
ڈاکٹر سہیم الدین خلیل الدین صدیقی (اورنگ آباد دکن)
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو
سوامی رامانند تیرتھ مہاودیالیہ امبا جوگائی ضلع بیڑ (مہاراشٹر)
اردو صحافت فکر اور فن
صحافت “عربی” زبان کا لفظ “صحف” سے ماخوذ ہے، جس کہ لغوی معنی صحیفہ، کتاب یا رسالے کے ہوتے ہیں۔ جدید عربی میں ‘صحیفہ’ جریدہ اور اخبار کو بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مطبوعہ مواد ہوتا ہے جو مقررہ وقفہ کے بعد شائع ہوتا ہے۔ چنانچہ تمام اخبارات ورسائل صحیفے کے ضمن میں اتے ہیں یا ہم اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ صحافت کسی خبر، حادثہ یا کوئی اہم پیش رفت و رونما ہونے والے کچھ اہم واقعے کو تحقیق اور تجزیے کے ساتھ کارہ ان تک پہنچانے کے عمل کا و اظہار خیال کا نام ہے۔اظہار خیال کو تین شعبوں میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا خطابت دوسرا صحافت اور تیسرا ادب۔ ادب انسانی تہذیب و تمدن کی ترجمانی کا نام ہے جبکہ تقریر خطابانہ انداز میں کی جانے والی تحریر کا نام ہے۔ رہی بات خبروں کی تو خبریں صحافیانہ انداز کی ہوتی ہے اور افسانہ کا انداز ادیبانہ ہوتا ہے، اور افسانہ ایک ادب کی صنف کو کہا جاتا ہے اور اسے ادب میں صحافت کو خاصہ مقام دیا جاتا ہے۔ تاہم صحافت کے ذریعے کوئی خبر، اطلاع یا معلومات کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچائی جاتی ہے انسان فطرتا ہر نئی بات کو جاننے کے لیے بے چین رہتا ہے البتہ صحافت صرف اطلاع ہی دینے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ کسی مسئلے پر رائے عامہ کی وضاحت و تفصیل بھی پیش کرتی ہے۔ اردو صحافت ہندوستان کی قدیم ترین اور تاریخی اعتبار سے موثر اور موخر صحافت جو ملک کی معاشرتی زندگی میں اردو صحافت میں جو تعمیری اور یادگار کردار ادا کیا ہے اس کے ماضی اور روایت سے متعلق پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اردو دنیا کے ادارے میں بہت خوب لکھا ہے:
“ماضی میں صحافت کی درخشاں اور زرین تاریخ رہی ہے صحافت میں جمہوری حقوق، مساوات، امن، سیکولرزم، اتحاد، یگانگت اور یک جہتی کے لیے جو کردار ادا کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ ہندوستان کی تحریک آزادی میں بھی صحافت کا بہت فعال و انقلابی کردار رہا ہے۔ اردو صحافت نہ ہوتی تو شاید ہندوستان کی آزادی کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہوتا ماضی کے زیادہ تر صحافیوں نے فرنگیوں کے خلاف جو محاذ کھولا تھا اس کا ہندوستانی عوام کے شعور پر بہت گہرا اثر پڑا۔ آزادی اور انقلاب کے جذبے کو بیدار کرنے میں سب سے اہم رول اردو صحافت ہی کا رہا ہے۔” (ہماری بات، اداریہ، اردو دنیا، دسمبر 2015)
