقادات و معاشیات اور تفریکی مشاغل وغیرہ پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی سماج کی تہذیب کو ہم تعبیر کرتے ہیں۔

ادب اور ثقافت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملبوس ہیں۔ ادب کے بغیر ثقافت بے جان ہو جاتی ہے اور ثقافت کے بغیر ادب اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔ ادب اور ثقافت کے گہرے رشتے کے ساتھ ساتھ، ادب ایک قوم کی شناخت کو بھی متعین کرنے میں بھی  اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے ایک قوم اپنی تاریخ، روایات، اور قدرتیں منعکس کرتی ہے۔ادب ایک قوم کی تاریخ  کو محفوظ رکھنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ تاریخی ناولوں، افسانوں اور نظموں کے ذریعے، ادب گذشتہ واقعات کو زندہ رکھتا ہے اور آئندہ نسلوں کو ان سے آگاہ کرتا ہے۔ادب میں روایات، رسم و رواج اور لوک داستانوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ یہ تحریریں ایک قوم کی ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں مدد کرتی ہیں۔ادب قومی فخر کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ وطن پرستی، بہادری اور قربانی کے موضوعات پر لکھی گئی تحریریں قوم کے جذبات کو ابھارتی ہیں۔

ادب اور ثقافت کا رشتہ ہمیشہ سے گہرا رہا ہے۔ ادب کسی قوم کی ثقافت کا آئینہ ہوتا ہے اور ثقافت ادب کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ لہذا، ادب میں ثقافتی مطالعے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ یہ مطالعہ ادب کو ثقافتی تناظر میں سمجھنے اور تجزیہ کرنے کا ایک جامع طریقہ ہے۔ پروفیسر ظہیر احمد صدیقی لکھتے ہیں:

“حقیقت یہ ہے کہ کلچر  کا مفہوم تہذیب سے زیادہ وسیع ہے۔ کسی ملک یا قوم کی تہذیب جب اپنے عروج پر ہوتی ہے تو کلچر پیدا ہوتا ہے، چونکہ کلچر کا وجو د قوموں کی جدو جہد سے عمل میں آتا ہے اور زمانے کے ساتھ تغیر پذیر ہوتا ہے اس لئے خود کلچر میں بھی ایک حرکت اور نشو ونما کی کیفیت رہتی ہے۔ یہ کوئی جامد شئے نہیں ہے جس کو کسی چوکھٹے میں فریم کیا جا سکے اور نہ ہی اس کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ کلچر میں لین دین کا سلسلہ ہمیشہ سے رہا ہے ۔”[iii]

ثقافتی مطالعے کا  دائرہ ادب میں وسیع ہے۔ یہ نہ صرف متن کو مرکز میں رکھ کر اس کا تجزیہ کرتا ہے بلکہ اس کے اردگرد کے ثقافتی عوامل کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ مصنف کی زندگی، سماجی حالات، تاریخی پس منظر، مذہب، زبان، اور دیگر ثقافتی عناصر ادب کے متن کو متاثر کرتے ہیں اور اس کے معنی کو شکل دیتے ہیں۔ ثقافتی مطالعے کا مقصد ان عوامل کو شناخت کرنا اور ان کے ادب پر پڑھنے والے اثرات کا تجزیہ کرنا ہے۔

ثقافتی مطالعے کے ذریعے ہم ادب کو صرف ایک تخلیقی عمل کے طور پر نہیں بلکہ ایک سماجی اور ثقافتی عمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ ادب کس طرح معاشرے کو عکس کرتا ہے اور اس میں تبدیلی لانے کا کردار ادا کرتا ہے۔ ثقافتی مطالعے کے ذریعے ہم مختلف ثقافتوں کے ادب کا موازنہ کر سکتے ہیں اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دے سکتے ہیں۔

