You are currently viewing اردو  تحقیق کے اغراض و مقاصد

اردو  تحقیق کے اغراض و مقاصد

 

 

ڈاکٹر ثناءاللہ

لکچرر، اردو

ایم ایل کے پی جی کالج، بلرام پور

اردو  تحقیق کے اغراض و مقاصد

 

تلخیص (Abstract)

تحقیق  عربی زبان کا لفظ ہے ،اس کے لغوی معنی  تلاش و جستجو کے ہیں جبکہ اصطلاحی معنی  کسی فن پارے کو  اس کی اصلی شکل میں دیکھنا ،فن پارے سے تحقیق کے ذریعہ اغلاط کو دور کرکے قدیم متون کو اصولِ تحقیق کے  دائرہ میں رہ کر  ترتیب دینا ، چھپے ہوئے گوشے کو ظاہر کرنا  اور کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا تحقیق کا کام ہے۔

تحقیق کی ابتدا شک کی بنیاد پر ہوتی ہے ، تحقیق فن پارے کی چھان بین  اور تفتیس کے بعد اسے اصلی شکل میں پیش کرتی ہے ،تحقیق ادب کی رہنمائی کرتی ہے ،جو چیزیں پوشیدہ ہیں  انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی عطا کرتی ،قدیم مخطوطوں  کو چھان بین و تلاش کے بعد  حیاتِ جاوید عطا کرتی ہے، تحقیق ادب  کے لئے بے حد ضروری ہے ،تحقیق سے ہی ترقی کی نئی منزلیں طے ہوتی ہیں۔

تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے،اس کے لغوی معنی تلاش جستجو،دریافت اور چھان بین کے ہیں۔ جبکہ اصطلاحی  معنی  حقائق کی بازیافت  تحقیق کا مقصد ہے۔ یہ انسان کو کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور کرتی ہے، عالمِ وجود سے لے کر آج تک غور و فکر کا عمل جاری ہے۔ زندگی کے مختلف پہلوؤں کا مددل اور سائنسی انداز میں کیا ہوا مطالعہ تحقیق کہلاتا ہے۔

قاضی  عبدالودود لکھتے ہیں کہ

‘‘تحقیق کسی امر کواس کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش ہے’’ ۱؎

تحقیق نہ معلوم،پوشیدہ و مبہم چیزوں کو ظاہر اور پیش کرنے کا نام ہے۔کسی امر کی اصلی شکل کا تعین اس وقت ہوگا  جب اس کا علم ہو ، یہ سچ ہے کہ کسی چیز کا معلوم نہ ہونا  اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔ ادبی تحقیق میں کسی امر کا وجود بہ طور واقعہ اسی صورت میں متعین ہوگا  جب اصولِ تحقیق کے متعلق معلومات حاصل ہو۔ کسی امر کی اصلی شکل کی دریافت اس لئے ضروری ہوتی ہے  کہ صحیح صورتِ حال معلوم ہو سکے۔

تحقیق کی ابتدا شک کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ کیونکہ غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے لہذا محقق کے لئے لازم ہے کہ  کسی بھی چیز کو اس نظریہ سے دیکھے کہ  اس میں  بھول چوک ہوئی ہوگی،جب تک شک پیدا نہیں ہوگا ، تحقیق نہیں ہو سکے گی۔

ایلیٹ نے کہا ہے کہ

‘‘ اچھا محقق ہونے کے لئے اچھا  متشک ہونا ضروری ہے’’ ۲؎

انہوں نے تو اپنی ذات کو بھی شک کی نظروں سے  دیکھنے کی ہدایت کی ہے۔

تحقیق  انسانی زندگی سے متعلق  مسائل کا حل تلاش کرتی ہے،تحقیق علم کی وسعت میں اضافہ کرتی ہے،تحقیق کے بغیر انسان ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا،تحقیق کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جیسے تاریخ، سائنس،مذہب،ادب اور تہذیب وغیرہ۔ یہی اس کا بنیادی راز بھی ہے.

ایک محقق کے لئے ضروری ہے کہ  وہ تحقیق کے دوران حق گوئی سے کام لے، بے تعصبی  اور غیر جانب داری اختیار کرے تحقیقی اصولوں کی روشنی میں  تحقیق ہونا چاہیئے، تحقیق سچ کا کارو بار ہے،مبالغہ اور جھوٹ کی تحقیق میں کوئی جگہ نہیں۔

تحقیق کی اہمیت:تحقیق کا اصل مقصد کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا اور علم کی وسعت میں اضافہ کرنا  ہے،ادب میں حقئق کی بازیافت کے لئے  تحقیق کا عمل بے حد ضروری ہے۔ قدیم ادب کا ادبی سرمایہ  تحقیق کی اہم بنیاد ہے، ادب کا جتنا ذخیرہ موجود ہے  اس سے کہیں زیادہ ضائع ہو چکا ہے، شاعروں اور ادیبوں کے قدیم مخطوطے کبھی دیمک کی وجہ سے ،کبھی نمی کی وجہ سے یا پھر کاتب یا ناشر کی وجہ سے  ان قدیم فن پاروں میں اغلاط سرزد ہوئے  ہیں،جنہیں دور کرکے  انہیں اصلی شکل میں پیش کرنا تحقیق کا اہم کام ہے۔