دراصل صحافت کسی بھی زبان کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کرتی ہے،کیونکہ عوام سے اس کا براہ راست (Direct) رشتہ ہوتا ہے،صحافت کا بہت ہی شاندار ماضی رہا ہے جس کی وضاحت ہمیں پروفیسر ارتضیٰ کریم کہ درج بالا اقتباس میں دکھائی دیتی ہے آپ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، جو صداقت پر مبنی ہے بالخصوص اردو صحافت نے جدوجہد آزادی میں جو نمایاں کردار ادا کیا ہے اس کی شاید ہی کہیں اور مثال ملے۔ بہرحال بہرحال آج ایسا نہیں ہے کہ صحافت کی اہمیت اور ضرورت کم ہو گئی یہاں ختم ہو گئی ہے۔ اس کی تاریخ بہت قدیم اور بے حد تابناک ہے۔ انسانی مفاد اور تہذیب و ثقافت کی بقا کے لیے صحافیوں نے جس طرح کی قربانیاں دی ہیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے دستور ہند نے صحافت کو چوتھے ستون کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ البتہ یہ ایک الگ بات ہے کہ ماضی اور حال کی صحافت کا اگر موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ صحافت چاہے پرنٹ ہو یا الیکٹرانک اپنی اصل پہچان کھوتی جا رہی ہے چند صحافیوں کو چھوڑ کر بیشتر صحافیوں کی نظر میں صحافت نوکری اور آمدانی کے وسیلے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔یہ نہایت ہی افسوس ناک صورتحال ہے، ڈاکٹر محمد خلیل صدیقی اور دو اخبارات کی ہندوستانی رپورٹ 2004 سے متعلق اپنے مضمون 1940 کے بعد اردو صحافت میں لکھتے ہیں کہ:
2004 کے رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اردو اخبارات رجسٹرڈ تعداد 3047 لیکن گوشوارے صرف 321 اخبارات کی جانب سے داخل کیے گئے۔بقایا 2726 زندہ ہے یا بند ہو گئے اس کے بارے میں وثوق سے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ جن 321 اخبارات کی تفصیلات حکومت کو حاصل ہو سکی ہے ان میں 160 روزنامے، ایک سہ روزہ، 115 ہفت روزہ، انتیس 15 روزہ، 31 ماہنامے تین سے ماہی اور دیگر دو اخبارات شامل ہے جن کا مجموعی سرکولیشن (اشاعت کی تعداد) 97 ،90 ،67 ہے۔جب کہ 2002 میں یہ سرکولیشن 833، 53، 73، تھا۔” (ڈاکٹر محمد خلیل صدیقی، 1960 کے بعد اُردو صحافت، بہ حوالہ اردو ادب 1960 کے بعد مرتبہ ڈاکٹر مسرت فردوس، ص 71، سن اشاعت 2008)
ڈاکٹر خلیل صدیقی کہ اس افسوس زدہ فکر سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اردو صحافت کا معیار گر رہا ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ کم ہو رہا ہے،لیکن اس بات سے ہم انکار بھی نہیں کر سکتے ہیں کہ صحافت اب محدود تعداد کے قارئین سے نکل کر انتہائی وسعت اختیار کر رہی ہے اب اخبارات اور رسائل کے ذریعے جو معلومات دی جاتی ہے وہ ساری دنیا سے متعلق ہوتی ہے۔ اس لیے اردو صحافت کی طاقت بھی اس حلق عصر کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے اور لاکھوں کروڑوں لوگوں کی رائے کو بھی بہت متاثر کرتی جا رہی ہے جس سے اردو صحافت کی ہمہ گیر قوت کا اندازہ بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے لہذا ظ انصاری نے عبدالحلیم شرر کے اخبار “مہذب” کے متعلق لکھا ہے کہ:
“تین ہی اصول ہیں جن پر عام اخبارات کی تحریروں کا مدار ہے؛ پالیٹکس، سوسائٹی اور لٹریچر۔ پالیٹکس کی حیثیت سے وہ اول درجے کا ازاد ہوگا۔ سوشل یعنی اخلاقی معاملات میں وہ رہنمائی ملک بن کر ظاہر ہوگا اور باقی رہا لٹریچر، اس حیثیت سے ملک والے ‘مہذب’ کے سارے وعدوں کو قبول کر لیں گے۔” (سلیم شہزاد، صحفتی زبان کے مسائل،رسالہ ماہ نامہ اردو دنیا، مدیر پروفیسر ارتضی کریم، جِلد 19، شمارہ 1، جنوری 2017، ص 39، نئی دہلی)