ادب میں ثقافتی مطالعے کے ذریعے ہم مختلف ادبیت نظریات کا استعمال کرتے ہیں۔ مارکسزم، فریدریش انگلس، فرینکفرٹ اسکول، پسٹ سٹرکچرلزم، پسٹ مدرنسٹ، فیمینیزم، اور دیگر نظریات کے ذریعے ہم ادب کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ نظریات ہمیں ادب میں پوشیدہ معانی، طاقت کے رشتے، اور سماجی نابرابری کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔

ثقافتی مطالعے نے ادبی تنقید کے میدان کو بھی متاثر کیا ہے۔ روایتی ادبی تنقید عموماً متن کے اندرونی ساخت اور زبان پر توجہ مرکوز کرتی تھی۔ جبکہ ثقافتی مطالعے متن کو وسیع ثقافتی تناظر میں دیکھتے ہوئے اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔مثال کے طور پر، ایک روایتی ادبی نقاد شاید کسی نظم کی تشبیہات اور استعاروں پر توجہ مرکوز کرے گا۔ جبکہ ایک ثقافتی نقاد اسی نظم کو اس کے سماجی، تاریخی، اور ثقافتی تناظر میں دیکھے گا۔ وہ اس بات پر غور کرے گا کہ نظم میں استعمال ہونے والی زبان اور تصاویر کس طرح معاشرے کے مخصوص طبقات، صنفی کرداروں، یا قومی شناخت سے جڑی ہوئی ہیں۔

ثقافتی مطالعے کا ایک اہم مقصد معاشرتی تبدیلی کو فروغ دینا ہے۔ یہ مطالعے کے ذریعے ہم سماجی نابرابری، صنفی امتیاز، اور دیگر سماجی مسائل کو بے نقاب کر سکتے ہیں۔ ادبی تخلیقات کے ذریعے ہم ان مسائل پر توجہ مبذول کراسکتے ہیں اور سماجی شعور کو بیدار کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر، فیمینیسٹ ادبی تنقید نے صنفی امتیاز کو بے نقاب کیا ہے اور خواتین کی زندگی اور تجربات کو مرکزی حیثیت دی ہے۔ اس طرح کے کام نے معاشرے میں صنفی مساوات کی طرف ایک قدم بڑھایا ہے۔

 ثقافتی مطالعے نے ادب کے میدان میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اس نے ادب کو صرف ایک تخلیقی عمل سے نکال کر اسے سماجی، ثقافتی، اور سیاسی عمل سے جوڑ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ادب زیادہ جامع، شامل اور معاشرے کے لیے متعلقہ ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی کی رائے ہے کہ :

“ادب میرے خیال میں زندگی،تہذیب ،اور کلچر کی عکاس،ترجمان اور نقاد ہوتا ہے۔میرے خیال میں ادب ایک سماجی عمل ہے اور چونکہ  سماجی زندگی ہر لمحہ اور  ہر آن تغیر وتبدل  سے ہم آہنگ و ہم کنار رہتی ہے اس لئے ادب بھی تغیرات و  انقلابات کے سانچے میں ڈھلتا رہتا  ہے اور ہر درد کے ادب میں اس وقت کی سماجی  تصویریں آنا ضروری ہے کیوں کہ ادب بہر حال سماجی زندگی ہی کے درمیاں پیدا ہوتا،پلتا۔بڑھتا اور پروان  چڑھتاہے۔”[iv]