ادب کے اندر بےشمار گمراہیاں پیدا ہوئیں تخلیقات اور متون میں تمسیخ واقع ہو گئی۔ تحقیق سے بے تعلقی کی وجہ سے  تنقید غیر مستند ہوکر رہ گئی،تحقیق کی ضرورت  اس لئے ہے کہ  ان تخلیقات کا  ایمانداری، خلوص  و احتیاط کے ساتھ جائزہ لیا جائے۔

رشید حسن خاں  قدیم متون کی تدوین پر زور دیتے  ہیں  اور چاہتے ہیں کہ

‘‘جو پرانی کتابیں  زور و شور سے شائع کی جا رہی ہیں  انہیں تدوین و ترتیب  کے اصولوں کے مطابق  شائع کرنی چاہیئے ورنہ یہ متون  غیر معتبر اور ناقابل اعتماد ہونگے ۔ایسے متن  ھمارے پاس کم ہیں  جن کو حوالے کے لئے  صحیح معنی میں قابل اعتماد  قرار دیا جا سکے۔’’ ۳؎

تدوین ادبی تحقیق کی رہنمائی کرتی ہے تدوین متن کے سلسلے میں اصل متن کی پہچان کرنا ہی اصل مسئلہ ہے،تحقیق چھان بین کرکے  فن پارے کی قدر متعین کرتی ہے،تحقیق یہ تلاش کرتی ہے کہ فن کار کون ہے،کہاں کا رہنے والا ہے،کب پیدا ہوا، کن حالات میں اور کسن اسباب کی بنا پر فن پارہ وجود میں میں آیا ۔ مثلاً  اگر وہ فن پار ہ شعر ہے تو  یہ دریافت  کرتی ہے  اس کی پہلی شکل کیا تھی ، بعد میں شاعر نے  اس میں  کیا رد و بدل کیا ہوگا ،ان سب باتوں کا پتہ لگانہ  اور ہر طرح سے اطمنان کر لینے کے بعد  اسے ترتیب دے کر پیش کر دینے کا کام  ہی تدوین کہلاتا ہے۔ متن (TEXT) کی ٹھیک سے تحقیق نہ ہو تو تنقید  کی بنیاد کھوکھلی رہتی ہے۔

مثلاً میر تقی میرؔ پر  ایک تنقیدی مضمون ایسا لکھا گیا ، جس میں ایک شعر کو تنقید کا بنیاد بنایا گیا بعد میں تحقیق نے ثابت کر دیا کہ یہ شعر میرؔ کا ہے ہی نہیں ،تو وہ مضمون بے کار ہو گیا  اور تنقید کی عمارت مسمار ہو گیئ۔

اردو میں تحقیق کی طرف  ابتدا میں  بہت کم  توجہ دی گیئ تاہم انہیں ابتدائی کوششوں  سع اردو تحقیق  کو بعد میں جلا ملی ۔مولانا محمد حسین آزاد نے  دیوان ذوق سے تحقیق کا آغاز کیا  بعد میں یہ سلسلہ روزبروز بڑھتا گیا  اگر ایسا نہ ہوتا  تو شاید اردو ادب کا دائرہ محدود رہتا۔

اردو میں تدوین کا کام  اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب پہلے دور کے شاعر شاہ حاتم  نے اپنے دیوان کا انتخاب ‘‘دیوان ذادہ’’  کے نام سے کیا ، سر سید احمدخاں نے ‘‘آئینۂ اکبری ،تزک جہانگیری’’ کو ترتیب دیا ،مولوی عبدالحق نے ‘‘شعرائے اردو کے تذکرے’’ اور  شعراء کے کئی دیوان مرتب کیئے،پروفیسر محمود شیرانی نےقدرت اللہ قاسم کا تذکرہ ‘‘مجموعہ نغز’’ مرتب کیا،قاضی عبدالودود نے ترتیب کے اہم فرائض انجام دیئے ،امتیاز علی خاں عرشی اور مالک رام نے  دیوان غالب  کی ترتیب کو انجام دیا ،رشیدحسن خاں  نے ‘‘ باغ و بہار’’ ، فسانۂ عجائب’’ اور مثنوی ‘‘ گلزار نسیم’’  کو مرتب کیا،ان کے علاوہ دیگر اہم محققین نے تحقیق سے متعلق اہم کام کیئے۔

ان محققوں کی کوششوں سے اردو میں تحقیقی سرمایہ سامنے آیا ،تھقیق کا حق وہی ادا کر سکتا ہے  ایمان دار،دیانت دار اور مخلص ہو ،اس میں جذبات ،قیاس آرائی ، اور بے جا حمایت اور مخالفت کی گنجائیش نہیں ہے۔

 

حواشی

1۔لسانی اور ادبی تحقیق اصول اور طریق کار ،مرتبہ ڈاکٹر عبدالستار دلوی ص77

2۔The Art of Litrerary Research,p.16

3۔ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ، رشید حسن خاں ص 12

 

Leave a Reply