لہذا موجودہ زمانے و معاشرے کی ترقی کے ساتھ ساتھ صحافت کی اقسام بھی تیزی سے بدل رہی ہے کیونکہ اج کہیں بھی کوئی واقعہ ہو، وہ ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنیٹ کے ذریعے منٹوں میں پوری دنیا کو پتہ چل جاتا ہے خبروں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک باہم پہنچانے کے لیے مختلف سائنس اور ٹیکنالوجی نمایاں رول ادا کر رہی ہے۔ اس کے لیے اخبارات، ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنیٹ کے ذریعے خبریں پہنچانے والے اداروں کو انتہائی سمجھدار، محنتی اور جان جوکھم میں ڈال کر خبریں حاصل کرنے والے افراد کی ضرورت ان پڑتی ہے تاہم ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ بغیر صحافی کے صحافت ممکن نہیں ہے تو کوئی مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ شاید اسی لیے احمد اشفاق نے صحافی کو قوم و ملت اور وطن کا ذمہ دار خدمات گار بتایا ہے وہ اپنے مضمون “اردو صحافت کا عصری منظر نامہ” میں اس طرح سے رقم طراز ہے کہ:
صحافت کے ذریعے ایک صحافی قوم و ملت اور وطن کی خدمت کرتا ہے، صحافی سماج کا ایک اہم اور ذمہ دار شخص ہوتا ہے، اِس کی بڑی اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں مثلا حالات و واقعات کی، صورتحال سے عوام کو غیر جانبدارانہ صداقت کے ساتھ آگاہ کرنا، عوام کی رائے ہموار کرنا اور اس کے احساسات کی بھرپور نمائندگی کرنا، عوام میں سیاسی و سماجی شعور پیدا کرتے ہوئے راۓ عامہ کی تشکیل كرنا ساتھ ہی ضابطہ اخلاق کا پاس رکھنا۔” (احمد اشفاق، اردو صحافت کا عصری منظر نامہ، اُردو دنیا، نومبر 2016، پروفیسر ارتضیٰ کریم ، ص 56)
صحافی، صحافت کے بغیر اور صحافت، صحافی کے بغیر ادھوری ہوتی ہیں۔یہ ایک ایسا فن ہے جو معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے ہر وقت کوشا رہتا ہے ملک میں ہونے والے واقعات و حادثات کا علم قارئین و ناظرین کو زیادہ سے زیادہ اور صحیح طرح سے فراہم کریں وہ صحافت بھی ہے اور صحافی بھی۔ سماج میں تغیر اور تبدل کی ذمہ داری بھی صحافت ہی کی ہوتی ہے صحافی سماج کا نہ صرف نمائندہ ہوتا ہے بلکہ وہ عوام کا اور عوام کے لیے بھی جواب دہ نقاد بھی ہوتا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ کسی بھی زبان کے فروغ اور نمائندگی کے لیے اخبارات اور سائل کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ہماری اردو صحافت اسی وقت دن دگنی رات چوگنی ترقی کر سکتی ہے جب ہم لوگ اخبار و رسائل کو خرید کر نہ صرف پڑھے بلکہ دوسروں کو بھی یہ ترغیب دے کہ وہ کم از کم اردو کے دواخبار ضرور خریدیں اور اپنے تاثرات سے متعلق اخبار ورسائل کے مدیر سے اپنے خیالات کا اظہار بھی کرنے کی کوشش کریں۔ آخر میں، میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ صحافت تحریر کی وہ قسم ہے جس کے ذریعے لوگوں کو کسی ایسی بات کی جانکاری آسانی سے مل جاتی ہے جو سچ مچ میں وقوع پذیر ہوئی ہو لیکن اس کے پہلے کسی کو کوئی خبر نہ ہوئی ہو اور اسے تحقیق و تفتیش اور تجزیے کے ساتھ قارئین تک صداقت سے پہنچادیا گیا ہو یہی اصل صحافت ہے۔