ثقافتی مطالعے کا دائرہ صرف قومی ادب تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ عالمی ادب کو بھی ایک وسیع تناظر میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ عالمی ادب کا مطالعہ ثقافتی تبادلے، ثقافتی اختلافات، اور عالمی مسائل کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔عالمی ادب کے ذریعے مختلف ثقافتوں کے لوگوں کے تجربات، خیالات، اور اقدار کا تبادلہ ہوتا ہے۔ یہ تبادلہ ہماری دنیا کے بارے میں سمجھ کو وسیع کرتا ہے اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔عالمی ادب مختلف ثقافتوں کے درمیان موجود اختلافات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ اختلافات کو سمجھنے اور قبول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ عالمی ادب عالمی سطح پر موجود مسائل جیسے کہ غربت، جنگ، ماحولیاتی آلودگی، اور انسانی حقوق  وغیرہ کے بارے میں آگاہی پیدا کرتا ہے۔ یہ ادب مختلف ثقافتوں کے لوگوں کو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے متحد کرنے کا کام کرتا ہے۔مثال کے طور پر، جادوئی حقیقت پسندی کی لاطینی امریکی تحریک نے عالمی ادب پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس تحریک نے جدیدیت کے تصورات کو چیلنج کیا اور نئے طریقوں سے حقیقت کو بیان کرنے کا راستہ کھولا۔اسی طرح ثقافتی مطالعے کے ذریعے عالمی ادب کا مطالعہ ہمیں ایک عالمی شہری بننے میں مدد کرتا ہے۔ یہ ہمیں مختلف ثقافتوں کا احترام کرنے اور ان کے ساتھ تعامل کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔احمد طارق لکھتے ہیں:

“کسی تہذیب کے بننے سنورنے اور اس کے خط و خال کے تعین میں اس خطے کے جغرافیائی حالات اہم کردار ادا کرتے ہیں جہاں وہ تہذیب نمو پذیر ہوتی ہے۔ کیوں کہ انسان کی زندگی ، اس کے رسوم ورواج اور اس کے اعتقادات کے تعین میں جغرافیائی حالات پوری طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ در اصل تاریخی ، سیاسی ، سماجی اور اقتصادی ضروریات کے پیش نظر کسی جغرافیائی خطے میں قیام نے والی مختلف قوموں کے درمیان جو اتحاد ، یگانگت ، یک جہتی اور ہم آہنگی کی فضا پیدا ہوتی ہے اسے ہی ہم تہذیب کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ خارجی ماحول اور جغرافیائی حالات اور اثرات انسان کی سوچ ، اس کی طرز معاشرت ، غذا، آداب نشست و برخاست اور دیگر شعبہ زندگی ، یہاں تک کے کہ پیداوار کے ذرائع پر بھی اثر انداز  ہوتے ہیں۔”[v]

ثقافتی مطالعے ادبی تاریخ کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ روایتی ادبی تاریخ عموماً ادبی تحریکوں، مصنفین اور ان کی تخلیقات پر توجہ مرکوز کرتی تھی۔ جبکہ ثقافتی مطالعے ادبی تاریخ کو وسیع سماجی، سیاسی اور ثقافتی تناظر میں رکھ کر دیکھتے ہیں۔ثقافتی مطالعے ادبی تاریخ میں سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ کس طرح سماجی اور سیاسی واقعات نے ادب کو شکل دیا ہے۔ثقافتی مطالعے ادبی تاریخ میں ثقافتی عوامل جیسے کہ مذہب، جنس، قومیت اور طبقے کے کردار کا تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ کس طرح مختلف ثقافتی گروہوں نے ادب کو متاثر کیا ہے۔ثقافتی مطالعے ادبی تحریکوں کو بھی ایک نئے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ یہ مطالعے ادبی تحریکوں کو سماجی اور ثقافتی تبدیلیوں کے جواب کے طور پر دیکھتے ہیں۔مثال کے طور پر، رومانوی ادب کو روایتی طور پر جذباتیت، تخیل اور فطرت کی تعریف کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ لیکن ثقافتی مطالعے کے ذریعے ہم اسے صنعتی انقلاب اور اس کے سماجی اثرات کے ردعمل کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔اس طرح  ثقافتی مطالعے ادبی تاریخ کو زیادہ جامع اور متعلقہ بناتا ہے۔ یہ ہمیں ادب کو سماجی، سیاسی اور ثقافتی تبدیلیوں کے ایک حصے کے طور پر سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔وقار عظیم لکھتے ہیں:

“ادب تاریخی ارتقاء کا ایک جزو ہے۔کلچر کا تسلسل اور تاریخ کا تسلسل صرف ادب ہی کی بدولت قائم ہے۔اور یہ تسلسل تاریخ  اور تمدن کی طرح ادب میں بھی برابر کار فرما رہتا ہے۔اس طرح گویا  ادبی تجربہ  کا تسلسل،کلچر اور تاریخ کے تسلسل پر منحصر ہے۔کلچر  اور تاریخ میں انقلاب پیدا ہوتا ہے تو ادب پر اس انقلاب کا اثر نمایاں طور نظر آتا ہے۔”[vi]

الغرض ادب صرف الفاظ کا ایک مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قوم کی ثقافت، تاریخ، روایات اور سماجی ساخت کا آئینہ بھی ہے۔ ادب میں ثقافتی مطالعہ اس آئینے کو گہرائی سے دیکھنے اور اس میں پوشیدہ معانی کو سمجھنے کا عمل ہے۔ادب کسی قوم کی ثقافتی شناخت کو قائم کرنے اور برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ لوگوں کو اپنی ثقافت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے اور ان میں اپنی ثقافت کے لیے احترام پیدا کرتا ہے۔ادب ایک قوم کی تاریخ کا تحفظ کرتا ہے۔ ادب میں موجود واقعات اور کرداروں سے ہم ماضی کے بارے میں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

ادب سماجی تبدیلی کا ایک طاقتور آلہ ہے۔ ادیب سماجی مسائل کو اجاگر کرکے لوگوں کو ان مسائل کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں اور ان میں تبدیلی لانے کی خواہش پیدا کرتے ہیں۔ادب مختلف ثقافتوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور انسانیت کی مشترکہ اقدار کو اجاگر کرتا ہے۔ادب میں ثقافتی مطالعہ ہمیں مختلف ثقافتوں کی قدر کرنے اور ان کی تنوع کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ثقافتی مطالعہ معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ادب میں ثقافتی مطالعہ ہمیں خود کو بہتر طور پر سمجھنے اور اپنی ذاتی ترقی میں مدد دیتا ہے۔اس کے علاوہ یہ ہمیں انسانیت کی مشترکہ اقدار , مختلف ثقافتوں کے لوگوں کو سمجھنے اور ان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے میں بھی مدد دیتا ہےاور دنیا کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ہمیں اپنے معاشرے کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے کام کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

ادب میں ثقافتی مطالعہ ایک وسیع اور پیچیدہ میدان ہے۔ یہ ہمیں ادب کو صرف ایک تخلیقی عمل کے طور پر نہیں بلکہ سماجی، ثقافتی اور تاریخی تناظر میں دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ہمیں ادب کے ذریعے معاشرے کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس میں موجود پیچیدگیوں کو دریافت کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

I۔ جدید اردو افسانے میں سماجی و ثقافتی جہات،احمد طارق،ادارہ ۂ نیا سفر،الہ آباد،۲۰۰۶،ص۲۱

[ii] ۔ہندی ادب کے بھگتی کال پر مسلم ثقافت کے اثرات،ڈاکٹر سید اسد علی،ترقی اردو بورڈ،نئی دہلی ،ص۲۱

[iii] ۔ہندوستانی کلچر  میں کلاسکی اردو شاعری کا حصہ(مضمون)،پروفیسر ظہیر احمد صدیقی،مشمولہ’اردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب’،ص ۵۔۲۰۴

[iv] ۔تنقیدی زائیے،ڈاکٹر عبادت بریلوی،مکتبۂ اردو،لاہور،۱۹۵۱،ص۷

[v] ۔ جدید اردو افسانے میں سماجی و ثقافتی جہات،احمد طارق،ادارہ ۂ نیا سفر،الہ آباد،۲۰۰۶،ص۳۱

vi۔نیا افسانہ،وقار عظیم،ایجوکیشنل بک ہاؤس،علی گڑھ،۱۹۸۲،ص۲۳

Leave a Reply